حضرت ابراہیم ؑ حیات ، دعوت اور عالمی اثرات

حضرت ابراہیم ؑ حیات ، دعوت اور عالمی اثرات

 

مصنف :

 

صفحات: 203

 

سیدنا حضرت ابراہیم تعالیٰ کے جلیل القدر تھے ۔ مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے میں آنکھ کھولی جو خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے مجید میں ﷩کے بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر کتاب’’حضرت ابرااہیم حیات ، دعوت اور عالمی اثرات ‘‘جناب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ملت ابراہیمی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے ۔قرآنی بیانات کی روشنی میں اس کے عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے۔پھر اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ونصاریٰ نے ملت ابراہیمی کے تمام عناصر کو فراموش کردیا تھا ،اس موضوع سے مفصل بحث کی گئی ہے کہ میں ملت ابراہیمی کے تمام عناصر باقی رکھے گئے ہیں ۔اور میں مختلف مقامات پر مذکور حضرت ابراہیم کے اوصاف وشمائل کو یکجا کردیا ہے اور ان کی روشنی میں ’’اسوۂ ابراہیمی‘‘ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ایک باب میں سیدنا ابراہیم کی شخصیت پر بعض قدیم وجدید اعتراضات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں حضرت ابراہیم کی شخصیت کا محض تاریخی مطالعہ نہیں پیش کیا بلکہ اس میں آپ کی دعوت اورپیغام کوسمجھانے کی کوشش کی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 7
باب اول ۔۔۔ عہد ابراہیم 11
حضرت ابراہیم سے پہلے 11
الف ۔ قوم نوح ﷩ 11
ب۔ قوم عاد ﷩ 12
ج۔ قوم ثمود ﷩ 13
حضرت ابراہیم کا عہد 15
قوم ابراہیم 16
الف ۔ سیاسی حالات 16
ب۔ تہذیب و 18
ج۔ مذہبی صورت حال 20
د۔ معاشرت و اخلاق 24
باب دوم ۔۔۔ ابراہیم ﷩ 26
نام و نسب 26
آزر باپ یا چچا 26
خاندان 27
ولادت 27
بچپن 28
بعثت 32
اطمینان قلب کے لیے ایک درخواست 33
دعوت 37
باپ کو دعوت 37
قوم کو دعوت 39
استدراج ۔ نیا انداز دعوت 42
اتمام حجت 47
بادشاہ سے محاجہ 49
51
اعلان براءت 52
قوم ابراہیم کا انجام 54
ہجرت 56
کنعان کی طرف 57
57
کیا حضرت ہاجرہ لونڈی تھیں 60
حضرت اسماعیل کی ولادت 63
آزمائش 64
بے آب و گیا ہ وادی میں 65
واقعہ ذبح 68
کی حقیقت 69
کو ن 72
ختنہ عہد الہی کا نشان 75
ولادت اسحاق ﷩ 75
قوم لوط اور اس کا انجام 77
جرہم کی آبادی 80
حضرت اسماعیل کی آل و اولاد 85
کی تعمیر 86
تعمیر کعبہ حضرت ابراہیم سے قبل 91
تعمیر ابراہیمی 93
کی منادی 95
آخری ایام 98
وفات حضرت سارہ 98
وفات حضرت ہاجرہ 98
دیگر ازواج و اولاود 99
وفات حضرت ابراہیم 99
باب سوم ۔۔ ۔ ملت ابراہیم 100
ملت کا مفہوم 101
ملت ابراہیمی کے بنیادی عناصر 107
107
رسالت 111
112
115
117
119
ختنہ 119
انفرادی ذمے داری 121
ملت ابراہیمی کے حاملین 121
ملت ابراہیمی اور انبیائے بنی اسرائیل 125
کا ملت ابراہیمی سے انحراف 126
نصاریٰ اور ملت ابراہیمی 128
ملت ابراہیمی اور 130
الف۔ اور ملت ابراہیمی دونوں کی ایک ہے 131
ب۔ ملت ابراہیمی کے تمام عناصر میں باقی رکھے گئے ہیں 134
ج۔ فریضہ 136
د۔ میں جزا اور سزا کا دار و مدار کی ذاتی اعمال پر ہے 138
خاتم النبیین ﷺ ملت ابراہیمی کے مجدد 139
ملت ابراہیمی کی دعوت کی دعوت ہے 141
باب چہارم ۔۔۔ اسوہ ابراہیم 144
سے بے زاری (حنیفیت ) 145
کا مل اطاعت الہی 148
استغفار و انابت 153
شکر 154
156
عبادت گزاری 163
والدین کے ساتھ حسن سلوک 165
مہمان نوازی 168
حلم و برد باری 171
صداقت شعاری 174
باب پنجم ۔۔ ۔ ابراہیم  چند شبہات کا جائزہ 176
حضرت ابراہیم کی شخصیت کا انکار 177
میں حضرت ابراہیم کی شخصیت کا ارتقاء 180
حضرت ابراہیم کا اہل اور سے تعلق 187
کتابیات 195

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...