Categories
Islam اسلام توحیدوشرک سیرت

رسائل توحید حصہ اول

رسائل توحید حصہ اول

 

مصنف : محمد بن عبد الوہاب

 

صفحات: 52

 

اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے توحید و شرک کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے۔ اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کے بعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے۔ حضرت نوح﷤، اصحاب کہف اور عزیر﷤ کے قصوں اور قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام﷩ کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے، نیز قرآن کریم کی روشنی میں معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے۔ اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسائل توحید‘‘ شیخ محمد بن عبد الوہاب﷫ کی کتب و رسائل میں سے توحید کے موضوع پرماخوذ رسائل کا مجموعہ ہے۔ محترم جناب حامد محمود صاحب نے شیخ موصوف کی کتب سے اخذ کر کے ان کا ترجمہ کیا ہے۔ مترجم نے بعض مقامات پر حاشیہ کی صورت میں کچھ توضیحی نکات بھی پیش کیے ہیں۔ اور محترم جناب عمران صدیقی صاحب نے بعض رسائل کے شروع میں اس رسالہ کے متعلقہ ایک چھوٹی سی تمہیدتحریر کی ہے۔ جو اس رسالہ کے فہم کے لیے مفید ومعاون ہے۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید پر قائم دائم رکھے۔ (آمین)

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اذکار وادعیہ اعمال اہل بیت قرض وضو

قرآنی اور مستند مسنون اذکار و دعائیں

قرآنی اور مستند مسنون اذکار و دعائیں

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

 

صفحات: 155

 

قرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آیا ۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔اور شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔ تمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔  زیر تبصرہ کتاب’’ قرآنی اور مستند مسنون اذکار ودعائیں ‘‘ محترم جناب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن ﷾ کی کاوش ہے اس کتا ب کے پہلے حصہ میں قرآنی دعائیں اور اذکار قرآنی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں ۔ جبکہ دوسرے حصے میں احادیث نبویہ سےثابت شدہ دعائیں اوراذکار نقل کیے گئے ہیں ۔ تالیف میں مسلمان کی عملی زندگی کی یومیہ ترتیب کو حتی الامکان ملحوظ ِ خاطر رکھا گیا ہے ۔ اس مجموعہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ادب واحترام کی غرض سے اللہ تعالیٰ کےلیے جمع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ،تاکہ دعاؤں کاور اذکار کے ترجمے کے ذریعے خالقِ کائنات کی عظمت کابھر پور اظہار کیا جاسکے ۔ دعاؤں کا یہ مجموعہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمداسرائیل فاروقی صاحب کی فرمائش پر تیار کیا گیا ہے اور انہوں صدقہ جاریہ کی غرض اسے فی سبیل اللہ تقسیم کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشر کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست ٍ
اظہار تشکر 17
دعا اور ذکر کی اہمیت و ضرورت 20
حصہ اول
حصول ہدایت اور  شفاء کے لیے دعا 24
جہالت سے اللہ کی پنا ہ کے لیے موسی ؑ کا ارشاد 24
مکہ والوں کے لیے نا ابراہیم ؑ کی دعا 25
قبولیت عمل کے لیے سیدنا ابراہیم ؑ کی دعا 25
اولاد کو نیکی پر قائم رکھنے کے لیے سیدنا  ابراہیم و اسماعیل ؑ کی دعا 25
مصیبت اور نقصان کے وقت کیا کہیں ؟ 26
دنیا اورآخرت کی بھلائی کی دعا 26
دشمن (کفار) سے مقابلے کے وقت مسلمانوں اور ان کے سپا ہ سالار
طالوت کی دعا 26
شیطان سے حفاظت کا نسخہ ( ایۃ الکر سی ) 27
اللہ سے مغفرت طلب کرنے کی دعا 28
رحم طلبی اور دشمن پر غلبہ کی دعا 28
راہ ہدایت پر استقامت کی دعا 29
قیامت کے دن رحم کی دعا 29
گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے بچاو کی دعا 29
رزق کے حصول اور قرض ادائیگی کے لیے دعا 30
قبولیت نذر کے لیے عیسیٰ کی والدہ مریم صدیقہ کی دعا 30
حصول  اولاد کی دعا 31
نیک لو گو ں میں شامل ہونے کی دعا 31
مغفرت ، ثابت قدمی اور غلبے کے لیے دعا 31
ہر قسم کی پریشانی  کے ازالے کے لیے 32
آخرت میں آسانی ، گنا ہوں کی معافی اور خاتمہ بالخیر کی دعا 32
ظالموں سے چھٹکارے کی دعا 33
بدکردار سے چھٹکار ے کے لیے موسیٰ ؑ کی دعا 33
نیک لوگوں میں شامل ہونے کی دعا 34
رزق کے لیے عیسیٰ ؑ کی دعا 34
مغفرت اور رحم طلبی کی دعا 35
ظالمو ں سے علیحدگی  اور استقامت کی دعا 35
حق کی فتح  کے لیے شعیب ؑ کی دعا 35
اسقتامت اور اسلام  پر مو ت کی دعا 36
اللہ سبحانہ  سے معافی کی مو سو ی دعا 36
اپنے لیے اور اپنے بھائی کے لیے مغفرت ور حمت کی دعا 36
توبہ اور مغفرت و رحمت کی دعا 36
مشکلات و مصائب سے نکلنے  کا وظیفہ 37
مصائب وآلام میں تقد یر کا سہارا 37
پریشانی میں اہل ایمان کا ورد 37
اللہ توکل کا اظہار 38
ظالم اور مظالم سے نجات کی دعا 38
سرکش دشمنوں اور ا ن کے مال و اسباب کی تباہی کی التجا 38
کشتی یا سواری پر بیٹھتے وقت پڑھیں 39
لاعلمی پر مبنی دعا کا کفارہ 39
ابرہیم ؑ اور ان کے اہل بیت کے لیے فرشتوں کی دعا 39
توفیق الٰہی  کے لیے شعیب ؑ کی دعا 40
فتنے سے بچنے کے لیے یو سف ؑ کی دعا 40
بیٹوں کو الوداع کرتے وقت یعقوب ؑ کی دعا 40
صدقہ اور غم کے وقت یعقوب ؑ کی دعا 41
بھائیوں کے لیے یوسفؑ کی دعا 41
تحدیث نعمت اور خاتمہ بالخیر کے لیے یو سف ؑ کی دعا 41
اولاد کو شر ک سے بچانے کے لیے اور ان کی نیکی وغیرہ کے لیے ابراہیم ؑ کی
دعائیں 42
اولاد کو نمازی بنانے اور دعا کی قبولیت وغیرہ کے لیے ابراہیم ؑ کی دعا 43
والدین کے لیے رحمت کی دعا 43
سفر ہجرت  کے وقت نبی ﷺ کی دعا 44
مشکلات کی آسانی کے لیے اصحاب کہف کی دعا 44
نظر بد سے محفو ظ رہنے کا وظیفہ 44
کام کی آسانی اور طلاقت لسانی کے لیے موسیٰ ؑ کی دعا 45
علم میں اضافے کی نبوی دعا 45
حصول شفاء کے لیے ایوب ؑ کی دعا 45
غم اور مشکل سے نکلنے کے لیے یو نُس ؑ کی دعا 45
حصول اولاد کے لیے زکر یا ؑ کی دعا 46
حق کی فتح کے لیے دعا 46
دعوت حق قبول نہ کیے جانے پر نوح ؑ کی دعا 46
منز ل کی تلاش کے لیے نوح ؑ کی دعا 47
عافیت کے لیے نو ح ؑ کی دعا 47
شیطانی خیالات و وساوس سے بچنے کی دعا 47
بخشش و رحمت طلبی کے لیے نیک لو گوں  کی دعا 48
جہنم سے بچنے کے لیے عباد الرحمنٰ کی دعا 48
اہل و عیال کے لیے رحمٰن کے بند وں کی دعا 49
رسوائی سے بچنے اور حصول جنت کے لیے ابراہیم ؑ کی دعا 49
ظلم سے نجات کے لیے نو ح ؑ کی دعا 50
لوط ؑ کی اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے دعا 50
توفیق شکر اورنیکی کی توفیق کےلیے سلیمان ؑ کی دعا 50
ملکہ سبا کی عاجزانہ دعا 51
خطا بخشی کے لیے مو سو ی دعا 51
ظالموں سے چھٹکارے کے لیے سیدنا موسیؑ کی دعا 51
خیر و برکت سے متعلق مو سیٰ ؑ کی عاجز انہ دعا 52
فسادیوںکے خلاف لوط ؑ کی دعا 52
خوشخبری ملنے پر دعا 52
طلب اولاد کے لیے ابراہیم ؑ کی دعا 52
مغفرت اور سلطنت کے لیے سلیمان ؑ کی دعا 53
اختلاف دور کرنے کے لیے نبوی دعا 53
مومنوں کے لیے ملائکہ کی دعا 53
دشمن کے خوف سےبچاو  کے لیے موسیٰ ؑ کی دعا 54
سواری پر سوار ہونے کی دعا 55
نیک اعمال کی توفیق مانگنے کے لیے کی دعا 55
دشمن پر غلبے کے لیے نو ح ؑ کی دعا 56
کینہ و بغض سے بچنے اور پہلے مو منو ں کے لیے مغفرت کی دعا 56
رجوع الی اللہ اور مغفرت کے لیے ابراہیمؑ کی دعا 56
تکمیل نور اور مغفرت کے لیے دعا 57
ظالموں سے نجات کے لیے فرعون کی مومنہ بیوی کی دعا 57
کفار کی ہلاکت کے لیے نو ح ؑ کی دعا 57
مو منوں کی مغفرت اور کفار کی تباہی کے لیے نو ح ؑ کی دعا 58
شریروں  اور جادوگروں سے محفوظ رہنے کی دعا 58
جنی اور انسا نی شیاطین  سے محفوظ  رہنے کی دعا 59
حصہ دوم
نیند  سے جاگنے کے وقت کا ذکر 61
قضائے حاجت کے لیے داخل ہونے کی دعا 61
بیت الخلا سے نکلنے کی دعا 62
غسل کا طریقہ اور ذکر 62
وضو کا طریقہ اور وضو شروع کرنے سے پہلے کا ذکر 62
تیمم کا طریقہ اور ذکر 65
وضو( یاتیمم ) سے فارغ ہونے کے بعد کا ذکر 66
گھر سے نکلتے وقت کا ذکر 66
مسجد میں داخل  ہونے کی دعا 67
مسجد سے  باہر نکلنے  کی دعا 68
گھر میں داخل ہونے کے وقت کا ذکر 68
کھانےپینے کی دعائیں 69
کھانے سے پہلے کی دعا 69
کھانا کھانے کے بعد کی دعا 69
دودھ پینے کےبعد کی دعا 70
کھانا کھلانے  والے کے لیے دعائیں 70
حسن سلوک کرنے والے کے لیے دعا 71
لباس پہننے کی ایک دعا 71
نیا کپڑ ا پہننے والے کو کیا دعادع جائے 71
سفر کی دعائیں اور اذکار 73
مسافر کی مقیم  کے لیے دعا 75
مقیم کی مسافر کے لیے دعا 75
جب سواری پھسلنے لگے تو کیا پڑ ھا جائے؟ 76
دوران سفر تکبیر وتسبیح 76
جب سفر وغیرہ سے کسی منز ل پر اترے 76
رنج و غم اور پریشانی دور کرنے کی دعائیں اور اذکار 77
مشکل اور دشواری کے وقت کی دعا 79
استغفار  ، مصائب سے نکلنے کی ذریعہ 79
مر غ کی آواز کیا پڑ ھا جائے؟ 80
گدھے کے رینکنے پر کیا پڑ ھا جائے؟ 80
کتوں کے بھو نکنے پر تعوذ پڑ ھاجائے 80
دشمنو ں کے خلاف دعائیں اور اذکار 81
اپنے اوپر دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگی جائے 81
جب کسی سے  خطرہ ہوتو یہ دعا پڑ ھی جائے 81
دشمن سے خوف کے وقت کا ذکر اوردعا 81
دشمن سے مقابلے کے وقت کی دعا 82
دشمن کے لیے بددعا 82
قرض کی ادائیگی کی دعائیں 83
جسم کی خیر و برکت اور صحت و تندرستی کےلیے دعائیں اور اذکار 85
جسم میں درد کی دعا 85
بیمار پرسی کے وقت مریض کے لیے دعا 85
بچوں کے لیے دم 86
مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا پڑ ھے 87
زوال نعمت سے پنا ہ مانگنے کی دعا 87
محتاجی اور ذلت سے پناہ 88
ہدایت مانگنے کی دعا 88
جب کسی کو ہدایت ملے تو یہ دعا پڑ ھیں 88
بری عادتوں سے بچنے کی دعا 89
اچھے کاموں محبت اور برے اعمال سے نفرت 89
خلاف مرضی کا م ہوجائے تو کیا کہاجائے 90

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ سیرت النبی ﷺ

محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بائبل کی چند پیشین گوئیاں

محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بائبل کی چند پیشین گوئیاں

 

مصنف : عبد الستار غوری

صفحات: 151

 

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ نبیﷺ کے بارے میں بائبل کی کتابوں میں پیشین گوئیاں موجود ہیں‘جن کی روشنی میں اہل کتاب آپﷺ کو اس طرح پہچان سکتے ہیں‘جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچان لیتے ہیں۔ بائبل کی مختلف کتابوں میں ایسی بہت سی پیشن گوئیاں موجود ہیں۔اس کتاب کی تالیف کے مقاصد میں سے اہم ترین مقاصد یہ ہیں کہ نبیﷺ پر شعور ایمان مضبوط ہو‘ طلباء میں بائبل پر تحقیق کا ذوق پروان چڑھے‘ ارباب تحقیق کو بائبل پر تحقیق کرنے کا اسلوب مہیا کیا جائے‘ زیرِ تبصرہ کتاب میں اقتباسات اور ان کے تراجم میں اصل عبارات میں تبدیلی سے گریز کیا گیا ہے اور انہیں صحیح یا غلط ہر حالت میں جوں کا توں درج کیاگیا ہے۔اقتباس کے دوران مصنف نے اگر کچھ اضافہ کرنا ہو تو اس عبار ت کو مربعی خطوط وحدانی میں درج کیا گیا ہے اورتالیف کے سلسلے میں بنیادی طور پر’ شکاگو مینوئل‘ کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور قارئین کےلیے سہولت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں صرف چھ پیشین گوئیوں پر اختصار سے گفتگو کی گئی ہے۔پانچ پیشین گوئیاں تو بائبل کے’عہد نامہ قدیم‘ سے لی گئی ہیں اور ایک پیشین گوئی ’صعود موسیٰ‘ نامی کتاب سے لی گئی ہے۔اسی طرح یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں نبی﷤ کی صفات اور آپ کے شمائل کا تذکرہ ہے۔دوسرے باب میں اس پیشین گوئی کی وضاحت ہے کہ جس میں نبیﷺ کو ’’مثیل موسیٰ‘ یا ’’حضرت موسیٰ﷤ کی مانند ایک نبی قرار دیا گیا ہے۔تیسرے باب میں تورات کی کتاب استثناء کے باب تنتیس کی ابتدائی آیات میں مذکور’فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہونے والے‘ کا ذکر ہے۔چوتھے باب میں حضرت موسیٰ﷤ نے جو اپنے بعد حضرت عیسیٰ﷤ کے رونما ہونے اور اصحاب کہف کے قصے کا تذکرہ ہے ۔ پانچویں باب میں حضرت یعقوب﷤ کی اس بشارت کی وضاحت ہے یہ آنحضرت﷤ کی اپنی وفات سے عین پہلے کی ایک دعا‘ایک وصیت اور پیشین گوئی ہے‘ اس میں بھی حضرت موسیٰ﷤ کی طرح حضرت یعقوب ؑ نے بھی بنی اسرائیل کے قبائل کی آنے والی تاریخ کی جھلکیاں بیان فرمائی ہیں۔اور چھٹے یعنی آخری باب میں حضرت داؤد﷤ کی ’زبور‘ کے پینتالیسویں ’مزمور‘ پر مبنی ہیں۔اس میں نبیﷺ کو بنی آدم میں سب سے حسین قرار دیا گیا ہے اور آپﷺ کے دیگر اوصاف کا بھی تذکر ہے۔یہ کتاب ’’عبد الستار غوری ‘‘کا مایۂ ناز کتاب ہے اور مصنف نہایت منکسار ہیں اور آپ نے انگریزی میں بھی کتب لکھی ہیں اور کئی کتب کے مصنف ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال تاریخ تفسیر آیات و سور خطبات و محاضرات اور دروس زبان

خطبات سورہ کہف

خطبات سورہ کہف

 

مصنف : حافظ عبد الستار حامد

 

صفحات: 479

 

سورت کہف قرآن مجید کی 18 ویں سورت جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضر اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ سورت مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی جو انہوں نے نبی ﷺکا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصۂ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا، اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے ان کا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد ﷺ کے پاس کوئی غیبی ذریعۂ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اُس صورتحال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان درپیش تھی۔اس سورت کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے والے کے لئے دو جمعوں کے درمیانی عرصہ کے لئے روشنی رہتی ہے ۔ ( سنن بیہقی ص249 ج 3 ) زیر تبصرہ کتاب’’خطبات سورۃ کہف ‘‘ پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ کہف کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز نومبر1994ء میں کیا اور بیس خطبات یعنی پانچ ماہ میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃ کہف کی منفرد تفسیر ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 9
عرض حال 11
اسرار الہی ٰ 13
(1)سورہ کہف کےفضائل اورتعارف 17
تعارف سورۃ کہف 18
مضامین سورۃ کہف 19
شان نزول 20
سورۃ کہف کی فضیلت 24
قرآن کی فریاد 25
نورہی نور 26
فتنوں سےمحفوظ 27
دس دن کےگناہ معاف 28
شیطان کادخلہ بند 29
تاثیر سورۃ کہف 29
عزت والی آیت 30
بہترین وظیفہ 33
نبی اکر م ﷺ کو تسلی 34
زمین کی 37
(2)اصحاب الرقیم 39
رقیم کامعنی ومفہوم 40
غاروالوں کےمتعدد واقعات 41
اصحاب الرقیم 42
غار میں دعا 43
دوسرے کی دعا 46
تیسرے کی دعا 48
اصحاب کہف   نوجوان تھے 51
سات خوش قسمت اشخاص 53
اصحاب کہف  کی دعا 54
طلب رحمت 56
سورۃ کہف اورحمت 57
اصحاب کہف پر حمت 58
(3)اصحاب کہف کی استقامت 60
غار کہاں ہے 62
اصحاب کہف کامذہب 64
اصحاب کہف کےنام 66
اصحاب کہف کااجلاس 67
بادشاہ کےدربار میں 68
اصحاب کہف کی استقامت 71
اصحاب کہف کانعرہ توحید 70
ابن  حذافہ کی استقامت 72
ابن حذافہ کےآنسو 75
حضرت خبیب ؓ کی استقامت 77
قتل کافیصلہ 79
مقتل کی طرف روانگی 81
اصحاب کہف کی مہلت 84
اصحاب کہف کامشورہ 85
اصحاب کہف غارمین 85
اللہ کی نشانی 86
(4)اصحاب کہف غار میں 85
اصحاب کہف کی تلاش 89
غارکی دہشت 91
غار کےآئے دیواز 92
ہمددری وخیرخواہی 93
حضرت موسی ؓکاہمددر 94
اصحاب کہف کے ہمددر 96
اصحاب کہف کی نیند 97
اصحاب کہف کاکتا 98
ایک سوال اورجواب 99
شیریاکتا 101
صحبت کااثر 102
دقیانوسی حکومت کاخاتمہ 104
نیک بادشاہ کی دعا 105
حضرت ابراہیم کی دعا 106
غار کی دیوار گرانا 108
(5)اصحاب کہف کی بیداری 109
اصحاب کہف کی گفتگو 111
کھانا لاؤ 112
ایک ساتھی شہر میں 114
نان بائی کی دکان پر 116
یملیخا کی دعا 118
حاکمان شہر کےروبرو 120
وقیانوس کہاں گیا 122
اصحاب کہف کی پریشانی 123
حاکمان شہر کی آمد 124
بادشاہ کی آمد 125
بیدارسی کی وجہ تشہیر 127
قوم میں ختلاف 128
قبروں پر مسجد یں 129
بحث مباحثہ سےاجتناب 131
عبرتیں اورنصیحتیں 132
(6)انشاءاللہ 134
مشیت الہی ٰ 135
شان نزول 136
حضرت سلیمان ؑاور انشاءاللہ 137
جومنظور خداہوتاہے 139
تخلیق انسانیت 141
عزت ذلت اوررزق 143
ادائیگی قرض کاوظیفہ 144
ہر شخص بےبس ہے 146
انبیاء کرام اورمشیت الہی 150
حضرت اسماعیل ؑ اورانشاءاللہ 151
رسالت محمدی ﷺ کی دلیل 155
غار میں ٹھہرنےکی مدت 156
وحی کی تلاوت کاحکم 157
(7)صحابہ کرام  کی ہم نشینی 159
عظمت صحابہ ؓ 160
شان نزول 161
دورنہ ہٹائیں 163
انہیں سلام کہیں 165
گناہوں کی نیکیاں 166
تعریف اس خداکی 168
قوم نوح ؑ کااعتراض 170
رب کو پکارنا 173
حضر ت ابوبکر صدیق ؓ کی دعائیں 175
حضرت عمر ؓکی دعائیں 177
حضرت خولہؓ کی دعا 182
ظہار کاکفارہ 184
حضرت خولہ ؓکااحترام 185
نظریں دنیا  کی خواہش 188
زینت دینا کی خواہش 187
(8)ظالمین کی سزا 190
کافرون کوجواب 191
ہمیشہ حق بیان کرو 193
کفر سےمصالحت نہ کرو 194
آپ پریشان نہ ہوں 196
حق سےروکنے  کےلیے لالچ 198
آنحضرت اورتلاوت قرآن 199
تاثیر قرآن حکیم 201
ابوطالب سےشکایت 202
ابو طالب کامشورہ 204
نبی اکرم ﷺ کاجواب 204
ظالموں کی سزا 206
ظالم کون ہیں 207
مشرک 207
بدعتی 208
اللہ کی بات کوبدلنے والا 208
مساجد سےروکنے والا 210
اللہ پر افتراء باندھنےولا 211
حدود اللہ سے تجاوز کرنےوالا 212
حقوق العباد ادانہ کرنے والا 212
کسی پر زیادتی کرنے والا 213
نیکوں کی جزا 213
نقشہ جنت بزبان الفت 214
جنت کاسلام 215
اہل جنت کے قائد 217
(9)دوباغوں والے کاقصہ 219
مالدار اور غریب 221
حقیقت یاتمثیل 222
قصہ کی ابتداء 224
دوبھائیوں کی ملاقات 224
باغوں کی حالت 225
مال دار کی گفتگو 227
باغ میں داخلہ 228
شرک کی بدترین قسم 229
قیامت  کاانکار 230
عاص بن وائل سہمی 231
مومن کی گفتگو 232
ماشاءاللہ 233
امام مالککاتکیہ کلام 235
مومن کاحسن ظن 235
عذاب سےڈرو 236
باغ کی تباہی 237
صنعاء یمن کاایک باغ 238
کاش مہلت مل جائے 240
باغ کی تباہی 241
دونوں کاانجام 244
حاصل کلام 245
(10)دنیاکی مثال اورباقیات صالحات 246
عارضی اورفانی دنیا 248
انسانی زندگی کاعروج زوال 250
دھوکے کےسامان 253
انسان  کی مرغوب اشیاء 254
دنیا  کی زینت 256
الباقیات  الحصالحات 257
صدقہ جاریہ 257
نفع بخش علم 258
صالح اولاد 262
نیک بیٹیاں 263
جنت کاخزانہ 365
جنت کے پودے 267
العلی العظیم 269
دائمی نیکیوں کی فہرست 270
(11)قیامت حشراورنامہ اعمال 273
ربط آیات 274
پہاڑوں کی کیفیت 275
قیامت کاآنکھوں دیکھا حال 277
زمین کی حالت 280
یہ کام کب ہوگا 283
اب حشر بپاہوگا 286
ہائے افسوس 287
بارگاہ الہی میں حاضری 288
یہ بہت آسان ہے 288
قطار اندر قطار 291
یک صدی بیس صفیں 292
اشکال اوراس کاحل 294
خالی ہاتھ برہنہ جسم 295
سب سے پہلے لباس 299
نامہ اعمال 301
تحریر کابندوبست 303
(12)قصہ آدم ابلیس 307
ربط آیات 308
متکبر اول 309
تکبر کامعنی 310
قرآن اورقصہ آدم وابلیس 311
ابلیس اورسجد ہ آدم 213
ابلیس فرشتوں میں 314
سجدہ تعظیمی 316
سجد ہ تعظیمی کی حرمت 318
معنی ابلیس 320
ابلیس کی اولاد 321
ابلیس کی آدم دشمنی 324
طلب مہلت 325
شیطان کےنام اورکام 327
سلام سےروکنے والا 329
اللہ تعالی کی بےنیازی 331
معبود ان باطلہ کی بےبسی 334
مجرموں کاانجام 334
(13)قرآن کی مثال اور 338
ربط آیات 339
سورہ کہف اورذکر قرآن 340
منافقین کی مثال 342
انفاق فی سبیل اللہ کی مثال 343
کلمہ طیبہ کی مثال 345
کلمہ خبیثہ کی مثال 347
غیر اللہ کی بے بسی کی مثال 348
اللہ تعالی کےنور کی مثال 350
جھگڑالوانسان 351
حشر کےدن کاجھگڑا لو 353
اعضاء کی گواہی 354
علی ؓاورفاطمہؓ سےمکالمہ 357
ایمان میں رکاوٹ 358
توبہ کادرواز ہ بند 362
عذا ب کی دعا 362
عذاب نہ آنے کی وجوہات 363
(14)رسولوں کاکام اورظلم کاانجام 366
بعثت انبیاء کامقصد 337
کافرون کاجدال 339
بشرت کاجھگڑا 370
نزول قرآن پر جھگڑا 372
بشر کی رسالت پر جھگڑا 373
کفار کےمطالبات 374
حشرکےبارے میں جھگڑا 376
آیات کےاستہزاء 378
قرآن کےتین چیلنج 379
قیامت کامذاق 383
ظلم کی اقسام 385
آٹھ بڑے ظالم 385
مساجد سےروکنے والا 385
گواہی چھپانے والا 387
اللہ پر جھوت باندھنےوالا 388
آیات الہی کی جھٹلانے والا 391
جھوٹا مدعی نبوت 390
حق کی تکذیب کرنےوالا 392
آیات الہی سے اعراض کرنےوالا 393
رحمت اورمہلت 393
امم سابقہ کی ہلاکت 395
(15)قصہ موسی ؓ خضر 397
تمہید 398

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
MISC. Books Urdu

Ashaab Kahaf

Ashaab Kahaf
اصحاب کہف
Molana Abu Alkalam Azad مولاناابوالکلام آزاد
Small size file – (File Size: 2.52 MB)
High quality file – (File Size: 31.97 MB)
Categories
Islamic History

قصہ اصحاب الکہف و الرقیم از سر سید احمد خان

قصہ اصحاب الکہف و الرقیم

از سر سید احمد خان

Download from Scribd

Categories
Christianity History Islam Misc. Islamic Topics Mobile Apps Religion

A New Theory on Aṣḥāb al-kahf (“The Sleepers of the Cave”) Based on Evidence from the Dead Sea Scrolls (DSS) By Rashid Iqbal Malik

A New Theory on Aṣḥāb al-kahf
(“The Sleepers of the Cave”)
Based on Evidence from the Dead Sea Scrolls (DSS)
By Rashid Iqbal Malik
اصحاب الکہف کے موضوع پر کی گئی جدید ترین تحقیق
نبی کریم ﷺ پر لگائے گئے علمی الزامات کا 250 سال بعد علمی جواب
محقق: راشد اقبال ملک

In 2017, An Islamic Dead Sea Scrolls scholar, Rashid Iqbal, Pakistan, published a research paper in European Research Journal. This research for the first time, employed “Five-Pronged Juxtaposing” approach, i.e. references from Dead Sea Scrolls (DSS), Second Temple Judaism, early Christian history, the history of the Roman Empire and astounding connections found in the Qurʾān. The researcher challenged existing Christian tradition while closing on two objectives, Rashid wrote, “The motive for this study was twofold. First, to provide a succinct reply to the view of Gibbon about the Qurʾān and Muḥammad, as Gibbon wrote, “Nor has their [Aṣḥāb al-kahf] reputation been confined to the Christian world. This popular tale, which Mahomet might learn when he drove his camels to the fairs of Syria, is introduced, as a divine revelation, into the Qurʾān”. Secondly, to show that there is historical evidence, in the light of the recent discovery of DSS, that this story was exploited to help Christianity expand into pagan Europe at the time”. With this approach, the entwined interests of power players of early Christianity are deeply studied and analyzed to find out facts of this tradition. Therefore, this latest research totally negates existing Christian tradition. As per the latest findings, this youth were Essenes follower of Jesus who ran from fear of Pharisees and Sadducees from 34-70 CE instead of 251 CE. Rashid Iqbal says, “Once (Seven Sleepers of the Cave) Aṣḥāb al-kahf woke up, based on the Qurʾānic timeline of 309 years, it should have been probably between 339-400 CE, just after Trinitarianism had been accepted as the Roman state religion in 381 CE. That was the time when the Pauline Christian Roman Empire required evidence of resurrection that could give them theological ascendency and convince the pagan masses who must had been perplexed in choosing this new faith. This opportunity they found with this youth miracle happening in front of them somewhere between 339 and 400 CE. Probably, Christian clergy could not mess with the cave-youths’ resurrection date but once they saw the resurrection of the Essene youth they, being empowered, linked it with Decius’ persecution of 250 CE to dominate and own it. It would have been easy for the Roman hierarchy to fit the sleeping time of this youth with Decius’ persecution of 250CE in order to fully adopt this tradition and authenticate Christianity. It is probable that because of this resurrection, the whole of the pagan Roman Empire gradually turned to Christianity. It is the application of “Five-Pronged Juxtaposing” that reveals this and takes the timeline back to where it belongs, i.e. the Essenes. This is probably the reason that Christianity got involved with Aṣḥāb al-kahf as they made St Stephen the first martyr and James the Just a saint, making them martyrs of Christianity whereas there was no gossip of Christianity (as a religion) once they sacrificed their lives. This precisely fits the fabricated desire and supplications of Theodosius I who ruled from 347–95 CE instead of Theodosius II who ruled from 401–50 CE.”

 

Download Urdu Version from Archive
Download Urdu Version from Scribd
Install Ashab al Kahf latest Research from Playstore
Official Website of Rashid Iqbal