Categories
Islam اصول حدیث رشد علماء فقہ فقہاء محدثین

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 128

 

محترم قارئین کرام!اس وقت رُشد کا چوتھا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عصر حاضر میں علمی حلقوں میں اجتماعی اجتہاد کا کافی چرچا ہے اور راقم نے اس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پنجاب یونیورسٹی سے 2012ء میں مکمل کیا تھا۔ عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے مناہج اور اسالیب کیا ہوں گے؟ اس بارے اہل علم میں کافی ابحاث موجود ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اجتماعی اجتہاد، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ اجتماعی اجتہاد کا بہترین طریق کار شورائی اجتہاد ہے کہ جس میں علماء کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں ایک علمی رائے کا اظہار کیا جائے۔ اس مقالے میں اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نقطہ نظر کس حد تک کارآمد اور مفید ہے۔
دوسرا مقالہ ’’علم حدیث اور علم فقہ کا باہمی تعلق اور تقابل‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ علم حدیث اور علم فقہ دو مستقل علوم شمار ہوتے ہیں اور دونوں کی اپنی کتابیں، مصادر، موضوعات، مصطلحات، اصول، مقاصد، ماہرین فن، طبقات اور رجال کار ہیں۔ اس مقالہ میں بتلایا گیا ہے کہ علم حدیث کا مقصد روایت کی تحقیق ہے اور یہ محدثین کا میدان ہے اور علم فقہ کا مقصد روایت کا فہم ہے اور یہ فقہاء کا میدان ہے۔ روایت کی تحقیق میں اہل فن یعنی محدثین پر اعتماد کرنا چاہیے اور روایت کے فہم میں اہل فن یعنی فقہاء پر اعتماد کرنا چاہیے اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ جس طرح کسی محدث کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ فقیہ نہیں ہے، اسی طرح کسی فقیہ کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ محدث نہیں ہے۔ محدثین کسی روایت کے قطعی الثبوت یا ظنی الثبوت ہونے سے بحث کرتے ہیں اور فقہاء کسی روایت کے قطعی الدلالۃ یا ظنی الدلالۃ ہونے کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ تیسرا مقالہ ’’تحقیق حدیث میں عقلی درایتی اصولوں کا قیام: محدثین کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ حدیث کی تحقیق میں روایت اور درایت دو اہم اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ روایت کا تعلق سند اور درایت کا متن سے ہے۔ محدثین عظام نے حدیث کی تحقیق روایتاً اور درایتاً دونوں طرح سے کی ہے اگرچہ بعض معاصر اسکالرز کا یہ دعوی ہے کہ حدیث کی تحقیق روایتاً تو ہوئی ہے لیکن درایتاً نہیں ہوئی جبکہ مقالہ نگار کے نزدیک یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض معاصر اسکالرز حدیث کی تحقیق کے لیے جن درایتی اصولوں کو پیش کرتے ہیں وہ محدثین کے درایتی اصول نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک حدیث کے مردود ہونے کہ وجوہات وہی ہیں، جنہیں اصول حدیث کی کتابوں میں بیان کر دیا گیا ہے لیکن کسی حدیث کا خلاف قرآن یا خلاف عقل ہونا اس کے مردود ہونے کی وجہ تو نہیں البتہ علامات و قرائن میں سے ضرور ہے۔ پس ایسی احادیث جو کہ حدیث کی اُمہات الکتب میں نہ ہوں، اور وہ خلافِ قرآن ہوں یا خلافِ عقل ہوں تو وہ مردود ہوں گی لیکن ان کے مردود ہونے کہ وجہ ان کی سند کا مردود ہونا ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ معاصر درایتی فکر میں صحیح سند سے ثابت شدہ روایات یہاں تک کہ صحیحین کی روایات تک خلاف قرآن اور خلاف عقل ہونے کی وجہ سے مردود قرار پاتی ہیں لیکن ان کے خلاف قرآن ہونے سے مراد، روایت کا اسکالر کے فہم قرآن کے خلاف ہونا ہوتا ہے اور ان کے خلاف عقل سے مراد، تمام انسانوں کی عقل نہیں بلکہ اسکالر کی اپنی عقل کے خلاف ہونا ہوتا ہے لہٰذا اَمر واقعی یہی ہے کہ کوئی بھی ایسی حدیث کہ جسے محدثین نے صحیح قرار دیا ہو، کبھی بھی قرآن مجید یا عقل کے خلاف نہیں ہوتی ہے البتہ بعض ناقدین کو وہ خلاف قرآن یا خلاف عقل محسوس ہو سکتی ہے۔  چوتھا مقالہ ’’فقہاء اور ائمہ محدثین کا تصور اجماع: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ متقدمین اہل علم کے نزدیک الفاظ کی نسبت تصورات اور معانی کی زیادہ اہمیت تھی لہٰذا وہ کسی بھی تصور دین کی وضاحت میں اس کے لغوی معنی میں، عرفی معنی کو شامل کر کے اس کی وضاحت کر دیتے تھے لیکن متاخرین کا منہج یہ ہے کہ وہ منطق کے استعمال کے زیر اثر ہر مصطلح کی فنی تعریف کو جامع ومانع بنانے کے لیے شروط وقیود کے بیان میں پڑ جاتے ہیں اور پھر اس مصطلح کی درجن بھر تعریفات تیار کر کے ان میں سے ہر ایک پر اعتراضات کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی قائم کر دیتے ہیں۔ امام مالک ﷫ کا اجماع کا تصور یہ ہے کہ صحابہ کے زمانے سے اہل مدینہ کا جو عرف منقول چلا آ رہا ہے، وہ روایت ہونے کی وجہ سے حجت ہے جبکہ اہل مدینہ کے اجتہاد واستنباط کو امام مالک ﷫ اجماع کا درجہ نہیں دیتے ہیں۔ امام شافعی ﷫ کا کہنا یہ ہے کہ اجماع ضروریات دین میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات میں۔ اور امام صاحب کے نزدیک اجماعی مسائل سے مراد وہ مسائل ہیں کہ جن میں کسی عالم دین کا اختلاف کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ پانچ وقت کی نمازیں اور رمضان کے روزے وغیرہ۔ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری ﷭ کے نزدیک اجماع سے مراد اہل حق علماء کی جماعت کی معروف رائے ہے۔ اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ امام بخاری ﷫ کے نزدیک اجماع سے مراد منہج استدلال اور طریق استنباط میں اہل حق علماء کی عرفی رائے ہے۔  پانچواں مقالہ امریکی سیاہ فام مصنفہ اور سماجی کارکن بیل ہکس کی معروف کتاب ’’Feminism is for Everybody: Passionate Politics‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔ ہکس کی مذکورہ کتاب بنیادی طور پر ان مشکلات کے بیان پر مبنی ہے جن کا سامنا تحریک برائے حقوقِ نسواں، اس سے وابستہ خواتین، اور خصوصاً سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑا۔ ہکس کی کتاب اپنے موضوع پر صف اول کی بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے اور تحریک نسواں کے بنیادی خدوخال جاننے کے لیے ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب پر تبصرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک نسواں کی تحریک کا آغاز تو عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہوا تھا لیکن اب وہ مردوں سے نفرت کے اظہار کی ایک تحریک بن چکی ہے جو کہ ایک طرح کی انتہا پسندی ہی ہے۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سیرت فقہ محدثین نماز نماز جنازہ

سیرت امام احمد بن حنبل

سیرت امام احمد بن حنبل

 

مصنف : عبد الرشید عراقی

 

صفحات: 115

 

امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن حنبل ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں امام احمد بن حنبل ﷫ کے حالات زندگی ، اساتذہ، وتلامذہ کا تذکرہ ،ان کے دو رابتلاء کی تفصیل ، تصانیف اور ان کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل کا تعارف اور فقہ حنبلی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اً اظہار کیا ہے

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 5
نقش آغاز 9
تقریظ 14
تعارف 23
حیات امام احمد بن حنبل 
نام ونسب ولادت 25
بغداد ابتدائی تعلیم 26
رحلت وسفر شیوخ واساتذہ 27
ہثیم بن بشر ابوحازم واسطی  27
امام ابو یوسف  28
امام سفیان بن عیینہ  29
امام ابوداؤد طیالسی  30
امام عبدالرحمان بن مہدی  31
امام وکیع بن الجراح 32
امام یحییٰ بن سعید القطان  34
امام محمد بن ادریس شافعی  36
امام احمد  کی امام شافعی کےحلقہ درس میں شرکت 39
مجلس / تلامذہ / امام بخاری 40
امام مسلم  41
امام ابوداؤد  42
امام یحییٰ بن معین  44
اما ابوحاتم رازی  45
امام عبداللہ بن احمد بن محمد بن حنبل  46
بلاواسطہ تلامذہ 46
فضل وکمال /حافظہ /عدالت وثقاہت 47
نقد وتمیز مرجعیت ومقبولیت 47
 اخلاق وعادات /حلم /استغناء 48
زہد وورع /جودوسخا 49
تواضع وانکسار 49
عزت نشینی اتباع سنت 50
نظامت وپاکیزگی عبادت واعمال 51
حرف آخر 52
اہل علم کااعتراف 53
اما م صاحب کاعقیدہ 53
مرتکبین  کبائر مسئلہ خلافت 59
ازواج واولاد وفات 60
امام احمد بن حنبل  کادورابتلاء
ہارون الرشید اورمعتزلہ 62
مامون الرشید کاعہد خلافت 64
امام شافعی  کاخواب /معتصم باللہ 67
امام احمد  امتحان میں 68
واقعہ کی تفصیل امام احمد  کی زبان سے 70
امام صاحب ؓ کی رہائی 74
ابوالہیثم ؓ کےلیے  دعائے مغفرت 74
امام احمد  کاکارنامہ اوراس کاصلہ 75
امام علی بن مدینی  کااعتراف 76
مولانا ابوالکلام آزاد  77
معتصم کاانتقال /واثق  باللہ 83
المتوکل علی اللہ 85
امام احمد بن حنبل  المتوکل کےعہد میں 86
امام احمد بن حنبل  کاطغرائے امتیاز 89
تصانیف
مشہور تصانیف کاتعارف 90
کتاب الصلوۃ 90
کتاب الزہد /کتاب السنۃ /مسند 91
طاعۃ الرسول ﷺ 95
فقہ حنبلی
کیاامام احمد بن حنبل  فقیہ اورصاحب مذہب نہیں تھے 97
تقلید کی ابتداء کب ہوئی 98
فقہ وفتاوی میں امام احمد بن حنبل  کےاصول 99
نصوص /فتاوی صحابہ ؓ 100
اختلاف صحابہ ؓ کافیصلہ 100
حدیث مرسل اورحدیث ضعیف 100
قیاس 100
فقہ حنبلی کی خصوصیات 101
فقہ احمد کاامتیازی پہلو 102
فقہ حنبلی کےناقلین 102
ابوبکر خلال  /ابوالقاسم خرقی 103
غلام اخلال 103
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  اوران کے تلامذہ 104
مذہب حنبلی کافروغ واشاعت 104
ایک اورسبب 107
علامہ ابن اثیر  کی شہادت 107
مودوہ دور میں مذاہب اربعہ کےپیرو 108
مذہب حنبلی کےماضی کی تلافی ہوگئی 110

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل حدیث سنت عقیدہ و منہج

قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے

قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے

 

مصنف : حافظ زبیر علی زئی

 

صفحات: 22

تمام اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن اللہ تعالی کی کلام ہے اور مخلوق نہیں ہے۔قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ہے؟ اس بحث کا آغاز عباسی دور میں ہوا۔معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق ہے، کلام الہی نہیں ہے۔ان کے ہاں رسول اللہ پر معانی کا القاء ہوتا تھا اور آپ انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیتے تھے۔ مامون الرشید کے دور میں حکومت کا مسلک اعتزال تھا۔ لہذا یہ مسئلہ 827ء میں شدت اختیار کر گیا۔ اور علمائے اسلام سے جبراً یہ اقرار لیا گیا کہ قرآن کلام قدیم نہیں بلکہ مخلوق ہے۔ بہت سے علما نے انکار کر دیا اور قید وبند کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئے۔ امام احمد بن حنبل پر بھی اس سلسلے میں بڑے ظلم ڈھائے گئے لیکن وہ اپنے نظریے پر قائم رہے۔زیر تبصرہ مضمون ” قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے ” جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین حافظ زبیر علی زئی کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے مدلل گفتگو کرتے ہوئے اہل سنت والجماعت کے عقیدے کو ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید مخلوق نہیں ،بلکہ اللہ تعالی کا کلام ہے۔اس مضمون کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے ۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور رحمٰن کا عرش پر مستوی ہونا برحق ہے 3
ابو بکر صدیقؓ اور قرآن کریم 4
سورۃ روم کی ابتدائی آیات 4
امام مالک بن انس 5
فرقہ اشعریہ 14
قبر پرستوں کے امام 18
قوالی کی محفلیں 19
رقص و سماع 19

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 9

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 9

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 400

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مسند البصریین
حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓکی احادیث 9
حضرت عمران بن حصين ؓکی مرویات 28
حضرت  معاویہ بن حیدہ ؓکی مرویات 84
حضرت معاویہ بن حیدہ ؓکی مزید احادیث 95
ایک دیہاتی صحابی ؓکی حدیث 101
بنوتمیم کے ایک آدمی کی اپنے والد یا چچا سے روایت 101
حضرت سلمہ بن محبق ؓکی مرویات 102
حضرت معاویہ بن حیدہ ؓکی اور حدیث 105
حضرت ہرماس بن زیاد باہلی ؓکی حدیثیں 105
حضرت سعد بن اطول ؓکی حدیث 106
حضرت سمرہ بن جندب ؓکی مرویات 106
حضرت عرفجہ بن اسعد ؓکی احادیث 152
ابوالملیح کی اپنے والد صاحب سے روایتیں 154
ایک صحابی ؓکی روایت 155
متعدد صحابہ ؓ کی حدیثیں 156
حضرت معقل بن یسار ؓکی مرویات 157
حضرت قتادہ بن ملحان ؓکی حدیثیں 164
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 165
باہلہ کے ایک آدمی کی روایت 166
حضرت زہیربن عثمان ثقفی ؓکی حدیث 167
حضرت انس ؓ’’احد بنی کعب‘‘ کی حدیثیں 167
حضرت ابی بن مالک ؓکی حدیث 168
بنو خزاعہ کے ایک آدمی کی حدیث 168
حضرت مالک بن حارث ؓکی حدیث 169
حضرت عمرو بن سلمہ ؓکی حدیثیں 170
حضرت عداء بن خالد بن ہوذہ ؓکی حدیثیں 171
حضرت احمر ؓکی حدیث 173
حضرت صحار عبدی ؓکی حدیثیں 173
حضرت رافع بن عمرو مزنی ؓکی حدیثیں 174
حضرت محجن بن ادرع ؓکی حدیثیں 176
ایک انصاری صحابی ؓکی حدیث 178
ایک صحابی ؓکی حدیث 178
حضرت مرہ بہزی ؓکی حدیث 179
حضرت زائد یا مزیدہ بن حوالہ ؓکی حدیث 179
حضرت عبداللہ بن حوالہ ؓکی حدیثیں 180
حضرت جاریہ بن قدامہ ؓکی حدیثیں 181
ایک صحابی ؓکی روایت 182
حضرت قرہ مزنی ؓکی حدیثیں 183
حضرت مرہ بہزی ؓکی حدیث 185
حضرت ابوبکرہ نفیع بن حارث بن کلدہ ؓکی مرویات 186
حضرت علاء بن حضرمی ؓکی حدیثیں 232
ایک صحابی ؓکی حدیث 233
حضرت مالک بن حویرث ؓکی بقیہ حدیثیں 233
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی ؓکی مرویات 236
چند انصاری صحابہ ؓکی روایات 246
ایک صحابی ؓکی روایت 248
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 249
ایک اور صحابی ؓکی روایت 249
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 249
ایک صحابی ؓکی روایت 250
نبی ؑ کے پیچھے سواری پربیٹھنے والی صحابی ؓکی روایت 250
حضرت صعصعہ بن معاویہ ؓکی حدیثیں 251
حضرت میسرہ الفجر ؓکی حدیث 252
ایک صحابی ؓکی روایت 252
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 252
ایک صحابی ؓکی روایت 253
حضرت قبیصہ بن مخارق ؓکی حدیثیں 253
حضرت عتبہ بن غزوان ؓکی حدیثیں 256
حضرت قیس بن عاصم ؓکی حدیثیں 257
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓکی حدیثیں 258
حضرت جابر بن سلیم ہجیمی ؓکی حدیثیں 262
حضرت عائذ بن عمرو ؓکی حدیثیں 265
حضرت رافع بن عمرو مزنی ؓکی حدیث 268
ایک صحابی ؓکی روایت 269
حضرت حکم بن عمروغفاری ؓکی بقیہ حدیثیں 269
حضرت ابوعقرب ؓکی حدیثیں 272
حضرت حنظلہ بن حذیم ؓکی حدیث 274
حضرت ابوغادیہ ؓکی حدیث 276
حضرت مرثد بن ظبیان ؓکی حدیث 276
ایک صحابی ؓکی روایت 276
حضرت عروہ فقیمی ؓکی حدیث 277
حضرت اھبان بن صیفی ؓکی حدیثیں 278
حضرت عمرو بن تغلب ؓکی حدیثیں 279
حضرت جرموز ھجیمی ؓکی حدیث 281
حضرت حابس تمیمی ؓکی حدیثیں 281
ایک صحابی ؓکی حدیث 282
ایک صحابی ؓکی روایت 282
حضرت مجاشع بن مسعود ؓکی حدیث 283
حضرت عمرو بن سلمہ ؓکی حدیثیں 283
بنوسلیط کے ایک صحابی ؓکی روایت 284
نبی ؑ کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والے ایک صحابی کی روایت 285
ایک صحابی ؓکی روایت 286
ایک صحابی ؓکی روایت 286
حضرت قرہ بن دعموص النمیری ؓکی حدیث 286
حضرت طفیل بن سخبرہ ؓکی حدیث 287
حضرت ابوحرہ رقاشی کی اپنے چچا سے روایت 288
ایک خثعمی صحابی ؓکی حدیث 290
ایک صحابی ؓکی حدیث 291
قبیلہ قیس کے ایک صحابی ؓکی روایت 291
بنوسلمہ کے سلیم نامی ایک صحابی ؓکی روایت 292
حضرت اسامہ ہذلی ؓکی حدیثیں 293
حضرت نبیشہ ہذلی ؓکی حدیثیں 297
حضرت مخنف ؓکی حدیث 300
حضرت ابوزید انصاری ؓکی حدیثیں 301
حضرت نقادہ اسدی ؓکی حدیث 302
ایک صحابی ؓکی روایت 303
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 305
ایک انصاری صحابی ؓکی روایت 306
ایک صحابی ؓکی روایت 306
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 307
حضرت  ابوسود ؓکی حدیث 307
ایک صحابی ؓکی روایت 308
حضرت عبادہ بن قرط ؓکی حدیثیں 308
حضرت ابو رفاعہ ؓکی حدیث 309
حضرت جارود عبدی ؓکی حدیثیں 309
حضرت مہاجر بن قنفذ ؓکی حدیثیں 311
ایک صحابی ؓکی روایت 312
حضرت ابوعسیب ؓکی حدیثیں 313
حضرت خشخاش عنبری ؓکی حدیث 314
حضرت عبداللہ بن سرجس ؓکی حدیثیں 315
حضرت رجاء ؓ کی حدیثیں 318
حضرت بشیربن خصاصیہ ؓکی حدیثیں 319
حضرت اُم عطیہ ؓکی حدیثیں 321
حضرت جابر بن سمرہ ؓکی مرویات 326
حضرت خباب بن ارت ؓکی مرویات 385
حضرت ذی الغرہ ؓکی حدیث 395
حضرت ضمرہ بن سعد ؓکی حدیث 396
حضرت عمرو بن یثربی ؓکی حدیث 398

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 8

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 8

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 557

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
لمسند الکوفیین
حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓکی حدیثیں 11
حضرت کعب بن عجرہ ؓکی حدیثیں 17
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓکی حدیثیں 27
حضرت عدی بن حاتم طائی ؓکی حدیثیں 63
حضرت معن بن یزید سلمی  ؓکی حدیث 73
حضرت محمدبن حاطب ؓکی حدیثیں 73
ایک صحابی ؓکی روایت 75
ایک صحابی ؓکی روایت 75
حضرت سلمہ بن نعیم ؓکی حدیث 76
حضرت عامربن شہر ؓکی حدیثیں 76
بنو سلیم کے  ایک صحابی ؓکی  روایت 77
حضرت ابوجبیرہ بن ضحاک ؓکی حدیث 77
ایک صحابی ؓکی روایت 77
بنو اشجع کے ایک صحابی ؓکی روایت 78
حضرت اغرمزنی ؓکی  حدیثیں 78
ایک صحابی ؓکی روایت 79
ایک مہاجر صحابی ؓکی روایت 79
حضرت عرفجہ ؓکی حدیث 79
حضرت عمارہ بن  رویبہ ؓکی حدیثیں 80
حضرت عروہ بن مضرس طائی ؓکی حدیثیں 81
حضرت ابوحازم ؓکی حدیث 82
حضرت صفوان زہری ؓکی حدیثیں 83
حضرت سلیمان بن صرد ؓکی  حدیثیں 83
حضرت سلیمان  بن صرد اور  خالد بن عرفطہ ؓ کی اجتماعی حدیثیں 84
حضرت عمار بن یاسر ؓکی مرویات 85
حضرت عبداللہ  بن ثابت ؓکی حدیث 94
حضرت عیاض بن  حمار ؓکی حدیثیں 95
حضرت حنظلہ کاتب اسیدی ؓکی حدیث 97
حضرت نعمان بن بشیر ؓکی مرویات 98
حضرت اسامہ بن شریک ؓکی حدیثیں 131
حضرت عمرو بن حارث  بن مصطلق ؓکی حدیثیں 132
حضرت حارث بن  ضرار خزاعی ؓکی حدیث 133
حضرت جراح ؓاور  ابوسنان اشجعی  ؓکی حدیثیں 135
حضرت قیس  بن ابی خرزہ ؓکی حدیث 137
حضرت براء بن عازب ؓکی مرویات 138
حضرت ابوالسنابل بن بعکک ؓکی حدیثیں 212
حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء زھری ؓکی  حدیثیں 213
حضرت ابو ثور فہمی ؓکی حدیث 214
حضرت حرملہ عنبری ؓکی حدیث 214
حضرت نبیط بن شریط ؓکی حدیثیں 215
حضرت ابوکابل ؓکی حدیث 216
حضرت  حارثہ بن وہب ؓکی  حدیثیں 217
حضرت عمرو بن حریث ؓکی حدیثیں 218
حضرت سعید بن حریث ؓکی حدیثیں 219
حضرت عبداللہ بن یزید انصاری ؓکی حدیثیں 220
حضرت ابوحجیفہ ؓکی حدیثیں 220
حضرت عبدالرحمن بن یعمر ؓکی حدیثیں 227
حضرت عطیہ قرظی ؓکی حدیث 228
بنو ثقیف کی ایک صحابی ؓکی روایت 228
حضرت صخر بن عیلہ ؓکی حدیث 229
حضرت ابوامیہ فزاری ؓکی حدیث 229
حضرت عبداللہ بن عکیم ؓکی  حدیث 230
حضرت طارق بن سوید ؓکی حدیث 231
حضرت خداش  ابوسلامہ ؓکی  حدیثیں 232
حضرت ضرار بن ازور ؓکی حدیث 233
حضرت دحیہ کلبی ؓکی حدیث 233
ایک صحابی ؓکی حدیث 233
حضرت جندب ؓکی حدیثیں 234
حضرت سلمہ بن قیس ؓکی حدیث 239
ایک صحابی ؓکی حدیثیں 240
حضرت طارق بن شہاب ؓکی حدیثیں 242
ایک صحابی ؓکی روایت 244
زکواۃ وصول کرنے والے ایک صحابی ؓکی وایت 245
حضرت وائل بن حجر ؓکی مرویات 245
حضرت عمار بن یاسر ؓکی حدیثیں 256
چند صحابہ ؓ کی روایت 262
حضرت کعب بن  مرہ  بہزی ؓکی حدیثیں 262
حضرت خریم بن فاتک ؓکی حدیثیں 263
حضرت قطبہ بن مالک ؓکی حدیث 265
بکر بن وائل  کے ایک آدمی کی روایت 265
حضرت ضرار بن ازور ؓکی حدیث 266
حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓکی  حدیث 266
حضرت مسور بن مخرمہ ؓاور  مروان بن حکم کی مرویات 267
حضرت صہیب بن سنان ؓکی  حدیثیں 295
حضرت ناجیہ خزاعی ؓکی حدیث 301
حضرت فراسی ؓکی حدیث 301
حضرت ابوموسی غافقی ؓکی حدیث 302
حضرت ابوالعشراء  دارمی کی اپنے والد سے روایت 302
حضرت عبداللہ بن ابی حبیبہ ؓکی حدیثیں 303
حضرت عبدالرحمن  بن یعمر ؓکی  حدیث 304
حضرت بشر بن سحیم ؓکی حدیثیں 304
حضرت خالد عدوانی ؓکی حدیث 305
حضرت عامر بن مسعود جمحی ؓکی حدیث 306
حضرت کیسان ؓکی حدیث 306
حضرت جد زہرہ بن معبد ؓکی  حدیث 307
حضرت نضلہ بن  عمرو ؓکی حدیث 307
حضرت امیہ بن مخشی ؓکی حدیث 308
حضرت عبداللہ بن ربیعہ سلمی ؓکی حدیث 308
حضرت فرات بن حیان عجلی ؓکی حدیث 309
حضرت حذیم بن عمرو سعدی ؓکی حدیث 309
نبی ؑ کے ایک خادم کی حدیث 310
حضرت ابن  ادرع ؓکی حدیث 311
حضرت نافع بن عتبہ بن ابی وقاص ؓکی  حدیثیں 312
حضرت محجن بن ادرع ؓکی حدیثیں 313
حضرت محجن بن ادرع ؓکی ایک اور حدیث 315
حضرت ضمرہ بن ثعلبہ ؓکی حدیث 315
حضرت ضرار بن ازور ؓکی  حدیثیں 316
حضرت جعدہ ؓکی حدیث 316
حضرت علاء بن  حضرمی ؓکی حدیثیں 317
حضرت سلمہ بن قیس اشجعی ؓکی  حدیثیں 317
حضرت رفاعہ بن رافع زرقی ؓکی حدیثیں 318
حضرت رافع بن رفاعہ ؓکی حدیث 321
حضرت عرفجہ بن شریح ؓکی حدیث 322
حضرت عویمر بن  الشقر ؓکی  حدیث 322
قریظہ کے دو بیٹوں کی حدیث 323
حضرت حصین بن محصن ؓکی حدیث 323
حضرت ربیعہ بن عباد دیلی ؓکی حدیثیں 323
حضرت عرفجہ بن  اسعد ؓکی حدیث 325
حضرت عبداللہ بن سعد ؓکی حدیث 325
حضرت عبیداللہ بن اسلم ؓ ؓکی حدیث 326
حضرت ماعز ؓکی حدیث 326
حضرت احمر بن جزء ؓکی حدیث 327
حضرت عتبان بن مالک  انصاری ؓکی حدیث 327
حضرت سنان بن سنہ ؓکی حدیث 327
حضرت عبداللہ بن مالک اوسی ؓکی حدیثیں 328
حضرت حارث بن  مالک  بن برصاء ؓکی حدیثیں 329
حضرت اوس بن حذیفہ ؓکی حدیث 329
حضرت بیاض ؓکی حدیث 330
حضرت ابواروی ؓکی حدیث 331
حضرت فضالہ لیثی ؓکی حدیث 331
حضرت مالک بن حارث ؓکی حدیثیں 331
حضرت ابی بن مالک ؓکی حدیث 332
حضرت مالک بن عمرو قشیری ؓکی حدیث 333
حضرت خشخاش عنبری ؓکی حدیث 333
حضرت ابووہب جثمی ؓکی حدیثیں 334
حضرت مہاجر قنفذ ؓکی حدیث 334
حضرت خریم بن فاتک اسدی ؓکی حدیثیں 335
حضرت ابوسعید بن زید ؓکی حدیث 337
نبی ؑ کے مؤذن کی حدیث 337
حضرت حنظلہ کاتب ؓکی بقیہ حدیثیں 338
حضرت انس بن مالک ؓنام کے ایک اور صحابی کی حدیثیں 339
حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ؓکی حدیث 340
حضرت ابوعقرب ؓکی حدیث 341
حضرت عمرو بن عبیداللہ ؓکی حدیث 341
حضرت یزداد بن فساء ہ ؓکی حدیث 341
حضرت ابولیلی  ابو عبدالرحمن  بن ابی لیلی ؓکی حدیثیں 342
حضرت ابوعبداللہ صنا بحی ؓکی حدیث 344
حضرت ابورہم غفاری ؓکی حدیث 347
حضرت عبداللہ بن قرط ؓکی حدیث 349
حضرت عبداللہ بن حجش ؓکی حدیثیں 350
حضرت عبدالرحمن بن ازہر ؓکی حدیثیں 350
حضرت  صنابحی احمسی ؓکی حدیثیں 352
حضرت اسیدبن حضیر ؓکی حدیثیں 353
حضرت سوید بن قیس ؓکی حدیثیں 355
حضرت جابر احمسی ؓکی حدیثیں 356
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓکی مرویات 357
حضرت جریر بن  عبداللہ ؓکی مرویات 370
حضرت زید بن ارقم ؓکی مرویات 398
حضرت نعمان بن بشیر ؓکی بقیہ مرویات 424
حضرت عروہ بن ابی الجعد بارقی ؓکی حدیثیں 425
حضرت عدی بن حاتم ؓکی  بقیہ مرویات 429
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓکی مرویات 440
حضرت ابوقتادہ انصاری ؓکی حدیثیں 449
حضرت عطیہ قرظی ؓکی حدیث 450
حضرت عقبہ بن حارث ؓکی مرویات 451
حضرت ابونجیح سلمی ؓکی حدیث 452
حضرت صخر غامدی ؓکی بقیہ حدیث 453
حضرت سفیان ثقفی ؓکی حدیث 454
حضرت عمرو بن عبسہ ؓکی  مرویات 454
حضرت محمد بن صیفی ؓکی حدیث 463
حضرت یزید بن ثابت ؓکی حدیثیں 464
حضرت شرید بن سوید  ثقفی ؓکی مرویات 465
حضرت مجمع بن جاریہ  انصاری ؓکی حدیث 471
حضرت صخر غامدی ؓکی حدیثیں 471
حضرت ابوموسی اشعری ؓکی مرویات 473

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث روح

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 6

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 6

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

صفحات: 918

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
مسند جابر ؓ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓکی مرویات

19
مسند المکین  
حضرت صفوان بن امیہ الجمحی ؓکی مرویات 351
حضرت حکیم بن حزام ؓکی مرویات 355
حضرت ہشام بن حکیم   بن حزام ؓکی مرویات 360
حضرت سہرہ بن معبد ؓکی مرویات 363
حضرت عبدالرحمن بن ابزی الخزاعی ؓکی مرویات 368
حضرت نافع بن عبدالحارث ؓکی مرویات 373
حضرت ابو محذورہ ؓکی مرویات 375
حضرت شیبہ بن عثمان ؓکی مرویات 379
حضرت ابوالحکم یا حکم بن سفیان ؓکی حدیثیں 379
حضرت عثمان بن طلحہ ؓکی حدیثیں 380
حضرت عبداللہ بن سائب ؓکی حدیثیں 381
حضرت عبداللہ بن حبشی ؓکی حدیث 384
حضرت جد ا سماعیل بن امیہ ؓکی حدیثیں 385
حضرت حارث بن برصاء ؓکی حدیثیں 386
حضرت مطیع بن اسود ؓکی حدیثیں 386
حضرت قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓکی حدیثیں 387
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓکی حدیثیں 389
ایک صاحب کی اپنے والد سے روایت 390
ایک صحابی ؓکی روایت 391
ایک صحابی ؓکی روایت 391
ایک صحابی ؓکی روایت 391
ایک صحابی ؓکی روایت 392
حضرت کلدہ بن حنبل ؓکی روایت 392
نبی اکرم ﷺ کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والے صحابی کی روایت 393
حضرت بشر بن سحیم ؓکی حدیثیں 395
حضرت اسود بن خلف ؓکی حدیث 396
حضرت ابوکلیب کی حدیث 396
نبی اکرم ﷺ کے منادی کو سننے والے کی روایت 396
قریش کے ایک سردار کی روایت 397
جد عکرمہ بن خالد مخزومی ؓکی روایت 397
حضرت ابو طریف ؓکی حدیث 398
حضرت صخر غامدی ؓکی حدیث 398
ابوبکر بن ابی زہیر کی اپنے والد سے روایت 398
حضرت حارث بن عبداللہ بن اوس ؓکی حدیثیں 399
حضرت صخر غامدی ؓکی حدیث 400
حضرت ایاس بن عبد ؓکی حدیث 400
حضرت کیسان ؓکی حدیثیں 401
حضرت ارقم بن ابی الارقم ؓکی حدیث 402
حضرت ابن عابس ؓکی حدیث 402
حضرت ابوعمرہ انصاری ؓکی حدیث 402
حضرت عمیربن سلمہ ضمری ؓکی روایت 404
حضرت محمد بن حاطب   جمحی ؓکی حدیثیں 404
حضرت ابویزید ؓکی حدیث 406
حضرت کردم بن سفیان ؓکی حدیث 406
حضرت عبداللہ مزنی ؓکی حدیث 407
حضرت ابوسلیط بدری ؓکی حدیث 407
حضرت عبدالرحمٰن بن خنبش ؓکی حدیثیں 407
حضرت ابن عبس ؓکی حدیث 409
حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ؓکی حدیث 409
حضرت مطلب بن ابی وداعہ ؓکی حدیثیں 410
حضرت مجمع بن جاریہ ؓکی حدیثیں 410
حضرت جبار بن صخر ؓکی حدیث 412
حضرت ابوخزامہ ؓکی حدیث 413
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ؓکی حدیثیں 414
حضرت وہب بن حذیفہ ؓکی حدیثیں 417
حضرت عویم بن ساعدہ ؓکی حدیث 417
حضرت قہید بن مطرف غفاری ؓکی حدیث 418
حضرت عمرو بن یثربی ؓکی حدیث 418
حضرت ابن ابی حدرد اسلمی ؓکی حدیث 419
حضرت عمرو بن اُم مکتوم ؓکی حدیثیں 420
حضرت عبداللہ زرقی ؓکی حدیث 421
ایک صحابی ؓکی روایت 422
جد ابوالاشد سلمی ؓکی حدیثیں 422
حضرت عبید بن خالد ؓکی حدیثیں 423
حضرت ابوالجعد ضمری ؓکی حدیث 423
ایک صحابی ؓکی حدیثیں 424
حضرت سائب بن عبداللہ ؓکی حدیثیں 425
حضرت سائب بن خباب ؓکی حدیث 427
حضرت عمرو بن احوص ؓکی حدیث 428
حضرت رافع بن عمرو مزنی ؓکی حدیث 428
حضرت معیقیب ؓکی حدیثیں 428
حضرت محرش کعبی خزاعی ؓکی حدیثیں 429
حضرت ابوحازم ؓکی حدیثیں 430
حضرت محرش کعبی ؓکی بقیہ حدیث 431
حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو انصاری ؓکی حدیثیں 431
حضرت ابوفاطمہ ؓکی حدیثیں 433
حضرت عبدالرحمٰن بن شبل ؓکی حدیثیں 434
حضرت عامر بن شہر ؓکی حدیث 436
حضرت معاویہ لیثی ؓکیروایت 436
حضرت معاویہ بن جاھمہ سلمی ؓکی حدیث 437
حضرت ابوعزہ ؓکی حدیث 437
حضرت حارث بن زیاد ؓکی حدیث 438
حضرت شکل بن حمید ؓکی حدیث 438
حضرت طخفہ بن قیس غفاری ؓکی حدیثیں 439
حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر بدری ؓکی حدیثیں 440
حضرت عمرو بن جموح ؓکی حدیث 441
حضرت عبدالرحمٰن بن صفوان ؓکی حدیثیں 442
وفد عبدالقیس ؓ کی حدیث 443
حضرت نصر بن دھر ؓکی حدیثیں 444
حضرت صخر غامدی ؓکی احادیث کا تتمہ 445
وفد عبدالقیس ؓ کی بقیہ حدیث 446
حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓکی حدیثیں 448
حضرت حکیم بن حزام ؓکی حدیثیں 451
حضرت معاویہ بن قرہ ؓکی اپنے والد سے مروی حدیثیں 453
حضرت ابوایاس ؓکی حدیثیں 454
حضرت اسود بن سریع ؓکی حدیثیں 454
حضرت معاویہ بن قرہ ؓکی بقیہ احادیث 457
حضرت مالک بن حویرث ؓکی حدیثیں 459
حضرت ہبیب بن مغفل غفاری ؓکی حدیثیں 461
حضرت ابوبردہ بن قیس ؓکی حدیث 462
حضرت معاذ بن انس جہنی ؓکی حدیثیں 462
ایک صحابی ؓکی روایت 473
ایک صحابی ؓکی روایت 474
حضرت ولید بن عبادہ ؓکی حدیث 474
تنوخی کی روایت 475
حضرت قثم یا تمام ؓکی حدیث 478
حضرت حسان بن ثابت ؓکی حدیث 478
حضرت بشر یا بسر ؓکی حدیث 479
حضرت سوید انصاری ؓکی حدیث 479
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی قراد ؓکی حدیثیں 479
نبی ؑ کے ایک آزاد کردہ غلام صحابی ؓکی حدیث 480
حضرت معاویہ بن حکم ؓکی حدیث 481
حضرت ابوہاشم بن عتبہ ؓکی حدیث 481
حضرت عبدالرحمٰن بن شبل ؓکی حدیثیں 482
حضرت عامر بن ربیعہ ؓکی حدیثیں 484
حضرت عبداللہ بن عامر ؓکی حدیث 492
حضرت سوید بن مقرن ؓکی حدیثیں 492
حضرت ابوحدرد اسلمی ؓکی حدیث 493
حضرت مہران ؓکی حدیث 494
ایک اسلمی صحابی ؓکی روایت 494
حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓکی حدیثیں 495
حضرت عصام مزنی ؓکی حدیث 496
حضرت سائب بن یزید ؓکی حدیثیں 496
حضرت ابوسعید بن معلیٰ ؓکی حدیث 500
حضرت حجاج بن عمرو انصاری ؓکی حدیث 501
حضرت ابوسعید زرقی ؓکی حدیث 501
حضرت حجاج اسلمی ؓکی حدیث 502
ایک صحابی ؓکی روایت 502
حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓکی حدیث 502
حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓکی حدیثیں 503
حضرت سہیل بن بیضاء ؓکی حدیث 503
حضرت عقیل بن ابی طالب ؓکی حدیث 504
حضرت فروہ بن مسیک ؓکی حدیث 505
ایک انصاری صحابی ؓکی روایت 505
قبیلہ بہز کے ایک صحابی ؓکی روایت 506
حضرت ضحاک بن سفیان ؓکی حدیثیں 506
حضرت ابولبابہ ؓکی حدیثیں 508
حضرت ضحاک بن قیس ؓکی حدیث 509
حضرت ابو صرمہ ؓکی حدیثیں 510
حضرت عبدالرحمٰن بن عثمان ؓکی حدیث 511
حضرت معمر بن عبداللہ ؓکی حدیثیں 511
حضرت عویمر بن اشقر ؓکی حدیث 512
جد خبیب ؓکی حدیث 512
حضرت کعب بن مالک انصاری ؓکی مرویات 513
حضرت سوید بن نعمان ؓکی حدیث 536
ایک صحابی ؓ  کی روایت 537
حضرت رافع بن خدیج ؓکی مرویات 538
حضرت ابوبردہ بن نیار ؓکی حدیثیں 547
حضرت ابوسعید بن ابی فضالہ ؓکی حدیث 549
حضرت سہیل بن بیضاء ؓکی حدیث 549
حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش ؓکی حدیث 550
حضرت سعید بن حریث ؓکی حدیث 551
حضرت حوشب ؓکی حدیث 551
حضرت جندب بن مکیث ؓکی حدیث 552
حضرت سوید بن ہبیرہ ؓکی حدیث 554
حضرت ہشام بن حکیم ؓکی حدیث 555
حضرت مجاشع بن مسعود ؓکی حدیث 555
حضرت بلال بن حارث مزنی ؓکی حدیثیں 556
حضرت حبہ اور سواء ؓ کی حدیثیں 557
حضرت عبداللہ بن ابی الجدعاء ؓکی حدیث 558
حضرت عبادہ بن قرط ؓکی حدیث 559
حضرت معن بن یزید سلمی ؓکی حدیثیں 559
حضرت عبداللہ بن ثابت ؓکی حدیث 561
ایک جہنی صحابی ؓکی روایت 562
حضرت نمیر خزاعی ؓکی حدیثیں 562
حضرت جعدہ ؓکی حدیثیں 563
حضرت محمد بن صفوان ؓکی حدیثیں 564
حضرت ابو روح کلاعی ؓکی حدیثیں 564
حضرت طارق بن اشیم اشجعی ؓکی حدیثیں 565
عبداللہ یشکری ؓکی ایک صحابی ؓسے روایت 567
ایک صحابی ؓکی روایت 569
حضرت مالک بن نضلہ ؓکی حدیثیں 569
ایک صحابی ؓکی روایت 572
ایک صحابی ؓکی روایت 572
ایک صحابی ؓکی روایت 572
ایک صحابی ؓکی روایت 573
ایک بدری صحابی ؓکی روایت 573
حضرت معقل بن سنان ؓکی حدیث 574
حضرت عمرو بن سلمہ ؓکی حدیث 574
ایک صحابی ؓکی روایت 575
ایک صحابی ؓکی روایت 575
حضرت ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ ؓکی حدیث 577
حضرت معبد بن ہوذہ انصاری ؓکی حدیث 578
حضرت سلمہ بن محبق ؓکی حدیثیں 578
حضرت قبیصہ بن مخارق ؓکی حدیثیں 580
حضرت کرز بن علقمہ خزاعی ؓکی حدیثیں 581
حضرت عامر مزنی ؓکی حدیث 583
حضرت ابوالمعلیٰ ؓکی حدیث 583
حضرت سلمہ بن یزید جعفی ؓکی حدیث 584
حضرت عاصم بن عمر ؓکی حدیث 585
ایک صحابی ؓکی روایت 585
حضرت جرہد اسلمی ؓکی حدیثیں 585
حضرت لجلاج ؓکی حدیث 587
حضرت ابوعبس ؓکی حدیث 588
ایک دیہاتی صحابی ؓکی روایت 589
ایک صحابی ؓکی روایت 589
حضرت مجمع بن یزید ؓکی حدیثیں 589
ایک صحابی ؓکی روایت 590
ایک صحابی ؓکی روایت 591
حضرت معقل بن سنان اشجعی ؓکی حدیثیں 591
بھیسہ کے والد صاحب ؓکی حدیثیں 592
حضرت رسیم ؓکی حدیثیں 593
حضرت عبیدہ بن عمرو ؓکی حدیث 594

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 5

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 5

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 890

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

عناوین صفحہ نمبر
حضرت ابو سعید خدری ؓکی مرویات 3

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 4

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 4

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 962

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
حضرت ابو ہریرہ ؓکی مرویات 3

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
30.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 3

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 3

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 705

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حضرت عبداللہ بن عمر ؓکی مرویات 3
حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص ؓ کی مرویات 495
حضرت ابو رمثہ ؓکی مرویات 696

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
20.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تراجم حدیث

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 2

مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 2

 

مصنف : امام احمد بن حنبل

 

صفحات: 780

 

زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل ؒ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی مرویات 3
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓکی مرویات 496

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
25.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز