Categories
Islam اسلام سیرت سیرت النبی ﷺ نماز

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم

سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم

 

مصنف : وحید الدین خاں

 

صفحات: 174

 

رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے موضوع پر سادہ انداز میں واقعاتی حقائق پر مبنی یہ کتاب اگرچہ حوالہ جات سے مبرا ہے لیکن سلیس اور عام فہم ہونے کی وجہ سے عوام کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔ حدیث کے اجزاء میں سے ایک جز سیرت کا علم بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق و فضائل، تبلیغ، عادات و خصائل، غزوات و وفود وغیرہ جیسے جملہ موضوعات کا احاطہ کرتی ایک اچھی تصنیف ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
آغاز کلام 7
ابتدائی حالات 11
رسول اللہ ﷺ کی بعثت 20
مکہ میں تبلیغ 24
مخالفانہ ردعمل 28
دعوتی واقعات 31
قبول اسلام 41
تبلیغ عام 45
آخری کوشش 50
ہجرت حبشہ 57
آپ ﷺ کا بائیکاٹ 61
ابو طالب کی وفات کے بعد 67
مدینہ میں اسلام کا آغاز 73
مدینہ کی طرف ہجرت 79
مدینہ میں داخلہ 84
مسجد کی تعمیر 90
مواخاۃ 92
معاہدہ مدینہ 96
مہاجرین کے دستے 98
ہجرت کے بعد 102
غزوہ بدر اولٰی 104
غزوہ بدر ثانیہ 106
غزوہ قرقرۃ الکدر 114
غزوہ بنی قینقاع 115
غزوہ سویق 116
نکاح سیدہ فاطمہ 116
غزوہ غطفان 117
غزوہ نجران 118
غزوہ احد 118
غزوہ حمراء الاسد 124
سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد 126
واقعہ رجیع 126
سریۃ القراء یعنی قصہ بئر معونہ 127
غزوہ بنی نضیر 128
غزوہ ذات الرقاع 129
غزوہ بدر موعد 129
غزوہ دومۃ الجندل 130
غزوہ مریسیع یا بنی المصطلق 130
واقعہ افک 131
غزوہ خندق یا غزوہ احزاب 132
غزوہ بنی قریظہ 134
سریہ محمد بن مسلمہ انصاری 135
غزوہ بنی لحیان 136
غزوہ ذی قرد 136
سریہ عکاشہ بن محصن 137
سریہ محمد بن سلمہ 137
سریہ ابو عبیدہ بن الجراح 137
سریہ جموم 138
سریہ عیص 138
سریہ طرف 139
سریہ حمٰی 139
سریہ وادی القری 139
سریہ دومۃ الجندل 140
سریہ فدک 140
سریہ ام قرفہ 141
سریہ عبداللہ بن رواحہ 141
سریہ کرز بن جابر الفہری 142
بعث عمر بن امیہ ضمری 142
واقعہ حدیبیہ 143
سرداروں کا قبول اسلام 146
شاہان عالم کے نام خطوط 146
قیصر روم کے نام خط 148
خسرو پرویز کے نام خط 149
غزوہ خیبر 150
غزوہ  موتہ 151
سریہ عمر بن العاص 152
فتح مکہ 153
غزوہ  حنین ، اوطاس اور طائف 160
طائف کا محاصرہ 161
سریہ عینیہ 163
بعث ولید بن عقبہ 164
غزوہ تبوک 165
ابوبکر صدیق کی قیادت میں سفر حج 167
عام الوفود 168
حجۃ الوداع 169
جبریل امین کی آمد 171
سریہ اسامہ بن زید 171
آخری وقت 172
بیماری کی ابتداء 172
رسول اللہ ﷺ کی آخری نماز جماعت اور حضرت ابو بکر ؓ کو امامت کا حکم 173
وفات 173
صحابہ ؓ میں اضطراب 174

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.5 Mb ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انکار حدیث تاریخ تاریخ اسلام سنت کتب حدیث

رسالہ عمل بالحدیث

رسالہ عمل بالحدیث

 

مصنف : ولایت علی صادق پوری

 

صفحات: 38

 

فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب”رسالہ عمل بالحدیث” محترم مولانا ولایت علی صادق پوری صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے حدیث پر عمل کرنے کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریب 3
مختصر سوانح حیات مولانا ولایت علی  4
مسلک حدیث ترجمہ رسالہ با لحدیث 11

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت النبی ﷺ

رسول اللہ ﷺ کی حکمرانی وجانشینی

رسول اللہ ﷺ کی حکمرانی وجانشینی

 

مصنف : ڈاکٹر محمد حمید اللہ

 

صفحات: 211

 

زیرِ نظر کتاب معروف اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی کتاب ’’The Prophet’s Establishing A State & His Succession‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اسے اردو قالب میں پروفیسر خالد پرویز نے منتقل کیا ہے۔ کتاب میں کل گیارہ مضامین کو زیر بحث لایا گیا ہے جو در حقیقت نبی کریم ﷺ کی حکمرانی و جانشینی کے نمایاں پہلو ہیں۔ اس کے دو مضامین ’’اسلامی سلطنت کی تنظیم‘‘ اور ’’دنیا کا پہلا تحریری دستور‘‘ ایسے ہیں جنہیں ڈاکٹر موصوف نے انگریزی واردو دونوں زبانوں میں تحریر کیا ہے۔ چنانچہ ان کا ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ ویسے ہی نقل کئے گئے ہیں۔ کتاب کے آخری مضمون ’’حضرت علی المرتضیٰؓ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ کی ایک اور انگریزی کتاب میں شامل تھا جسے موضوع کی مناسبت سے مترجم کی طرف کتاب ھذا میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ مصنف کا نقطۂ نظر قاری تک مکمل شکل میں پہنچ سکے۔ کتاب کے مضامین کی ترتیب میں اسلام میں آئینی مسائل، دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور، پہلے تحریری دستور کی دفعات، اسلام میں ریاست کا تصور، اسلامی سلطنت کی تنظیم (قرآن کے آئینے میں)، مسلم مملکت میں مالیاتی نظم و نسق، رسول اللہ کے دور میں بجٹ سازی اور ٹیکسیشن، رسول اللہ بحیثیت سیاسی مدبر، جنگ جمل اور صفین کے پس پردہ یہودی ہاتھ، رسول اللہ کی طرف سے بستر وصال پر وصیت لکھوانے کا قصہ اور حضرت علی المرتضیٰ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟ جیسے عنادین شامل ہیں۔ یہ کتاب رسول اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک شاہکار ہے۔ جزاہ اللہ امن الجزاء۔
 

عناوین صفحہ نمبر
اسلام میں آئینی مسائل 9
دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور 44
پہلے تحریری دستور کی دفعات 60
اسلام میں ریاست کا تصور 66
اسلامی سلطنت کی تنظیم (قرآن کے آئینے میں) 96
مسلم مملکت میں مالیاتی نظم ونسق 123
رسول اللہ صلی  اللہ علیہ و سلم کے دور میں بجٹ سازی اور ٹیکسیشن 134
رسول اللہ ﷺ بحثیت سیاسی مدبر 147
جنگ جمل اور صفین کے پس پردہ یہودی ہاتھ 151
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بستر وصال پر وصیت لکھوانے کا قصہ 172
حضرت علی المرتضیٰ ؓپہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟ 194

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سنت علماء قربانی

قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ

قربانی کی شرعی حیثیت اور پرویزی دلائل پر تبصرہ

 

مصنف : محمد ابراہیم کمیرپوری

 

صفحات: 42

 

عید الاضحٰی کے موقع پر قربانی کے جانور کا خون بہانا ایک عمل مشروع، ابراہیمی سنت اور اسلام کا شعار ہے، جس پر ہر مسلک کے تمام علماء کا چودہ صدیوں سے اتفاق چلا آ رہا ہے۔ جزوی مسائل میں اختلاف ضرور ہوا ہے، لیکن کبھی قربانی کے مشروع ہونے نہ ہونے کا سوال نہیں اٹھا۔ حتٰی کہ برصغیر میں منکرین حدیث گروہ کی سربر آور شخصیت جناب غلام احمد پرویز صاحب کی طرف سے قربانی کو غیر مشروع، غیر اسلامی بلکہ مشرکین کی رسم اور فضول خرچی قرار دیا گیا اور عوام الناس کو اس “شرک و گناہ” سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ اور اب حالت یہ ہے کہ اس سنت ابراہیمی کے خلاف دجل و فریب کی اشاعت پر لٹریچر کی اشاعت کو اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں پرویز صاحب سمیت جملہ منکرین حدیث کے تمام دلائل کا علمی اور منطقی انداز میں جائزہ لیا گیا ہے جو انہوں نے اپنی کتابوں میں قربانی کے خلاف پیش کئے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر :: 5
اسلام کی چودہ صد سالہ تاریخ قربانی پر شاہد ہے :: 7
پہلی نظر ( فروعی اختلافات میں الجھ کردشمنان دین کو نہ بھو لیں ) :: 8
مشروعیت ( قربانی ) کی سب سے بڑی دلیل :: 10
علم اسماء رجال کی وسعت :: 12
علماء سلف کی مساعی :: 13
(حدیث کو عجمی سازش قرار دینا ) نادانی کی انتہاء :: 13
(مسٹر پرویز کی ) اسلامی نظام پر بے اعتمادی :: 15
مسٹر پرویز کی عبارات میں سے چند اقتباسات :: 16
معذرت :: 19
(پرویزی نظریات پر ) تنقدی گزراشات :: 19
غور فرمائیے ( یا ابت افعل ما تومر ) :: 21
(مسٹر پرویز کی ) قرآن دانی کا ماتم :: 21
ذبح عظیم سے مراد :: 23
بین الاقوامی ضیافت ( قیام عرفات کا مقصد قرآنی اور پرویز ی نظر یہ ) :: 25
دور حریت کے بعد ملوکیت :: 27
پرویزی تشخیص :: 27
( پرویز ی خیالات کو مان لینے کے ) لازمی نتائج :: 29
مسٹر پرویز سے ایک مطالبہ :: 30
موجودہ دور میں حجاج کی قربانی :: 31
پرویز کا اپنا اعتراف :: 32
حاصل کلام :: 34
بحث کے دوسرے پہلو :: 34
اقتصادی نقط نگاہ :: 35
قربانی اور جانوروں کی قلت کا بہانہ :: 36
یہ بھی یاد رہے :: 37
چند ضروری مسائل :: 38

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 3
1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam انکار حدیث عبادات گوشہ نسواں مضامین قرآن معاملات موضوعات و مضامین قرآن نماز نماز جمعہ

قرآن اور عورت

قرآن اور عورت

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی

 

صفحات: 470

 

برصغیر میں فتنہ انکار حدیث برسوں سے چلا آرہا ہے۔ بہت سے علمائے حق میں ابطال باطل کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے اس فتنہ کی سرکوبی میں پیش پیش رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب بھی ایک ایسے مرد مجاہد کی علمی کاوش ہے جو اس فتنے کی جڑیں کاٹنے کے لیے میدان عمل میں اترا ہوا ہے۔ڈاکٹر پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی کی  یہ کتاب غلام احمد پرویز کے شاگرد عمر احمد عثمانی کی کتاب ’فقہ القرآن‘ کا جائزہ لیتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ مصنف نے عام فہم انداز میں مد مقابل محقق کے پورے خیالات بھی اپنی کتاب میں شائع کیے ہیں اور ان پر خالص علمی انداز میں تنقید کا حق بھی ادا کیا ہے۔ کتاب کے 11 ابواب میں خواتین سے متعلقہ تقریباً تمام مسائل کی روشنی میں تفصیلی وضاحت کر دی گئی ہے جس میں عورت کا دائرہ کار، عورت کے فرائض و واجبات اورعورت اور مخلوط سوسائٹی سے متعلق تمام اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے قرآن کریم کی روشنی میں شہادت نسواں کی بھی تفصیلی وضاحت موجود ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 15
باب 1
عائلی زندگی اور منصب قوامیت 23
سربراہ خانہ 23
قوام کا ترجمہ 24
مردکی افضلیت کی بحث 25
کفروایمان کی کشمکش 27
قوامیت و قنوت کے لوازمات 29
مفہوم قنوت 29
آیت43:4کامخاطب کون ؟ 33
پلندۂ تضادات 36
اوراب یہ بھی ! 37
باب 2
عورت کا دائرہ کار 39
فطری تقسیم کار 40
ماحول اور فطری صلاحیتوں میں تطابق و توافق 41
حیات نسواں کے مراحل اربعہ 41
خواتین کے مراحل ثلاثہ کی تکالیف 42
زمانہ حمل کی تکالیف 43
تکالیف وضع حمل 45
وضع حمل کے بعد کی تکالیف 45
تکالیف درزمانہ رضاعت 46
حیض کے عوارضات 47
نتیجہ بحث 47
گھر، عورت کا فطری میدان عمل 49
باب 3
عورت کے فرائض و واجبات 53
پہلافرض……اطاعت شوہر 54
دوسرا فرض…..حفاظت 55
پہلی فصل
شوہر سے متعلقہ اشیاوامور کی حفاظت 55
نسب شوہر کی حفاظت 55
شوہر کے رازوں کی حفاظت 57
عیوب شوہر کی پردہ پوشی 58
شوہرکے دیگر حقوق کی حفاظت 59
دوسری فصل
گھراور اشیائے خانہ کی حفاظت 61
اثاث البیت کی حفاظت 61
گھر کی صفائی ستھرائی 61
گھرکی تزئین و آرائش 62
اسراف وتبذیرسے اجتناب 63
تیسری فصل
بچوں کی حفاظت،تربیت اور پرورش 64
بچے کی ذات پر توجہ 68
جسمانی صحت کی طرف توجہ 68
ذہنی صحت کی طرف توجہ 69
بچے کی شخصیت کی نشوونما 70
جذباتی نشوونما 71
حسی نشوونما 73
بول چال کی نشوونما 75
جنسی نشوونما 76
مغرب او رجنسی نشوونما 76
سکنڈے نیوین ممالک 77
ڈنمارک 77
’’یہ بی بی سی لندن ہے‘‘ 78
یہ جنسی تعلیم کدھر لیے جارہی ہے 79
جنسی پہلواور مشرقی ماحول 81
معاشرتی نشوونما 83
چندہنگامی  مسائل کا حل 84
بچے کا دودھ چھڑانا 85
بستر خراب کرنا 86
بچے کا تتلانا اور ہلکلانا 88
بچوں کی چند اخلاقی ناشایستہ حرکات 89
بچہ اور سزا 90
بچوں کی ضد 91
بچوں میں غصہ 92
بچوں میں خوف 92
جھوٹ کی عادت 93
دوسرا بچہ بحیثیت شریک 95
باب 4
حجابِ نسواں 101
احکام سورۂ نور 106
الاماظھرکا استثنا 107
آیت سورۃ احزاب 109
قابل غور بات 114
قرآن اور جدید کلچر 114
آیتِ حجاب 115
آیت جلباب 121
تصریحات علما 124
پردہ، زمانۂ نزول قرآن میں 126
عثمانی صاحب اور سترِ و خوہ 131
اور ہمارے یہ متجددین 132
باب5
عورت اور مخلوط سوسائٹی 135
پہلی فصل
مشترکہ اور مخلوط محافل 136
اختلاط صنفین کے دلائل 138
پہلی دلیل 138
دوسری دلیل 139
قرآن اور مخلوط معاشرت 141
دوسری فصل
اجتماعی عبادات اور مخلوط مجالس 142
نماز میں اختلاط صنفین کی حقیقت 143
1۔نماز پنجگانہ اور مخلوط مجالس 143
خواتین کے لیے دخول مسجد کی شرائط 144
2۔نماز جمعہ اور مخلوط مجالس 147
فرضیت نماز جمعہ کی بحث 148
آمدم برسر مطلب 153
3۔نماز عیدین اور ’’مخلوط اجتماعات‘‘ 153
حج اور مخلوط مجالس 157
نتیجہ بحث 159
زنانہ مساجد اور امامت نسواں 160
امامت نسواں 162
کیا عورت مردوں کی بھی امام بن سکتی ہے؟ 163
دلائل فقہا 164
تیسری فصل
اجتماعِ رجال اور خطاب نسواں 165
خطاب بلقیس پرقرآن کی عدم نکیر 166
حالات امم سابقہ سے احتجاج 167
چوتھی فصل
گھرسے باہر نکلتے وقت عورت کے لیے اجازت کی ضرورت 171
گھر سے باہر نکلنے کی اجازت 171
سفرمیں محرم کی رفاقت 174
پانچویں فصل
عورت اور میدان حرب وقتال 177
ضعف نسواں اور قوت مرداں 178
خواتین عہدنبوی 179
چھٹی فصل
مخلوط تعلیم 185
مخلوط تعلیم اور عثمانی صاحب 185
عثمانی صاحب کی اصل الجھن 186
مخلوط تعلیم اور عقلی دلائل 186
قلت وسائل کا بہانہ 187
افرادی وسائل کی قلت کا مسئلہ 188
مالی وسائل کی قلت کامسئلہ 189
جواب دلیل ثانی 189
مخلوط تعلیم کے اثرات و نتائج 190
آرایش وزیبایش پرمسرفانہ اخراجات 191
جنسی امراض  کا پھیلاؤ 192
تعلیمی ماحول پر شہوانیت کا غلبہ 192
ایک خوش فہمی 193
خواتین یونیورسٹی،ناگزیرضرورت 193
جامعہ خواتین،خلاف زمانہ قدیم؟ 194
باب6
شہادت نسواں قرآن کریم کی روشنی میں 197
پہلادرجہ:زنا اور بدکاری 198
دوسرادرجہ:بدکاری کے علاوہ دوسرے حدود و قصاص 198
تیسرادرجہ:نکاح وطلاق کے مقدمات اور دیگر مالی مقدمات 199
چوتھادرجہ:عورتوں کے مخصوص معاملات کے متعلق کوئی امر ہوتواس میں تنہاعورت کی شہادت قبول 199
سورہ بقرہ کی آیت 282کی وضاحت 204
عورت کی ذہنی منقصت 210
علمائے مغرب کی تحقیقی شہادت 211
پیروی اسلاف یاتقلیدمغرب 215
ایک قرآنی شہادت 219
جدید تحقیق 221
اندھی تقلید کے کرشمے 222
محاسن ومعائب ہرصنف بشرمیں 223
فطری نشوونما فطری دائرہ کارمیں 224
نگۂ بازگشت 225
مسئلہ شہادت نسواں اور پرویز وعثمانی صاحب کے دلائل 226
انقضائے عدت کی صورت میں گواہی 228
زناکے سلسلے میں حکم شہادت 228
اموال یتامیٰ کی واپسی سے متعلق حکم 229
قذف کے متعلق حکم شہادت 229
حکم شہادت بسلسلہ وصیت 230
وصیت میں شک وشبہ کی صورت میں 231
شہادت لعان کا حکم 231
پرویز صاحب اورعثمانی صاحب کے دعاوی کا تفصیلی جواب 232
مذکر کے صیغے 236
اہمیت شہادت کا تقاضا 239
’’ان تضل‘‘کی علت 240
شہادت اور اولین قرآنی معاشرہ 241
حلف لعان اور مساوات 242
ا:بیان لعان شہادت یا حلف ؟ 242
ب:شہادت اور حلف میں فرق 243
ج:حلف لعان میں مساوات کیوں ؟ 244
عورت اور مرد، معزز ومحترم 247
عورت کے ترک خانہ کے مفاسد 249
ان مفاسد کی جڑکیاہے ؟ 251
عثمانی وپرویز کی ایک اور غلط روی 252
خبروشہادت کا فرق 252
علوی دورکی نظیر اوراس کی حقیقت 253
نظیردورفاروقی کی حقیقت 253
قتل عثمان اور شہادت نسواں 254
خواتین عہدنبوی اور حرب وقتال 258
مسئلہ شہادت نسواں کا خلاصہ 259
اعتراف حقیقت 260

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انکار حدیث تاریخ تاریخ اسلام سنت منکرین حدیث متجددین اور استخفاف حدیث نبوت

قول فیصل

قول فیصل

 

مصنف : محمد طیب محمدی

 

صفحات: 130

 

فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔ زیر تبصرہ کتاب” قول فیصل”محترم مولانا محمد طیب مدنی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں  نے منکرین حدیث مدھو پور کے انکار حدیث پر مبنی کتابچے” ایمان وعمل ومخزن علم وبصیرت” کا مسکت جواب دیا ہے اورمستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے  اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
زیر نظر کتاب کے بارے میں 4
پیش لفظ 5
کیا قرآن میں سب کچھ ہے 11
منصب نبوت اور اطاعت رسول 14
اقسام وحی 24
وحی کی پہلی قسم 25
وحی کی دوسری  قسم 27
وحی کی تیسری  قسم 28
حدیث وحی الہٰی و منزل من اللہ ہے 30
قرآن مجید اور لوح محفوظ دونوں الگ الگ کتابیں ہیں 35
کیا قرش بت پرست تھے 38
نماز کیسے پڑھیں 52
تخلیق آدم اور قرآن مجید 69
عین حقیقت 75
روح اور عذاب قبر 94
پہلا دور موت ہے 100
دوسرا دور دنیوی زندگی 101
تیسرا دور عالم برزخ 102
چوتھا دور اخروی زندگی 118
حرف آخر 120

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انکار حدیث دار الافتاء علماء منکرین حدیث متجددین اور استخفاف حدیث

پرویز کے بارے میں علماء کا متفقہ فتویٰ مع اضافات جدیدہ

پرویز کے بارے میں علماء کا متفقہ فتویٰ مع اضافات جدیدہ

 

مصنف : نا معلوم

 

صفحات: 257

 

عصر حاضر کے فتنوں میں سے جو فتنہ اس وقت اہل اسلام میں سب سے زیادہ خطرناک حد تک پھیل رہا ہے وہ انکار حدیث کا فتنہ ہے۔ اس کے پھیلنے کی چند وجوہات عام ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے روافض کی مانند تقیہ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یہ براہ راست حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ خود کو اہل قرآن یا قرآنی تعلیمات کے معلم کہلاتے ہوئے اپنے لٹریچر میں قرآن ہی پر اپنے دلائل کا انحصار کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین کو یہ ذہن نشین کرانے کی سعی کرتے ہیں کہ ہدایت کے لئے تشریح کے لئے ‘ تفسیر کے لئے ، سمجھنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں۔قرآنی تعلیمات کے یہ معلم اپنے لیکچرز اور لٹریچر میں  کسی دوسری کتاب کی تفصیل اور گہرائی میں نہیں جاتے لیکن وہ چند مخصوص قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین و قارئین کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہدکرتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ پائی جانے والی دیگر کتب اختلافات سےمحفوظ نہیں جبکہ قرآن میں کوئی بھی کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قرآن ہی منزل من اللہ ہے چونکہ دوسری کتابوں میں روایات میں ، اسناد میں اور متون اقوال میں اختلافات بکثرت ہیں لہذا یہ دوسری کتابیں نہ تو منزل من اللہ ہیں نہ مثل قرآن ہیں نہ ہی اس لائق ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور ان کی روایات پر عمل کیا جائے۔ تحریف قرآن وانکار حدیث کےداعی مسٹر  غلام احمد پرویز صاحب ہیں، جن کی گمراہی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب” پرویز کے بارے میں علماء کا متفقہ فتوی مع اضافات جدیدہ “مدرسہ عربیہ اسلامیہ ، نیو ٹاؤن کراچی کے شعبہ تصنیف کی کاوش ہے، جس میں غلام احمد پرویز کے بارے میں علماء کرام کے فتاوی کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

Categories
Islam اسلام انکار حدیث نبوت

پرویز اور قرآن المسمی بہ احتساب پرویزیت

پرویز اور قرآن المسمی بہ احتساب پرویزیت

 

مصنف : مفتی مد رار اللہ مد رار نقشبندی

 

صفحات: 831

 

عصر حاضر کے فتنوں میں سے جو فتنہ اس وقت اہل اسلام میں سب سے زیادہ خطرناک حد تک پھیل رہا ہے وہ انکار حدیث کا فتنہ ہے۔ اس کے پھیلنے کی چند وجوہات عام ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے روافض کی مانند تقیہ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یہ براہ راست حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ خود کو اہل قرآن یا قرآنی تعلیمات کے معلم کہلاتے ہوئے اپنے لٹریچر میں قرآن ہی پر اپنے دلائل کا انحصار کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین کو یہ ذہن نشین کرانے کی سعی کرتے ہیں کہ ہدایت کے لئے تشریح کے لئے ‘ تفسیر کے لئے ، سمجھنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں۔قرآنی تعلیمات کے یہ معلم اپنے لیکچرز اور لٹریچر میں ” کسی دوسری کتاب کی تفصیل اور گہرائی میں نہیں جاتے لیکن وہ چند مخصوص قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین و قارئین کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہدکرتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ پائی جانے والی دیگر کتب اختلافات سےمحفوظ نہیں جبکہ قرآن میں کوئی بھی کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قرآن ہی منزل من اللہ ہے چونکہ دوسری کتابوں میں روایات میں ، اسناد میں اور متون اقوال میں اختلافات بکثرت ہیں لہذا یہ دوسری کتابیں نہ تو منزل من اللہ ہیں نہ مثل قرآن ہیں نہ ہی اس لائق ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور ان کی روایات پر عمل کیا جائے۔ انکار حدیث کے موجودہ داعیوں نے اپنے پیش رو حضرات عنایت اللہ مشرقی، عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز و غیرہم ہی کے نظریات کا پرچار اور ان ہی کی فکر کو عام کرنے کے لئے ان کا نام لئے بغیر قرآنی ریسرچ کے نام سے اس وقت مختلف ادارے اور مشن قائم کررکھے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب”پرویز اور قرآن المسمی بہ احتساب پرویزیت”علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار تقشبندی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فتنہ انکار حدیث کے ایک سرخیل غلام احمد پرویز کے عقائد ونظریات کا مدلل رد کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حمدباری تعالی جل جلالہ ……………………مولنا مدرار اللہ مدرار نقشبندی 2
حضور رحمت دوعالم ﷺ………………….مولنامدرار اللہ مدارار نقشبندی 6
کلمات ابتدائیہ ……………..قائدشریعت رہبر ملت حضرت مولنا عبدالحق 9
اظہار شکر وسپاس …………..مولانا مدرار اللہ مدرار نقشبندی 11
دیباچہ طبع سوم ……………..اکرام اللہ شاہد ابن مدرار 13
دیباچہ طبع ثانی …………مولنا مدرار اللہ مدرارر نقشبدی 45
پیغام ………..مولانا عبدالباقی 45
تقریظ ………..شیخ الحدیث مولنا حافظ حسن جان شہید 47
پیش لفظ ……..ترجمان قرآن وسنت مولا نا قاضی زاہد الحسینی 50
مقدمہ ……مولنا مدرارر اللہ مدرار نقشبندی 58
(باب اول )تکفیر مسلم کامسئلہ او راسلام (ایک تحقیقی جائزہ ) 72
باب دوم )پرویز کے عقائد اور نظریات 104
باب سوم )آدم ،ابلیس او رجنات کاپرویز مفہوم 202
(باب چہار م )اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کاپرویزی مفہوم 223
(باب پنجم )ارکان اسلام پرویز کی نظر میں 252
(باب ششم )پرویز کی نظر میں احادیث وسنت نبوی کامقام 290
(باب ہفتم )ختم نبوت اور معجزات نبوی پرویز کی نظر میں 335
(باب ہشتم )انبیائے کرام ﷤ کے معجزات کاانکار 367
(باب نہم )حضرت مریم وحصرت عیسی ؑ پرویز کی نظر میں 421
باب دہم )قرآن کامعاشی نظام اور کمیونز (ایک تقیدی جائز ہ) 464
حصہ دوم
ممتاز علمی جرائد ہ اخبارات کےتبصرے 491
اکابر ملک وملت کے مکتوبات 503
حصہ سوم
پرویز اور قرآن کی تقریب رونمائی کی روئیداد 511
مقالات کے اقتباسات 512
حصہ چہارم
تحریرہ تحقیق :اکرام اللہ شاہد ابن مدرار 527
ضمیمہ جات
ضمیمہ نمبر 1۔برصغیر کے منکرین حدیث پر ایک نظر 528
ضمیمہ نمبر 2۔پرویز اور مقدمہ مرزائیہ بہاولپور 604
ضمیمہ نمبر 3۔قومی اسمبلی کاقادیانیت کے خلافت تاریخی فیصلہ 675
ضمیمہ نمبر 4۔پرویز اور قائداعظم کے باہمی مراسم 691
ضمیمہ نمبر 5۔مجلہ طلوع اسلام کے اجرا کی کہانی سیدنذیر نیازی کی زبانی 716
ضمیمہ نمبر 6۔مسئلہ جہاں بعض نمازوں کےاوقات نہ آتے ہوں 723
ضمیمہ نمبر 7۔خلامیں اقامت صلوۃ کامسئلہ اور طریقہ 725
ضمیمہ نمبر 8۔پرویز کے خلاف عالم اسلا م کےفتاوی کی تلخیص 734
ضمیمہ نمبر 9۔پرویز ی دجل کے اندرون وبیرون ملک مراکز کاجال 750
ضمیمہ نمبر 10۔سیرت کی کتابیں اور عجمی سازش 755
ضمیمہ نمبر 11۔غیر اسلامی عقائد سے رجوع کاطریقہ 755
ضمیمہ نمبر 12۔علامہ مفتی مدرار اللہ مدرار نقشبندی 772
کتابیات 793

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam پاکستان تعلیم و تربیت تہذیب روح عبادات

پاکستان میں تعلیم آغا خان کے حوالے

پاکستان میں تعلیم آغا خان کے حوالے

 

مصنف : مختلف اہل علم

 

صفحات: 87

 

تعلیم صرف تدریسِ عام کا ہی نام نہیں ہے ۔تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کےذریعہ ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس وشعور کونکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔یہ نئی نسل کی وہ تعلیم وتربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کاشعور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد وفرائض کا احساس پیداکرتی ہے ۔ تعلیم سے ہی ایک قوم اپنے ثقافتی وذہنی اور فکری ورثے کوآئندہ نسلوں تک پہنچاتی اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی وجسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کامقصد اونچے درجے کےایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جواچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمہ دارشہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں تعلیمی نظام کو غیروں کے ہاتھ دے کر تعلیم سے اسلامی روح کو نکال دیاگیا ہے ۔تہذیب واخلاق سےعاری طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے تعلیم کے نام پر بربادی کاکھیل کھیلا۔حکومت پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیکڑوں ملین ڈالر پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم رائج کرنے کےلیے آغاخاں بورڈ کو دئیے۔جن کےعقائدہندوانہ اور مشرکانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں تعلیم آغاخان کے حوالے ‘‘میں اسی بات کو اجاگر کیا گیا ہےکہ حکمرانوں کے تعلیمی نظام کو ہندو انہ اور مشرکانہ عقائد کے حامل لوگوں کے حوالے کرنے اور نصاب تعلیم میں اسلامیات کو نکالنے کا کیا پس منظر اور مقاصد تھے اور اس کے ہماری پاکستانی قوم پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
انتساب 3
ابتدائیہ 4
سیکولر ازم مقاصد و اہداف 9
نظریہ پاکستان سے عاری تعلیم خود پاکستان کی نفی ہے 17
تعلیم کے نام پر بربادی کا کھیل 26
آغا خان فاؤنڈیشن کے ثقافتی ، تعلیمی اور معاشی منصوبے یا ۔۔۔؟ 35
آغا خان امتحانی بورڈ ایک استعماری ایجنڈا 44
آغا خانی اپنے عقائد کے آئینے میں 65
اسلامی عبادات کی توہین 73
نجی بورڈ کے قیام کے مضمرات 81

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان رشد علماء عورت کی سربراہی گوشہ نسواں محدثین

عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

 

مصنف : فضل الرحمان بن محمد

 

صفحات: 450

 

کتاب وسنت  کے دلائل کی رو سے امور حکومت کی نظامت مرد کی ذمہ داری ہے اور حکومتی و معاشرتی ذمہ داریوں سے ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد ہی عہدہ برآں ہو سکتاہے۔کیونکہ عورتوں کی کچھ طبعی کمزوریاں ہیں اور شرعی حدود ہیں جن کی وجہ سے نا تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ مجالس و تقاریب  میں حاضر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی سکیورٹی اور پروٹوکول کی مجبوریوں کے پیش نظر ہمہ وقت اجنبی مردوں  سے اختلاط کر سکتی ہیں ،فطرتی عقلی کمزوری بھی عورت کی حکمرانی میں رکاوٹ ہے کہ امور سلطنت کے نظام کار کے لیے ایک عالی دماغ اور پختہ سوچ کا حامل حاکم ہونا لازم ہے ۔ان اسباب کے پیش نظر عورت کی حکمرانی قطعاً درست نہیں بلکہ حدیث نبوی ﷺ کی رو سے اگر کوئی عورت کسی  ملک کی حکمران بن جائے تو یہ اسکی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہو گی ۔زیر نظر کتاب میں کتاب وسنت کے دلائل ،تعامل صحابہ  اور محدثین وشارحین کے اقوال سے فاضل مولف نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے اور دلائل شرعیہ  کی  رو سے  عورت کبھی حکمران نہیں بن سکتی ۔پھر معترضین کے اعتراضات اور حیلہ سازیوں کا بالتفصیل رد کیا ہے  اور عورت کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کے لیے فتنہ پرور مستشرقین کی فتنہ سامانیوں کو احسن انداز سے طشت ازبام کیا ہے ۔کتاب انتہائی مدلل ہے اور اپنے موضوع کی کما حقہ ترجمانی کرتی ہے ۔نیز دلائل و براہین کا ایسا انبار ہے جو افتراء پرداز علماء و نام نہاد مغربی طفیلیوں کے مصنوعی حیلوں کو خس و خاشاک کی طرح بہاتا چلا جاتا ہے ۔اس کتاب کی تالیف پر مولف حفظہ اللہ  داد کے مستحق ہیں اور موجودہ دور میں جب سارا معاشرہ ہی عورت کی حکمرانی کا قائل دکھائی دیتا ہے ۔پھر حکومتی سطح پر قومی و صوبائی پارلیمان میں عورتوں کی وزارتوں کا کوٹہ بڑھا  دینے اور الیکشن میں عورتوں کی مزید حوصلہ افزائی کی وجہ سے  اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔اسے گھر گھر پہنچانا مبلغین و اہل ثروت کی ذمہ داری ہے ۔
 

عناوین صفحہ نمبر
تمہیدی کلمات 19
ڈاکٹر اسرار صاحب کا عجیب مؤقف 25
ہر مسلمان کا فریضہ 25
مرد عورتوں پر حاکم ہیں 27
عورت کی امامت 29
شیعہ کتب میں عورت کی امامت 31
کیا عورت مردوں کی امام بن سکتی ہے 32
اُم ورقہ کی امامت 34
ڈاکٹر احمد حسن کا استفسار 36
محترم ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نوٹ 37
محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے نوٹ کا تجزیہ 38
عورت کانکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا 46
کیا وراثت میں مرد اور عورت برابر ہیں؟ 47
کیا شہادت میں مرد اورعورت برابر ہیں؟ 48
منطقی نتیجہ 48
اہم سوال و حضرت عائشہ کی قیادت 49
رضیہ سلطانہ کی حکمرانی 52
ملکہ یمن بلقیس کا واقعہ 54
محترمہ فاطمہ جناح کا الیکشن اور مولانا مودودی کا ان کی حمایت کرنا 57
مولانا مودودی کا اپنا عقیدہ 59
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کا فرمان 63
پروفیسر محمد اسلم صاحب کا استدلال 63
جناب پروفیسر محمد اسلم صاحب کی بحث کا خلاصہ 65
فلاح سے کیا مراد ہے؟ 65
پوران دخت کےساتھ فلاح والی حدیث کو خاص کرنا 72
ائمہ تفسیر کامتفقہ فیصلہ 75
ایک اور سوال 75
قرآنی رہنمائی 76
مسلم خواتین کی سربراہی 77
نواب صدیق الحسن کا تفسیری فتویٰ 78
صحیح بات 79
پروفیسر رفیع اللہ شہاب کی تحقیق 80
اسلامی تعلیمات کو بازیچہ اطفال نہ بنایا جائے 80
اسلام میں عورت کی سربراہی کے موضوع پرایک انقلاب آفرین کتاب 85
پاکستان ٹائمز میں چھپنے والے دو مضمون 88
انقلاب آفرین کتاب ’’عورت اور مسئلہ امارت‘‘ 92
عورت کاناقص العقل اور ناقص الدین ہونا 93
عورت کے بارے میں غلط بیانی 95
عورت کاٹیڑھی پسلی سے پیدا ہونا 97
عورت کے قاتل کو قصاص میں قتل کرنا 100
عورت کی دیت 101
عجیب بات 102
ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ 103
حدیث لن یفلح قوم ولوا امرھم امرأۃ کے بارے میں جناب رحمت اللہ طارق کا توہین آمیز و منکرانہ مؤقف 105
تباہی فارس کا پس منظر 107
تباہی فارس کسی خاتون کی قیادت کا نتیجہ نہیں تھی 108
عورت کی سربراہی کی حمایت کرنے والوں میں اختلاف 110
جناب رحمت اللہ طاق کے پیش کردہ پس منظر کا تجزیہ 111
لفظ ’’قوم‘‘ کی وضاحت 113
جناب رحمت اللہ طارق کی افسوسناک زیادتی 114
مضحکہ خیز تاویل 118
مصداق ہی غلط ہے 119
حضرت عائشہ کے خلاف گہری سازش 119
ابن حجر کا اضطراب 120
ہوا کا رُخ دیکھ کر 121
سیاسی احادیث کا اعتبار 123
اس حدیث کو حرمین شریفین والے نہیں جانتے تھے 124
یہ حدیث منقطع ہے 126
ایک مغالطہٰ 127
اس حدیث میں حدیث کا شائبہ 128
تدلیس کیا ہے؟ 128
حسن بصری کا سیاسی مذہب 130
ابن حجر کی مایوسی 132
جائزہ 135
جائزہ 136
جائزہ 137
تبصرہ 138
تھیاکریسی فلسفہ عورت کا سماجی رتبہ تسلیم نہیں کرتا 140
امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ 142
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا امتحان 145
علم کی عزت 149
امام بخاری کی وفات 151
صحیح بخاری 152
چھ لاکھ احادیث کی وضاحت 157
احادیث کی اہمیت 158
امام بخاری کے ہمعصر ائمہ کرام کی گواہی 160
جناب رحمت اللہ طارق کے اعتراضات 161
اعتراضات کا تجزیہ 163
اعتراضات کا جواب 164
حضرت ابوبکرہ ؓعنہ 165
اصل واقعہ 166
حضرت ابوبکرہ کا اسلام اور ان کا مقام 168
کتب احادیث میں حضرت ابوبکرہ کی روایات 169
جناب رحمت اللہ طارق کی نا سمجھی 174
حضرت ابوبکرہ پر حضرت عائشہ کی مخالفت کا غلط الزام 176
حضرت علی اور حضرت عائشہ کا مؤقف 183
حضرت عائشہ  کا پچھتاوا 183
اُم اللمؤمنین حضرت اُم سلمہ  کا ناصحانہ خط 186
اظہار ندامت 189
مضحکہ خیز تاویل کی حقیقت 194
کیا حضرت عائشہ نے کسی سے اپنی بیعت لی تھی؟ 197
حضرت عائشہ کا زید بن صوحان کے نام خط اور اُس کا جواب 199
جنگ جمل کے بعد حضرت علی کے بارے میں حضرت عائشہ کافرمان 200
تجزیہ 201
حضرت زبیر کی جنگ سے علیحدگی 202
حضرت عائشہ کے خلاف گہری سازش کی حقیقت 205
جمہوریت 206
جھوٹ اور دھوکہ 208
حضرت ابوبکرہ کا قتال سے الگ رہنے کی وجہ 213
صحابی اور عظیم محدث پربہتان 217
صحابہ کی عدالت 218
قانون شہادت 224
حضرت عائشہ پر تہمت 227
حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عائشہ کے واقعات میں فرق 236
حضرت عائشہ پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ نرمی 237
حضرت ابوبکرہ کی گواہی 242
حد ہی گناہ کا کفارہ ہوتی ہے 247
حضرت ابوبکرہ کی احادیث پر اعتراض اور اُن کا جواب 250
جنگ جمل میں حصہ لینے والے سب جنتی ہیں 259
عورت کی سربراہی کے بارے میں حدیث مشہور کیوں نہ تھی؟ 261
رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے بارے میں حدیث 263
خلافت کے بارے میں حدیث 264
حضرت عمر فاروق کا شام سے لوٹنا 266
مجوس سے جزیہ لینا 268
حضرت عائشہ سے حضرت ابوبکرہ کی ملاقات 269
مشہور نہ ہونے کی وجہ 270
حضرت حسن بصری 274
امام بخاری کی حدیث کو قبول کرنے کی شرط 275
حضرت حسن بصری کا محدثین کے نزدیک مرتبہ 278
تدلیس اور مرسل 284
لطیفہ 288
عوف بن ابی جمیلہ الاعرابی 289
عثمان بن الہیثم 294
معنعن 297
سارے راوی بصری ہیں 298
صحیح بخاری کے بارے میں حرف آخر 301
حمید الطویل 302
حافظ ابن حجر پربہتان 303
حمید الطویل کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال 304
مبارک بن فضالہ 308
دلچسپ پہلو 311
حماد بن سلمہ 311
محاسبہ 312
صریحا دھوکہ 317
حماد بن سلمہ کا تقویٰ 324
علی بن زید جدعان 325
بکاربن عبدالعزیز 328
محاسبہ 329
ایک اور زبردست دھوکہ 331
اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گرنا 335
محدثین اور ائمہ رجال کا طریق کار 338
تنقید سےمحفوظ اسناد 339
مختلف اسناد 341
امام حافظ الہیثمی المتوفی 807ھ کی تحقیق 345
عورت کی سربراہی کے تاریخی ثبوت کی حیثیت 346
ست الملک 346
محاسبہ 347
شجرۃ الدر 351
خلیفہ بغداد کا عورت کی حکمرانی کو ختم کرنا 353
رضیہ سلطانہ 356
ملکہ یمن 356
چاندبی بی 357
محاسبہ 358
رحمت اللہ طارق کی تاریخی غلطی 363
ترکمان خاتون 366
محاسبہ 367
ملکہ سبا کی سربراہی 373
وادی نمل کی ہوشیار ملکہ 375
جناب پرویز کے مفہوم القرآن کی ایک جھلک 375
ملکہ تدمرز نوبیا 382
محاسبہ …… جناب رفیع اللہ شہاب کی روشن خیالی 383
علمائے پاکستان کا کردار 384
حضرت علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 388
امام حافظ  ابن کثیر المتوفی 774ھ کا فرمان 389
امام ابوعبداللہ محمدبن احمد الانصاری القرطبی المتوفی 671ھ کا فرمان 390
الرجال قوامون علی النسآء 392
عورت علی الاطلاق قاضی نہیں ہوسکتی 393
علامہ ابن رشد کا فیصلہ 394
علامہ بدر الدین العینی کی تحقیق 396
ائمہ ثلاثہ کا فیصلہ 400
امام ابن ہمام کی وضاحت 402
جناب رفیع اللہ شہاب کا کذب عظیم 403
امام علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی587ھ 403
جناب رحمت اللہ طارق کی چابکدستی 405
محاسبہ 407
نتھوبھنگی 408
علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا فیصلہ 410
علامہ احمد عبدالرحمٰن البناساعاتی 411
علامہ ابوالعباس شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی المتوفی 923ھ 411
امام شمس الدین ابوعبداللہ الکرمانی المتوفی 786ھ 412
امام محمد بن علی بن محمد الشوکانی 412
علامہ عبدالرحمٰن مبارک پوری 413
امام عبدالوھاب بن احمد بن علی الشعرانی 414
امام ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المتوفی 620ھ 414
الاحکام السلطانیہ 416
امامت 417
محاسبہ 418
وزارت 419
عورت کے قاضی ہونے کی نفی 422
شیعہ کتب میں عہدہ قضا 424
امام نسائی کا فیصلہ 425
امام شمس الدین محمد بن ابی العباس احمد بن حمزہ ابن شہاب الدین الرملی المتوفی 1004ھ 426
محاسبہ 427
فقہائے مالکیہ پربہتان 429
محاسبہ 430
مواہب الجلیل لشرح مختصر خلیل 434
علامہ الشیخ محمد الشربینی الشافعی 436
اُم المؤمنین حضرت عائشہ کا فیصلہ 437
مصادر و مراجع 439

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز