Categories
Islam اسلام امراء و سلاطین تاریخ

صلاح الدین ایوبی

صلاح الدین ایوبی

 

مصنف : قاضی عبد الستار

 

صفحات: 196

 

اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کےلیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت واستقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزادکروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے موصوف نے ہمیشہ ملت کے دفاع کااور اسلام کی سربلندی کےلیے اپنی شمشیر کو بے نیام کرتے ہوئے میدان قتال مین دادشجاعت دی ہےسلطان صلاح الدین ایوبی نے آخری چھ سالوں جوکہ  سلطان کی حیات کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں انہوں نے مسلسل صلیبیوں کو گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کےلیے اللہ کے گھر کی عزت وناموس کی رکھوالی کے لیے  دن رات اپنی جان ہتھیلی پرلیے شمشیروں کی چھاوں میں ،تیروں کی بارش میں ،نیزوں کی انیوں میں،گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر اس کو دشمن کی صفوں  میں سرمیٹ دوڑاتے ہوئے تلوار بلند کرتے ہوئے اللہ کے باغیوں ،کافروں ،ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے بسرکیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ صلاح الدین ایوبی ‘‘قاضی عبد  الستار  کی تصنیف ہے جس میں ا نہوں نے  سلطان صلاح الدین ایوبی کی دلیرانہ اور بہادرانہ ایمان افروز  زندگی کو  ایک ناول کی صورت میں دلچسپ انداز میں مرتب کیا ہے ۔

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam امراء و سلاطین تاریخ

فاتح اعظم صلاح الدین ایوبی

فاتح اعظم صلاح الدین ایوبی

 

مصنف : خان آصف

 

صفحات: 537

 

اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کےلیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت واستقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزادکروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ زیر نظر کتاب’’ فاتح اعظم سلطان صلاح الدین ایوبی‘‘خان آصف  کی تصنیف ہے صاحب  کتاب نے ا س میں بتایا ہےکہ صلاح الدین ایوبی نے تیسری صلیبی جنگ میں وہ عظیم الشان فتح حاصل کی  کہ جس کی سوزش سے آج بھی عیسائی دنیا کے سینے جلتے ہیں ۔زخموں کی اس جلن کو مٹانے کے لیے عیسائی دنیا نے افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کر کے دوبارہ  صلیبی جنگوں کا آغاز کیا ۔

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام پاکستان تاریخ وقصص قرآن تہذیب جماعت اسلامی حج سفرنامے عمرہ

سفر نامہ ارض القرآن

سفر نامہ ارض القرآن

 

مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

 

صفحات: 315

 

اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا سفر کیا گیا تھا۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان  میں  سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا زیر تبصرہ  ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے، جسے جناب مولانامحمد عاصم الحدّادنے مرتب کیا ہے۔ یہ حج و عمرہ کا سفرنامہ نہیں، بلکہ آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق و زیارت کے لیے کیے گئے ایک سفر کی روداد ہے۔ یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام  کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ یہ سفرنامہ دینی اور تاریخی لٹریچر میں یہ ایک اہم اور مفید اضافہ ہے۔ تفہیم القرآن کی تالیف کا آغاز مولانا مودودی ؒ  نے محرم ۱۳۶۱ھ؍ فروری ۱۹۴۲ ءسے کیا اور یہ کام تیس سال کے بعدجون ۱۹۷۲ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ دورانِ تالیف انھوں نے محسوس کیا کہ جن مقامات و آثار کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے یا رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے ان کا تعلق ہے انھیں بہ چشم خود دیکھ لینا بہتر ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے ۱۹۵۹کے اواخر اور ۱۹۶۰کے اوائل میں یہ سفر کیا تھا۔ اس سفر میں جماعت اسلامی پاکستان کی دو شخصیات  چودھری غلام محمد اور مولانامحمد عاصم الحدّاد  ۔ مولانا مودودی کے ہمراہ تھیں۔ یہ سفر ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۵۹ءکو لاہور سے شروع ہوا اور ۶؍ فروری ۱۹۶۰کو واپسی پر اختتام کو پہنچا۔ لاہور سے کراچی تک کا سفر بذریعہ ٹرین ہوا، وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے مسقط، دبئی، قطر اور بحرین ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخلہ ہوا۔ اس سفر کا اصل مقصد آثار و مقامات قرآنی کا بہ راہ راست مشاہدہ تھا۔ یہ چیز اس سفرنامہ کو جزیرۃالعرب کے دیگر سفرناموں سے ممتاز کرتی ہے۔ مولانا مودودی نے سب سے پہلے سعودی عرب کے آثار کا مشاہدہ کیا۔پھر اردن و فلسطین اور مصر کے تاریخی آثار کی بھی زیارت کی تھی۔ اس سفر کے ذریعہ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم میں مذکور آثار و مقامات کے مشاہدہ سے جو بلا واسطہ معلومات حاصل کیں انھیں اپنی تفسیر” تفہیم القرآن” میں استعمال کیا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو تفہیم القرآن کو دیگر معاصر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
ارادہ اور مقصد سفر 15
لاہور کراچی 18
کراچی سے بحرین 22
ظہران ، خبر اور دمام 38
سفر ریاض 57
جدہ میں 99
جدہ سے مکہ معظمہ 104
مکہ سے طائف 130
جدہ کے اسلام پسند نوجوانوں کا اجتماع 156
جدہ سے مدینہ منورہ 165
مدینہ منورہ سے عقبہ 200
اردن و فلسطین 228
شام و مصر 277
کویت 305

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تہذیب مسئلہ فلسطین مقامات مقدسہ ( حرمین ، مکہ و مدینہ ، مسجد اقصٰی ، مساجد ) نماز

قدس کو یہودی شہر بنانے کی کوشش نصوص ، وثائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں

قدس کو یہودی شہر بنانے کی کوشش نصوص ، وثائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں

 

مصنف : ڈاکٹر انور محمود زناتی

 

صفحات: 162

 

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قدس کویہودی شہر بنانےکی کو شش ‘‘ ڈاکٹر انور محمد زناتی کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب اسرائیل کے ارض فلسطین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سلسلے میں ایک معتبر، مفصل، حقیقت پر مبنی اوراسرائیل سازش کودوپہر کی دھوپ کی طرح واضح کرنے دینے والی دستاویزی تالیف ہے ۔ جس میں سرکاری وثائق ، تصویروں اور نقشوں کے ذریعے اسرائیل کی تاریخی دہشت گردی کو واضح کیاگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عالمِ اسلام کی غیرت کو بیدار کرنے کاذریعہ بنائے اور بیت المقدس جلد اس کےحقداروں کے ہاتھ آجائے ۔ (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
گوشواروں کی فہرست 9
تصویروں کی فہرست 11
پیش لفظ 13
مقدمہ 15
پہلی فصل :نصوص اورتاریخ 21
اول:عمومی پس منظر 21
دوم:اعدد وشمار 25
سوم: مختلف طریقہ کار 28
فلسطینی تحریک آزادی کی ایگزیکیٹیو کمیٹی کابیان 44
شہرقدس میں اسرائیلی زیادیتوں سےمتعلق ماہانہ رپورٹ کاخلاصہ 55
2008ءکےپہلے تین مہینوں کےدرمیان نوآباد یاتی سرگرمیاں 59
حالیہ (2008ء)نوآبادیاتی سرگرمیوں سےمتعلق تحریک السلام الآن کےبیانات 61
دوسری فصل :شہرقدس کویہودی رنگ میں رنگنے کےمختلف ذرائع ووسائل 71
اول: عرب گاؤں اورعرب واسلامی تہذیب کےآثار کو منانا 71
مسجداقصیٰ پر اسرائیلی زیادتیاں 73
عرب قدس میں آثار قدیمہ کی کھدائیاں 79
1967ءکےبعد شہرقدس میں اسرائیلی کھدائیاں 83
کھدائیوں وزیادیتوں کاتسلسل 93
مختلف مقامات کو اسرائیلی نام دینے کاادارہ 98
الحوض المقدس (یعنی عرب بستیوں کو مٹانے اورانہیں ہڑپنے )کامنصوبہ 103
گھروں کو منہدم کرنےکی پالیسی 104
دوم:قومی تہذیب وشناخت کو مٹانے اورتعلیم کو یہودی رنگ دینےکی کوشش 108
شہر قدس میں تعلیم کویہودی رنگ دینےکی کوشش 108
نسلی تفریق کی دیوار 115
خاتمہ 127
ضمیمہ جات 129
ضمیمہ نمبر (1)یہودیوں کےقومی وطن کانقشہ جوصہیونی وفدنےپیرس میں 1991ءمیں منعقد ہونے موتمر الصلح میں پیش کیاتھا 129
ضمیمہ نمبر (2)21/8/1969ءمیں مسجد اقصی میں لگنے والی آگ 130
ضمیمہ نمبر (3)فلسطین میں مسجداقصی کوہدف بناکرکی جانےوالی کھدائیاں 132
ضمیمہ نمبر (4)ہرتزل کاخط سلطان عبدالحمید کےنام 135
مراجع ومآخذ 136
1882ءسے1944ءکےدرمیان فلسطین کی طرف یہودیوں کی ہجرت کےمختلف مراحل 26
1945ءتک فلسطین کےمختلف علاقوں میں زمین کی ملکیت کاتناسب 27
1948ءمیں فلسطینیوں کےہاتھ سےنکل جانےوالی زمین کارقبہ 27
مشرقی قدس کوضم کرنےکےبعد وہاں کی آبادی اورجون 1967ءکی جنگ کےبعد گھر یارچھوڑنےوالوں کی تعداد 31
قدس میں ضم کئے گئے علاقوں میں اسرائیلی نوآبادیات 37
جبل ابوغنم (ہارحوما)میں قائم کردہ نوآبادیاتی علاقہ سبغات شموئیل کااسٹر کچرل منصوبہ 48
قدس کے شہریوں کی شہریت کےلعدم کرنےسےمتعلق اعداد شمار 51
شہریت کالعدم کرنےکاسباب اسرائیلی وزرارت داخلہ کےمطابق 53
نوآبادکاری حقائق اوراعدداد شمار(2007ءکےاخیرتک ) 58
اسرائیلی ٹنڈرس جواناپولیس کانفرنس سےلیکر جولائی 2008ءتک نکالے گئے 62
قدس کےدروازوں کےتاریخی نام اوان کی جگہ پر کھے گئے عبرانی نام 99
قدس اوراس کےقرب وجوار کی تاریخی جگہوں کےو ہ عربی نام جوجون 1967ءکےبعد یہودی ناموں سےتبدیل کردئیے گئے 101
وہ عرب بستیاں جن کےنام 1948ءکےبعد یہودی ناموں سےتبدیل کردئیے گے 102
2004ءاور2005ءمیں مشرقی قدس میں رہائشی مکانات کاانہدام 107
مشرقی قدس میں رہائشی مکانات ودیگر تعمیرات کاانہدام 1999ءتا2003ء) 107
مغربی کنارہ میں رہائشی مکانات ودیگر تعمیرات کاانہدام (1999ء2003ء) 108
اسرائیلی منہج تعلیم نافذ کیےجانے کی مدت کےدوران قدس کےپرائیوٹ اسکولوں میں طلباء اورمختلف شعبہ جات کی تعداد 112
فلسطینی علاقے جہنیں دیورا علیحدگی کی تعمیر کےپہلے مرحلہ میں اس دیوار گرین لائن کےدرمیان الگ تھلک کر دیا گیا 117
دیوار علیحدگی کی تعمیر میں 30/4/2006ءتک کی پیش رفت 118
دیوار علیحدگی سےمتاثر فلسطینی معاشرہ 119
دیوار علیحدگی کاشہریوں کی نقل وحرکت پر اثر 125
شہرقدس 22
فلسطینی پناہ گزینوں کی ہجرت کےراستے 36
قدیم شہر میں کھدائیاں اورسرنگیں 56
نیلہ باب المغاربہ 57
قدیم شہر 68
2060ءتک قدس کو یہودی شہربنانےکی کوشش 69
وہ نقشے اوردستاویزات جومسجد اقصی کو یہودی بنانےکی صہونی منصوبوں کو واضح کرتےہیں 75
وہ نقشے اوردستاویزات جومسجد اقصی کو یہودی بنانےکی صہونی منصوبوں کی واضح کرتےہیں 77
مسجد اقصی اوراس کےارد گرد کھدائیاں 78
وہ کھدائیاں جواسرائیل نےمسجد اقصی کےجنوب مشرقی جانب کی ہیں 84
قبۃ الصخرۃ 87
وہ کھدائیاں جواسرائیلیوں نےمسجد اقصی کےجنوبی اورمغربی جانب کی ہیں 88
سرنگ کاوہ حصہ جوحرم شری کےمغربی دیوارسے متصل ہے 89
ہیکل کامجمسہ جس کی اسرائیل تشہیر کرتاہےاورجسے حرم شریف کی جگہ پر نصب کرناچاہتاہے حالانکہ اس سلسلہ میں اس کےپاس کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے 89
قبرستان مامن اللہ 91
المغاربۃ بستی انیسویں صدی عیسوی کےاوخرمیں 95
المغاربۃ بستی انیسویں صدی عیسوی کےاواخر میں 95
پل تعمیر کرنےکےمنصوبہ کافضائل منظرپل اورباب المغاربہ کےدرمیان تعلق 96
حی الشرف کو ساحتہ البراق سےجوڑنےکےلیے عمودی سرنگ کھودنےکامنصوبہ 97
اسرائیل کےایک راستہ پر اسائن بورڈ جس میں عربی خط کو مٹا دیاگیاہے 99
عرب ناموں کو صہیونی ناموں سےتبدیل کرنا 100
وادی مالک کی غیرقانونی عمارتوں کاانہدام 104
14/2/2005ءکواسرائیلی عدالت سےجاری ہونے والاوہ حکم جس میں علاقہ سلوان کی بستیوں وائل اورجمانہ جلاجل کےمکانات کومنہدم کرنےکاحکم دیاگیا 105
رجامحمد کےگھر کوان کےبیٹے ہاشم سےبیچنے کےمعاہدہ کو فوٹو کاپی یہ گھرحی البستان (سلوان )میں گذشتہ صدی کےآغاز میں تعمیر کیاگیاتھا 106
اپارتھائیڈوال کےحدود 120
نقشہ رام اللہ 124

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ روح زبان علماء

مولانا محمد علی جوہر بحیثیت تاریخ اور تاریخ ساز

مولانا محمد علی جوہر بحیثیت تاریخ اور تاریخ ساز

 

مصنف : محمد سرور

 

صفحات: 472

 

مولانا محمدعلی جوہر﷫ (1878ء ۔1931ء)نے ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں مولانا عبدالعلی﷫ کے گھر میں اپنی آنکھیں کھولیں۔مولانا محمدعلی جوہر کے والد محترم مولانا عبدالعلی﷫ بھی ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف ہمیشہ سربکف رہے۔مولانا محمد علی جوہر﷫نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ہندوستانیوں کے رگوں میں حریت کا جذبہ اس قدر سرایت کر دیا تھا کہ ہر آن کی تحریروں سے ہر کوئی باشعور ومحب وطن ہندوستانی انگریزوں کے خلاف لازماً سر بکف نظر آتا تھا۔مولانا نے کبھی بھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آزادیٔ ہند کے لئے کوشاں رہے  آپ تحریک خلافت کے روح رواں اور عظیم مجاہدِ آزادی ۔مولانا محمد علی جوہر کا بچپن نہایت کسمپرسی میں گزرا۔بچپن میں ہی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدین کا سایہ سر پرنہ ہونے کے باوجودآپ نے دینی ودنیوی تعلیم حاصل کی ۔آپ نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اس کے بعد1898ءمیں آکسفورڈیونیورسٹی کے ایک کالج میں ماڈرن تعلیم کی غرض سے داخلہ لیا اور وہاں پر اپنے مذہبی تشخص کو من وعن برقرار رکھتے ہوئے دنیاوی تعلیم حاصل کرتے رہے۔مولانا محمد علی جوہربیک وقت بیدار مغزصحافی بھی تھے، بے مثال قلمکار بھی تھے ، پُرا ثرشاعر بھی تھے، فکر جلیل رکھنے والے ادیب بھی تھے،اور ایک بہترین مقرر بھی تھے۔آکسفورڈ سے واپسی کے بعدآپ رامپور میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے لگے۔اس کے کچھ دنوں بعدآپ اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔آپ کی تحریریں انگریزی اور اردو زبان میں ہندوستانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں۔آپ نے صحافت کے میدان میں میں ایک اردو ہفت روزہ بنام ’’ہمدرد‘‘اور انگلش ہفت روزہ’’کامریڈ‘‘کا اجراء بھی کیا۔مولانا ایک عظیم صحافی تھے ،آپ کی تحریریں اتنی شستہ ہوتی تھیں کہ صرف مسلمان ہی یا ہندوستانی ہی نہیں بلکہ انگریز بھی بصد شوق پڑھتے تھے اور ان پڑھنے والوں میں افسر پروفیسر،طلبہ،اسکالر سبھی طرح کے لوگ شامل ہوتے تھے اور سب آپ کی تحریریں دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔آپ ہندوستان کی آزادی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے اور انگریزوں کے خلاف سربستہ رہے۔جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔ 1919ءکی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔  جامعہ ملیہ دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا۔ آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سےانگلستان گئے۔ آپ نے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’اگر ہندوستان کو آزادی نہیں دو گے تو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دے دو،میں غلام ہندوستان میں جانے سے بہتر سمجھوں گا کہ یہیں مر جاؤں ارو مجھے یہیں دفنا دیا جائے‘‘آخر کار گول میز کانفرنس ناکام ہوئی اور آپ وہیں پر داعی ٔاجل کو لبیک کہہ گئے ۔آپ کے جسد خاکی کو فلسطین لے جایا گیا اور انبیاء کرامؑ کی سرزمین میں آپ کو ابدی آرام کا اعزاز ملا۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’ مو لنا محمد علی جوہر بحثیت تاریخ اور تا ریخ ساز ‘‘ جناب  محمد سرور صاحب  کی مرتب شدہ ہے جس میں  مصنف موصوف نے مولانا محمد علی جوہر ﷫   کی سوانح، خدمات کو  قلمبند کیا ہے۔اللہ  تعالیٰ مولاناجوہر اور مسلمانوں کےلیےالگ خطہ پاکستان کو قائم کرنےوالےدیگر مسلمان موحد  راہنماؤں کی قبور پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔ اور پاکستان کو امن وامان کا گہوارہ  بنائے اور ہمیں دینِ اسلام اور پاکستان کے ساتھ  مخلص  حکمران  نصیب فرمائے (آمین)

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان روح زبان علماء

مولانا محمد علی جوہر

مولانا محمد علی جوہر

 

مصنف : حسن اعرافی

 

صفحات: 74

 

مولانا محمدعلی جوہر﷫ (1878ء ۔1931ء)نے ریاست اترپردیش کے ضلع رامپور میں مولانا عبدالعلی﷫ کے گھر میں اپنی آنکھیں کھولیں۔مولانا محمدعلی جوہر کے والد محترم مولانا عبدالعلی﷫ بھی ایک عظیم مجاہد آزادی تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف ہمیشہ سربکف رہے۔مولانا محمد علی جوہر﷫نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے ہندوستانیوں کے رگوں میں حریت کا جذبہ اس قدر سرایت کر دیا تھا کہ ہر آن کی تحریروں سے ہر کوئی باشعور ومحب وطن ہندوستانی انگریزوں کے خلاف لازماً سر بکف نظر آتا تھا۔مولانا نے کبھی بھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آزادیٔ ہند کے لئے کوشاں رہے  آپ تحریک خلافت کے روح رواں اور عظیم مجاہدِ آزادی ۔مولانا محمد علی جوہر کا بچپن نہایت کسمپرسی میں گزرا۔بچپن میں ہی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔والدین کا سایہ سر پرنہ ہونے کے باوجودآپ نے دینی ودنیوی تعلیم حاصل کی ۔آپ نے الہٰ آباد یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا اس کے بعد1898ءمیں آکسفورڈیونیورسٹی کے ایک کالج میں ماڈرن تعلیم کی غرض سے داخلہ لیا اور وہاں پر اپنے مذہبی تشخص کو من وعن برقرار رکھتے ہوئے دنیاوی تعلیم حاصل کرتے رہے۔مولانا محمد علی جوہربیک وقت بیدار مغزصحافی بھی تھے، بے مثال قلمکار بھی تھے ، پُرا ثرشاعر بھی تھے، فکر جلیل رکھنے والے ادیب بھی تھے،اور ایک بہترین مقرر بھی تھے۔آکسفورڈ سے واپسی کے بعدآپ رامپور میں ایجوکیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دینے لگے۔اس کے کچھ دنوں بعدآپ اسٹیٹ ہائی اسکول کے پرنسپل مقرر ہوئے۔آپ کی تحریریں انگریزی اور اردو زبان میں ہندوستانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی تھیں۔آپ نے صحافت کے میدان میں میں ایک اردو ہفت روزہ بنام ’’ہمدرد‘‘اور انگلش ہفت روزہ’’کامریڈ‘‘کا اجراء بھی کیا۔مولانا ایک عظیم صحافی تھے ،آپ کی تحریریں اتنی شستہ ہوتی تھیں کہ صرف مسلمان ہی یا ہندوستانی ہی نہیں بلکہ انگریز بھی بصد شوق پڑھتے تھے اور ان پڑھنے والوں میں افسر پروفیسر،طلبہ،اسکالر سبھی طرح کے لوگ شامل ہوتے تھے اور سب آپ کی تحریریں دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے تھے۔آپ ہندوستان کی آزادی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے اور انگریزوں کے خلاف سربستہ رہے۔جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔ 1919ءکی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔  جامعہ ملیہ دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا۔ آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سےانگلستان گئے۔ آپ نے لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’اگر ہندوستان کو آزادی نہیں دو گے تو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دے دو،میں غلام ہندوستان میں جانے سے بہتر سمجھوں گا کہ یہیں مر جاؤں ارو مجھے یہیں دفنا دیا جائے‘‘آخر کار گول میز کانفرنس ناکام ہوئی اور آپ وہیں پر داعی ٔاجل کو لبیک کہہ گئے ۔آپ کے جسد خاکی کو فلسطین لے جایا گیا اور انبیاء کرامؑ کی سرزمین میں آپ کو ابدی آرام کا اعزاز ملا۔ زیر تبصرہ  کتابچہ ’’ ہمارے راہنما مولانا محمدعلی جوہر‘‘ جناب حسن اعرافی صاحب کی کاوش ہےجس میں  مصنف موصوف نے مولانا محمد علی جوہر ﷫   کی سوانح، خدمات کو  مختصرا ً  قلمبند کیا ہے۔اللہ  تعالیٰ مولاناجوہر اور مسلمانوں کےلیےالگ خطہ پاکستان کو قائم کرنےوالےدیگر مسلمان موحد  راہنماؤں کی قبور پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔ اور پاکستان کو امن وامان کا گہوارہ  بنائے اور ہمیں دینِ اسلام اور پاکستان کے ساتھ  مخلص  حکمران  نصیب فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 1
بچپن 5
علی گڑھ کالج میں 6
آکسفورڈ میں 9
ملازمت 10
کامریڈ کی ادارت 13
قوم کی رہنمائی کا پہلا امتحان 15
مسلم لیگ کی رہنمائی 17
نظر بندی 24
مسلم لیگ کی صدارت 27
رہائی کی شرط و رہائی 28
امر تسر کانگریس 30
وائسرائے سے ملاقات 37
خلافت کا وفد انگلستان میں 40
جامعہ ملیہ اسلامیہ 51
کراچی کا مقدمہ 57
ہندو مسلم فساد 59
شرعی جمہوریت 60
تمام جماعتوں کی کانفرنس 62
سائمن کمیشن 63
کانگریس سے علیحدگی 64
مسلم کانفرنس 65
آخری سفر 66
چند غزلیں اور چند اشعار 67

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تہذیب عیسائیت معاملات

خونریز صلیبی جنگوں کے سربستہ راز

خونریز صلیبی جنگوں کے سربستہ راز

 

مصنف : سر جارج ڈبلیو کارکس

 

صفحات: 352

 

صلیبی جنگوں اور ان میں حصہ لینے والے انتہاء پسندوں کی تاریخ تقریبا ایک ہزار سال پرانی ہے۔سب سے پہلی صلیبی جنگ، یعنی عیسائیوں کی مسلمانوں کے خلاف جنگ 1096ء میں ہوئی، جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے بیت المقدس چھیننے کی کوشش کی۔1096ءسے 1291ء تک ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرنے کے لیے یورپ کے عیسائیوں نے کئی جنگیں لڑیں جنہیں تاریخ میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگیں فلسطین اور شام کی حدود میں صلیب کے نام پر لڑی گئیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا اور اس دوران نو بڑی جنگیں لڑی گئیں جس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے۔ صلیبی جنگوں کے اصل اسباب مذہبی تھے مگر اسے بعض سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ یہ مذہبی اسباب کچھ معاشرتی پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ پیٹر راہب جس نے اس جنگ کے لیے ابھارا، اس کے تعلقات کچھ مالدار یہودیوں سے بھی تھے۔ پیٹر راہب کے علاوہ بعض بادشاہوں کا خیال تھا کہ اسلامی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد ان کے معاشی حالات سدھر سکتے ہیں۔ غرض ان جنگوں کا کوئی ایک سبب نہیں مگر مذہبی پس منظر سب سے اہم ہے۔ زیر تبصرہ کتاب” خونریز صلیبی جنگوں کے سربستہ راز “ایک انگریز مصنف سر جارج ڈبلیو کارکس کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الحلیم شرر صاحب نے کیا ہے جبکہ نظر ثانی محترم جناب محسن فارانی صاحب نے فرمائی ہے۔ اس کتاب میں صلیبیوں پر مجاہدین کی ولولہ انگیز یلغاروں اور پرستاران صلیب کی اسلام دشمن مکروہ سازشوں وسیاسی چالوں کی خفیہ کہانی بیان کی گئی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف تمنا اس کتاب  کی کہانی 30
باب :1
صلیبی جنگوں کےاسباب
صلیبی جنگیں یعنی ایک عوام پسند لڑائیوں کاسلسلہ 31
صلیبی جنگوں اور قرون وسطی کی دیگر لڑائیو ں میں فرق 31
ان جذبات کا عیسائیوں کی قدیم روایات میں پتہ نہ تھا 33
مقدس پولوس کی مسیحیت 35
شہنشاہ روم کی مسیحیت 35
یونان ومصر کے قدیم مذاہب 37
قدیم مذاہب کامسیحیت پر اثر 38
بلاوارض  مقدس میں رہنے کاخیال بڑھنا 39
ارض مقدس کے شہروں کی زیارت کاشوق زیادہ ہونا 40
روحانی حصہ مذہب کاتدریجا گھٹنا 42
بزرگوں کا زیارت کی اور اجرات دلانا 42
زیارت کے پردے میں تجارت 43
روم وفارس کی طویل لڑائیاں 43
قیصر روم ہ رقل کی معرکہ آرائیاں 44
628 میں اصلی صلیب کاایرانیوں سے واپس ملنا 45
سیدناعمر فاروق ﷜ کے ہاتھوں ارض فلسطین کافتح ہونا 46
عمرفاروق ﷜ کی مجوزہ شرائط بیت المقدس والوں کے لیے 46
سیدنا عمر ؓ کی مسیحیوں کامقتداسفر وینوس 47
زیارت بیت المقدس پر فتح عرب کااثر 48
سلسلہ  زیارت کابلامزا حمت قائم رہنا 48
1010ءمیں مصر کے خلیفہ حاکم کی دست بردبیت المقدس پر 49
زائرین سے یروشلم کے پھاٹکوں پر محصول لیا جانا 50
1000ءکےبعد قیامت کاانتظار 50
سلجو قی ترکو ں کاعروج 51
یونانی شہنشاہ لیکسوس کی رومی ولاطینی عیسائیت سے امداد طلبی 53
1076ءمیں بیت المقدس پر سلجو قیوں کاقبضہ اور مسیحی زائرین پر سختی 53
مشرقی تجارت کا تنزل 54
مغرب کے مسیحیوں کی عام برہمی 55
جوش کو باضابطہ بنانے کے لیے مذہبی منظوری کی ضرورت 56
باب :2
کلر مانٹ کی کو نسل
اگلے پاپاؤں پر رومی اصول شہنشاہی 57
پاپائیت 587ءسے 1085ءتک 58
گریگر ی ہفتم کی تدابیر اغراض 60
اطالیہ کی نارمن مہم (1087ء) 62
پیاسنزا کی کونسل 1095ء 63
کلر مانٹ کی کونسل (1095ء

9اور پطرس کاسفر زیارت بیت المقدس

65
پطرس کاعام لوگوں میں اپنی تقریر سے جوش پیدا کرنا 67
فیوڈل سسٹم اور سیاسی عدم استحکام 69
ہنگامی اصلاحات 71
پوپ اربن کی محرک جنگ جوشیلی تقریر 71
دوران تقریر حاضرین کاجوش اورپوپ کی تلقین 73
حروب صلیبیہ کی وجہ تسمیہ 74
اسقف ایڈ ہیمار سب سے پہلے صلیبی نشان بنانے والا 75
یوم  ایسمپشن -15اگست )کوچ کادن 75
حروب صلیبیہ کے شرکاء کے مختلف نقطہ ہائے نظر 75
گیبرٹ کاخلاف جنگ نظریہ ایمانیت 76
حروب صلیبیہ کے طفیل چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں کاختم ہوجانا 79
پوپ کی طاقت واختیارات میں بے پناہ اضافہ 80
اراضی کا انتقال حفاظت میں دینا یارہن رکھنا 81
صلیبی مہم کی بعض کمزوریاں 82
باب :3
پہلی صلیبی لڑائی
صلیبی جنگجوؤں کے پہلے غول کی روانگی 85
ٹنکرڈ:نیک باپ کاحرامی بیٹا 92
کن اساب اور اثرات سے سپہ گری پیداہوئی 92
اگست 1096ءمیں صلیبی فوج کابماتحتی گاڈ فرے روانہ ہونا 97
درمانڈ واکے ہیوغ کی گرفتاری 98
صلیبی جنگجوؤں کے لیے الیکسوس کی کفالت وسرپر ستی 100
طولوز کے ریمنڈکادشوار گزار سفر قسطنطینہ تک 101
ریمنڈ کاالیکسوس کی فرمانبرداری سے انکار کرنا 102
الیکسوس کابرتاؤ صلیبوں کے ساتھ 103
صلیبی جنگجوؤں کاباسفورس سے اترنا 104
یونانیوں اور لاطینی صلیبیوں کےباہمی مذہبی وثقافتی اختلافات 104
جون 1097ءمیں نیقیہ کامحاصرہ اور اہل شہرہ کاالیکسوس کی اطاعت کرنا 107
کوگنی اور لیڈیا سے انطاکیہ کی طرف کوچ 108
بالڈون کے ہاتھو ں ایڈ فتح 109
صلیبی جنگجوؤں کاانطاکیہ پہنچنا 110
محاصرہ انطاکیہ 111
مسیحی لشکر گاہ میں قحط 112
فاطمی خلیفہ مصر کی سفارت 113
فاطمی خلیفہ مصر کی شرائط نامنظو  ر 113
عیسائیوں اورترکو ں میں سخت لڑائی 114
جون 1098ءمیں انطاکیہ پر بو ہیمانڈ کاقبضہ 117
چار ٹرس کے اسٹیفن نے ساتھ چھوڑ دیا 118
انطاکیہ میں صلیبیوں کی ہمت ٹوٹ گئی 119
متبرک برچھی کابرآمد ہونا 120
معرکہ انطاکیہ 121
ہیوغ کی سفارت قسطنطنیہ کی طرف 124
پوئی کے بشب ایڈ ہیمار کی موت 124
مفتوحین کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں 125
مئی 1099ءصلیبیوں کاانطاکیہ سے آگے بڑھنا 126
جون 1099ءمیں محاصرہ بیت المقدس 126
روضہ مسیح میں داخل ہوکے مسیحی عبادت کرتے ہیں 129
بیت المقدس میں دوسرے دن کا سخت قتل عام 130
سیدنا عمر کے عفوودرگزر اور گاڈ فرے ظلم وستم کامقابلہ 131
بیت المقدس کی بادشاہی گاڈ فرے کے حصے میں 131
میدان عسقلان میں خلافت فاطیمہ مصر کو شکست 132
باب :4
بیت المقدس کی لاطینی سلطنت
گاڈ فرے کی سلطنت 133
بیت المقدس کی مسیحی سلطنت  کے قوانین 133
گاڈ فرے نے جوعدالتیں قائم کیں 134
بوہیمار نڈ کے بقیۃ الذکرحالات (1102ء( 137
یونانی شہنشاہی پر صلیبی لڑائیوں کااثر 138
شہنشاہ الیکسوس کی موت 140
بالڈون دوم شاہ بیت المقدس (1131ءسے 1131ءتک ) 140
1115ءمیں شہر صیداکی فتح 141
صور عسقلان کی فتح (1144ء) 141
فلک بادشاہ بیت المقدس (1131ءسے 1144ءتک ) 141
باب :5
دوسری صلیبی لڑائی
دوسری صلیبی لڑائی کاداعی برنارڈ 143
برنار ڈ کااثر پڑنے کے اسباب 145
فرانس کےبادشاخ لوئی ششم کی موت 145
1146ءویزلے کی کونسل 145
صلیبی لڑائی کی شرکت میں جرمن بادشاہ کو نراڈ کی سستی 148
راہب رڈالف کےاشتعال سے بہودیوں پڑ ظلم وجور 149
کونر اڈالوئیس کی سرداری میں صلیبیوں کو کوچ کرنا 150
قسطنطنیہ کے شہنشاہ مینوئل کی ملاقات سے کونراڈ کاانکار 151
مینوئل بر دغا بازی کاگمان 151
کونراڈ اور الوئیس کاتباہ کن سفر 151
بادشاہ فرانس کابیت المقدس میں پہنچنا 153
سینٹ برنارڈ کو الزام دیا جانا 157
برنارڈ کی لوگوں کو مطمن کرنے کی کو ششیں 157
(1153ء)برنارڈ کی موت 158
باب :6
بیت المقدس کامسیحیوں کےقبضے سےنکل جانا
عسقلان کاعیسائیوں کےقبضہ میں آنا 160
حکومت ہائے مصرو حلب کےساتھ المریق کےتعلقات 161
خلیفہ مصرو اور المریق کی دوستی 164
شیرہ کوہ المریق کی کشمکش -1167) 164
المریق کی مصر سےناکام واپسی 166
مصر میں صلاح الدین کاعروج 167
تیسری صلیبی لڑائی کاجوش پیدا کرنےکی کوشش-1169) 167
صلاح الدین اور سلطان حلب میں باہمی نزاع 168
نورالدین کی زندگی کےاخلاق وعادات 169
معرکہ طبریہ -1187۔/583ھ) 172
صلاح الدین کو اس فتح سے کیافوائد صاحل ہوئے 175
بیت المقدس کامحاصرہ اوراس پر مسلمانوں کاقبضہ 176
بیت المقدس میں صلاح الدین کاداخلہ 180
صلیبی سلطنت بیت المقدس کےزوال 181
باب :7
تیسری صلیبی لڑائی
انگستان کےرچرڈاول کتے خیالی اور کہانیوں کی سی تصویریں 187
تیسری صلیبی لڑائی کےمجاہدوں کاحقیقی چال چلن 188
صلیبی جہاد کے جوش کاانحطاط 189
صلیبی لڑائیوں کی نوعیت بدل جانا 190
انگلستان کاہنری دوم اور بیت المقدس کااسقف اعظم 191
پوپ اربن سوم کی وفات (1187) 193
ہنری دوم اور فرانس کے فلب آگیسٹس کامعرکہ صلیب کو اختیار کرنا(1118) 194
کل جائید اد کادس فیصد صلیبی ٹیکس 194
صلیبی جنگ کے لیے یہودی رقوم 194
ہنری دوم کے خاندان میں ریاست کاجھگڑا -1188) 195
انگلستان میں یہودیو ں سے نفرت 198
قلعہ یارک میں یہودیوں کاانجام 1988
مسیح کے دشمنو  ں کو غارت کردو 199
یہودیوں کاخود کشی کافیصلہ 199
قبول عیسائیت بھی نامقبول ہے 201
فریڈرک اول بار بروسا کاکوچ قسطنطنیہ کی طرف 201
فریڈرک اول موت 203
محاصرہ عکہ (1189) 204
ٹیوٹانک جماعت کاعروج 205
صلیبی جہاد کارخ شمالی بت پرستوں کی طرف 205
سبیلاملکہ بیت المقدس کی موت اور کونر ڈاکادعوائے بادشاہت -1190) 206
انگریز ی بیڑے کاسفر لزبن اور مسینا نک 206
صقلیہ میں رچرڈ اول کاطرزعمل (1190) 208
رچرڈ اور فلپ آکسٹس میں جھگڑا 208
رچڑڈ او رجزیرہ قبرص کا منینی شہنشا ہ میں لڑائی (مارچ1191) 209
رچرڈداعی حرب صلیب کے روپ میں 209
رچرڈ اور فلپ کی باہمی کشمکش 210
رچرڈ کی علامت اور محاصرہ عکہ 211
شرائط جان بخشی 211
فلپ کی فرانس واپسی 219
مقتول مسلمانوں کےپیٹ پھاڑ کر سونا تلاش کیا جاتاہے 219
مسلمانوں کے پتے کابطور ووائی استعمال 220
رچرڈ  کی فتح ارسوف 220
صلاح الدین سے بے نتیجہ مراسلت 221
شاہ انگلستان اورنواب آسٹریا کی باہمی عداوت 222
برادرصلاح الدین کو رچڑڈ کی بہن کے رشتہ کی پیشکش 222
رچڑڈ کابیت المقدس کی طرف بڑھنا 225
زیارت بیت المقد س کی اجازت پر معاہدہ صلح 227
رچڑڈ زیارت بیت المقدس سے اہل فرانس کو روک دیتاہے 229
تیسری صلیبی لڑائی کاانجام 229
رچرڈ کی حسرت زدہ واپسی 230
آسٹریا میں رچرڈ کے چھڑانے کے لیے گئیں (1193) 232
رچرڈ سجینوکی کونسل کے سامنے 233
باب :8
چوتھی صلیبی لڑائی
چوتھی کروسیڈ کے اصلثی محرکو ں کے اغراض 235
سلطان صلاح الدین کی وفات او راس کےنتائج (1193ء) 235
شہنشاہ ہنری ششم کاخاص غرض سے اس صلیبی جہاد کاجوش بڑھانا 236
ہنری ششم کی موت (1197ء) 237
جرمن افواج ارض مقدس میں 237
قلعہ طورون کامحاصرہ (1197ء) 239
شاہ جرمنی کی وفات اور چوتھی صلیبی مہم کااختتام 241
یافرپر مسلمانوں کاقبضہ اور محاربین صلیب کی سے خوری (1197ء) 242
المریق آف لوزگنن بیت المقدس اور جزیرہ قبرص کابادشاہ 242
اصل سیاسی مصلحت 244
باب :9
پانچویں صلیبی لڑائی
پوپ انوسنٹ ثالث کاانتخاب (1198ء) 243
حروب صلیبیہ کی بدولت پوپوں کے روز افزوں اختیارات 244
رومی کلیسا کے دربار کی مالی دیگر معاملات میں عوامی بے اعتباری 246
بے اعتباری  دور کرنے کےلیے انوسنٹ کی کوششیں 246
چند کمیٹیوں کی تشکیل 247
پوپ اور اس کے ماتحتوں کادس فیصد چند کابار 247
عصانہ ہوتو کلیمی 247
نغمہ سنج پطرس کی آخری وصیت 248
پوپ کی نئی چال 249
وعظ کی تاثیر عام کےلیے کرامات کے کرشمے 249
عظیم واعظ کی وفات 250
پانچویں صلیبی لڑائی (1200ء)کے سرردار او رافسر 250
شہرزار پر حملہ کرکے باقی ماند ہ رقم کی ادائیگی کی تجویز 253
نصف مال غنیمت کی شرط پر وینس کی باقاعدہ شمولیت 254
شہنشاہ قسطنطنیہ کےتخت سے اتارے جانے کی بابت اسحاق اینجلوس کی سفارت (1195ء) 254
پوپ کادریا  مظلوم کی بجائے ظالم طاقتوں کاساتھ دیتاہے 255
اہل وینس کااستقلال کے ساتھ  شہرزار رپر فوج کشی کرنے پر اصرار 255
زار اپر حملہ کے مسئلہ پر لشکر میں پھوٹ 256
صلیبی مشن سےانحراف 256
زارا کی فتح (15نوبر 1202ء)کی اور تقسیم غنیمت 257
صلیبی لڑائی کے التواور الیکسوس پھر قسطنطینہ کاشاہنشاہ بنانے کی تجویز 257
الیکسوس  کی مجوزہ شرائط منظور کرنے کی مجبوری 258
پوپ کی پے درپے نافرمانیاں او رنوابوں کی من مانیاں 259
انوسنٹ کی اس مہم کی مزاحمت کے لیے ناکام کو ششیں 260
صلیبی بیڑے کا قسطنطنیہ پہنچنا(1203ء) 261
غاصب الیکسوس کا بھاگ کھڑاہونا 261
صلیبیوں کی موسم سرما قسطنطنیہ میں بسر کرنے کی مجبوری 262
الیکسوس کا تخت سے اتاراجانا اور قتل ہونا 264
اہل ونیس واہل فرانس کی انوکھی سیاست 264
حامیان مغربی کلیسا کی مشرقی کلیسار پر فتح اور انتہائی شرمناک مناظرہ 265
پوپ کاصلیبی محاربین کےبارے میں ننگاتبصرہ 266
نواب فلانڈرس بالڈون  کاشہنشاہ مشرق منتخب ہونا 267
نامس موردسینی کاقسطنطنیہ کااسقف اعظم منتخب ہونا 268
دربار پوپ میں بالڈون اوراہل ونیس کی سفارتیں 269
بالڈون کاخط 269
جواب میں انوسنٹ ثالث کاخط 270
اس صلیبی جہاد سے پوپ اوراہل وینس کو کیا فوائدحاصل ہوئے ؟ 271
باب :10
قسطنطنیہ کی لاطینی سلطنت
یونانیوں او رلاطینیوں کااختلاف 275
قدیم شہنشاہی کی تہذیب منسوخ کرنے کی کو شش 275
یونانی لاٹ پادری کے ساتھ پوپ کاطرز عمل 276
کیتھولک پوپ مغرب کاانتہائی فرقہ وار نہ طرز عمل 277
سلطنت یونان کاسردار ان صلیبی میں تقسیم ہونا 279
نیقیہ طرابزون اور دیوراز د میں ایک نئی شہنشاہی کاپیدا ہونا(1204ء) 280
بلغار یہ کے کالوجان کےحکم سے تھر یس میں لاطینیوں کاقتل عام 281
بادشاہ بالڈون کی گرفتاری (اپریل 1205ء) 282
لاطینی بادشاہ کےجیل میں قتل کامعمہ 282
بالڈون کابھائی ہنری شہنشاہ قسطنطنیہ 283
کالوجان کاقتل ہونا 283
ہنری یونانیوں کی محرومیوں کازالہ کرتاہے 284
کسی فرقے کی سرپرستی کی بجائے مذہبی آزادی دیتاہے 284
ہنری کی وفات (1216ء)او رپطرس کورٹنے کی عبوری بادشاہی 285
نئے بادشاہ پطرس کی گرفتاری اورموت 285
قسطنطنیہ کی بادشاہی ایک جواب 286
بادشاہ رابرٹ او رخانہ جنگی 286
ابتری رابرٹ شہید عشق ہوتاہے 287
ابتری کی اصل وجہ 287
جان برین شہنشاہ قسطنطنیہ 287
بالڈون دوم کی گد گرانہ بادشاہی (1261ء) 288
بت پر ستوں کے سنگ انہیں کاہم رنگ 289
بالڈون مسیح ومریم کےتبرکات فروخت کرتاہے 289
عصاہائے موسی کی لوٹ سیل 289
1255ءمیں واطا طزیس کی موت 290
آسان ترین فتح اور مشرق کی مغرب سے آزادی 290
بالڈون کافرار 291
بالڈون تیرہ سال تک شہنشاہی خطاب سے سہارے جیا 291
مشرق کلیسا کی مغربی کلیسا سے نفرت او ربعد کے اسباب 291
باب ،11
چھٹی صلیبی لڑائی
چھٹی صلیبی لڑائی کےخصائص 293
ارض فلسطین میں قیامت خیززلزلہ 293
سعدی شیراز ی صلیبیوں کاقیدی مزدور 293
سیف الدین کی صلح کی پیشکش مسترد(1204ء) 294
عداد کے سہارے چوپ کاخلاف اسالم جھوٹا پروپیگنڈہ 295
پوپ کاسیف الدین کو مغرورانہ خط 295
رابرٹ آف کورسون 296
لاطران کی چوتھی (1215ء) 296
پہلی صلیبی مہم کی نسبت بعد کی مہمات کی تیاری میں بہت زیادہ وقت لگا 296
پرجوش اینڈرجوبہت جلد تھک کر لوٹ آیا 297
صلح کے لیے مسیحیوں کرحیرت انگیز پیشکش 299
اس پیشکش کے تسلیم کرنے سے صلیبیوں کامجنونانہ انکار 299
فتح ومیاط اور 70000مسلمانوں کی شہادت 299
قاہرہ کی طرف مسیحیوں کاکوچ(1220ء) 300
اہل مصر کانوکھا دفاعی حربہ 300
باربروساکاپوتا فریڈرک دوم 301
فریڈرک کاتالمیس (بندرگاہ عکہ)میں اترنا 310
فریڈرک بیت المقدس میں 312
پوپ گریگوری نہم کااس معاہدے کو باطل قرار دینا 313
شہنشاہ کاصلیبیوں کے ساتھ یورپ واپس آنا 314
باب :12
ساتویں صلیبی لڑائی
رومیوں کابادشاہ چرڈ ارل آف کارنوال 317
پوپ کے تحصیلداروں پر بے جاتصرف کاالزام 317
فریڈرک کی صلح کو سبوتاثر کرنے کے لیے زائرین کےقتل کی افواہیں 318
پوپ اور شہنشاہ کاجدید صلیبی لڑائی سے انکار (1230ء) 318
فرانسیسی صلیبیوں کی عکہ پہنچ کرشرمناک ناکامی 318
انگلستان کے صلیبی دمشق اور مصر کےتنازغ سے فائدہ اٹھاتے ہیں(1240ء) 319
اہل خوارز م کاصلیبی مقبوضہ فلسطین پر حملہ (1242ء) 319
اہل خوارز م کاسلطان مصرسے اتحاد اور جلد ہی اختلاف 320
باب :13
آٹھویں صلیبی لڑائی
صلیبی محاربین کےاچھے اور برے اوصاف 337
ٹیونس میں وباکاحملہ او رلوئی کی وفات(1270ء) 340
انگلستان کےہنری سوم کے بیٹے  ایڈورڈکا ناصرہ پر قبضہ (1271ء) 340
ایڈورڈ کاانتہائی ظلم اور اس پر فدائی حملہ 341
یورپ واپس آنا(1272ء) 341
یروشلم کی برائے نام سلطنت مجاہد مسترد کرتےہیں 343
ہنری دوم بہانہ کرکے فرار 344
شکست خوردہ مجاہدین صلیب کی خودکوشی 344
باب :15
صلیبی لڑائیوں کےبعد کاحال
صلیبی لڑائیوں کےجوش کارفتہ رفتہ زائل ہوجانا اور پوپوں کی انتہاپسندی کافطری ردعمل 345
فرانس اورانگلستان میں صلیبی محاربین پر پابندیاں گرفتاریاں اور جائیدادوں کی ضبطی 346
1208ءالغایت 1249ءالحسیشین صلیبی لڑائیاں 347
بچوں کی صلیبی لڑائیاں 349
صلیبی لڑائیوں کےیورپی تہذیب وتمدن پر اثرات 350

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam حج سفرنامے

خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفرنامہ شیخ ابن بطوطہ

خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفرنامہ شیخ ابن بطوطہ

 

مصنف : عبد الرحمن خان

 

صفحات: 240

 

چودہویں صدی کے مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنی زندگی کے 28سال سیاحت میں گزارے ۔ان کا مکمل نام ابوعبداللہ محمد ابن بطوطہ ہے۔ مراکش کے شہر طنجہ میں1304ء کو پیدا ہوا اور 1378ء میں وفات پائی۔ ادب، تاریخ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا۔ اس کے بعد شوق ِسیاحت میں افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا۔ جزائر شرق الہند اور چین کی سیاحت کی۔ عرب، ایران ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان کی سیر کی۔ چار بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوا۔ محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آیا تو توسلطان نے اُس کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی کے عہدے پر سرفراز کیا۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت میں اس نے 75ہزار میل کاسفر کیا۔ آخر میں فارس کے بادشاہ ابوحنان کے دربار میں آیا۔ اور اس کے کہنے پر اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔یورپ والوں کو انیسویں صدی میں ابن بطوطہ کے سفرنامہ کا علم ہوا۔ اسکے بعد اسکے کئی ترجمے یورپی زبانوں میں شائع ہوئے۔ اردو میں بھی کئی ترجمے شائع ہوئے۔ سب سے پہلا ترجمہ 1898 میں محمد حسین نے لاہور سے شائع کیا تھا۔ اسکے علاوہ کئی خلاصے بھی شائع ہوئے۔ زیر نظر کتاب ’’ خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفر نامہ شیخ ابن بطوطہ‘‘ سفر نامہ ابن بطوطہ کے ایک خلاصہ کااردو ترجمہ ہے مولوی عبدالرحمن خاں صاحب (سابق پرنسپل جامعہ عثمانیہ حیدر آباد،انڈیا) نے اسے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔موصوف نے اردوترجمہ کےعلاوہ تمہید میں سفرنامہ کےاسلامی عہد اوراس کےتاریخی اور سیاسی پس منظر پر جوکلام کیا ہے اس سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ سفر نامہ جہاں بے حددلچسپ اور دلآویز ہے ۔نایاب وبیش قیمت معلومات کاگنجینہ بھی ہے ۔ ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں۔ جوکسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 7
نقشہ ابن بطوطہ 41
سفر ایران 59
سفر نامہ طولیہ 80
سفر ہند 119
تنقید منجانب راقم الحروف 132
افریقہ میں ابن بطوطہ کا سفر 227

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ اسلام حج خلافت راشدہ سنت

خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں

خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں

 

مصنف : ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

 

صفحات: 265

 

نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیق  اولین اور سیدنا علی  آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔ خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اوراسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آگئے۔خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ تھا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی، امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ زیر تبصرہ کتاب “خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں” انڈیا کے معروف عالم دین سابق صدر شعبہ ادارہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ڈاکٹر پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے خلافت راشدہ کے پس منظر میں خلافت اموی کا جائزہ لیا ہے کہ ان دونوں خلافتوں کیا کیا  فرق تھا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 7
صحابہ کرام خلافت معاویہ میں 19
خلافت معاویہ کااصل آغاز 21
تجزباتی مطالعہ 51
ازواج مطہرات 52
بدری صحابہ کرام 56
دوسرے قدیم اورجلیل القدر صحابہ 57
فضلاء صحابہ 58
خلافت معاویہ میں صحابہ کے 60
اولین خلافت امویہ کیاسلامیت 62
انتظامی مناصب پر صحابہ کرام کی تقرری 63
عمال معاویہ میں صحابہ کرام 64
فہرست عمال معاویہ 65
فہرست صحابہ درعمال معاویہ 66
تنقیدی تجزیہ 84
انتظامی تجزیہ 88
سالاران فوج 89
خوارج کےخلاف 93
حضرت معاویہ ؓکےوالیان ولایت 94
ولاۃ کوفہ 95
ولاۃ بصرہ 95
ولاۃ کوفہ وبصرہ 96
ولاۃ مصرہ افریقیہ 97
ولاۃ مدینہ منورہ 97
ولاۃ مکہ مکرمہ 98
شامی صوبوں کےوالی 98
حمص کےگورنر 98
عراقی امصار کےولاۃ 98
یمن کےولاۃ 98
غزوات الہند کےولاۃ 98
ولاۃ مشرقی صوبہ جات 99
آرمینیہ کے گورنر 99
خراسان کےچار ارباع 99
سجستان کےگورنر 100
آذر بیجان کےگوررنر 100
فارس کےگورنر 100
یمامہ کےگورنر 100
ایرانی امصار کےولاۃ امراء 100
ولاۃ عمال اورسالاران لشکر کاقبائلی تجزیہ 100
انصاری امراء عمال وولاۃ 104
بدوی قبائل عرب کےعظیم ترین اکابر 105
خلافت معاویہ میں دیگر عمال صحابہ 111
امراء شرط 111
اہم نکات ونتائج 112
صحابہ کرام کی انتظامی وابستگی کی حکمت عملی 113
والیان وسالاران اورصحابہ کرام 114
صحابہ بطور عمال خلیفہ 116
خلافت معاویہ میں امراء حج 118
خلافت معاویہ اوراقامت حج 118
خلافت معاویہ کےامراء حج 121
خلافت معاویہ میں یزید کی امات حج 124
تجزیاتی مطالعہ 127
والیان مدینہ منورہ ہی امراء حج ہوتے تھے 128
خلافت معاویہ میں غزوات روم 130
دیگر تاریخ ماخذ اسلامی 134
روایات کاموزانہ 141
رومی غزوات کےبنیاد ی حقائق 142
دوسرے امراء /صحابہ غزوات روم 148
اولین غزوہ قسطنطینہ 149
غزوہ قسطنطینہ کی امارت وسالاری 154
تاریخ غزوہ 157
نبوی وعدہ مغفرت 157
متاخر خلافت اموی میں غزوات روم 161
مختصر تجزیہ 169
خلافت یزید اورصحابہ کرام 175
یزید کی ولی عہدی کی نوعیت 178
معاصرین صحابہ کرام کانظریہ 179
خلافت یزید ین معاویہ کاآغاز 180
خلافت یزید میں صحابہ کرام 187
انتظامیہ یزید میں صحابہ کرام 188
سالاران لشکر 189
مشرقی محاذ :خراسان وبحستان 190
مغربی محاذ افریقیہ 193
عہد یزید میں غزوات روم 195
خلافت یزید میں امرءحج 203
اموی خلافت میں صحابہ کرام 205
اموی خلافت کےدور اول میں صحابہ کرام 208
خلافت معاویہ یزید کےدیگر صحابہ کرام 209
خلافت معاویہ کےدیگر صحابہ کرام 210
خلافت یزید کےدیگر صحابہ کرام 219
خلافت اموی /مروانی کےصحابہ کرام 232
اموی خلافت میں وفا ت بانے والے 233
خلافت مروانی میں صحابہ کرام 236
تنقیدی تجزیہ 339
خلافت مروان وعبدالملک 248
خلافت ولید وسلیمان وعمر ثانی وہشام 251
حسن اختتام 251
خلافت اسلامی کی تعریف ومقصود 252
خلیفہ راشد کی صفات 254
انعقاد خلافت کےطریقے 255

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان عالم اسلام و مغرب عالم کفر

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپی سازشیں

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یورپی سازشیں

 

مصنف : علامہ جلال العالم

 

صفحات: 163

 

زیر نظر کتاب میں فاضل مولف محمد طاہر نقاش نے امت مسلمہ کو جھنجھوڑنے اور ہوش میں لانے کے لیے دور جدید میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاریٰ کی طرف سے برپا کی جانے والی سازشیں منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ ان سازشوں کی تفصیلات پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور موجودہ رونما ہونے والی زمینی و جغرافیائی اور فکری تبدیلیوں کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ آج بھی عالم کفر عالم اسلام کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس نے عالم عرب کے متعلق، فلسطین اور پھر پاکستان کے خلاف کیا کیا سازشیں کیں اور کر رہا ہے۔ اسی طرح اس نے ترکی سے خلافت ختم کر کے مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لیے کیا کیا سازشوں کے جال بنے۔ اور اس طرح کے کئی موضوعات جو اسلام اور مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور مسلمانوں  کے خلاف عالم کفر کی بپا ہونے والی سازشوں سے آگاہی کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ کتاب میں اس قدر سنسنی خیز معلومات ہیں کہ پڑھنے والے حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ماضی قریب میں ان سازشوں کی ایک جھلک اس کتاب میں دکھائی گئی ہے تاکہ قارئین موجودہ حالات کے پس منظر میں عالم کفر کا اصل چہرہ اور عزائم ملاحظہ کر سکیں۔
 

عناوین صفحہ نمبر
حرف تمنا 7
تقدیم 9
ایک عظیم اقتباس 49
تاثرات ومشاہدات 55
پکار 58
دشمنان اسلام کا بغض وکینہ 61
سپین کے مسلمانوں پر کیا بیتی 66
سپین کی تفتیشی عدالتیں 67
خوفناک آلات 72
اسلامی ممالک کی تفتیشی عدالتیں 74
مجاہد جلیل جاوید خان امامی 75
حبشہ سے کچھ او رمثالیں 81
بنگلہ دیش 86
اسلام کے بارے میں مغرب کا  نقطہ نظر 90
اسلام ایک آہنی دیوار 97
یورپ کی اسلام دشمنی 105
اسلام کو تباہ وبرباد کرنے کی یورپی سازشیں 117
اسلام کو تباہ کرنے کے یورپی منصوبے 123
اسلامی حکومت کا خاتمہ 124
قرآن پاک کو ختم کرنے کا منصوبہ 127
مسلمانوں کی وحدت اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا 136
مسلمانوں کے اندر دین کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنا 140
عربوں کو کمزور اور تباہ حال بنائے رکھنا 143
کیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یورپ کے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی واقع ہورہی ہے؟ 150
خاتمہ 160

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز