Categories
Islam اسلام تجوید وقراءات

شرح سبعہ قراآت جلد دوم

شرح سبعہ قراآت جلد دوم

 

مصنف : ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی

 

صفحات: 811

 

اللہ تعالی کا امت محمدیہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امت پر آسانی کرتے ہوئے  قرآن مجید کو سات مختلف لہجات میں نازل فرمایا ہے۔یہ تمام لہجات عین قرآن اور منزل من  اللہ ہیں۔ان کے قرآن ہونے پر ایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اور ان کا انکار کرنا باعث کفر اور قرآن کا انکار ہے۔دشمنان اسلام اور مستشرقین کا سب سے بڑا حملہ قرآن مجید پر  یہی ہوتا ہے کہ وہ اس کی قراءات متواترہ کا انکار کرتے ہوئے اس میں تحریف وتصحیف کا شوشہ چھوڑتے ہیں،تاکہ مسلمان اپنے اس بنیادی مصدر شریعت سے محروم ہو جائیں اور اس میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔زیر تبصرہ کتاب ” شرح سبعہ قراءات”پاکستان کے معروف قاری المقری ابو محمد محیی الاسلام پانی پتی﷫ کی  اصول قراءات پر ایک منفر داور عظیم الشان تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں قراءات سبعہ کے اصول وقواعد تیسیر اور شاطبیہ کے طریق سے بیان فرما دئیے ہیں اور جابجا مفید حواشی کا بھی اضافہ فرما دیا ہے۔یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،پہلی جلد میں اصول بیان کئے گئے ہیں ،جبکہ دوسری جلد میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے مطابق فروش کو قلمبند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی حفاظت قرآن  کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی   ان شاندار  خدمات  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
24.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تجوید وقراءات

شرح سبعہ قراآت جلد اول

شرح سبعہ قراآت جلد اول

 

مصنف : ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی

 

صفحات: 387

 

اللہ تعالی کا امت محمدیہ پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے امت پر آسانی کرتے ہوئے  قرآن مجید کو سات مختلف لہجات میں نازل فرمایا ہے۔یہ تمام لہجات عین قرآن اور منزل من  اللہ ہیں۔ان کے قرآن ہونے پر ایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اور ان کا انکار کرنا باعث کفر اور قرآن کا انکار ہے۔دشمنان اسلام اور مستشرقین کا سب سے بڑا حملہ قرآن مجید پر  یہی ہوتا ہے کہ وہ اس کی قراءات متواترہ کا انکار کرتے ہوئے اس میں تحریف وتصحیف کا شوشہ چھوڑتے ہیں،تاکہ مسلمان اپنے اس بنیادی مصدر شریعت سے محروم ہو جائیں اور اس میں شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں۔زیر تبصرہ کتاب ” شرح سبعہ قراءات”پاکستان کے معروف قاری المقری ابو محمد محیی الاسلام پانی پتی﷫ کی  اصول قراءات پر ایک منفر داور عظیم الشان تصنیف ہے۔آپ نے اس کتاب میں قراءات سبعہ کے اصول وقواعد تیسیر اور شاطبیہ کے طریق سے بیان فرما دئیے ہیں اور جابجا مفید حواشی کا بھی اضافہ فرما دیا ہے۔یہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ،پہلی جلد میں اصول بیان کئے گئے ہیں ،جبکہ دوسری جلد میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے مطابق فروش کو قلمبند کیا گیا ہے۔اللہ تعالی حفاظت قرآن  کے سلسلے میں کی جانے والی ان کی   ان شاندار  خدمات  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 5
شجرہ 17
التماس 18
تمہید 67
مقدمہ فصل اول قرآن اور اسکے خادم 69
باب اول استعاذہ 164
دوم بسملۃ 164
سوم ادغام اور اس کی قسمیں 170
چہارم ادغام کبیر مذہب بصری 173
باب پنجم ادغام صغیر 195
باب ششم احکام میم جمع و ھا کنایہ 204
باب ہفتم مد وقصر 209
باب ہشتم ہمزتین در یک کلمہ 225
باب نہم ہمزتین دو کلمات میں 236
باب دہم ہمزہ مفردہ 242

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال رشد روح زبان سیرت سیرت النبی ﷺ

سیرت سید المرسلین ﷺ

سیرت سید المرسلین ﷺ

 

مصنف : حافظ عبد المجید شاکر چغتائی

 

صفحات: 483

 

سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت سید المرسلین ‘‘ الحاج مولانا حافظ عبدالمجید شاکر چغتائی کی ہے۔ صاحب مصنف نے مخالفین کی زبان سے اسلام اور پغمبر اسلام کی عظمت کو بڑے خوب صورت اسلوب میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس دور میں اسلام اور پغمبر اسلام پر جس قدر اعتراضات مستشرقین کی طرف سے عام طور پر کیے جاتے ہیں، تقریباً ان سب کا بڑی عمدگی سے جواب دیا گیا ہے۔۔ مزید اس کتاب میں نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور آپ کی حیات اقدس کی تعبیر و تصویر ہیں۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
ضرورت رسالت 17
منصب رسالت 41
بشریت و رسالت 104
وحی اور علم غیب 173
دعوت و تبلیغ 272
معجزات النبی ﷺ 345
معمولات النبی ﷺ 404
وفات النبی ﷺ 452

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ زبان سیرت سیرت النبی ﷺ

سیرت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

سیرت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

 

مصنف : اکرم ضیاءالعمری

 

صفحات: 674

 

اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے  اللہ  تعالیٰ کے بعد حضرت  محمد ﷺ ہی ،وہ کامل  ترین ہستی ہیں جن کی زندگی  اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل  رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔اور پورے عالمِ اسلام  میں  سیرت  النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا  جاتاہے   جس میں  مختلف اہل علم  اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ سیرت رحمت عالمﷺ ‘‘ ڈاکٹر ضیاء العمری کی سیرت النبی پر مستند عربی تصنیف  السيرة النبوية الصححية  کا اردوترجمہ  ہے ۔یہ کتاب  مصنف کے عالم عرب میں  مختلف یونیورسٹیوں میں تیس سالہ  تدریس وتحقیق  کا نچوڑ ہے ۔ یہ کتاب  اپنے  منہج اور اسلوب کےاعتبار سےعربی زبان میں سیرت کی ایک منفرد ومستند کتاب ہے  جو اپنے منہج سیرت،اسلوبِ تحقیق،واقعاتی صحت واستناد، حدیث وتاریخ میں تطبیق، مستشرقین کے اعتراضات کی  مدلل تردید اور محدثانہ سیرت نگاری کاایک جامع شاہکار ہے اور ایک ایسا آئینہ سیرت ہے جس میں اسلامی تصور کی خصوصیات، دعوت وعزیمت کی حقیقی روداد، مدنی معاشرے کی تشکیل اور ریاستِ مدینہ کے آئینی وثیقہ جات،تاریخ یہود فقہی احکام اوران کی قانون سازی کی تاریخ اور اسوہ حسنہ کی علمی وعملی تفصیلات کوتحقیقی میزان میں تول کر پیش گیا۔عربی زبان کے ممتاز مترجم جناب خدابخش کلیار﷾  کے سلیس ترجمہ ، حواشی  وتعلیقات کےالتزام نے اس کتاب کوطالبان ِسیرت کے لیے  ایک حوالے کی کتاب بنادیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مؤلف ومترجم کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات  میں  اضافہ کا ذریعہ بنائے ۔ آمین

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ خلافت راشدہ زبان سیرت سیرت صحابہ قربانی

سیرت عمر فاروق ؓ

سیرت عمر فاروق ؓ

 

مصنف : محمد رضا

 

صفحات: 344

 

اللہ تعالیٰ نے امت ِاسلامیہ میں چند ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے دانشمندی ، جرأت بہادری اور لازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کی کہ تاقیامت ا ن کے کارنامے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں گے تاکہ افرادِ امت میں تازہ ولولہ اور جذبۂ قربانی زندہ رہے۔ آج مغرب سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمان ممالک کے لیے ایسی تعلیمی نصاب مرتب کیے جائیں جوان ہیروز اور آئیڈیل افراد کے تذکرہ سے خالی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان پھر سےوہی سبق پڑھنے لگیں جس پر عمل پیرا ہو کر اسلامی رہنماؤں نے عالمِ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں (ہندوؤں،عیسائیوں ،یہودیوں) کے کارنامے تو بڑے فخر سے پڑھائے جارہے ہیں مگر دینی تعلیمات او رااسلامی ہیروز کے تذکرے کو نصاب سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ کاوہ روشن باب ہے جس نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے حکومت کے انتظام   وانصرام بے مثال عدل وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم ﷜ کا ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ سادگی فروتنی اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر فاروق ﷜ کے اسلام لانے اور بعد کے حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف پر مبنی حکمرانی سے اگاہی کے لیے مختلف اہل علم اور مؤرخین نے   کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)   وغیرہ کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ سیرت عمر فاروق ﷜‘‘ محترم محمد رضاکی تصنیف ہے جوکہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کی سیرت اورکارناموں پر مشتمل ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق﷜ہوتے ‘‘ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم دانشور یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایک عمر او رپیدا ہوجاتا تو دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم ،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم   پرچلنے   کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 8
مقدمۃ المحقق 9
مقدمہ 15
حیات عمر بن خطاب ﷜ 20
آپ کا نسب اور تاریخ پیدائش 22
عمر فاروق ﷜ کی اولاد اور ازواج 22
دور جاہلیت میں عمر ﷜ کا گھر 23
دور جاہلیت میں آپ کا مقام و مرتبہ 23
آپ﷜ کا حلیہ 23
عمر فاروق ﷜ کا اسلام قبول کرنا 24
ظہور اسلام 33
آپ کے لقب فاروق کی وجہ تسمیہ 34
عمر ﷜ کی ہجرت مدینہ 35
اپنی لخت جگر ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے شادی کرنا 38
عمر﷜ کا خلیفہ بننا 39
عمر﷜ کی عفت 40
آپ کےلیے امیر المومنین کا لقب 45
عمر فاروق ﷜ کے کارنامے 46
مسجد نبوی کی توسیع 47
مسجد حرام کی توسیع 50
آپ کی نرمی اورسختی 51
عمر ﷜ کا اپنی اہلیہ کے لیے ہدیہ قبول نہ کرنا 53
عمر ﷜ کا ذکر الہٰی اور تلاوت قرآن سے متاثر ہونا 53
عمر﷜ کی دعا 54
عمر فاروق ﷜ سے شیطان کا ڈرنا 54
عمر ﷜ کی فضیلت 55
آپ کاستر پوشی کرنا اور عزت کا دفاع کرنا 56
عمر ﷜ کا رات کے وقت گشت کرنا 58
دیوان مرتب کرنا 61
دیوان کی وجہ تسمیہ 63
صدقات ، مال فے اور مال غنیمت 64
عطیات کی تقسیم میں ابوبکر ﷜ کی رائے 66
عمر ﷜ کی رائے 66
ام المومنین زینب ؓ اپنا عطیہ تقسیم کر دیتیں 66
عمر ﷜ نے چھوٹے بچوں کےلیے وظیفہ مقرر کیا 67
عمر ﷜ کی شہادت 68
مختلف ممالک میں عمال کا تقرر 68
قاضیوں کا تقرر 69
عمر ﷜ کی اپنے بیٹے کو وصیت 69
عمرفاروق ﷜ کی کرامات 71
عمر بن خطاب ﷜ کی وفات پر تعریفی کلمات 72
عمر کے بارے میں مستشرقین کی آراء 74
عمر فاروق ﷜ کے بعض خطبے 76
پہلا خطبہ 76
دوسرا خطبہ 76
تیسرا خطبہ 77
چوتھا خطبہ 79
پانچواں خطبہ 81
عمر ﷜ کا قضا سے متعلق شریح کو خط 82
قضا سے متعلق عمر ﷜ کا ابو موسیٰ اشعری ﷜ کے نام خط 82
عمر ﷜ کی ابو موسیٰ اشعری﷜ کے نام خط میں وصیت 83
عمر کے اقوال زریں 85
عمر بن خطاب کی خلافت 95
آپ کا پہلا کارنامہ ابو عبیدہ اور مثنیٰ کی زیر قیادت عراق کی طرف لشکر کشی 95
معرکۂ نمارق ض 97
معرکہ جسر 97
مسلمانوں کی ہزیمن کے اسباب 100
الیس صغری 101
معرکہ بویب 102
سوق خنانس اور سوق بغداد 106
ملک شام کاتعارف 106
شام کی فضا 108
شام کی پیداوار 109
نہریں اور دریا 109
قبل از اسلام شام کے متعلق تاریخ عرب 112
شام کی لڑائی 113
دمشق کا محاصرہ 116
ابان کی زوجہ کا مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کرنا 120
رومیوں کا شب خون مارنا 122
صلح کے متعلق بات   چیت 124
ابو عبیدہ ﷜ کا سن 14ہجری میں دمشق میں داخل ہونا 125
معرکہ فحل 127
اہل دمشق کا ابو عبیدہ ﷜ کے نام خط یززجرد کی فارس پر تخت نشینی ، معرکہ قادسیہ 130
فوجی بھرتی 131
عمر ﷜ کا بذات خود عراق جانے کے لیے تیار ہونا 132
عام رائے 132
خاص رائے 133
سعد بن ابی وقاص ﷜ کا انتخاب 134
عمر ﷜ کی سعد بن ابی وقاص ﷜ کو وصیت 134
مثنیٰ ﷜ کی   وفات 136
مثنیٰ ﷜ کی سعد بن ابی وقاص ﷜ کو وصیت 138
مسلمانوں کےلشکروں کی ترتیب 139
عمر بن خطاب ﷜ اور سعد بن ابی وقاص ﷜ کے درمیان مراسلت 140
میدان قتال 142
یزد جرد کا قتال کی جلدی کرنا 143
مسلمانوں کا وفد یزد جرد کو دعوت اسلام دینے جاتا ہے 144
لشکر رستم کی روانگی 149
سعد ﷜ کا اپنے لشکر کو قتال سے روکنا 150
طلیحہ کی جرات 151
رستم قتال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے 152
فارسی نہر عبور کرتے ہیں 158
لڑائی کی تیاری 159
سعد ﷜ کا بیمار ہو جانا 160
خطبہ سعد 160
عاصم بن عمرو کا خطبہ 161
یوم ارمات ، معرکہ قادسیہ کا پہلا دن 163
ہاتھی 164
سعد ﷜ کی اہلیہ سلمیٰ کا ا نہیں ملامت کرنا 166
یوم اغواث ( معرکہ قادسیہ کا دوسرا روز ) 167
ابو محجن ثقفی قید سے نکل کر میدان قتال میں 170
یوم عماس ( معرکہ قادسیہ کا تیسرا روز ) 174
ہاتھوں کا فرار ہونا 175
شب ہریر یا شب قادسیہ 177
لڑائی کے نقصانات 181
مسلمانوں کی فتح کی اہمیت 182
قادسیہ کے بعد فتح مدائن 183
یوم برس 183
یوم بابل 183
مدائن کی فتح 184
ایوان کسریٰ 186
مسلمانوں کا مال غنیمت 187
معرکہ جلولاء 190
تکریت اور موصل کی فتح 193
فتح ماسبذان 194
فتح قرقیسیاء 195
تاریخ ہجری 199
بصرہ کی تعمیر 200
کوفہ کی تعمیر 201
معرکہ حمص 203
فتح جزیرہ 205
فتح ارمینیہ 206
عمر﷜ کی شام کی طرف روانگی 207
معرکہ قنسرین 209
انطاکیہ کی فتح 209
معرکہ مرج الروم 210
قیساریہ کی فتح 211
بیسان کی فتح اور اجنادین کا واقعہ 211
عمرو بن عاص﷜ کی حیلہ سازی 213
عمر بن خطاب ﷜ کا شام کی طرف روانہ ہونا 215
بیت ا لمقدس کی فتح 216
عمر﷜ کی ملک شام آمد 225
عمر فاروق ﷜ کا لشکر کو خطاب 225
عمر ﷜ کی تواضع اور سا دگی 227
عمر ﷜ کا بطریق کی طرف جانا 228
عمر فاروق﷜ کا بیت المقدس میں تشریف لے جانا 229
بیت المقدس والوں کے لیے عہد 230
حلب شہر کی فتح 233
فتح عزاز 236
معرہ اور دیگر شہروں کی فتح 237
قحط کا سال 237
بارش کے لیے درخواست 238
طاعون عمواس 241
ابو عبیدہ بن جراح ﷜ کی وفات 243
معاذ بن جبل ﷜ کی وفات 247
یزید بن ابو سفیان ﷜ کی   وفات 250
شرحبیل بن حسنہ کی وفات 251
طاعون عمواس کے بعد عمر ﷜ کی شام روانگی 253
شام وعراق میں مسلمانوں کی کامیابی کے اسباب 254
مصر کی فتح 258
معرکہ عین شمس 262
بابلیوں قلعے کی فتح 264
صلح کے لیے مذاکرات 266
قلعہ بابلیوں کی فتح   پرواشنجتوں کی رائے اور مناقشہ 274
عمرو بن عاص ﷜ کا امیر المومنین کو مصر کا تعارف کرانا 277
صلح کی شروط 278
اسکندریہ کی طرف روانگی اور اس کی فتح 280
قسطاط عمرو ﷜ 281
عمر بن خطاب ﷜ کو فتح اسکندریہ کی خبر پہنچانے کے لیے معاویہ بن خدیج کی روانگی 288
دمیاط کی فتح 290
عروس نیل 291
اسکندریہ کی لائبریری آگ کی لپیٹ میں 294
بحرین سے فارس کی لڑائی 297
قدامہ ﷜ کی معزولی 297
اہواز کی فتح او رہرمزان کی شکست 301
ہرمزان کی صلح 304
بصرہ کے لشکر کا وفد عمر ﷜ کی خدمت میں 305
یزدجرد کا مسلمانوں سے قتال کے لیےدوبارہ نکلنا ،ہرمزان کی اسیری ہرمزان کی بطور قیدی مدینہ کی طرف روانگی 308
وفد کا فتوحات کی وسعت کا طلبگار ہونا 311
سوس کی فتح اور معرکہ نہاوند 312
دانیال کی قبر 314
معرکہ نہاوند میں مسلمانوں کا مال غنیمت 318
سعد بن ابی وقاص﷜ اور چغل خور 319
فتح اصبہان 321
آذر بائیجان کی فتح 322
رے وغیرہ کی فتح 322
اہل رے کی صلح 324
مدینہ الباب کی فتح 325
ترک کی لڑائی 327
عمر بن خطاب ﷜ کی شہادت 329
عمر فاروق ﷜ کا قرض 331
رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تدفین کی عائشہ ؓ سے اجازت لینا 331
خلافت شوریٰ 332
خلیفہ کا چناؤ 332
عمر ﷜ کی لوگوں کو وصیت 337
اپنے بعد والے خلیفہ کے لیے وصیت 338
عمر ﷜ کا قاتل ابو لؤلؤہ 340
عبید اللہ بن عمر اور ان کا ہر مزان کو قتل کرنا 341
ہرمزان اور جفینہ کی عمر ﷜ کو قتل کرنے کی سازش 343
عمر فاروق ﷜ کی تدفین 344

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
16.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ زبان سیرت سیرت النبی ﷺ نبوت

سیرت سرور عالم جلد۔1

سیرت سرور عالم جلد۔1

 

مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

 

صفحات: 765

 

ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں   بے شمار سیرت نگار وں نے   سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول   آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر نظر کتاب ’’سیرت ِ سرورِ عالم ‘‘ سید ابو الاعلی مودودی کی   سیرت النی ﷺ پر جامع کتاب ہے جس کی ترتیب و تکمیل میں مولانا عبد الوکیل علوی ﷾(تلمیذ عبد اللہ روپڑی ) مولانانعیم صدیقی نے اہم کردار ادا کیا ۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے   جلداول   منصب نبوت ،نطام وحی،بعثت آنحضورﷺ اور ماقبل بعثت کے   ماحول او ر دعوت کی مخاطب قوم او ر عرب کےمختلف گروہوں کے احوال پر مشتمل ہے او ردوسری جلد نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے لے کر ہجرت مدینہ تک کےاحوال واقعات کے متعلق ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کے مؤلف مرتبین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
افتتاح 3
دیباچہ 9
عرض مرتبین 13
فہرست 17
فہرست تصاویر و نقشہ جات 34
مقدمہ از مؤلف 35
باب حقیقت نبوت 39
فصل انسانیت کے لیے خدائی سلسلہ ہدایت 41
مسلم بن کررہنے کی ہدایت 41
انحراف 42
نبوت اور انزالی میثاق 43
نبوت کے متعلق عقل کا فیصلہ 46
بھانت بھانت کی بولیاں 47
ایک ضاگانہ آواز 47
معاملہ عقل کی عدالت میں 48
تکذبین کی پوزیشن 49
مدعیوں کی پوزیشن 49
عقل کی عدالت کا فیصلہ 50
نبوت کی ضرورت و حقیقت 53
انسان کی سب سے بڑی ضرورت 53
جبری ہدایت کے بجائے الہامی ہدایت 54
مادی اور اخلاقی زندگی میں نشانات ہدیت کی ضرورت 54
انسان کے لیے شعوری رہنمائی کی اہمیت 55
پیغمبری کیا ہے؟ 57
انسانی زندگی کی اہم ترین ضرورت 58
رسولوں کا منصب 59
پیغمبر کی پہچان 59
پیغمبر کی اطاعت 60
پیغمبر پر ایمان لانے کی ضرورت 61
تاریخ سلسلہ نبوت ایک نظر میں 62
پیغمبروں کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟ 65
انبیاء کی مشترک دعوت اور ان کا منصب 66
ازالہ فساد، انبیاء کا کام 69
رسول بھیجنے کی غرض و غایت 70
فیصلے کے وقت رسولوں کی بعثت 71
جملہ بنیاء ایک ہی دین کے علم بردرا تھے۔ 72
بعثت سے پہلے انبیاء کا تفکر 72
علم غیب رسل 73
انبیاء کی کڑی نگرانی 75
براہ راست علم و مشاہدہ 75
غیر معمولی قوتیں 75
بشریت انبیاء 76
عصمت انبیاء کا مفہوم 76
اوصٓف انبیاء کے متعلق چند آیات 77
وحی 83
نبوت محمدی کی ضرورت اور اس کے دلائل 101
سرور عالم 155
ختم نبوت 169
آنحضور ﷺ کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی 239
بشریت رسول 309
دین حق 327
معجزات 379
مسئلہ شفاعت 409
حضور ﷺ کی چند پشینگوئیاں 425
قرآن اور حضور کے متعلق مستشرقین کی علمی خیانتیں 473
سابق امتوں کی تباہی اور ان کے آثار 489
مشرکین 567
عربوں کے چند دیگر مذاہب 595
یہود اور یہودیت 611

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت علماء فضائل و مناقب اور دفاع صحابہ محدثین

سیدنا ثعلبہ بن حاطب در عدالت انصاف

سیدنا ثعلبہ بن حاطب در عدالت انصاف

 

مصنف : محمد ارشد کمال

 

صفحات: 136

 

صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہی وہ پاکیزہ جماعت ہے جس کی تعدیل قرآن نے بیان کی ہے۔ متعدد آیات میں ان کے فضائل ومناقب پر زور دیا ہے اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اوران کی راہ سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر کیا ہے۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م﷢ کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن وحدیث کےساتھ تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور محدثین نے ’’الصحابة کلهم عدول‘‘ کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت، کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ ان کے کردار کوبد نما کرنے کےلیے ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی ۔تو محدثین اور علمائے امت نے   مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں   گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ در عدالتِ انصاف ‘‘ محترم جناب مولانا محمد ارشد کمال ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ پر لگائے جانے والے بہتانوں کا بڑے علمی انداز میں تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک کتابچے کا جواب ہے مصنف موصوف نے ان تمام اعتراضات کے جوابات دیے ہیں جو سیدنا ثعلبہ بن حاطب ﷜ پر عموماً کیے جاتے ہیں۔مصنف نے اس کتاب کودوحصوں میں تقسیم کیاہے ۔یہ ایک تحقیقی تصنیف ہے جو اپنے موضوع کی نہایت اہم کتاب ہےاور یہ ایک   اہم فریضہ تھا جس کے ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق عطا فرمائی۔ ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کا وش کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی   عظمت ومحبت پیدا فرمائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
عرض مؤلف 5
حرفے چند 8
تقریظ 11
صحابی کی تعریف 16
صحابہ کا ایمان 18
امت کے بہترین افراد 21
صحابہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی 23
تمام صحابہ جنتی ہیں 23
صحابہ کرام قرآن مجید کی نظر میں 25
مناقب انصار 27
اصحاب بدر کے فضائل 31
صحابہ پر طعن اور علماء اہل سنت 36
نام و نسب 44
سیدنا ثعلبہ بن حاطب کے بدری ہونے کے ثبوت 44
اعتراض 50
جواب 51
ثعلبہ ناموں کی فہرست 52
کیا سیدنا ثعلبہ بن حاطب واقعی مکار اور منافق تھے؟ 59
کیا ثعلبہ بن ابعی حاظب نام کی کوئی شخصیت ہے؟ 63
کیا سیدنا ثعلبہ بن حاطب دوزخی ہیں؟ 69
کیا ثعلبہ بن حاطب مسجد ضرار کے مؤسسین میں سے تھے؟ 71
قصہ ثعلبہ کی حقیقت 74
روایات کے متن سے قصے کا رد 96
اعتراض 112
جواب 112
اعتراض 112
جواب 113
موضوع اور ضعیف روایات کو بیان کرنے کا حکم 113
قصہ ثعلبہ میں پائی جانے والی خرابیاں 117
آیت ومنہم من عاہدا اللہ۔۔۔ کا شان نزول 113
سوال 126
جواب 127
مصادر 129

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلام اور سائنس نماز

صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ

صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ

 

مصنف : باثرہ شغیف نورانی

 

صفحات: 599

 

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، مکمل ضابطۂ حیات او رتمام علوم کا عظیم خزینہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور حکمت بیان کرتی ہے ۔صحیح بخاری ومسلم شریف کتاب اللہ کے بعد اتباعِ رسول کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ احادیث مبارکہ صحیح سمت انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جس میں انسانیت کی تعمیر اور سوسائٹی کی تنظیم کے لیے درست بنیادیں ملتی ہیں ۔ اس میں حکمت ودانائی کی وہ باتیں ہیں جو بنی نوع انسان کی روحانی وجسمانی شفا کا باعث ہیں۔ احادیث مبارکہ اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں اور نہ ہی سائنسی تعلیم کی فراہمی کے لیے نازل ہوئی ہیں تاہم یہ کسی سائنسی انسائیکلوپیڈیا سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان میں ایسے سائنسی حقائق موجود ہیں جہاں آج کی جدید سائنس بھی ان کی حدود کے ادراک اورتعین کی دسترس نہیں رکھتی۔ زیر تبصرہ مقالہ ’’صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق کا تقابلی مطالعہ‘‘ محترمہ باثرہ شغیف کی کاوش ہے جسے انہوں نے ایم ایس علوم اسلامیہ کی ڈگری کےحصول کے لیے ڈاکٹر زاہدہ شبنم صاحبہ کی نگرانی مکمل کر کے شعبہ علوم اسلامیہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، لاہور میں پیش کیا۔ یہ مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ مقالہ کی تیاری میں مستند حوالہ جات کتب ، ویب سائٹس اور میڈیکل کتب سےمدد لی گئی ہے۔ مقالہ نگار نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی سائنسی حقانیت کوثابت کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
باب اول : اسلام اور سائنس ۔۔۔۔۔۔ تعارفی بحث 24۔29
فصل اول : اسلام کا سائنسی اسلوب 24۔31
فصل دوم :   علم سائنس کا تعارف و آغاز اور اسلا م کی دعوت میں اس کی اہمیت 32۔37
فصل سوم : احادیث   مبارکہ کی سائنسی اہمیت 38۔39
باب دوم: صحیحین کی روایات اور سائنسی حقائق ۔۔۔ ایک تقابلی مطالعہ 40۔155
فصل اول : صحیحین   اور ان کے مؤلفین کا تعارف 43۔73
صحیح بخاری شریف

امام بخاریؒ

43

50

صحیح مسلم شریف 62
امام مسلم ؒ 67
فصل دوم : علم الطب (Medical Science) 73۔128
طاعون 73
جذام 79
حجامہ 85
ختنہ 91
مردار حرام 96
ذبیحہ حلال 97
خون حرام 99
نکاح کے فوائد 103
زنا کے نقصانات 105
پردہ 108
چھینک پر شکر 111
جمائی کی کراہت 112
رضاعت 114
علم الجنین (Human Embroyology) 117
جنین کی نشونما کے مراحل 117
علقہ ، مضغہ 119۔122
حس سماعت و حس   بصارتHuman Biology)) 124
داڑھی بڑھانا 128
مونچھ کتروانا 131
ناخن کاٹنا 133
زیر جامہ بال صاف کرنا 134
بغل کے بال صاف کرنا 135
بھنوؤں کے بال اتارنے کی ممانعت 135
گودنا اور گدوانے کی ممانعت 136
خوبصورتی کے لیے   دانتوں کا علاج 138
علم النفسیاتPsychology)    ) 139
موسیقی کا اثر 139
شراب نوشی کے نقصانات 143
نیند کے فوائد 151
خوابوں کے اسرار 153
باب سوم :صحیحین کی   سائنس کے متعلقہ روایات او ر سائنسی تحقیقات
ایک تقابل 156۔256
فصل اول: علم الصحت(Health Science) 160۔183
وضو کرنا ( سائنسئ   فوائد ) 160
ہاتھ دھونا 160
کلی کرنا 161
مسواک کرنا 161
ناک میں پانی ڈالنا 161
منہ دھونا(Washing of the face) 162
سر کا مسح 162
بازو کہنیوں تک دھونا 162
پاؤں ایڑیوں تک اچھی طرح دھونا 162
غسل کے فوائد 163
تیمم کرنا 163
نماز پڑھنا 164
میڈیکل   سائنس میں نماز کے فوائد 166
اوقات نماز 167
رکوع کرنا 167
رکوع کا طبعی فائدہ 167
رکوع سے اٹھ کر قیام کرنا 167
سجدہ کرنا 168
تشہد 168
سلام پھیرنا 168
باجماعت نماز میڈیکل ریسرچ میں 169
نماز تہجد 169
روزہ رکھنا 170
صحیحین میں روزے کے احکامات 171
روزے کے فوائد میڈیکل سائنس میں 171
ہفتہ کے دو روزے 174
داؤدی روزے کے طبعی فائدے 174
ایام بیض کے روزے 174
قمری تقویم کی حکمت 175
شوال کے چھ روزے 175
نفس کشی کے لیے روزہ 176
صحیحین میں سونے   کے آداب 177
دائیں کروٹ سونا 177
بائیں کروٹ سونا 178
چت لیٹنا 178
اوندھا لیٹنا 178
دائیں ہاتھ سے کھانا 179
انگلیاں چاٹنا 179
انگلیا ں چاٹنے کی طبی تحقیق 180
پانی بیٹھ کر پینا 181
پانی میں سانس نہ لینا 182
فصل دوم : علم الحیوانات(Zooiogy) 184۔223
اونٹ کے فوائد 184
اونٹ کا گوشت 184
اونٹنی کے دودھ میں شفاء 185
اونٹ کا پیشاب 187
گھوڑے کا گوشت 190
گور خر کا گوشت 192
ضب کا گوشت 194
خرگوش کا گوشت 197
گدھے کا گوشت 199
خنزیر کا گوشت 201
درندے کا گوشت 205
ناخن والے پرندے حرام 205
چوہا 207
چوہا گھی میں گر ے ( کسی بھی کھانے میں ) 208
علم الحشرات(Insectology) 210
ٹڈی کا گوشت 210
مکھی کے ایک پر میں شفاء 212
شہد کی مکھی 214
علم معدنیات (Mineroiogy) 220
سرمہ 220
فصل سوم : علم البناتات (Botany) 224۔256
جو کے فوائد 224
تلبینہ 225
جو کے ستو 225
کدو 228
کلونجی 231
کھجور 233
علم آب(Hydreoiogy) 238
آب زمزم کا معجزہ 238
علم الفلکیات(Astro Physics) 242
معجزہ ء شق قمر 242
سات آسمان 246
علم ارضیات (Geo physics) 250
زمین کی سات تہیں 250
باب چہارم :حدیث و سائنس کا تجزیاتی مطالعہ اثرات و نتائج 258۔284
فصل اول : احادیث مبارکہ   اور علم سائنس /اسلوب و منہج کا تقاب 258۔261
فصل دوم : علم سائنس پر احادیث مبارکہ کے علمی اثرات 262۔265
فصل سوم : مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا جائزہ 266۔278
خلاصہ تحقیق 279
نتیجہ ء تحقیق 282
سفارشات و تجاویز 285
اشاریہ 286۔293
آیات بینات 287
احادیث مبارکہ 289
فہرست و مصادر و مراجع 294۔309

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
18 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam Quran اسلام تاریخ سنت عیسائیت کتب حدیث

صحیح بخاری اور بائبل ایک تقابلی جائزہ

صحیح بخاری اور بائبل ایک تقابلی جائزہ

 

مصنف : محمد حسین میمن

 

صفحات: 522

 

اسلام ایک واحد دین ہے جو آج تک اپنی اصلی حالت میں برقرار ہے دیگر آسمانی کتب صحف آج تبدیل شدہ ہیں پچھلی امتوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ جو روش اختیار کی وہ نہ بھولنے والا حادثہ ہے۔ قرآن مجید نے ان کی ناپاک کاوشوں کو کھول کھول کر بیان فرمایا ‘ اپنی کتاب میں تحریف‘مسائل گھڑنا‘ جھوٹے مسئلے بتا کر عامۃ الناس کو صراط مستقیم سے گمراہیوں کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیلنا‘اپنے ہاتھوں سے لکھ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے تھے جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں’’ان لوگوں کے لیے ویل ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ کی طرف کا کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل(ہلاکت)اور افسوس ہے۔‘‘ اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث نبویﷺ کے علاوہ باقی تمام مصحف آسمانی میں تحریف ورد وبدل ہوچکا ہے اور غیر مسلم خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا جب انہوں نے اپنی کتب کو تحریف شدہ پایا تو انہوں نے اسلامی تعلیمات پر بھی تحریف اور ردوبدل کا الزام لگانا اور اس کا اثبات کرنا شروع کر دیااور عیسائی پادریوں اور مستشرقین نے ہزاروں کتب نبیﷺ اور اسلام کے خلاف لکھ ماری ہیں اور مستشرقین قرآن پر تو تحریف کا الزام نہیں لگا سکتے تھے اس لیے انہوں نے احادیث کے غیر محفوظ ہونے کا دعوی کیا اور بہت سے اعتراضات کیےکیونکہ حدیث ہی قرآن پاک کی تفصیل وتوضیح کا اصل ذریعہ ہے مگر ان کے تمام اعتراضات بے کار ہیں اور ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے بہت سے مضمون اور کتب تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک زیرِ نظر کتاب ہے۔ اور اس کتاب کی تالیف کا مقصد ڈاکٹر موریس کی کتاب (The Bible the Quran and Science) کے پانچویں باب میں پیش کیے گئے اعتراضات کا جواب ہے جس میں ڈاکٹر موریس نے احادیث کی جمع وتدوین‘اس کی حفاظت اور بخاری ومسلم کی روایات پر اعتراضات کیے ہیں تو مصنف محمد حسین میمن کو یہ بات ناگوار لگی اس لیے انہوں نے اس کے جواب میں یہ کتاب تالیف کی ہے جس میں ڈاکٹر موریس کے اعتراضات کا جواب ہے جس کا تعلق دفاع سنت کے ساتھ ہےاور ان عیسائیوں اور پادریوں کے وہ اعتراضات جو احادیث کے خلاف پیش کرتے ہیں کا بھی جواب ہے‘ اور ان منکرین حدیث کا بھی رد ہیں جو کہتے ہیں کہ احادیث صرف تاریخ ہیں وہ بائبل کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اور اس کتاب میں چوبیس ابواب قائم کیے گئے ہیں جن میں بخاری شریف اور بائبل کی صحت اور روایات کا تقابل پیش کیا گیا ہے‘اور موجودہ دور میں اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات کافی وشافی دیئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے امت کی ہدایت کا فیصلہ فرما دے اور مصنف کے لیے توشۂ آخرت بنا دے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما دے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظ 21
مقدمہ 25
چند معروف مستشرقین کےنام 35
باب :1(اسناد صحیح بخاری /اسناد بائبل )
اسناد صحیح بخاری /اسناد بائبل 51
اسناد صحیح بخاری 51
عبداللہ بن الزبیرالحمید ی﷫ 64
روی عن 64
امام حمیدی ﷫ کےبارےمیں تفصیلات 65
سفیان ﷫ 66
یحییٰ بن سعید الانصاری ﷫ 68
محمد بن ابراہیم التیمی ﷫ 69
علقمہ بن وقاص اللیثی ﷫ 71
سیدنا عمربن خطاب ﷜ 71
اسناد بائبل 74
پروٹسینٹ  بائبل کاحال 74
یوشع 78
قضات 78
راعوت 79
سموئیل 79
ملوک 79
احبار 79
عزراورنحمیاہ 80
طوبیاہ 80
یہودیت 81
استیر 81
ایوب 82
مزامیر 82
امثال 83
جامع 84
نشید الاناشید 84
حکمت 85
یشوع بن سیراخ 85
ایسیاہ 86
ارمیا 87
مرثیے 87
باروک 87
حزقیال 87
دانیال 88
انبیاء صغریٰ 88
مکابیین 89
متی،یوحنا،لوقا،مرقس کی اناجیل 92
باب :2(تعارضات صحیح بخاری /تعارضات بائبل )
تعارضات صحیح بخاری 101
صحیح بخاری کی احادیث اوران میں تعارضات کی حقیقت 101
صحیح بخاری میں بظاہر احادیث میں تعارض اوران  میں تطبیق کی چند مثالیں 102
طاعون کےمتعلق دوبظاہر متعارض احادیث میں تطبیق 103
نحوست کاہونایانہ ہونا 105
بیت الخلاء میں قبلے کی  طرف منہ کرنا یانہ کرنا؟ 107
عورتوں میں کامل اوربہترین عورت کون ہے؟ 109
بائبل میں تعارضات 111
بائبل میں یسوع مسیح﷤کانسب نامہ 112
انجیل لوقا کےمطابق یسوع کانسب نامہ 113
بائبل میں تعارض کی دوسری مثال یسوع مسیح ﷤ کون سی جگہ سےاٹھائے گئے 117
بائبل میں تعارض کی تیسری مثال چھ دن یاآٹھ دن 118
بائبل میں تعارض کی چوتھی مثال مسیح ﷤ صرف بنی اسرائیل کےلیے ہیں؟ 119
بائبل میں تعارض کی پانچویں مثال یسوع ﷤ کوکس کےپاس لےجایا گیا؟ 120
بائبل میں تعارض کی چھٹی مثال ایک آدمی یادوآدمی؟ 122
باب :3(صحیح بخاری اوربائبل میں مستقبل کی پیشین گوئیاں)
صحیح بخاری میں مستقبل کی پیشین گوئیاں 135
صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ کی بیان کردہ پیشین گوئیاں 136
فاطمہ ؓ کاانتقال 136
نبی ﷺ کاام حرام ؓ کوجنگ میں شرکت اوران کی شہادت کی خبر دینا 138
بصرہ سےآگ کانمودارہونا 140
سیدنا عمر﷜ کازندہ رہنا 141
زمانہ قریب ہوگا 142
زمانہ قریب ہوجائےگا 143
قتل عام ہونا 144
حلال  وحرام کو دیکھا جائےگا 144
زلزلوں کاکثرت سےآنا 145
نااہل لوگ عہدے سنبھال لیں گے 145
فلک بوس عمارتیں بنانے میں مقابلے بازی ہوگی 146
لونڈی اپنے مالک کو جنم دےگی 146
بائبل اورمستقبل کی پیشین گوئیاں 150
بائبل کی بیان کردہ پیشین گوئیاں 150
مسیح ﷤ قبرسے کتنے دن بعد غائب ہوئے 150
مسیح ﷤ کےکانام مسیح ﷤ یاعمانوایل 151
مسیح ﷤ کے انتقال سےقبل دوبارہ دنیا میں آنا 152
بخت نصر کےہاتھوں صور کی تباہی 153
نبوت کاخاتمہ 155
باب :4(صحیح بخاری اوربائبل میں اللہ تعالیٰ کاتصور )
صحیح بخاری اوراللہ تعالیٰ کاتصور 159
بائبل اوراللہ تعالیٰ کاتصور 164
باب :5(صحیح بخاری اوربائبل میں عصمت انبیاء ﷩
صحیح بخاری اورعصمت انبیاء﷩ 171
آدم ﷤ کاتذکرہ 171
نوح ﷤ کاتذکرہ 172
الیاس ﷤ کاتذکرہ 173
ادریس ﷤ کاتذکرہ 173
ابراہیم اوراسماعیل ﷩ کاتذکرہ 174
اسحاق بن ابراہیم ﷤ کابیان 174
لوط ﷤ کاتذکرہ 174
صالح ﷤ کاتذکرہ 175
یعقوب ﷤ کاتذکرہ 175
یوسف ﷤ کاتذکرہ 176
ایوب ﷤ کاتذکرہ 176
ہارون ﷤ کاتذکرہ 176
موسیٰ ﷤ کاتذکرہ 177
خضر﷤ کاتذکرہ 177
یونس ﷤ کاتذکرہ 178
سلیمان ﷤ کاتذکرہ 179
داؤد ﷤ کاتذکرہ 179
عیسیٰ ﷤ کاتذکرہ 180
بائبل اورعصمت انبیاء ﷩ 182
نوح ﷤ کاتذکرہ 182
تبصرہ 182
ابراہیم ﷤ کاتذکرہ 183
لوط ﷤ کاتذکرہ 183
تبصرہ 183
اسحاق ﷤ کاتذکرہ 183
یعقوب ﷤ کاتذکرہ 183
تبصرہ 183
موسیٰ اورہارون ﷤ کاتذکرہ 184
تبصرہ 185
داؤد ﷤ کاتذکرہ 185
سلیمان ﷤ کاتذکرہ 186
مسیح ﷤ کاتذکرہ 187
باب :8(صحیح بخاری تحریفات سےپاک کتا ب ہے جبکہ بائبل میں تحریفات کےانبار
صحیح بخاری تحریفات سےپاک کتا ب ہے 209
بائبل میں تحریفات 215
تحریف کی پہلی مثال 217
تحریف کی دوسری مثال 218
تحریف کی چوتھی مثال 220
تحریف کی پانچویں مثال 220
تحریف کی چھٹی مثال 221
تحریف کی ساتویں مثال 222
تحریف آٹھویں مثال 223
تحریف کی نویں مثال 223
تحریف کی دسویں مثال 224
تحریف کی گیارہویں مثال 225
بائبل میں تحریف کی بارہویں مثال 225
تحریف کی تیرہویں مثال 226
تحریف کی چودھویں مثال 227
تحریف کی پندرہویں مثال 228
تحریف کی سولھویں مثال 229
باب :9(صحیح بخاری ،بائبل اورعلم حیوانات)
صحیح بخاری اورعلم حیوانات 233
مکھیوں کاذکر 233
سانپ کاذکر 234
بلی کاذکر 234
مرغ اورگدھے کاذکر 235
خرگوش کاذکر 236
چوہے کاذکر 236
سینگ والے  مینڈھوں کاذکر 237
اونٹنی کاتذکرہ 237
صحیح بخاری میں خچر کاذکر 238
خرگوش کاتذکرہ 239
چیونٹی کاتذکرہ 239
چیونٹیوں کی اقسام 240
سانپ کاتذکرہ 241
باب :10(صحیح بخاری اوربائبل میں علم اطلب )
صحیح بخاری اورعلم الطب 245
برتن میں سانس لینے کی ممانعت 246
انگلیوں کےپوروں پر جراثیم کش پروٹین 247
کتااگرکسی برتن کوچاٹ جائے تواسے سات دفعہ پانی  اورمٹی سے دھونا 248
شہد سےعلاج 253
مسواک کرنا 255
ختنہ کرنا 255
ختنہ نہ کرنے کے نقصانات 256
حجامہ 257
حجامہ کروانے کےفوائد 258
نہارمنہ عجوہ کھجور کااستعمال 258
عجوہ کھجور کےاستعمال میں فوائد 259
سرمہ کااستعمال 261
بائبل اورعلم الطب 263
گھرکوکوڑھ سےبچانے کاطریقہ 263
نفاس کی مدت 264
زناکار کوپہچاننے کاافسانوی ٹیسٹ 265
تعلیمی مقاصد 266
تشریعی مقاصد 266
اجتماعی مقاصد 267
سیاسی مقاصد 268
تاریخ اورحدیث میں فررق 269
تاریخ اورحدیث کےوضوابط کاتقابل 270

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
19.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام روزہ و رمضان المبارک نصابی کتب

روزہ (مطالعہ حدیث کورس)

روزہ (مطالعہ حدیث کورس)

 

مصنف : حبیب الرحمن

 

صفحات: 35

 

انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا ساتواں یونٹ ہےجس میں روزہ کی اہمیت، فضیلت، فرضیت، روزہ کے احکام ماہ رمضان کے فضائل، اعتکاف کے احکام، نفلی روزے اور صدقہ فطر سے متعلق احادیث اور ان کا مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ کے بعد آپ دین اسلام کے بنیادی رکن روزہ اور اسلام کی ایک فرض عبادت کی حقیقت اور اہمیت سے آگاہی حاصل کر سکیں گے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
تعارف 7
آیات قرآنی 8
احادیث نبوی 9
رمضان کے فضائل وبرکات 9
رمضان کی آمد پر رسول اللہ ﷺ کی سخاوت 9
رمضان کی آمد پر فرشتوں کی منادی 10
قیام رمضان کا اجر 14
بلاعذر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دینے کا نقصان 14
روزہ کے اصل مقاصد تقویٰ اور پرہیزگاری 15
رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت 16
سحری وافطاری کے بارے میں احکام وہدایات 17
افطار میں جلدی کرنے کی تاکید 18
سحری اور اذان کے درمیان وقفہ 18
افطار کس چیز سے بہتر ہے 19
افطار کی دعا 19
روزہ کی شفاعت 19
وہ ایام جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے 20
وہ ایام جن میں روزہ رکھنا مکروہ ہے 21
سفر میں روزہ 21
کن صورتوں میں روزہ رکھنے کا حکم ہے 22
بھول کر کھا پی لینے کی صورت میں روزہ کا حکم 22
رمضان کے عشرہ اخیر کی فضیلت 23
لیلۃ القدر کی دعا 24
اعتکاف 24
اعتکاف کے احکام 25
رویت ہلال 26
شہادت سے چاند کا ثبوت 27
نفلی روزے 28
خلاصہ 30
روزے کا مقصد،فوائد اور عملی زندگی پر اثرات 30
فہرست مراجع 32

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1 MB ڈاؤن لوڈ سائز