Categories
Islam اعمال تجوید وقراءات زبان قراء

شرح طیبۃ النشر

شرح طیبۃ النشر

 

مصنف : قاری محمد ادریس العاصم

 

صفحات: 538

 

قرآن مجید نبی کریم پر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے۔آپﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی ، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتبِ احادیث میں اسناد احادیث کی طرح مختلف قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں ۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم ِقراءات کے موضو ع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔زیر نظر کتاب قراءات کے مشہور ومعروف امام محمد بن محمد الجزری﷫ کی کتاب طیبۃ النشر کی اردو زبان میں تفہیم وشرح ہے ۔علامہ جزری ﷫ نے اپنی اس کتاب میں الشاطبیہ اور الدرۃ سے زائدوجوہ اور قراءات کو اختصارکےساتھ جمع فرمادیا ہے۔ طیبۃ النشر کے شارح استاد القراء والجودین الشیخ ا لمقری محمد ادریس العاصم﷾ نے اس میں بہت تسہیلی انداز کو اختیارکیا ہے۔ شرح کی تیاری میں شاطبیہ اور درہ کی بہت سے شروحات سے استفادہ کرتے ہوئے انہوں نے کوشش کی ہےکہ اس میں کوئی علمی نکتہ یاپہلو تشنہ نہ رہے، اور بات بہت زیادہ طویل بھی نہ ہونےپائے ۔قاری صاحب نے طلباء کی سہولت کی خاطر ترجمہ میں ایسا انداز اختیار کیا ہے، جو شعروں کوحل کرنے اوران سے قراءات اخذ کرنے میں آسان ترین ہے ۔ موصوف قاری صاحب ماشاء اللہ اس کتاب کے علاوہ بھی تجوید وقراءات کے موضوع پر متعدد کتب کے مصنف اور معروف قراء کے استاد ہیں۔ دورِ حاضر میں تجوید قراءات کےمیدان میں ان کی نمایاں خدمات ہیں اور ان کی کتب مدارس وجامعات میں شامل نصاب ہیں۔ اللہ تعالی خدمت قرآن میں ان کی جہودکوشرف قبولیت سے نوازے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض شارح 3
مقدمہ 6
باب استعاذہ 48
باب بسملہ 50
سورہ ام القرآن 53
باب ادغام الکبیر 60
باب ھاء الکنایہ 79
باب مد و قصر 86
باب ہمزتین 109
باب ہمزہ مفرد 112
باب وقف ہمزہ 130
فصل دال قد 144
باب حروف قربت 149
باب اللامات 196
باب فرش الحروف 240
سورہ البقرہ 240
سورہ العمران 284
سورہ النساء 298
سورہ المائدہ 309
سورہ الانعام 314
سورہ الاعراف 332
سورہ الانفال 346
سورہ التوبہ 351
سورہ یونس 356
سورہ ہود 361
سورہ یوسف 369
سورہ الرعد 374
سورہ النحل 381
سورہ الاسراء 384
سورہ الکہف 392
سورہ مریم 400
سورہ طہ 404
سورہ الانبیاء 412
سورہ الحج والمومنون 415
سورہ النور و الفرقان 424
سورہ الشعراء 432
سورہ العنکبوت والروم 442
سورہ لقمان و سورہ یس 446
سورہ الصافات 463
سورہ ص سے سورہ الاحقاف تک 466
سورہ الحجرات سے سورہ الرحمن تک 488
سورہ واقعہ سے سورہ التعابن 494
سورہ التغابن سے سورہ الانسان تک 402
سورہ الانسان سے سورہ المرسلات تک 510
سورہ النباء سے سورہ التطفیف تک 517
سورہ الشمس سے آخر القرآن تک 528
باب التکبیر 528
خاتمہ 532
فہرست مضامین 535

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
16.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam بدعت زبان سنت عقیدہ و منہج علماء نبوت نماز

شرح السنہ

شرح السنہ

 

مصنف : امام محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری

صفحات: 543

 

کلمہ توحید کا اقرار کر لینے کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت عقیدہ ومنہج کی درستگی پر ہے۔ اگر عقیدہ ومنہج میں کوئی ذرا سی بھی اونچ نیچ ہو تو وہ بڑے سے بڑے عمل کو رائیگاں کرنے کا باعث بن جاتی ہے اور عقیدہ کی درستگی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی پہاڑ جیسا بنانے میں معاون ہوتی ہے۔عصر حاضر میں مختلف میدانوں میں مسلم ممالک کے خلاف عموماً حرمین شریفین کے خلاف خصوصاً کچھ ایسی سازشیں اور بڑے منصوبے رچے جا رہے ہیں جن میں سے کچھ سازشوں کا تعلق عقیدہ وسلوک سے ہے اور کچھ کا تعلق کتاب وسنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر کسی اور چیز پر اعتماد کرنے سے ہے اور حالت تو یہ ہے کہ ملحدانہ لہریں اللہ کےمقام پر ترید کرنے تک پہنچ چکے ہیں اور یہ لہریں وجود الٰہی کا انکار کرنے‘ اس کا مستحق عبادت نہ ہونے اور عصر حاضر میں اس کے دین کے فیصلہ سازی کی صلاحیت مفقود ہونے پر نوجوانوں کو تربیت دے رہی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ شرح السنہ‘‘ میں بھی اصل عقائد کو مختصر بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اصلا عربی زبان میں ہے جس کا سلیس اور سہل ترجمہ پیش کیا گیا ہے اور ترجمے کے ساتھ ساتھ تشریح کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں باطل فرقوں کا رد بھی کیا گیا ہے۔ کتاب کی ترتیب اور اس کا اسلوب نہایت اعلیٰ ہے مگر اس میں کچھ نقص بھی ہیں کہ یہ کتاب نہ تو عربی میں مکمل شرح کے ساتھ ہے اور نہ ہی مترجم نے اسے اصل کتاب سے توازن کر کے مکمل کیا ہے یہ پوری کتاب کے 172 نکات میں سے صرف 9 نکات کی شرح ہے اور مترجم نے ویسے ہی ترجمہ کر دیا ہے۔ اور حدیث کا حوالہ صرف ’کما جاء فی الحدیث‘‘ کی عبارت سے دیا گیا ہے اور حدیث کی کتاب اور اصل عبارت کو بیان نہیں کیا گیااور  کئی اہم نکات سے تعرض کیے بغیر گزر جاتے ہیں۔لیکن پھر بھی اس کی تکمیل کے لیے مصنف نے پہلے مصنف سے رہ گئی تخریج کو بھی مکمل کیا ہے اور وہی نسخہ اور اسلوب اپنایا ہے۔شرح کو عنوان بھی دیا ہے۔یہ کتاب ’لامام ابی محمد الحسن بن علی بن خلف البرنہاری‘ کی تالیف کا ترجمہ ’شفیق الرحمان الدراوی‘ نے کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 19
حدیث شارح 21
شکروتقدیر 25
عقیدہ کالغوی اوراصطلاحی مفہوم 26
عقیدہ کالغوی مفہوم 26
عقیدہ کااصطلاحی مفہوم 26
اہل سنت کامفہوم 26
جماعت کالغوی مفہوم 26
اصطلاحی مفہوم 27
عقیدہ اہل سنت والجماعت کےبنیادی اصول 28
منصف کےحالات زندگی 33
طلب علم اورمشائخ 33
علمی منزلت 33
زہدوتقوی 34
اہل بدعت کےخلاف موقف 34
آپ کےشاگرد 34
آزمائش وامتحان 35
وفات 35
مقدمہ 36
حمد کاحقیقی مستحق کون ہے؟ 36
رب العالمین کامعنی 37
اسلام کی نعمت 37
بہترین امت ہونےکاسبب 38
اسلام اورسنت 39
سنت کامعنی اوراطلاق 40
سنت کےاصطلاحی معانی 42
جماعت کی اہمیت 43
جماعت کو لازم پکڑنےکےدلائل 44
جماعت کےبنیادی اصول 44
تفرقہ بازی کی مذمت 46
جماعت سےکیامراد ہے ؟ 46
جماعت کامعنی 49
جماعت کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ 49
اہل سنت والجماعت کامنہج 51
بدعت کی حقیقت اورانجام 52
گمراہی کاعذرباقی نہیں 54
صرف گمان کچھ کام نہیں آتا 55
سواداعظم 58
نقل کوعقل پر ترجیح 59
اتباع خواہشات کی مذمت 61
خیرسواداعظم کےساتھ ہے 63
سواداعظم کامعنی 63
اموردین میں صحابہ کی مخالفت کفر ہے 64
کفرکی اقسام 64
بدعت کاانجام 65
بدعت سےبچاؤ کی تدابیر 67
فرقوں کی ابتداء کیسےہوئی ؟ 68
دین پرثابت قدمی 70
گمراہی کےاسباب 73
اسلام کےبنیاد ی اصول 76
قیاس کی ممانعت 78
علم کلام کی مذمت 79
مسائل توحید 82
توحیداسماء وصفات 83
قرآن سےعرش پر مستوی ہونےکےدلائل 86
احادیث سےعرش پر مستوی ہونےکےدلائل 87
صفات کےمتعلق ایک قاعدہ 92
قرآن کےبارےمیں 94
دیدار الہیٰ 99
دیدار الہی کی اقسام 100
سنت سےدیدار الہیٰ کےدلائل 103
میزان پر ایمان 103
عذاب قبراورمنکرونکیر 106
کتاب اللہ سےعذاب قبرکےدلائل 108
قرآنی قیاس 114
احادیث رسول اللہ ﷺ سےدلائل 116
صحابہ کرام کاعذاب قبرکےمتعلق عقیدہ 123
عذاب قبرسےنجات کی دعائیں 125
عذاب قبرکےمنکر کےحکم 128
حوض پرایمان 129
حوض کےپہلے میزبان 130
حوض سےمحروم رہنےوالے 131
انبیاء﷩ کےحوض 132
حضرت صالح ﷤کااستثناء 132
شفاعت کامسئلہ 133
شفاعت قہر ی کی نفی 138
شرکیہ عقیدہ کارد 140
قبولیت شفاعت کی شرائط 141
شفاعت کی اقسام 142
شفاعت کبریٰ 143
سورۃ بقرہ اورآل عمران کی شفاعت 146
افراد کی شفاعت 147
شہید کی شفاعت 148
بچو کی شفاعت 148
روزہ کی شفاعت 149
حاصل کلام 149
پل صراط 149
سب سےپہلے صراط پارکرنےوالے 151
منافقین اورنور 154
انبیائے کرام ﷩ ملائکہ پر ایمان 155
ایمان بالرسالت کےارکان 156
ملائکہ پر ایمان 159
ملائکہ پر ایمان ےکارکان 162
تخلیق جنت وجہنم 162
سنت سےدلائل 170
آدم ؑ کس جنت میں تھے؟ 171
مسیح دجال 172
دجال کی آزمائشیں کیاہوں گی 174
نزول عیسی ﷤ 175
مدت قیام کتنی ہوگی 177
حضرت مہدی کی آمد 178
مہدی کی مدت قیام 179
مہدی کی نشانیاں 179
حضرت مہدی کی علماء امت کی نظر میں 180
شیعہ اوراہل سنت کےہاں مہدی کےتصور میں فرق 181
رد کی وجوبات 185
بحث ایمان 185
ایمان پڑھنے کےاسباب 187
ایمان کاخاتمہ 189
ایمان کاوقتی زوال 189
فضائل صحابہ 190
حضرت ابوبکر ﷜ کی فضیلت 191
فضائل حضرات عشرہ مبشرہ اورباقی صحابہ ﷢ 192
حکمرانوں سےمتعلق 197
حاکم کےحقوق 200
خلافت کےلیے اصل 202
خارجی کون؟ 203
خوارج کاقتل جائز ہے 204
خوارج کی نشانیاں 205
حکام کےظلم پر صبر کی تلقین 206
خوارج کاقتل کیسے ہوگا؟ 208
اصول اطاعت گزاری 209
اصول شہادت 211
خوف اورامید 213
توبہ کادروازہ 214
رجم برحق ہے 215
موزوں پر مسح 217
سفرمیں نماز قصر 219
سفرمیں افطار 220
شرعی لباس کابیان 221
نفاق کیاہے؟ 222
اعتقادی نفاق 222
عملی نفاق 225
دارکی تقسیم 225
دارالاسلام حقیقی کی تعریف 226
دارالاسلام حکمی 226
امت محمد کےمومن اورمسلم 228
مومن ہونےکی گواہی 230
کمال سےمدارج 230
اہل قبلہ کےحکام 231
اہل قبلہ کی تکفیر کاحکم 232
ہل قبلہ کون ہیں؟ 235
امام ابوحنیفہ ﷫اوراہل قبلہ کی تکفیر کامسئلہ 236
ملحدوں اورزندیقوں کادجل وفریب 238
ایک عوامی شبہ اوراس کاازالہ 238
ابن تیمیہ ﷫کی تحقیق 239
علامہ شمس الدین خیالی کی تحقیق 240
علامہ شاہ عبدالعزیز صاحب کااعتراض 240
میرسیدشریف کی تحقیق 240
علامہ انورشاہ صاحب 241
خلاصہ وحاصل کلام 241
جوانبیاء کےمعصوم ہونےکاقائل نہ ہووہ کافر ہے 243
جوشخص کسی مدعی نبوت سےمعجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہے 243
اللہ تعالی کےاسماءوصفات کےمتعلق آثار واحادیث 244
صفات الہیٰ کےمتعلق قاعدہ 246
صفت نزول 248
عرفہ کےدن نزول 249

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زبان سیرت علماء

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سیرت ، دعوت اور اثرات

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سیرت ، دعوت اور اثرات

 

مصنف : جمال الدین زر ابوزو

 

صفحات: 381

 

شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ( 1703 – 1792 م) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب’’کتاب التوحید‘‘ بڑی معر وف ہے۔شیخ موصوف کی  حیات وخدمات سے متعلق مختلف اہل علم نے عربی اردو زبان میں متعدد   کتب تصنیف کی ہیں ۔زیر نظر کتاب’’ شیخ  محمد بن عبد الوہاب  کی سیرت ،دعوت اور اثرات‘‘جمال الدین زرا بوزو کی عربی  کتاب  محمد بن عبد الوهاب حیاته تعالیمه وتأثيره کا اردو ترجمہ ہے ۔اردو ترجمہ کا فریضہ  اسد اللہ عثمان المدنی صاحب نے انجام دیا ہے۔ مصنف کی یہ کتاب ان کی اصل کتاب’’ امام محمد بن عبد الوہاب کی سیرت، دعوت اور اثرات‘‘ کااختصار شدہ نسخہ ہے۔اصل کتاب میں مذکور بہت ساری تفصیلات  ترک کرنےکے علاوہ طویل بحثوں کو مختصر کردیا گیا ہے اور شیخ محمد بن عبد الوہاب سےمتعلق انگریزی مواد زیر مطالعہ کتاب سے یکسر حذف کر کے تمام موضوعات کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کرتے ہوئے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی سوانح حیات اور تعلیمات کو منصفانہ طور پر صحیح انداز میں مستند مصادر ومراجع سے اخذ کر کے پیش کرنے کی  کوشش کی  گئی ہے۔اللہ  تعالیٰ شیخ  محمد بن عبد الوہاب کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں  جنت الفردوس  میں اعلی  ٰ  وارفع مقام عطا فرمائے ۔آمین 

 

عناوین صفحہ نمبر
نبذۃ مختصرۃ عن الکتاب 5
تعارف 6
شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کاخاندان اورابتدائی زندگی 14
خارجی دشمن 67
شیخ محمدبن عبدالوہاب کی وفات 84
شیخ محمد بن عبدالوہاب کی شخصیت 88
شیخ محمد کی کوششوں کےنتائج 101
3۔شیخ کی اہم اصلاحی تعلیمات 105
شیخ کےدورمیں اسلام 105
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورعقیدہ 119
شیخ کاطریقہ کار 119
شیخ محمد اورمسئلہ مسلمانیت 134
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورفقہ اسلامی،اجتہاداوراندھ تقلید 141
شیخ محمد بن عبدالوہاب اوردعوت امربالمعروف ونہی عن المنکر 152
اول ترین مسائل 156
شیخ محمد اورامربالمعروف ونہی عن المنکر کاعمل انجام دینےوالے کاصفات 158
خلاصہ 166
4۔شیخ محمد کی تاثیراوراثرات ’’وہابی‘‘اور’’وہابیت‘‘کےالفاظ پرایک نوٹ 168
نجدکےباہر شیخ محمد کےاثرات 179
دعوت شیخ محمد کی تاثیر سے متعلق چند تمہیدی باتیں 179
عرب علاقے 193
صحرائے افریقہ 207
برصغیر ہندوپاک 212
جنوب مشرقی ایشیاء 219
خلاصہ 224
5۔شیخ محمد بن عبدالوہاب پرتنقید اورالزامات کاجائزہ 225
1۔یہ الزام کہ شیخ محمد نےنبوت کادعوی کیا 226
2۔یہ الزام کہ شیخ محمد نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی 231
لوگوں کودائرہ اسلام سے خارج کرنےاوران سے جنگ کرنےکامسئلہ 236
3۔یہ الزام کہ شیخ محمد نے چند غیر کفریہ باتوں کوکفرقراردیا 243
4۔یہ الزام کہ شیخ محمد نے خلافت عثمانیہ کےخلاف بغاوت کی 255
مسئلہ توسّل اورغیراللہ سے استعانت 259
انہدام مزارات اورزیارت قبورکے مسائل 273
خلاصہ 277
شیخ کی سیرت آج کی دنیا کےلئے سبق 289
نظریاتی اورعملی طورپراپنے عقیدے کی اصلاح سے آغاز کرنےکی اہمیت 294
فسق وجہالت کےانتشار کےباوجودعدم مایوسی 298
ہرایک کےلئے تعلیم کی اہمیت 303
اللہ پرکامل بھروسہ کرتے ہوئے دنیوی اسباب کو اختیار کرنا 312
دعوت کےلئے پُشت پناہی کی ضرورت 318
بنیادی عقائد پرسمجھوتاکرنےسے انکار 325
حوالہ جات 373

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سیرت علماء فقہ

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف کا انتخاب

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تصانیف کا انتخاب

 

مصنف : ڈاکٹر عبد العزیز بن عبد الرحمن السعید

 

صفحات: 369

 

شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔شیخ نے اپنی دعوت پر عقائدکی اصلاح پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور اس سلسلے میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی تصنیفات کاجائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نےاجتہاد او راستنباط کے ہر علم اور فن میں طبع آزمائی کی ہے ۔ آپ نے قرآن کی فضیلت اور قرآنی علوم پر بھی قلم اٹھایا ۔ قرآن کے بعض مقامات کی تفسیر بھی کی اور کسی حد تک اجتہاد کو ترجیح دی ۔شیخ محمد بن عبدالوہاب نے علم فقہ کے ابواب کے مطابق احادیث نبوی کو پانچ جلدوں میں جمع کیا اور فقہ کی کتابوں کا بڑا عمیق مطالعہ کیا اور اس موضوع پر چند کتابیں مرتب کیں۔علم فقہ کی بعض آراء کاتنقیدی جائزہ بھی لیا اور چند مسائل میں اپنا اجتہاد پیش کیا اور بنیادی اصولوں کے بارے میں بھی قلم اٹھایا۔ سیرت ابن ہشام کو مختصر کیا اور اس میں دعوت اور جہاد کے موضوع پر تھوڑا بہت اضافہ کیاا ور زاد المعاد کی تلخیص بھی کی ۔ زیر تبصرہ کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫کی مؤلفات کے انتخاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ یہ انتخاب ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبد الرحمٰن السعید نے ’’ مختارات من مؤلفات الشیخ محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے نام سے مرتب کیا ۔یہ کتاب اپنے اندر بہت سارے موضوعات لیے ہوئے ہے ۔ ان میں قرآن وحدیث، توحید ، سیرت نبوی، حق وصداقت پر مبنی واقعات، تاریخ فقہ اورخطوط ورسائل سے متعلق جامع انتخاب ہے ۔اس انتخاب سے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی تعلیمات اور ان کے تبلیغی مقاصد پر گہری روشنی پڑتی ہے ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے کے فرائض جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ،الریاض کے استاد ڈاکٹر سمیر عبدالحمید ابراہیم نے انجام دئیے ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ ازچانسلر امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی
پیش لفظ اس مترجم 6
پیش لفظ از مرتب 8
قرآن کریم کی تفاسیر کاانتخاب
قرآن کی تلاو ت اوراس کےسیکھنے  سکھانے کی فضیلت 11
علماء قرآن کی تعظیم وتکریم 14
قرآن کریم کے سیکھنے سمجھنے اورسننے اوارس کےنہ پڑھنے والوں کےبارے میں 15
قرآن آیت کوتشریح 17
قرآن کی کی آڑ میں گناہ  کرنے والا 18
تفسیر بالرائے آنےوالوں بنانے  کےبارے میں 20
قرآن کو ذریعہ معاش بنانے  کےبارے میں 21
قرآن سے توجہی برتنے والوں کےبارے میں 22
قرآن کےعلاوہ کسی اور ہدایت چاہنے والے کےبارےمیں 22
قرآن میں غلو کرنے کابیان 24
ہدایت کی کھوج میں لگنے رہنے والوں کےبارے میں 25
قرآن مجید کےبارے میں بغیر علم کےمحض اپنی عقل سےکلام کرنے والوں کےبارے میں 26
قرآن کےسلسلہ میں کج بحشی کرنے کابیان 27
قرآن میں لفظ یامعنوں کےاختلاف کابیان
جب تمہارے درمیان اختلاف ہوتو اٹھ کٹھرے ہوں 28
ایک آیت کی تشریح 29
خوش الحانی سےقرآن پڑھنے کابیان 30
سورہ الفاتحہ 31
سورہ بقرہ کی بعض آیات کی تشریح 41
سورہ آل عمران  کی بعض  آیات کی تفسیر 48
سورہ طہ کی بعض آیات کی تفسیر 51
کچھ احادیث نبوی کےبارے میں 57
کتاب الصلوۃ
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورعقیدہ 62
کتا ت التوحید
توحید کی فضیلت اوریہ کہ توحید گناہوں  کومٹا دیتی ہے 68
حقیقت  کی توحید اختیار کرنےوالا حسباب کے  بغیر جنت میں داخل ہوجائے گا 70
شرک سے ہوشیار رہنا ضروری ہے 72
بعض شبہا ت کاازالہ 75
 دین اسلام کے تین اصول 103
اللہ کی عبادت 118
چھ عظیم اورمفید اصول
سیرت نبوی
سیرت نبوی کےچھ اہم پہلوؤں کی تشریح 127
حلف الفضول کاواقعہ 155
مرتدین سےجنگ 169
بنی عبید القداح کاواقعہ 177
تاتاریوں کاواقعہ 179
شیخ محمد بن عبدالوہاب اورفقہ 181
قواعد فقہ اوراس کے اصول
پانی کے بارے میں 184
مسائل کاطریقے 189
اجتہاد اور اس سے متعلق امور 194
نماز کےلئے جانے کےآداب 230
نماز پڑھنے کاطریقہ 231
نفل نمازیں 245
نماز باجماعت 252
وقف  کے بارےمین 257
شیخ محمد بن عبدالوہاب کےرسائل کاانتخاب
اہل قصیم کےاستسقاء پرشیخ کے اپنے عقیدے کی وضاحت 268
شام کےشیخ خاتمل آل مزید کےنام شیخ محمد بن عبدالوہاب کاخط 274
منجانب محمد بن عبدالوہاب بنام عبدالرحمن بن عبداللہ 277
شہرمکہ کےتمام علماء کےنام شیخ کامکتوب 281
مدینہ کے ایک جید عالم کےنام شیخ کامکتوب 284
ابن صباح کےنام 291
عبداللہ بن سحیم کےنام 296
محمد بن عبدالوہاب کی جانب سےعبداللہ بن محمد ﷾ کےنام 313
شیخ محمد بن عبدلوہاب  کےخطبات کاانتخاب 232
شیخ محمد بن عبدالوہاب کاپہلا خطبہ
شیخ کاایک اورخطبہ 335
شیخ محمدبن عبدالوہاب کاایک خطبہ 337
ایک اورخطبہ 339
خطبہ رمضان 341
آخر رمضان میں خطبہ 343
خطبہ عیدالفطر 246
آخری خطبہ 349
خطبہ ترغیب حج 352
خطبہ عیدالاضحی 354
ایک اورخطبہ 358
دسویں ذی الحجہ کاخطبہ 360
اختتام 362

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت فقہ محدثین

سیرت بخاری 

سیرت بخاری 

 

مصنف : عبد الرشید عراقی

 

صفحات: 74

 

امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری ﷫ کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ”سیرۃ البخاری ” ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے ۔زیر نظر کتاب مشہور ومعروف سیرت نگار مولاناعبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے جسے انہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں امام بخاری کے حالات زندگی از ولادت تاوفات مختصراً درج کئے ہیں ۔ باب دو م میں ان کے گیارہ مشہور استاتذہ او رسات مشہور تلامذہ کے حالات قلم بند کئے ہیں ۔او رباب سوم میں امام صاحب کی تصانیف اور ان کی لاجواب کتاب ” صحیح بخاری ” پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اس باب میں برصغیر پاک وہند کےعلمائے حدیث نے ”صحیح بخاری”کی جو خدمت کی ہے اس کابھی مختصراً ذکر کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 10
پیش لفظ 11
باب اول امام محمد بن اسماعیل بخاری 13
نام ونسب 13
ولادت 13
تعلیم و تربیت 14
پہلا سفر 14
رحلت سفر 15
نیشاپور کا سفر 15
قوت حافظہ 15
امام بخاری کی شہرت 16
فضل و کمال 17
شیوخ و معاصرین کا اعتراف 18
اخلاق و عادات 22
سادگی اور قناعت 23
زہد وتقویٰ 23
دور ابتلاء و آزمائش 24
امام بخاری کا مسلک 26
سنن کی پابندی 27
ملفوظات 27
جلا وطنی 27
وفات 28
باب دوم اساتذہ و تلامذہ 30
اساتذہ 30
تلامذہ 38
باب سوم تصانیف 47
قضایا الصحابہ والتابعین 47
التاریخ الکبیر 47
التاریخ الاوسط 47
التاریخ الصغیر 47
الجامع الکبیر 48
خلق الافعال والعباد 48
کتاب الضعفاء والصغیر 48
المسند الکبیر 48
التفسیر الکبیر 48
کتاب الہبہ 48
کتاب الوحدان 49
کتاب العلل 49
الادب المفرد 49
جز رفع الیدین 50
کتاب الرقاق 50
کتاب المناقب 50
الجامع الصحیح البخاری 51
صحیح بخاری کے شروع وحواشی 58
امام بخاری کی دوسری تصانیف 71

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam بریلوی حفاظت حدیث و دفاع حدیث حنفی زبان

صحیح بخاری اور امام بخاری احناف کی نظر میں

صحیح بخاری اور امام بخاری احناف کی نظر میں

 

مصنف : محمد ادریس ظفر

 

صفحات: 97

 

سید الفقہاء و المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری ؒ علم حدیث میں ’امیرالمؤمنین فی الحدیث‘کا پایہ بلند رکھتے ہیں۔ان کا علم و تفقہ ،زبدو ورع اور خشیت و تقوی مسلم ہے۔حضرت الامام نے حدیث رسول ﷺ کی محبت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے پیش نظر سولہ برس کی محنت شاقہ سے اپنی کتاب ’الجامع الصحیح‘ مرتب فرمائی جو ’صحیح بخاری‘ کے نام سے معروف و مشہور ہے۔خداوند قدوس نے مصنف کے اخلاص و للہیت کا یہ بدلہ عنایت فرمایا کہ امت کی جانب سے اسے تلقی بالقبول حاصل ہوا اور ارباب علم و نظر نے بیک زبان ہو کر اسے ’اصح الکتب بعد کتاب اللہ ‘ کے عظیم الشان اعزاز سے نوازا۔ان علما نے بھی اس امر کا اقرار کیا جو فقہی اعتبار سے امام صاحب کے منہج سے متفق نہ تھے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہےکہ ایک شر ذمہ قلیلہ امام صاحب اور ان کی اس عظیم الشان کتاب حدیث کی شان گھٹانے کی کوشش کرتا رہا۔ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں لیکن سچ ہے کہ ’چاند کا تھوکا منہ پہ آتا ہے‘یہ لوگ خود بے وقعت ہو کر رہ گئے۔زیر نظر کتاب میں علمائے احناف کے دسیوں حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ امام بخاری ؒ علم حدیث کے عظیم امام تھے اور صحیح بخاری خداکی کتاب کے بعد صحیح ترین کتاب ہے ۔فللہ الحمد

 

عناوین صفحہ نمبر
حق تو یہ ہے از مولانا ضیاء الرحمن سعید حفظہ اللہ 11
تقدیم 14
مقدمہ 23
پہلا باب:امام بخاری ؒ کا تعارف،احناف کی زبانی
ابن عابدین حنفی 29
بدرالدین عینی حنفی 31
محمد ادریس الکاندھلوی حنفی 31
عبدالحئی لکھنوی حنفی 32
شبیر احمد عثمانی حنفی 32
محمد طاہر رحیمی حنفی 34
غلام رسول سعیدی حنفی 34
احمد رضا شاہ بجنوری حنفی 34
امیر علی حنفی 35
ترجمان دیوبند ماہانہ القاسم 35
محمد اسماعیل سنبھلی حنفی 35
امام بخاری ؒ مجتہد تھے،احناف کی زبانی
علامہ ذہبی ؒ 37
رشید احمد گنگوہی حنفی 37
عبدالرشید نعمانی حنفی 38
انور شاہ کشمیری حنفی 38
محمد زکریا حنفی 38
سلیم اللہ خاں حنفی 39
محمد عاشق الہی حنفی 39
احمد رضا بجنوری حنفی 39
علامہ اسماعیل عجلونی حنفی 40
محمد عبدالقوی حنفی 40
محمدصدیق حنفی 40
عبدالحئی لکھنوی حنفی 40
قاری محمد طیب حنفی 40
نورالحق حنفی 41
امام بخاری کسی فقہی مذہب کے پابند نہ تھے ،احناف کی زبانی 42
امام ابو حنیفہ ؒ کے متعلق امام بخاری ؒ کا نظریہ ،احناف کی نظر میں 43
امام بخاری ؒ کے فضائل،احناف کی زبانی 43
امام بخاری ؒ کا اسلوب نقد و جرح 48
نبی کریم ﷺ کا امام بخاری ؒ کو سلام کہنا 49
نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم کا مع صحابہ کرام ؓ امام بخاری ؒ کا انتظار فرمانا 49
امام بخاری ؒ یک قبر کی مٹی سے مشک سے بڑھ کر خوشبو مہکتی رہی 50
امام بخاری ؒ کی وفات پر تأسف 51
عظمت بخاری ؒ کا احساس و اعتراف ،احناف کی زبانی 52
بخاری شریف نسخہ شفاء ،احناف کی زبانی 52
مزار بخاری ؒ کی برکات،احناف کی زبانی 53
دوسرا باب:صحیح بخاری کا سبب تصنیف،احناف کی زبانی
صحیح بخاری کا نام،احناف کی زبانی 56
صحیح بخاری رسول اللہ ﷺ کی کتاب ہے ،احناف کی زبانی 57
نکتہ لطیفہ 58
آٹھ افراد نے بیداری میں نبی صلی  اللہ علیہ وسلم سے صحیح بخاری پڑھی 58
عظمت بخاری کے بارے میں منظوم جذبات،احناف کی زبانی 60
عظمت صحیح بخاری ،احناف کی زبانی
بدرالدین عینی حنفی 63
فائدہ 63
ملا علی قاری حنفی 64
شریف جرجانی حنفی 64
محمد معین سندھی حنفی 64
شبیر احمد عثمانی حنفی 65
ابوبکر غازیپوری حنفی 65
سرفراز صفدر حنفی 66
علامہ زیلعی حنفی 66
احمد علی سہارنپوری حنفی 67
ابو الفیض حنفی 67
محمد اسماعیل سنبھلی حنفی 67
شاہ ولی اللہ دہلوی حنفی 67
محمد اشفاق احمدحنفی 68
حافظ ابن الصلاح ؒ 68
حافظ ابو نصر سجزی حنفی 69
عبدالحئی لکھنوی حنفی 70
محمد عاشق الہیٰ حنفی 71
قاضی عبدالرحمن حنفی 71
کفایت اللہ حنفی 71
محمد زکریا حنفی 72
قاری محمد طیب حنفی 72
رشید احمد گنگوہی حنفی 73
رشید احمد لدھیانوی حنفی 73
عزیزالرحمن حنفی 74
اشرف علی تھانوی حنفی 74
امین اوکاڑوی حنفی 75
محمد امین خان ڈیلوی حنفی 75
تقی عثمانی حنفی 75
محمد عبدالمجید فاروقی حنفی 75
قاری محمد حنیف جالندھری حنفی 76
قاری  شمس الدین حنفی 76
سرفراز صفدر حنفی 77
کسی روایت کا صحیح بخاری  میں ہونا اس کے  صحیح ہونے کی دلیل ہے ،احناف کی زبانی 79
احناف کی بیان کردہ روایت 79
احناف کہتے ہیں کہ مذکورہ حدیث صحیح بخاری میں ہے 80
لطیفہ 81
احناف کی بیان کردہ روایت کی حالت 81
مزید عظمت صحیح بخاری ،احناف کی زبانی 82
مفتی رشید احمد حنفی 82
انظر شاہ کشمیری حنفی 82
انورشاہ کشمیری حنفی 82
سرخسی حنفی 83
ترجمان دیوبند ماہانہ القاسم 83
عبدالسمیع رامپوری حنفی 84
احمد سعید کاظمی حنفی 84
پیر کرم شاہ  ازہری حنفی 84
عبدالقیو م حقانی حنفی 84
محمد صدیق حنفی 85
عبدالحق دہلوی حنفی 86
نورالحق دہلوی حنفی 86
محمد حسین نیلوی حنفی 87
غلام رسول سعیدی حنفی 87
غلام رسول رضوی حنفی 88
حبیب الرحمان کاندھلوی حنفی 88
ابن ترکمانی حنفی 88
ابو عمار زاہد الراشدی حنفی 89
احمد رضا خان صاحب حنفی بریلوی کے صحیح بخاری کے متعلق تاثرات 89
خاتمہ کتاب
احناف کی متذکرہ بالا کتب کی روشنی میں 91
اجماع کے منکر پر احناف کا فتویٰ 92
متواتر حدیث کے منکر پر احناف کے فتویٰ 93
نتیجہ 94

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام اعمال درود سلفی سیرت شعر فقہ کتب حدیث کھیل محدثین نماز

صحیح الأداب المفرد للإمام البخاری

صحیح الأداب المفرد للإمام البخاری

 

مصنف : ناصر الدین البانی

 

صفحات: 448

 

امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب اسی کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت عبدالقدوس ہاشمی نے حاصل کی ہے اور اردو ترجمے پر نظر ثانی کا فریضہ مولانا رفیق احمد رئیس سلفی نے انجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ   مؤلف ،محقق ،مترجم ، کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
فرمان الہٰی: ’’ہم نے لوگوں کو والدین کےساتھ احسان کی ہدایت کی ہے ۔ ‘‘ 7
ماں کے ساتھ نیک سلوک 7
باپ   کے ساتھ نیک سلوک 9
والدین سےنرم گفتگو 9
والدین کا بدلہ 10
والدین کی نافرمانی کرنا 11
جواپنے والدین پر لعنت کرے اس پر خدا کی لعنت 12
اگر گناہ نہ ہو تو والدین کی اطاعت کی جائے 13
والدین کے پائے اور جنت میں نہ جائے 14
مشرک باپ سے بھلائی کرنا 15
والدین کو گالی نہ دی جائے 17
والدین کی نافرمانی کا عذاب 17
والدین کی بددعا 18
عیسائی ماں کے سامنےاسلام پیش کرنا 20
والدین کی وفات کے بعد حسن سلوک 21
جس کے ساتھ باپ سلوک کرنا تھا ان کے ساتھ حسن سلوک 22
کیا باپ کا کنیت سے ذکر کیا جائے 23
رشتہ داروں کےحقوق کی حق شناسی 23
صلہ رحمی سے عمر بڑھ جاتی ہے 26
قریب سے قریب تر کے ساتھ حسن سلوک 27
قاطع رحم کی دنیا میں سزا 28
مشرک رشتہ دار کو تحفہ دینا اور اس کے ساتھ سلوک 29
اپنےنسب ناموں کو یاد رکھو تاکہ تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کر سکو 30
کسی قوم کےموالی ان کے جزو ہوتے ہیں 31
دو یا ایک بیٹی کی پرورش کرنےوالا 33
اولاد آدمی کو بخیل اور بزدل بنا دیتی ہے 34
بچے کو کاندھے پر اٹھانا 35
کسی دوست کے لیے مال و اولاد میں کثرت کی دعا 37
مائیں رحم دل ہوتی ہیں 38
باپ کی طرف سے ادب آموزی اور اولاد سے حسن سلوک 39
جورحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا 40
ہمسایہ کاحق 41
(بھلائی کی) ہمسایہ سے ابتداء کرنا 42
ہمسایوں میں قریب سے قریب تر 43
ہمسایہ کو چھوڑ کر پیٹ بھر کھانا 44
بہترین ہمسایہ 45
نیک ہمسایہ 45
برا ہمسایہ 45
ہمسایہ کو دکھ نہیں دینا چاہیے 46
ہمسایہ کی شکایت 47
ہمسایہ کو اتنا ستایا کہ وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا 48
یہودی ہمسایہ 48
کرم 49
اپنے یتیم کا بار اٹھانے کی فضیلت 50
یتیم کےلیے رحم دل باپ کی طرح بن جاؤ 51
یتیم کی تادیب 52
جس کابچہ مر گیا ہو 52
جس کسی کا حمل ساقط ہو جائے 55
حسن ملکہ 56
خادم کوبدوی کےہاتھ فروخت کر دینا 57
خادم کومعاف کر دینا 58
خادم قصور بھی کرتا ہے 59
خادم کو ادب آموزی 60
چہرے پر مت مارو 61
جو غلام کو طمانچہ مارے اسے چاہیے کہ آزاد کر دے 64
غلام کا قصاص 64
غلاموں کو گالی دینا 66
کسی شخص کا اپنے غلام اورخادم پرخرچ کرنا بھی صدقہ ہے 67
اگر کوئی اپنے غلام کےساتھ کھانا ناپسند کرے 68
غلام چرواہا (ذمہ دار ) ہے 70
غلام ہونےکو پسند کیا 71
مرد اپنے گھر والون کا نگراں ہے 72
جس کے ساتھ نیکی کی جائے اس کابدلہ دے 73
کسی شخص کی اپنے بھائی کی امداد 74
دنیا میں بھلائی والے ہی آخرت میں بھلائی والے ہوں گے 75
ہر بھلائی ایک صدقہ ہے 76
پسندیدہ بات 78
جائیداد کی طرف جانا 80
ایک مسلمان اپنے بھائی کاآئینہ ہے 81
ناجائز کھیل اور مذاق 82
لوگوں سے درگزر کرنا اور معاف کرنا 83
لوگوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا 84
تبسم 85
ضحک 86
جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے 87
مشورہ 88
لوگوں میں آپس کی محبت 89
الفت 90
دل لگی 90
حسن اخلاق 91
بخل اور کنجوسی 95
جل 99
اچھا مال اچھے آدمی کے لیے ہوتا ہے 100
طیب نفس 101
پریشان حال کی اعانت واجب ہے 102
حسن اخلاق کےلیے دعا 104
لعنت کرنا 105
کافر پر لعنت کرنا 106
چغل خور 107
عیب لگانا 108
جھوٹی تعریفیں کرنا 109
تعریف کرنےوالوں کے منہ پر خاک چالنا 111
اپنے دوست کی ایسی تکریم نہ کرو کہ اس پر بار ہو جائے 112
ملاقات 113
ملاقاتوں کی فضیلت 115
بڑی عمر والے کی فضیلت 117
بڑےکی تکریم کرنا 117
گفتگو اورسوال میں بڑا آدمی ابتدا کرے 118
جب بڑے نہ بولیں توچھوٹے کوبولنے کا حق حاصل ہے ؟ 119
سب سے بڑے کو سرجار بنانا 120
بچوں میں سے سب سے چھوٹےکو پھل دو 121
بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرنا 122
کسی کا کسی چھوٹےکو پیارے بیٹے کہنا 123
اہل زمیں پر رحم کرو 124
جانوروں پر رحم کرنا 125
پرندہ کےانڈے اٹھانا 127
اچھی باتوں کی سعی کرنا 128
ایذاء رسانی پر صبر 129
لوگوں میں صلح صفائی کرانا 130
کسی کے نسب میں طعن کرنا 131
کسی مسلمان سے ترک تعلق کرنا 133
مقاطعہ کرنے والے لوگ 136
عداوت 136
جس نے بری مثال کو ناپسند کیا 138
مکر اور دھوکہ 138
پانی پلانا 139
باہم گالی گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں ایک دوسرے کی آبروریزی کرتے اور جھوٹ بکتے ہیں 140
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے 141
کسی خاص شخص کو مخاطب کیے بغیر عام گفتگو کرنا 143
کسی کومنافق کہنا اوراس کی تاویلات کرنا 144
دشمنوں کا ہنسی اڑانا 146
فضول خرچی 146
مکانات کی درستگی 147
تعمیر کےاخراجات 147
عمل تعمیر 149
وسیع رہائش گاہ 150
نرم خوئی 152
رہائش میں سادگی 154
سکون و طمانیت 155
مظلوم کی بددعا 156
ظلم کی تاریکی ہی تاریکی ہے 156
کفارہ مریض 160
رات کودیر گئے عیادت کرنا 161
مریض کےوہ اعمال لکھے جاتے ہیں جو حالت صحت میں وہ کرتا تھا 162
کیا کسی مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف ہےشکایت شمار ہو گی 166
بچوں کی عیادت کرنا 168
باب 169
بدوی کی عیادت 169
مریضوں کی عیادت 170
عیادت مریض کی فضیلت 173
مریض کےقریب ہی نماز پڑھی 174
مشرک کی عیادت 174
مریض سے کچھ کہنا 175
مریض کیا جواب دے 176
آشوب چشم پر عیادت 177
عیادت کرنے والا کہاں بیٹھے 177
آدمی اپنے گھر میں کیا کرے 178
عقل قلب میں ہے 180
تکبر 181
ظلم کا جواب دینا 185
تجربات 188
زمانہ جاہلیت کا معاہدہ 188
بھائی چارہ 189
بکریاں برکت ہیں 189
اونٹ اپنےمالک کے لیے عزت ہے 191
بادیہ نشین اعرابیت 192
پہاڑیوں پر میر کرنا 192
آہستگی 194
سرکشی 195
قبول ہدیہ 197
حیا 198
کسی غیر کےلیے دعاکی 201
اخلاص سے مانگی ہوئی دعا 202
دعا میں ہاتھ اٹھانا 203
سیدالاستغفار 206
کسی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعائے خیر 207
باب 208
نبی ﷺ پر صلوۃ (درود)پڑھنا 212
نبی ﷺ کا ذکر کسی کے سامنے آئے اور وہ درود نہ پڑھے 213
جس نے ظلم کیا اس کےحق میں بد دعا کرنا 215
طول عمر کی دعا 216
کاہلی سے اللہ کی پناہ چاہنا 217
جو اللہ سے مانگتا نہیں اس پر اللہ خفا ہوتا ہے 218
جہاد فی سبیل اللہ میں صف بندی کے وقت دعا کرنا 219
نبی ﷺ کی دعائیں 219
بارش کے وقت دعا 224
موت کےوقت دعا 225
رسول اللہ ﷺ کی دعائیں 225
بےچینی کےوقت دعا 231
استخارہ کی دعا 232
جب کسی حاکم قاہر کاخوف ہو 234
دعا کرنے والے کے لیے جواجر و ثواب جمع ہوتاہے 235
دعا کی فضیلت 236
ہواکےوقت دعا 237
ہوا کو برا نہ کہو 238
اللہ سے عافیت سےسوال کرنا 239
آزمائش میں ڈالےجانے کی دعا کرنا مکروہ ہے 240
آزمائش کے وقت سے پناہ مانگنا 241
باب 242
غیبت ۔ اللہ کاحکم کہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے 243
کسی لڑکے کے سر پر اس کے باپ کی موجودگی میں ہاتھ پھیرنا اور اس کے لیے برکت کی دعا کرنا 244
اہل اسلام کا باہم ایک دوسرے کی رہنمائی اور تعاون کرنا 245
مہمان کا احترام اور اس کی خدمت 246
جائزہ مہمان 247
مہمان داری تین دن ہے 248
کسی کے گھر میں ٹھہرنا 249
مہمان کو کھانا پیش کر کے خود نماز پڑھنا 250
کسی شخص کا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا 252
جب تہائی رات باقی رہ جائے اس وقت کی دعا 254
کسی کو بارادہ صفت ، گول بدن، سیاہ فام ، دراز یا کوتاہ قد کہنا 254
حکایت بیا ن کرنے میں کوئی حرج نہیں 255
منافق کو سردار نہ کہو 256
جونہ جانتا ہواسے یہ نہ کہے کہ اللہ جانتا ہے 257
قوس و قزح 257
زمانہ کو برا نہ کہو 258
تعمیرات 261
لا و أبيك ( تیرا بھلا ہو ) کہنا 261
گانا اور کھیل 262
بہتر سیرت و طریقہ زندگی 263
انگور کو کرم نہ کہو 265
کسی شخص کا ویحک کہنا 265
کسی کا یہ کہنا کہ میں کسل مند ہوں 266
کسل سےپناہ مانگنا 267
کسی کا یہ کہنا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں 268
یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے 269
ابو الحکم کنیت رکھنا 270
تیز رفتاری 271
ایک نام کی جگہ دوسرا نام بدل دینا 272
کسی کےنام کی تصغیر بنا کر مخاطب کرنا 273
عاصیہ نام کو بدل دینا 274
شہاب 275
العاص 275
زحم (وقت و تنگی ) 276
برۃ (نیکوکار) 276
افلح 276
رباح 277
اسمائے انبیاء 277
حزن 279
کیا مشرک کا کنیت سےذکر کیا جائے 280
بچہ کی کنیت 281
عورتوں کی کنیت 281
بڑوں او راہل فضیلت کے ساتھ چلنے کا طریقہ 282
باب 283
شعر سےحکمت و دانشمندی آتی ہے 283
عام گفتگو کی طرح شعر بھی اچھے اور برے ہوتےہیں 285
شعر سنانے کو کہنا 286
بعض بیان میں جادو ہوتا ہے 287
ناپسندیدہ اشعار 287
کثرت کلام 287
کسی بات کی تمنا کرنا 289
غلط لہجہ پر مارنا 290
معاریض 290
افشائے راز 291
راستہ اور سڑک بتا دینا 292
کسی اندھے کو بھٹکا دینا 293
حسب نسب 293
روحیں صف بستہ فوجیں ہیں 294
تعجب کے موقع پر کسی کا سبحان اللہ کہنا 295
کنکری پھینکنا ذ296
ہوا کو بری نہ کہو 296
شکون 298
فال 299
اچھے نام سےحصول برکت 300
گھوڑوں میں نحوست 300
چھینک 301
چھینک پر کیا کہے 301
چھینک کا جواب دینا 302
چھینک پر ابتدائی اور بعد کے جملے 304
آب نہ کہو 305
جب کئی بار چھینک آئے 305
جماہی 306
جواب میں لبیک کہنا 307
بیٹھے ہوئے شخص کے لیے کھڑا ہونا 310
جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لیا کرو 311
تعجب کے وقت سر ہلانا اور ہونٹوں کو دانت میں دبانا 314
تعجب میں زانو پر یا کسی اور چیز پر ہاتھ مارنا 315
اگر کسی نے اپنے بھائی کےزانو پر نیک نیتی سےہاتھ مارا 316
خود بیٹھا ہو اور لوگ اس کے لیے کھڑے رہیں یہ ناپسندیدہ عمل ہے 320
باب 321
باب 322
لڑکوں سے مصافحہ کرنا 323
مصافحہ 324
معانقہ 324
ہاتھ چومنا 326
سلامی کابتداء 327
سلام کو رائج کرنا 328
سلام کی فضیلت 330
السلام عز وجل کےاسماء میں سے ہے 331
آنےوالا بیٹھے ہوئےکو سلام کرے 333
کیا پیدل سوار کو سلام 334
چھوٹا بڑے کو سلام کرے 335
سلام کی انتہا 335
اشارے سے سلام کرنا 336
اپنا سلام سنانا 336
مجلس میں آئے تو سلام کرے 337
مجلس میں جو اٹھے سلام کرے 339
مصافحہ کے لیے ہاتھ میں خوشبو لگانا 340
باب 341
فاسق کوسلام نہ کرنا 341
حکمراں کو سلام کرنا 342
سوتے ہوئے کو سلام کرنا 345
مرحبا 345
سلام کو جواب کیسے دیا جائے 346
سلام کا جواب نہ دیا 347
سلام میں بخل کرنا 348
عورتوں کو سلام کرنا 349
کسی کو مخصوص کر کے سلام کرنے کو مکروہ سمجھا 350
آیت پردہ کیسےنازل ہوئی ؟ 351
اپنی بیوی کے ساتھ کھاناکھانا 353
غیر مسکون گھر میں داخل ہونا 354
اپنی ماں سےبھی اجازت لے 355
طلب اجازت تین بار 356
سلام کےعلاوہ اجازت طلبی 357
اجازت طلب کرنا دیکھنےہی کی وجہ سے ہے 358
کوئی شخص جب کسی کو گھر میں سلام کرے 359
کسی کا بلانا اجازت ہے 361
دروازےکے پاس کیسےکھڑا ہوا 362
دروازہ کھٹکھٹانا 363
طلب اجازت کی کیفیت 365
’کو ن ہے ‘ کےجواب میں کہا ’میں ہوں‘ 365
گھروں کےاندر دیکھنا 365
جو سلام کر کے گھر میں داخل ہو اس کی فضیلت 366
گھر میں داخل ہوتے ہوئے خدا کونہ یاد کیا تواس گھر میں شیطان رہے گا 367
ذمیوں کو پہلے سلام نہ کیا جائے 368
ذمی کو اشارہ سے سلام کرنا 369
اہل کتاب کو خط کس طرح لکھا جائے 371
ذمی کو کیسے دعا دے ؟ 372
نصرانی کو بغیر پہچانے سلام کیا 373
خط کا جواب 374
عورتوں کے نام خط اور ان کاجواب 374
امابعد 374
خطوط کی ابتد بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے 376
کیف اصبحت کہنا 377
کیف انت ؟ کہنا 379
جب کہا جائے کیسی صبح ہوئی تو کیا جواب دے ؟ 380
وسیع تر مجلس اچھی مجلس ہوتی ہے 381
راستہ میں بیٹھنا 382
بیٹھنے میں کشادگی 382
آخر میں کسی کا بیٹھنا 382
دو آدمیون کےدرمیان جگہ بنا کر بیٹھنا 383
ہم نشین سب سے زیادہ مکرم ہے 383
ہم نشین کےسامنے پیر پھیلا کر بیٹھنا 384
بیرونی چبوتروں کی مجلسیں 385
کوئیں پر پیر لٹکا کر اور پنڈلیاں کھول کر بیٹھے 386
امانت 388
کسی کی گفتگو اس کی ناپسندیدگی کے باوجود سننا 390
تخت پر بیٹھنا 390
تیسرے کو چھوڑ کر دوآدمی سرگوشی نہ کریں 393
جب چار ہوں 394
احتباء 394
کسی کےلیے تکیہ پیش کرنا 395
اکڑوں بیٹھنا 396
چار زانو بیٹھنا 396
احتباء 397
چت لیٹنا 399
منہ کےبل سونا 400
دائیں ہاتھ ہی سے لے اوردے 400
کھلی چھت پر بغیر پردہ کے سونا 401
کیا پیر لٹکا کر بیٹھے 401
صبح کےوقت کی دعا 402
شام کےوقت کی دعا 403
بستر پر جاتے ہوئےکیا دعا کرے 404
سونے کےوقت دعا کی فضیلت 406
گال کےنیچے ہاتھ رکھنا 406
باب 407
رات کوجاگ اٹھےتو کیا کہے 408
چراغ گل کردینا 409
گھر میں آگ چھوڑ کر سارے لوگ سو نہ جائیں 410
بارش سے حصول برکت ومسرت 411
رات کو دروازہ بند کر دینا 411
جانوروں کومقابلہ کے لیے للکارنا 412
مرغ کی آواز سن کر دعا کرنا 412
قیلولہ کرنا 413
دن کےآخر میں سو جانا 414
ختنہ 415
بڑی عمر والے کا ختنہ 416
بچے کی تحنیک 417
ولادت پر دعا 417
موئے زیر ناف صاف کرنے کےلیے وقت کا تعین 418
قمار بازی 418
غناء 419
پانسہ کھیلنے والوں کاگناہ 420
مومن ایک ہی بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا 422
رات کو تیر اندازی کرنا 422
جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو موت دینا چاہتا ہے تو اسی جگہ اس کا کوئی کا بنادیتا ہے 423
وسوسہ 423
ظن 424
بغل کےبال لینا 424
لڑکوں کو جوز سے کھیلنا 425
کبوترون کو ذبح کرنا 426
جس کو غرض ہو وہی جائے 426
فضول دیکھنا 427
فضول باتیں کرنا 427
دو رخا آدمی 428
دو رخے آدمی کا گناہ 428
حیا 429
جفا 429
شرماؤ نہیں تو پھر جو چاہو کرو 460
غضب ( غصہ ) 430
غصہ میں کیا کہے ؟ 431
جب غصہ آئے تو چپ ہو جائے 431
اپنے دوست سے ایک حد تک ہی محبت کرو 431
تمہاری نفرت تباہی نہ ہو جائے 432

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حدود و تعزیرات

رشوت شریعت اسلامیہ میں ایک عظیم جرم

رشوت شریعت اسلامیہ میں ایک عظیم جرم

 

مصنف : عبد اللہ بن عبد المحسن الطریقی

 

صفحات: 320

 

رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبرا ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ، جج ، گورنر، وزیر ، سیکرٹری ، عدالتی و دفتری نظام ، محکمہ پولیس اور قضاۃ یہ سب ہی قوم کی امانت ہیں ۔ جب تک یہ قانون ، اخلاق اور انصاف و عدل کے بے لاگ محافظ رہیں گے تب تک انسانیت عدل و انصاف   اور رحمت سے مالال مال رہے گی ۔ اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روز اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور  اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا  ان مہلک امراض سے نجات پا جائے ۔ زیر نظر کتاب اسی موضوع پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے اور یہ کتاب درحقیقت امام محمد بن سعود یونیورسٹی  میں ایم ۔اے کے ایک تحقیقی مقالے کی حیثیت  سے پیش کی گئی تھی جسے بعد ازاں ادارہ  فاروقی کتب خانہ نے اردو میں ترجمہ کروا کر شائع کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 8
پیش لفظ 10
بحث کا طریقہ کار 13
مقدمہ 17
موضوع اول 17
دینی تربیت اور جرائم کو روکنے اور امت کی اخلاقی حالت کو پستی سے بلند کرنے کا اثر 18
فرد اور جماعت کے حقوق کی بحالی اور ضائع ہونے سے ان کی حفاظت 25
موضوع دوم 25
جرم اور اس کی تعریف 28
جرم کے ارکان واجزاء 29
موضوع سوم 31
اسلامی شریعت میں سزا اور اس کی قسمیں 31
تعزیر اس کی لغوی تعریف 34
تعزیر کی قسمیں اور ہر قسم کی مشروعیت 36
قتل کرنے کے ذریعہ تعزیر 37
جلاوطن یا شہر بدر کرنا 42
توبیخ 45
ہجر (بائیکاٹ ) کی سزا 48
تشہیر کرانا 51
نصیحت کے ذریعہ سزا 52
دیگر تعزیری سزائیں 53
تعزیر کی قسموں کی کوئی حد نہیں 54
تعزیر میں قاضی کے آزادانہ اختیارات کی حد 58
تعزیر کا حد کی اکثر مقدار سے بڑھ جانا 59
کیا تعزیر کا اختیار والی کوہے یا قاضی کو؟ 65
تعزیر کو معاف کرنے کی مشروعیت 68
تعزیر معاف کرنا کب درست نہیں؟ 70
باب اول رشوت کی حقیقت 74
رشوت کی تعریف اور اس کے بنیادی ارکان 75
جرم رشوت کے اہم اجزاء 80
رشوت کی قسمیں 81
پہلامطلب حق کو باطل کرنے یا باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے رشوت دینا 81
دوسرا مطلب کسی حق کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا 84
تیسرا مطلب ظلم وضرر کو دفع کرنے کے لیے رشوت دینا 84
چوتھا مطلب کسی منصب یا ملازمت کے حصول کے لیے رشوت دینا 100
جرم رشوت سے متعلقہ امور 108
پہلا مطلب ہدیہ کا بیان، اس کی لغوی واصطلاحی تعریف 108
امام کو ہدیہ دینا 112
قاضی کو ہدیہ دینا 117
مفتی کو ہدیہ دینا 122
سفارش کے لیے ہدیہ 126
دوسرا مطلب رشوت لینے والے آدمی کا کوئی کام یا خدمت کردینا 139
تیسرا مطلب واسطہ بننا اور وجاہت کی وجہ سے دخل اندازی کرنا 145
باب دوم رشوت کے احکام 158
رشوت کی حرمت اور کتاب وسنت 158
جرم رشوت کو ثابت کرنے کے طریقے 180
رشوت لینے دینے والے اور بیچ میں واسطہ بننے والے کی تعزیر 187
مباحثہ 199
باب سوم جرم رشوت کے اثرات 226
قاضی کے فیصلہ کرنے میں جرم رشوت کے اثرات 227
رشوت لینے والے کا رشوت کا مالک بننے اور اس رشوت سے متعلق عقد 256
راشی کی ملکیت سے نکل جانے میں رشوت کا اثر 258
مقدمہ 262
قوانین انسداد رشوت ستانی کی دفعات اور ان پر تبصرہ 263
دفعہ 1 263
دفعہ 2 264
دفعہ 3 269
دفعہ 4 271
دفعہ 5 272
دفعہ 6 274
دفعہ 7 275
دفعہ 8 277
دفعہ 9 278
دفعہ 10 280
دفعہ 11 282
دفعہ 12 283
دفعہ 13،14 284
دفعہ 15 286
دفعہ 16،17 288
نظام انسداد رشوت ستانی پر کی گئی اہم تنقیدیں 289
یہ نظام ہمہ گیر طور پر رشوت ستانی کے انسداد کے لیے کافی نہیں 291
ان قوانین کے اندر اسلامی رنگ میں رنگنے کی کہاں تک صلاحیت موجود ہے؟ 311

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعمال توحیدوشرک سنت وسیلہ

رسالہ توحید و رد شرک

رسالہ توحید و رد شرک

 

مصنف : عبد العزیز بن محمد آل سعود

 

صفحات: 80

 

اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے تلمید خاص اور ان کی قائم کرد ہ تحریک احیاء کتاب وسنت کےممد ومعاون شیخ عبد العزیز بن محمد بن سعود ﷫ کے توحید اور شرک کے موضوع پر ایک رسالہ کاترجمہ ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ مختصر ہے مگراپنے مشمولات ومحتویات کے اعتبار سے ایک جامع کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک دقیق النظر صاحب بصیرت عالم کتاب وسنت کی فکری کاوش اور امت مسلمہ کے ایک مخلص مجاہد ، مصلح حاکم اور مرد میدان کی عقیدہ فہمی جمع ہے۔ اس اہم رسالہ کا ترجمہ کی سعادت جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (سابق پرنسل اورئنٹیل کالج،لاہور ) نے حاصل کی۔اور محترم جناب حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے 1995ء میں اسے   اپنے قائم کردہ ادارے ’’دار الفکر الاسلامی ‘‘ کی طرف سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ توحیدپر قائم ودائم رکھیں اور اس کی نشرواشاعت وتبلیغ کی توفیق دے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ از سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز 1
تقدیم از فضیلۃ الشیخ صالح بن عبد العزیز 7
تمہید 15
عقیدہ توحید کی اہمیت 16
کلمۂ توحید کے معانی 17
عبادت کا لغوی اور شرعی مفہوم 18
اختلاف کی نوعیت 19
حقیقت شفاعت 20
اللہ تعالیٰ کے حق اور انبیاء و اولیاء کے حق میں فرق 21
اولیاء اللہ کی صفات 23
اہل ایمان کی تکفیر سے اظہار براءت 24
شفاعت کی اقسام 25
حصول شفاعت کی شرائط 26
قبر نبیﷺ پر سلام کا طریقہ 31
زیارت قبور کے لیے سفر کی ممانعت 33
غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا فی العبادت ہے 39
نفع نقصان کا مالک کون؟ 43
حقیقی مؤحد کے اوصاف 45
آمدم بر سر مطلب 52
عقیدہ شفاعت میں مشرکین کی غلط فہمیاں اور ن کا ازالہ 53
شرک کی اقسام 55
مشروع اور ممنوع توسل 56
مخلوق کا واسطہ دے کر دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے امام ابو حنیفہ و دیگر ائمہ کی تصریحات 60
فوت شدگان کا وسیلہ بنانا مشرکین کے عمل سے مشابہت رکھتا ہے 71
قبروں کے ذرعیہ شرک پھیلانے کی شیطانی چال 75
امام محمد بن عبد الوہاب اور اآل سعود پر اولیاء اللہ اور ان کے مقابر کی توہین کے الزامات کی حقیقت 76

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعتدال و میانہ روی اعمال سنت فقہ

راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل

راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل

 

مصنف : پروفیسر ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش

 

صفحات: 128

 

اعتدال اور میانہ روی امتِ مسلمہ کی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر اقوام اور ملل سے ممتاز کرتی ہے ۔ دور ِحاضر میں عدم براداشت رواداری،مذہبی انتہا پسندی اور مسلکی تعصبات مسلم معاشروں میں تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں ،نوجوان طبقہ بالخصوس بے راہ روی اور فکری پراگندگی کاشکار نظر آتا ہے ۔ اس صورت ِحال کے تباہ کن نتائج کسی صاحب بصیرت سے مخفی نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ” راست روی بنیادی اصول اور عملی وسائل ”ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش﷾ کی تالیف ہے ۔ جس میں قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں راست روی کے بنیادی اصول اور اس کے عملی طریق کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔امید ہے یہ کاوش اس فکری انتشار،تعصب،عدم برداشت اور عدم رواداری کے ماحول میں معاشرے میں توازن، عتدال ،برداشت اور راست روی کی اقدار کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر احمد بن یوسف الدریویش اسلامی فقہ کے پروفیسر، نامور مصنف اور اسلامی سکالر ہیں ۔ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے سابق نائب صدر اور ستمبر 2012ء سے بین الاقوامی یونیورسٹی ،اسلام آباد کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ دورِ حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کئی موضوعات پر آپ کی چالیس سے زائد تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
مقدمہ 7
موضوع کی اہمیت 11
دینی خرابی 14
معاشرتی خرابی 14
راست روی حقیقت پسندی یا مثالیت پسندی 16
استقامت کا معنی و مفہوم 19
راست روی استقامت کی ضرورت و اہمیت 21
قرآن سے دلائل 21
احادیث سے دلائل 23
راست روی کی بنیادیں 25
الف اصلاح 25
ظاہری اصلاح 25
باطنی اصلاح 26
راست روی کا مرکز و محور 26
قبولیت اعمال کی شرائط 28
ب اہل سنت والجماعت کے طریقہ پر قائم رہنا 30
ج میانہ روی 34
د حسن خلق 42
تواضع اور انکساری 44
صبر 49
زبان کی حفاظت 59
تکفیر کی دو وجوہات 68
ھ نیک صحبت 73
راست روی کے حصول کے لیے مخصوص وسائل و اسباب 77
گھر 77
مدرسہ اور درس گاہ 81
علما ومبلغین 86
مسجد 93
معاشرہ 97
میڈیا 104
ذکر ودعا 110
خاتمہ 121

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز