حضرت سید احمد شہید کا حج اور اس کے اثرات

حضرت سید احمد شہید کا اور اس کے اثرات

 

مصنف : سید جعفر علی نقوی بستوی

 

صفحات: 200

 

برصغیر پاک و ہند میں  حضرت سید احمد شہید  کی  ذات بابرکات محتاج تعارف نہیں ۔آپ ایک دور، صدی اور عہد کا نام ہیں۔ جب برصغیر   کے مسلمانوں پر مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوتے تھے۔ ہر طرف سے سکھوں ، انگریزں اور دیگر قوتوں کے ظلم و استبداد کے شکار تھے۔کسی جگہ کوئی امید نہیں آتی تھی۔ علماو شیوخ اور صوفیا اپنے اپنے مدارس، خانقاہوں اور حلقہ  ارادت  میں مصروف تھے۔ اگرچہ کچھ کو انتہائی زیادہ قلق و اضطراب  کے ساتھ  فکر امت دامن گیر تھی۔ہر طرف طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں  حضرت شاہ ولی اللہ   کے فکری جانشین  یعنی ان کی فکر کے عسکری گوشے کو عملی رخ دینے والے جناب  حضرت سید احمد شہید نے بلند کیا ۔ اور امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ نے آپ کی اعانت فرمائی اور ایک ریاست قائم بھی کردی۔ لیکن اپنوں کی  غداری رنگ لائی اور آپ بظاہر تو ناکام ہوئے  لیکن حقیقت میں کامیاب ہوئے۔آپ کی پیدا کی ہوئی جہادی ابھی تک امت کے اندر موجود ہے بلکہ وہ ایک  سے تناور درخت بن چکی ہے۔زیرنظر کتاب آپ کی سیرت  و سوانح کے مختلف پہلوؤں میں سے کو موضوع بحث بنایا  گیا ہے۔ کیونکہ اس وقت  مسلمانوں کے اندر حج جیسا فریضہ مٹ چکا تھا ۔ آپ نے اسے زندہ و دوبالا کیا۔ اور اس کے  معاشرتی طور پر یہ اثرات مرتب ہوئے کہ لوگوں کے اندر سے کئی طرح کی و پر مبنی رسومات کا خاتمہ ہو گیا۔  آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 15
عرض ناشر 20
باب اول حضرت سید احمد شہید  کا
کا قصد و ارادہ 23
کانپور کا وقیام 23
سید صاحب کے اپنے اعزہ کو کی تحریض و ترغیب 25
تکیہ سے کے لیے روانگی 26
سید جامع کی معذرت و بیعت 26
موضع دھئی میں 28
موضع گتنی 29
ایک انگریز کی دعوت 30
الہ آباد کے معلقین کی دعوت 31
اہل الہ آباد کی کا انتظام 32
قیام بنارس 35
ایک عالم کا حرمت کا فتوی اور اس کی تردید میں واعظ 39
مرزا پور کا ہیضہ اور قافلہ کے افراد 47
ایک مکان پر آسیبی اثرات اور ان کا ازالہ 51
ایک رئیس کے لیے اور ان کی دولت میں ترقی 53
قیام عظیم آباد 55
کلکتہ کا قیام 57
شہر کے اہل کا رجوع 60
انگریز قلعہ دار کی سرگذشت 62
ٹیپو سلطان کے صاحبزادگان وغیرہ کی بیعت 64
ایک برہمن کا غیبی و منامی تنبیہ کی بنا پر قبول 69
نصاری کا رجوع و استفادہ 73
کلکتہ میں سید احمد علی کی آمد 75
غلام حسین کی ندامت و معذرت 76
حضرت کی روانگی کی تیاری 80
حضرت کی دایہ کا انتقال 85
جہاز کی روانگی 86
اہل قافلہ کے باہمی تعلقات اور 87
حضرت کی کرامت سے اونٹوں کی فراہمی 91
کے رفقاء کے لیے ایک تنبیہی امر 95
حرم محترم میں اور طواف وسعی 100
مکہ کے اہل فضل کا حضرت سے رجوع 101
مغرب کے ایک بڑے صاحب و صاحب منصب 105
کلکتہ سے فخر التجار کا گرانقدر ہدیہ 111
میں عمرہ اور 113
سے متعلق ایک افواہ اور و عمل 114
والدہ مولانا اسماعیل کی بیعت ووفات 120
باب دوم حضرت سید احمد شہید کا مدینۃ الرسول ﷺ
سواری کا انتظام 125
وادی صفراء سے تک 131
کا قیام اور رہائش گاہ 136
کے کا عزم اور التواء 137
ایک منامی سرفرازی 142
تعالیٰ کی خصوصی نوازشیں 144
قریبی متعلقین سے متعلق ایک صدمہ 146
مشاہد مدینہ کی زیارت 150
واپسی میں عمرہ کا احرام 153
مکہ معظمہ کا دوسرا 157
واپسی کی تیاری اور سواری کی فکر میں عجلت پر عتاب 157
ایک شریر کی شرارت اور اس کا انجام 160
جہاز میں عیدالاضحیٰ 167
بمبئی کی جائے قیام اور عوام کا رجوع و ازدحام 168
حضرت کی کشتی اور سمندر کی شورہ پشتی 169
کلکتہ میں قیام اور رفقاء قافلہ کی آمد 173
ایک شخص کے اخلاص کا ثمرہ وکشش 176
منشی محمدی کے وطن میں اور منشی صاحب موصوف کا حال 176
مولانا ولایت علی عظیم آبادی 180
محمود آباد میں لنگر اندازی اور ایک مخلص کی ملاقات کے لیے پیدل 184
ایک حادثہ 186
مرزا پور کا قیام اور پتھروں کی بعض مہنگی اشیاء کی خریداری 191
ارباب قافلہ پر خوش عیشی و آسودہ حالی کا اثر 197
ایک طالب صادق کی محبت و اخلاص 197
قافلہ کا بچا ہوا نقد سرمایہ 198
مستورات کے قافلہ کی آمد 199
قافلہ کے ساتھ کا دیگر اسباب 199
اپنے گھروں کے اندر جانے سے پہلے کا اہتمام 199

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...