تاریخ علم تجوید ( قاری محمد طاہر رحیمی )

تاریخ تجوید ( قاری محمد طاہر رحیمی )

 

مصنف : ابو عبد القادر مدنی

 

صفحات: 50

 

مجید کو ترتیل اور درست طریقے سے پڑھنے کا نام ہے علم تجوید کا وجوب کتاب وسنت واجماع امت سے ثابت ہے ۔اس علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خود رضوان اجمعین کو وقف و ابتداء کی دیتے تھے جیسا کہ ابن ِعمرؓ سے معلوم ہوتا ہے۔فن تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری ہجری صدی کے نصف سے ہوا۔جس طرح حدیث وفقہ پر کام کیا گیا اسی طرح مجید کے درست وقراءت کی طرف توجہ کی گئیعلمائے نے ہر زمانہ میں درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ اس کی دعوت وتبلیغ کو جاری رکها ، متقدمین کے نزدیک علم تجوید پر الگ تصانیف کا طریقہ نہیں تها بلکہ تجوید علم الصرف کا ایک نہایت ضروری باب تها ، متاخرین علماء نے اس علم میں مستقل اور تفصیلی کتابیں لکھیں ہیں ، محمد بن مکی﷫ کی کتاب   اَلرِّعایَةاس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے ، جوکہ چوتهی صدی ہجری میں لکهی گئی۔ علم قراءت بھی ایک الگ فن ہے قراءت اور امت نے اس فن  بھی پر ہر دور میں مبسوط ومختصر کتب کے تصنیف کی ۔ ائمۂ وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل فہرست ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر انجام دی ہیں ۔ میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام  جناب قاری یحییٰ رسولنگری مرحوم، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی  حفظہم اور ان کےشاگردوں کی  تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں  خدمات  قابل ِتحسین ہیں  ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے  علاوہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور  کے زیر نگرانی شائع ہونے  والے  مجلہ ’’ رشد ‘‘کےعلم ِتجویدو  قراءات  کے موضوع پر تین ضخیم  جلدوں  پر مشتمل قراءات نمبر  اپنے  موضوع  میں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں  مشہور قراء کرام کے   تحریر شدہ مضامین ، علمی  مقالات  اور حجیت  قراءات پر    پاک وہند کے  کئی  جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں  قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی  بھی خوب خبر لیتے ہوئے  ان کے  اعتراضات کے  مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر کتابچہ’’تاریخ تجوید‘‘شیخ القراءابو عبدالقادر صاحب کا مرتب شدہ ہے مرتب موصوف نےاس مختصر میں  تجوید واوقاف کی ضرورت واہمیت ،فن تجوید کی تدوین ،اسکے اہم فوائد ومنافع، روایت حفص کی پوری سند،تجوید کے وجوب کے وحدیث،اجماع وقیاس و سے،منکرین تجوید کے چند شبہات اور ان کےجوابات تجویدوقراءات سے متعلق چند فقہی وغیرہ  پر نہایت عمدہ طریق سے روشنی ڈالی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 3
تجوید وتصحیح کے بارہ میں لوگوں کی تین قسمیں 4
تجوید کے خلاف پڑھنا لحن وخطا ہے 5
کی زینت ہے 6
صحیح وعمدہ تلاوت میں بلا کی تاثیر ہے 7
وقف کی ضرورت واہمیت 8
تجوید کی تعریف 8
تجوید کا موضوع 8
تجوید کی غرض 9
تجوید کے سات بڑے بڑے فوائد 10
تجوید کا شرعی حکم 11
تجوید کے ارکان چار ہیں 14
تجوید کی تدوین کی مختصر وسرگذشت 18
پانی پت میں آغاز تجوید وشیوخ تجوید 19
قاری عبید عرف قاری لالہ پانی پتی کا ایک عجیب وغریب قصہ 20
روایت حفص کی پوری سند مجھ سے لے حضرت جل مجد تک 22
وحدیث اجماع وقیاس اور اقوال کی روشنی میں 24
چار 24
بارہ 25
اجماع امت 28
قیاس 25
اقوال وعلماء 29
منکرین تجوید کے چند شبہات اور ان کے جوابات 31
تتمہ ان فقہی میں جو تجوید وقراءت سے متعلق ہیں 39
تتمہ جمع وتشکیل قراءت کی مختصر 43

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

You might also like
Comments
Loading...