Categories
Islam اسلام تہذیب حقوق نسواں رشد علماء فقہاء کھیل محدثین معاشرتی نظام

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 126

 

اس وقت رشد کا پانچواں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات‘‘ ہے۔سترہویں صدی ہجری کے صنعتی انقلاب اور بیسویں صدی ہجری کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سارے عالم کو متاثر کیا، وہاں مذہب کی دنیا میں بھی ان گنت سوال پیدا کر دیے ہیں۔ مثلاً صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار کی ہزاروں ایسی نئی شکلیں متعارف ہوئیں ہے کہ جن کی شرعی حیثیت معلوم کرنا وقت کا ایک اہم تقاضا تھا۔ سیاسی انقلاب نے جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ، آئین اور قانون جیسے نئے تصورات سے دنیا کو آگاہی بخشی۔ معاشرتی تبدیلیوں سے مرد وزن کے باہمی اختلاط اور باہمی تعلق کی حدود ودائرہ کار جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایجادات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا کہ جس سے کئی ایک ایجادات کے بارے شرعی حکم جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اجتہاد کی تحریکیں برپا ہوئیں۔ تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل میں علماء نے رہنمائی کی، فتاویٰ کی ہزاروں جلدیں مرتب ہوئیں۔ اور اجتہاد کے عمل کو منظم انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وجود میں آنے لگے۔ اس مقالے میں بیسویں صدی عیسوی کی اجتماعی اجتہاد کی اس تحریک کے پس پردہ محرکات اور اسباب کا ایک جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’ جدید تصور درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول ‘‘ہے۔مغربی فکر وفلسفہ کے غلبے اور تسلط کے سبب سے برصغیر پاک وہند کے بعض معاصر مسلمان اسکالرز میں دین اسلام کے مصادر کو ریوائز کرنے کا جذبہ پیدا ہوا کہ ان کے خیال میں مغرب کے دین اسلام پر اعتراضات کی ایک بڑی تعداد احادیث پر اعتراضات کے ضمن میں شامل تھی۔ پس ’’درایت‘‘ کے نام سے احادیث کی جانچ پڑتال اور پرکھ کے نئے اصول متعارف کروائے گئے اور اس تصور درایت کو روایتی مصادر سے جوڑنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقالے میں مولانا فراہی﷫ ، مولانا اصلاحی ﷫ اور غامدی صاحب کے تصور درایت کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ محدثین کے تصور درایت اور جدید مفکرین کے تصور درایت میں نمایاں فرق موجود ہیں اور جدید تصور درایت کے نقلی وعقلی دلائل، نقل صریح اور عقل صحیح کے مخالف ہیں۔ تیسرے مقالے کا موضوع ’’ حقوق نسواں اور مسلم ممالک کی کشمکش: مسلم ممالک میں سماجی اور فکری تبدیلی ‘‘ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں پر یورپی استعماری طاقتوں کے قبضے کے زیر اثر حقوق نسواں کی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان تحریکوں نے مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور جنوبی ایشیاء کے مسلم ممالک میں عورتوں کی آزادی، عورتوں کی مخلوط تعلیم، مرد وزن کے اختلاط، مساوات مرد وزن، ستر وحجاب کی مخالفت، کثرت ازواج کی مخالفت، سیاست، روزگار، وراثت، گواہی، دیت اور کھیل وغیرہ میں مردوں کے برابر عورتوں کے حصے کے لیے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے منظم جدوجہد کی بنیاد بھی رکھی۔ اس مقالے میں حقوق نسواں کی تحریکوں کے مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معاشرتی نظام پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ حقوق نسواں کی ان تحریکوں کی جدوجہد سے مشرقی عورت کو حقیقی طور کوئی فائدہ پہنچا ہے یا حقوق کے نام پر اس پر مزید ذمہ داریاں ڈال کر اسے مزید نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔
چوتھا مقالہ ’’ جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ: مقاصد شریعت کی روشنی میں ‘‘ہے۔جدید سائنس نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے تو اس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح مذہب کو بھی متاثر کیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں تحقیق کے سبب سے جو مسائل پیدا ہوئے، ان میں جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ وغیرہ بھی ہیں۔ اس مقالے میں مصنوعی تخم ریزی (Artificial Insemination )، نلکی بار آوری (Test Tube Fertilization) اور کلوننگ (Cloning )کے ذریعے سے پودوں، جانوروں اور انسانوں میں مصنوعی تولید کے طریقوں اور ان کے شرعی جواز اور عدم جواز کے بارے مقاصد شریعت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ پانچواں مقالہ ’’ حدیث مرسل: فقہاء کی نظر میں ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ مرسل اس روایت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی تابعی کسی صحابی کا واسطہ چھوڑ کر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات نقل کر دے۔ عام طور یہ غلط فہمی عام ہے کہ فقہاء حدیث مرسل کو مطلقاً حجت مانتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ فقہاء کے ہاں حدیث مرسل کو قبول کرنے اور اس سے استدلال کرنے میں تفصیل ہے۔ عام طور فقہاء حدیث مرسل کو اس وقت قبول کرتے ہیں جبکہ ارسال کرنے والا راوی ثقہ ہو اور ثقہ ہی سے ارسال کرنے میں معروف ہو۔ البتہ محدثین، مرسل روایت کو ضعیف کی ایک قسم شمار کرتے ہیں اور اس سے حجت نہیں پکڑتے ہیں۔ اس مقالے میں حدیث مرسل کے بارے فقہاء کے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اداریہ 9
دور حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات 11
جدید تصویر درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول 38
حقوق نسواں اور مسلم ممالک کی کشمکش ، مسلم ممالک میں سماجی اور فکری تبدیلی 62
جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ مقاصد شریعت کی روشنی میں 98
حدیث مرسل فقہاء کی نظر میں 111

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ زبان سنت سیرت سیرت النبی ﷺ نبوت

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 3

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 3

 

مصنف : علامہ شبلی نعمانی

 

صفحات: 555

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں سیرت کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر تبصرہ نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، آیات قرآنیہ ، احادیث اورروایات کی مکمل تخریج،آیات واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم اللہ نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
                                  فہرست مضامین سیرۃ انبی ﷺ حصہ سوم
مضامین
دیبا چہ طبع سوم 13
دیبا چہ ( طبع اول) 14
دلائل و معجزات 16
روحانی نو ا میس کا و جود 16
بنو ت کے فطری وروحانی ا ٓ ثار 16
بنو ت کے روحانی نوا میس انسانی قوانین پر
حکمران ہیں 17
بنو ت کے روحانی نو امیس کے اسباب و علل
سے ہم اسی طر ح لاعلم ہیں جس طر ح جسمانی
قوانین کے 17
انبیا کے ا صلی معجزہ خود ان کا سر تا پا وجود ہے 18
انبیا کے کامل پیر وان سے معجزہ نہیں مانگتے تھے 18
معاند ین معجزوں کے بعد بھی ایمان نہیں لائےا 18
معجزوں سے کن کو فائدہ پہنچتا ہے 18
ان واقعات کا اصطلا حی نام 19
دلائل وبرہان و آیات کا تعلق انبیا کی سیر تو ں سے 19
دلائل و  ا ٓ یا ت کا تعلق سیرت محمد ی سے 20
دلائل و معجزات اور عقیلت 21
دلائل و معجزات اور فلسفہ قدیم و علم کلام 23
اطلا ع غیب 25
رویت ملائکہ 25
خوار ق عادت 26
وحی مشا ہدہ 27
معجزات 40
اسباب خفیہ کی تو جیہ بے کار ہے 48
حکمائے اسلام کی غلطی کا سبب 48
اشاعرہ اور معتزلہ میں نتیجہ کا اختلا ف نہیں 49
خر ق عادت سے انکار کا اصلی سبب سلسلہ
اسباب و  علل پر یقین ہے 49
سلسلہ اسباب و علل پر علم انسانی کو ا حتوا نہیں 50
حقیقی علت خدا کی قدرت اور ارادہ ہے 51
مولانا روم اور اسباب و علل اور معجزہ کی حقیقت 52
علت، خا صیت اور اس کی حقیقت 54
اسباب و علل محض عادی ہیں 55
اسباب عادیہ کا علم صر ف تجربہ سے ہو تا ہے 56
اسباب و علل کا علم بدلتا رہتا ہے 56
اسباب و علل کا علم تجر بہ سے ہو تا ہے 57
علامہ ابن تیمیہ کا بیان کہ اسباب و علل تجر بی ہیں 59
تجر بیا ت کی بنا شہادت اور روایت اور تاریخ پر
ہے 62
فلسفہ اور سائنس بھی ایک قسم کی تاریخ ہیں 62
تاریخی شہا دتو ں کے شرا ئط استناد 63
مسلمانوں کا علم روایت 64
نا ویدہ واقعات پر یقین کرنے کا ذ ریعہ صر ف
روایات کی شہادت ہے 65
خبر احا د پر بھی عملا یقین ہوتا ہے 65
واقعات پر یقین کے  لیے اصلی بنیا د امکان اور
عدم امکان کی بحث نہیں بلکہ روایت کے ثبوت
اور عدم ثبوت کی ہے 66
جس درجہ کا واقعہ ہواسی درجہ کی شہادت ہونی
چاہیے 66
معجزات دراصل تجر بیات کے خلاف نہیں ہو تے 66
معجزات کا ثبوت روایتی شہا دتیں ہیں 67
خلاصہ مبا حث 67
یقین معجزات کے اصول نفسی 68
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ اور یقین اور اذعان کی صور تیں 68
معجزہ اور سحر کا فر ق 70
معجزہ دلیل بنو ت ہوسکتا ہے یا نہیں 74
امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر 77
امام رازی رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر 78
مولانا روم کے حقو ئق 79
صحابہ ؓ کو کیوں کر رسالت کا یقین ا ٓ یا 83
دلائل و معجزات اور عقلیات جدیدہ 87
مفہوم نبو ت 87
مفہو م معجزہ 88
ترتیب مبا حث 88
امکان معجزات 89
ہیوم کا استدلال 89
قوانین فطرت کی حقیقت 92
شہادت معجزات 99
امکان ، وقوع کے لیے کا فی نہیں 99
ہیو م کا فتو یٰ 100
ہیوم کا تعصب 100
کافی شہادت 101
ہیوم کا صر یح تنا قض 103
انتہائی استبعاد 104
استعباد معجزات 104
فطر ت کی یکسانی 104
ایجادات سائنس 106
تنویم 106
معجزات شفا 107
عام تجربات 108
رو یا ئے صادقہ 109
حقیقی اسرار نبوت 110
حقیقی ا ٓ یات نبوت کی عام مثالیں 110
مقدمات ثلثہ 114
اصلی بحث یقین کی ہے 114
یقین معجزات 115
یقین کی ا ہمیت 115
نظریات حکمت کا یقین 116
یکسانی جذبہ 116
نظریا ت فلسفہ کا یقین 117
مشاہدات کا یقین 118
نفسیا ت یقین 120
خواہش یقین 121
مو ا نع و مو یدات یقین 121
نفسیات یقین کی شہادت و اقعات سیرت ے 123
غایت معجزات 125
معجزہ منطقی دلیل نہیں 125
معجزہ کی ا صلی غایت 126
پہلی صور ت 127
بعض وسو سو ں کا جواب 129
ایک اور اعتراض 130
دوسری صورت 131
اس صورت کے مختلف احتمالات 131
یقین معجزہ کی شرائط 134
لب لباب 139
آیا ت و دلائل اور قرآن مجید 140
انبیااور آ یا ت ودلائل 140
لفظ ا ٓیت و معجزہ کی حقیقت 141
ا ٓیات اللہ 143
آیا ت و دلائل کی دو قسمیں ، ظاہری اورباطنی 147
نبوت کی با طنی نشانیاں ، واقعات کی روشنی میں 147
قرآن مجید اور نبوت کی باطنی علامات 151
ظاہری ا ٓ یات اور نشانیاں 154
ظاہری نشا نا ت صر ف معا ندین طلب کرتے ہیں 154
کفار کا یہ معجزہ طلب کرنا نفی معجزہ کی دلیل نہیں 155
معاندین کو معجزہ سے بھی تسلی نہیں ہو تی 156
معاندین کو معجزہ سے بھی ایمان کی دولت نہیں ملتی 159
با ایں ہمہ انبیا معا ندین کو معجزات دکھاتے ہیں
اور وہ ا عراض کر تے ہیں 163
اس لیے با لا ٓ خر معا ندین کو طلب معجزہ سے
تغافل بر تا جا تا ہے 166
معجزہ کے انکار یا تا خیر کے اسباب 167
عقیدہ معجزات کی ا صلا ح 171
مسلہ اسباب و علل میں افراط و تفریط 175
قرآن مجید اسباب و مصا لح کا قائل ہے 177
لین علت حقیقی قدر ت و مشیت ہے 182
قرآن میں سنت اللہ کا مفہوم ہ 184
قرآن میں فطر ۃ اللہ کا مفہوم 185
معجزہ کا سبب صرف ارادہ الٰہی ہے 186
معجزہ کی باعتبار خر ق عادت کے چا ر قسمیں 187
اہل ایمان پر اثر کے لحاظ سے معجزات کی دو قسمیں 188
کفار کے لیے نتا ئج کے لحاظ سے معجزات کی دو قسمیں 190
آنحضرت ﷺ اور معجزہ  ہدایت 193
شق قمر ا ٓخری نشان ہدا یت تھا 194
آنحضرت ﷺ اور معجزہ ہلاکت 195
غزوہ بد ر معجزہ ہلا کت تھا 200
سحر اور معجزہ کا فرق اور ساحر اور پیغمبر میں امتیاز 204
معجزات اور نشانات سے کن لو گو ں کو ہدایت
ملتی ہے 206
صداقت کو نشانی صر ف ہدایت ہے 209
آیا ت و لائل نبوی کی تفصیل 210
خصائص النبو ۃ 211
مکالمہ الٰہی 213
وحی 214
نزو ل ملا ئکہ 222
نز ول جبریل علیہ السلام 223
فر شتہ میکا ئیل کا نزول 229
عام ملائکہ کا نزول 230
عالم رویا 235
رویائے تمثیلی 242
مشا ہدات و مسمو عات 249
عالم بیداری 249
اسرا یا معراج 254
انبیا اور سیر ملکو ت 254
معراج نبوی 255
معراج نبو ی کا وقت و تاریخ اور تعد ادوقوع 255
معراج کی صحیح روایتیں 259
معرا ج کا واقعہ 260
کفار کی تکذیب 267
کیا آ پ ﷺ نے معراج میں خدا کو دیکھا ؟ 268
معراج جسمانی تھی یا روحانی ، خواب تھا یا بیدار ی 272
معراج کے بحالت بیداری ہونے پر صحیح استدلال 277
بد عیان رویا کا مقصود بھی رویا سے عام خواب
نہیں 278
رویا ئے صادقہ کی تا ویل 278
رویا سے مقصو د ر و حانی ہے 279
قرآن مجیداور معراج 289
(معراج کے اسرار ، اعلانات احکا  م بشار تیں
اور انعاما ت) 289
آنحضر ت ﷺ کا نبی القبلتین ہونا 289
بنی اسرائیل کی مدت تولیت کا اختتام 291
کفارمکہ کے نام ا ٓ خری اعلان 292
معراج کے احکام و وصایا 294
ہجرت اور عذاب 297
نماز پنجگا نہ کی فر ضیت 299
ہجرت کی دعا 300

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam پاکستان تاریخ سیکولرازم

سیکولرزم مباحث اور مغالطے

سیکولرزم مباحث اور مغالطے

 

مصنف : طارق جان

 

صفحات: 647

 

جدیدفتنوںمیں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ سیکولرزم اور لادینیت کا ہے۔آج امت کے اندرلاشعوری طور پر سیکولرافکارونظریات سرایت کرگئے ہیں۔اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ وہ اصطلاحات ہیں جن کے ذریعے ان افکار کو بیان کیا جاتاہے۔وہ اصطلاحات بظاہر دنیاکے عام تصوارات سے ملتی ہوئی نظرآتی ہیں لیکن درحقیقت تھوڑی سی تحقیق کےبعد یہ سمجھ آتاہےکہ وہ بالکل الگ ہی اپنا پس منظررکھتی ہوتی ہیں۔بدقسمتی سےکچھ لوگ ایک عرصے سےوطن عزیز پاکستان کو سیکولرثابت کرنے کی مذموم کوششوں میں لگےہوئےہیں۔جناب طارق جان صاحب نے اپنی بڑی عرق ریزی سے پاکستان کی تاریخ کےاہم ترین ابواب سے یہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہےکہ یہ ملک اسلامی اساس پرقائم ہواہے۔سیکولرزم ایک الگ  اور جداگانہ طرز فکر ہےجس کااسلامی نظریےسے دورکابھی واسطہ نہیں۔
 

عناوین صفحہ نمبر
رواداد تالیف 1
لادین خطرات؟ 4
بت پرستی کا نیا روپ سیکولرزم 19
سیکولر الحاد،مذہب اور سائنس 57
سیکولرزم لادینیت ہے 93
جدیدیت، سائنس اور الہامی دانش کا مسئلہ 113
دانشوری یا تخریب کاری؟ 135
قرارد اد مقاصد اور سیکولر مغالطے 165
سیکولرلابی، تاریخ اور اورنگ زیب عالمگیر:ان کے ماخذوں کا تنقیدی جائزہ 183
سیکولر جماعتیں،صحافت اور تخریب کاری 235
سیکولر حلقے اور اقبال 299
قائد اعظم محمد علی جناح کی سیکولر صورت گری 323
دریدہ دہن آزاد خیالیاں 335
لادین آزادی سے قومی آزادی کو خطرہ 347
قانون توہین رسالت:آزادی اور انارکی میں خط امتیاز 357
حدود قوانین کے خلاف لادینیوں کی صف آرائی 367
قرارداد مقاصد اور ہماری صحافت 381
میڈیا کو کتنا آزاد ہونا چاہیے؟ 391
مسلم قیادت کی ناکامی کا سبب 403
قومی خارجہ پالیسی کے تقاضے تزویراتی ،ثقافتی اور صحافتی پس منظر میں 415
پاکستان،ہندوستان تعلقات:امن سپرداری میں نہیں 449
سی ٹی بی ٹی:استعمار کا نیا روپ اور اس کے سیکولر حمایتی 467
کشمیر پھر ابل رہا ہے 487
انصاف کا طالب کشمیر اور پتھر دل اقوام متحدہ 497
غیرسرکاری تنظیمیں ،فتنہ گری کا نیا سامان 509
دعا اور سجدے سے چر 521
مذہب زندگی سے لاتعلق نہیں رہ سکتا:عالیجاہ عزت بیگووچ کے افکار 529
سیکولرزم اور وحدت کا مسئلہ 543
حوالہ جات 570
اشاریہ 599

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلام اور سائنس

سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات

سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات

 

مصنف : حافظ زاہد علی

 

صفحات: 203

 

سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ محض غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب” سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات ” محترم حافظ زاہد علی صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاور آخر میں  ابن الہیثم،البیرونی،بو علی سینا ،الکندی،الفارابی اور الخوارزمی سمیت متعدد مسلمان سائنس دانوں کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
سائنسی ترقی میں اسلام اور امسلمانوں کی خدمات 11
پیش لفظ 11
سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات 13
قرآن حکیم کائنات اور نظام کائنات کا امین ہے 14
قرآنی تقاضا ہے کہ انسان مظاہر کائنات پر غور کرے 15
سائنسی ترقی کا عروج 16
نظام تخلیق 18
نظام تسویہ 22
نظام تقدیر 24
نظام ہدایت 26
اہل یورپ پر رہبانیت کا غلبہ 36
تمام علوم کی بنیاد مسلمان ہی ہیں 40
یورپ میں اسلامی علوم کیسے پہنچے 45
قدیم نظریات کا ابطال 54
یورپ پر سائنس کے اثرات 73
روحانی اقدار کی تباہی 83
مغربی نظام تعلیم پر تنقید 92
مذہب اور سائنس 107
ابو علی محمد الحسن ابن الہیثم 119
الفارابی ابو نصر محمد بن محمد بن طرخان بن وازیلغ 122
ابو علی حسین ابن عبداللہ سینا 126
ابوبکر محمد ابن یحیٰ ابن ماجہ 133
ابوبکر محمد عبد الملک ابن طفیل القیسی 137
ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن رشد 150
عباس ابن فرناس 160
ثابت ابن قرہ 171
جعفر بن محمد ابو معشر البلخی 184
البیرونی ابو الریحان محمد بن احمد 187
الکندی 194
فہرس المراجع 198

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اور سائنس

سائنس کیا ہے

سائنس کیا ہے

 

مصنف : سید قاسم محمود

صفحات: 258

 

آج ہر شخص سائنس اور سائنٹیفک کے الفاظ سے تقریبا تقریبا واقف ہے۔سب جانتے ہیں کہ موجودہ دور سائنس کا دور ہے۔اس کے باوجود اس سوال کا جواب بہت کم لوگ دے سکیں گے کہ سائنس کیا ہے؟عام لوگ ٹیلی ویژن،ریڈیو،ٹیلی فون،ہوائی جہاز،ایٹم بم اور اس قسم کی دوسری ایجادات کو سائنس سمجھتے ہیں،حالانکہ یہ سائنس نہیں ہیں،بلکہ سائنس کا حاصل اور پھل ہیں۔سائنس درحقیقت لاطینی لفظ (Scientia)سے مشتق ہے ،جس کے معنی ہیں غیر جانبداری سے حقائق کا ان کی اصل شکل میں باقاعدہ مطالعہ کرنا۔علت ومعلول اور ان سے اخذ شدہ نتائج کو ایک دوسرے سے منطبق کرنے کی کوشش کرنا یعنی فلاں حالات کے تحت فلاں نتیجہ ظاہر ہوگا۔ پرانے زمانے میں سائنسی عمل کو شخصی ملکیت سمجھا جاتا تھا ۔ آج کل اس کے معنی خاصے بدل گئے ہیں ۔ آج ہر سائنسی کھوج ہر سائنسی عمل اور ہر سائنسی معلومات بنی نوع انسان کا حق بن چکی ہے، سائنس کی ہر کھوج، ہر نتیجہ ہر منزل، ہر تجربہ دنیا کے کیلئے ہے ۔ آج کی سائنس کسی ایک سرکار یا کسی ایک ادارے کی جاگیر نہیں ۔ یہ تو علم کا بہتا دریا ہے جو چاہے دو گھونٹ پی لے اور اگر آدمی علم اور عقل رکھتا ہو اور عمل کو زندگی کا اصول بنانے کا قائل ہو تو اس بہتے دریا سے لگاتار پیتا جائے اور اپنی سوجھ بوجھ اور کھوج سے علم کے ایسے چشمے تلاش کرتا جائے جو اس کے شوق کی پیاس بجھا سکیں اور دوسروں کو بھی پیاس بجھانے کی دعوت دے سکیں ۔ زیر تبصرہ کتاب” سائنس کیا ہے؟” محترم سید قاسم محمود صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سائنس کیا ہے؟سائنس  کی تعریف،سائنس کا طریقہ کار،سائنس کی وسعت،سائنس کی اقسام ،کائنات کا آغاز،حیوانات،نباتات اور انسان جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہے۔سائنس کے طلباء کے لئے ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،انہیں اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
نقش اول 5
سائنس کیا ہے 7
سائنس کی تعریف 7
سائنس کا طریق 9
سائنس کی وسعت 19
سائنس کی قسمیں 25
طبیعی کائنات 32
کائنات کا آغاز 32
کائنات کا ارتقاء 42
کائنات کا نظام 44
کائنات کی ساخت 47
کائنات کا مادہ 65
کائنات کا انجام 81
زندگی 88
زندگی زمین پر 89
زندگی کیا ہے 95
زندگی کی ساخت 100
زندگی کی ابتدا 105
زندگی کا ارتقاء 107
نباتات 119
نباتات کی اقسام 120
نباتات کی غذا 122
نباتات کا جسم 125
نباتات کی نسل خیزی 127
نباتات کی افزائش 130
حیوانات 134
حیوانات کی اقسام 135
حیوانات کا نظام ہضم 135
حیوانات کی نقل و حرکت 138
حیوانات کا نظام تنفس 139
حیوانات کی نسل خیزی 140
انسان 149
انسان کا ماضی 151
انسان کا جسم 156
انسان کی غذا 167
انسان کا ذہن 173
انسان کی شخصیت 189
معاشرتی نظام 198
سیاسی نظام 216
ثقافتی نظام 228
معاشی نظام 232
اشاریہ 247
کتابیات 252

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اور سائنس علماء

سائنسدانوں کی کہانیاں

سائنسدانوں کی کہانیاں

 

مصنف : بلراج پوری

 

صفحات: 82

 

سائنس کو اردو میں علم کہتے ہیں اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا، لہذا سائنس کا مطلب بھی جاننے اور آگہی حاصل کرنے کا ہی ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا اور مختلف قدرتی چیزوں کے بارے میں سوچنا ہی سائنس ہے، اور اس طرح غور کرنے اور سوچنے والے شخص کو سائنسدان کہا جاتا ہے۔ یعنی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو مشاہدہ کرتا ہے اور سوچ کر کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ سائنسدان کو اردو میں عالم کہتے ہیں اور اس لفظ کی جمع علماء کی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سائنس دانوں کی کہانیاں‘‘ بلراج پوری اور ڈاکٹر احرار حسین کی مرتب شدہ ہے یہ کتاب خاص طور پر سکولوں کے ابتدائی طلبہ کے لیے مرتب کی گئی ہے ۔ اس کتاب میں سائنس دانوں کےعلم اور ان کی زندگی کی کہانیاں شامل ہیں۔ یہ کہانیاں عام انسانوں کی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ ان سائنسدانوں کی کہانیاں ہیں جن کی ایجادات نےدنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے ان سائنس دانوں کی کہانیاں پڑھ کر سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور جذبہ پیدا ہوگا اور انہیں معلوم ہوگا کہ کیسے عام سے انسان دنیا کے بڑے سائنسدان بن گئے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
سائنس اورسائنس دان کسےکہتےہیں؟ 5
سائنس دانوں کی کہانیاں 7
عرض مصنف 9
ارسطومغربی سائنس کاجنم داتا 11
گیلیلیو،جدیدسائنس کاسائنسدان 16
اینٹونی لیووزیر 22
پاسچر 26
چارلس رابرٹ ڈارون 31
آئزک نیوٹن 37
میری کیوری 42
آئن سٹائن 51
مائیکل فیراڈے 59
الفریڈنوبیل 62
ولیم کونارڈروینجٹن 65
تھامس ایڈیسن 69
جے۔بی ۔ایس ہلدنے 72
جیورگیس چیرپیک 74
مائیکل اسمتھ 76
ڈاکٹرعبدالسلام 78

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اور سائنس تہذیب زبان کھیل

اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی

اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی

 

مصنف : اینڈریو لینگے

 

صفحات: 30

 

انسان نے اپنے صدیوں کے روزمرہ مشاہدات سے اور تجربات سے مندرجہ ذیل اصول اخذ کئے تھے۔کہ یہ کائنات سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے کچھ قوانین ہیں جو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہیں۔ ان قوانیں کو جان کر فطری قوتوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ان قوتوں سے حسبِ منشاء ضرورت کا کام لیا جا سکتا ہے۔آج ہم اِن اصولوں کے ذریعے حاصل کردہ علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں۔انسان نے جو سب سے پہلی سائنسی دریا فت کی تھی، وہ تھی ” آگ” انسان نے دیکھا کہ آگ روشن ہے، جلا دیتی ہے، پکا دیتی ہے، جانوروں کو بھگا دیتی ہے، یہ توانائی ہے، اسے قابو کیا جا سکتا ہے ، اس سے کام لئے جا سکتے ہیں یہ سائنسی تجربات تھے۔ یہ اُس کی سائنس تھی۔ انسان کائنات کو صرف سمجھتا ہی نہیں تھا وہ تخلیق اور ایجاد کا ذہن بھی رکھتا تھا۔ فطری قوتوں کا حسبِ منشا استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے قوانین قدرت کو نئے رخ سے استعمال کرنا شروع کیا۔اپنے اختیارات سے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استعمال ٹیکنالوجی کہلایا۔انسان نے جو سب سے پہلے ایجاد کی وہ پہیہ تھی ۔ اس نے دیکھا کہ گول چیز دیگر شکلوں والی اشیاء کی نسبت باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔ اس قانون قدرت کو اس نے پہیہ بنا کر استعمال کیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی تھی۔ آگ توانائی تھی ، سائنس تھی اور پہیہ ایجاد تھا، ٹیکنالوجی تھی۔پھر انسان نے دیکھا کہ جس کے پاس توانائی تھی وہ طاقتور تھا، اسی نے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ جس کے پاس ایجاد تھی، اسی کے پاس قوت تھی وہ آگے بڑھ گیا ۔ ان کے استعمال سے انسان پر ترقی کے راستے کھل گئے۔یعنی آگ توانائی ہے پہیہ ایجاد ہے۔توانائی سائنس ہے، ایجاد ٹیکنالوجی ہے۔ جس کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی ہے، وہ طاقتور ہے۔انسان کی ترقی میں آگ اور پہیے کا کردار اب بھی نہیں بدلا۔ آج توانائی کی دوسری شکلیں ایٹمی، شمسی صورتیں سامنے آرہی ہیں ۔ اور ٹیکنالوجی لیزر سے کمپیوٹر تک نئے آلات کی شکل میں وجود پذیر ہو رہی ہے۔ یعنی ۔۔۔ جدید تہذیب سائنس اور ٹیکنالوجی کی تہذیب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی‘‘ایک انگریز مصنف اینڈر یو لینگلے کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات پر مشتمل انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب کو حکومت پنجاب نے انگریزی سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ۔ دنیا میں ہر چیز کس سے بنی ہے ؟ ہم ٹیلی وژن سے دنیا بھر میں تصاویر کیسے بھیجتے ہیں؟ توانائی کہاں سے آتی ہے ؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بچوں کے ان ننّھے منّے مگر اہم سوالات کے جوابات اس کتاب میں دئیے گئے ہیں ۔ یہ کتاب اپنی سادہ زبان اور رنگا رنگ تصاویر کی وجہ سے بچوں کے لیے پُرکشش اور آسان فہم ہے ۔ اس کتاب کے ذریعے اساتذہ بچوں کو کھیل ہی کھیل میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکیں گے ۔ اساتذہ اوربچوں کی آسانی کے لئے کتاب کے آخر میں فرہنگ اور اشاریے بھی دئیے گئے ہیں۔

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلام اور سائنس نماز

صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ

صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ

 

مصنف : باثرہ شغیف نورانی

 

صفحات: 599

 

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، مکمل ضابطۂ حیات او رتمام علوم کا عظیم خزینہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور حکمت بیان کرتی ہے ۔صحیح بخاری ومسلم شریف کتاب اللہ کے بعد اتباعِ رسول کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ احادیث مبارکہ صحیح سمت انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جس میں انسانیت کی تعمیر اور سوسائٹی کی تنظیم کے لیے درست بنیادیں ملتی ہیں ۔ اس میں حکمت ودانائی کی وہ باتیں ہیں جو بنی نوع انسان کی روحانی وجسمانی شفا کا باعث ہیں۔ احادیث مبارکہ اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں اور نہ ہی سائنسی تعلیم کی فراہمی کے لیے نازل ہوئی ہیں تاہم یہ کسی سائنسی انسائیکلوپیڈیا سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان میں ایسے سائنسی حقائق موجود ہیں جہاں آج کی جدید سائنس بھی ان کی حدود کے ادراک اورتعین کی دسترس نہیں رکھتی۔ زیر تبصرہ مقالہ ’’صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ‘‘ محترمہ باثرہ شغیف کی کاوش ہے جسے انہوں نے ایم ایس علوم اسلامیہ کی ڈگری کےحصول کے لیے ڈاکٹر زاہدہ شبنم صاحبہ کی نگرانی مکمل کر کے شعبہ علوم اسلامیہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، لاہور میں پیش کیا۔ یہ مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ مقالہ کی تیاری میں مستند حوالہ جات کتب ، ویب سائٹس اور میڈیکل کتب سےمدد لی گئی ہے۔ مقالہ نگار نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی سائنسی حقانیت کوثابت کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
باب اول : اسلام اور سائنس ۔۔۔۔۔۔ تعارفی بحث 24۔29
فصل اول : اسلام کا سائنسی اسلوب 24۔31
فصل دوم :   علم سائنس کا تعارف و آغاز اور اسلا م کی دعوت میں اس کی اہمیت 32۔37
فصل سوم : احادیث   مبارکہ کی سائنسی اہمیت 38۔39
باب دوم: صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق ۔۔۔ ایک تقابلی مطالعہ 40۔155
فصل اول : صحیحین   اور ان کے مؤلفین کا تعارف 43۔73
صحیح بخاری شریف

امام بخاریؒ

43

50

صحیح مسلم شریف 62
امام مسلم ؒ 67
فصل دوم : علم الطب (Medical Science) 73۔128
طاعون 73
جذام 79
حجامہ 85
ختنہ 91
مردار حرام 96
ذبیحہ حلال 97
خون حرام 99
نکاح کے فوائد 103
زنا کے نقصانات 105
پردہ 108
چھینک پر شکر 111
جمائی کی کراہت 112
رضاعت 114
علم الجنین (Human Embroyology) 117
جنین کی نشونما کے مراحل 117
علقہ ، مضغہ 119۔122
حس سماعت و حس   بصارتHuman Biology)) 124
داڑھی بڑھانا 128
مونچھ کتروانا 131
ناخن کاٹنا 133
زیر جامہ بال صاف کرنا 134
بغل کے بال صاف کرنا 135
بھنوؤں کے بال اتارنے کی ممانعت 135
گودنا اور گدوانے کی ممانعت 136
خوبصورتی کے لیے   دانتوں کا علاج 138
علم النفسیاتPsychology)    ) 139
موسیقی کا اثر 139
شراب نوشی کے نقصانات 143
نیند کے فوائد 151
خوابوں کے اسرار 153
باب سوم :صحیحین کی   سائنس کے متعلقہ روایات او ر سائنسی تحقیقات
ایک تقابل 156۔256
فصل اول: علم الصحت(Health Science) 160۔183
وضو کرنا ( سائنسئ   فوائد ) 160
ہاتھ دھونا 160
کلی کرنا 161
مسواک کرنا 161
ناک میں پانی ڈالنا 161
منہ دھونا(Washing of the face) 162
سر کا مسح 162
بازو کہنیوں تک دھونا 162
پاؤں ایڑیوں تک اچھی طرح دھونا 162
غسل کے فوائد 163
تیمم کرنا 163
نماز پڑھنا 164
میڈیکل   سائنس میں نماز کے فوائد 166
اوقات نماز 167
رکوع کرنا 167
رکوع کا طبعی فائدہ 167
رکوع سے اٹھ کر قیام کرنا 167
سجدہ کرنا 168
تشہد 168
سلام پھیرنا 168
باجماعت نماز میڈیکل ریسرچ میں 169
نماز تہجد 169
روزہ رکھنا 170
صحیحین میں روزے کے احکامات 171
روزے کے فوائد میڈیکل سائنس میں 171
ہفتہ کے دو روزے 174
داؤدی روزے کے طبعی فائدے 174
ایام بیض کے روزے 174
قمری تقویم کی حکمت 175
شوال کے چھ روزے 175
نفس کشی کے لیے روزہ 176
صحیحین میں سونے   کے آداب 177
دائیں کروٹ سونا 177
بائیں کروٹ سونا 178
چت لیٹنا 178
اوندھا لیٹنا 178
دائیں ہاتھ سے کھانا 179
انگلیاں چاٹنا 179
انگلیا ں چاٹنے کی طبی تحقیق 180
پانی بیٹھ کر پینا 181
پانی میں سانس نہ لینا 182
فصل دوم : علم الحیوانات(Zooiogy) 184۔223
اونٹ کے فوائد 184
اونٹ کا گوشت 184
اونٹنی کے دودھ میں شفاء 185
اونٹ کا پیشاب 187
گھوڑے کا گوشت 190
گور خر کا گوشت 192
ضب کا گوشت 194
خرگوش کا گوشت 197
گدھے کا گوشت 199
خنزیر کا گوشت 201
درندے کا گوشت 205
ناخن والے پرندے حرام 205
چوہا 207
چوہا گھی میں گر ے ( کسی بھی کھانے میں ) 208
علم الحشرات(Insectology) 210
ٹڈی کا گوشت 210
مکھی کے ایک پر میں شفاء 212
شہد کی مکھی 214
علم معدنیات (Mineroiogy) 220
سرمہ 220
فصل سوم : علم البناتات (Botany) 224۔256
جو کے فوائد 224
تلبینہ 225
جو کے ستو 225
کدو 228
کلونجی 231
کھجور 233
علم آب(Hydreoiogy) 238
آب زمزم کا معجزہ 238
علم الفلکیات(Astro Physics) 242
معجزہ ء شق قمر 242
سات آسمان 246
علم ارضیات (Geo physics) 250
زمین کی سات تہیں 250
باب چہارم :حدیث و سائنس کا تجزیاتی مطالعہ اثرات و نتائج 258۔284
فصل اول : احادیث مبارکہ   اور علم سائنس /اسلوب و منہج کا تقاب 258۔261
فصل دوم : علم سائنس پر احادیث مبارکہ کے علمی اثرات 262۔265
فصل سوم : مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا جائزہ 266۔278
خلاصہ تحقیق 279
نتیجہ ء تحقیق 282
سفارشات و تجاویز 285
اشاریہ 286۔293
آیات بینات 287
احادیث مبارکہ 289
فہرست و مصادر و مراجع 294۔309

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
18 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام

صداقت اسلام

صداقت اسلام

 

مصنف : پروفیسر عبد الغفار

 

صفحات: 17

 

اسلام ایک سچا دین ہے،جس کی صداقت ثابت کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مصداق ہے۔لیکن آج کے مادی دور میں ہمارا دین کے بارے میں علم بہت کم ہے۔اسی وجہ سے کچھ لوگ دین اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہیں۔حالانکہ ایسے بہت سے عالمگیر حقائق ہیں جو اسلام کی صداقت کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ”صداقت اسلام” محترم پروفیسر عبد الغفار صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے پیشین گوئیوں اور سائنسی حقائق کی روشنی میں  اسلام کی صداقت کو بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔اس کتابچے کے دو حصے ہیں جن میں سے ایک حصہ پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ سائنسی حقائق پر مشتمل ہے۔یعنی اسلام نے جو پیشین گوئیاں کیں وہ بعینہ پوری ہوئیں اور اسلام نے کائنات کے جو جو راز بتلائے آج کی سائنس ان کی تصدیق وتائید کرتی نظر آتی ہے۔اللہ تعالی تمام انسانیت کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
پیش گوئیاں 1
سائنسی حقائق 10

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل اسلام روزہ و رمضان المبارک زبان طہارت علماء

روزے کے روحانی اور طبی فوائد قرآن ، حدیث اور میڈیکل سائنس کی روشنی میں

روزے کے روحانی اور طبی فوائد قرآن ، حدیث اور میڈیکل سائنس کی روشنی میں

 

مصنف : ڈاکٹر گوہر مشتاق

 

صفحات: 34

 

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے ۔ نفس کی طہارت ، اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام او ر نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہم روزےکو قرآن وسنت کی روشنی میں رکھنے ، افطار کرنے اور اس کے شرائط وآداب کو بجا لانے کا خصوصی خیال رکھیں۔دورِ سلف کی نسبت دورِ حاضر میں بہت سے جسمانی بیماریاں رونما ہورہی ہیں نیز طب میں جدید آلات اور دوا کے استعمال میں گوناگوں طریقے منظر عام آچکے ہیں بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بن چکا ہے۔روزے کے عام احکام ومسائل کے حوالے سے اردوزبان میں کئی کتب اور فتاوی جات موجود ہیں لیکن روزہ او رجدید طبی مسائل جاننےکےلیے اردو زبان میں کم ہی لٹریچر موجود ہےکہ جس سے عام اطباء او ر عوام الناس استفادہ کرسکیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’روزے کے روحانی اور طبی فوائد ‘‘ڈاکٹر گوہر مشتاق کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ روزہ ایک ایسی جامع عبادت کہ جس میں بے شمار روحانی اور طبی فوائد موجود ہیں اور اس کااعتراف مسلمان علماء کےعلاوہ غیر مسلم حکماء اور مفکرین نے بھی کیا ہے ۔ اور آج جدید میڈیکل سائنس نے روزے کے فوائد کے بارے میں مزید ثبوت فراہم کردیئے ہیں بلکہ ایک مغربی ماہر طب ڈاکٹر ایلن ہاس نے تو کہا ہے کہ ’’ روزہ واحد عظیم ترین طریقۂ علاج ہے ‘‘۔ فاضل مصنف اس کتاب کےعلاوہ بھی اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کرچکے ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
شریعت اسلامی کے تمام احکامات کا مقصد 8
روزے سے مجاہد ہ نفس اور اسکے انسانی کردار پر اثرات 9
رمضان کے لیے چاند کے مہینے کی حکمت 10
رمضان اور اسلام کا فلسفہ نیکی و بدی 11
قرآن اور رمضان کی مناسبت 12
روزے سے مکمل روحانی فوائد کس طرح حاصل کیے جائیں 15
روزے کے طبی فوائد جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں 19
روزے سے جسم میں موجود زہریلے مادوں کی صفائی 20
روزہ رکھنے سے جسم اور خون کی کیمسٹری پر اثرات 22
ایڈز کے مریضوں کا علاج اور روزے 23
ہر سال ایک ماہ روزوں کی Hibernationسے مماثلت 24
روزے رکھنے سے عمر میں اضافہ اور بڑھاپے کے عمل میں کمی 25
کینسر کا علاج اور روزے 28
روزے رکھنے سے بڑھاپے میں دماغی امراض سے بچاؤ 29

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز