Categories
Islam اسلام سیرت صحابہ

شہادت گہ الفت میں

شہادت گہ الفت میں

 

مصنف : محمد مسعود عبدہ

 

صفحات: 147

 

اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدیقیت کے بعد) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا، جنھوں نے اللہ رَبّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہٴ اِسلام کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔ شہادت سے ایک ایسی پائیدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدہٴ عالم پر ثبت رہتا ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دُھندلا سکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی معاشرے میں رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش باقی نہیں رہتی۔ زیر تبصرہ کتاب  ” شہادت گہ الفت میں”معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کے زوج محترم مولانا محمد مسعود عبدہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں صحابہ کرام کے مقام شہادت اور ایمان افروز شہادتوں کے تذکروں کو جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب در اصل ایک چھوٹا سا مقالہ تھا،جس میں ان کی اہلیہ نے بہت زیادہ حصہ ڈالا اور اسے ایک کتاب کی شکل دے دی۔اس میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مولانا محمد عبدہ کی نسبت محترمہ ام عبد منیب کا حصہ زیادہ ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
شہید اور لغت اور اصطلاح میں 7
مکہ مکرمہ 1
بدر کے میدان میں 15
عریض 25
احد 26
رجیع کا چشمہ 69
تنعیم میں 74
بئر معونہ 78
غزوہ خندق 88
قیقنقاع کا بازار 95
دیار بنو قریظہ 96
غزوہ غابہ 98
القصہ 100
وادی القریٰ 101
خیبر کی وادی 103
بنو سلیم کی سرزمین 109
سریہ ذات اطلح 110
موتہ 111
حرم مکہ 117
فتح مکہ پر 118
وادی اوطاس میں 120
طائف کا میدان 124
سریہ قدیر 128
بنو ثقیف میں 130
چند شہیدان حق 132
غلطی سے مسلمانوں کے اپنے ہاتھوں 135
شہادت گہ الفت میں ایک نظر میں 141

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی شوہر اور سنگھار

شادی شوہر اور سنگھار

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 80

 

بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ” شادی ،شوہر اور سنگھار”معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
خطبہ مسنونہ 5
سخن وضاحت 7
زیب و زینت سے مراد 9
زینت میں شامل چیزیں 11
زیور فطری آرائش 12
جائز زیب و زینت 13
ممنوع زیب و زینت 15
جوانی اور سنگھار کی خواہش 16
بناؤ سنگھار شوہر کا حق 20
شادی پر زیب و زینت 21
شادی پر بھی حرام زیب و زینت سے اجتناب 24
دلہن کا سنگار کس وقت؟ 25
شوہر کی موجودگی بناؤ سنگھار 35
بناؤ سنگھار میں شوہر کی پسند کا خیال 39
شوہر کا ذمہ بناؤ سنگھار کے معاملے میں 45
اظہار زینت اور کس کس کے سامنے؟ 51
محرموں کے سامنے اظہار زینت 52
عورتوں کے سامنے اظہار زینت 55
غلام کے سامنے اظہار زینت 57
خدمت گار جو عورتوں سے بے پروا ہوں 57
عورتوں کی باتوں سے نا واقف لڑکے 58
نامحرموں کے سامنے اخفائے زینت 59
بیوہ کے لیے زیب و زینت 60
بے شوہر عورت کے لیے زیب و زینت 61
کنواری کے لیے زیب و زینت 62
گھر سے باہر جاتے ہوئے بناؤ سنگھار 66
پردے میں گھر سے باہر جائیں تو بناؤ سنگھار 72
عورت کا اصل حسن 72

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل روزہ و رمضان المبارک

سحری افطاری اور افطاریاں

سحری افطاری اور افطاریاں

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 40

 

سحری اور افطاری یہ دونوں کھانے روزے جیسی اہم عبادت کالازمی جزو ہیں۔شریعت نے روزے کے ساتھ یہ دوکھانے مقرر کر کے یہ باور کرا دیا کہ راہبوں اور جوگیوں کایہ خیال کہ جتنا زیادہ طویل فاقہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ نفس پاک ہوتا ہے یہ قطعی غلط ہے۔سحری کا وقت طلوع فجر سے قبل فجر کی اذان ہونے تک ہے ۔ جان بوجھ کر سحری ترک کرنا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی ہے۔اور افطاری روزہ ختم ہونے کی علامت ہے ۔چاہے ایک گھونٹ پانی یا ایک رمق برابر کھانے کی چیز ہی سے افطار کیا جائے ۔افطاری کا وقت سورج غروب ہونے پر ہے ۔جیسے کہ حدیث نبوی ہے ’’ جب رات آجائے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ‘‘(صحیح بخاری)اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہے ہیں گے ۔ تب تک یہ دین غالب رہے گا کیوں کہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتےہیں‘‘۔(سنن ابوداؤد) زیر تبصرہ کتابچہ’’ سحری ،افطاری اور افطاریاں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا ہے جس میں انہوں نے سحری کی اہمیت وضرورت اور اس کے احکام ومسائل اور افطاری کےاحکام ومسائل اور روزہ افطار کروانے کی فضیلت اور عصر حاضر میں افطار پارٹیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلے میں معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں اور فضول خرچیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے فائد ہ مند بنائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
روزے کا مقصد تقویٰ 6
کم سونا 8
کم کھانا 11
سحری اور افطاری 15
سحری ایک بابرکت کھانا 16
سحری کا وقت 16
اذان فجر ہو جائے تو۔۔۔ 18
جان بوجھ کر سحری ترک کرنا 18
سحری کا کھانا کیسا ہو؟ 19
سحری کے لیے بیدار کرنا 20
افطاری 22
افطار کا وقت 23
اگر کوئی پہلے روزہ افطار کرلے تو 24
افطار کس چیز کے ساتھ 26
ہماری افطاری 26
کھانے کا بچ جانا 28
افطاری کی دعوتیں 29
افطار پارٹیاں 32
افطاری کے کارڈ 33
افطاری اپنی کھانے غیروں کے 33
ریا 34
بے قاعدہ اور بے اندازہ خرچ 35
افطاری ایک عبادت 37
افطار پارٹی خود ساختہ تکلف 37

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام امہات المومنین زبان سیرت

سیدہ خدیجۃ الکبری ؓ بحیثیت زوجۃ النبی ﷺ

سیدہ خدیجۃ الکبری ؓ بحیثیت زوجۃ النبی ﷺ

 

مصنف : مریم خنساء

 

صفحات: 34

 

سیدہ حضرت خدیجہ ؓ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے “طاہرہ” کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی  ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓنے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ ؓسے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان  کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام  المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہابیان کرتی  ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات  ہجرت سے  قبل  عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیر نظر کتابچہ’’سیدہ خدیجہ ؓ بحیثیت زوجۃ النبیﷺ‘‘ عربی کے ممتاز ادیب محمد موفق کی سیدہ خدیجہ ؓ کی سیرت پر عربی کتاب کا ترجمہ ہے  ترجمہ کی سعادت  محترمہ  مریم  خنساء نے  حاصل کی  اور اس کے شروع  میں  عکس ِحیات خدیجہ کے  نام سے  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے کچھ اضافہ کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ خواتینِ اسلام کو  سیدہ خدیجہ  اوردیگر امہات المومنین  جیسی سیرت اپنانے کی   توفیق عطا فرمائے  ( آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
سخن وضاحت 5
عکس حیات خدیجہ 8
نشان راہ 9
امین محور احترام 10
حق کی جانب 18
دانش مند بیوی ایک نعمت عظمٰی 20
نیکی وہ جو فورا ہو 23
مجاہدہ پر سلام ہو 25
قربانی کے دس سال 28
اشک محبت 29

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam روح معاشرتی نظام

سنگھار خانے

سنگھار خانے

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 67

 

بیوٹی پالر سے مراد ایسے  مقامات ہیں جہاں عورتیں ،مرد اور بچے اپنے جسم کے فطری حسن اور فطری رنگ و روپ کی بجائے اضافی زیب وزینت اور من پسند رنگ وروپ حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ایسے بیوٹی پالرز کا خیال سب سے پہلے رومی قوم میں پیدا ہوا جو لوگ روح کی بجائے جسم کے عیش، آرام ،اس کی لذتوں اور آرائش کو ترجیح دیتے تھے۔وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے زر خرید لونڈیوں کی جسمانی نگہداشت کرتے ،انہیں طرح طرح کے فیش کروا کر سجاتے بناتے اور پھر ان کے اپنی  نفسانی خواہشات پوری کرتے تھے۔موجودہ زمانے کے بیوٹی پالر بھی انہی قباحتوں اور برائیوں کو اپنے اندار لئے ہوئے ہیں،اور ان کی آڑ میں ہونے والے بے حیائی کے واقعات دیکھ اور سن کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  “سنگھار خانے “معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے لئے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے ،اور برائی وبے حیائی کے ان اڈوں سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
سنگھار خانوں ( بیوٹی پارلر ) کی ابتداء 6
جسم کی پوجا 11
سنگھار خانے اور فن کارانہ عیاری 13
پھانسنے کے جھانسے 14
دیکھا دیکھی 16
صفائی کا ناقص انتظام 18
سنگھار خانے یا شوقیہ اذیت خانے 20
سنگھار کا مقصد زینت یا ؟ 22
دوسروں کے سامنے ستر کھولنا 24
گانا بجانا 27
ویڈیو اور تصویر 29
سنگھار خانوں سے سنگھار میز تک 30
مرد اور عورت کی تمیز ختم 31
مال کا ضیاع 32
وقت اور صلاحیت کا ضیاع 34
عورت کے لیے سنگھار خانوں میں جانے کی ممانعت 38
بیوٹی پارلر ڈچلانے والیوں سے حجاب 43
گشتی سنگھار خانے 48
کبیرہ گناہوں کے گڑھ 52
بیوٹی پارلر کے لیے جگہ دینا 56
سرپرست مردوں کی ذمہ داری 57
جائز بنا ؤ سنگھار 59

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam بدعت رسوم و رواج اور بدعات بسنت ، اپریل فول ، ویلنٹائن ڈے وغیرہ سنت

سالگرہ

سالگرہ

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 19

 

سالگرہ کااصل  نام  برتھ ڈئے ہے ۔جس کامطلب ہے پیدائش کا دن ۔ یہ  ایک  رسم ہے جو تقریب  کے شکل میں  ادا کی جاتی  ہے ،سالگرہ کام کا مطلب ہے  زندگی  کے گزشتہ سالوں میں ایک  اور گرہ لگ گئی  یعنی موصوف ایک سال زندگی کا مزید گزار چکے ہیں۔  برتھ ڈے کو عربی میں  یوم المیلاد،ہندی میں  جنم دن  اور اردو میں سالگرہ کہتے ہیں ۔كتاب و سنت كے شرعى دلائل سے معلوم ہوتا ہے كہ سالگرہ منانا بدعت ہے، خواہ وہ نبی کریمﷺ کی ہو یا کسی عام آدمی کی ہو،جو چیز نبی کریمﷺ کے لئے منانا جائز نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ یہ دين ميں نيا كام ايجاد كر ليا گيا ہے شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس طرح كى دعوت قبول كرنى جائز ہے، كيونكہ اس ميں شريک ہونا اور دعوت قبول كرنا بدعت كى تائيد اور اسے ابھارنے كا باعث ہوگا۔زیر نظر کتابچہ’’سالگرہ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  اصلاح معاشرہ  کے سلسلہ میں ایک  اہم کاوش ہے جس میں  انہو ں نے  سالگرہ  منانے کا آغاز اوراس تقریب میں کی جانے والی خرافات  کو بیان کرتے ہوئے اس کاشرعی  جائزہ بھی  پیش کیا ہے  ۔اللہ تعالیٰ  اس کتابچہ کو  عوام الناس کے لیے   نفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
سالگرہ 3
اس رسم کا آغاز 3
سالگرہ منانے کا پس منظر 3
عام شخصیات کی سالگرہ منانے کا آغاز 4
سالگرہ مسلمان گھرانوں میں 4
بے تحاشا تہوار منانا مشرکانہ مزاج 4
جو جس کی نقل اتارے وہ انہی جیسا 5
اسلام میں منانے کے صرف دو دن 6
موم بتیاں جلانا 7
گیت گانا اور تالی بجانا 9
مال حرام جگہ پر خرچ کرنا 10
خوشی کا اصل دن 12
ویسے تو نہیں لیکن ایسے کر لیں تو کیا حرج ہے 14

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام نماز نماز وتر و تہجد و تراویح اور سجدہ سہو

سجدہ سہو

سجدہ سہو

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 19

 

سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت  نے    یہ طریقہ بتایا کہ  کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد  سلام  پھیرنے سے  قبل  یا بعد میں  دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی  مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی  کمی و بیشی  یا بھول چوک  کی   وجہ سے  پوری  نماز ہی  باطل قرار دے  دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ  ’’سجدہ سہو‘‘  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے  جس  میں انہو  ں جن  امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا  جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے  اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے   آسان انداز میں  بیا ن کیا اللہ  تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
سجدہ سہو 4
سجدہ سہو واجب ہے یا سنت 4
سجدہ سہو کرنے کا طریقہ 6
سجدہ سہو کرنے کا غلط طریقہ 7
سجدہ سہو کب 8
زیادہ رکعتیں پڑھ جانے پر 9
اگر پہلے تشہد میں بیٹھنا یاد نہ رہے 10
اگر کوئی رکعت رہ جائے 11
نماز سے فارغ ہو کر باتیں کر چکنے کے بعد 12
وتر میں دعائے قنوت بھول جانے پر 15
اگر امام بھول جائے 15
اگر امام سری نماز میں جہری قرات کر بیٹھے 15
کن چیزوں کے بھول جانے پر سجدہ سہو نہیں 15

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ صحافت اور ذرائع ابلاغ اور جدید میڈیا

صحافت اور اس کی اخلاقی اقدار

صحافت اور اس کی اخلاقی اقدار

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 171

 

انسان ازل سے حالات سے باخبر رہنے کا خواہش مند رہا ہے اس کی یہ خواہش مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے پوری ہوتی رہی ہے۔ شروع میں تحریریں پتھروں اور ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، پھر معاملہ درختوں کی چھال اور چمڑے کی طرف بڑھا۔ زمانہ نے ترقی کی تو کاغذ او رپریس وجود میں آیا۔ جس کے بعد صحافت نے بے مثال ترقی کی، صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں، جرائم کی نشان دہی اور بیخ کنی ہوتی ہے، دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں، معاشرتی واقعات وحوادثات تاریخ کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ بالخصوص نظریاتی اور اسلامی صحافت معاشرہ کی مثبت تشکیل ، فکری استحکام، ملکی ترقی کے فروغ ، ثقافتی ہم آہنگی ، تعلیم وتربیت اصلاح وتبلیغ ، رائے عامہ کی تشکیل ، خیر وشر کی تمیز اور حقائق کے انکشاف میں بہت مدد دیتی ہے۔صحافت ایک امانت ہے، اس کے لیے خدا ترسی ، تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط اول ہے۔ فی زمانہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے جن میں دینی اور اخلاقی اہلیت نہیں، اصول اور کردار کے لحاظ سے وہ قطعاً غیر ذمہ دار اور مغربی یلغار کی حمایت اور لادینی افکار کو نمایاں کرنے میں سر گرم ہیں۔ موجودہ دور کی صحافت میں گنے چنے افراد کے علاوہ اکثریت لکھنے والے سیکولر اور لبرل ہیں۔ یہ لوگ مغرب کی پوجا کرتے ہیں او رانہیں کے افکار کو اجاگر کرتے ہیں، دین اورمذہب کے خلاف لکھنا ان کا شیوا بن چکا ہے ۔ لادینیت اور لامذہبیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔حالاں کہ صحافت ایک مقدس اور عظیم الشان پیشہ ہے، جس کے ذریعے ملک وملت کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے ۔ اسلامی صحافت قوم کے ذہنوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی فکری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لاتی ہے، برے کاموں سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  ” صحافت اور اس کی اخلاقی اقدار”معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ اور محترمہ مریم خنساء دونوں کے مشترکہ مضامین پر مشتمل  تصنیف ہے ۔ یہ درحقیقت کوئی مستقل کتاب نہیں ہے بلکہ مختلف اوقات میں صحافت کے حوالے سے لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔اللہ نے محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
سخن وضاحت ام عبد منیب 5
ذرائع ابلاغ کے نفسیاتی اثرات مریم خنساء 7
اخبار اور خبر ام عبد منیب 16
اخبار کی ترتیب و تزئین ام عبد منیب 25
مدیران اخبارات اور اشتہارات مریم خنساء 33
دینی مسائل اور مدیران کی ذمہ داریاں مریم خنساء 48
بچوں کی مقبول عام صحافت کا جائزہ مریم خنساء 63
برصغیر میں خواتین کی صحافت مریم خنساء ، ام عبد منیب 86
خواتین کی مقبول عام صحافت کا جائزہ مریم خنساء ، ام عبد منیب 96
خواتین کے لیے صحافت ام عبد منیب 145
خواتین کے لیے موجودہ اصلاحی جرائد ام عبد منیب 155
حرف انتباء ام عبد منیب 165

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل زکوۃ و صدقات اور عشر قرض

صدقہ کیوں اور کسے دیں

صدقہ کیوں اور کسے دیں

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 56

صدقہ ایک مستحب اور نفلی عبادت ہے  جس کے تعلق تزکیہ نفس سے بھی ہے اور تزکیہ مال سےبھی۔ اللہ کی راہ  میں خرچ کیا گیا مال تبھی صدقہ کہلا سکتا  ہے اوراس پر اجر مل سکتا ہے جب کہ وہ مشروع آداب وشرائط کے ساتھ دیا  جائے ۔ ایک مسلمان ایمان لانے کےبعد ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس کی  خوشنودی ،اس کی تعظیم، اس کی عبادت اوراس کی رحمت حاصل کرنے کےلیے  کرنے کا پابند ہے ۔ صدقہ چونکہ مالی عبادت اور ایک نیک عمل ہے لہٰذا یہ اللہ کے علاوہ اور کسی کےلیے کرنا حرام ہے ۔جوشخص حلال کمائی میں سے  ایک کھجور کےبرابر صدقہ کرے  تو اللہ اس کواپنے ہاتھ میں لیتا  ہے پھر صدقہ دینے  والے  کےلیے  اسے  پالتا ہے  جیسے تم میں سے کوئی اپنابچھڑا پالتا  یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کےبرابر ہوجاتا ہے۔ اور حرام کمائی سے دیا ہوا صدقہ اللہ تعالیٰ قبول  نہیں کرتا ۔ زیرنظرکتابچہ ’’ صدقہ کیوں اور کسے  دیں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے  جس میں انہوں نے صدقہ کا معنی  مفہوم اور صدقہ دینے کے آداب وفوائد اور صدقہ کے مستحقین کو  بیان کرنے کےعلاوہ  صدقہ  کے جملہ احکام ومسائل کو   بڑے آسان  فہم انداز میں  دلائل کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام دعوتی ، تدریسی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
صدقہ کے مختلف مفہوم 8
صدقہ ایک اختیاری عبادت 11
صدقہ صرف اللہ کے لیے 13
حلال چیز دینا 14
محبوب چیز دینا 15
ردی اور گھٹیا چیز دینے سے بچنا 16
جسے صدقہ دیا اس سے کوئی امید نہ رکھنا 17
چھپا کر صدقہ دینا 18
ظاہر کر کے دینے کا جواز 19
صدقہ دینے کے فوائد 21
دوزخ سے بچاؤ کا ذریعہ 22
صدقہ کے مستحق 24
تنگ دست قرض دار کو قرض صدقہ دینا 27
صدقہ کے بعض اہم مسائل 32
صدقہ دینے کا وقت 33
ضرورت سے زائد صدقہ کرنا 36
صدقہ کتنا دینا چاہیے 39
صدقہ کے متعلق جاہلی تصورات 45
صدقے کی چیز کو چھونا 46
صدقہ دریا میں پھینکنا 48
غیر شرعی صدقے اور نیاز کو کھانے کا حکم 52

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam متفرق کتب

رنگ اور رنگینیاں

رنگ اور رنگینیاں

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 35

 

وسیع نیلگوں آسمان،کالے اور سفید بادلوں کے گالے،چاند کی سنہری چاندنی،سورج کی شفاف روشنی،لال ،نیلے،پیلے،ارغوانی ،جامنی ،سبز،سرمئی ،دودھیارنگ کے پھول ،پھل اور اناج،دور تک پھیلی سر سبز وشاداب فصلوں کی ہریالی،کالے، خاکستری،گیروا اور ہلکے سبز رنگ پہاڑ،رنگا رنگ چہچہاتی چڑیاں اور طوطے،سفید برفانی اور کالا سیاہ ریچھ الغرض کائنات کے یہ رنگ اور رنگینیاں ان کے خالق کی قدرت اور وجود پر دلالت کرتی ہیں۔یہ رنگ اتنے زیادہ ہیں کہ انسانی عقل نہ تو ان کا احاطہ کر سکتی ہے اور نہ ہی ہر رنگ کے لئے کوئی نام وضع کر سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  ” رنگ اور رنگینیاں”معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے کائنات کے خوبصورت رنگوں کو جمع فرما کر ان میں سے کچھ پر مذہبی چھاپ کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔اور ان رنگوں کے خالق کو پہچاننے کی دعوت دی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین

عناوین صفحہ نمبر
رنگ اور رنگینیاں 4
رنگ جانوروں کے لیے تحفظ کا باعث 6
رنگ پہچان کا ذریعہ 7
اطلاع یا پیغام بذریعہ رنگ 9
کسی عمارت یا چیز کی پہچان کے لیے 9
مخصوص رنگ کے لباس 10
مختلف مذاہب میں رنگوں کی اہمیت 11
انسان کے رنگین شوق 14
بازاروں میں رنگ رنگینیاں 17
عمارتوں میں رنگینیاں 19
میڈیا میں رنگینیاں 21
انسانی جسم رنگوں کی زد میں 22
رنگ اور ملاوٹ 27
رنگینیاں جسم و جاں کے لیے وبال 29

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز