Categories
Islam اسلام اعمال پاکستان تاریخ حج زبان سیرت سیرت النبی ﷺ علماء فارسی مفسرین

سیرت نبوی ﷺ کے دریچوں سے

سیرت نبوی ﷺ کے دریچوں سے

 

مصنف : محمد رضی الاسلام ندوی

 

صفحات: 241

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ اوراسی طرح بعض علماء کرام نے مکمل سیرت النبی کو خطبات کی صورت میں بیان کیا اور پھر اسے مرتب بھی کیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ سیرت کےدریچوں سے ‘‘ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی ﷾ کے سیرت نبوی کےمختلف پہلوؤں پر مختلف اوقات لکھے گئے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔یہ مقالات پاک و ہند کےموقر علمی وتحقیقی مجلات میں شائع ہوئے تو اہل علم اور اصحاب ذوق کے حلقوں میں انہیں پسندید گی کی نظر سے دیکھا گیا۔ تو صاحب مقالات نے مختلف مجلات علمیہ میں مطبوعہ مضامین کا ایک انتخاب عوام الناس کےلیے کتابی صورت میں پیش کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 9
(1)رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں 13
نوافل کی ادائی 14
نماز تہجد 15
دعاؤں کااہتمام 17
گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا 19
بیوی بچوں کی دل داری 20
اہل خانہ کی تربیت 22
ملاقاتیوں کےحقوق 24
ایک اشکال کاازالہ 26
(2)رسول اللہ ﷺ کےزہد قناعت کی ایک مثال اوراس  پر اشکالات کاجائز ہ 29
پہلا اشکال 31
دوسرا اشکال 23
تیسرااشکال 34
چوتھا اشکال 35
(3)رسول اللہ ﷺ کاتبسم 36
متعلقین اوراصحاب کےساتھ لطف وکرم 36
ازواج مطہرات سےمحبت اورخوش طبی 38
بچوں سےپیار 39
ملاقاتیوں سےخندہ روئی کےساتھ ملنا 40
مجلسوں میں خوش طبی 41
اچانک ہنسی کےبعض واقعات 42
کھلکھلا کرہنسنا 44
(4)صفہ مدینہ ۔سرچشمہ علم ودانش 47
صفہ کامحل وقوع 48
صفہ کب تک موجودہ رہا؟ 52
اصحاب صفہ کی تعداد 53
قراۃ میں سے صرف چند ہی اصحاب صفہ میں سےتھے 55
اصحاب صفہ کےفقرودرویشی 59
دیگر صحابہ کے ذریعے اہل صفہ کی خبرگیری 62
رسول اللہ ﷺ کی عنایت خاص 65
رسول اللہ ﷺ کےذریعے اصحاب صفہ کی دل جوئی اورنفسیاتی تربیت 67
اصحاب صفہ کی تعلیم وتربیت کانظم 69
رسول اللہ ﷺ کےذریعے تعلیم وتربیت 70
اموال صدقہ کاحق صرف فقراء کاہے 72
اصحاب صفہ اوراشاعت علم 73
(5)صفہ کااسوہ 75
تعلیم گاہ 76
متعلمین ومعلمین 77
نصا ب 78
مفت تعلیم 79
تربیت 80
کفالت 82
اموال صدقہ کاحق 83
ہمہ جہت خدمات 84
حاصل بحث 84
(6)مناسک حج کی نبوی اصلاحات 85
نسلی امتیازات پر مبنی مراسم کی اصلاح 86
تقدس کےخود ساختہ معیارات کیاصلاح 89
مہمل اعمال کی اصلاح 92
مناسک حج میں اضافات 94
مناسک حج کی ادائیگی کاعملی مظاہرہ 96
تنظیم حج 97
(7)حلف الفضول 99
اہمیت 99
زمانہ 101
سبب 102
معاہدہ میں شریک قبائل اورنمایاں افراد 102
آں حضرت ﷺ کی شرکت 107
وجہ تسمیہ 109
وفعات 112
اثرات 114
خاتمہ 116
عصری معنویت 117
(8)صلح حدیبیہ کی بعض شرائط کی منسوخی کامسئلہ 122
کیاصلح حدیبیہ کی بعض شرائط منسوخ کردی گئی تھیں؟ 123
اس استنباط پر واقع ہونےوالے اشکالات 123
قدیم مفسرین ومحدثین کی توجیہات 125
عصر حاضر کےعلماء کی تحقیقات 126
بعض قدیم مفسرین کی صحیح توجیہ 131
(9)دہشت گردی کےحوالے سے بعض واقعات سیرت کی تنقیح 133
کعب بن اشرف اورابورافع کاقتل 134
بنونضیر کی جلاوطنی 139
بنوقریظہ کاقتل عام 142
(10)عصرحاضر میں محروم ومظلوم طبقات کےمسائل اورسیرت نبوی 145
عہد نبوی ﷺ کاسماج 147
رسول اللہ ﷺ نےکم زوروں کےحقوق بیان کیے 147
مسکینوں اورمحتاجوں کی مدد پر ابھارا 149
مساوات کی تاکید وتلقین 150
ظلم کی مذمت اورمظلوم کی حمایت ومدد 151
ام المومنین کی گواہی 152
حلف الفضول کی ستائش 153
عہد حاضر کےمسائل کاحل سیرت نبوی کی پیروی میں ہے 154
(11)سیرت نگاری میں معجزات کامقام 155
سیرت نگاری کاسائنسی اسلوب 155
سیرت نگاری کاروایتی اسلوب 155
حجۃ اللہ البالغہ کامبحث سیرت 156
تجزیہ 157
(12)سیرت نگاری کی تاریخ پر ایک نظر 159
عربوں کےنزدیک تاریخ نویسی 160
سیرت میں تالیف کاآغاز 161
سیرت نگاری کےمختلف ادوار 163
کتب میلاد کی تالیف 165
سیرت نگاری تنقیدی نقظہ نظر سے 166
سیرت اورتاریخ کو جمع کرنےوالے مولفین 167
سیرت ابن اسحاق کی تالیف کاسبب 167
سیرت ابن اسحاق میں ابن ہشام کاکام 169
سہیلی اوردیگر شارحین سیرت ابن ہشام 171
سیرت ابن اسحاق کی تلخیص کرنےوالے 171
سیرت ابن سحاق کومنظوم کرنےوالے 172
ابن اسحاق 173
ابن ہشام 176
سہیلی 178
ابوذرخشنی 181
(13)ابن نفیس کارسالہ کاملیہ ۔تعار ف وتجزیہ 185
ابن نفیس ۔مختصر احوال زندگی 185
علمی مقام ومرتبہ 188
دوران خون رؤی کامحقق 1920
تصنیف وتالیف 192
الرسالۃ الکاملیۃ فی السیرۃ النبویۃ 196
مقصد تالیف 197
دیگر ہم موضوع رسائل سےموازنہ 198
مشتملات 200
مختصر تجزیہ 208
(14)سیرت کی چند جدید مطبوعات کاتعارف 211
خطبات بہاول پور(ڈاکٹر محمد حمید اللہ) 211
خطبہ حجۃ الوداع (ڈاکٹر ثنار احمد) 213
رسول اکرم ﷺ اورخواتین (پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی) 215
سیرت خاتم النبیین (ڈاکٹر ماجد علی خاں) 220
شاہ ولی اللہ کارسالہ سیرت (پروفیسرمحمد یٰسین مظہر صدیقی) 223
عصر حاضرمیں اسوہ رسول کی معنویت (ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی) 224
فرہنگ سیرت (مولانا سیدفضل الرحمان 227
مکی اسوہ نبوی(پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی) 229
مکی عہد نبوی میں اسلامی احکام کاارتقاء(پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی ) 231
ناموس رسول (سکندر احمد کمال ) 234
ہجرت مصطفی ٰ (مولانا محمد علاؤ الدین ندوی ) 237

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام خلافت راشدہ سود سیرت سیرت صحابہ نبوت

سیرت ابوبکر صدیق

سیرت ابوبکر صدیق

 

مصنف : محمد رضا

 

صفحات: 174

 

سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مؤلف کا مختصر تعارف 7
دیباچہ 8
مقدمہۃ المحقق 10
مقدمہ 16
حضرت ابوبکرؓ کی زندگی طائرانہ نظر 19
نام و نسب / لقب 19
ولادت 21
کنیت کی وجہ تسمیہ 21
ابوبکرؓ کے آزاد کرعدہ غلام 28
ابو بکرؓ سے مروی مرفوع احادیث 29
حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت 30
ابوبکر کے دیگر فضائل 32
ابو بکرؓ کی تخلیقی ہیئت 33
ابوبکرؓ کی ازواج و اولاد 33
واقعہ سقیفہ اور بیعت ابو بکر 36
سعد بن عبادہ کا خطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کاخطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کا خطبہ 38
حضرت حباب بن منذرؓ کا خطبہ 40
حضرت عمرؓ کی جوابی تقریر 40
حباب بن منذرؓ کی دھمکی 41
بشیر بن سعدؓ کی فیصلہ کن تقریر 4 2
حضرت ابوبکرؓ کی تجویز 42
حضرت علیؓ کا بیعت سے پیچھے رہنا 45
رسول اللہﷺ کے بعد افضل شخص 47
رسول اللہﷺ کی تجہیز و تکفین 47
بیعت کے بعد ابوبکرؓ کا خطبہ 49
اسامہ بن زیدؓ کے لشکرکی رونگی 50
ابوبکر صدیقؓ کی لشکر کو وصیت 54
لشکر اسامہ کی روانگی کے فوائد 55
رسول اللہؐ کے دور میں یمن پر باذان کی مارت 55
بلاد عرب میں مدعیان نبوت کا ظہور 56
نبوت کا جھوٹا دعویدار سود عنسی 57
اسود عنسی کا قتل 58
مرتدین سے جنگ 60
طلیحہ اسدی 60
مدینہ پر حملہ 61
لشکر اسامہؓ کی واپسی 63
مرتدین کی طرف لشکروں کی روانگی 63
معرکۂ بزاخہ اور طلیحہ کا شام کی طرف فرار 70
ام زمل بنت مالک کے احوال 73
عیینہ بن حصن کی گرفتاری 74
بنو تمیم کی ہزیمت اور مالک بن نویرہ کا قصہ 75
سجاح اور مسیلمہ کی خیمہ میں ملاقات 76
مالک بن نویرہ 77
حضرت خالد بن ولیدؓ کی شادہ 78
معرکۂ یمامہ 81
حضرت ثابت بن قیسؓ کا خطاب 84
حضرت زید بن خطابؓ کا خطاب 84
حضرت ابو حذیفہ کا خطاب 84
محکم بن طفیل کا قتل 85
مسیلمہ کا قتل 86
حضرت خالدؓ کو قتل کرنے کی کوشش 88
سلمہ بن عمیر کی خود کشی 89
حضرت خالد بن ولیدؓ کا دوسری مرتبہ شادہ کرنا 89
بنو حنفیہ کا نقصان 90
مسلمانوں کا نقصان 90
مسیلمہ کا قافیہ بند کلام 91
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
ابن الہیشم اور مسیلمہ کذاب 94
نوزائد بچوں پر مسیلمہ کی نحوست 94
ابو طلحہ نمری اور مسیلمہ کذاب 95
باغ پر مسیلمہ کی نحوست 95
اہل بحرین کا ارداد 97
جارود بن معلیٰ 97
حضرت علاء بن حضرمیؓ کی کرامت 98
خندقوں والی جنگ 99
میں مدہوش 99
دارین کی طرف روانگی 100
مسلمانوں کی فتح 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
حضرت علاء کا ابوبکر ؓ کے نام خط 102
حضرت ابوبکرؓ کا جواب 103
اہل عمان اور مہر کا مرتد ہونا 103
مہرہ کا تلفظ 103
مہرہ کا محل وقوع 104
اہل مہرہ کا ارتداد 105
یمن کے مرتدین 106
حضر موت اور کندیہ کا ار تداد 107
حضرت خالدؓ کا عراق کی طرف جانا اور صلح حیرہ 111
معرکۂ ذات السلاسل 112
خاندانی اعزاز کی ٹوپی 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
عورت اور مرد کا قلعہ 113
فارسیوں کی دوسری شکست 115
جنگ ثنی جنگ مزار 115
ایرانی مقتولین کی تعداد 115
معرکۂ و لجہ 116
حضرت خالد بن ولید کا خطبہ 117
معرکۂ الیس 117
خون کی ندی 118
جنگ امغیشیا اور اس کی بربادی 119
حیرہ کا محاصرہ اور اس کا اطاعت اختیار کرنا 120
از اذابہ کا فرار 120
نماز فتح 124
انبار کی فتح 126
عین التمر کی فتح 127
عراق کی طرف قصد 129
معرکۂ الفراض 130
غزوۂ شام 133
ہرقل کی تیاری 138
معرکۂ یرموک 141
رومیوں کا لشکر 144
لڑائی کا جاری رہنا 148
رومیوں کی پسپائی 148
حضرت ابوبکرؓ کی وفات کا اعلان 149
معرکۂ بابل 152
حضرت عمر کی نیابت سے متعلق ابوبکرؓ کا اپنے ساتھیوں سے مشورہ 156
آپ کی تعریف میں 158
حضرت ابوبکرؓ کے دوران خلافت معمولات اور ان کی رہائش 163
مسلمانوں کا بیت المال 164
حضرت ابوبکرؓ کا حج 165
جمع القرآن 165
آپ کے قاضی کا تبین اور عمال 167
حضرت ابوبکرؓ کی مہر 171
حضرت ابوبکرؓ کے اقوال زریں 172

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ خلافت راشدہ سیرت سیرت صحابہ طلاق قربانی نماز نماز جمعہ

سیرت ابوبکر صدیق ؓ

سیرت ابوبکر صدیق ؓ

 

مصنف : سیف اللہ خالد

 

صفحات: 235

 

انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے کی سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت ابوبکر صدیق ‘‘ تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف اللہ خالد ﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب کو مرتب کرنے میں صحیح اورمستند روایات کو بنیاد بنایا اور صحیح ترین مآخذ اور مراجع سےمعتبر روایات کاانتخاب کر کے ایام ِ خلافت ِ راشدہ کی حقیقی اور صحیح تصویر قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔ مصنف نے اسے مرتب کرتے وقت ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ﷾ کی تالیف’’ ابو بکر صدیق کی شخصیت ، حیات اور خلافت‘‘ سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مکتبہ شاملہ کو بنیاد کر حدیث ، تاریخ اور سیرت کی سیکڑوں کتب سے مستند اور صحیح روایات کو جمع کرنے کی سعی کی ہے۔ سیرت سیدنا ابو بکر صدیق کے حوالے سےیہ کتاب بیش قیمت تحفہ ہے ۔تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست
عرض ناشر 13
عرض مولف 15
سیدنا ابو بکر ؓ کا نام ونسب 19
سدنا ابو بکر ؓ کے القاب 19
عتیق 19
صدیق 20
صاحب 21
تاریخ پیدائش 23
سیدنا ابو بکر ؓ کے والدین 24
والد 24
والدہ 25
سیدناابو بکر ؓ کی بیویاں 26
قتیلہ بنت عبدالعزیٰ 26
ام  رمان بنت عامرؓ 27
اسماء بنت عمیسؓ 28
حبیبہ بنت خارجہ ب 29
سیدنا ابو بکر ؓ کی اولاد 30
عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ 30
عبداللہ  بن ابوبکر کی بنی ﷺ کے حلہ میں کفن کی خواہش اور ترک 31
محمد بن ابو بکرؓ 31
اسماء بنت ابوبکرؓ 32
ام المو منین سیدہ عائشہؓ 33
ام کلثوم بنت ابوبکر 35
خاندان صدیق اکبرؓ کا منفر د اعزاز 36
قبل از اسلام ابوبکر ؓ کی شہرت 37
علم انساب کے ماہر 37
جو دوسخا اور مہمان نوازی 38
تجارت 39
سیدنا ابو بکر ؓ کاقبول اسلام 40
مکہ کے دور ابتلا میں عظیم کردار 43
نبی ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے 43
نئے مسلمانوں کی تعلیم اور تکریم کا فریضہ ادا کرتے ہوئے 44
ستم رسیدہ غلاموں کی آزادی میں کوشاں 45
غلاموں کو آزادی دلانے کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول 47
صدیق اکبرؓ کی پہلی ہجرت 51
رسو ل اللہﷺ سے عائشہ ؓ  کا نکاح 54
ہجرت مدینہ اور ابوبکر ؓ 56
ہجرت مدینہ  میں سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء ؓ کا کردار 57
سیدناابوبکر ؓ کا کفار مکہ پر اظہار افسوس 59
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر ؓ کاکردار 59
عام بن فہیرہ مولیٰ ابی بکر ؓ کا کردار 60
راستہ بتلانے کے لیے ماہر گائیڈ کا اہتمام 60
ابوبکر ؓ کوغار میں بھی بنی کریم ﷺ کی حفاظت کیی فکر 60
سراقہ کا تعاقب اور ابوبکر ؓ نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے مستعد 63
مدینہ منورہ آمد پر ابو بکر صدیق ؓ کا کردار 67
مدینہ میں رسو ل اللہ ﷺ کے استقبال کے شاندار مناظر 68
خضاب کا استعمال 68
اپنین بیوی ام بکر کو طلاق دینا 69
مدینہ منورہ پہنچ  سیدہ عائشہ ؓ کو بخار آنا 69
سیدنا ابوبکرؓ کو بخار آنا 69
جہادی میدانوں میں
ابوبکر صدیق ؓ میدان جہادمیں 73
جنگی معرکوں کی قیادت  کرتے ہوئے 73
ابوبکر ؓ میدان بدر میں 74
سب سے پہلے جہاد کے حق میں مشورہ دینے والے 74
فتح و نصرت کی بشارت اور رسو ل اللہﷺ کے پہلو بہ پہلو قتال 75
اسیران بدر کے بارے میں سیدنا ابوبکرؓ کی رائے 77
صدیق اکبر ؓ کؤمیدان اُحد میں 80
کفار کے تعاقب میں حمراء الا سد تک پیش قدمی 82
صدیق اکبر ؓ کی صلح حدیبیہ میں 84
بیت اللہ کی طرف پیش قدمی کا مشورہ 84
مصالحانہ گفتگو کے دوران سید نا ابو بکر ؓ کی غیر ت ایمانی 85
مزاج شناس رسو ل سیدنا ابوبکر ؓ 86
ابوبکر ؓ غزوہ خیبر کے پہلے علم بردار 86
صدیق اکبر ؓ سریہ نجدمیں 89
صدیق اکبرؓ سریہ نبو فزارہ میں 90
صدیق اکبر ؓ غزوہ ذات السلاسل میں 90
صدیق اکبر ؓ فتح مکہ میں 93
مکہ پر چڑھائی کا معاملہ صیغہ راز میں رکھا گیا 93
ابوقحا فہ ؓ کا قبو ل اسلام 93
ابو قحا جہ ؓ کی داڑھی کو رنگنے کاحکم 94
ابوبکر ؓ کی میدان حنین میں ثابت قدمی 95
رسو ل اللہ ﷺ کی موجودگی میں سیدنا ابوبکر ؓ کا فتویٰ 96
غزوہ تبو ک اور اللہ کی راہ میں مال کا عطیہ 99
رسو ل اللہ ﷺ سے مسلمانوں کے لیے بارش کی دعا کی درخواست 100
صدیق اکبرؓ بحیثیت امیر حج 102
صدیق اکبر ؓ حجۃ الو داع میں 103
مدنی معاشرے میں کردار اور بعض فضائل
مدنی معاشرے میں کردار اور بعض فضائل 107
سیدنا ابوبکر ؓ راز نبوی ﷺ کے محافظ 107
سیدنا ابو بکر ؓ اور نماز جمعہ کی آیت 108
احترام رسول اللہﷺ اور ابوبکر ؓ 109
رسو ل اللہﷺ کا ابوبکر ؓ سے کبرو غرور کی نفی فرمان ا 109
سیدنا ابوبکر ؓ کا زہد و ورع 110
سیدنا ابو بکر ؓ کی خشیت 111
نفاق کا خوف اور اس سے بیزاری 112
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے داعی 113
مہمانوں  کی عزت و تکریم کرنےوالے 114
سیدنا ابو بکر ؓ کے فاقے کا ایک واقعہ 116
اے آل ابی بکر! یہ تمھاری پہلی بر کت نہیں ہے 117
رسو ل اللہ ﷺ کی طرف سے سیدنا ابو بکر ؓ کی حمایت 119
نبی ْﷺ کا ابوبکر ؓ پر بے مثال اعتماد 120
سیدنا ابوبکر ؓؓ کوغصے پر قابو رکھنے کی نبوی نصیحت 122
نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبوب عائشہ اور ابوبکرؓ 123
زبان نبوت  سے جنت کی بشارت 124
سیدنا ابوبکرؓ کو جنت کےتمام دروازوں سے پکاراجائے گا 125
نبیﷺ کی ابوبکر ؓ کے لیے علم کی بشارت 126
سیدنا ابوبکر ؓ بنی ﷺ کی موجودگی میں معبر 127
نبی ﷺ کی موجودگی میں مصلیٰ نبویﷺ پر 129
واقعہ افک اور خاندان صدیق کا کردار 131
کیوں  نہیں ، واللہ ! یقینا میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے 138
اعلان براءت پر سید ہ عائشہ ؓ کا سر کا بوسہ لینا 139
سیدنا ابوبکر ؓ سے منقول ادعیہ 140
نماز میں آخری تشہد کی دعا 140
صبح و شا م کی دعا 141
وفات نبوی اور صدیق اکبرؓ 142
وفات نبوی کا اشارہ اور سیدنا ابوبکر ؓ کے آنسو 142
سیدہ عائشہ ؓ کا ابوبکر ؓ کا امام نہ بنانے کی درخواست کرنا 143
حکم نبوی کو ابوبکر لوگو ں کو نماز پڑھائیں 143
نبی ﷺ کا ابوبکر ؓ کی اقتدار میں نماز پڑھنے والوں پر اظہار مسرت 144
رسول اکرم ﷺ  کے چہر ہ انور کو بوسہ دینا 145
حادثہ دل فگار  ی ہولناک اور سیدنا ابو بکر ؓ کامو قف 146

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام خلافت راشدہ سیرت سیرت النبی ﷺ

سیدنا حضرت ابو بکر صدیق

سیدنا حضرت ابو بکر صدیق

 

مصنف : محمد حسین ہیکل

 

صفحات: 364

سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں اوریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔
زیر تبصرہ کتاب’’سیدنا حضرۃ ابو بکر صدیق ‘‘ محمد حسین ہیکل کی خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق کی سیرت وسوانح ،خدمات پر انگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ ہےاس کتاب میں انہوں نے سیدنا ابو بکر صدیق کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیرت النبی ﷺ پر حیات محمدﷺ کےنام سے اور سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ کی سوانح حیات بھی کتب تصنیف کی ہیں ۔ اللہ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انکار حدیث حج نبوت نماز

صحیح یا ثابت حدیث رسول ﷺ کے بغیر دین نامکمل ہے

صحیح یا ثابت حدیث رسول ﷺ کے بغیر دین نامکمل ہے

 

مصنف : سید آصف عمری

 

صفحات: 88

 

آنحضور ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کاتخیل جس طرح ملت اسلامیہ میں انتشار و خلفشار کا باعث بنا، اسی طرح انکار حدیث کا شوشہ بھی اپنے نتائج کے اعتبار سے کچھ کم خطرناک نہیں ہے۔ قرآن کریم کے بعد حدیث نبوی ﷺ اسلامی احکام و تعلیمات کا دوسرا بڑا مآخذ ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن مجید کو کما حقہ سمجھنے کے لیے، اس پر رضائے الٰہی کے مطابق عمل کرنے کے لیے حدیث نبویﷺ کا ہونا از حد ضروری اور اہم ہے۔ دین اسلام کے بے شمار احکامات حدیث رسول ﷺ کے بغیر ناقص ہیں مثلاً’ نماز کاطریقہ، زکوٰۃ کا نصاب، حج کے مناسک وغیرہ۔ منکرین حدیث نے لوگوں کو حدیث رسول ﷺ کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا کیا اور یہ نعرہ بلند کیا کہ امت کی راہنمائی کے لیے صرف قرآن ہی کافی ہے۔ اسلام کے مخالفین نے اسلام کو کمزور کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے ضعیف احادیث سے مسائل کو استنباط کرتے ہوئے دین اسلام کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب”صحیح یا ثابت حدیث رسول ﷺ کے بغیر دین نا مکمل ہے” ڈاکٹر سید آصف عمری کی تالیف ہے۔ موصوف نے اصول حدیث، تدوین حدیث کے کارنامے اور حدیث رسول ﷺ کے متعلق جامع بحث کی ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 6
مقدمہ 9
تقدیم و مراجعہ 11
عرض ناشر 12
اصول حدیث 15
تعارف حدیث 22
حدیث کا لغوی مفہوم 22
حدیث کا اصطلاحی مفہوم 23
اصول حدیث 24
صحابہ کرام کے نزدیک حدیث کا مقام 27
حدیث کے مقابلہ میں کسی قول پر عمل باعث مقابلے 28

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال ایمان و عمل تبلیغی جماعت علماء

صحیح اور مستند فضائل اعمال

صحیح اور مستند فضائل اعمال

 

مصنف : ابو عبد اللہ علی بن محمد المغربی

 

صفحات: 977

 

فضائل اعمال دین کا ایک اہم گوشہ ہے اور اسلامی احکام کی ترغیب وتشویق دین اسلام میں بذاتہ مطلوب ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کو بھی قرآن مجید میں بشیر اور نذیر کے لقب عطا کیے گئے ہیں۔مختلف زمانوں میں علماء اورفقہاء نے اس موضوع پر متفرق کتابیں لکھی ہیں تا کہ لوگوں کو فرائض دینیہ اور مستحبات کی طرف راغب کیا جائے۔ برصغیر پاک وہند میں تبلیغی جماعت کی نصابی کتاب ’فضائل اعمال‘ اسی مقصد سے لکھی گئی تھی لیکن اس کتاب میں بعض موضوع وضعیف روایات اور غیر عقلی ومنطقی واقعات کی موجودگی نے ایک بڑے طبقے کو اس کتاب سے استفادہ کرنے سے روکے رکھا۔ اگرچہ امام نووی ؒ کی کتاب ’ریاض الصالحین‘ فضائل اعمال کی کتاب کی کسی درجے میں ضرورت پورا کرتی ہے لیکن پھر بھی یہ احساس عام تھا کہ فضائل اعمال کے موضوع پر صحیح اور مستند احادیث پر مشتمل ایک مستقل کتاب ہونی چاہیے۔ عربی کے ایک عالم دین شیخ ابو عبد اللہ علی بن محمد المغربی نے اس احساس کا ادراک کرتے ہوئے فضائل کی صحیح اور مستند احادیث پر مشتمل ایک کتاب تالیف کی جس کا ترجمہ اور تشریح جناب عبد الغفار مدنی صاحب نے کیا ہے۔ کتاب میں شروع میں کسی عمل کی فضیلت کے بارے حدیث نقل کی جاتی ہے۔ بعد ازاں اس حدیث کی تخریج دی گئی ہے اور اس کے بعد اس کی شرح بیان کی گئی ہے۔ صحیحین کی روایت پر تو کوئی حکم نہیں لگایا گیا ہے کیونکہ ان دونوں کتابوں کو تلقی بالقبول حاصل ہے لیکن بقیہ کتب کی روایات کے بارے وضاحت کی گئی کہ وہ صحیح ہیں ۔ البتہ بعض مقامات پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مصنف نے غیر صحیحین کی روایت نقل کرنے کے بعد وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ بہر حال مجموعی طور پر ایک مفید کتاب ہے اور عوام الناس کو اس کتاب کے مطالعہ کی ترغیب دینی چاہیے۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
22.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام خلفاء راشدین سنت سیرت صحابہ محدثین مفسرین نبوت

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

 

مصنف : محمود الرشید حدوٹی

 

صفحات: 172

 

انبیاء ورسل  کے بعد اس کائنات میں سب سے  اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا  ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو  رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی  اور زندگی  کی آخری سانس تک  آپ ﷺ کی خدمت  واطاعت کرتے رہے  اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت  ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت  کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے  منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ  کے رسول  ﷺ نے حکماً اان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے  کھڑا کیا۔خلیفہ راشد اول سیدنا  صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ  کی حیاتِ مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ  دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر  لگی ہو ئی تھیں۔امت  نے  بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ زیر نظر کتاب’’ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ‘‘ مولانا محمود الرشید حدوٹی(شیح الحدیث ومہتمم جامعہ رشیدیہ ، مناواں ، لاہور )  کی کاوش ہے۔فاضل مصنف نے قرآن کریم  روشنی میں سیدنا ابو بکرصدیق ﷜ کی شان اورمنقبت بیان کی  ہے  اور اسی طرح احادیث رسول کی روشنی میں سیدنا ابوبکر صدیق﷜ کےفضائل ومحاسن عمدہ پیرائے میں پیش کرنے کے علاوہ مفسرین کرام اور محدثین عظام کی آراء بھی بیان کی  ہیں

 

عناوین صفحہ نمبر
قرآن اور صدیق اکبر ﷜کی شان 29
واقعہ ہجرت اور صدیق اکبر﷜ 29
سراقہ بن مالک کا تعاقب 31
صدیق ﷜پر اعتماد 31
حضرت بلال﷜کی آزادی پر صدیق کو تمغہ 33
صدیق﷜کی قسم کا کفارہ 34
حضر ت محمدﷺصدق لائے، صدیق ﷜نے تصدیق کی 35
ابوبکر صدیق ﷜سے مشورہ کیجیے 36
صدیق ﷜کے لیے دو جنتیں 36
صدیق ﷜نیک مومن ہے 37
صدیق ﷜ کی منشاء پر قرآنی آیات کا نزول 38
صدیق ﷜ کا دل صاف و شفاف 38
صدیق ﷜ کی ایک اور شان امتیازی 39
صدیق ﷜ اولی الفضل میں سے ہے 40
صدیق ﷜ کی معیت 49
صدیق اکبر﷜ رضائے مولیٰ کے متلاشی 50
صدیق اکبر﷜جنتی ہیں 51
صدیق اکبر﷜ کے برابر کوئی نہیں ہو سکتا 51
ابوبکرصدیق ﷜کے لیے اللہ کی طرف سے سلام 54
فتنہ ارتداد اور حضرت صدیق اکبر﷜ 55
مرتدین کے گیارہ گروہ 56
کیا اس آیت کا مصداق حضرت علی﷜ہیں؟ 56
ایک اشکال اور اس کا جواب 61
ایک اور اشکال اور اس کا دندان شکن جواب 61
ایک اشکال اور اس کا جواب 66
امام اہل سنت ﷫کے رشحات قلم 69
فسوف یاتی اللہ 71
یجبھم و بحبونہ 71
اذلۃ علی المومنین 71
ذالک فضل اللہ 72
ایک اشکال اور اس کے جوابات 74
صدیق اکبر﷜سابق الاولون میں سے ہیں 74
صحابہ کرام﷢بارے خوش بخت اور بدبخت گروہ 75
ابوبکر صدیق﷜بلااختلاف اول السابقین ہیں 76
جب  صدیق اکبر﷜نے اسلام ظاہر کیا 76
سابقون الاولون میں اہل علم کے اقوال 77
لفظ سابقین مجمل ہے 78
ہجرت اور نصرت مراد لینا درست ہے 78
حضرت ابوبکر ﷜اور حضرت علی﷜کی ہجرت میں فرق 79
ایک اشکال اور اس کا جواب 79
ابوبکر صدیق﷜کی سند امتیاز 81
سند رضا عطا کرنے میں اس قدر تاکیدی کلام کیوں؟ 82
رضا کی سند کیوں ملی ؟ 83
مہاجروں اور انصار کے لیے مزید انعامات کی بارش 83
دعوت فکر وعمل 84
جو لوگ صحابہ کرام﷢ کو نہیں مانتے 84
ایک اشکال اور اس کا جواب 85
حدیبیہ کے مقام پر صدیق اکبر ﷜کی غیرت ایمانی 88
اللہ اور رسول اللہ کی پیروی جنت جانے کا ذریعہ ہے 90
مخلصانہ دعوت 91
حضرت ابوبکر﷜کی رائے پر بدری قیدیوں سے فدیہ 92
حضرت صدیق اکبر ﷜(احادیث رسولﷺ کی روشنی میں ) 94
میں اگر کسی کو خلیل بناتا تو صدیق﷜کو بناتا 94
ایک سوال اور اس کا جواب 97
ایک اشکال اور اس کا جواب 97
صدیق ﷜پاسبان رسول ہیں 98
صدیق ﷜ اور  صدیق ﷜ کا مال رسول اللہ ﷺ کے لیے 99
صدیق ﷜کے لیے جنت میں پکارا 99
صدیق ﷜ کا مال رسول اللہ کا مال 100
صدیق ﷜ کےدروازے کے سوا سب دروازے بند 101
ابوبکر﷜رسول اکرمﷺکی تقویت کاباعث 102
صدیق ﷜ اور ادب رسولﷺکا خیال 103
نبی کریمﷺکےبعد ابوبکر﷜بہترین ہیں، علی﷜کی گواہی 104
ابوبکر، عمر پر مجھے جو فضیلت دے گا کوڑے کھائے گا، اعلان علی﷜ 106
خلفاء ثلاثہ ﷢کی فضیلت 107
آپﷺکےبعد خلفاء ثلاثہ ﷢ 107
ابوبکر﷜کے سب سے زیادہ احسانات 107
صدیق اکبر ﷜خیر کےکام میں آگے بڑھ جاتے ہیں 108
ابوبکر﷜نبیﷺکےنقش قدم پر 109
اللہ نے مجھے خلیل بنایا، میراخلیل ابوبکر﷜ہے 110
جنتی شخص تم پر طلوع ہو گا 110
قیامت کے دن ابوبکر﷜نبیﷺکےدائیں ہوں گے 111
بیماری کی حالت میں آپﷺابوبکر﷜کے پہلو میں 111
سبحان اللہ کیسی موافقت ہے ؟ 113
دس جنتیوں میں  صدیق ﷜ پہلے نمبر پر 113
آزادی کے پروانے كے پروانے دلانے والا صدیق ﷜ 114
بڑی عمر کے لوگوں کے سردار 118
ابوبکر﷜کاسارا مال اللہ اور رسول اللہﷺکے لیے 118
صدیق﷜آہستہ قرآن کی تلاوت کیوں کرتے تھے؟ 119
سب سے پہلے مسلمان صدیق اکبر﷜ہیں 120
ایک اشکال اور اس کا جواب 120
حضرت علی﷜کے ہاں  صدیق﷜ کی عظمت 122
ابوبکر ﷜تمام صحابہ ﷢میں افضل ہیں 122
رسول کریمﷺکے وزیر ابوبکر ﷜وعمر﷜ 124
ابوبکر﷜مجسمہ خیر تھے 125
ماہتاب نبوت کے چودہ ستارے 126
صدیق﷜وعلی ﷜بھائی بھائی 127
اگر ابوبکر﷜نہ ہوتے اسلام ختم ہو جاتا 127
ابوبکر ﷜کی مثال بارش کے قطروں جیسی ہے 127
ابوبکر ﷜ کو صدیق کیوں کہا جاتا ہے ؟ 128
ابوبکر ﷜ کا نام صدیق اللہ نے رکھا 129
صدیق﷜ نام آسمانوں سے اترا ہے 129
ابوبکر ﷜ کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے ؟ 130
جس نے جنتی دیکھنا ہو تو صدیق﷜ کو دیکھ لے 131
ابوبکر ﷜ کو صدق دل کے باعث عظمت ملی 132
صدیق اکبر﷜کا جنت میں ایک اعزاز 132
حضرت ابوبکر﷜ کی حضرت عمر﷜کے ہاں شان عالی 133
چار یاران نبی ﷺسے محبت نہ رکھنے والا مومن نہیں 134
حشرت میں بھی نبی کریم ﷺ کی معیت 134
انبیاء و رسولوں کے بعد ابوبکر ﷜افضل الناس ہیں 135
رسول کریمﷺکے بعد امت کے بہترین شخص 135
حضرت ابوبکر﷜کے ساتھ دوستی 136
حضرت ابوبکر صدیق ﷜کا تقویٰ 138
عجز و انکساری کا پیکر 138
ابوبکر ﷜و عمر ﷜پر کمال درجہ کا اعتماد 139
ابوبکر ﷜ عدل وانصاف کی خاطر بے چین 141
ابوبکر ﷜ کو مصلے کا امام رسول کریمﷺ نے بنایا 142
صدیقی خلافت اللہ کی مرضی سے قائم ہوئی تھی 142
بہترین آدمی  ابوبکر ﷜ ہیں 143
تاجدارد خلافت  ابوبکر ﷜ وعمر ﷜ 144
خلافت صدیقی کے لیے دستاویز لکھنے کی نبوی خواہش 144
ایک مغالطہ اور اس کا جواب 145
جنت کی خوشخبری پانےوالا صدیق ﷜ 148
ساری امت میں ابوبکر کا پلڑی بھاری 148
امامت صدیق﷜پر شکر خدا 149
فتنہ ارتداد کی روک تھام میں صدیقی کردار 150
صدیق﷜کی بلند آہنگی 150
صحابہ کرام میں صدیق﷜کی صالحیت کا تذکرہ 151
دنیا او رحشر میں صدیق کا ساتھ 152
جنتیوں کو گالی دینے پر خاموشی کیوں؟ 152
نماز میں صدیق اکبر﷜کا خشوع و خضوع 153
عظیم الشان امام اور عظیم الشان مقتدی 154
جہاں مصطفے ﷺوہاں خادم مصطفےﷺ 154
امت مصطفوی کا پہلا جنتی 155
امانت دار، زاہد شب بیدار 156
صدیق﷜کو گالی دینے والے پر بھڑوں کی یلغار 156
صدیق﷜نرم دل انسان ہیں 157
نبوت کے لیے کان اورآنکھیں 157
وزارت و خلافت کی پیشین گوئی 158
امت مصطفوی پر مہربان و شفیق 158
خلیفہ بلافصل صدیق﷜ہیں 159
مردان امت محمدی میں سب سے زیادہ محبوب 160
چار یاروں کاانتخاب لاجواب 160
ابوبکر ﷜ سے خطا کا صدور کیونکر ہو سکتا ہے ؟ 160
ابوبکر ﷜ خاص آدمی ہیں 161
ابوبکر ﷜ کی شان اور نبوت کے کان 161
جنت کے پھل کھانے والا ابوبکر﷜ 162

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تعلیم و تربیت نبوت

رہنمائے تربیت

رہنمائے تربیت

 

مصنف : ہشام طالب

 

صفحات: 633

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ دعوت وتبلیع کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر کی غیر مسلم حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کرتے رہے ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل پیرا ہونے بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’رہنمائے تربیت ‘‘ امریکہ ، کنیڈا میں تربیت واصلاح اور دعوت اسلامی کے حوالے طویل عرصہ کام کرنے والے ڈاکٹر ہشام الطالب کی تصنیف ہے ۔انہوں نےاس کتاب میں تربیت کا ایک ایسا لائحہ عمل پیش کیاہے جس سے زیر تربیت کی لگن میں اضافہ، ان کے علم میں ترقی اور ابلاغ انتطامی امور اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں ا ن کی صلاحیتوں میں نکھار پید ہوسکتا ہے ۔اس کتاب میں اس امر کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ دعوت اسلامی کے کارکنوں کے تجربات مختصر مگر موثر انداز میں ان لوگوں تک مسلسل منتقل ہوتے رہیں جو اس دعوت کے لیے سرگرم عمل ہونا چاہتے ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 1
ابتدائیہ 5
پیش لفظ :صحیح سمت میں ایک قدم 6
دیباچہ : تاریخی ارتقاء 10
تعارف : کتاب کے مخاطب اور استعمال کاطریقہ 20
حصہ اول :تربیت کے تناظر 25
با ب 1۔داعی ،ماحول اور آبادی 27
باب 2۔تحریک چودھویں صدی ہجری میں 40
باب 3۔ہمارے مقاصد 69
حصہ دوم :قیادت کی ذمہ داریاں 81
باب 4۔اسلام میں قیادت 82
باب 5۔فاعدانہ صلاحیت کی شناخت 102
باب 6۔مسائل کے حل کی بنیادی ضرورتیں 122
باب 7۔فیصلہ کرنےسے متعلق امور 131
باب 8۔فیصلہ بمقابلہ علمدار آمد 152
باب 9۔منصوبہ بندی کی مبادیات 167
باب 10۔قدرہ یمانی کےبنیادی اصول 184
باب 11۔ٹیم کاقیا اور گروپ کی کامیابی 212
حصہ سو م : مہارت میں اضافہ اور ذاتی ترقی 225
باب 12۔عوامی تقریر 264
باب 13۔اچھی تحریر 264
باب 14۔نصیحت 274
باب 15۔ابلاغ کافن 286
وقت کی تنظیم 302
سننے کافن 320
کمیٹی کی تشکیل 320
کمیٹی کی صدارت 329
میٹنگ کاانقاد 328
میٹنگ کی صدارت 366
سمعی بصری وسائل کااستعمال 390
ابلاغ عامہ کے اداروں سے رابطہ 402
مقامی تنظیم کاقیام 409
ذاتی نشونما اور ترقی 425
حصہ چہارم :تربیت دینےوالوں کی تریبت 451
ضرورتوں کی تشخص اور تجزیہ 452
موثر تربیتی بروگراموں کی خصوصیات 464
تربیت کی قسمیں 472
تربیتی پروگرام  کے مشمولات 484
تربیت کے طریقے 492
تربیتی پروگرام 514
حصہ پنجم :نوجوانوں کے کمپ نظریاتی اور عملی حیثیت سے 522
نوجوانوں کے کیمپ اغراض ومقاصد 525
کیمپ کی تیاری مادعی انتظامات 522
پروگرام کی تشکیل عام نوعیت کے قابل لحاظ امور 566
کیمپ میں حصہ لینے کافن 558
اسلامی آداب 567
کیمپ کی قدرپیمائی 581
افتتامیہ 590
اشاریہ 592

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اصول فقہ تاریخ علماء فقہ فقہاء معاملات

قواعد کلیہ اور ان کا آغاز و ارتقا ( مع اضافات )

قواعد کلیہ اور ان کا آغاز و ارتقا ( مع اضافات )

 

مصنف : ڈاکٹر محمود احمد غازی

 

صفحات: 209

 

اسلامی علوم میں فقہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی فقہ اسلام کا نظام قانون ہے‘ جو اپنی جامعیت ووسعت اور دائر کار کے لحاظ سے تمام معاصر اور قدیم نظم ہائے قانون سے فائق وبرتر ہے جس کا کئی مغربی ماہرینِ قانون نے بھی برملاء اعتراف کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اس نظام قانون کی ترتیب وتدوین اور انطباق وتطبیق کا عمل انسانی کاوش ہے‘ جس کی تیاری میں انسانی تاریخ کی بہترین ذہانتیں اور دماغ کارفرما رہے ہیں۔ ہر انسانی عمل کی طرح اس کی تفصیلات‘ جزئیات کے استنباط اور انطباق وتشریح میں بھی بہتری پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے اور مختلف ادوار میں اس کے نئے گوشوں اور کم نمایاں پہلوؤں کو نمایاں کرنے‘ بدلتے زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اضافے کرنے اور تبدیلی لانے کا عمل جاری رہا ہے۔اور آج یہ احساس شدت سے بیدار ہے کہ مسلم معاشرے میں اسلامی احکام وقوانین کا نفاذ ہو اور اس حوالے سے علماء نے بہت سے کتب بھی لکھ دی ہیں جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب بھی ہے جس میں اسلامی فقہ کے ایک اہم موضوع قواعد کلیہ اور ان کے آغاز وارتقاء اور اس پر لکھی گئی کتب کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے اور مختلف فقہی مذاہب کے قواعد کلیہ کی‘ مثالوں کے ساتھ مختصر تشریح کی گئی ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ قواعد کلیہ اور اُن کا آغاز وارتقاء ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائیہ 9
قواعد کلیہ کی ابتداء 11
قاعدہ کلیہ کی تعریف 18
قواعد کلیہ کی فقہی اور قانونی حیثیت 23
قواعد کلیہ میں استثناءات 28
علم قواعد کی ابتدائی تاریخ 31
حنفی فقہاء اور قواعد کلیہ 38
مالکی فقہا اور علم قواعد کلیہ 53
شافعی فقہا اور علم قواعد کلیہ 55
حنبلی فقہا اور علم قواعد کلیہ 63
قواعد کلیہ کا موضوعاتی مطالعہ 69
عمومی قواعد 71
اصولی قواعد 123
عبادات سے متعلقہ قواعد 157
دیوانی معاملات سے متعلقہ قواعد 163
فوجداری معاملات سے متعلقہ قواعد 189
ضابطہ شہادت سے متعلقہ قواعد 195
مصادر و مراجع 205

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تمدن گوشہ نسواں

عورت اسلامی معاشرہ میں

عورت اسلامی معاشرہ میں

 

مصنف : سید جلال الدین انصر عمری

 

صفحات: 395

 

ظہور اسلام سے قبل کتاب ہستی کے ہر صفحے پر عورت کا نام حقارت  اور ذلت سے لکھا گیا ہے ۔اقوام عالم اور ان کے ادیان نے عورت کی خاطر خواہ قدر ومنزلت نہ کی اور عورت کا وجود تمام عالم پر ایک مکروہ دھبہ تصور کیا جاتا تھا ہر جگہ صنف نازک مردوں کے ظلم وستم کا شکار رہیں۔انسانی تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی متمدن ترین اقوام نے بھی عورت کو ایک غیر مفید بلکہ مخل تمدن عنصر سمجھ کر میدان عمل سے ہٹا دیا تھا ۔یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو عزت واحترام دیا اور اس کے حقوق کی نگہداشت پر زور دیا۔زیر نظر کتاب میں قدیم وجدید مذاہب اور تہذیبوں میں عورت کی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر اعلی مرتبے پر فائز کیا ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے حقیقی دائرہ کار،عورت کی تعلیم وتربیت اور مختلف اقتصادی ومعاشی امور کے حوالے سے عورت کے کردار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔علاو ہ ازیں عورت سے متعلقہ اسلامی احکام کی وضاحت اور ان کی حکمتوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 11
عورت دور قدیم میں 15
یونان وروم اور عورت 19
یورپ اورعورت 22
عورت مذہب کی نظر میں 25
عورت اور جدید نظریات 31
عورت اسلامی معاشرہ میں 47
عورت کا حقیقی دائرہ کار 75
عورت کی تعلیم وتربیت 89
عورت میدان عمل میں 121
اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں عورت کا حصہ 135
عورت کی فکری صلاحیتیں 171
عورت اور مرد کی مشترکہ گواہی 181
روایت حدیث میں عورت پر اعتماد 201
جنسی تعلقات 257
جنسی تسکین 300
زنا حرام ہے 305
فرد کی تربیت 311
معاشرہ کی اصلاح 350

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز