ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر7 ،جنوری 2017ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر7 ،جنوری 2017ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 120

 

محترم قارئین کرام!
اس وقت ششماہی رشد کا ساتواں شمارہ (جنوری تا جون 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ “علوم عربیہ سے استفادہ میں افراط وتفریط اور اعتدال کی راہیں” کے عنوان سے ہے کہ جس کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی ﷫کے اصول ہیں۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ مولانا فراہی ﷫نے تفسیر مجید میں لغت کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ان کے نزدیک قرآن مجید کی کا اولین اصول، جاہلی ہے۔ مقالہ نگار نے مولانا فراہی ﷫کے اس کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل والجماعت کا موقف یہ ہے کہ ادب جاہلی مصادر تفاسیر میں سے ایک مصدر ہے لیکن اولین مصدر نہیں ہے لہذا اگر مجید کی لغوی اور اس تفسیر بالماثور میں اختلاف ہو جائے تو پھر میں موجود اور کی کو اس تفسیر پر ترجیح حاصل ہو گی جو معلی کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اور صاحب﷫ کا موقف اس کے برعکس ہے کہ وہ میں موجود اور صحابہ کی تفسیر پر سے تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں اور اس بارے تفسیر بالماثور سے اعتناء نہیں فرماتے ہیں۔ شمارے کے دوسرے مقالے کا عنوان “امام ابن قیم ﷫ کا منہج بحث وتالیف” ہے۔ ﷫قرون وسطی کے معروف فقیہ، مصنف اور محقق ہیں اور اس مقالے میں ان کے منہج بحث وتحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام ابن قیم﷫ ان فقہاء میں سے ہیں جو فقہی اور کلامی اختلاف کی صورت میں مسالک وفرق کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت پر زور دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی صراحتا کتاب وسنت میں منقول نہ ہو تو اقوال کو حجت سمجھتے ہیں۔ مقالہ نگار کی کے مطابق امام ابن قیم﷫کسی بھی پر کرتے ہوئے اس کے جمیع جوانب کا احاطہ بہت ہی منظم صورت میں پیش کرتے ہوئے کسی رائے کو راجح قرار دیتے ہیں۔ وہ استدلال واستنباط میں کے مقاصد اور حکمتوں کو مد رکھنےکے علاوہ تقوی واحسان کی کیفیات کو بھی اس سارے عمل کا لازمی جزء سمجھتے ہیں۔ تیسرے مقالے کا موضوع “ اتمام حجت اور قانون جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ” ہے۔ اس مضمون میں راقم نے جاوید احمد صاحب کے اتمام حجت اور قانون کا ایک تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے بقول مجید میں جس اقدامی قتال کا ذکر ہے، وہ رسول ﷺ کا خاصہ ہے لہذا رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا اقدامی قتال جائز نہیں ہے البتہ دفاعی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اقدامی جہاد در اصل اللہ کی طرف اس قوم کے لیے ایک عذاب تھا کہ جس نے رسول اللہﷺ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اس عذاب کو وہ “ اتمام حجت” کا نام دیتے ہیں کہ یہ عذاب ان سابقہ کی اقوام پر نازل ہوتا رہا ہے کہ جنہوں نے اپنے وقت کے نبی کا انکار کر دیا تھا۔ راقم کی رائے میں اقدامی کے بارے یہ نقطہ نظر مجید اور رسول ﷺ کے نصوص کے مطابق نہیں ہے۔ چوتھا مقالہ ایسی روایات کی کے متعلق ہے کہ جن میں بعض ایسی سورتوں کو قرآن مجید کا حصہ کہا گیا ہے جو کہ امر واقعہ میں قرآن مجید کا جز نہیں ہیں۔ یہ اصطلاحا قراءت شاذہ کا موضوع ہے یعنی ایسی قراءات کہ جن کے قرآن مجید ہونے کا دعوی تو کیا گیا ہو لیکن وہ بطور قرآن ثابت نہ ہو سکی ہوں۔ ان قراءات میں سورۃ الخلع اور سورۃ الحفد کی قراءات بھی ہیں کہ جن کے بارےمروی تمام روایات ضعیف اور غیر ثابت شدہ ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ مدیر 9
علوم عربیہ سے استفادہ میں افراط وتفریط اور راہ اعتدال                             ڈاکٹر حافظ انس نضر 11
امام ابن قیم  الجوزیۃ﷫ کا منہج بحث و تالیف                                ڈاکٹر بکر بن ابو زید، قاری محمد مصطفی راسخ 64
قانون       اتمام حجت اور جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ                               ڈاکٹر حافظ محمد زبیر، ڈاکٹر حافظ حسین ازہر 86
سورة الخلع اور سورة الحفد سے متعلق روایات کا تحقیقی جائزہ                                ڈاکٹر عرفان اللہ ،ساجد محمود 112

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...