ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر6 ، جولائی 2016ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر6 ، جولائی 2016ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 118

 

اس وقت رشد کا چھٹا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی کا مفہوم: ایک ارتقائی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے ترتیب دیا ہے۔ اجتماعی اجتہاد ایک جدید اصطلاح ہے جبکہ اس کا تصور قدیم ہے۔ اجتماعی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ کی ایک جماعت مل کر وسنت کی گہرائیوں اور وسعتوں سے کسی مسئلے کا شرعی حکم نکالنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرے۔ آج کل مسلم دنیا کے بہت سے ممالک میں کی سرکاری اور غیر سرکاری قسم کی مجالس اور کمیٹیاں جدید میں اجتماعی جاری کرتی ہیں جو کہ اجتماعی ہی کی صورتیں ہیں۔ عصر حاضر میں کچھ نے اجتماعی اجتہاد کے اس عمل کو جامع مانع تعریف کی صورت میں مدون کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے نتیجے میں اجتماعی اجتہاد کی کوئی دس کے قریب اصطلاحی تعریفات وضع ہو چکی ہیں۔ اس مقالے میں ان جمیع تعریفات کا تقابلی اور تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس عمل کے لیے مناسب تعریف اور اس کے لیے متعلقہ الفاظ کے انتخاب کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ دوسرے مقالے کا موضوع ’’اصول کی وتدوین‘‘ ہے۔ مجید کی جن اصولوں کی روشنی میں کی جاتی ہے، وہ تفسیر کہلاتے ہیں۔ اس مقالہ میں اصول تفسیر کی تاریخ اور تدوین ہر سیر حاصل بحث کی گئی ہے کہ وہ کون کون سے مصادر یا ہیں کہ جن میں اصول سے متعلق ابحاث مدون ہوئی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ تفسیر کے نام سے اصول تفسیر پر بہت کم کتب لکھی گئی ہیں جبکہ اصول تفسیر کا بیان اکثر طور امہات تفاسیر کے مقدمات، علوم کی کتب اور اصول کے مصادر وغیرہ میں ہوا ہے۔ مقالے میں نہ صرف دور اور دور تابعین میں کے مصادر اور اصولوں کو بیان کیا گیا ہے بلکہ ان دونوں ادوار کی تفاسیر کی امتیازی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔  تیسرے مقالے کا عنوان ’’خبر واحد کی حجیت: محدثین اور فقہاء کا نقطہ نظر‘‘ ہے۔ مجید ہو یا رسول، دونوں کے منتقل ہونے کا بنیادی ذریعہ خبر ہی ہے۔ خبر واحد سے مراد ایسی خبر ہے کہ جسے نقل کرنے والے ایک، دو یا تین افراد ہوں۔ مجید اور خود سنت بھی اس بات پر متفق ہے کہ اگر کے رسول ﷺ کا قول، فعل اور تقریر (silent assertion) جب خبر واحد کے ذریعہ سے مخاطب تک پہنچے، تو وہ اس کے میں حجت (binding) بن جاتا ہے بشرطیکہ وہ خبر صحیح (authentic) ہو۔ اور خبر کے صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں کہ سند میں راوی عادل ہوں، ضابط ہوں، سند میں انقطاع نہ ہو، سند اور متن میں شذوذاور علت نہ ہو۔ اور فقہاء کی اکثریت نے بھی خبر کے صحیح ہونے میں اسی معیار کو قبول کیا ہے۔  چوتھا مقالہ ’’ہدیہ اور اس کی شرعی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں ہدیہ کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس میں اور رشوت میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رشوت کی بہت سی صورتوں کو ہدیے اور تحفے کے نام پر رواج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقالہ نگار نے رشوت کی ایسی تمام صورتوں کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے کہ جنہیں حیلے بہانے سے ہدیہ اور ہبہ بنا کر شرعی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پانچواں مقالہ ’’ عورت کی دیت کا مسئلہ ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے میں نبویہ، آثار سلف، اجماعِ امت اور قیاس جیسے مصادر کی روشنی میں عورت کی دیت کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے۔ اور ثابت کیا گیا ہے کہ اور گواہی کی مانند دیت میں عورت کا نصف حصہ اس لیے ہے کہ عورت نان و نفقہ اور حق مہر وغیرہ کی صورت میں مالی تو حاصل کرتی ہے لیکن شرع کی طرف سے اس پر گھر کی کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔ عورت کی نصف دیت کو اس کے حق میں توہین اور استخفاف سمجھنے والے سخت غلطی پر ہیں کیونکہ نسب اور رضاعت وغیرہ جیسے میں عورتوں کے حقوق کو مردوں پر فائق رکھا گیا ہے اور اس میں مردوں کی کوئی توہین نہیں ہے بلکہ یہ ان کے دائرہ کار کے اعتبار سے حقوق کی مساوی تقسیم کا ایک طریق کار ہے۔ چھٹا مقالہ ’’ مصطلح”الولاية ” في القرآن العظیم والحديث النبوي! دراسة وتحليلا ‘‘کے عنوان سے ہے۔اس مقالے میں علوم القرآن کی مباحث میں سے ایک مبحث غریب القرآن پر بحث کی گئی ہے، جو کریم کا ایک منفرد اعزاز ہے۔ مقالہ ہذا میں قرآن کریم کے مفردات میں سے مفرد (الولي ) کے لغوی واصطلاحی معانی پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور معاشرے پر اس کے انطباقات کو واضح کیا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ 9
اجتماعی کا مفہوم ایک ارتقائی مطالعہ 11
اصول کی و تدوین 33
خبر واحد کی حجیت محدثین اور فقہاء کا نقطہ 58
عورت کی دیت کا ایک تحقیقی جائزہ 76
ہدیہ اور اس کی شرعی حیثیت 90
مصطلح الولایۃ فی القرآن العظیم و الحدیث النبوی 101

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Leave A Reply