حفاظت حدیث

حفاظت

 

مصنف :

 

صفحات: 354

 

رسول اکرم ﷺ کے قووعمل اور تقریر کوحدیث کہتے ہیں ۔ یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ نطق رسالت نے پیش فرمایا۔ یہ وہ ہے جس کے بغیر ناممکن ،فقہی استدلال فضول اور راست دینی عنقا ہوجاتے ہیں۔یہ اس شخصیات کے کلماتِ خیر ہیں جنہیں مان کر ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور رب ذوالجلال نے اسے﷜ کے خطاب سے نوازا۔ یہ وہ ہےجس کاصحیح فہم حاصل کرکے ایک عام مسلمان ، کےدرجے پر فائز ہوجاتاہے ۔ جس طرح کہ کریم تمام شرعی کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نےحدیث نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر اور متمم کی حیثیت سے مجید کے ساتھ نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے   نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش انجام دیں، محدثین نے بھی حفظ اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ﷜ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا ابوهریرہ ﷜بیان کرتے ہیں کہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول اللہ ﷺکے انتقال کے بعد جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار پر مشتمل بن عمرو بن عاص ﷜عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب ﷜‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری﷜ ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز ﷫ مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر ڈالی  جس سے اس وقت گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ کے رسول ﷺ کی کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے کے ختم ہونے اور کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اسی طرح مسانيد بھی لکھی گئیں ۔ المومنین فی الحدیث بن اسماعیل البخاری ﷫نے فقہی ترتيب کے مطابق محض صحیح کا مجموعہ تیار کیا جسے دنیا آج صحیح کے نام سے جانتی ہے جو کی صحیح اور مستند کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے، پھر ان کے بعد ان کے ہی شاگرد امام مسلم بن حجاج ﷫نے صحیح حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جو آج کے نام سے مقبول ہے. اور صحیح کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے. اور امام مسلم کے طریقے پر ان کے دور میں اور ان کے بعد بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، آج کی بڑی کتابوں میں جو حدیثیں محفوظ ملتی ہیں انہیں جمع کرنے والے محدثین نے راویوں کے حوالے سے روایتیں بیان کی ہیں، نے کے رسول ﷺکو جو کچھ کہتے سنا تھا یا کرتے دیکھا تھا اسے انہوں نے حفظ کیا اور کچھ لوگوں نے اسے لکھا پھر بعد کی نسل تک اسے پہنچایا، جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے جمع کر دیا گیا. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے. آ ج صرف مسلمانوں کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کی ایک ایک بات کو مکمل طور پر محفوظ کیا، اس کے لئے مسلمانوں نے اسماء الرجال کاعلم ایجاد کیا، جس کی گواہی ایک جرمن مستشرق ڈاکٹر اے سپرگر (Dr A. Springer) نےدی  اور حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب الإصابہ (مطبوعہ کلکتہ )کے مقدمہ میں لکھا ہے:’’دنیا کی میں نہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو یہ شرف حاصل ہوا نہ جدید مہذب دنیا میں کسی کو یہ فخر حاصل ہوا کہ اسماء الرجال کے تیکنک کو مسلمانوں کے انداز پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں. مسلمانوں نے اس سے دنیا کو آگاہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس ہمہ گیر اور عظیم علم کے ذریعہ 5 لاکھ لوگوں کی زندگیاں انتہائی باریکی سے محفوظ ہو گئیں ‘‘۔ حفاظت حدیث کےسلسلے   میں تفصیلی مواد متعدد حدیث ودفاع کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں موجود ہے اورنامور اہل علم کے ومقالات بھی رسائل وجرائد میں طبع ہوچکے ہیں۔ اوراسی اس طرح اس موضوع پر مستقل کتب لکھی گئی ہیں زیرتبصرہ کتاب’’ حفاظت حدیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1971ء میں شائع شائع ہوا پھر اس کے بعد مصنف کی طرف سے اس کی تصحیح وتنقیح اور اضافوں کے ساتھ کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔مذکورہ کتاب   ڈاکٹر خالد صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے اردو کتابوں سے استفادہ کر کے عہد نبویﷺ سے عہد تدوین تک کی   تمام مساعی کا مختصر جائزہ لیا ہےاور حفاظت کے مسلسل عمل کو مربوط طریق پر پیش کرکی سعی جمیل کی ہے ۔ مصنف موصوف   نے اس کتاب میں کتابت حدیث اور پر کافی شافی بحث کی ہے ۔ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے   اوران کے میزانِ حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 15
پیش لفظ 27
حرف چند 28
مقدمہ طبع اول 29
و 33
33۔81
36
کا باہمی تعلق 39
و کا مترادف مفہوم 42
مقام 47
نبی کریم بحثیت پیغام رساں 48
وقتی اطاعت 53
معلم و مربی 54
کتاب 55
تعلیم 62
کا مفہوم 65
رسولؐ بحثیت نمونہ تقلید 71
رسولؐ بحثیت شارع 72
رسولؐ بحثیت قاضی 74
رسولؐ بحثیت فرمانروا 76
حفاظت حدیث (عہد نبوی) 82۔112
حفاظت بذریعہ حفظ 83
زبانی روایت کرنے کی حوصلہ افزئی 89
حفاظت بذریعہ کتابت 92
عہد نبوی میں کتابت 106
حضورؐ کے حکم سے لکھی ہوئی 107
صحف نبوی 108
جہینہ کے نام 108
صحیفہ وائل بن حجر 109
صحیفہ اہل یمن 109
کتاب الصدقہ 109
صحیفہ علی 109
خطوط و وثائق 112
وہ جو آپؐ کی اجازت سے یا آپؐ کی مجلس میں لکھی گئیں 113۔131
صحیفہ سعد بن عبادہؓ 114
عبد بن ابی اوفی کا مجموعہ 114
صحیفہ سمرۃ بن جندبؓ 115
صحیفہ جابرؓ 116
صحیفہ جابرؓ 116
صحیفہ عبد بن عمروؓ 116
حضرت انسؓ کا مجموعہ 118
عبد بن عباسؓ کامجموعہ 121
حلقہ درس۔ کتابت حدیث ۔ ذریعہ 123
مذاکرہ 124
کتابت کی حوصلہ افزائی 127
جھوٹی پر وعید 129
عہد 132۔199
صحابی کی تعریف 132
خلفاء راشدین اور حفاظت 141
ابوبکر صدیقؓ 142

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...