Categories
Islam پاکستان تحقیق حدیث رشد علماء محدثین مفسرین

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 3 ، جنوری 2015ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 3 ، جنوری 2015ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 136

 

محترم قارئین کرام! اس وقت رشد کا تیسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’غیر سودی بینکاری: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے مرتب کیا ہے۔ اسلامک بینکنگ یا غیر سودی بینکاری عصر حاضرکے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ اس وقت پاکستان میں غیر سودی بینکاری کے حوالے سے تین حلقے پائے جاتے ہیں۔ ایک حلقہ تو ان اہل علم کا ہے جو غیر سودی بینکاری کو جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرا حلقہ ان علماء کا ہےجو غیر سودی بینکاری کو حرام کہتے ہیں۔ اب جو غیر سودی بینکاری کو حرام بتلاتے ہیں، ان میں بھی دو گروہ ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری اپنے طریقہ کار میں غلط ہے، اگر اس کا طریقہ کار درست کر لیا جائے تو یہ جائز ہو جائے گی جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری کسی صورت ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ بینک کا ادارہ تجارت اور بزنس کے مقصد سے بنایا ہی نہیں گیا بلکہ بینک کا اصل کام تمویل اور فنانسنگ ہے۔ پس اسلامی تجارت کے باب میں بینک سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنا عبث اور بے کار ہے۔ اس مقالہ میں تینوں قسم کے گروہوں کے موقف کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔  شمارے میں دوسرے مقالے کا موضوع ’’استدراکات صحابہ کی نوعیت اور تحقیقی مطالعہ‘‘ ہے۔ احادیث رسول ﷺ کی فنی تحقیق میں روایت کے علاوہ ایک اور اصطلاح درایت بھی استعمال ہوتی ہے۔ محدثین کے نزدیک درایت کا معنی حدیث کی صحت کو اس کی سند اور راویوں کی عدالت کے علاوہ اس کے متن میں موجود علل اور شذوذ کے اعتبار سے بھی پرکھنا ہے۔ یہ درایت کا روایتی تصور ہے جبکہ درایت کا جدید تصور یہ ہے کہ جو حدیث آپ کو قرآن مجید اور عقل عام کے خلاف معلوم ہو تو اس کو مردود قرار دے دیں۔ اور قرآن مجید سے مراد ناقد کا اپنا فہم قرآن جبکہ عقل عام سے مراد ناقد کی اپنی عقل ہوتی ہے۔ درایت کے اس جدید تصور کو برصغیر پاک وہند میں مولانا تقی امینی ﷫اور عرب دنیا میں شیخ محمد الغزالی﷫ نے پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں مقالہ نگار نے مولانا تقی امینی ﷫ کے تصور درایت کا تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ تیسرے مقالے کا موضوع ’’تفسیر قرآن بذریعہ نظم قرآن اور مولانا فراہی کے تفسیری تفردات‘‘ ہے۔ مولانا فراہی نے برصغیر پاک وہند میں قرآن فہمی کے ایک مستقل مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی کہ جس کا اصل الاصول نظم قرآن ہے۔ مولانا فراہی قرآن مجید کی تفسیر وتوضیح میں نظم قرآن مجید کو روایات اور احادیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس مقالہ میں مولانا فراہی کے چند ایک ایسے تفسیری تفردات پر بحث کی گئی ہے کہ جن میں انہوں نے روایت کو ترک کیا ہے اور اپنے فہم سے حاصل شدہ نظم قرآن کو بنیاد بنا کر ایک نئی تفسیر پیش کی ہے کہ جس تفسیری رائے کا اظہار ان سے پہلے کسی مفسر نے نہیں کیا ہے۔ مقالہ میں جمہور مفسرین کے روایتی مکتبہ تفسیر اور مولانا فراہی کی تفسیر کے منتخبات کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا گیا ہے اور راجح تفسیر کی طرف رہنمائی بھی کی گئی ہے۔ چوتھا مقالہ ’’السنۃ بین اہل الفقہ واہل الحدیث: شیخ محمد الغزالی﷫ کی تصنیف کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ شیخ محمد الغزالی﷫ ایک مصری عالم دین ہیں کہ جنہوں نے اپنی کتاب ’’السنۃ بین اہل الفقہ واہل الحدیث‘‘ میں محدثین کے تحقیق حدیث کے معیارات پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کے جواب میں عالم عرب میں محدثین کے تحقیق حدیث کے معیارات کے دفاع میں کئی ایک کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔ اس مقالے میں شیخ محمد الغزالی﷫ اور ان کے ناقدین میں سے شیخ فہد بن سلمان العودۃ، شیخ صالح بن عبد العزیز آل الشیخ اور شیخ ربیع بن ھادی المدخلی کی تحریروں کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ شیخ محمد الغزالی﷫ کی محدثین کے معیار تحقیق پر کی گئی تنقید متوازن نہیں ہے۔

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان علوم قرآن

قرآن کا راستہ

قرآن کا راستہ

 

مصنف : خرم مراد

 

صفحات: 175

 

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔اہل علم نے  عامۃ الناس  کے لئے قرآن فہمی کے الگ الگ ،متنوع اور منفرد قسم کے اسالیب اختیار کئے ہیں ،تاکہ مخلوق خدا اپنے معبود حقیقی کے کلام سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق  اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ” قرآن کا راستہ ” محترم خرم مراد صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن مجید کی عظمت وشان کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی مولفین کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 11
پیش لفظ 13
عرض مترجم 19
باب اول:زندگی کاسفر
ازلی وابدی زندہ حقیقت 21
نئی دنیا آپ کی منتظر ہے 25
قرآن کیاہے؟ 26
بےحساب رحمت وعظمت 28
خطرات اوررکاوٹیں 28
تلاوت 30
باب دوم:بنیادی شرائط
ایمان :خداکاکلام 33
نیت کااخلاص 36
شکراورحمد کی کیفیت 39
قبولیت اوربھروسا 41
اطاعت اورتبدیلی 43
رکاوٹیں اورمشکلات 44
اعتماد اوربھروسا 45
باب سوم: اپنے قلب کی شرکت
قلب کیاہے؟ 49
قلبی داخلی کیفیات 51
شعور کی حالتیں
داخلی شرکت کاقرآنی معیار 52
اللہ حاضرہ وناظر  ہے 53
اللہ سےسننا 56
اللہ کابراہ راست خطاب 57
ہرلفظ آپ کےلیے 57
اللہ سےبات چیت 58
اللہ کےانعامات کی امید اوربھروسا 59
قلب اوربدن کےافعال
آپ کےدل کارد عمل 61
آپ کی زبان کارد عمل 63
آپ کی آنکھوں میں آنسو 64
آپ کےجسم کےانداز 65
ترتیل کےساتھ تلاوت 66
تزکیہ نفس 68
دعا 69
اللہ کی حفاظت 70
قرآن کی برکات کی طلب 71
عمومی دعائیں 73
سمجھ کر پڑھنا 74
باب چہارم :تلاوت کےآداب
کتنی مرتبہ پڑھیں؟ 77
کتنا پڑھا جائے؟ 78
کب پڑھا جائے ؟ 79
صحت کےساتھ تلاوت 81
حسن قرات 82
توجہ سےسننا 82
ختم قرآن 83
حفظ قرآن 85
باب پنجم :مطالعہ وفہم
اہمیت وضرورت 87
ذاتی مطالعہ 88
مطالعہ کےخلاف استدلال 89
قرآن کازور 92
دوراول کاطریقہ 94
ذاتی مطالعے میں اندیشے 95
فہم کےدرجات
تذکر 96
تدبر 98
آپ کےمقاصد 99
فہم کی سطحیں اورشکلیں 99
بنیادی شرائط
عربی 100
پوراقرآن پڑھنا 100
تفاسیر کامطالعہ 102
منتخب حصوں کامطالعہ 103
بار بار پڑھنا 104
متلاشی ذہن 105
مطالعہ کےمعاونات 106
مطالعہ کیسےکریں؟ 107
معنی کیسےسمجھیں؟ 109
عمومی اصول
زندہ حقیقت کےطورپر سمجھے 110
کل کےجزو کےطورپر سمجھے 111
مربوط یک جامتن کےطورپر سمجھے 113
اپنےمکمل وجود کےساتھ سمجھے 113
قرآن جوبتاتاہے اسے سمجھئے 114
متفق علیہ آراءکی حدود میں سمجھئے 114
صرف قرآنی معیارات سےسمجھئے 114
قرآ ن کوقرآن سےسمجھئے 116
حدیث اورسیرت سےسمجھئے 116
عربی زیان سےسمجھئے 116
طریق کارکےلیے ہدایات
الفاظ کامطالعہ 118
متن کاسیاق 118
تاریخی پس منظر 118
اصل معانی 119
اپنی صورت حال پر انطباق 119
دوراز کار اوغیرمتعلق معانی 119
علم اورذہانت کی سطح 120
موجودہ انسانی علم 120
جوآپ سمجھ نہیں سکتے 120
سیرت پاک ﷺ 121
باب ششم:اجتماعی مطالعہ
اہمیت اورضرورت 123
اجتماعی مطالعے کےطریقے 125
چاربنیادی ضابطے 126
حلقہ مطالعہ 127
شرکا 127
حلقہ مطالعہ کس طرح چلایاجائے 127
درس کی تیاری 128
درس دینےکاطریقہ 129
باب ہفتم :قرآن کےمطابق زندگی
قرآن کی پیروی 133
قرآنی مشن کی تکمیل 136
ضمیمہ نمبر 1:
رسول ﷺ اللہ خاص طورپر کون سےحصےپڑھتےتھے؟ 143
مختلف نمازوں میں آپﷺ کیاپڑھتےتھے؟ 144
آپ ﷺ خاص مواقع پر کیاپڑھتےتھے ؟ 147
ضمیمہ نمبر 2:
مطالعہ قرآن کےلیے مجوزہ نصابات 155
مختصر نصاب :12منتخب حصے 158
طویل نصاب :40متخب حصے 164
ضمیمہ نمبر 3:
مطالعے کی معاونات 167
اشاریہ :آیات قرآنی 169

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam رشد زبان فہم قرآن ، قواعد و لغات قرآن

قرآنی الفاظ کے مادے

قرآنی الفاظ کے مادے

 

مصنف : پروفیسر محمد رفیق چودھری

 

صفحات: 218

 

قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتابِ ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخِ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔  یہ کتاب ِعظیم عربی زبان میں  نازل ہوئی اور عربی نہایت جامع وبلیغ زبان ہے۔اس کا وسیع ذخیرۂ الفاظ ہےاور اس میں  نئے  الفاظ بنانے کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔اس کےہر اسم اور فعل کا عام طور پر ایک مادہ(Root)ہوتا ہےجس میں اس کےبنیادی معنی پوشیدہ ہوتے ہین ۔اگر کسی لفظ کےبنیادی معنی معلوم ہوں تو اس سے بننے والے تمام اسماء  ، افعال اور مشتقات کا مطلب سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔قرآن مجیدیہ واحد آسمانی  کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان  عربی  میں  محفوظ  ہے ۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا  انکار کفر کے مترادف ہے اس  کی  تلاوت باعث برکت وثواب ہے  ،اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل  فلاح  وکامرانی کی  ضمانت  ہے ۔کتاب اللہ  کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ  سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج  الحمد للہ  اردو  میں  قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر موجود  ہیں،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا  جو مقام ومرتبہ ہےوہ  محض  ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے  مختلف اہل علم  نے  تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے  کوششیں کی  ہیں ۔جن سے متفید ہوکر   قرآن مجیدمیں  موجود احکام الٰہی  کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’قرآنی الفاظ کے مادے  ‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔یہ  قرآن  مجید  کاترجمہ سکھلانے والے  جدید کتاب ہے ۔ جس کا  بنیادی مقصد براہِ  راست قرآن فہمی ہے  ۔جسے   مصنف  موصوف  نے نہائت عمدہ اسلوب  سے  مرتب کرتے ہو  ئے اس  میں تمام  قرآنی  الفاظ کےمادے  لکھ دئیے  ہیں ۔یہ کتاب  قرآن فہمی کے طلبہ وطالبات کےلیے   معاون  ثابت  ہوسکتی ہے۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب سے  گہرا  شغف ہے ۔ اور کئی کتب کے مصنف ومترجم ہونے کے علاوہ  قرآن مجید کے مترجم ومفسر بھی ہیں۔ اور ماشاء اللہ قرآن کی  فہم وتفہیم کے   موضوع پرنوکتب کے منف ہیں  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 5
اشارات و محذوفات 7
ا 9
ب 52
ت 56
ث 88
ج 89
ح 92
خ 96
د 99
ذ 101
ر 102
ز 105
س 107
ش 112
ص 114
ض 116
ط 117
ظ 118
ع 119
غ 124
ف 125
ق 128
ک 133
ل 137
م 138
ن 159
و 170
ہ 172
ی 173

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam فہم قرآن ، قواعد و لغات قرآن

قرآن فہمی کے بنیادی اصول

قرآن فہمی کے بنیادی اصول

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

 

صفحات: 170

 

قرآن فہمی کے حوالہ سے صحابہ کرام، سلف صالحین اور بعد کے ادوار میں متعدد صورتوں میں کام ہوتا رہا ہے اور اگرچہ فی زمانہ مسلمانوں کی قرآن سے دوری واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی تاحال بے شمار لوگ اور ادارے قرآن فہمی کے لیے کام رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں قرآن فہمی کے ذیل میں جو اہم مضامین ماہنامہ ’محدث‘ میں شائع ہوئے ہیں ان کو یکجا شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان مضامین کی افادیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یہ رشحات قلم امام ابن تیمیہ، علامہ ناصر الدین البانی، محمد عبدہ الفلاح، مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، مولانا عبدالغفار حسن رحمہم اللہ اور مولانا زاہد الراشدی جیسی ہمہ گیر شخصیات کے ہیں۔ پہلے باب میں فہم قرآن کے بنیادی اصولوں پر مضامین جمع کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے باب میں فہم قرآن میں حدیث نبوی کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرا اور آخری باب قرآن نافہمی کے اسباب پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں لاہورمیں فہم قرآن کے اداروں پتے درج کیے گئے ہیں اور اس موضوع پر دستیاب مضامین اور کتب کی فہرست بھی دی گئی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 7
تعارف مقالہ نگار 8
باب1۔فہم قرآن کے بنیادی اصول
فہم قرآن کے بنیادی اصول 9
فہم قرآن اور لغت عربی 33
تفسیر قرآن کا صحیح طریقہ 41
قرآن فہمی کے بنیادی اصول 55
باب2۔فہم قرآن اور حدیث نبوی ﷺ
قرآن فہمی میں حدیث نبوی ﷺ کی اہمیت 85
تفسیر قرآن اور حدیث وسنت 97
قرآن فہمی میں حدیث وسنت کا کردار 113
قرآن فہمی میں تعامل امت کا کردار 113
باب3۔قرآن نافہمی کے اسباب
قرآن نافہمی کے اسباب اور اس کا حل 144
قرآن فہمی کی راہ میں موانع
اشاریہ کتب ومضامین برفہم قرآن کریم

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam فہم قرآن ، قواعد و لغات قرآن

قرآن آسان

قرآن آسان

 

مصنف : ڈاکٹر ملک غلام مرتضی

 

صفحات: 347

 

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔اہل علم نے عامۃ الناس کے لئے قرآن فہمی کے الگ الگ ،متنوع اور منفرد قسم کے اسالیب اختیار کئے ہیں ،تاکہ مخلوق خدا اپنے معبود حقیقی کے کلام سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ” قرآن آسان ” ڈاکٹرملک غلام مرتضی ،حافظ محمد زید ملک اور حافظ محمد بلال ملک کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے قرآن مجید کے زیادہ استعمال ہونے والے 270 الفاظ کو منتخب کر کے انہیں مختلف مشتقات کے ساتھ اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کی عملی مشق ہو جاتی ہے ،اور ان کے دعوے کے مطابق قرآن مجید کا 70 فیصد ذخیرہ ہمارے حافظے میں جاگزیں ہو جاتاہے۔ یہ کتاب ایک دس روزہ کورس پر مشتمل ہے،اگر کوئی شخص ہمت کر کے بیٹھ جائے اور روزانہ دو سبق نحو وصرف کے اور 27 الفاظ قرآن مجید سے یاد کر لے تو دس دن میں یہ کتاب بآسانی ختم ہو سکتی ہے۔اللہ تعالی مولفین کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 8
قرآن مجید فہم و تدبر سے پڑھنے کی اہمیت 15
صرف و نحو 31
پارۂ اول (معانی و قرآنی استعمالات) 90

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل روح زبان علماء محدثین

قرآن آپ سے کیا کہتا ہے

قرآن آپ سے کیا کہتا ہے

 

مصنف : محمد منظور نعمانی

 

صفحات: 259

 

ایک زمانہ تھا کہ عام مسلمان قرآن سے بالکل بے نیاز ہوا کرتے تھے۔ گھروں میں قرآن بس تبرک کے طور پر رکھا جاتا تھا۔اس کے ترجمے کا رواج نہ تھا۔ چنانچہ عربی زبان سے ناواقف لوگوں کے لیے اسے سمجھنے کا کوئی سوال نہ تھا۔ عوام الناس میں سے زیادہ نیک لوگ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے بلا سمجھے اسے پڑھا کرتے تھے، جبکہ دیگر لوگ بالعموم مردوں کو بخشوانے اور دلہنوں کو قرآن کے سائے میں رخصت کرنے کے لیے اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ علماء و محدثین کی کوششوں سے ہمارے ہاں قرآن کو ایک مختلف حیثیت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ علما میں قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر کرنے کا چلن عام ہوا۔ ان کے کیے ہوئے ترجمے گھروں میں رکھے اور پڑھے جانے لگے۔ آہستہ آہستہ قرآن فہمی کی تحریکیں اٹھیں۔ معاشرہ میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا رویہ عام ہوا۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟‘‘مولانا محمد منظور نعمانی کی ہے۔ جس میں قرآن کریم کی سادہ اور بلیغ دعوت کوقرآن کریم ہی کے الفاظ میں مختصر تشریحات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر انسانوں کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے یہ کتاب انگریزی اور بعض دوسری ملکی زبانوں میں اس کے تراجم اور اشاعت کا مسئلہ زیرِ غور ہے۔مزید اس کتاب میں قرآنی آیات کے ترجمہ میں لفظی ترجمہ اور نحوی ترکیب کی زیادہ پابندی نہیں کی ہے بلکہ ناظرین کی سہولت کا خیال رکھا ہے۔ ہم مصنف کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔

عناوین صفحہ نمبر
ازمولف 5
دیباچہ طبع اول 14
خداکی ہستی 17
خداکی صفات )صفات الہیٰ کےبارہ میں قوموں کی عام غلطی اورقرآن مجیدکی اصلاح 24
اللہ تعالیٰ علیم کل ہے کوئی چیزاس کےعلم سےباہرنہیں 28
اللہ تعالیٰ ہرچیزپرقادرہےکوئی چیزاس کی قدرت سےباہرنہیں 30
وہی سب کاخالق ورازق اورپرردگارگارکاہے 30
کسی اورکےاختیارمیں کچھ  بھی نہیں 37
اللہ تعالیٰ بڑی رحمت ولااورنہایت مہربان ہے 39
گناہوں کابخشنےوالاتوبہ قبول کرنےوالاہے 39
اللہ کی رحمت ومغفرت کےحقدار کون سے گنہگارہیں 45
اللہ تعالیٰ میں رحمت کےساتھ عدالت بھی ہے 46
تنزیہ وتقدیس 48
قرآن مجیدکی چندجامع الصفات آیات 51
توحید 55
توحیدذاتی اورتوحیدالوہیت 57
توحیدصفات وافعال 58
ساری کائنات پرصرف اللہ ہی کاحکم چلتاہے 59
اورسب کچھ صرف اسی کےاختیارمیں ہے 59
نظام عالم کو قائم رکھنےوالاصرف اللہ ہے 61
صرف اللہ ہی زندہ جاوید ہےباقی سب فانی ہے 61
صرف اللہ ہی عالم الغیب اورعلیم کل ہے 62
اللہ ہی سب سےزیادہ محبت اورخوف کےقابل ہے 64
وہی توکل اوراسرارلگانےکےقابل ہے 64
وہی حاکم ہےاسی کاحکم واجب العمل ہے 65
تووحیدکےبارےمیں قرآن مجیدکاسب سےہم مطالبہ 65
توحیدکاآخری تکمیلی سبق 73
شرک اورمشرکین کی سخت مذمت اوران سےاعلان نےزاری 73
آخرت قرآن مجیدکےیقین آخرین دلائل 80
آخرت کیوں ضروری ہے 81
آخرت ضروری ہونےپرقرآن مجیدکی ایک دوسری دلیل 84
آخرت کےبارےمیں جاہلانہ واحمقانہ شبہات اورشیطانی وساوس 87
منکرین آخرت کےلیے بےبنیادوشبہات کاجواب 89
آخرت میں کیاکیاہونےوالاہے 92
آخرت کی منزلیں 93
جنت اوردوزخ 99
جنت 103
نبوت ورسالت 106
نبی کی حیثیت اورمقام نبوت 114
تفریط اوربےادبی کی گمراہی 114
افراط اورغلوکافتنہ 120
خداوندی ہدایت کی اطاعت وپیروی 126
عمل صالح 130
تقوی 136
تقوی ہی اصل نیکی صالح کی روح ہے 142
تقوےکی نشانیاں اوراہل تقوی کےاوصاف 149
خداکی عبادت 154
بندوں کی خدمت اورحسن سلوک 165
اہل وعیال 168
عام انسانوں کےحقوق اورانکےساتھ حسن سلوک 170
اسلامی برداری کےخاص حوقق 172
اخلاق حسنہ 176
صبر 176
صبروالوں کاانجام اورمقام 180
سچائی اوراست بازی 181
وفائے عہد 185
امانت 187
عدل وانصاف 189
سماحت وسخاوت 183
ایثار 198
بخل 198
استغناءوقناعت 200
توکل 201
تواضع 202
تکبروغرور 205
حلم درگزر 207
جرات وشجاعت 211
وقاروخودرداری 211
حیاوعفت 214
طہارت وپاکیزگی 217

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam انکار حدیث اہل حدیث تاریخ سنت علماء منکرین حدیث متجددین اور استخفاف حدیث

منکرین حدیث کے شبہات اور ان کا رد

منکرین حدیث کے شبہات اور ان کا رد

 

مصنف : پروفیسر سعید مجتبی سعیدی

صفحات: 73

قرآ ن ِ مجید کے بعد حدیث نبویﷺ اسلامی احکام اور تعلیمات کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ بلکہ حقیقت تویہ کہ خود قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ،اس سے احکام اخذ کرنا اور رضائے الٰہی کے مطابق اس پر عمل کرنا بھی حدیث وسنت کی راہنمائی کے بغیر ممکن نہیں ۔لیکن اس کے باوجود بعض گمراہ ا و رگمراہ گر حضرا ت حدیث کی حجیت واہمیت کومشکوک بنانے کی ناکام کوششوں میں دن رات مصروف ہیں او رآئے دن حدیث کے متعلق طرح طرح کے شکوک شبہات پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن الحمد للہ ہر دور میں علماء نے ان گمراہوں کاخوب تعاقب کیا اور ان کے بودے اور تارِعنکبوت سےبھی کمزور اعتراضات کے خوب مدلل ومسکت جوابات دیے ہیں ۔منکرین کےرد میں کئی کتب اور بعض مجلات کے خاص نمبر ز موجود ہیں ۔ ان کتب میں سے دوام حدیث ،مقالات حدیث، آئینہ پرویزیت ، حجیت حدیث ،انکا ر حدیث کا نیا روپ وغیرہ اور ماہنامہ محدث ،لاہور ،الاعتصام ، ماہنامہ دعوت اہل حدیث ،سندھ ،صحیفہ اہل حدیث ،کراچی کے خاص نمبر بڑے اہم ہیں ۔ زیر نظر کتاب ”منکرین حدیث کے شبہاب اور ان کارد ” معروف مصنف ومترجم کتب کثیرہ جناب پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی سابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کےجامعہ لاہور الاسلامیہ میں علمائے کرام کی ایک سات روزہ تربیتی ورکشاپ منعقدہ 2005میں منکر ین حدیث کے رد میں دئیے گئے لیکچر کی کتاب صورت ہےجس میں منکرین کے شبہات ومغالطات کا ٹھوس علمی دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے بظاہر یہ ایک مختصر سا کتابچہ ہے لیکن علم سے لبریز ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچے کواپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرفے چند 7
تمہید 8
سنت کا لغوی معنی 9
سنت اور حدیث مترادف ہیں 11
حدیث رسول کی تشریعی حیثیت 13
سنت کی اہمیت 14
ترک سنت گمراہی ہے 15
احادیث کو حفظ اور بیان کرنے کی ترغیب 15
سنت کے بغیر قرآن فہمی مشکل 17
نبی کریمﷺ قرآن کریم کے شارح ہیں 19
حدیث بھی منجانب اللہ ہے 21
وحی خفی کا قرآن کریم سے اثبات 22
نبی کو کتاب کے ساتھ الحمکت بھی عطا کی گئی 25
انکار سنت کی ابتداء 26
انکار حدیث کی ضرورت 26
خوارج اور معتزلہ کا خاتمہ اور اس کے اسباب 27
چند مشہور منکرین حدیث 28
منکرین حدیث کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پیشن گوئی 29
منکرین حدیث کے مغالطات 34
قرآن کریم کے مخالف احادیث قابل حجت نہیں 51
حدیث تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے 54
الحکمۃ سے مراد حدیث نہیں 56
قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے 57
ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہے 58
صرف قرآن ہی سے نصیحت کرو 60
حدیث قطعی الثبوت نہیں 61
منصب رسالت صرف قرآن پہنچانا ہے 64
احادیث حجت نہیں 66
خبر واحد حجت نہیں 67
اطاعت رسول سے مراد اطاعت قرآن ہے 68
حدیث وحی نہیں 69
اللہ نے حافظت حدیث کا ذمہ نہیں لیا 71

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam انکار حدیث زبان منکرین حدیث متجددین اور استخفاف حدیث

منکرین حدیث اور مسئلہ تقدیر

منکرین حدیث اور مسئلہ تقدیر

 

مصنف : نا معلوم

 

صفحات: 126

 

اس کتاب میں مسئلہ تقدیر پر منکرین حدیث کے بے بنیاد شبہات و اعتراضات پر جامع و مدلل رد و تنقید ہے۔ اہم مباحث میں دین اور مذہب میں فرق , خلق و امر کی بحث , لفظ گمراہی کا لغوی و اصطلاحی معنی , قانو ں , تدبر قرآن , تقدیر میں پرویزی کا معنی , تشریح اور طریقہ کا ر , ہدایت و ضلالت کی بحث , تقدیر پر ایمان کا باہمی تعلق , عمر فاروق ؓکا قول , انسان میں نیکی اور بدی کی تمیز , ابن عباس ؓکی تفسیر , تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق , منکرِ تقدیر کا اقرار تقدیر جیسے تمام مسائل شامل ہیں۔

 

صفحہ عناوین
2 :: مقدمہ
15 :: دین اور مذہب کا فرق
20 :: خلق اور امر کی بحث
24 :: لفظ گمراہی کا لغوی اور اصطلاحی معنی
29 :: جبر اور قدر کا بنیادی فرق
32 :: لفظ ’’ قانون ,, کی پرویزی تشریح
38 :: تدبر اور قرآن فہمی کا پرویزی طریقہ
43 :: تقدیر کا معنی از پرویزی صاحب
44 :: کیا انسان اللہ تعالی کی مشیت سے خارج
46 :: ہدایت اور ضلالت فطر ت اور تقدیر پر منحصر  ہے
49 :: کیاتقدیر پر ایمان قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے
51 :: مسئلہ تقدیر پر ایمان اور صحابہ کرام کا عمل
53 :: مسئلہ تقدیر پر ایمان اور عمل کا باہمی تعلق
56 :: تقدیر کا لغوی اور شرعی معنی
58 :: کیا مسئلہ تقدیر میں قرآنی آیات باہم متصادم ہیں
60 :: منکرین حدیث بھی احادیث کے محتاج ہیں
61 :: عمر فاروق ؓکے قول ’’ حسبنا کتاب اللہ ,, کا مطلب
63 :: کیا قرآن کا ترجمہ کسی زبان میں نہیں ہو سکتا
66 :: پرویز صاحب اور فرقہ باطنیہ
70 :: تصریف آیات کا معنی و مفہوم
70 :: ’’ من یشاء ,, کا معنی و مفہوم
73 :: فراخی و تنگی رزق کا مسئلہ
75 :: ارادہ اور مشیت میں فرق
82 :: ’’ لو شاء اللہ ,, کے مفہوم کا تعین
83 :: قانون مشیت یا تقدیر
86 :: انسان کے اندر نیکی اور بدی میں تمیز کی استعداد
90 :: خیر اور شر کی قوتوں پر اختیار کا مسئلہ
92 :: ہدایت کی تین اقسام
93 :: اللہ تعالی کا قانو ن استدراج
95 :: ’’ فمن شاء ,, کی تفسیر ابن عباس ؓسے
96 :: تقدیر کے بارے میں وارد احادیث کی قرآن سے تائید
99 :: رزق کی فراخی اور تنگی کا قضاء و قدر سے تعلق
100 :: وحی کی تعریف و تشریح
103 :: ایک شبہ کا ازالہ
104 :: سورتہ النحل کی پرویزی تفسیر
107 :: کیا تصوف , تناسخ اور ثنویت کا مسئلہ تقدیر پر ایمان کا نتیجہ ہے ؟
111 :: فرقہ جبریہ اور پرویزی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں
115 :: تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق
118 :: منکر تقدیر کا اقرار تقدیر
121 :: مسئلہ تقدیر پر ایک مناظرہ
121 :: خلاصہ کلام

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعمال بدعت علماء مضامین قرآن موضوعات و مضامین قرآن نبوت نماز

مختصر مضامین قرآن

مختصر مضامین قرآن

 

مصنف : خالد عبد اللہ

 

صفحات: 210

 

قرآن کریم اللہ کہ وہ مقدس کتاب ہے جس کی خدمت باعثِ خیر وبرکت اور ذریعۂ بخشش ونجات ہے ۔یہی وجہ ہےکہ  قرونِ اولیٰ سے  عصر حاضر  تک علماء ومشائخ کے  علاوہ مسلم معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے  اصحاب بصیرت نے حصول برکت کی خاطر اس کی  کسی نہ کسی صورت  میں خدمت کی کوشش کی  ہے ۔اہل علم نے  اگر اس کے الفاظ ومعانی ،مفاہیم ومطالب ،تفسیر وتاویل ،قراءات ولہجات کی صورت میں کام کیا ہے  تو دانشوروں نے اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ،کاتبوں نے  مختلف خطوط میں اس کی کتابت کی ،ادیبوں اور شاعروں نےاس کے محامد ومحاسن کواپنے  الفاظ میں بیان کر کے  اس کی خدمت کی  اور واعظوں اور خطیبوں نے  اپنے وعظوں اور خطبات سے اس کی تعریف اس شان سے  بیان کی کہ ہر مسلمان کا دل ا س کی تلاوت ومطالعہ   کی جانب مائل ہواا ور امت مسلمہ ہی نہیں غیر مسلم بھی اس کی جانب راغب ہوکر اس سے منسلک ہوگئے ۔ بعض اہل علم وقلم نے اس کے موضوعات ومضامین پر  قلم اٹھایا ااور بعض نے اس کی انڈیکسنگ اور اشاریہ بندی کی جانب توجہ کی ۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مختصر مضامین قرآن  ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔اس کتاب کو  محترم جناب خالد عبد اللہ  صاحب نے علماء، خطباء عوام الناس بالخصوص اتقان القرآن کے طلبہ کےلیے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے اس میں  قرآن مجید کے بنیادی  مضامین مختصراً بیان کیے  ہیں۔ہر موضوع کے متعلقہ  آیات کو   جمع کر کے  ان کے   ترجمہ اور وضاحت طلب مقامات  کا بریکٹوں میں  وضاحتی  بیان بھی کردیا ہے ۔تاکہ طلبہ کو حفظ القرآن  وگردان کے دوران قرآن فہمی کے مواقع میسر آئیں اور طلبہ کوبنیادی تعلیمات قرآنی سےآگاہی ہوسکے ۔اس کتاب سے  خطباء ،علماء اور مطالعہ قرآن کا شوق رکھنے والے احباب بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام دینی ،دعوتی اور تصنیفی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
آخرت کے طلب گار 13
عذاب الہی کا بیان 13
جہنم کے عذاب اور جہنمیوں کی کیفیت 15
جہنمیوں کے عقائد او راوصاف 21
دنیاوی زندگی کی حقیقت 24
قیامت کے دن میں کو ئی شک نہیں 27
قیامت کامقصد 27
قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا 28
قیامت کی نشانیاں 28
گناہ گا روں کی موت 29
متقین کی نشانیاں 30
مومنین کی نشانیاں 33
منافقین کی نشانیاں 36
توحید کی تعریف او رتوحید کا خلاصہ 36
توحید تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد تھی 37
توحید ربو بیت کابیان 38
توحید الوہیت کابیان 41
توحید الاسمآء وصفات کابیان 44
صرف اللہ ہی کی عبادت کرو 45
صرف اللہ ہی عالم الغیب ہے 46
اللہ کی ذات کے علاوہ ہرچیز فانی ہے 48
اللہ کے مثل کو ئی چیز نہیں 48
اللہ تعالی کا عفوودر گزر 49
رد شرک 49
شرک فی الذات کا بیان 49
شرک فی الصفات کابیان 51
شرک فی العبادات کابیان 53
معبودان باطل کی حقیقت کابیان 53
اللہ او ررسو ل اللہ ﷺ سے محبت 56
محمد ﷺ کی نبوت قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہے 57
محمدﷺ کا ذکر آسمانی کتب میں 57
کیا محمد ﷺ شریعت سازتھے؟ 58
محمدﷺ کی ذات مبارک کے متعلق   متفر ق آیات 59
محمدﷺ کی عظمت وفضیلت 64
محمدﷺ کا احترام 65
محمد ﷺ کی گستاخی کفرہے 66
کیا محمد ﷺ اللہ کے نور میں سے نورتھے؟ 66
محمدﷺ کی وفات کے دلائل 67
اللہ تعالی او رمحمد رسول اللہﷺ کی اطاعت 68
محمد ﷺ کی نافرمانی کابیان 72
محمد ﷺ کو اللہ تعالی کی تنبہیات 74
محمدﷺ کے معجزات 75
محمدﷺ کا واقعہ معراج 76
کیا محمد رسول اللہ ﷺ عالم الغیب تھے ؟ 76
کیا محمد ﷺ سے پہلے انبیاء عالم الغیب تھے ؟ 77
کیا محمدرسول اللہ ﷺ کواللہ کی مشیت پر اختیار حاصل تھا؟ 78
اللہ کاامام الانبیاء محمدر سول اللہ ﷺ کے خطاب 79
جنت میں آزمائش کے بغیر نہ جاؤ گے 80
جنت کے نعتوں کابیان 81
جنتیوں کے عقائد اور اوصاف 83
جنت اللہ کی رحمت سے ہی ملے گی 87
اللہ ،محمدرسول اللہ ﷺ ،ملائکہ ، آسمانی کتب ، غیب او رقیامت پر ایمان 87
معجزات (انبیاء کے معجزات) 90
عذاب آخرت 93
کھانے کے آداب 94
گفتگو کے آداب 94
گھر میں داخل ہونے کے آداب 94
مجلس کے آداب 95
نماز کے آداب 96
آدم ﷤ کا ذکر 96
اولادآدم ﷤ سے اللہ کاخطاب 99
آزمائش کابیان 99
اتباع کابیان 101
انسان کو نیک یا بداعمال  کرنے کا اختیار حاصل ہے 103
نیکی میں خلو ص نیت کابیان 103
استطاعت 104
اسلام 105
سماءحسنی 106
اُسوہ حسنہ 107
اصحاب لاخدود 107
اطمینا ن قلب 108
تمام اعمال لکھے جارہے ہیں 108
جیسے اعمال ویسا ہی بدلہ 109
کن لوگوں کے اعمال ضائع ہوگئے؟ 109
روز قیامت اعمال کا وزن کیا جائے گا 110
کسی سے دوسرے کے اعمال کے متعلق سوال نہ ہوگا 111
اللہ کو دنیا میں کو ئی نہیں دیکھ سکتا 111
حقیقی بادشاہت وملکیت 112
تقدیر کابیان 113
حلم کابیان 115
اللہ کا آسمان وزمین سے خطاب 115
اللہ کا ازواج مطہرات سے خطاب 115
اللہ کا انسان سے خطاب 115
اللہ کا ایمان والو ں سے خطاب 116
اللہ کا بندوں سے خطاب 119
اللہ کا تمام لوگوں سے خطاب 119
دعوت الہی کابیان 120
اللہ تعالی کاگنہگاروں کی وقتی طور پر سزا نہ دینا 121
رحمت کابیا 121
اللہ تعالی ہی زندگی اورموت کے مالک ہیں 123
اللہ کے وجود کی نشانیوں کابیان 124
اللہ تعالی اپنے عرش پر جلو افروز ہیں 125
اللہ تعالی ٰآسمانوں اور زمین میں سے سب سے معزز ہیں 126
عزت وذلت اللہ ہی کے اختیار میں ہے 126
اللہ جانتا ہے او رتم نہیں جانتے 127
اللہ تمام اعمال سے باخبر ہے 127
اللہ آنکھوں کی حرکت سے بھی باخبر ہے 129
اللہ علم کے اعتبار سے انسان کے انتہائی قریب ہے 129
اللہ مردوں کے تحلیل شدہ اجزاء سے باخبرہے 129
اللہ تعالی تمام امور کے لیے کافی ہیں 130
اللہ کی مغفرت وسیع ہے لیکن عذاب بھی نہایت شدید ہے 121
نعمتیں 131
اللہ کی شان وصفا ت کامکمل احاطہ ممکن 134
امت محمد یہ کابیان 135
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کابیان 135
اللہ کی رحمت کی امید 137
انبیاء کے انسان ہونے پر کفار  کااعتراض 138
انبیاء کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اللہ کے احکام پہنچاناہے 139
انسانی تخلیق کامقصد 139
ان شاءاللہ کہنے کی اہمیت 140
ادھورایمان یاقابل قبول 140
ایمان میں اضافہ ہونے کابیان 141
منافقین کے ایمان کابیان 141
ایمان والوں کی نشانیاں کابیان 142
اللہ کن لوگوں کو ہرگز نہ بخشے گا 144
دین میں من بدعت پسند اضافہ کرنا 144
برزخ موت کے بعد سے قیامت تک کا وقفہ 144
سود کابیان 145
عورتوں کے لیے پردے کے احکام 145
ناجائز جگہ خرچ کرنا 147
کسی خبر یاسنی ہوئی بات کی تحقیق کی اہمیت 147
تزکیہ نفس کابیان 147
باپ داد ا اور بزرگوں کے باطل عقائد واعمال کی بلاتحقیق اندھی پیروی کرنا 148
تقوی سے متعلق متفرق آیات 149
توبہ /استغفار 151
توکل کابیان 153
جہاد کامقصد 154
جہاد کی فضیلت 155
ختم نبوت کابیان 157
صرف اللہ ہی سے ڈرو 157
مومنین کو درگزر کرنے کی ترغیب 160
درود شریف کابیان 161
بعض قرآنی دعائیں 161
دین کی تکمیل کابیان 165
دین توآسان ہے 165
دین میں زبر دستی نہیں 165
سود 166
شفاعت کابیان 166
صحابہ کرام ﷢ 169
عائشہ ؓ 171
عبرت کابیان 172
فرقہ بندی کارد 173
فضول خرچی 174
قرآن جیسی کتاب یا چند سورتیں پیش کرنے کاچیلنج 175
مقصد نزول قرآن 176
اللہ کی طرف سے قرآن کی حفاظت 177
شیریں گفتگو 178
قرآن میں بیان کردہ بعض مثالیں 182
ہرزندہ چیز کو موت آکر رہے گی 186
موت اپنے مقر ر وقت سے ایک پل بھی آگے یا پیچھے نہیں ہوسکتی 186
صالحین کی موت 187
موسیقی 187
اللہ کے لیے نذرونیاز 188
عیر اللہ کے لیے نذرو نیاز 188
نماز کی فرضیت 189
نمازوں کے اوقات 189
نماز کے پابندی کا حکم 190
بے نمازاو رنماز میں غفلت برتنے والے 193
نماز کے فضائل 193
نماز تہجد 194
نماز جنازہ 195
نمازجمعہ 195
نمازخوف 195
نماز قصر (سفرکی نماز ) 195
نماز سے متعلق دیگر احکام 195
والدین 197
وحی 199
وراثت 202
وسیلہ (اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ) 203
ہدایت دینا صرف اللہ کا اختیار ہے 204

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اصول تفسیر اعمال تاریخ تمام کتب زبان علماء علوم قرآن

مباحث علوم القرآن ( ڈاکٹر عثمان )

مباحث علوم القرآن ( ڈاکٹر عثمان )

 

مصنف : ڈاکٹر عثمان احمد

 

صفحات: 325

 

علوم ِالقرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتداء عہد نبوی  اور دورِ صحابہ کرام سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔ قرآن کریم  کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔علوم ِقرآن کو    اکثر جامعات و مدارس میں  بطور مادہ پڑھا پڑھایا جاتا ہے اوراس کے متعلق عربی  اردو  زبان میں  بیسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مباحث علوم قرآن ‘‘ ڈاکٹر عثمان احمد (اسسٹنٹ پروفیسر شبعہ علوماسلامیہ،جامعہ پنجاب)  کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب اردو میں تحریرکردہ تمام کتب سے اپنے موضوعات ،مواد اور اسلوب کے لحاظ سے منفرد ونمایاں ہے ۔ اس  میں زیادہ تر موضوعات وہ ہیں جن کو اردو کتبِ علوم القرآن میں زیر بحث وتحقیق نہیں لایاگیا مثلاً علم الوقف والابتدا، علم الوجوہ والنظائر،علم التقدیم و التاخیر، اصولِ تاویل وغیرہ۔ فاضل مصنف نے ہرموضوع پر نیا مواد پیش کرنے کی کوشش کی  ہے اور تمام موضوعات کو ایک منطقی ترتیب کے ساتھ مدون کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اسم القرآن 17
لفظ قرآن لغوی تناظر میں 21
اشتقاق کے بارے میں آراء 22
قول اول اور مادۂ اشتقاق سے  متعلق اختلافی اقوال 22
’’جمع ‘‘ کی معنویت کی توجیہات 23
قول دوم اورمادہ اشتقاق سے متعلق اختلافی اقوال 24
نبی ﷺکےاسماء صفاتیہ اور قرآن کے اسماء صفاتیہ میں مماثلت 27
تعریف القرآن 29
تعریف قرآن کے جواز وعدم جواز پر دو موقف 29
غیر قائلین کےاستدلالات 29
قائلین کےاستدلالات 30
تعدد تعریفات کی وجہ 31
تعریفات کی دو اساسی جہات 32
اشاعرہ کی اختیار کردہ تعریف قرآن 32
حنابلہ اور علماء ظواہر کی اختیار کردہ تعریف قرآن 35
معتزلہ کی  اختیار کردہ تعریف قرآن 36
قرآن کی مصدری حیثیت کی جہت سے تعریفات 36
قرآن کی معروف تعریف اوراس کے فواید 38
القرآن لفظاً و معناً کی مباحث 41
موقف اول: القرآن معناً کے استدلالات 41
دلیل اول: سورۃ  الشعراء کی آیت سے استدلال 41
دلیل دوم: احکامات شرعیہ معانی کا نام ہے 43
دلیل سوم: تمام لغات کا توقیفی ہونا 44
دلیل چہارم: قرآن کی روایت بالمعنی کا جواز 46
موقف دوم: القرآن لفظا کے استدلالات 50
دلیل اول : رسول اللہ اور صحابہ کرام کا منزل قرآنی الفاظ کی تلاوت پر مواظبت کرنا 50
دلیل دوم: آیت وَلَوْ جَعَلْناهُ قُرآناً أَعْجَمِيَّا سے استدلال 52
دلیل سوم: قرآن کا اپنی لسان کو عربی قرار دینا 53
دلیل چہارم: مثیل القرآن ہونا از روئے قرآن ناممکن ہے 54
موقف سوم : القرآن لفظاً و معناً جمیعاً کے استدلالات 55
دلیل اول:  فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ () ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سے استدلال 56
دلیل دوم: الفاظ و معانی باہم متحد ہوتے ہیں اور دونوں کلام کا لازمی حصہ ہوتے ہیں 57
سوم : قرآن و ہدایت کا تعلق الفاظ و معانی کے لزوم سے ہے 58
چہارم: اعجاز القرآن کا ظہور نظم و معانی دونوں کے استراک و اجتماع سے ہوتا ہے 59
دلالت قرآن کی قطعیت و ظنیت کی بحث 63
لفظ دلالت لغوی سیاق میں 63
دلالت کے اصطلاحی معنی 65
دلالت قطعی و ظنی کی تعریف 66
موقف اول: دلالت قرآن میں قطعیت و ظنیت کااجتماع 66
موقف اول کے دلایل 67
1۔قرآن میں قطعیت و ظنیت کے جمع پر امت کا اتفاق 67
2۔ اہل لغت کا اتفاق کہ الفاظ کی دلالت قطعی بھی ہوتی اور ظنی بھی 68
3۔قرآنی نصوص کی تعدد معنویت اور علماء امت کے تفسیری اختلافات 70
موقف دوم: قرآن مطلقاً ظنی الدلالہ ہے 70
1۔ معانی کی تفہیم کا دارو مدار انسانی تفہیم و اجتہاد پر ہے جو قطعی نہیں 71
2۔ زبان و بیان میں مجاز و استعارہ اور الفاظ مشترکہ کااستعمال قطعیت کے خلاف ہے 71
3۔ متکلم کی قلبی مراد واحد پر مطلع ہونے کا ذریعہ صرف کلام ہےاور  کلام محتمل الوجوہات ہوتے ہیں 72
موقف دوم کے علمی نتائج 73
1۔ سیاق نزولی بحیثیت اصل التفسیر 73
2۔ کلام کی موضوعیت 73
3۔ قرآن کی معنویت کی آفاقیت و عمومیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے 73
4۔ ہر ظنی اصول سے نسخ و تخصیص 74
موقف سوم : قرآن مطلقاً قطعی الدلالہ ہے 74
1۔متکلم کے کلام کا مقصود صرف ایک معنی کا ابلاغ ہوتا ہے 74
2۔ تاویل واحد پر قرآنی دلیل 75
3۔ رسول اللہﷺ سے منقول تفسیرات میں تاویلات متعددہ کہیں بھی منقول نہیں 76
موقف سوم کے علمی نتائج 76
1۔مفسرین کی کثرت تاویلات کا ابطال 76
2۔ قرآن مجید میں احتمالات معانی میں تعیین کے حتمی اصول 77
3۔ اصول لغت تفسیر کا اصول ثالث 78
اصول تاویل 79
اصول اول: کلام میں اصل حمل علی الظاہر ہے 79
اصول دوم : کلام محتمل التاویل ہو 81
اصول سوم : مؤول الیہ معنی پر محمول کرنے کا احتمال و امکان موجود ہو 83
اصول چہارم: سیاق کلام، سیاق نزول، سیاق لغوی اور دیگر نصوص اس تاویل کے نقیض نہ ہوں 84
اصول پنجم: تاویل کے لیے دلیل صحیح موجود ہو 84
مواقع و موجبات تاویل 85
ضرورت القرآن 87
صدیوں سے انسانوں کے  معاشروں میں تعلیم و تعلم اور درسگاہوں کا نظام 88
انسانی معاشروں میں قوانین کی موجودگی اور ان کا نفاذ 88
حواس کا استدلالی مقام 89
1۔حسی معلومات ناقص ہوتی ہیں 89
2۔ حسی معلومات متناقض ہوتی ہیں 90
3۔حسی معلومات غلط ہوتی ہیں 90
4۔حسیات انسان کا خاصہ نہیں ۔ جانور بھی حس میں شریک ہیں 90
5۔صداقت کی معروضیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے 91
6۔ماوراء حس چیزوں کا وجود او رحسیات کی ناکامی 91
7۔حواس کی معلومات خود حواس میں محفوظ نہیں رہ سکتیں 92
عقل کی برہانی حیثیت کی تعیین 92
1۔ عقل حواس خمسہ کی محتاج ہے 93
2۔عقل وہم کا شکار ہوتی ہیں 94
3۔ عقول میں تفاوت ہے 94
4۔ عقل جذبات کا شکار ہو جاتی ہے 95
5۔ عقل کی ناکامی پر تاریخ عقلیات و فلسفہ گواہ ہے 95
وحی کا استدلالی مقام 95
دلیل تاریخی 96
دلیل اخبار غیبی 96
دلیل تخلیقی 98
دلیل اعجازی 99
موضوع القرآن 101
ہدایت انسانی۔ موضوع قرآن 101
الف۔ قرآن نے ہدایت کی حقیقت کو ظاہری و باطنی صالح اعمال کے تذکرہ کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ 103
ب۔ قرآن نے ان معتقدات و اعمال کا تصریحاً ذکر کیا جو ہدایت دشمنی اور گمراہی ہیں 104
ج۔قرآن نے ان مثالی شخصیات و اقوام کو بطور مثال و نمونہ پیش کیا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں 105
د۔قرآن نےان مبغوض و معذب افراد و اقوام کا تذکرہ تفصیلاً کیا ہے جو گم راہ تھے 107
ھ۔ قرآن نے اللہ کے انعام یافتہ افراد اور قوموں کے معاشی و سماجی مقام اور اللہ کی مبغوض و معذب قوموں کے معاشی و تمدنی حالات کا تفصیلاً ذکرکیا ہے 109
تفسیر بالماثور و تفسیر بالرائے 117
تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے میں جوہری فرق کیا ہے ؟ 120
قرآن میں صرف ، تفسیر بالرائے ’ کو ہی قرآن فہمی قرار دیا گیا ہے 122
رائے اور اثر بالمقابل نہیں 123
ایک آیت کی متعدد تفسیرات بیان کرنا نبی ﷺاور صحابہ کا منہج نہ تھا 124
امام غزالی تفسیر بالرائے سے متعلق نفیس بحث 125
تعریف علوم القرآن 128
لفظ علم کی لغوی و لسانی تفہیم 128
علم کی اصطلاحی تعریف 130
علوم القرآن کی  اصطلاحی تعریف 132
علوم القرآن اورتفسیر  قرآن میں فرق 136
علوم القرآن اور اصول تفسیر میں فرق 138
دلالۃ الاقتران اور تفسیر قرآن 141
اقتران : لغت کی رو سے 142
دلالۃ الاقتران کی حجیت اور عدم حجیت ۔ قائلین و مانعین کے دلایل 144
دلالۃالاقتران کی اقسام 146
دلالۃ الاقتران سے تفسیر قرآن کی چند امثلہ 147
قرآن کی سائنسی تعبیرات و تشریحات 156
قرآن اور سائنس ۔ دو متغایر تصورات علم 167
دینی احکامات کی سائنسی حکمتیں 174
غیر سائنسی کو سائنسی بنا کر پیش کرنے کا مغالطہ 177
سائنس کیا ہے ؟ 178
برصغیر میں سائنسی تفسیر۔ تاریخ و ارتقاء 182
نسخ فی القرآن اور اس کے مباحث 186
نسخ متقدمین کی اصطلاح میں 187
مطلق کی تقیید پر نسخ کا اطلاق 187
استثناء پر نسخ کا اطلاق 188
توضیح و تبیین پر نسخ کا اطلاق 189
تخصیص پر نسخ کااطلاق 190
انتہائے مدت عمل کا بیان 191
کلام کے متبادر معانی کو غیر متبادر معانی کی طرف پھیرنا 191
قید اتفاقی کا بیان 191
منصوص اور بظاہر قیاس کئے ہوئے مسئلہ کے درمیان فرق 192
زمانہ جاہلیت کی عادت کا ازالہ 193
سابقہ شریعت کا ازالہ 193
متاخرین علماء کے ہاں نسخ کی اصطلاح تعریف 194
متکلمین کی نسخ کی اصطلاحی تعریف 194
انواع نسخ باعتبار بدل 196
انواع نسخ باعتبار حکم و تلاوت 197
محل عدم نسخ  و نسخ 197
قرآن میں  منسوخی آیات کی عدم موجودگی کا موقف۔ استدلالات کا تجزیہ اورتیسرا موقف 199
قرآن و حدیث منسوخ آیات کی عدم تصریح 200
قرآن میں موجود ناسخ و منسوخ سے متعلق متعارض و مضطرب روایات 203
اختلاف تعریفات  واصول اور اس کے نتائج 205
4۔تعارض حقیقی کا اثبات 206
اصول تاویل اور اس کا اطلاق 209
قرآن کی بیان کردہ نسخ کی صورتیں اور قرآن میں منسوخ آیات کی موجودگی کا عدم امکان 211
منسوخ آیات کی موجودکی قرآنی آیات کا معطل وغیر عملی ہونا 212
القرآن میں  منسوخ آیات کی عدم موجودگی ۔ برصغیر کے علماء کا موقف 215
النسخ فی القرآن پر اجماع کے دعویٰ کا جائزہ 216
قرآن  میں منسوخ آیات کی موجودگی کے بارے میں میرا موقف 217
علم المناسبات 221
علم المناسبات کی لغوی و اصطلاحی تفہیمات 221
علم المناسبات کا آغاز و تطور 223
علم المناسبات سے متعلق علماء کے تین موافق و استدلالات 224
مناسبت آیات و سؤر کی صورتیں 235
مناسبت آیات و سؤر کی داخلی صورتیں 235
مناسبت آیات و سؤر کی خارجی صورتین 235
وجوہ مناسبات 239
التنظیر 239
المضادۃ 240
الانتقال 242
فراہی مکتب فکر اور عمود سورت کا نظریہ 244
نقد  ونظر 249
مولانا فراہی ﷫اور مولانا اصلاحی ﷫کے بقول امت کے تفسیری اختلافات نظم قرآن کو مدنظر نہ رکھنے کےباعث ہیں 249
وحدت تاویل و معانی بذریعہ وحدت نظم 250
نظام سؤر میں تعداد کا امکان 251
وحدت عمود کے باوصف تفسیری اختلافات 252
اختلافات تفسیر یہ کے خاتمہ کا دعویٰ اور نظم قرآن سے احتیاج ثبوت 253
علم الاعتبار ( تفسیر اشاری) 255
اعتبار کی لغوی تحقیق 255
علم الاعتبار کی اصطلاحی تعریف 256
علم تفسیر اور علم الاعتبار 257
تفسیر باطل اور اعتبار میں فرق 258
علم الاعتبار کے جواز کے لیے  دلیل شرعی 259
مجاز اور اعتبار میں فرق 260
کنایہ اور اعتبار میں فرق 262
اشارۃ النص اور اعتبار میں فرق 263
قیاس اور اعتبار میں فرق 264
قرآن اور علم الاعتبار کی چار جہتیں 265
1۔بیان معانی قرآن المعروف بہ تفسیر اشاری 266
2۔ تعبیر خواب 268
3۔ رقیہ و وظائف 270
4۔تفاول اوراستخارہ 271
علم الوجوہ والنظائر 273
وجوہ نظائر کی لغوی تفہیم 273
وجوہ نظائر کی اصطلاحی تفہیم 274
علامہ ابن جوزی کا موقف 274
علامہ الزرکشی ﷫اور علامہ السیوطی ﷫کا موقف 276
وجوہ اور مشترک کےدرمیان فرق 277
متعدد الوجوہ قرآن الفاظ کی امثلہ 278
علم وجوہ و نظائر کے تفسیری اثرات 283
تفسیر تنوع 283
مسایل فقہیہ میں توسع 284
تفسیر قرآن بالقرآن میں استفادہ 285
مسایل کلامیہ میں اختلاف 286
تفسیری تکلفات کا اظہار 288
علم الوقف والابتداء 289
وقف کا لغوی و اصطلاحی مفہوم 289
ابتدا کا لغوی و اصطلاحی مفہوم 290
علم وقف و ابتدا کی اصطلاحی تعریف 291
علم وقف وابتدا اورعلم تجوید میں فرق 291
علم وقف و ابتدا پر تصانیف 292
وقف و ابتدا اور تفسیر قرآن 293
معنوی تعدد و تنوع 293
شامل و غیر شامل افراد سے متعلق تفسیری اختلاف 296
وقف وابتدا اور مسایل کلامیہ میں اختلاف 299
مسایل فقہیہ اور وقف وابتدا کے باعث اختلاف 301
علم التقدیم و التاخیر فی القرآن 311
تقدیم وتاخیر سے قرآن میں تنوع معانی کی امثلہ 313
مسایل فقہیہ میں دلالت تقدیم و تاخیر کے باعث اختلاف کے نظائر 315
تقدیم و تاخیر تسلیم کرنے سے تفسیر قرآن میں جمہور کی مخالفت کے شواہد 317
وجوہ قراءات میں تقدیم و تاخیر اور معنوی تنوع کی امثلہ 319
تقدیم و تاخیر سے خفاء معانی قرآن کی امثلہ 322

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز