حصن الخطیب

حصن الخطیب

 

مصنف : عبد المنان راسخ

 

صفحات: 499

 

خطابت تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں بپا کردیتے ہیں ۔ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ کےلیے زادِراہ ، مواد اور منہج صالحین کےمطابق کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں کے مجموعہ جات میں از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب وغیرہ ) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر کتاب ’’حصن الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ خطبا اورواعظین کےلیے 16 وتحقیقی کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چوتھا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا حصن الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
دعائے خیر 18
گزارشا ت راسخ 19
خیر خواہی کا چوتھا سبق 25
اخلاص 30
اخلاص کے منافی امور 32
تواضع 39
میں پختگی 41
علم 43
علم 46
علم 49
عمل میں نکھار 50
امام مالک ﷫ کی انمول نصیحت 57
خطبائے کرام کی تنظیمی زندگی کے متعلق چند باتیں 58
تنظیمی وابستگی سے پیدا ہونے والی بعض خامیاں 59
تنظیمی ذمہ دار ان کی خدمت 61
خطبہ مسنونہ 64
قل ھواللہ احد 65
تمہیدی گزارشات 68
کا مقام و مر تبہ 77
قر آ ن پاک کے دس پاروں کے برابر 78
تعا لیٰ محبت فرماتے ہیں 81
اس کی محبت سے جنت ملے گی 82
کی جنت میں محل 84
عام لوگوں کے لئیے  گولڈن آفر 84
ذکر الہی بے اثر کیوں ؟ 87
تمہیدی گزارشات 88
عدم محبت 91
عدم احسان 95
عدم کثرت 97
غیر مسنون اذکار 103
بے یقینی 104
عدم پرہیز 106
جنت میں لیجانے والا 109
تمہیدی گزارشات 112
استغفار اور’’ سید الا ستغفار‘‘ کی اہمیت 114
گنہگار کا  استقبال مغفرت ورحمت کے ساتھ 116
سیدالا ستغفارمیں  چھپے قیمتی خزانے 117
عصر کا پر اثر 133
وقت عصر کی اہمیت 137
عصر میں دن اور رات کے فرشتوں  کا   اکٹھا ہونا 140
رسول کی دعائے رحمت کا دار 141
نماز  عصر کا دہرا اجر 143
عذاب قبر  سے نجات 145
دید ار الہی حاصل ہوگا 147
جہنم سے 149
جنت میں داخلہ 150
عصر چھوڑنے  کے نقصانات 151
عصر میں تاخیر کرنے والامنافق ہے 152
نمازعصر سے روکنے والوں کے لئے بد 153
کاروبار اور گھر بار کی بر بادی 155
اعمال کی بربادی 157
وسیلہ کیا ہے؟ 159
تمہیدی گزارشات 162
آیت وسیلہ کا معنی ومفہوم 163
نکتے کی بات 167
جائز وسیلے کی پہلی صورت 168
جائز وسیلے کی دوسری صورت 172
وسیلہ اور مسلک اہل 181
جائز وسیلے کی  تیسر ی صورت 183
لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے مثالیں 185
دوسری فضول مثال 188
قدیم اور جدید میں فرق 192
احسان کر نے والوں پر انعامات  کی بارش 195
تمہیدی گزارشات 198
احسان کا معنی ومفہوم 199
احسان کرنے والوں کے لیے انعام 202
احسان کا بدلہ احسان 203
احسان کر نے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا 204
احسا ن   کرنے والوں کرنے  ولوں کے لئے ا جرعظیم ہے 206
تعالیٰ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہیں 207
احسان  کرنے  والوں سے محبت رکھتے ہیں 209
احسان کرنے والوں کے لئے مغفرت اور کثرت ہے 212
کی رحمت احسان کر نے والوں کے قریب ہے 213
احسان کرنے والوں کے لئے  بشارت ہے 214
احسان کرنے والوں کے لئے جنت ہے 216
رسول اللہ  ﷺ کا نافرمان کون؟ 219
تمہیدی گزارشات 222
عقیدے میں نافرمانی 224
شہزادہ جنت ﷜ کے وقت 227
ایک مغالطہ اور اسکا 227
صرف اکیلے کی قسم ا اٹھاؤ 229
کا بندہ اور اس کا رسو       ل کہو 231
کو الہٰ مان کر ڈٹ جا 223
نما ز میں نا فرمانی 234
صفوں کو سیدھا  کرو  اور اشگاف ختم کرو 235
مغرب سے پہلے نماز  پڑھو 237
 جسے ایک و تر پڑھنا پسند ہو وہ پڑھ لے 238
خواتین گاہ میں ضرو ر جائیں 240
کو لازم پکڑو اور بد عت سے بچو 241
امام المر سلین محمد ﷺ آخری رسول ہیں 247
تمہیدی گزار شات 250
مرزائیوں کے ہاں کافر ہیں 250
مرزائی خطرناک کافر ہیں 251
نبوت کی عظمت اور قادیانیت کی جہالت 252
نبوت 253
عقیدہ پر قرآنی 254
دوسری واضح  دلیل 256
 تیسری دلیل 257
چوتھی واضح دلیل 259
پانچویں زبر دست دلیل 260
عقیدہ ختم نبوت کی روشنی میں 261
نبوت کے لئے الہی کا سلسلہ بند ہے 271
کے جھوٹا ہونے کی دلیل 275
اک چپ تے سکھ ہی سکھ 279
تمہیدی گزارشات 282
خاموشی حضرت محمد ﷺکی پیاری سنت  ہے 286
خاموشی  خوبصورتی اور قیمتی زیور ہے 287
حامو شی  سلامتی کاراز ہے 288
حاموشی بہترین صدقہ ہے 289
خاموشی نزول ملائکہ  کا با عث ہے 290
خاموشی میں نجات ہے 294
خاموشی  جنت کی راہ ہے 295
خاموش نہ رہنے کے دو خطر ناک نقصان 296
دل کا سخت ہونا 297
جنت  سے جہنم کی طرف جانا 297
اک چپ تے سکھ ہی سکھ 298
جمہوری نظام او رالیکشن 299
جمہوری  گزارشات 302
نظام کیا ہے 305
کیا جمہوری نظام ہے ؟ 305
عہدے کی حرص وہوس 307
کی بھر مار 311
پارٹی بازی کی بنیاد پر نفرت اور محبت 313
کی شرکت 315
غیر مسلموں کو سیٹیں فراہم کرنا 318
محض کثرت رائے 319
جمہوری سیٹ اپ پانچ سال تک 321
رسول کی دعائے رحمت 323
تمہیدی  گزارشات 326
رسول ﷺ کی بعد والوں سے محبت 327
پہلا عمل 333
دوسرا  عمل 335
تیسرا عمل 337
چوتھا عمل 341
پا نچواں عمل 344
چٹھا عمل 346
ساتواں عمل 348

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...