Categories
Islam توحیدوشرک

شرک کے چور دروازے

شرک کے چور دروازے

 

مصنف : ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

 

صفحات: 383

 

ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی اور حافظ محمود الخضری کے اشتراک سے تسلسل کے ساتھ علمی موضوعات پر بہت سی کتب اشاعت کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہیں۔ اس کتاب میں دونوں حضرات نے شرک کی شناعت کو سامنے رکھتے ہوئے اس موضوع پر بھی قرآن و حدیث کا مؤقف پیش کردیا ہے۔ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں توحید اور اس کی اقسام کی تعریف ہے، نیز ان شروط کا ذکر ہے جن پر توحید کی سلامتی اور بقا کا انحصار ہے۔ دوسرا باب شرک کی حقیقت اور اس کےاضرار کو واضح کرتا ہے، نیز مختلف قوموں میں پائے جانے والے شرک کو قرآن و حدیث کی نصوص سے بیان کرتا ہے۔ تیسرے اور آخری باب میں عصر حاضر میں پائے جانے والے شر کے کے مختلف طرق کا قدرے تفصیلی ذکر ہے۔ رسالہ کا اسلوب سہل ہے اور تمام مندرجات مدلل اور باحوالہ ہیں ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظ 13
مقدمہ 17
باب اول :توحید
توحید کی حقیقت 27
توحید کی اہمیت 31
اسوہ نوح علیہ السلام 31
اسوہ ابراہیم علیہ السلام 32
اسوہ یوسف علیہ السلام 33
اسوہ رسول ﷺ 35
لا الہ الا اللہ کا معنی ومفہوم 36
الہ کے لغوی و اصطلاحی معنی 38
توحید کی اقسام 71
اسماء وصفات کے متعلق چند اہم قواعد اور بنیادی اصول 76
تمثیل اور تکییف میں فرق 90
توحید کی شروط 91
دوسرا باب:شرک
شرک کی حقیقت 115
قرآن مجید کی روشنی میں شرک کو پہچانیے 118
شرک کے نقصانات 125
شرک اقوام ماضیہ 130
قوم نوح علیہ السلام 130
قوم ہود علیہ السلام 131
قوم یوسف علیہ السلام 133
قوم موسیٰ علیہ السلام 134
قوم اصحاب کہف 135
یہود نصاری کا شرک 136
مشرکین مکہ کے عقائد ونظریات 138
کلمہ گو مشرک 182
باب سوم:شرک کے چور دروازے
جہالت 195
تقلید 198
تقلید کی مثالیں 202
نصاب تعلیم 206
فلسفہ وحدت الوجود 218
فلسفہ وحدۃ الشہود 227
نظریہ حلول 232
(غلو)تجاوز فی التعظیم 239
اکابر پرستی 244
قبر پرستی 249
مزارات کی تعمیر اور ان کی مجاوری 255
عرس اور میلے 264
تبرکات وآثار سلف 269
غیر اللہ کی نذرو نیازدینا 277
غیر اللہ کے تقرب کی خاطر ذبح کرنا 284
غیر اللہ سے فریاد رسی اور دعا کرنا 289
توسل غیر شرعی 306
معجزات اور کرامات میں غلط فہمی 318
ضرب لاامثال 324
اتباع متشابہات 329
مادہ پرستی 333
احداث(ایجادبدعات) 341
ستارہ پرستی 343
نجومی اور پامسٹ کے پاس جانا 347
بدشگونی لینا اور عقیدہ نحوست 364
شرکیہ دم اور منتر 366
شرکیہ تعویذات 369
فتنہ وطنیت 377
کلمات کفر 379

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اصول حدیث تاریخ

شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر سوالاً جواباً

شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الاثر سوالاً جواباً

 

مصنف : حافظ ابن حجر عسقلانی

 

صفحات: 130

 

اصولِ حدیث پر  حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کی سب سے  پہلی اور اہم  تصنیف نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر  ہے  جو علمی حلقوں میں مختصر نام نخبة الفکر سے  جانی جاتی ہےاور اپنی افادیت کے  پیش نظر اکثر مدارس دینیہ   میں  شامل نصاب ہے۔ اس مختصر رسالہ میں  ابن حجر  نے  علومِ  حدیث کے تمام اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے  ۔حدیث اوراصو ل میں  نخبۃ الفکر کو وہی مقام حاصل ہے جو علم  لغت میں خلیل بن احمد  کی  کتاب العین  کو ۔مختصر ہونے کے باوجود یہ اصول  حدیث میں اہم ترین مصدر ہے کیونکہ بعد میں  لکھی جانے والی کتب اس سے بے نیاز نہیں ۔حافظ ابن  حجر نے ہی  اس کتاب کی  شرح  نزهةالنظر فی توضیح نخبة الفکر فی مصطلح أهل الأثر کے نام سے لکھی جسے   متن کی طر ح قبول عام حاصل ہوا۔ اور پھر ان کے  بعد  کئی اہل علم  نے  نخبۃ الفکر کی شروح لکھی ۔ زير نظر كتاب شرح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر کا آسان فہم  اردو ترجمہ ہے۔یہ  ترجمہ   مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (متعلّم مدینہ یونیورسٹی ) کی اہم کاوش ہے   یہ کتاب  اکثر مدارس   کے  نصاب میں شامل ہے    لہذااس    کوسمجھنے کے لیے یہ سوالاً جواباً اردو تلخیص طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔  موصوف نے  دلچسپ  ودلنشین انداز میں دل ودماغ میں اتر جانے والے سوال وجواب کی صورت میں  اسے مرتب کیا ہے ۔ جس سے  طلبہ وطالبات کے لیے   اصل کتاب  کو  سمجھنا آسان  ہوگیا ہے ۔ موصوف نے  کتاب ہذا کے علاوہ     شرح  مائۃ عامل اور اطیب المنح ، ہدایۃ النحو، الفوز الکبیر اور نحو میر کی بھی سوالاً وجواباً تسہیل  کی  ہے جس سے طلباء کے لیے ان  دقیق کتب کو سمجھنا نہایت آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ    موصوف کی  اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے  اوران کی   زندگی اور علم وعمل  میں برکت فرمائے  اور  انہیں اس میدان میں  مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 9
حرف تمنا 10
تقریظ: مولانا رحمت شاکر﷾ 12
تقریظ از:مولنا خواجہ محمدعدنان﷾ 13
تقریظ از: مولانا یحییٰ شاہین﷾ 14
تقریظ از: مولانا یٰسین ہزاروی﷾ 15
تقریظ از: مولانا عبداللہ بن حافظ عبد المنان نور پوری﷾ 16
مقدمہ مصنف 17
مقدمہ کتاب تاریخ واصول حدیث 19
ابتدائی اصطلاحات 21
اصول حدیث کی تعریف موضوع اور فائدہ 21
حدیث وخبر اثر اور دوسری اصطلاحات 22
حدیث قدسی 23
سند 23
متن 23
اسناد 24
مسند ومسند 24
روایت ودرایت 25
حافظ 25
خبر کی تقسیم متواتر اور آحاد کی طرف 26
خبر متواتر 26
متواتر کی اقسام 26
متواتر کی شرائط 26
متواتر کا حکم 27
اخبار آحاد 29
اخبار آحاد کی اقسام 30
خبر مشہور 30
خبر عزیز 31
خبر غریب 32
غریب کی اقسام 32
آحاد کی تقسیم مقبول اور مردود کی طرف 35
خبر مقبول اور اس کاحکم 35
خبر واحد مختف بالقرائن اور اس کی اقسام 35
مقبول کی تقسیم صحیح اور حسن کی طرف 37
صحیح لذاتہ 37
تعریف کی شرح 37
صحیح کے مراتب 38
شیخین کی شرط 40
حسن لذاتہ 42
صحیح لغیرہ 42
حسن لغیرہ 43
ترمذی وغیرہ کا قول’’حدیث حسن صحیح‘‘ہے 44
ترمذی کا قول’حدیث حسن غریب‘‘ہے 45
زیادت ثقہ اور خبر کی محفوظ وشاذ کی طرف تقسیم 45
خبر معروف ومنکر 47
متابعت اور اس کی اقسام 48
متابع شاہد اعتبار 50
خبر مقبول کی تقسیم 52
دو مقبول احادیث میں تعارض پیدا ہو جائے؟ 54
نسخ اور اس کو پہچاننے کے طریقے 55
خبر مردود ارو رد کے اسباب 57
سقط کی اقسام 57
مردود کی سقط کے اعتبار سے تقسیم 58
خبر معلق 58
تعدیل مبہم 59
خبر مرسل 59
مرسل کا حکم 60
مراسیل صحابہ 61
خبر معضل 61
خبر منقطع 61
خبر مدلس 62
تدلیس کی اقسام 62
مرسل مفی 63
تدلیس اور مرسل خفی میں فرق 63
وہ امور جن سے تدلیس اور ارسال خفی پہچانا جاتا ہے 64
راوی میں جرح وطعن کے اسباب 66

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسماء حسنی و صفات

معارف الاسماء شرح اسماء الحسنٰی

معارف الاسماء شرح اسماء الحسنٰی

 

مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

 

صفحات: 259

 

اللہ تعالی ٰ کے  بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ  توحید کی  معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ  کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی  اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن  واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے  کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے  اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله  تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام  ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان  کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے  سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی  ہے زیر تبصرہ کتاب ’’معارف الاسماء شرح اسماء الحسنیٰ ‘‘  سیرت النبیﷺ پر مقبول عام کتاب رحمۃ للعالمین  کے  مصنف  جناب  قاضی محمد سلیمان منصورپوری﷫ کی تصنیف  ہےجو کہ اللہ  تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی  بنظیر شرح ہے ۔مصنف موصوف نے روایات کی روشنی میں  اسماء  الحسنی ٰ کو نقشہ جات  کی صورت میں پیش  کی ہے۔اللہ تعالیٰ   مصنف کتاب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 7
خطبہ کتاب 9
یہ مختصر رسالہ اسماء االلہ لحسنی  کے متعلق ہے 9
اصل اس بارہ میں اللہ تعالی کا ارشاد 10
صحیح بخاری میں ہے 11
صحیح مسلم میں ہے 11
صحیح مسلم کی دوسری حدیث ہے 12
ترمذی کی حدیث ہے 12
ترمذی کی دوسری حدیث ہے 13
ابن ماجہ میں ہے 13
طریق دوم 15
طریق سوم 15
نقشہ  روایت اسماءاللہ الحسنی 15
نقشہ انتخاب اسماءاللہ الحسنی 15
بجمع روایات 17
نقشہ دوم 22
فصل۔ 25
نقشہ نودونہ نام پاک اللہ عزوجل مندرجہ باب اول 28
شرح 33
باب اول 35
1۔ اللہ جل جلالہ 35
خواص لفظی 40
2۔ الرحمن 43
3۔الرحیم 47
4۔الملک 51
5۔ القدوس 54
6۔السلام 55
7۔المؤمن 56
8۔المھیمن 58
9۔العزیز 60
10۔الجبار 61
11۔المتکبر 62
12۔الخالق 63
13۔الباری 64
14۔المصور 64
15۔الغفار 66
16۔القھار 67
17۔الو ھاب 68
18۔الرزاق 69
19۔الفتاح 70
20۔العلیم 72
21۔السمیع 75
22۔البصیر 77
23۔اللطیف 78
24۔الخبیر 79
25۔الحلیم 80
26۔العظیم 81
27۔الغفور 83
28۔الشکور 84
29۔العلی 85
30۔الکبیر 87
31الحفیظ 89
32۔المقیت 90
33۔الحسیب 91
34۔الکریم 92
35۔الرقیب 93
36۔القریب 94
37۔المجیب 96
38۔الواسع 97
39۔الحکیم 98
40۔الودود 102
41۔المجید 105
42۔الشھید 106
43۔الحق 108
44۔الوکیل 111
توکل 113
45۔القوی 114
46۔المتین 116
47۔الولی 117
48۔الحمید 119
49۔القیوم 124
50۔الواحد 125
51۔الاحد 131
52۔الصمد 132
53۔القادر 134
54۔المقتدر 135
55۔الاول 136
56۔الاخر 136
57۔الظاھر 136
58۔الباطن 136
59۔الوالی 139
60۔المتعالی 139
62۔البر 141
63۔التواب 142
توبہ کا اصول 143
64۔العفو 145
65۔الرؤف 146
66۔الجامع 147
67۔الغنی 148
68۔النور 150
69۔الھادی 153
اللہ تعالی کی ہدایت کے چار مراتب 154
70۔البدیع 155
71۔رب 156
72۔مبین 158
73۔القدیر 159
74۔الحافظ 160
اللہ تعا لی ہی حافظ ہے 160
اناجیل  کو لیجئے 161
75۔الکفیل 163
76۔الثاکر 163
شکر 164
بزرگان دین کے اقوال بھی شکر  کے متعلق شنیدنی ہیں
77۔الاکرام 165
78۔الاعلی 166
79۔الخلاق 167
80۔المولی 170
81۔النصیر 171
82۔الالہ 174
83۔العلام 175
84۔القاھر 177
85۔الغافر 177
86۔الفاطر 178
87۔الملیک 179
88۔الحفی 180
89۔المحیط 181
90۔المستعان 183
91۔الرفیع 185
92۔الکافی 186
93۔غالب 188
94۔المنان 191
95۔الجلیل 192
96۔المحی 193
97۔الممیت 194
98۔الوارث 195
99۔الباعث 197
100۔الباقی 198

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam پاکستان سیرت صحابہ

شان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( حدوٹی )

شان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( حدوٹی )

 

مصنف : محمود الرشید حدوٹی

 

صفحات: 81

 

انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ زیر نظر رسالہ ’’شان صحابہ ‘‘مولانا محمود الرشید حدوٹی(شیح الحدیث ومہتمم جامعہ رشیدیہ ،مناواں،لاہور) کی کاوش ہے ۔فاضل مصنف نے قرآنی آیات ا ور احادیث نبویہ کے دلائل  سےصحابہ کرام  کے فضائل ومناقب  اور ان کی عظمت وشان کو بیان کیا ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
صحابہ کرام ﷢کی شجاعت و بہادری 3
وزیر اعظم پاکستان اور  صحابہ کرام ﷢ 4
قرآن اور  صحابہ کرام ﷢ 25، 32
مہاجرین اور انصار ﷢ 32
مہاجرین و مجاہدین ﷢سچے مومن اور مغفور 35
بیعت رضوان اور رضائے رحمان 36
تقویٰ اور صداقت  صحابہ کرام ﷢ کی پہچان 39
مہاجرین اور انصار ﷢کےلیے جنت اور فوز عظیم 40
صحابہ کرام ﷢ معتدل امت 43
صحابہ کرام ﷢ بہترین امت 44
صحابہ کرام ﷢ انتخاب خداوندی 45
صحابہ کرام ﷢ سب جنتی 48

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اہل بیت اہل حدیث زبان واقعہ حسن و حسین اور واقعہ کربلا

شان حسن وحسین ؓ

شان حسن وحسین ؓ

 

مصنف : عبد المنان راسخ

 

صفحات: 123

 

حسنین کریمین اور اہل بیت سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے بہت سی جگہوں پر افراط اور تفریط نظر آتی ہے جو کسی بھی طور قابل تائید نہیں ہے۔ عام طور پر اہل حدیث حضرات پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اہل بیت اور حضرت حسن و حسین ؓ سے معاذ اللہ عداوت رکھتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے اس الزام کو بے سروپا الزام ثابت کیا ہے۔ انھوں نے حضرت حسن و حسین ؓ کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی شان سردار انبیاء ﷺ کی زبان سے بیان کی ہے۔ حتی الوسع صیح روایات کا اہتمام کیا گیا ہے اور کوئی بھی روایت حسن درجے سے کم نہیں ہے۔ بعض مقامات پر صحابہ کرام کی دونوں صاجزادوں سے محبت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
ایک سید کے قلم سے 9
گزارشات راسخ 14
انتساب 20
مختصر تعارف 22
سیدنا حضرت حسن ؓ 22
مختصر تعارف 50
سیدنا حضرت حسین ؓ 51
سادتنا حسنین ؓ 84
قارئین وواعظین کی خدمت میں 112
جن کتابوں کے چمن سے پھول چنے 113

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام توحیدوشرک

شمع توحید

شمع توحید

 

مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

 

صفحات: 47

 

تمام انبیاء کرام﷩ ایک ہی پیغام اور ایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ تمام انبیاء کرام سالہا سال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانے کے لیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جس کا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے حضرت نوح﷤ نے ساڑے نو سو سال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے بھی عقیدۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شمع توحید‘‘ مناظر اسلام شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ کی عقیدہ توحید پر ایک منفرد تحریر ہے۔ مرکزی انجمن حزب الاحناف ہند نے ایک رسالہ ’’العقائد‘‘ شائع کیا۔ جس میں اس کے مصنف علامہ حکیم ابو الحسنات سید محمد احمدقادری (خطیب مسجدوزیر خاں، لاہور) نے رسول اللہﷺ کے متعلق لکھا کہ رسول اللہﷺ کوبشر کہنا کفر ہے اور رسول اللہ ﷺ عالم الغیب ہیں اور آپ ہرجگہ حاضر وناظر ہیں ‘‘تو 1928ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے سید محمد احمد قادری کے اس رسالہ ’’العقائد‘‘ کا دلائل سے مزین جواب سپرد قلم کیااور اس رسالہ میں رسول اللہﷺ کے متعلق بیان کیے گئے غلط عقائد کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔ مولانا امرتسری کے رسالہ شمع توحید کو مکتبہ قدوسیہ، لاہور نے 15 سال قبل دوبارہ شائع کیا۔قارئین کے استفادہ کے لیے ہم اسے سائٹ پر پبلش کرر ہے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
آغاز 7
غلو اور تنقیص 9
رسول اللہ کی بشریت 11
اس کے مخالفت عقیدہ 13
آسان راستہ 21
تقریر 24
طائفہ غالیہ کی بلند پروازی 24
علم غیب 26
مزید تفصیل 30
تفہیم عام 31
جوابات توہمات 31
استعانت اور اعانت من غیر اللہ 40
معارضہ 42
خاص شفا 44
متفرقات 46
فرقہ غالیہ 47

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ اسلام دعوت و تبلیغ سیرت علماء

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور انکی دعوت

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور انکی دعوت

 

مصنف : عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

 

صفحات: 42

 

شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫( 1703 – 1792 م) کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ شیخ موصوف کی دعوتی تحریک تاریخ اسلام کی ان تحریکوں میں سے ہے جن کو بہت زیادہ مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی ۔اور یہی وجہ ہےکہ دنیائے اسلام کےہرخطہ میں میں ان کے معاندین ومؤیدین بہت کافی تعداد میں موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ رسالہ’’ شیخ محمد بن عبدالوہاب﷫ اوران کی دعوت‘‘ شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز﷫ کی الجامعۃالاسلامیۃ مدینہ منورہ میں ایک تقریر کا ترجمہ ہے جو انہو ں نےیونیورسٹی کےہال میں علماء وطلبہ کےایک مجمع میں کی تھی اور بعد میں ٹیپ ریکارڈر سے تحریر میں لایاگیا ۔شیخ ابن باز ﷫ نے اپنی اس تقریر میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی سوانح حیات اور انکی دعوت کو جامع الفاظ میں پیش کیا ہے۔اس رسالہ پر مدینہ یونیورسٹی کے استاد عطیہ محمد سالم نے جامع تقدیم وتعلیق فرمائی اور اس میں شیخ ابن باز ﷫ کا بھی مختصر تذکرہ وتعارف پیش کیا ہے۔اس اہم رسالہ کاترجمہ مولانا عبد العلیم بستوی نے کیا۔ محدث روپڑی﷫ کےتلمیذ رشید جناب ابو السلام محمد صدیق آف سرگودھا کےقائم کردہ ’’ادارہ احیاء السنۃ ‘‘ نے 1973ء میں اسے شائع کیا۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مترجم 3
پیش لفظ 4
شیخ ابن باز 7
پیدائش 8
تعلیم 9
شیخ محمد بن عبد الوہاب 13
شیخ کے سیرت نگار 13
پیدائش اور تعلیم و تربیت 15
ابتداء دعوت اور سازش قتل 17
دعوت سے قبل اہل نجد کی حالت 18
اظہار حق 19
جذبہ ایمان 21
امیر درعیہ کی بیعت 22
مخالفین کی تین قسمیں 27
وفات اور اس کے بعد 29
دعوت حق بسوئے حجاز 32
ترکی اور مصری فوجوں کی یلغار 33
حقیقت دعوت 35
حجاز میں دوبارہ داخلہ 36

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام بدعت دعوت و تبلیغ رسوم و رواج اور بدعات بسنت ، اپریل فول ، ویلنٹائن ڈے وغیرہ سنت عبادات نبوت

شب برأت حقیقت کے آئنے میں

شب برأت حقیقت کے آئنے میں

 

مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

 

صفحات: 40

 

اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں”امت وسط” کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو”امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام کو ادھورہ اور شریعت محمدیہ ﷺ کو ناقص قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب”شب برات حقیقت کے آئینے میں”جو کہ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کا ایک تحقیقی رسالہ ہے۔ محترم موصوف جو کہ علمی و ادبی حوالے میں ایک معتبر حیثیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں شب برات کی حقیقت کا قرآن سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور محترم موصوف کو ہمت واستقامت سے نوازے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
خطبہ مسنونہ 7
شب برأت کی حقیقت 9
کہیں ہم دھوکے میں تو نہیں 13
شب برأت حقیقت کے آئنہ میں 17
شب برأت چہ معنی دارد 17
مغفرت کا دن 18
مشرک کی بخشش نہیں 22
رزق کی تقسیم 23
اعمال کے اٹھائے جانے کا دن 25
کینہ پرور اور قاتل کی معافی کا دن 25
مومنوں کی بخشش کا دن 26
کینہ پرور کی معافی نہیں 27
مشرک کی معافی نہیں 29
تمام مخلوق کی معافی 33
شب برأت، حلوہ اور چراغاں 34
عجیب کہانی، ایک راز 35
شب برأت اور آتش بازی، میرا مذہب نہیں 36
روحوں کی آمد 38
خلاصہ کلام 39

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام بدعت تاریخ سنت سیرت علماء نماز نماز عیدین وضو

سیرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی

سیرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی

 

مصنف : ابو البیان محمد داؤد پسروری

 

صفحات: 290

 

مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سر ہندی ﷫ 971ھ کو ہند و ستا ن کے مشر قی پنجا ب کے علاقہ سرہند میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد شیخ عبدا لا حد چشتی ﷫ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم وعارف تھے …. حضرت مجدد الف ثانی کا سلسلہ نسب 29واسطوں سے امیر المو منین سیدنا حضرت عمر فاروق﷜ سے ملتاہے۔آپ نے صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فنِ حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالمِ اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔ مجدد الف ثانی  مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا‘‘حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے دورِ ابتلاء سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امراء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا: سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔ہندوستان میں اشاعت ِدین اور تبلیغ اسلام کے لیے آپ کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سیرتِ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی‘‘علامہ ابوالبیان محمد داؤد پسروری کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مجدد الف ثانی کی سیرت پر ایک جامع کتاب ہے جس میں آپ کے حالات بالتفصیل بیان کئے گئے ہیں ۔مجدد الف ایک معروف شخصیت ہیں جن کی ہندوستا ن میں اشاعتِ اسلام کےلیے بڑی خدمات ہیں ۔ویب سائٹ پر ان کی سیرت وتعارف کے حوالے سے کوئی کتاب نہ تھی ۔اس لیے کتاب کو   ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مندرجات سے ادارے کا کلی اتفاق ضروری نہیں ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مجدد الف ثانی (منظوم )ابو البیان محمدداؤد پسروری مصنف 11
دیپاچہ 14
سرنامہ 17
افتتاحیہ 18
آغاز حالات 21
خاندان اور نسب 21
مشاہیر سلسلہ نسب کےحالات پر ایک ا جمالی نظر 22
سرہند کےمختصر حالات 27
مخدوم شیخ عبدالاحد قدس سرہ 31
مقدمہ 39
ضرورت مجدد 39
مجدد الف ثانی 41
آپ کے ظہور کےمتعلق اولیائے سابقین کی بشارتیں 44
منجمین کی پیشنگوئی 50
ارکان سلطنت کی خوابیں 51
تذکرہ ولادت 53
ظہور قدسی 55
زمانہ طفولیت 57
سند مصافحہ 59
اکبر آباد کا سفر 60
شادی 62
علم طریقت 63
خلافت 76
تجدید 77
منصب قیومیت 79
تجدید کا پہلا سال
خطاب مجتہد 79
مسائل اجتہادیہ 79
ملاں عبدالرحمن کا بیعت کرنا 81
خواجہ صاحب کا مکتوب 81
دہلی کا دوسرا سفر اور عروج کمالات 82
تجدید کا دوسرا سال
حضرت غوث الاعظم کے خرقہ کی حوالگی 83
سید صدر جہان اور خان اعظم کا مرید ہونا 85
تجدید کا تیسرا سال
دہلی کا تیسرا سفر 88
آپ سےحضرت خواجہ صاحب کااپنے فرزندوں کو توجہ دلانا 89
سرہند واپسی اور لاہور کا سفر 90
حضرت خواجہ باقی باللہ  کا وصال 91
تجدید کا چوتھا سال
پیر بھائیون کاآپ سے انحراف 92
خاطیوں کی معذرت اور معافی 93
تجدید کا پانچواں سال
تبلیغ 94
بادشاہ اکبر کی اصلاح 96
مریدین میں اضافہ 98
تجدید کا چھٹا سال
شیخ طاہر بدخشی کا خواب 98
مولانا صالح گولامی  ،مولانا یار محمد، مولانا عبدالحق 99
تجدید کاساتواں سال
ایران میں شیعہ مذہب کا استیصال 101
تجدید کا آٹھواں سال
شیخ فضل اللہ کامعتقد ہونا شیخ حسن غوثی کاخواب 107
شیخ میرک کا مرید ہونا 108
تجدید کا نواں سال
شیخ میرک ﷫ کا مرید ہونا 108
تجدیدکادسواں سال
خواجہ عبدالرحمن کا مرید ہونا 108
شیخ بلخی کا مرید ہونا 109
تجدید کا گیارہواں سال
متکبرین کا رجوع 111
حضرت خواجہ محمدمعصوم کاخواب 111
تجدید کابارہواں سال
شیخ حمید 113
میر یوسف سمر قندی 114
جنات کاخانقاہ سےنکالنا 115
تجدید کاتیرہواں سال
بلخ کا ایک شیخ کامرید ہونا 116
ایک سید زادہ کا بیان 117
تجدید کا چودھواں سال
طاعون کا غلبہ اور شیخ محمدعیسیٰ  117
ابراہیم ؑ کے سرہند میں مقبرے مکتوبات کی پہلی جلد کا اختتام 120
اطراف عالم میں خلفاء کی روانگی 121
تجدید کا پندرھواں سال
شیخ بدیع الدین کا واقعہ 122
تجدید کا سولہواں سال
نامہ گرفتاری اور روانگی 124
سجدہ کرنےسے انکار 125
ایام حبس کےواقعات 127
تجدید کا سترہواں سال
آپ کے مریدین میں اضطراب مقابلہ کی تیاری 129
آپ کا حلم 130
رہائی 131
تجدید کا اٹھارہواں سال
وزیر کی پہلی شرارت 133
وزیر کی دوسری شرارت 134
تجدید کا انیسواں سال
شاہجہان او رجہانگیر میں لڑائی 134
تجدید کابیسواں سال
بادشاہ کےہمراہ سفر میں رہنے کی حکمت 135
بادشاہ کا آپ کوہمراہ رکھنے پر اصرار 136
تجدید کااکیسواں سال
طتی مسافت 137
شیخ آدم بنوری کا مرید ہونا 138
تجدید کابائیسواں سال
مکتوبات کی اشاعت اور ان کا اثر 139
آثار رحلت 142
تجدید کاتئیسواں سال
خلوت 143
آخری خطبہ عیدالضحےٰ 144
آخری تقریر 145
مرض الموت 146
صعوبت مرض 147
یوم وصال 148
وصال 149
تاریخ وصال 151
مقدمہ اولیاء اللہ اور کرامات
بحث کرامات 155
کرامات
دعا کا اثر ض 160
امداد غیبی 162
سلب جذام ، شیر کا مقابلہ 163
روحانی قوت ، مکان کا گرنا 164
دیوار کا قائم رہنا 165
قتل سےنجات ، فقراء سےفوقیت 166
سلب مرض ،سلب قولنج ، مرنے کی خبر دینا وغیرہ 167
ولادت فرزند کی خبر 168
مرض سے نجات 170
ولایت ابراہیمی کی تصدیق 171
مکاشفات
شاہ کمال اور شاہ سکندر کا مرتبہ 171
سر ہند سے شریعت نبوی کوعروج 172
قبرستان سے عذاب کا اٹھ جانا 172
عبادات
اتباع سنت 172
رعایت ادب اور رعایت مستحب 173
لکھے ہوئے کا غذ کا ادب ، حفاظ کاادب 174
شبانہ روز کےاعمال
شب بیداری 174
بیت الخلاء ، وضو ، نماز ، تہجد، مراقبہ 175
مراقیہ ، اشراق ، تلاوت قرآن 176
تدریس ، نماز عصر ، ختم خواجگان ، نماز 177
اعتکاف ، نماز عیدین ، صلوۃ کسوف و خسوف ، حالت سفر 178
تنہاء ادائیگی نماز، نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد ، نماز نوافل 179
عقائد
علمائے ماتریدیہ کی رائے کو ترجیح 179
پہلا عقیدہ 180
دوسرا ، تیسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا عقیدہ ساتواں ،آٹھواں ، نواں ، دسواں اور گیارہواں عقیدہ 181
پوشش
آپ کا لباس 185
حلیہ
تفصیل حلیہ 185
مخصوص کمالات
مجدد الف ثانی 186
شیوخ وسلاسل
شیخ یعقوب کشمیری 186
شاہ سکندر 187
مخدوم عبدالاحد 188
سلسلہ فاروقیہ اور سلسلہ چشتیہ 188
سلسلہ سری سقطیہ ، سلسلہ سہروردیہ 189
سلسلہ سہرورد یہ چشتیہ 190
سلسلہ چشتیہ نظامیہ جلالیہ اور سلسلہ قادریہ جلالیہ 191
سلسلہ کبرویہ جلالیہ ، سلسلہ سہرورویہ 192
حضرت خواجہ باقی باللہ شجرہ نقشبندیہ 193
تصانیف
رسالہ رد شیعہ ، اثبات النبوۃ ، رسالہ معارف لدنیہ ، تعلیقات عوارف ، رسالہ مبدؤ ومعاد 194
رسالہ تہلیلہ ،شرع رباعیات ، رسالہ آداب مریدین ، رسالہ مکاشفات 195
مکتوبات شریف 195
پہلی دوسری اور تیسری جلد 196
تجدید تصوف 196
طرز تحریر 197
پہلا باعث 197
دوسرا باعث 198
جوابات 198
اولاد
صاحبزادے اور صاحبزادیاں 200
خواجہ محمد صاجق ﷫ کے حالات 201
خواجہ محمد سعدی ﷫ کےحالات 205
خواجہ محمد معصوم کی کرامات 226
آپ کی وفات 230
آپ کی اولاد 232
آپ کے خلفاء 236
مشاہیر خلفاء
تعداد خلفاء وتعداد مریدین 246
خلفاء کےتفصیلی حالات 246
شیخ طاہر لاہوری 254
شیخ نور محمد پٹنی  256
شیخ مزمل 259
مولانا حسن برکی 266
حضرت عبدالحی  272
شیخ بدر الدین سرہندی 276
شیخ یوسف برکی 277
شیخ احمد 280
مولانا امان اللہ لاہوری 283
شیخ محمدحری  284
شیخ نور محمد بہاری  285
صوفی قربان جدید 286
مولانا حمید احمدی 287
حاجی حسین 288
اصحاب خانقاہ
اسمائے گرامی اصحاب خانقاہ 289
قطعہ تاریخ
قطعہ تاریخ سیرت امام ربانی

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل اسلام روزہ و رمضان المبارک عبادات علماء محدثین

صیام رمضان فضائل ، آداب ، احکام اور قیام

صیام رمضان فضائل ، آداب ، احکام اور قیام

 

مصنف : محمد بن جمیل زینو

 

صفحات: 34

رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہِ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے   ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے  یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔   کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے   کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے    رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔ زیر نظرکتابچہ ’’صیام رمضان  فضائل،آداب،احکام اور قیام ‘‘شیخ جمیل زینو  کے ایک رسالہ کا اردو ترجمہ  ہے شیخ موصوف نےاس مختصررسالہ میں رمضان المبارک کے جملہ احکام ومسائل پر احادیث صحیحہ کی روشنی میں بڑی    جامعیت   کے  ساتھ روشنی ڈالی ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ ناشر 4
مقدمہ مولف 5
صیام کاآیتیں 6
آیتوں کےفوائد 7
اسلام کےارکان 8
رمضان اورصیام کی فضیلت 9
صیام کےآداب 12
افطارکرنا،دعاپڑھنی اورسحری کھانا؍صیام کےفوائد 13
نفلی صیام کی فضیلت 15
وہ ایام جن میں صوم حرام ہے 17
وہ ایام جن میں صیام مکروہ ہے 18
وہ لوگ جن کیلئے افطارجائز ہے 20
صوم توڑنے والی چیزیں 21
وہ چیزیں جن سے صوم فاسد نہیں ہوتا 22
رمضان کاقیام 25
اعتکاف کی مشروعیت 26
صدقہ،فطرکاوجوب 29
عیدگاہ میں صلاۃِ عیدین 30
فوائد حدیث 30
مقبول دعا 32

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز