حضرت سیدنا بلال بن رباح ؓ

حضرت سیدنا بلال بن رباح ؓ

 

مصنف : عباس محمود العقاد

 

صفحات: 139

 

بن رباح  المعروف بلال حبشی، رسول اللہﷺکے مشہور صحابی تھےاور  کے پہلے مُوّذن تھے۔ شروع میں ایک کافر کے غلام تھے۔ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں دیئے جاتے تھے ۔ امیہ بن خلف جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ان کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھالٹاکر ان کے سینہ پرپتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مرجائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحد اَحدکہتے تھے یعنی معبود ایک ہی ہے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کرکوڑےلگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بے قرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں ۔ عذاب دینے والے اُکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا۔ کبھی امیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، اور ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓنے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد فرمایا۔ رسول کریم ﷺکے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ جنگ بدر میں آپ نے امیہ بن خلف کو قتل کیا۔ نبی ﷺنے اذان کہنے کے لیے حضرت بلالؓ  کو مقرر فرمایا۔ میں رسول ﷺ کے کھانے پینے کا انتظام حضرت بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی  وفات کے بعد حضرت عمر  کے اصرار پر صرف ایک دفعہ اذان کہی۔ لیکن  اس روز اذان میں جب نبی  ﷺکا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ سیدنا بلال   کے اسم  گرامی سے مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی آشنا ہیں ۔ مغربی مفکروں ، ادیبوں اور دانشوروں نے حضرت بلال ﷺ کی شخصیت  وکردار پر اور بحیثیت مؤذن رسول  ﷺ اور خادم الرسول  کےعنوانا ت سے مقالے بھی لکھے ہیں ۔ زیر کتاب ’’ حضرت بن رباحؓ ‘‘ ایک انگریز ادیب  کی تصنیف ہے جسے  کے نامور نگار ، مؤرخ اورمحقق جناب عباس محمود العقاد نےعربی میں منتقل کیا  اور اس انگریز  مصنف کی فرد گزاشتوں اور منجلہ غلطیوں کی تصحیح  واصلاح بھی کی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
4
ابتدائی کلمات 7
جنس و نسل 20
اور اجناس 54
اور غلامی 59
حضرت سیدنا بلال ؓپیدائش اور نشوونما 72
حضرت سیدنا بلال ؓکا  83
حضرت سیدنا بلال ؓکے اوصاف و اخلاق 95
اذان 106
مؤذن اول 115

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...