حفاظت حدیث کیوں

حفاظت کیوں

 

مصنف : ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

 

صفحات: 41

 

نبی کریم ﷺکے قول ،عمل اور تقریر کو کہتے ہیں۔یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ نطق رسالت نے پیش فرمایا۔یہ وہ ہے جس کے بغیر فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اورر راست دینی عنقا ہو جاتے ہیں۔یہ اس شخصیت کے کلمات خیر ہیں،جنہیں مان کر ایک عام آدمی صحابی رسول بنا اور تعالی نے اسے اپنی رضا مندی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے ،جسے انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ رسول آج ایک مظلوم بن گیا ہے۔اس پر غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی کرم فرمائی کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حدیث کی حفاظت کا اہتمام نہ تو خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور نہ اس کا حکم دیا ہے،حفاظت حدیث کیا ضروری تھی؟حفاظت نہ کی جاتی تو کونسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا؟کسی نے کہا کہ بہت ساری ہماری عقل کے مخالف ہیں۔یہ اور اس جیسے استخفاف حدیث پر مبنی کلمات ہمارے بعض مدبرین اور واعظین کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ ایسے اعتراضات کو مستعار لینے اور پر جڑنے کی بجائے اگر یہ لوگ اس علم کو ذرا انہماک سے پڑھ لیتے تو شاید توقع سے زیادہ انہیں تشفی ہوتی اور ان کا بہت سا ذہنی نقصان نہ ہوتا۔زیر کتاب (حفاظت حدیث کیوں؟) اسی سلگتے موضوع پر لکھی گئی ہے جو کے کے معروف ادارے الہدی انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظھا کے ڈاکٹر محمد ادریس زبیر ﷾کی کاوش ہے۔مولف نے حفاظت حدیث کے موضوع پر انتہائی مفید اور مدلل بحث کی ہے۔ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
کیا ہے 1
جنہوں نے کا نکار کیا 8
محدثین کے و ضابطے 15
نبوی اور موضوع اور منکر روایات 28
فن ایک زندہ اور مکمل فن ہے 40

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...