شرعی پردہ

 

مصنف :

 

صفحات: 128

 

دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔ باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔ کاشرعی حکم کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر فرض عین ہے جس کا تذکرہ کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل نے واردو میں کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر کتاب’’شرعی پردہ ‘‘ مکتبہ فکر جید عالم صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع، کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین پیش کیا ہے۔ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کی کاذریعہ بنائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید اور وجہ تالیف 5
مسئلہ کی بنیادی علت 9
خود مقصود نہیں، بنیادی علت مقصود ہے۔ 9
بنیادی علتوں کی چند مثالیں 10
کی مثال 10
حرمت کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
قتل کلاب کی مثال 15
کا حکم انسداد فحش کے لیے ہے۔ 16
فحش کے آثار بد 17
فحش کی حرمت 20
کی ابتدائی صورت 20
تبرج جاہلیت 20
جاہلیت اولےٰ 22
جاہلیت حال 23
موجودہ جاہلیت اور فحش کے چند نمونے 24
کے پروگرام کی تربیت 30
ستر اشخاص 30
عورت کی بنیاد ستر 30
حکم استیذان 31
گفتگو پس 32
موجودہ کی بیباکی عورت کے باہر نکلنے شروط 33
معاشرتی قیور 34
عباداتی قیور 35
عورت کی کی کی نوعیت 45
عورت کی انفرادی   میں کی وضع 50
مسئلہ اور ستر 51
تمدنی قیود 61
خیالی 62
کی جزئیات کا خلاصہ اور منشاء 64
اور بے حجابی میں مشرق مغرب کی عورتوں کا موازنہ کے بارہ میں کی رجعت 70
عورت کے لیے کثرت قابل مدح نہیں۔ 72
مسئلہ کا دفاعی پہلو 78
پر پہلا اعتراض 78
دوسرا اعتراض اور اس کا جواب 84
عورتوں کی خرابیٔ کا اصل منشاء 89
بے اقوام کی صحتیں بھی درست نہیں۔ 91
پر تیسرا اعتراض باپردہ عورتوں میں فضل وکمال اور اس کی چند مثالیں 102
میں معین ہے اور بے بردگی مخل ہے۔ 107
ستر و کا فرق 110
کہاں کہاں   غیر ضروری ہے؟ 118
کہاں کہاں ضروری ہے؟ 121
کے بارے میں تین طقطۂ ہائے 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...