Categories
Islam ائمہ اربعہ ادب علماء فقہ

امام احمد بن حنبل  عہد و حیات

امام احمد بن حنبل  عہد و حیات

 

مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

 

صفحات: 547

 

امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔(وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ : ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍343)امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے ۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی ۔ ۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نےاطراف الحدیث کا کام کیا ۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے ۔اور شیخ شعیب الارناؤوط نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’امام احمد بن حنبل عہد وحیات ‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف ’’امام احمد حنبل حياته و عصر ه ‘‘ کا اردو ترجمہ ہےاس کتاب میں فاضل مصنف نے امام احمد بن حنبل کی حیات خدمات، مسلک وعقیدہ ،امام احمد بن حنبل کا منہج،بیان کرنے کے علاوہ فقہ حنبلی کی اہمیت، امام موصوف کا ائمہ ثلاثہ کے نظریات ومسالک سے اختلافات اور اس کے اسباب ، عہد حاضر میں حنبلی مذہب، سعودی حکومت او رحنبلی مذہب جیسے عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی ذمہ داری جناب سید رئیس احمدجعفری اور سید نائب حسن نقوی امروہوی نے انجام دی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 25
پیش لفظ 27
مقدمہ 29
افتاحیہ 55
تمہید 57
باب (1)
حیات امام احمدبن حنبل 64
ولادت وفات 64
حسب نسب 65
آباءاجداد 66
ننھیال 67
امام شافعی سےمشاہبت 69
عادات وخصائل 69
عجیب وغیریب خصوصیات 72
باب (2)
مسلک ومنہاج 72
فقہ وحدیث میں ہم آہنگی 73
امام موصوف کےعہد کابغداد 75
امام موصوف کاسفر حجاز 75
سماع حدیث 76
ماں او ربیٹا 77
مصائب وآلام کاسامنا 79
خوداری 81
میلان طبع 81
تدوین حدیث 82
قوت حافظہ 83
فقہ حدیث 84
امام شافعی 85
باب (3)
علم وفقہ اوستنباط 86
اختلاف آراء 86
جامعہ فقہ وحدیث 87
امام احمد اورمعاصر علوم 87
فارسی ادب اوراما م احمد 88
سفر درسفر 89
کمی اور اس کاسبب 90
مسند تدریس اوراجرائے فتاوی 91
احتیاط اورستواری 91
سنت کی پیروی 91
آنحضرت ﷺ سےمشاہبت 92
شہرت عام کےمدارج 93
درس وتدریس اوراجرائے فتاوی 91
احتیاط اور استواری 91
سنت کی پیروی 91
آنحضرت ﷺ سےمشاہبت 92
شہرت عام کےمدارج 92
درس وتدریس اوراجرائے فتاوی 94
اوقات درس وتحدیث 95
چند خصوصیات 95
کاوش وتحقیق 96
امام موصوف کی مجلس کاماحول 96
مسند کی ترتیب 96
امام ابوحاکم رازی کی رائے 97
انداز وایت 97
فقہی فتاوی 98
عناصر عرب کااتصال 100
مامون وامین کی کشمکش 101
تخریبی کارورائیاں 101
بدعتیوں کابائیکاٹ 102
کیا عناتھا کیاپایا 103
باب (4)
آلامصائب کاآغاز شہنشاہیت مذہبی روب میں 105
مصاثب وآلام اوران کاپس منظر 107
مامون رشید کانظریہ خلق قرآن 107
خلق قرآن کےنظریات کاپہلامدعی 108
دوسر ا مدعی بشیر بن غیاث 109
ہارون رشید اورعقیدہ اعتزال 109
مامون رشیدکاعہد 109
عہد ظلم وجہد 110
اما م موصوف دربار خلافت میں 112
معتصم باللہ کاعہد حکومت 114
مامون کےفرامین نائب السلطنت کےنام 115
پہلافرمان 115
دوسرا فرمان 119
تیسرا خط 119
مامون کےفرمان کی تعمیل 124
بشیرین الولید سےپوچھ کگھ 124
علی بن ابو مقاتل سے سوال وجواب 125
ابوحسان زیادوی سےسوال جواب 126
اما م احمد بن حنبل نائب السلطنت کے حضور میں 128
مامون کاتیسراخط 131
اما م احمد کی منازل واقداد 136
مامون کےفرامین میں ابو داؤد اورکاہاتھ 138
شاہی احکامات 139
معتزلہ 140
مامون کےفرامین کاسیاسی جائز ہ 141
یوحنا دمشقی 142
قد م قرآن کےعقائد اوراس کے نتائج 143
ڈاکٹر ابو زہرہ اوراعتزل 144
حق اور تشدد 144
مامون کےبعد معتصم کا عہد 145
جلاوطنی 146
امام احمد کےدوسرے ساتھی 147
باب (5)
معاشرت اورمعشیت 151
امام احمد کاآزرقہ اورخانگی زندگی 152
امام موصوف کاتصور خودہی 153
آمدنی اوراملاک 154
دوسرے فدائع زندگی 155
کسب معاش 159
حکومت سے مالی احانت لینے سےانکار 161
اما م شافعی کی پیش کش 162
بے نیازی 163
مختلف المینال ائمہ مسلین 163
امام احمد اورامام ابوحنیفہ 164
امام محمد اورمتوکل 165
اولاسے قطع تعلق 167
باب (6)
علوم 171
امام احمد کے علوم آپ کے معاصرین کی نگاہوں میں 173
امام موصوف اورعلم حدیث 174
امام احمد پر عصر ی ماحول وفضا کےتاثرات 175
باب (7)
صفات عمیدہ 177
امام احمد کی ذات ونفسیات 177
قوت حافظہ 177
امام احمد کاطرہ امتیاز 178
پہلی خصوصیت 178
دوسری خصوصیت 178
تیسرا وصف 179
صبرو وشکر کی منزلیں 180
توکل علی اللہ 181
تزکیہ نفس اوردرجات ایمانی 183
نرمی قلب 184
تزکیہ عقل وعقیدات 186
امام احمد او رمتکلین 187
مامام احمد کاخلوص نیت 188
رعب جلال 181
باب (8)
امام احمد کےاساتذہ اورشیوخ 193
حافظ ہشیم کےمختصر حالات زندگی 194
امام شافعی کےحالات 196
باب (9)
دراسات علمی 199

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ائمہ اربعہ زبان فقہ

حیات حضرت امام ابو حنیفہ 

حیات حضرت امام ابو حنیفہ 

 

مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

 

صفحات: 771

 

امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی ﷫ بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: “اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سےوزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا” آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ اما م موصوف کو صحابہ کرام سے شرف ملاقات اور کبار تابعین سے استفادہ کا اعزار حاصل ہے آپ اپنے دور میں تقویٰ وپرہیزگاری اور دیانتداری میں بہت معروف تھے اور خلافت عباسیہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ۔ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حیات حضرت امام ابو حنیفہ ﷫‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف ’’ابو حنيفه حياته و عصر ه ارائه وفقهه ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔پرو فیسر ابو زہر ہ کی یہ تصنیف اردو زبان میں پیش بہا اضافہ اور اپنے موضوع پر منفرد اور یکتا کتاب ہے ۔امام ابو حنیفہ کے حالات علوم ومعارف کے متعلق نادر معلومات کا گنجینہ ہے ۔ 1980ء میں مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ کے حکم پروفیسر غلام احمدحریری نے اس کا سلیس ورواں ترجمہ کیا۔المکتبہ السلفیہ نےمحنت شاقہ وتوجہ خاصہ سےاس کتاب کو اور بھی مفید تر بنادیا کہ اس میں آیات قرآنیہ کے حوالے دے دیئے اوراحادیث وآثار کی تخریج وتحقیق بھی کردی۔اس کے علاوہ مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے تنقیح ، تحقیق وتعلیق اور حواشی سے کتاب کومزین کیا جو مصنف کے متعدد مسامحات کی نشاندہی اور بہت سے تاریخی وتحقیقی مباحث پر مشتمل ہیں۔ان حواشی کا وہ حصہ بالخصوص بڑی اہمیت وافادیت کا حامل ہے جس میں حدیث پاک کے متعلق ایسے مغالطوں کا ازالہ کیاگیا ہے جن میں مصنف کے علاوہ عصر حاضرکے بہت سارے لوگ توغلط فہمی سےمبتلا ہیں ۔مگر الحاد پسند طبقہ اور منکرین حدیث کےلیے وہ چور دروازوں کی حیثیت رکھتے ہیں

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam علماء فقہ فقہاء کھیل محدثین

حیات امام احمد بن حنبل

حیات امام احمد بن حنبل

 

مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

 

صفحات: 559

 

امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیثمیں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآنکے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔(وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ : ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍343)امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے ۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی ۔ ۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔ بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نےاطراف الحدیث کا کام کیا ۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے ۔اور شیخ شعیب الارناؤوط   نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ حیات امام احمد بن حنبل ‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں فاضل مصنف نے امام احمد بن حنبل کی حیات خدمات، مسلک وعقیدہ ،امام احمد بن حنبل کا منہج، بیان کرنے کے علاوہ فقہ حنبلی کی اہمیت، امام موصوف کا ائمہ ثلاثہ کے نظریات ومسالک سے اختلافات اور اس کے اسباب، عہد حاضر میں حنبلی مذہب، سعودی حکومت او رحنبلی مذہب جیسے عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ’’ مصالح‘‘ کےعنوان پر بحث کرتے ہوئے مصنف نے فقہ حنبلی کی جس وسعت کاذکر کیا ہے ۔ اس کامطلب شریعت اور قانون اسلامی کو کھیل بنانا نہیں بلکہ فقہ حنبلی میں مصالح اور سد ذرائع دونوں اصول ساتھ ساتھ چلتے ہیں اوردرحقیقت دونوں ہی کو ضابطے کےطور پر نافذ کرنے سے اعتدال قائم رہتا اور شریعت کامقصود قیام امن وعدل وانصاف پورا ہوتا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ بہت سے محاسن کی حامل ہے مگر اس میں بعض جگہ مصنف سے فاش غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں او ر امام احمد بن حنبل اور محدثین کے بنیادی مسلک کے خلاف بعض مسائل میں انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے مثلاً مسئلہ خلق قرآن میں۔ لیکن کتاب کے ناشر شیخ الحدیث مولانا محمدعطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ایسے مقامات کی حواشی مین نشان دہی کردی ہے او رمدلل طور پر ثابت کیا ہے کہ اس مذکورہ مسئلہ میں مسلک امام احمد اور محدثین کاہی حق تھا۔ اور معتزلہ کا سراسر باطل تھا۔ ان حواشی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
سخنہائے گفتنی 31
پیش لفظ 38
افتتاحیہ 41
حصہ اول
تمہید 44
علو مرتبت 44
شخصیت کا اجمالی خاکہ 46
کیا امام احمد فقیہ نہ تھے؟ 46
اس رائے پر ایک نظر 47
بجائے فقہ کے حدیث میں شہرت پانے کی وجہ 48
حضرت امام کی طرف بعض غلط انتساب 50
فقہ حنبلی کی حیثیت 50
پہلا عنصر 50
عنصر ثانی 51
فہرست نامکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
20.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Biography

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ از ابو زھرہ مصری

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ

از ابو زھرہ مصری

Download from Scribd