Categories
Islam اسلام اہل تشیع سنت متعہ

شیعیت تحلیل و تجزیہ

شیعیت تحلیل و تجزیہ

 

مصنف : محمد نفیس خاں ندوی

 

صفحات: 337

 

تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر نظر کتاب’’شیعیت تحلیل وتجزیہ‘‘ محمد نفیس خاں ندوی  کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نےاس کتاب میں شیعوں کے  قرآن،رسالت اور صحابہ کرام سے متعلق عقائد کو ان کی مستند کتابوں کی روشنی میں  واضح کیا ہے اور شیعیت کی حقیقت،یہودیت سے وابستہ اس کے آنے بانے اور اس کے حقیقی خدوخال کونمایاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
نذر عقیدت 17
شیعیت کی تاریخ
تاریخی پس منظر 19
یہودیت 20
میثاق مدینہ 22
بنوقینقاع کی عہد شکنی 24
بنونضیرکی کارستانیاں 26
بنونضیر کاانجام 27
بنوقریظہ کی بغاوت 29
بنوقریظہ کاانجام 32
خیبرکےیہود 33
ایک مجرمانہ سازش 34
نوٹ 35
جزیرۃ العرب سے یہودیوں کی جلاوطنی 35
مجوسیت 37
فارس 37
نامہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بنام کسری پرویز 38
اہل فارس کی نفسیات 39
حضرت عمررضی اللہ عنہ کی شہادت 41
حضرت عمررضی اللہ عنہ کاقاتل شیعوں کاہیرو 42
یہودیت ومجوسیت کاگٹھ جوڑ 42
عبداللہ ابن سباکی فتنہ سازی 43
عبداللہ ابن سباکی محاذآرائی 45
عبداللہ ابن سباکاسیاسی محاذ 46
خلافت عثمانی رضی اللہ عنہ میں شورشیں 47
نوٹ 48
ابن سباکاکردار 49
ابن سباکےسیاسی دورے 49
جعلی خطوط 51
سبائی فتنہ کاعروج 52
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کامحاصرہ 53
خط کس نے لکھاتھا؟ 55
مظلومانہ شہادت 56
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اورصحابہ کرام کاعمل 57
سبائیت کی کامیابی 59
عبداللہ ابن سباکامذہبی محاذ 60
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو 60
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کاعقیدہ 61
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کاعقیدہ 62
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رجعت کاعقیدہ 63
حضرت علی رضی اللہ عنہ کارد عمل 64
شیعان علی رضی اللہ عنہ 64
امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ المرتضی 66
حضرت علی رضی اللہ عنہ کامطالبہ 68
قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کامطالبہ 68
جنگ جمل اورسبائیوں کاکردار 69
مرکزخلافت کی منتقلی 70
حضرت علی رضی اللہ عنہ اورحضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ 71
صفین کی جنگ اورسبائی کردار 74
خوارج کاظہور 76
نہروان کی جنگ 78
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت 78
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی 80
نوٹ 81
ابن سباکی کامیابی 82
حضرت علی رضی اللہ عنہ۔شیعوں کی نظرمیں 83
علمی کمال 83
واقعات عالم کاعلم 84
ربوبیت 84
جنت وجہنم کی ملکیت 85
خداسے ہم کلامی 85
قرآن ناطق 85
نبی سے بڑا مقام 86
فرشتہ کانازل ہونا 86
انبیاءکامجموعہ 86
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبرکی زیارت 87
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں 87
شیعہ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نظرمیں 90
شیعوں کولعنت وملامت 90
حضرت علی کااظہارحق 91
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کاعہد خلافت 92
خلافت اوراس سے دست برداری 93
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح 95
شیعوں کاردعمل 96
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی شیعوں سے بیزاری 97
اہل کوفہ کوپھٹکار 97
شہادت 98
شہادت حسین رضی اللہ عنہ۔اسباب واثرات 99
یزیدکی ولی عہدی 99
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کاموقف 102
اہل کوفہ کودعوت  نامے 102
مسلم بن عقیل کوفہ میں 104
نوٹ 107
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کاعزم 107
کربلا میں 108
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت 110
شیعہ۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےقاتل 112
اہل کوفہ شیعہ تھے 112
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی گواہی 113
حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کی گواہی 113
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی گواہی 114
حضرت فاطمہ صغری رضی اللہ عنہ کی گواہی 115
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکی گواہی 115
شیعوں کےنزدیک کربلا کی اہمیت 115
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی فضیلت 116
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےنام پررونا 118
کربلاکےبعد 118
توابین کاخروج 119
مختارثقفی کاظہور 120
شیعیت کاآغاز 122
امامت۔شیعیت کی اساس
سبائیت ایک نےقالب میں 124
امامت کامفہوم 125
امام کامقام ومرتبہ 127
امامت کامنکرکافرہے 128
نبوت اورامامت 128
انبیاءسے افضل 129
آسمانی کتابوں کےمالک 130
عیوب سے پاک 131
ائمہ معصوم ہیں 131
ائمہ کی بات فرمان الہی کےمثل 132
علم غیب 132
قدرت کاملہ 135
قانون سازی کاحق 136
ائمہ کی قبروں کامقام ومرتبہ 137
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی مٹی 137
زیارت قبور 138
زیارت کی فضیلت 139
کلمہ امامت 140
شیعوں کےمابین اختلافات اوران کےفرقے 141
پہلااختلاف 142
فرقہ مختاریہ۔کیسانیہ 143
فرقہ زیدیہ 144
فرقہ باطنیہ وظاہریہ 145
نصیری فرقہ 146
تیسرااختلاف 148
چوتھااختلاف 148
اسماعیلی فرقہ 149
قرامطہ 149
مہدویہ 150
حسن بن صباح 151
آغاخانی؍خوجہ فرقہ 152
بوہرہ 153
بابیہ اوربہائی 154
پانچواں اختلاف 155
چھٹااختلاف 156
ساتواں اختلاف 157
آٹھواں اختلاف 157
نواں اختلاف 158
نوٹ 160
شیعہ اثناعشریہ امامیہ جعفریہ 161
شیعہ 161
امامیہ 162
جعفریہ 162
بارہ امام 162
توجہ طلب 164
عہد سفارت 164
عہد غیبوبت 165
الکافی کی تصنیف 166
امام غائب کے’’کارنامے‘‘ 167
1۔قتل عام 167
2۔حرمین شریفین کی مسماری 168
3۔آل داؤدکی حکومت کاقیام 169
نوٹ 170
شیعوں کاطریقہ دعوت وتبلیغ 171
شیعوں کےہتھکنڈے 172
تقیہ اورکتمان
تقیہ کیاہے؟ 176
تقیہ کی اہمیت 177
تقیہ کی فضائل 178
اہل سنت کےساتھ تقیہ 180
تقیہ کی مثال 181
تقیہ اورشیعوں کےائمہ کرام 183
تقیہ اورحضرت حسن رضی اللہ عنہ 184
تقیہ اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ 184
تقیہ اورعلی ابن حسین رضی اللہ عنہ 185
تقیہ اورامام باقراورمام صادق علیہما السلام 186
تقیہ اورامان علی ابن موسی اورامام محمد الجوادرحمہااللہ 187
امام علی رضی اللہ عنہ اورامام حسن عسکری رحمہ اللہ 187
تقیہ اورنفاق 188
کتمان کیاہے؟ 189
کتمان اوراسلام 189
اشاعت حق 190
کتمان اوریہود 192
شیعہ اورقرآن
شیعوں کاعقیدہ 193
تحریف قرآن کاپہلاقائل 195
متقدمین ومتاخرین علمائے شیعہ 196
قرآن ناقص وتحریف شدہ ہے 197
حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ وحضرت عمررضی اللہ عنہ پرالزام 198
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرالزام 198
اصلی قرآن کےجامع 199
ادعائے حق تلفی 199
تحریف قرآن کی قسمیں 200
سورتوں کامکمل حذف 200
کلمات کاحذف 201
قرآن مجید کی شکایت 202
اصلی قرآن کہاں ہے؟ 202
خلاصہ بحث 204
حضرت علی رضی اللہ عنہ کافرمان 205
مسلمانوں کاعقیدہ 206
عقیدہ تحریف کےنقصانات 206
متعہ کاعقیدہ
شیعوں کےنزدیک متعہ کےفضائل 211
متعہ دین کاحصہ ہے 211
دوزخ سے آزادی کاپروانہ 212
جنت میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کاساتھ 212
عورتوں کےلیے معراجی تحفہ 213
شراب کانعم البدل 214
غسل متعہ سے فرشتوں کی پیدائشی 214
متعہ نہ کرنےپروعید 214
متعہ کاطریقہ اوراس کی شرائط 215
گواہ کی ضرورت نہیں 216
متعہ کےالفاظ 216
متعہ کامہر 217
متعہ کی مدت 217
متعہ کےوقت لڑکی کی عمر 218
کن عورتوں سے متعہ جائز ہے؟ 218
کتنی عورتوں سے متعہ جائزہے؟ 219
متعہ کےبعد ایک ساتھ سفرکاحکم 219
شادی شدہ عورت سے متعہ 220
شرمگاہ کومستعاردینا 220
عورت کےساتھ بدفعلی 221
نوٹ 222
متعہ کی تباہ کاری 223
زنااورمتعہ کےیکساں مفاسد 224
نکاح اسلام اورمتعہ شیعہ کابنیادی فرق 225
متعہ کےجواز میں شیعوں کی دلیل 226
متعہ اوراسلام 230
بداءکاعقیدہ
بداءکی مثالیں 234
امام مہدی کےظہورمیں بداء 234
حضرت اسماعیل ابن جعفرکی امامت میں بداء 234
حضرت محمد بن امام علی نقی رحمہ اللہ کی امامت میں بداء 235
رجعت کاعقیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 237
تناسخ کاعقیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 240
مذہبی رسومات وتقریبات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 241
سیاہ لباس 243
ماتم ونوحہ 244
ماتم کی تاریخ 245
تعزیہ 247
تعزیہ کی ممانعت 249
تعزیہ کی قسمیں 249
تعزیہ 249
ضریح 249
ذوالجناح 249
مہندی 250
تابوت 250
عَلَم 250
براق 250
تخت 250
تبرایعنی توہین صحابہ 251
امت محمدیہ۔شیعوں کی نظرمیں 255
شیعوں کےعلاوہ سب حرامی 256
کتےسےبھی بدتر 256
کافراوراجب القتل 256
سنی اورمشرک یکساں ہیں 256
شیعوں کی مذہبی عیدیں 257
عیدغدیر 257
عیدزہراء 258
عیدمباہلہ 259
عیدباباشجاع 260
عیدنوروز 260
یہودیت اورشیعیت کاباہمی امتزاج
غلوومبالغہ آرائی 263
دینی رہنماؤں کوخدابنانا 264
احساس برتری 265
تحریف کتاب 266
کتمان حق 268
مسلمانوں سے سخت دشمنی 269
مسلمانوں کی تکفیر 270
عقیدہ وصایت 272
یہودی حکومت کاقیام 274
تبرکات انبیاء 275
تابوت سکینہ 276
توارت وانجیل کاعلم 277
شیعوں کےاعتراضات اوران کےجوابات
حدیث قرطاس 279
اعتراضات اورجوابات 280
نوٹ 285
قضیہ سقیفہ بنوساعدہ 287
اعتراضات اورجوابات 289
ایک وضاحت 291
فدک کی میراث 293
فدک کیاہے 293
فدک کاقضیہ سنیوں کےنزدیک 294
نوٹ 295
فدک کاقضیہ شیعوں کےنزدیک 296
اعتراضات وجوابات 298
فدک کےحدوداربعہ 307
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی اولیت 310
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی 310
حدیث غدیر سے غلط استدلال 314
حدیث غدیرکاپس منظر 315
تشبیہ ہارون علیہ السلام سے غلط استدلال 316
آیت تطہیر سے غلط استدلال 319
آیت ولایت سے غلط استدلال 322
آیت مباہلہ سے غلط استدلال 326
آخری بات 328
شیعہ۔اکابرامت کی نظرمیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 330
حرف آخر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 336

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پردہ و حجاب اور لباس تمدن زبان سود نماز

شرعی پردہ

شرعی پردہ

 

مصنف : قاری محمد طیب

 

صفحات: 128

 

اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی پردہ ‘‘دیوبند مکتبہ فکر جید عالم دین مولانا قاری محمد طیب صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع،پردہ کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید اور وجہ تالیف 5
مسئلہ حجاب کی بنیادی علت 9
پردہ خود مقصود نہیں، بنیادی علت مقصود ہے۔ 9
بنیادی علتوں کی چند مثالیں 10
تصویر کی مثال 10
حرمت سود کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
قتل کلاب کی مثال 15
پردہ کا حکم انسداد فحش کے لیے ہے۔ 16
فحش کے آثار بد 17
فحش کی حرمت 20
پردہ کی ابتدائی صورت 20
تبرج جاہلیت 20
جاہلیت اولےٰ 22
جاہلیت حال 23
موجودہ جاہلیت اور فحش کے چند نمونے 24
پردہ کے پروگرام کی تربیت 30
ستر اشخاص 30
عورت کی بنیاد ستر حجاب 30
حکم استیذان 31
گفتگو پس پردہ 32
موجودہ تمدن کی بیباکی عورت کے باہر نکلنے شروط 33
معاشرتی قیور 34
عباداتی قیور 35
عورت کی امامت کی پردہ کی نوعیت 45
عورت کی انفرادی   نماز میں پردہ کی وضع 50
مسئلہ حجاب اور مسئلہ ستر 51
تمدنی قیود 61
خیالی پردہ 62
حجاب کی جزئیات کا خلاصہ اور منشاء شریعت 64
حجاب اور بے حجابی میں مشرق مغرب کی عورتوں کا موازنہ پردہ کے بارہ میں یورپ کی رجعت 70
عورت کے لیے کثرت معلومات قابل مدح نہیں۔ 72
مسئلہ حجاب کا دفاعی پہلو 78
پردہ پر پہلا اعتراض 78
دوسرا اعتراض اور اس کا جواب 84
عورتوں کی خرابیٔ صحت کا اصل منشاء 89
بے حجاب اقوام کی صحتیں بھی درست نہیں۔ 91
پردہ پر تیسرا اعتراض باپردہ عورتوں میں فضل وکمال اور اس کی چند مثالیں 102
تعلیم میں پردہ معین ہے اور بے بردگی مخل ہے۔ 107
ستر و حجاب کا فرق 110
پردہ کہاں کہاں   غیر ضروری ہے؟ 118
پردہ کہاں کہاں ضروری ہے؟ 121
پردہ کے بارے میں تین طقطۂ ہائے نظر 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق حسنہ اسلام اسلام اورتصوف بدعت حنفی روح زبان سنت فقہ فقہاء نبوت نماز

شریعت و طریقت

شریعت و طریقت

 

مصنف : عبد الرحمن کیلانی

 

صفحات: 530

 

دین رہبانیت، صوفیت، صوفی ازم، طریقت کے متوالوں کو سنہری شریعت دین اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں طریقت کے حق میں دیے جانے والے دلائل اور شخصیات کا احترم آمیز انداز میں بہترین اور باحوالہ علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کے غیر متعصب  متلاشی کو واقعی راہِ حق دکھانے کی قوت رکھتی ہے۔ دین طریقت کے مختلف بنیادی نظریات، وحدت الشہور، حلول، وحدت الوجود کا علمی محاسبہ۔  ولایت، کرامت، تصوف،  باطنی علوم، قیوم،قطب، ابدال، صوفیاء اور محدثین، اولیاء اللہ اور گستاخی، عشق و مستی، سماع و وجد،  جام و مے، تصور شیخ، حضرت خضر ؑ کی شخصیت، رجال الغیب، پیران پیر، شیعیت، خرقہ، لوح محفوظ، آستانے، مزارات، درگاہیں، ولایت یا خدائی، علم غیب، تصرف، توجہ ،بیعت،شفاعت، اولیاء اللہ کے مقابلے، ولی بننے کے طریقے، کرامات اور استدراج،صوفیائے کرام کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات کا تقابلی جائزہ، تصرف باطنی، مشاہدہ حق، دیدار الٰہی، رسول اللہ ﷺ کی حیات و وفات، ذکر قلندریہ، ذکر نور اور کشف قبور، محبت الٰہی، صحبت بزرگان، صوفیائے کرام کا تفسیری انداز، موضوع احادیث و واقعات، شریعت و طریقت کا تصادم، توحید، رسالت،قرآن،نکاح سے گریز، جنت اور دوزخ کا مذاق، ارکان اسلام کا مذاق اشرف علی تھانوی کا اعتراف حقیقت، خورشید احمد گیلانی اور روح تصوف، شریعت و طریقت کاتقابلی جائزہ

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 3
فہرست مضامین 5
باب (1)
دین طریقت یا رہبانیت (ایک آفاقی مذہب) 17
خدا کا پیغام ہدایت 18
ایمان بالغیب 19
رہبانیت کی ابتداء 20
دنیوی تعلقات سے بیزاری 21
رہبانیت کا طریقہ کار 25
رجال الغیب سے استفادہ کرنے والے گروہ 26
کیا دیدار الہی ممکن ہے ؟ 28
دیدار الہی یا شیطانی فریب 30
کشف و مشاہدہ کی حقیقت 31
دین طریقت کے مختلف نظریات 32
پیروکاروں میں تکرار و اختلاف 33
دین طریقت کے نقصانات اور معاشرہ پر اثرار 33
اسلام اور رہبانیت 35
رہبانیت میں کشش کی وجوہات 37
1- آئینہ باطن کی صفائی 38
2-کشف و کرامات 39
3- مشاہدہ حق 39
4- معاشرتی ذمہ داریا شرعی تکالیف سے نجات 39
5- شعبدہ بازیاں 40
عوام میں رہبانیت کی مقبولیت کے اسباب 41
1- غیب کے حالات سے دلچسپی 41
غیب معلوم کرنے کے ذرائع 42
2- خوارق عادت امور 43
3- تصرف کا عقیدہ 44
4- سستی نجات کا عقیدہ 45
5- مریدان با صفا کا کردار 45
6- مرنے کے بعد بھی تصرف کا عقیدہ 46
بتوں کی کرامات اور تصرف 47
7- درویشوں سے عقیدت 50
8- تذکرے اور ملفوظات کا وجود 50
1- ایک روایتی انداز 51
2- تذکرے اور تاریخی لغزشیں 51
1- حضرت علی ہجویری 51
2- حسین بن منصور حلاج 52
3- پیران پیر 53
3- زندگی کا دوسرا پہلو 54
4- روایت کرامات میں اختلاف 55
اویس قرنی کا جبہ 58
5- مبالغہ آرائی کی حد 59
6- الحاقی مضامین 61
باب(2)
دین طریقت کے نظریات و عقائد 63
1- وحدت الوجود 63
2- وحدت الشہود 64
3- حلول 64
1-حلول کا نظریہ 64
اسلام میں عقیدہ حلول کی ابتداء 66
حسین بن منصور حلاج 68
عبدالکریم جیلی اور عقیدہ حلول 70
حلاج کا مقام اولیائے کرام کی نظرمیں 71
حضرت علی ہجویری 71
مولانا روم 72
شیخ عبدالقادر جیلانی 72
خواجہ نظام الدین اولیاء دہلی 72
امام اہل سنت رضاخاں بریلوی 74
سکر اور صحو کا امتیاز 75
سکر اور صحو کی آڑ میں انبیاء پر اتہام 75
منصور حلاج کی تدریجی ترقی 77
سیدسلیمان ندوی اور حلاج 78
حلول مطلق اور حلول معین 80
نئے نئے خدا 81
2-نظریہ وحدت الوجود 82
اسلام میں وحدت الوجود کی در آمد 83
ابن عربی کی توحید اور فتوحات مکیہ 83
فصوص الحکم کی تعلیمات 85
دوزخ کی حقیقت 85
ابن عربی اور کعبة اللہ 86
ابن عربی اور علمائے حق 87
ابن عربی اور اشرف علی تھانوی 87
فصوص سے توحش 87
عفیف الدین تلمسانی 88
ابن عربی کے پیشرو 89
امام غزالی کی توحید 91
نظریہ وحدت الوجود کی تاریخ 92
فلسفہ وحدت الوجود 93
تصوف اور وحدت الوجود 94
اشرف علی تھانوی اور ابن عربی کی تنزیہ 95
وحدت الوجود پر شرعی دلائل 96
قرآنی دلائل 96
حدیث سے دلائل 97
3- وحدت الشہود 100
وجود و شہود کا فرق 100
وحدت الشہود کی تاریخ 101
وجود و شہود کی ایک دوسرے انداز سے تحقیق 104
شاہ ولی اللہ اور وجود و شہود 107
دین طریقت کے عقائد پر تحقیقی نظر 108
روح کی حقیقت 109
ہندو مت اور نظریہ روح 110
دین طریقت کا اسلامی نظریات پر اثر 111
باب (3)
صوفیاء کے نظریات و عقائد 115
زہاد اورصلحاء 115
غیر اسلامی نظریات کی در آمد 115
1- ولایت نبوت سے افضل ہے 117
ولایت کا مقام اور ابن عربی 117
خاتم الاولیاء کی خاتم الانبیاء پر فضیلت 118
اکتسابی نبوت اور مرزائے قادیان 118
شطحیات با یزید بسطامی 120
ولایت کی برتری کا قرآن سے ثبوت 120
قصہ موسی و خضر 121
مراتب ولایت 121
حضرت خضر کون اور کیا تھے ؟ 123
حضرت خضر کی شخصیت 122
اولیاء اللہ کی برتری کا دوسرا ثبوت 125
2- عابد کی عالم پر فضیلت 126
صوفی کون ہیں ؟ 127
کیا تصوف بدعت ہے ؟ 128
حدیث ، تفسیر، فقہ وغیرہ بدعت نہیں ؟ 129
کیا تصوف دین کا اہم شعبہ ہے ؟ 131
صحابہ کرام صوفی کیوں نہ کہلائے ؟ 133
عالم پر عابد کی کشفی دلیل 134
عابد پر عالم کی فضیلت کے دلائل 135
3- عابد کی مجاہد پر فضیلت 136
4- باطنی علوم کی شرعی علوم پر فضیلت 136
باطنی علوم کے حصول کے ذرائع 136
1- بذریعہ توجہ 136
2- بذریعہ فیض عام 137
3- بذریعہ کشف ، مشاہد یا لدنی علم 138
کشفی علوم کی اجتہاد پر فضیلت 138
4- بذریعہ عشق 140
5- بذریعہ حضرت خضر 140
6- بذریعہ باطنی معافی 141
حصول علم کا ذریعہ صرف تعلیم و تعلم ہے 142
کشفی علوم اور لطائف 143
باطنی علوم کی کتب اور ان کے مصنفین 143
باطنی علوم کیوں افضل ہیں ؟ 144
علم حدیث مردوں کا علم ہے 144
احادیث کو پرکھنے کا معیار 146
برزخی احادیث اور عقیدہ حیات النبی 146
5- شریعت پر طریقت کی بالادستی 148
1- شریعت کو محو کرکے طریقت حاصل کرنا 148
خواجہ نظام الدین اولیاء کا ارشاد 148
شیخ عبدالقادر جیلانی اور سابقہ علم 149
سری سقطی کا راہ عام اور خاص کا معیار 150
بوعلی فارمدی اور امام قشیری 151
2- شیخ کی غیر مشروط اطاعت 152
تصوف ، سلوک اور اطاعت شیخ 152
صادق فرغانی کی زائد شرط 153
اللہ کے نئے نئے رسول 153
3- غیر شرعی احکام کی تلقین 155
بایزیدبسطامی کا طریق تربیت 156
قرآن و سنت سے دور کرنا 156
6- صوفیاء کا باطنی سیاسی نظام 159
باطنی نظام کے قیام کی ضرورت 159
صدر دفتر اور عہدہ داروں کے مساکن 159
طبقات رجال الغیب 160
مناصب اولیاء اللہ کی شرعی بنیادیں 160
احادیث متطقہ قطب ابدال وغیرہ 161
اولیاء اللہ کے اعلی مناصب 165
منصب داروں کے مساکن اور فیوض 165
قیوم یا انسان کامل 167
فرد اور قطب وحدت 167
غوث قطب ابدال کا ثبوت پیران پیر کی زبان سے 168
مناصب کا عزل و نصب 169
قاسم ولایت کون ؟ 170
پیران پیر کا ایک چور کو ابدال بنا دینا 171
پیران پیر کا ایک کافر کو ابدال بنا دینا 173
معین الدین چشتی کو ہندوستان کس نے بھیجا ؟ 174
ضرب شدید کے ذریعہ ولایت 175
احکام ولایت کو چاک کر ڈالنا 176
دور نبوی کا باطنی نظام 177
اولیاء اللہ کی بے بسی 179
بابا نور محمد تیراہی کی ہجرت 180
اہل باطن پر علمائے حق کی گرفت 180
حکومتوں سے سزا دلوانا 180
امام مسلم اور صالحین 181
صالحین سے حدیث قبول کرنےمیں تامل 182
صوفیہ کا شجرہ طریقت 182
صوفیاء پر فقہاء کی گرفت 185
امام ابن تیمیہ اور مجدد الف ثانی کے کار نامے 186
باب(4)
صوفیاء کے مخصوص مسائل (1) 188
1- اولیاء اللہ اور ان کی گرفت 188
اولیاء اللہ والیان اسرار ہوتے ہیں 189
ولی کے مفہوم میں تبدیلی کب ہوئی ؟ 190
ذاتی اور عطائی کا فلسفہ 191
خداؤں کی تعداد 191
ولایت عامہ اور خاصہ کا عقیدہ 192
اولیاء اللہ کی گستاخی کا انجام 193
1- امام جعفر صادق کی بے ادبی کا انجام 193
2- امام موسی رضا اور قالین کے شیر 194
3- جنید بغدادی اور جلوہ گری 195
4- عبدالواحد کی گستاخی کا انجام 195
5- انتقام سے بچیے 196
6- جانوروں سے بھی انتقام 197
7- مردہ ولی کے بھی انتقام سے بچیے 197
2- عشق و مستی 198
عشق اور معرفت الہی 199
عشق مجازی اور حقیقی کی تقسیم 200
عشق مجازی اور امرد پرستی 200
اللہ تعالی پر الزام 200
عشق مجازی کا فضائل 201
عاشق الہی کا جنازہ 202
العشق نار کی عملی تعبیر 203
شیخ حسین لاہوری کا عشق 204
ذکر معشوق شیخ مادھو لاہوری 205
تاج محمود قادری نوشاہی 206
حاجی محمد قادری نوشاہی 207
میاں شیر محمد شرقپوری 207
عشق مجازی اور حیوانات 208
3- جہاد اصغر اور جہاد اکبر 208
جہاد بالسیف کی فضیلت 209
صوفیاء کی موضوع احادیث 210
عبدالکریم جیلی کا فلسفہ 210
جنیدبغدادی کے مرید اور جہاد بالسیف 212
گوشہ نشینی کا رد 214
4- سماع و وجد 215
سرودو رقص کے دلائل 215
دلائل کا جائزہ 216
سماع اور شرعی دلیل 218
وجد اور حال کا علاج 218
سماع کے متعلق صوفیائے حق کا دعوی 219
سماع کی دلدادگی 220
حافظ برخور دار نوشاہی کا سماع 221
ابوسعید اور ابوالحسن خرقانی کا سماع 221
5- جام و مے کی شاعری 222
شراب کی دلدادگی 225
6- تصور شیخ 225
تصور شیخ خدا سے دور رکھنے کا ذریعہ 225
تصور شیخ بزرگوں کے اقوال 226
اندھی عقیدت 227
جنیدبغدادی کے مرید کا غوطے کھانا 228
7- حضرت خضر کی شخصیت 228
حضرت خضر کون ہیں ؟ 228
حضرت خضر سے ملاقات 230
صوفیاء اور حضرت خضر کی تاریخ 231
پیران پیر سے پہلی ملاقات 231
حضرت خضر کی اضافی ڈیوٹی 232
حضرت خضر اور قطب الدین بختیار کا کی 233
حضرت خضر سے ایک روایت 234
حضرت خضر کی نماز 234
حضرت خضر کی ابدی زندگی کا عقیدہ 235
8- رجال الغیب سے استفادہ 235
پیران پیر کی ریاضت 236
پیران پیر کی خدمت میں رجال الغیب 237
جنات سے لڑکی واپس لانا 238
آسیب کے دورے 240
باب (5)
صوفیاء کے مخصوص مسائل (2) 241
9- شیعیت سے لگاؤ 241
1- بارہ اماموں کا فیض 241
2- حضرت علی پہلے درویش تھے 242
3- جبہ نبوی کی تاریخ 244
4- ماتم اور تعزیہ داری کی اہمیت 244
5- جنوں کا ماتم 246
6- حضرت حسین اور حوض کوثر 247
7- حضرت ام سلمہ اور خون کربلا 248
8- حضرت زین العابدین کو امامت کیسے ملی ؟ 249
9- اشرف علی تھانوی کی پیدائش 250
تصوف پر باطنیت چھاپ اور موضوعات 250
10- خرقہ کی فضیلت 252
شیر پر خرقہ کا اثر 253
محمود غزنوی اور فتح سومنات 253
11- اولیاء اللہ کے جوتوں کے کرشمے 254
دشمن کی سرکوبی 255
شمس الدین محمد حنفی کی گھڑا دیں 256
گھڑوں سے قلب جاری ہوتا ہے 256
12- لوح محفوظ پر نظر 257
لوح میں تبدیلی کیسے ہوتی ہے ؟ 258
آخر اللہ تعالی ہار مان لی 259
لوح محغوظ میں تبدلی نئی شکل 260
اس عقیدہ کی توثیق 261
13-عبادات میں غلو اور بدعات 262
بدعت کی اقسام 262
ہر طرح کی بدعت گمراہی ہے 263
بدعت کا دوسرا پہلو 264
اویس قرنی کی عبادت 264
عبداللہ خفیف کی عبادت 265
امام جعفر کا صدقہ 265
ابوالحسن خرقانی کا صدقہ 266
معروف کرخی کا تمیم 267
ابوالحسین کے استاد کی غیرت فقر 267
پیران پیر کا قیمتی لباس 268
شیخ ابوالسعود کی قیمتی پگڑی 269
کم خوری کامعیار 269
ترک دنیا کا معیار 269
بایزیدبسطامی کا نماز دہرانا 270
عبدالقادر جیلانی کا وضو 270
پیران پیر کے نوافل 271
شیخ محمد میر کی عبادت و ریاضت 271
ملاشاہ قادری اور اتباع سنت 271
14- اکل حلال اور احتیاط میں غلو 272
اکل حلال کی اہمیت 272
احتیاط کی حدود 272
صوفیاء کی احتیاط 274
حضرت سفیان ثوری 274
حارث محاسبی 275
احمد بن حرب 275
امام ابن قیم کا فتوی 275
15- پہلییوں کی زبان اور اسرار و رموز 276
ا- واقعات 276
حسن بصری کا وعظ 276
رابعہ بصریہ اور گورے کالے کا فلسفہ 277
احمد خضرویہ کی مہمان نوازی 277
سری سقطی کا خواب 278
شبلی کا زہد 279
ب- اخلاق حسنہ کی تعریفیں 279
ج- ایمان اور ارکان اسلام کے اسرار و رموز 281
باب (6)
آستانے اور مزارات 283
توحید کیا ہے ؟ 283
شرک فی العبادت 283
دین طریقت کے اثرات 284
بت پرستی اور قبر پرستی کا ابتداء 284
یہ آستانے اور در گاہیں 285
غیر مشروط اطاعت ہی خدائی کا دعوی ہے 285
نداء لغیراللہ ، توسل اور استمداد 286
سجدہ تعظیمی اور نظام الدین اولیاء 287
سجدہ تعظیمی اور حرمت 288
ولایت یا خدائی 289
1- علم غیب خاصہ خدا ہے 289
رسول اللہ کا علم غیب کلی 291
2- اولیاءاللہ کے علم غیب کی وسعت اور تصرف 292
شاہ عبدالکریم کا علم غیب 293
میاں جی نور محمد کے شاگرد کا علم غیب 294
علی ہجویری کا علم غیب اور اختیار تصرف 294
عثمان ہارونی کا تصرف اور طی الارض 295
پیران پیر کی حاجت روائی اور مشکل کشائی 296
صلوة غوثیہ کے فائدے 296
عبدالقدس گنگوہی کی کرامات 297
پیران پیر اور جنس کی تبدیلی 299
اولیاء اللہ کا موت و حیات پر تصرف 300
موت کے وقت میں تبدیلی 301
کلی تصرف کا ثبوت پیران پیر کی زبان سے 302
اس عقیدہ پر علامہ آلوسی کا اظہار افسوس 303
3- توجہ بیعت اور شفاعت 303
توجہ کے کرشمے 303
نظرکرم کی فیوض و برکات 304
نگاہ جلالیت کی تباہ کاریاں 304
بیعت ہی اخروی نجات کی ضمانت ہے 205
کسی فقیر کے پلے باندھنے کے فوائد 306
شفاعت اولیاء اللہ 306
ابوالحسن خرقانی – نجات و ہندہ 307
پیران پیر سے توسل کے فوائد 307
یہ مزارات اور خانقا ہیں 311
قبرپرستی اور بت پرستی میں قدر مشرک 311
کیا فوت شدہ بزرگ سن سکتے ہیں ؟ 312
احادیث اور سماع موتی 313
مردوں کی برزخی زندگی 316
کیا روح کا اس دنیا میں واپس آنا ممکن ہے 317
اولیاءاللہ مرتے نہیں 318
صاحب قبرکی حاجت براری 320
ایک بزرگ سات قبریں اور حاجت روائیاں 320
1- پیران پیر اور شیطانی فریب 321
2- جنیدبغدادی کا مرید اور بہشت کی سیر 323
3- مردہ زندہ کرنے والاجنات کا عامل 323
4- ابوالحسن خرقانی اور سماع کا جواز 324
5- فریب شیطانی کی بعض دوسری شکلیں 325
حاجت روائی کیسے ہوتی ہے ؟ 325
قبروں کے متعلق ارشادات نبوی 328

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل بیت زبان سیرت صحابہ محدثین نبوت

سیر الصحابہ ؓ جلد۔4

سیر الصحابہ ؓ جلد۔4

 

مصنف : شاہ معین الدین احمد ندوی

 

صفحات: 499

 

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ جو کئی مصنفین کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔ یہ کتاب 15 حصوں میں نو مجلدات پر مشتمل انبیاء کرام ﷩ کےدنیا کےمقدس ترین انسانوں کی سرگزشت حیا ت ہے ۔تاریخ اسلام ،اسماء الرجال اور ذخیرۂ احادیث کی گرانقدر کتابوں سے ماخوذ مستند حوالہ جات پر مبنی صحابہ کرام ﷢ نیز مشہور تابعین وتبع تابعین او رائمۂ کرام ﷭ کے مفصل حالات زندگی پر اردومیں سب سے جامع کتاب ہے جوکہ طالبان ِعلوم نبوت کےلیے بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفین،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ترتیب اسمائے صحابہ
(سیر الصحابہ حصہ ششم )
دیباچہ 7
حضرت حسن بن علی (17۔43)
نام ونسب 17
پیدائش 17
عہد نبوی 17
عہد صدیقی 18
عہد فاروقی 18
عہد عثمانی 18
بیعت خلافت کےوقت حضرت علی کو مشورہ 19
جنگ جمل سے حضرت علی کو روکنا 19
حضرت علی کی شہادت 20
بیعت خلافت 21
پہلی تقریر 21
امیر معاویہ کا جارحانہ اقدام 21
حضرت حسن کےمقابلہ کے لیے آمادگی اور واپسی 22
خلافت سےدستبرداری 23
معاویہ اور قیس بن سعد کی صلح 26
وفات 27
جنازہ پر جھگڑا 28
مدینہ میں ماتم 28
حلیہ 29
ازواج 29
بی بیوں سے برتاؤ 29
اولاد 30
ذریعہ معاش 30
فضل و کمال 30
حدیث 31
شاعری 32
اخلاق و عادات 33
استغناء بےنیازی 34
اصلاح عقائد 37
عبادت 37
صدقات وخیرات 38
خوش خلقی 39
ضبط وتحمل 40
کتاب الفضائل 41
انفرادی فضائل 43
حضرت امیر معاویہ ؓ ( 45۔ 129)
نام ونسب 45
خاندانی حالات اور اسلام 45
غزوات 45
فتوحات شام میں حضرت معاویہ کی شرکت 46
عہد عثمانی 47
طرابلس السام کی فتح 47
شمشاط کی فتح 48
ملطیہ کی فتح 48
قبرس کی فتح 49
افریقہ کی جنگ 50
دور رفتن کا آغاز 51
امیر معاویہ کے ادعائےخلافت کےاسباب 52
حضرت علی کےخلاف دعوت 54
جنگ صفین 55
تحکیم 56
خارجیوں کا ظہور 57
حضرت علی کی ایک سیاسی فروگذاشت 58
مصر میں حضرت علی کی مخالفت 59
مصر پر امیر معاویہ کا قبضہ 60
حضرت علی کے پیش قدمیاں اور مصالحیت 61
امیر معاویہ پر استخلاف اور دست برداری 64
کابل کی بغاوت 65
غور کی بغاوت 66
ترکستان کی فتوحات 66
سندھ کی فتوحات 67
بحری لڑائیاں 68
قسطنطنیہ پر حملہ 68
روڈس کی فتح 70
یزید کی ولی عہدی 70
امیر کی آخری تقریر اورعلالت 73
اپنےمتعلق وصیتیں 74
وفات 75
حلیہ 75
ازواج و اولاد 75
امیر معاویہ کےمشیر کار 76
ملک کی تقسیم اور صوبے 76
صیغہ فوج 78
قلعوں تعمیر 78
بحری قوت میں ترقی 78
امیر البحر 79
پولیس کا محکمہ اور امن و امان 80
دیوان خاتم 81
رفاع عام کے کام 81
نہریں 81
نوآبادیاں 83
موذی جانورں کا قل 84
ذمیوں کے مال کی حفاظت 85
رعایا کی داد رسی 85
مذہی خدمات 86
اشاعت اسلام 86
حرم کی خدمت 86
مساجد کی تعمیر 87
اقامت دین 87
فرائض اور سنن میں تفریق 88
خطبہ میں تعلیم ارشاد 89
پہلا الزام حضرت حسن کی زہر خوانی اور اس کی تحقیق 92
دوسرا الزام اور اس کا جواب 114
تیسرا الزام اور اس کا جواب 114
چوتھا الزام اور اس کا جواب 115
پانچواں الزام اور اس کا جواب 115
متفرق اعتراضات اور اس کے جوابات 116
فضل و کمال 117
دوسروں سے استفادہ 118
حدیث 118
مذہبی مسائل میں بحث ومناظرہ 118
شاعری 119
تدبیر و سیاست 120
اخلاق عادات اور عام حالات 122
دنیاوی ابتلاء پرتاسف 124
قبول حق 125
ضبط وتحمل 125
فیاضی 126
امہات المومنین کی خدمت 127
مساوات 128
امیر کےاخلاقی اصول 128
حضرت حسین بن علی ( 131تا 210)
نام ونسب 131
پیدائش 131
عہد نبوی 132
عہد صدیقی 132
عہد فاروقی 132
عہد عثمانی 133
جنگ جمل و صفین 134
حضرت علی کی شہادت 134
عہد معاویہ 134
حسن کا انتقال 134
امیر معاویہ اور حسین 135
یزید کی تخت نشینی اورحسین سے مطالبہ بیعت 135
محمد بن حنیفہ کا مشورہ 137
حسین کا سفر مکہ اور عبداللہ بن مطیع کامشورہ 138
یزید کومسلم کے پہنچنے کی اطلاع اور حضرت حسین کے بصری قاصد کا قتل 140
کوفہ میں مسلم کا خفیہ سلسلہ بیعت 140
ہانی مذحجی کا قتل 141
مسلم کی گرفتاری 144
ابن زیاد سے گفتگو اورعمر بن سعد کووصیت 146
مسلم اور ابن زیاد کا آخری مکالمہ اور شہادت 147
حسین کےسفر کوفہ کی تیاریاں اور خیر خواہوں کےمشورے 149
مکہ سےکاروان اہل بیعت کی روانگی اور خیر خواہوں کی آخری کوشش 151
ابن زیاد کےانتظامات اور حضرت حسین کے قاصد قیس کا قتل 153
حسین اور عبد اللہ بن مطیع کی ملاقات 154
حسینؓ کےپاس پاس عبداللہ بن یقطر کے قتل کی خبر اور مسلم کے پیغامات کا پہنچنا 155
حضرت حسین ؓ کی پہلی تقریر اور ہجوم کامنتشر ہونا 156
محرم 61ھ کےخونی سال کا آغاز اورحر کی آمد 156
حضرت حسین ؓ اورحر میں تند گفتگو 157
خطبہ 158
قیس بن مسہر کے قتل کی خبر ملنا 159
قصر بنی مقاتل کی منزل اور خواب 160
حرم کےنام ابن زیاد کا فرمان آنا اور عقر میں کاروان اہل بیت کا قیام 161
پانی کی بندش اور اس کے لیے کشمکش 164
حسین ؓ اور عمر بن سعد کی خفیہ گفتگو 165
ابن زیاد کا تہدیدی فرمان 166
سعد کا آخری فیصلہ 167
ایک شب کی اجازت 167
خطبہ 168
شب عاشورہ 170
قیامت صغریٰ 171
اتمام حجت 173
زبیر بن قیس کی تقریر 173
حر کا حضرت حسینؓ سے ملنا 175
جنگ کے آغاز 176
عام جنگ اور مسلم بن عوسجہ کی شہادت 177
دوسرا حملہ اور تیروں کی بارش 178
جانبازوں کی شہادت 179
جان نثاروں کی آخری جماعت کی فداکاری 180
علی اکبر کی شہادت 181
خاندان بنو ہاشم کےدوسرے نونہالوں کی شہادت 182
آفتاب امامت کی شہادت 186
ستم بالائے ستم 190
شہدائے بنی ہاشم کی تعداد اور ان کی تجہیز و تکفین 191
اہل بیت کا سفر کوفہ 192
سفر شام 193
حضرت حسین ؓ کی شہادت پریزید کا تاثر اور اس کی برہمی 194
اہل بیت نیوی ﷺ کا معائنہ اور ان سےہمدردانہ برتاؤ 195
اہل بیت کے فضائل کا اعتراف 195
یزید کے گھر میں حسین کا ماتم 195
نقصان مال کی تلافی اور سکینہ کی منت پذیری 196
شام سےاہل بیت کی مدینہ روانگی اور اس کے انتظامات 197
واقعہ شہادت پر ایک نظر 199
فضل و کمال 205
احادیث نبوی ﷺ 205
فقہ و فتاویٰ 206
کلمات طیبات 207
فضائل اخلاق 207
عبادت 207
صدقات وخیرات 208
وقار و سکینہ 208
انکسار و تواضع 209
استقلال و رائے 209
حلیہ 210
ازواج و اولاد 210
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ( 211تا 252)
نام ونسب 211
پیدائش 211
بیعت 212
عہد خلفاء 213
جنگ طرابلس 213
طبرستان کی فوج کشی میں شرکت 215
حضرت عثمان کی شہادت اور جنگ جمل 215
امیر معاویہ کا انتقال حضرت حسین کا سفر کوفہ اور ابن زبیر کا مشورہ 218
یزیدارو ابن زبیر میں مخالفت 219
ابن زبیر کا دعویٰ خلافت اور شامی فوج کا مدینہ الرسول کو لوٹنا 220
شام میں مروان کی بیعت 222
مصر پر قبضہ 223
مروان کی وفات اور عبد الملک کی تخت نشینی 223
مختار ثقفی کا خروج 223
ابن زبیر کے کوفی پولیس افسر کا قتل 225
محمد بن حنفیہ کی قید اور رہائی 226
قاتلین حسین کا قتل 226
کوفی عربوں اور مختار میں مخالفت 227
مصعب سےکوفی عربوں کی استمداد 228
مصعب اورمختار کا اورمختار کا قتل 228
محمد بن حنفیہ کی جلاوطنی 228
ابراہیم کا قتل 232
ابن زبیر سے مقابلہ کی تیاریاں 234
حرم کامحاصرہ 234
سامان رسد کا اختتام 235
ابن زبیر کے ساتھیوں کی بے وفائی 235
اسماء سے مشورہ اور ان کا شجاعانہ جواب 235
شہادت 236
حجاج کی شقاوت ، لاش کی بے حرمتی اور اسماء کی بہادری 237
تدفین 238
کارنامے ہائے زندگی 241
صوبوں کےعمال 240
رعایا کی خبر گیری 241
فوج 241
سامان رسد 241
امارت وقضا 241
تعمیر کعبہ 242
غلاف کعبہ 243
فضل وکمال 244
قرات قرآن 244
حدیث 244
تعلیم وارشاد 244
عملی افادہ واستفادہ 244
خطابت 245
اخلاق وعادات 246
عبادت 246
دین اوردنیا کی آمیزش 247
ازواج مطہرات کی خدمت 247
حقوق والدین 249
شجاعت و بہادری 249
جرات و بے باکی 251
کفایت شعاری 252
ازواج و اولاد 252
س
سراقہ بن مالک 315
سعد الاسود 318
سعد بن عامر 320
سعید بن العاص 321
سفینہ 324
سواد بن قارب 327
سہیل بن عمرو 328
ش
شیبہ بن عتبہ 334
شیبہ بن عثمان 335
ص
صعصعہ بن ناحیہ 336
صفوان بن امیہ 338
صفوان بن معطل 341
ض
ضحاک بن سفیان 343
ضرار بن ازور 343
ضمام بن ثعلبہ 345
ع
عامر بن اکوع 347
عائذ بن عمرو 348
عبداللہ بن ارقم 351
عبد اللہ بن امیہ 352
عبد اللہ بن بدر 354
عبد اللہ بن بدیل 355
عبداللہ بن جعفر 357
عبداللہ بن ابی حدرد 361
عبداللہ بن زبعری 362
عبداللہ بن عامر 364
عبداللہ بن مغفل مزنی 370
عبداللہ بن وہب 373
عبیداللہ بن عباس 373
عبدالرحمٰن بن سمرہ 375
عتاب بن اسید 378
عتبہ بن ابی لہب 379
عثمان بن ابی العاص 383
عدا بن خالد 384
عروہ بن مسعود ثقفی 390
عکرمہ بن ابی جہل 393
علاء حضرمی 397
عمران بن حصین 399
عمرو بن حمق 403
عمرو بن مرہ 404
عیاض بن حمار 406
غ
غالب بن عبد اللہ 406
ف
فروہ بن میک 408
فضالہ لیثی 409
فیروز دیلمی 410
ق
قثم بن عباس 411
قیس بن خرشہ 413
قیس بن عاصم 414
ک
کرز بن جابر فہری 416
کعت بن عمیر غفاری 419
کہمس الہلالی 420
ل
لبید بن ربیعہ 421
م
ماعذ بن مالک 423
محمد بن طلحہ 432
مسور بن مخرمہ 435
معاویہ بن حکم 438
معقل بن یسار 440
ن
ناجیہ بن جندب 443
و
واثلہ بن اسقع 444
وائل بن حجر 447
وحشی بن حرب 448
موہب بن قابوس 449
ہ
ہاشم بن عتبہ 450
ہند بن حارثہ 455
ی
ابو امامہ باہلی 459
ابو بصیر 462
ابوبکر 464
ابوجندل بن سہیل 468
ابو ثعلبہ خشنی 469
ابو سفیان بن حارث 471
ابو شریح 486
ابوالعاص 488
ابوعامر اشعری 491
ابو عیب 493
ابوعمرو بن حفص 493
ابومالک اشعری 494
ابومحذورہ 496
ابوواقد لیثی 498

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال بدعی اعمال جماعت مجاہدین روح سیرت علماء

سیرت سید احمد شہید حصہ دوم

سیرت سید احمد شہید حصہ دوم

 

مصنف : سید ابو الحسن علی ندوی

 

صفحات: 591

 

اس وقت برصغیر پاک و ہند میں جس قدر بھی جہاد ہو رہا ہے اس کے بارے میں اگر یہ رائے رکھی جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس کی اساس سید احمد شہید ؒ نے رکھی تھی ۔ آپ ؒ نے اس وقت علم جہاد بلند کیا جب برصغیر میں کیا بلکہ پورے عالم اسلام میں زوال کے آثار نمایاں تھے ۔ امت کا انتشار و افتراق اور دین سے جہالت بہت بڑھ چکی تھی ۔ انگریز اور سکھ اپنے خونی پنجے گاڑھ چکے تھے ۔ حالات میں مایوسی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی تھی ۔ اس صورت حال میں سید صاحب نے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دلائی ۔ اور ایک جماعت کی اساس رکھی ۔ آپ نے خیبر پختونخوا میں ایک ریاست اسلامیہ کی تاسیس بھی رکھی ۔ حتی کہ خطبوں میں بھی آپ کا نام لیا جانے لگا ۔ تاہم اپنے کی غداری کا شکار ہوئے ۔ آپ کے بعد بھی جماعت مجاہدین نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ۔ مسلمانان برصغیر میں جذبہء جہادی و آزادی کی روح آپ کی ہی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے شرکیہ عقائد اور بدعی اعمال کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میدان میں آپ کو کامیابیوں سے نوازا ۔ زیرنظرکتاب مولانا ابوالحسن ندوی ؒ کی تصنیف سید احمد شہید ؒ کی خدمات و حیات کے کئی ایک پہلؤوں پر توجہ دلاتی ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک محولہ اور جامع کتاب ہے ۔ اللہ مصنف محترم کو اجر سے نوازے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
حرف گفتی 17
پہلا باب شیدو کی جنگ 19۔32
دوسرا باب بونیر و سوات کا دورہ 33۔39
تیسرا باب پنجتار کا مرکز مجاہدین 40۔47
چوتھا باب ہزارے کے سرداروں کی امداد 48۔55
پانچواں باب اگرور اور پکھلی کے علاقے میں 56۔67
چھٹا باب ڈمگلا اور شنکیاری کی جنگیں اور ہندوستانی مجاہدین کے قافلے 68۔80
ساتواں باب خیر کا قیام 81۔87
آٹھواں باب اتمان زئی کی جنگ 88۔104
نواں باب بیعت امامت کی تجدید اور نظام شرعی کا قیام اور اس کے اثرات 105۔111
دسواں باب پنجتار کا نظارہ 112۔117
گیارہواں باب خادی خاں کی مخالفت و ساز باز ، ویٹورہ کی آمد و پسپائی اور قلعہ اٹک کی مہم 118۔128
بارہواں باب علماء اور خواتین کا دوبارہ اجتماع اور نیا عہد وپیمان 129۔138
تیرہواں باب ویٹورہ کی دوبارہ آمد اور جنگ پنجتار 139۔149
چودہواں باب ہنڈ کی تسخیر اور تنگی کی مہم 150۔157
پندرہواں باب جنگ زیدہ اور یار محمد خاں کا قتل 158۔172
سولہواں باب پنجتار میں 173۔184
سترہواں باب پائندہ خاں کی ملاقات 185۔201
اٹھارواں باب پائندہ خاں کی مزاحمت اور عشرہ اور امب کی جنگیں 202۔216
انیسواں باب چھتر بائی 217۔224
بیسواں باب پھولڑے کی جنگ 225۔233
اکیسواں باب امب کا قیام 234۔241
بائیسواں باب سکھوں کسی سعی مصالحت اور مسلمان سفیروں کی حق گوئی و جرات 242۔254
تئیسواں باب ملک سمہ کی دوبارہ تسخیر و انتظام اور جنگ مردان 255۔264
چوبیسواں باب سلطان محمد خاں کی لشکر کشی 265۔271
پچیسواں باب مایار کی جنگ 272۔282
چھبیسواں باب مایار کے شہداء ومجروحین 283۔292
ستائیسواں باب پشاور کا قصد 293۔301
اٹھائیسواں باب مردان سے پشاور تک 302۔307
انتیسواں باب پشاور میں 308۔315
تیسواں باب پشاور کی سپردگی کی تجویز 316۔323
اکتیسواں باب سلطان محمد خاں کی ملاقاتیں اور پشاور کی سپردگی 324۔333
بتیسواں باب پنجتار کو واپسی 334۔343
تینتیسواں باب حکومت شرعیہ کے عمال اور غازیوں کا قتل عام 344۔356
چوتیسواں باب ابرار مجاہدین کی مظلومانہ شہادت 357۔372
پینتیسواں باب محفوظ مجاہدین 373۔383
چھتیسواں باب غذر کے اسباب کی تحقیق اور ہجرت کا عزم 384۔396
سینتیسواں باب ہجرت کا دوسرا سفر 397۔407

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سنت سیرت فقہ محدثین

سیرت امام سفیان ثوری رحمہ اللہ

سیرت امام سفیان ثوری رحمہ اللہ

 

مصنف : رضا حسن

 

صفحات: 215

 

ابو عبد اللہ امام سفیان ثوری  مشہورفقیہ و محدث  تھے جنہوں نے ضبط و روایت میں اس قدر شہرت پائی کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن عیینہ اور یحیی بن معین جیسے محدثین نے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔امام سفیان ثوری رحمہ اللہ  نے سلیمان ابن عبد الملک کے زمانۂ خلافت میں سنہ 96،97ھ بمطابق 715ء کوفہ میں آنکھ کھولی جوحرمین کے بعد علوم دینیہ کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ زیر نظر کتاب ’’سیرت  امام سفیان ثوری  رحمہ اللہ‘‘  عبد الغنی  الدقر  کی عربی  تصنیف الإمام سفيان ا لثوري أمير المؤمنين في الحديث  كا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں  مختلف  کتب ومصادر سے امام سفیان ثوری  کی  سیرت  کو جمع  کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں امام موصوف  کی زندگی  کےنجی وعوامی امور ومعاملات اور ان کے حالات، آداب ،عادات ،علم ،تقویٰ  کو پیش کیا ہے۔رضا حسن صاحب نے  عربی کا ترجمہ کرنے کےساتھ  ساتھ اس میں بہت سی تفصیلات ابواب کااس میں اضافہ کیا ہے اور  اختصار کے پیش نظر بہت سی چیزوں کو  نکال دیا  ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 14
سفیان ثوری کاتعارف 17
نام ونسب وکنیت 17
پیدائش 19
طبقہ 19
آپ کےوالد 20
آپ کی والدہ 21
سفیان کےبھائی:مبارک 22
سفیان کےبھائی:عمر 23
سفیان کےدادا:مسروق 24
آپ کےخاندان 24
آپ کےمعاصرعلماء 24
آپ کادوسراپرمحتاج ہونےکاخوف 26
سفیان کی عادات اورخصلتیں 27
سفیان کےمزاح کرنااورمسکرانا 27
سفیان کااپنےکپڑے خودتہہ کرنا 28
سفیان کےخضاب کرنا 29
سفیان ہدیہ قبول کرلیاکرتےتھے 29
آپ کی ذکاوت اورحفظ 30
شیوخ واساتذہ 34
وہ شیوخ جن سے آپ نے صرف ایک ہی حدیث سنی 35
وہ لوگ جن کازمانہ آپ نے پایامگران سے روایت نہیں ملی 35
امام سفیان ثوری۔الحافظ 37
اسنادمؤمن کاہتھیارہے 38
علم کاانحصارآثارپرہے 39
کوئی چیز حدیث سے زیادہ نفع بخش نہیں 39
اس علم کوسیکھواوراس پرعمل کرو 40
حدیث کی تعلیم کےلیے اپنی اولاد کوزوردینا 41
سفیان کی حدیث کےلیے شدید محبت 41
کبارمحدثین کاآپ کےحفظ کی تعریف کرنا 43
علم حدیث میں آپ کی مہارت اورفضیلت 45
امام سفیان سے روایت کرنابھی عزت ووقارکاسبب تھا 48
سنت اورحدیث کےامام 49
رجال الحدیث پرآپ کی بصیرت 49
آپ کی روایت بالمعنی 49
توثیق امام سفیان ثوری 51
امیرالمؤمنین فی الحدیث 54
کیاسفیان مدلس تھے؟ 57
تدلیس سے مراد کیاہے 57
تدلیس کیوں کی جاتی ہے 59
مدلس کی روایت کاحکم 61
سفیان قلیل التدلیس تھے 77
محدثین کاسفیان کےعنعنہ کوقبول کرنا 78
سفیان ثوری کی معرفتِ رجال وآثار 80
سفیان کی رجال پرنقد 84
کیاسفیان نےکبھی کسی کلام میں تصحیف کی؟ 88
سفیان ثوری کاعمل بالحدیث 88
امام سفیان ثوری کاکبارعلماءسے مقارنہ 90
سفیان ثوری اورابوحنیفہ رحمہ اللہ 91
سفیان اورمالک رحمہااللہ 92
سفیان اورشعبہ 94
سفیان اورسفیان 98
سفیان ثوری اورعلم القرآن 100
سفیان کی تفسیر سے چند نمونے 101
فقہ سفیان ثوری 106
سفیان  مذہب 106
سفیانی مذہب کےمتبعین 107
سفیانی مذہب کی کتب 111
ابن مسعودرضی اللہ عنہ کےچھ اصحاب 112
دنیاکاسب سے بڑافقیہ 113
سفیان سے بڑاکوئی فقیہ نہیں 113
حلال اورحرام کولوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والا 113
افقہ الناس 114
علم کاسمندر 114
القول قول سفیان 115
سفیان فقہ میں لوگوں کےسردارہیں 115
سفیان کم سنی میں ہی مسندِ درس وافتاپرفائرہوگئےتھے 115
فقیہ العرب 116
سفیان کی عاجزی 116
سفیان صحیح جواب دینے پراللہ کاشکراداکرتے 116
امام عاصم الکوفی امام سفیان سے فتوی پوچھتے تھے 117
امام سفیان ثوری کی فقہ سے چند نمونے 118
کیاامام سفیان ثوری نبیذ پیتے تھے 123
امام سفیان ثوری کاعلم 124
سفیان سے بڑاعالم کوئی نہیں 124
امت کاعالم اورعابد 125
سفیان علم کےسمندرتھے 126
سفیان حجت تھے 126
سفیان سب سے افضل تھے 126
علم آپ کی آنکھوں میں رہتاتھا 127
سفیان ثوری۔الامام 129
امام کون ہے؟ 129
ائمہ اربعہ 130
آپ کی امامت مسلم ہے 130
سفیان ثوری کاعقیدہ 132
بدعتیوں کےمتعلق آپ کاموقف 132
اہل سنت کےمتعلق آپ کاموقف 135
اہل الرائے کےمتعلق آپ کاموقف 136
رافضیوں اورشیعوں کےمتعلق آپ کاموقف 137
صوفیوں کےمتعلق  آپ کاموقف 141
جہمیوں کےمتعلق آپ کاموقف 142
خوارج کےمتعلق آپ کاموقف 144
مرجئہ کےمتعلق آپ کاموقف 144
قدریہ کےمتعلق آپ کاموقف 147
سفیان ثوری کی عبادت 149
مغرب سے عشاءتک سجدہ 149
آپ کاقیام اللیل 150
نماز میں آپ کارونا 151
سفیان تابعین کےسب سے زیادہ مشابہ تھے 151
سفیان لوگوں میں سب سے بڑے فقیہ عابد اورزاہد تھے 152
سفیان اورتلاوت قرآن 153
سفیان نےقرآن کس سے اخذکیا 153
سب سے افضل ذکرتلاوتِ قرآن 153
سفیان کازہدوتقوی 154
زہد کی حقیقت 158
زہد کامطلب 158
کیاانسان مال ودولت رکھتے ہوئے بھی زاہد ہوسکتاہے 158
میں تمہیں مال ودولت رکھتے ہوئے بھی زاہد ہوسکتاہے 158
دنیامیں اپنی بقاکےمطابق عمل کرو 159
دنیاکی محبت آخرت کےخوف کوبھلادیتی ہے 159
سفیان اوررزقِ حلال 160
حلال کمائی بہادروں کاکام ہے 160
سفیان کی مجلس میں فقراءکی عزت اورغناکی ذلت 161
مال مؤمن کی ڈھال ہے 161
سفیان اورفکرِ آخرت 162
سفیان کاطولِ تفکر 162
فکرِ آخرت سے خون کاپیشاب ہونا 162
طویل فکرآخرت کی وجہ سے دیکھنےوالےآپ کومجنون سمجھنےلگتےتھے 163
سفیان اورموت کی یاد 163
سفیان موت کاسب سے زیادہ ذکرکرنےوالےتھے 163
موت کیاہی شدید چیزہے 164
میں نہیں جانتا،میں نہیں جانتا 164
سفیان کاشدید خوفِ نار 165
سفیان کاخوفِ نار 165
سفیان سے زیادہ اللہ سے ڈرنےوالاکوئی نہیں 165
سفیان اورامربالمعروف ونہی عن المنکر 166
آپ کی زبان کبھی امراورنہی سے نہیں تھکتی تھی 166
آپ اللہ کےامورمیں کسی سے نہیں ڈرتےتھے 166
جب بھی آپ منکردیکھتےتوفوراٹوکتے 166
سلطان کوصرف وہی نصیحت کرےجوخودجاننےوالاہو 167
کبارعلماءکاسفیان کی تعریف کرنا 168
آپ حفاظ فقہاءمتقین اورپرہیز گاروں میں سے تھے 168
سب سے بڑاعالم 168
محدث اورفقیہ 169
امام اوزاعی کاثوری کوچننا 169
امام الحفاظ،سیدالعلماءالعاملین 170
سیدالمسلمین 171
سفیان لوگوں پراللہ کی حجت ہیں 171
سفیان اشبہ بالتابعین 171
آپ کےملک اورزمانےمیں آپ جیساکوئی نہیں 172
اللہ نےسفیان کےذریعے مسلمانوں پراحساس کیا 174
سفیان زہد حفظ اورفقہ کےسردارہیں 174
سفیان کےبعض حکمت بھرےاقوال 176
علم کی طلب صرف عمل کےلیے کی جاتی ہے 176
علم کاسب سے پہلادرجہ خاموشی ہے 176
علم کی طلب نیت کےساتھ 177
انسان کوعلم کی ضرورت روٹی اورگوشت سے بھی زیادہ ہے 177
جوشخص جلدی پیشوابننےکی کوشش کرےگاوہ بہت علم سے محروم رہ جائےگا 177
جاہل عابد اورفاجرعالم کافتنہ 178
کوئی چیز علم سے افضل نہیں 178
کیاچیز شرہے؟ 179
سب سے قبیح رغبت 179
جب علماءبگڑجائیں 179
ظالم کےلیے دعاء 180
شہرت سے بچو 180
قیادت میں زہد کی کمی 181
صحبت کااثر 181
ایسانوجوان جواپنےآپ کوبڑاسمجھتاہے 181
اگرمویشیوں کوموت کی سمجھ ہوتی 182
زاہد کےدل میں حکمت کابھرجانا 182
جواپنے آپ کوجانتاہےوہ دوسروں کےکلام کی پرواہ نہیں کرتا 183
نماز کاثواب اتناہی ملےگاجتنابندہ اسے سمجھ سکا 183
سفیان ثوری کاکوفہ سے خروج 184
میں نےاپنےپیچھے کوئی بااعتمادانسان نہیں چھوڑا 184
قضاءکےمنصب کےلیے سفیان کاطلب کئےجانا 184
سفیان سےروایت کرنےوالے رواۃ 186
آپ سے روایت کرنےوالے سب سے بہتر ین لوگ 189
سفیان کااپنےسےروایت کرنےوالوں میں برابری کرنا 190
سفیان ثوری کی تصنیفات 192
سفیان کی کتب کادھویاجانا 192
سفیان ثوری کاخلفاءاورحکمرانوں سے تعلق 194
سفیان اورخلیفہ ابوجعفرالمنصور 198
ابوجعفرکاسفیان کوقتل کرنےکاحکم دینا 200
محمد المھدی بن المنصوراورسفیان ثوری 201
مہدی کاسفیان کوطلب کرنا 203
سفیان کاامراءکےاحسان کوقبول نہ کرنا 209
سفیان کامرض اوران کی وفات 211
خلیفہ کےخوف سے آپ کافرارہونا 211
انتقال پرملال 215

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت سیرت النبی ﷺ نماز

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم

 

مصنف : وحید الدین خاں

 

صفحات: 174

 

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے موضوع پر سادہ انداز میں واقعاتی حقائق پر مبنی یہ کتاب اگرچہ حوالہ جات سے مبرا ہے لیکن سلیس اور عام فہم ہونے کی وجہ سے عوام کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔ حدیث کے اجزاء میں سے ایک جز سیرت کا علم بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق و فضائل، تبلیغ، عادات و خصائل، غزوات و وفود وغیرہ جیسے جملہ موضوعات کا احاطہ کرتی ایک اچھی تصنیف ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
آغاز کلام 7
ابتدائی حالات 11
رسول اللہ ﷺ کی بعثت 20
مکہ میں تبلیغ 24
مخالفانہ ردعمل 28
دعوتی واقعات 31
قبول اسلام 41
تبلیغ عام 45
آخری کوشش 50
ہجرت حبشہ 57
آپ ﷺ کا بائیکاٹ 61
ابو طالب کی وفات کے بعد 67
مدینہ میں اسلام کا آغاز 73
مدینہ کی طرف ہجرت 79
مدینہ میں داخلہ 84
مسجد کی تعمیر 90
مواخاۃ 92
معاہدہ مدینہ 96
مہاجرین کے دستے 98
ہجرت کے بعد 102
غزوہ بدر اولٰی 104
غزوہ بدر ثانیہ 106
غزوہ قرقرۃ الکدر 114
غزوہ بنی قینقاع 115
غزوہ سویق 116
نکاح سیدہ فاطمہ 116
غزوہ غطفان 117
غزوہ نجران 118
غزوہ احد 118
غزوہ حمراء الاسد 124
سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد 126
واقعہ رجیع 126
سریۃ القراء یعنی قصہ بئر معونہ 127
غزوہ بنی نضیر 128
غزوہ ذات الرقاع 129
غزوہ بدر موعد 129
غزوہ دومۃ الجندل 130
غزوہ مریسیع یا بنی المصطلق 130
واقعہ افک 131
غزوہ خندق یا غزوہ احزاب 132
غزوہ بنی قریظہ 134
سریہ محمد بن مسلمہ انصاری 135
غزوہ بنی لحیان 136
غزوہ ذی قرد 136
سریہ عکاشہ بن محصن 137
سریہ محمد بن سلمہ 137
سریہ ابو عبیدہ بن الجراح 137
سریہ جموم 138
سریہ عیص 138
سریہ طرف 139
سریہ حمٰی 139
سریہ وادی القری 139
سریہ دومۃ الجندل 140
سریہ فدک 140
سریہ ام قرفہ 141
سریہ عبداللہ بن رواحہ 141
سریہ کرز بن جابر الفہری 142
بعث عمر بن امیہ ضمری 142
واقعہ حدیبیہ 143
سرداروں کا قبول اسلام 146
شاہان عالم کے نام خطوط 146
قیصر روم کے نام خط 148
خسرو پرویز کے نام خط 149
غزوہ خیبر 150
غزوہ  موتہ 151
سریہ عمر بن العاص 152
فتح مکہ 153
غزوہ  حنین ، اوطاس اور طائف 160
طائف کا محاصرہ 161
سریہ عینیہ 163
بعث ولید بن عقبہ 164
غزوہ تبوک 165
ابوبکر صدیق کی قیادت میں سفر حج 167
عام الوفود 168
حجۃ الوداع 169
جبریل امین کی آمد 171
سریہ اسامہ بن زید 171
آخری وقت 172
بیماری کی ابتداء 172
رسول اللہ ﷺ کی آخری نماز جماعت اور حضرت ابو بکر ؓ کو امامت کا حکم 173
وفات 173
صحابہ ؓ میں اضطراب 174

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 Mb ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام خلافت راشدہ سود سیرت سیرت صحابہ نبوت

سیرت ابوبکر صدیق

سیرت ابوبکر صدیق

 

مصنف : محمد رضا

 

صفحات: 174

 

سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مؤلف کا مختصر تعارف 7
دیباچہ 8
مقدمہۃ المحقق 10
مقدمہ 16
حضرت ابوبکرؓ کی زندگی طائرانہ نظر 19
نام و نسب / لقب 19
ولادت 21
کنیت کی وجہ تسمیہ 21
ابوبکرؓ کے آزاد کرعدہ غلام 28
ابو بکرؓ سے مروی مرفوع احادیث 29
حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت 30
ابوبکر کے دیگر فضائل 32
ابو بکرؓ کی تخلیقی ہیئت 33
ابوبکرؓ کی ازواج و اولاد 33
واقعہ سقیفہ اور بیعت ابو بکر 36
سعد بن عبادہ کا خطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کاخطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کا خطبہ 38
حضرت حباب بن منذرؓ کا خطبہ 40
حضرت عمرؓ کی جوابی تقریر 40
حباب بن منذرؓ کی دھمکی 41
بشیر بن سعدؓ کی فیصلہ کن تقریر 4 2
حضرت ابوبکرؓ کی تجویز 42
حضرت علیؓ کا بیعت سے پیچھے رہنا 45
رسول اللہﷺ کے بعد افضل شخص 47
رسول اللہﷺ کی تجہیز و تکفین 47
بیعت کے بعد ابوبکرؓ کا خطبہ 49
اسامہ بن زیدؓ کے لشکرکی رونگی 50
ابوبکر صدیقؓ کی لشکر کو وصیت 54
لشکر اسامہ کی روانگی کے فوائد 55
رسول اللہؐ کے دور میں یمن پر باذان کی مارت 55
بلاد عرب میں مدعیان نبوت کا ظہور 56
نبوت کا جھوٹا دعویدار سود عنسی 57
اسود عنسی کا قتل 58
مرتدین سے جنگ 60
طلیحہ اسدی 60
مدینہ پر حملہ 61
لشکر اسامہؓ کی واپسی 63
مرتدین کی طرف لشکروں کی روانگی 63
معرکۂ بزاخہ اور طلیحہ کا شام کی طرف فرار 70
ام زمل بنت مالک کے احوال 73
عیینہ بن حصن کی گرفتاری 74
بنو تمیم کی ہزیمت اور مالک بن نویرہ کا قصہ 75
سجاح اور مسیلمہ کی خیمہ میں ملاقات 76
مالک بن نویرہ 77
حضرت خالد بن ولیدؓ کی شادہ 78
معرکۂ یمامہ 81
حضرت ثابت بن قیسؓ کا خطاب 84
حضرت زید بن خطابؓ کا خطاب 84
حضرت ابو حذیفہ کا خطاب 84
محکم بن طفیل کا قتل 85
مسیلمہ کا قتل 86
حضرت خالدؓ کو قتل کرنے کی کوشش 88
سلمہ بن عمیر کی خود کشی 89
حضرت خالد بن ولیدؓ کا دوسری مرتبہ شادہ کرنا 89
بنو حنفیہ کا نقصان 90
مسلمانوں کا نقصان 90
مسیلمہ کا قافیہ بند کلام 91
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
ابن الہیشم اور مسیلمہ کذاب 94
نوزائد بچوں پر مسیلمہ کی نحوست 94
ابو طلحہ نمری اور مسیلمہ کذاب 95
باغ پر مسیلمہ کی نحوست 95
اہل بحرین کا ارداد 97
جارود بن معلیٰ 97
حضرت علاء بن حضرمیؓ کی کرامت 98
خندقوں والی جنگ 99
میں مدہوش 99
دارین کی طرف روانگی 100
مسلمانوں کی فتح 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
حضرت علاء کا ابوبکر ؓ کے نام خط 102
حضرت ابوبکرؓ کا جواب 103
اہل عمان اور مہر کا مرتد ہونا 103
مہرہ کا تلفظ 103
مہرہ کا محل وقوع 104
اہل مہرہ کا ارتداد 105
یمن کے مرتدین 106
حضر موت اور کندیہ کا ار تداد 107
حضرت خالدؓ کا عراق کی طرف جانا اور صلح حیرہ 111
معرکۂ ذات السلاسل 112
خاندانی اعزاز کی ٹوپی 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
عورت اور مرد کا قلعہ 113
فارسیوں کی دوسری شکست 115
جنگ ثنی جنگ مزار 115
ایرانی مقتولین کی تعداد 115
معرکۂ و لجہ 116
حضرت خالد بن ولید کا خطبہ 117
معرکۂ الیس 117
خون کی ندی 118
جنگ امغیشیا اور اس کی بربادی 119
حیرہ کا محاصرہ اور اس کا اطاعت اختیار کرنا 120
از اذابہ کا فرار 120
نماز فتح 124
انبار کی فتح 126
عین التمر کی فتح 127
عراق کی طرف قصد 129
معرکۂ الفراض 130
غزوۂ شام 133
ہرقل کی تیاری 138
معرکۂ یرموک 141
رومیوں کا لشکر 144
لڑائی کا جاری رہنا 148
رومیوں کی پسپائی 148
حضرت ابوبکرؓ کی وفات کا اعلان 149
معرکۂ بابل 152
حضرت عمر کی نیابت سے متعلق ابوبکرؓ کا اپنے ساتھیوں سے مشورہ 156
آپ کی تعریف میں 158
حضرت ابوبکرؓ کے دوران خلافت معمولات اور ان کی رہائش 163
مسلمانوں کا بیت المال 164
حضرت ابوبکرؓ کا حج 165
جمع القرآن 165
آپ کے قاضی کا تبین اور عمال 167
حضرت ابوبکرؓ کی مہر 171
حضرت ابوبکرؓ کے اقوال زریں 172

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ خلافت راشدہ سیرت سیرت صحابہ طلاق قربانی نماز نماز جمعہ

سیرت ابوبکر صدیق ؓ

سیرت ابوبکر صدیق ؓ

 

مصنف : سیف اللہ خالد

 

صفحات: 235

 

انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے کی سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت ابوبکر صدیق ‘‘ تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف اللہ خالد ﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب کو مرتب کرنے میں صحیح اورمستند روایات کو بنیاد بنایا اور صحیح ترین مآخذ اور مراجع سےمعتبر روایات کاانتخاب کر کے ایام ِ خلافت ِ راشدہ کی حقیقی اور صحیح تصویر قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔ مصنف نے اسے مرتب کرتے وقت ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ﷾ کی تالیف’’ ابو بکر صدیق کی شخصیت ، حیات اور خلافت‘‘ سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مکتبہ شاملہ کو بنیاد کر حدیث ، تاریخ اور سیرت کی سیکڑوں کتب سے مستند اور صحیح روایات کو جمع کرنے کی سعی کی ہے۔ سیرت سیدنا ابو بکر صدیق کے حوالے سےیہ کتاب بیش قیمت تحفہ ہے ۔تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست
عرض ناشر 13
عرض مولف 15
سیدنا ابو بکر ؓ کا نام ونسب 19
سدنا ابو بکر ؓ کے القاب 19
عتیق 19
صدیق 20
صاحب 21
تاریخ پیدائش 23
سیدنا ابو بکر ؓ کے والدین 24
والد 24
والدہ 25
سیدناابو بکر ؓ کی بیویاں 26
قتیلہ بنت عبدالعزیٰ 26
ام  رمان بنت عامرؓ 27
اسماء بنت عمیسؓ 28
حبیبہ بنت خارجہ ب 29
سیدنا ابو بکر ؓ کی اولاد 30
عبدالرحمٰن بن ابوبکرؓ 30
عبداللہ  بن ابوبکر کی بنی ﷺ کے حلہ میں کفن کی خواہش اور ترک 31
محمد بن ابو بکرؓ 31
اسماء بنت ابوبکرؓ 32
ام المو منین سیدہ عائشہؓ 33
ام کلثوم بنت ابوبکر 35
خاندان صدیق اکبرؓ کا منفر د اعزاز 36
قبل از اسلام ابوبکر ؓ کی شہرت 37
علم انساب کے ماہر 37
جو دوسخا اور مہمان نوازی 38
تجارت 39
سیدنا ابو بکر ؓ کاقبول اسلام 40
مکہ کے دور ابتلا میں عظیم کردار 43
نبی ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے 43
نئے مسلمانوں کی تعلیم اور تکریم کا فریضہ ادا کرتے ہوئے 44
ستم رسیدہ غلاموں کی آزادی میں کوشاں 45
غلاموں کو آزادی دلانے کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول 47
صدیق اکبرؓ کی پہلی ہجرت 51
رسو ل اللہﷺ سے عائشہ ؓ  کا نکاح 54
ہجرت مدینہ اور ابوبکر ؓ 56
ہجرت مدینہ  میں سیدہ عائشہ اور سیدہ اسماء ؓ کا کردار 57
سیدناابوبکر ؓ کا کفار مکہ پر اظہار افسوس 59
سیدنا عبداللہ بن ابوبکر ؓ کاکردار 59
عام بن فہیرہ مولیٰ ابی بکر ؓ کا کردار 60
راستہ بتلانے کے لیے ماہر گائیڈ کا اہتمام 60
ابوبکر ؓ کوغار میں بھی بنی کریم ﷺ کی حفاظت کیی فکر 60
سراقہ کا تعاقب اور ابوبکر ؓ نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے مستعد 63
مدینہ منورہ آمد پر ابو بکر صدیق ؓ کا کردار 67
مدینہ میں رسو ل اللہ ﷺ کے استقبال کے شاندار مناظر 68
خضاب کا استعمال 68
اپنین بیوی ام بکر کو طلاق دینا 69
مدینہ منورہ پہنچ  سیدہ عائشہ ؓ کو بخار آنا 69
سیدنا ابوبکرؓ کو بخار آنا 69
جہادی میدانوں میں
ابوبکر صدیق ؓ میدان جہادمیں 73
جنگی معرکوں کی قیادت  کرتے ہوئے 73
ابوبکر ؓ میدان بدر میں 74
سب سے پہلے جہاد کے حق میں مشورہ دینے والے 74
فتح و نصرت کی بشارت اور رسو ل اللہﷺ کے پہلو بہ پہلو قتال 75
اسیران بدر کے بارے میں سیدنا ابوبکرؓ کی رائے 77
صدیق اکبر ؓ کؤمیدان اُحد میں 80
کفار کے تعاقب میں حمراء الا سد تک پیش قدمی 82
صدیق اکبر ؓ کی صلح حدیبیہ میں 84
بیت اللہ کی طرف پیش قدمی کا مشورہ 84
مصالحانہ گفتگو کے دوران سید نا ابو بکر ؓ کی غیر ت ایمانی 85
مزاج شناس رسو ل سیدنا ابوبکر ؓ 86
ابوبکر ؓ غزوہ خیبر کے پہلے علم بردار 86
صدیق اکبر ؓ سریہ نجدمیں 89
صدیق اکبرؓ سریہ نبو فزارہ میں 90
صدیق اکبر ؓ غزوہ ذات السلاسل میں 90
صدیق اکبر ؓ فتح مکہ میں 93
مکہ پر چڑھائی کا معاملہ صیغہ راز میں رکھا گیا 93
ابوقحا فہ ؓ کا قبو ل اسلام 93
ابو قحا جہ ؓ کی داڑھی کو رنگنے کاحکم 94
ابوبکر ؓ کی میدان حنین میں ثابت قدمی 95
رسو ل اللہ ﷺ کی موجودگی میں سیدنا ابوبکر ؓ کا فتویٰ 96
غزوہ تبو ک اور اللہ کی راہ میں مال کا عطیہ 99
رسو ل اللہ ﷺ سے مسلمانوں کے لیے بارش کی دعا کی درخواست 100
صدیق اکبرؓ بحیثیت امیر حج 102
صدیق اکبر ؓ حجۃ الو داع میں 103
مدنی معاشرے میں کردار اور بعض فضائل
مدنی معاشرے میں کردار اور بعض فضائل 107
سیدنا ابوبکر ؓ راز نبوی ﷺ کے محافظ 107
سیدنا ابو بکر ؓ اور نماز جمعہ کی آیت 108
احترام رسول اللہﷺ اور ابوبکر ؓ 109
رسو ل اللہﷺ کا ابوبکر ؓ سے کبرو غرور کی نفی فرمان ا 109
سیدنا ابوبکر ؓ کا زہد و ورع 110
سیدنا ابو بکر ؓ کی خشیت 111
نفاق کا خوف اور اس سے بیزاری 112
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے داعی 113
مہمانوں  کی عزت و تکریم کرنےوالے 114
سیدنا ابو بکر ؓ کے فاقے کا ایک واقعہ 116
اے آل ابی بکر! یہ تمھاری پہلی بر کت نہیں ہے 117
رسو ل اللہ ﷺ کی طرف سے سیدنا ابو بکر ؓ کی حمایت 119
نبی ْﷺ کا ابوبکر ؓ پر بے مثال اعتماد 120
سیدنا ابوبکر ؓؓ کوغصے پر قابو رکھنے کی نبوی نصیحت 122
نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبوب عائشہ اور ابوبکرؓ 123
زبان نبوت  سے جنت کی بشارت 124
سیدنا ابوبکرؓ کو جنت کےتمام دروازوں سے پکاراجائے گا 125
نبیﷺ کی ابوبکر ؓ کے لیے علم کی بشارت 126
سیدنا ابوبکر ؓ بنی ﷺ کی موجودگی میں معبر 127
نبی ﷺ کی موجودگی میں مصلیٰ نبویﷺ پر 129
واقعہ افک اور خاندان صدیق کا کردار 131
کیوں  نہیں ، واللہ ! یقینا میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے 138
اعلان براءت پر سید ہ عائشہ ؓ کا سر کا بوسہ لینا 139
سیدنا ابوبکر ؓ سے منقول ادعیہ 140
نماز میں آخری تشہد کی دعا 140
صبح و شا م کی دعا 141
وفات نبوی اور صدیق اکبرؓ 142
وفات نبوی کا اشارہ اور سیدنا ابوبکر ؓ کے آنسو 142
سیدہ عائشہ ؓ کا ابوبکر ؓ کا امام نہ بنانے کی درخواست کرنا 143
حکم نبوی کو ابوبکر لوگو ں کو نماز پڑھائیں 143
نبی ﷺ کا ابوبکر ؓ کی اقتدار میں نماز پڑھنے والوں پر اظہار مسرت 144
رسول اکرم ﷺ  کے چہر ہ انور کو بوسہ دینا 145
حادثہ دل فگار  ی ہولناک اور سیدنا ابو بکر ؓ کامو قف 146

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam خلافت راشدہ زبان سیرت سیرت صحابہ قرض نبوت

سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے

سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے

 

مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

 

صفحات: 564

 

سیدنا حسن﷜ دماد ِ رسول حضرت علی﷜ کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن﷜ نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیدنا حسن بن علی شخصیت اورکارنامے ‘‘ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل مستند کتاب ہے ۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدناحسن کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی ۔اور آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی۔اور سیدنا حسن کی طرف کچھ غلط منسوب خطبات کی حقیقت کوبھی واضح کیا ہے۔ نیز مصنف نے اس کتاب میں حضرت حسن کی اہم صفات اورا ن کی معاشرتی زندگی کو ذکرکیا ہے او رثابت کیا ہےکہ آپ نرالی قائدانہ شخصیت کےمالک تھے آپ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے آپ دوربینی ،حالات پر گہری نظر ، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقرر منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے۔الغرض سیدنا حسن کی سیرت ، حیات وخدمات خلافت وامارت اور کارناموں پر جامع اور مستند کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
                                                  فہرست مضامین
عرض ناشر 17
مقدمہ 19
                                                           پہلی فصل
حسن بن علی ابی طالب (ولادت سے خلافت تک )
(1)نام نسب، کنیت ، صفت، خاندان عہد نبوت میں 35
ٍ1۔نام ، نسب اور کنیت 35
2۔آپ کی ولادت، نام ،لقب اور بچوں کے نام رکھنے میں بنی کرم ﷺ کا طریقہ کار 35
3۔ حضر ت حسن ؓ کے کانوں میں رسول اللہ ﷺ کا اذان دینا 39
4۔مولو د کی تحنیک 40
5۔حضرت حسن ؓ کا سر منڈ ا نا 42
6۔عقیقہ 42
7۔ حسن بن علی ؓ کا ختنہ 44
8۔حضرت بن علی ؓ کا دودھ پلانے والی خاتون ام الفضل ؓ 45
9۔ حضرت حسن ؓ کی شادی ، ان کی بیو یاں ، ان سے متعلق روایتیں 47
تعداد سے متعلق رویتیں 48
10۔ان کی اولاد 53
حضرت حسن ﷺ کی بعض اولاد 54
1۔زیدبن حسن علی بن ابو طالب ؓ 54
2۔حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب ؓ 55
11۔آپ کے بھا ئی اور بہنیں 56
12۔آ پ کے چچا اور پھو پھیاں 59
13۔ آ پ کے ما موں اور خالا ئیں 61
14۔آ پ کی خالا ئیں 62
1۔زینب بنت رسول اللہ ﷺ 62
2۔رقیہ بنت رسول اللہْﷺ 67
3۔ ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ 68
(2)حضرت حسن ؓ کی والدہ سیدہ فا طمہ زہرا ؓ 71
1۔ ان کا مہر اور انکے بر تنے کے سامان 71
2۔ ان کی رخصتی 72
3۔ دعوت ولیمہ 72
4۔ حضرت علی و فاطمہ ؓ کا رہن سہن 73
حضرت فاطمہ ؓ کا زہد ہ صبر 74
6۔ سیدہ فاطمہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت اور ان سے   متعلق ا ٓ پ کی غیرت 76
7۔ ان کی راست بازی 77
8۔ دنیا و آخرت میں ان کی سرداری 78
9۔حضرت ابو بکر صدیق ؓ ،حضرت فاطمہ ؓ اور نبی کریم ﷺ کی میراث 78
10۔ حضرت فاطمہ ؓ کا حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے رضامندی کا اظہار 79
11۔سیدہ فاطمہ ؓ کی وفات 82
(3)اپنے نانان محمد مصطفیٰ ﷺ کے نزدیک حضرت حسن ؓ کا مقام و مر تبہ 84
1۔حضرت حسن ؓسے رسول اللہ ﷺ کی محبت و سفقت اور لاڈو پیار 84
2۔حضر ت حسن ؓ کی نبی کریم ﷺ سے مشا بہت 92
3۔ حسن و حسین ؓ جنتی جوانوں کے سردار 94
4۔ وہ ددونوں دنیا کے میرے لیے دوخو شبو دار پھول ہیں 95
5۔ دنیا و آخرت میں ان کی سردار ی 96
6۔ میں ہر شیطان ، زہر یلے جانور ار نظر بد سے اللہ کے کامل کلموں کی پنا چاہتا ہوں 99
7۔ رسول اللہﷺ سے حسن بن علی ؓ کی روایت کر دہ حد یثیں 100
حسن بن علی ؓ کی روایت کردہ ا حادیث 108
ا۔بکثر ت فتویٰ دینے والے 109
ب۔ اوسط درجہ کے فتویٰ دینے والے 109
ج۔ کم فتویٰ دینے والے 109
8۔حسن بن علی ؓ کی روایت کردہ نبو ی صفات 109
9۔تطیہر کی ا ٓ یت اور کساء والی حدیث 112
آیت تطیہر سے متعلق 115
شیعہ امامیہ کے استدلال کا مختلف پہلو و ں سے جائزہ 115
ا۔ ام سلمہ ؓ کی مذکورہ حدیث چند لفظوں کے ساتھ وارد ہے 115
ب۔ آیت ہذا عصمت وا مامت پردلالت نہیں کر تی 117
ج۔ قرآن کی زبان میں اذھاب الر جس سے مراد معصوم ہونا نہیں ہے 120
د۔الرجس ، سے تطہیر کسی کے معصوم ہونے کی ثابت نہیں کرتی 121
آیت میں وارداردہ شر عی ارادہ ہے نہ کونی ارادہ 123
آ یت تطہیر ا صحاب کساء کو شامل ہے ،اور قول نبی کریم ﷺ کی دعا ہے 124
کچھ ایسی دلیلیں جو و اضح کرتی ہیں کہ ا ٓ یت امامت اور معصوم ہونے کی دلیل نہیں 125
10۔آیت مباہلہ اور نجران کے عیسا ئیوں کا وفد 125
11۔ حسن بن علی ؓ پر خاندانی تریبت کا اثر 127
مر بی با پ کے ا وصاف 128
1۔تربیت کی اہمیت کا ا حساس ، اس کا مکمل اہتمان کرنا، اس میں اخلاص سے کام لینا 128
2۔ بچوں کے سامنے ایک اچھا نمو نہ پیش کرنا 128
3۔ امیر المو منین علی ؓ تربیت کے باب میں بڑ ے ہی نرم ، مہر بان اوررحم دل تھے 128
4۔بچو ں کے مابین عدل و انصاف کو باقی رکھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا 129

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
13.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز