سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ

سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ

 

مصنف : جانباز

 

صفحات: 51

 

مولانا جانباز ﷫ ۱۹۳۴ء میں مشرقی کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بُدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ نے کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد﷫ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد﷫ کی ترغیب پر1951ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے مولانا محمد صادق خلیلاور شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب قریشی  سے مختلف کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلویاور استاد العلماء مولانا ابو البرکات احمد مدراسیسے کسبِ فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی  کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی سے صحیح بخاری، مؤطا امام مالک، حجۃ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہما اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اِسی اثناء میں آپ نے یونیورسٹی سے فاضل اور فاضل کے امتحانات بھی پاس کئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز سیالکوٹ تشریف لے گئے ۔ وہاں پر آپ نے پہلے پہل مدرسہ دار الحدیث جامع مسجد ڈپٹی باغ میں درس و تدریس شروع کی دو سال بعد یہ مدرسہ ڈپٹی باغ والی سے مسجد ابراہیمی میانہ پورہ منتقل ہو گیا۔ اور مدرسہ کا نام دار الحدیث سے تبدیل کر کے جامعہ ابراہیمیہ رکھا گیا اور مولانا جانباز ﷫ کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور آپ کی شب و روز کی محنت کی وجہ سے جامعہ ابراہیمیہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ ۱۹۷۰ء میں مولانا محمد علی جانباز  نے جامعہ ابراہیمیہ کو جامع اہل محلہ لاہوری شاہ ناصر روڈ پر منتقل کیا۔ ۱۹۷۹ء تک آپ اسی میں درس و تدریس کا کام سر انجام دیتے رہے اور ۱۹۸۰ء میں جامعہ ابراہیمیہ کو مستقل طور پر الگ عمارت میں منتقل کیا او بعد میں اس کا نام ابراہیمیہ سے تبدیل کر کے جامعہ رحمانیہ رکھا گیا۔ جو اب بھی کتاب و کی کو پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ مولانا جماعت کے ممتاز عالمِ ہونے کے ساتھ ساتھ محقق، مؤرخ، مجتہد، فقیہ، ادیب اور دانشور تھے۔ آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، فقہ، اسماء الرجال، و سیر، منطق و فلسفہ، و اور صرف و نحو پر آپ کو کامل عبور تھا۔ اور اسماء الرجال پر آپ کی نگاہ وسیع تھی ۔علومِ اِسلامیہ میں جامع الکمالات ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب عادات و خصائل کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ اور زُہد و ورع، تقویٰ و اور شمائل و اخلاق میں صالحین اور علماءِ ربانیین کے اوصاف کے حامل تھے۔موصوف نے تدریس وتقریراور مختلف کے علاوہ متعدد عنوانات پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے شُہرہ آفاق کتاب اِنجاز الحاجہ شرح اِبن ماجہ (۱۲ جلدیں)، اہمیت نماز، صلوۃُ المصطفیٰ ﷺ، معراجِ مصطفیٰ، آلِ مصطفیٰ ﷺ، توہین رسالت کی شرعی سزا، احکامِ نکاح، احکامِ طلاق، حرمتِ متعہ بجوابِ جواز متعہ اور اور حکمرانوں کا کردار قابل ذکر ہیں۔مولانا 2008ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ تعالیٰ آپ کی تمام تر محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور آپ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ زیر کتاب’’سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ ‘‘ وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تحریر ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے شیخ الحدیث مولانا جانباز ﷫ کی سنن ابن ماجہ کی عظیم شرح انجاز الجاجۃ ، امام بن ماجہ اور سنن ابن ماجہ پر مختصر روشنی ڈالی ہے اور شیخ الحدیث مولانا جانباز ﷫ کی مختصر سوانح حیات ،برصغیر میں علمائے کی کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
سنن ابی ماجہ اوراس کی شرح ’’انجار الحاجہ‘‘ 6
اما م ابن ماجہ ﷫ 6
ابتدائی حالات اورآغاز 8
سماع کےلیے 8
میں امتیاز 9
اعتراف کمال 9
فقہی مسلک 10
اخلاق وعادات 11
وفات 11
تصانیف 12
التفسیر 12
التاریخ 12
السنن 12
شروح وتعلیقات 14
برصغیر میں علمائے کی 15
صحاح ستہ کےعربی میں شروح حواشی تعلیقات 19
19
20
سنن ابی داؤد 20
جامع ترمذی 21
سنن نسائی 21
سنن ابن ماجہ 21
انجازالحاجۃ فی شرح سنن ابن ماجہ 22
مولانا جانباز 27
مسکن ومولد 30
ابتدائی 30
مدرسہ الاسلام اوڈانوالہ 30
وزیرآباد میں 31
جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں 31
اساتذہ کرام 32
مولانا پیرمحمد یعقوب قریشی 32
مولانا ابوالبرکات احمد مدراسی 33
مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی  33
پروفیسر غلام احمد حریری  34
فراغت 34
تدریس 35
سیالکوٹ آمد 35
جامعہ ابراہیمہ کاقیام 35
جامعہ کےاساتذہ کرام 36
مولانا عطاء لرحمن اشرف 37
مولانا محمدیونس 37
قاری عبدالرحمن 37
تصانیف 37
تصانیف کامختصر تعارف 38
انجاز الحاجہ شرح سنن ابن ماجہ کی تقریب رونمائی 44
مولانا سیدمحمد اکرم شاہ 44
مولانا حکیم محمود احمد ظفر 44
مولانا محمد بشیر سیالکوٹی 45
مولانا حافظ صلاح الدین یوسف 45
محمد ارشد بگوایڈوکیٹ 45
پروفیسر ڈاکٹر فضل الہیٰ 46
پروفیسر میاں سجاد 47
پروفیسر حافظ مطیع الرحمنٰ 48

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...