شہر خموشاں ( قبرستان )

شہر خموشاں ( قبرستان )

 

مصنف : عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

 

صفحات: 116

 

تعالیٰ نے کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد تک کے لیے جس مقام پر اس کی کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔ زیر کتاب ’’شہر خموشاں‘‘ مولانا  عبدالرحمن عاجزمالیر کوٹلوی﷫ کی تالیف ہے۔اس کتا ب کا زیادہ  حصہ ان کی دیگر کتب   کےمضامین کے انتخابات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں انہوں  نے  دور حاضر کے انسانوں کو کریم کی کریمہ اور احادیثِ رسول اللہﷺ کے حوالے  سے یاددلایا ہے  کہ وہ جس طرح دنیا کی زندگی  میں کثرتِ مال ودولت ور آل واولاد کےلیے شب وروز سرگرم عمل ہیں ،اور وہ اس میں اس حد تک تجاوز  کر گئے ہیں کہ ان کی  زندگی کا مطمح نگاہ اورمقصودہی مال ودولت کی کثرت رہ گیا ہے۔ جس  کے باعث وہ قرآن کی آیت کریمہ  کے مطابق ’’تکاثر‘‘ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں  اور مزید ہورہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ شہرخموشاں (قبرستان) کی جانب رواں دواں ہیں اسی طرح انہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہونے کےلیے اپنے  سانھ کیا زاد لے جارہے ہیں ۔ کیونکہ یہ دنیا کی زندگی  تو عارضی ہے اور ابدی تو میں نصیب ہوگی۔الغرض اپنے موضوع کے اعتبار سےیہ منفرد کتاب  ہے ۔ تعالیٰ  مصنف کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اول 8
تقریظ حضرت علامہ مجاہد الحسینی 9
اس بدن کو خاک کی چادر اڑھا دی جائیگی 11
قبر 12
قبر کی منزلوں میں پہلی منزل ہے 13
دارالامن 16
سورۃ التکاثر 17
خلاصہ 17
آنکھ بند ہوتے ہی عالم برزخ شروع ہوجائے گا 18
رب اپنے پیارے رسولﷺ کے ذریعہ اعلان کرارہاہے 19
دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز کھیل تماشہ ہے 20
دنیوی زندگی کے مقابلے میں ایک حقیر سودا ہے 20
جس دن اپنے پر کیے ہوئے عمل کو یاد کرے گا 21
تو اکیلا مرے گا اکیلا ہی قبر سے اٹھے گا اکیلے ہی سے  حساب لیا جاے گا 21
کے دن ہر شخص کواپنی ہی پڑی ہوگی 22
ایک بار سورۃ التکاثر کی تلاوت ثواب کےلحاظ سے ہزار کے برابر ہے 36
میرادنیا  سے جانےکا وقت آگیا ہے 38
لوگ کم ہورہے اور قبرین زیادہ ہو رہی ہیں 38
دنیا کاآخری انجام یہی ہے جو تم ہمارا دیکھ رہے ہو 39
آہ قبروں میں سوائے چمکتی ہوئی کھوپڑیوں اور بوسیدہ ہڈیوں کے اور کچھ باقی نہ رہا 40
حضرت فضیل بن عیاض کسی جنازہ کے ہمراہ چلتے تو وعظ و نصیحت کرتے اور روتے 41
زمین پرقدم آہستہ رکھ زمین کی مٹی انسانی جسموں کی مٹی ہے 42
وفات کےبعد کا ذکر خیر اس کی دوسری زندگی ہے 42
دنیا پرست غریبوں کی وفات کے بعد بھی ان کےساتھ امتیازی سلوک سے باز نہ آئے 43
اگر قبروں کی مٹی اٹھا کر دیکھیں تو کو فقیر سے نہیں پہچان سکو گے تعجب و حیرت ہے 44
تیری کے بعد تیرے لیے کون پڑھے گا؟ 47
اے اہل قبور ہمیں کچھ اپنے بارے میں خبر دو ! یا پھر ہم تمہیں خبر دیتے ہیں 48
قبروں میں جانےکے بعد ذلیل و عزیز یکساں بے نام و نشان ہو گے ہیں 50
اب تجھ سے ملاقات کی کوئی امید نہیں حالانکہ تو قبر میں قریب ہی پڑا ہوا ہے 50
قبر میں اس کے اعضاء بکھر گئے ہیں 51
میں اپنے دوستوں کی قبروں کے پاس کھڑا ہو انہیں دیکھ کر رو پڑا 53
تیرے خوبصورت جسم کو ( مٹی میں )  مٹی کی چادر اڑھا دی جاے گی 53
میرے قریبی میری قبر کےپاس سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے وہ مجھے پہچانتے ہی نہ ہوں 54
اے مخاطب قبروں پر کھڑے ہوکر سوچ کر اللہ ! ان گڑھوں میں کون کون سی ہستیاں پوشیدہ ہیں 55
بلند و بالا محلات میں رہنے والو تمہیں ان سے نکل کر مٹی کے گڑھوں میں داخل ہونا ہے 56
قبروں نے  و غریب میں کوئی فرق نہیں کیا 56
کے ساتھ کےبعد قبر میں صرف اس کےاعمال جاتے ہیں 57
ہم بھی تیری طرح تھے اور تو بھی کبھی ہماری طرح ہو جاے گا 57
قبر سے بڑھ کر کوئی نصیحت کرنے والا نہیں 58
مزین و مضبوط محلات میں رہنے والو قبر کی وحشت ناک تاریکی کو یاد کرو 58
مجھے ان لوگوں کےمتعلق کچھ خبر دو 60
قبرستان میں (مشاہدات و تاثرات) 61
خاک کے ان ڈھیروں پر میری جمی ہوئی تھی 63
خانہ حقہ و سگریٹ نوشی  اور اخبار بینی 64
مردے کی تعزیت مردے مردوں سے کر رہے ہیں 65
قبرستان شہر سےدور جنگل میں ہو( اور اندھیری رات ہو) 67
تو شب تاریک میں قبرستان جانےسے گھبرارہاہے 67
میں اس قبر کےپاس کھڑاہو ا ایک زمانے سے دوسرے زمانے کیطرف  دیکھ رہا تھا 68
ہر آن کے تعاقب میں ہے 68
دنیا اس کا گھر ہےجس کا کوئی گھر نہیں 69
قبر صداقت اور راستبازی کاکلمہ ہے 69
آہ وہ لوگ جنہیں عمر رفتہ کا احساس نہیں 70
کی فکر کرو 71
اہل جنت سےجنت کی نعمتیں کبھی نہیں جائیں گی 71
اہل جہنم کا حال 72
جہنم کا ایندھن اور  پتھرہیں 72
اہل  جہمن سے جہنم کا عذاب کسی لمحہ کم نہیں کیا جائے گا 73
پانچ وقتوں سے پہلے پانچ وقتوں کو غنیمت جانو 73
قبر سےندا آرہی ہےکہ لوگو اپنے عیوب کی کرلو 74
مجھے جام اجل پلادیا گیا اور جسم سے علیحدہ کر دی گئی 76
ایک عجیب وغریب واقعہ 79
میری رضا وا لدین کی رضا میں مضمر ہے 82
میرا شکر کرو اور اپنے والدین کا بھی 83
والدہ کی عزت و عظمت 84
عمر و بن عتبہ بن فرقد ؒ 86
جب موت میں چند ہچکیوں کا فاصلہ رہ گیا 90
بنی آدم کی میراث ہے 92
عاجز سے اس کےدل کا خطاب 92
دل نے پھر مجھ سے کہا 96
آہ بظاہر قبریں مٹی کےڈھیر ہیں 101
دو رکعت کی اہمیت و عظمت 102
اگر تو قبر میں اس حال میں داخل ہو ا کہ تیرے ساتھ ہے(یعنی اسلام پر توعمل کر رہا ہے) تو تیرےلیے خوشخبری ہے 103
تعالیٰ کے ہاں مقبول صرف ہے 103
دین تعالیٰ نے خود مکلم کردیا ہےاب اس میں ترمیم و اضافہ کی گنجائش نہیں 104
دین کی علامت 105
اشتہارات 106

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...