زاد الخطیب(جدید ایڈیشن ) جلدچہارم

زاد الخطیب(جدید ایڈیشن ) جلدچہارم

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

 

صفحات: 473

 

خطابت تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں بپا کردیتے ہیں ۔ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ کےلیے زادِراہ ، مواد اور منہج صالحین کےمطابق کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن تعاون ہے ۔اس لیے نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں کے مجموعہ جات میں از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل کے ذاتی نام سے ( آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔
زیر کتاب ’’زاد الخطیب‘‘ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾( فاضل وسابق استاذِ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور؍فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی وہ عظیم الشان تصنیف ہے جو اپنی جملہ خوبیوں(ہر خطبہ کے آغاز میں متعین موضوع کے اہم عناصر کا ذکر۔متعین موضوع اور مواد کے لیے صر ف صحیح کا انتخاب او رضعیف ،خود ساختہ اور بناوٹی احادیث سے قطعی اجتناب۔ کی ترتیب میں ترتیبی پہلو۔خطبہ کے شروع میں تمہید کابیان ۔خطبات میں ثقاہت اورجلالت ِبیان کی نمایاں جھلک ۔ واحادیث کےمکمل حوالہ جات او رہر دعوی ٰ دلیل سے مزین۔انداز ِ بیان سادہ مگر انتہائی پر مغز ۔آسان محاورات اورسہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کر نے کی بھر پور کوشش) کی بناپر چار مجلدات میں 100 موضوعات پر مشتمل خطباتِ جمعہ اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ ہے ۔جس کا دار مدار اورانحصار موضوع ،من گھڑت روایات اور قصہ گوئی کےبجاے کتاب وسنت کی صحیح نصوص پر ہے ۔ فاضل مصنف نے ایسا امتیازی اور منفرد اندازِ نگارش اختیار کیا ہے جو اسے تمام دیگر مجموعہ ہائے سے ممتاز کرتا ہے ۔یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ وخطباء اور اہل کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی او رآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے ۔زاد الخطیب کی جلد اول اور دو م جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کی جانب سے 2008ء میں سب سے پہلے میں طبع ہوئیں اور پھر میں ۔برصغیر پاک وہندکے ہزاروں خطباء اور واعظین حضرات میں اس کو تقسیم کیاگیا۔ جمعیت احیاء الترث کی اشاعت کے علاوہ پاک وہند کے بعض اہم مکتبات نے بھی اس کتاب کو شائع کیا اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں دعاۃ ،واعظین اوراہل علم کےہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں جن سے وہ مستفید ہور ہے ہیں ۔دورِ حاضر میں عالمِ میں اردو میں سلفی منہج وفکرپر مرتب کے جانے والے میں سب سے زیادہ جن خطبات سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ اعزاز ماشاء زاد الخطیب کو حاصل ہے (اللهم زد فزد)الحمد للہ زاد الخطیب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی افادیت کے پیش اس کے مختلف زبانوں میں کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ پہلی دو جلدوں کا سندھی میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے ۔ اور پشتو میں بھی ترجمہ ہورہا ہے ۔اسی طرح کی بعض علاقائی زبانوں اور بنگالی میں بھی ترجمہ کروانےکا منصوبہ ہے۔فاضل مصنف استاد محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ زاد الخطیب کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔محترم حافظ صاحب دینی کے حصول کے لیے 1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرکے اول آنے پر انہیں1986 میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث سے فراغت سے کے بعد 1991ء میں اپنے مادرِ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ بعدکویت تشریف لے گے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ’’حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع کاتحقیقی جائزہ‘‘ ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ میں پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی اور مزید تعارف کےلیے زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔ زاد االخطیب کی تین جلدیں پہلے کتاب وسنت ویب سائٹ موجود ہیں اب چوتھی جلد کوویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس جلد میں بھی پہلی تین جلدوں کی طرح پچیس ہیں یوں چاروں جلدوںمیں خطبات کی تعداد سو پوری ہوگی ہے۔محترم حافظ صاحب نےاس جلد میں ماشاء بڑے اہم اور متنوع موضوعات شامل کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کو کے اس مبارک سلسلہ کو جاری رکھنے کی توفیق دے اور حافظ صاحب کو وعافیت والی بابرکت زندگی نصیب فرمائے اور اشاعتِ کے لیے تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے اورزاد الخطیب کی مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے ۔خطباء ومبلغین کو اس نادر ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور مصنف موصوف کے علم وعمل میں برکت اور زورِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 6
اخلاص 8
29
امر با لمعروف و نہی عن المنکر 48
تقویٰ اور متقین 69
فتنوں کے دور میں کا کردار 90
امت محمدیہ کی خصوصیات 110
ایمان کی لذت اور اس کا مٹھاس 128
تکبر اور اس کی تباہ کاریاں 148
حسد اور اس کی تباہ کاریاں 167
ایمان کا ایک شعبہ 183
دعوت اور منہج ک ےاصول و ضوابط 204
حقارت دنیا 227
کی آفتیں 245
سات مہلک گناہ 264
ظل عرش الہٰی کے حقدار کون؟ 281
سیدنا عمر بن الخطابؓ کی کے چند درخشاں پہلو 298
میں غلو کرنا 330
میں برکت کے اسباب 349
فرشتوں کی پانے والے 365
کفارات ، درجات ، منجیات اور مہلکات 380
وہ اعمال جو لعنت کا موجب بنتے ہیں 396
اعمال صالحہ کو برباد کرنے والے امور 414
جنت کے محلات کس کے لیے 427
گناہوں کو مٹانے والے اعمال 443
کی زندگی میں وقت کی اہمیت 456

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...