Categories
Islam اصول حدیث رشد علماء فقہ فقہاء محدثین

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

 

مصنف : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

 

صفحات: 128

 

محترم قارئین کرام!اس وقت رُشد کا چوتھا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عصر حاضر میں علمی حلقوں میں اجتماعی اجتہاد کا کافی چرچا ہے اور راقم نے اس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پنجاب یونیورسٹی سے 2012ء میں مکمل کیا تھا۔ عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے مناہج اور اسالیب کیا ہوں گے؟ اس بارے اہل علم میں کافی ابحاث موجود ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اجتماعی اجتہاد، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ اجتماعی اجتہاد کا بہترین طریق کار شورائی اجتہاد ہے کہ جس میں علماء کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں ایک علمی رائے کا اظہار کیا جائے۔ اس مقالے میں اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نقطہ نظر کس حد تک کارآمد اور مفید ہے۔
دوسرا مقالہ ’’علم حدیث اور علم فقہ کا باہمی تعلق اور تقابل‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ علم حدیث اور علم فقہ دو مستقل علوم شمار ہوتے ہیں اور دونوں کی اپنی کتابیں، مصادر، موضوعات، مصطلحات، اصول، مقاصد، ماہرین فن، طبقات اور رجال کار ہیں۔ اس مقالہ میں بتلایا گیا ہے کہ علم حدیث کا مقصد روایت کی تحقیق ہے اور یہ محدثین کا میدان ہے اور علم فقہ کا مقصد روایت کا فہم ہے اور یہ فقہاء کا میدان ہے۔ روایت کی تحقیق میں اہل فن یعنی محدثین پر اعتماد کرنا چاہیے اور روایت کے فہم میں اہل فن یعنی فقہاء پر اعتماد کرنا چاہیے اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ جس طرح کسی محدث کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ فقیہ نہیں ہے، اسی طرح کسی فقیہ کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ محدث نہیں ہے۔ محدثین کسی روایت کے قطعی الثبوت یا ظنی الثبوت ہونے سے بحث کرتے ہیں اور فقہاء کسی روایت کے قطعی الدلالۃ یا ظنی الدلالۃ ہونے کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ تیسرا مقالہ ’’تحقیق حدیث میں عقلی درایتی اصولوں کا قیام: محدثین کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ حدیث کی تحقیق میں روایت اور درایت دو اہم اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ روایت کا تعلق سند اور درایت کا متن سے ہے۔ محدثین عظام نے حدیث کی تحقیق روایتاً اور درایتاً دونوں طرح سے کی ہے اگرچہ بعض معاصر اسکالرز کا یہ دعوی ہے کہ حدیث کی تحقیق روایتاً تو ہوئی ہے لیکن درایتاً نہیں ہوئی جبکہ مقالہ نگار کے نزدیک یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض معاصر اسکالرز حدیث کی تحقیق کے لیے جن درایتی اصولوں کو پیش کرتے ہیں وہ محدثین کے درایتی اصول نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک حدیث کے مردود ہونے کہ وجوہات وہی ہیں، جنہیں اصول حدیث کی کتابوں میں بیان کر دیا گیا ہے لیکن کسی حدیث کا خلاف قرآن یا خلاف عقل ہونا اس کے مردود ہونے کی وجہ تو نہیں البتہ علامات و قرائن میں سے ضرور ہے۔ پس ایسی احادیث جو کہ حدیث کی اُمہات الکتب میں نہ ہوں، اور وہ خلافِ قرآن ہوں یا خلافِ عقل ہوں تو وہ مردود ہوں گی لیکن ان کے مردود ہونے کہ وجہ ان کی سند کا مردود ہونا ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ معاصر درایتی فکر میں صحیح سند سے ثابت شدہ روایات یہاں تک کہ صحیحین کی روایات تک خلاف قرآن اور خلاف عقل ہونے کی وجہ سے مردود قرار پاتی ہیں لیکن ان کے خلاف قرآن ہونے سے مراد، روایت کا اسکالر کے فہم قرآن کے خلاف ہونا ہوتا ہے اور ان کے خلاف عقل سے مراد، تمام انسانوں کی عقل نہیں بلکہ اسکالر کی اپنی عقل کے خلاف ہونا ہوتا ہے لہٰذا اَمر واقعی یہی ہے کہ کوئی بھی ایسی حدیث کہ جسے محدثین نے صحیح قرار دیا ہو، کبھی بھی قرآن مجید یا عقل کے خلاف نہیں ہوتی ہے البتہ بعض ناقدین کو وہ خلاف قرآن یا خلاف عقل محسوس ہو سکتی ہے۔  چوتھا مقالہ ’’فقہاء اور ائمہ محدثین کا تصور اجماع: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ متقدمین اہل علم کے نزدیک الفاظ کی نسبت تصورات اور معانی کی زیادہ اہمیت تھی لہٰذا وہ کسی بھی تصور دین کی وضاحت میں اس کے لغوی معنی میں، عرفی معنی کو شامل کر کے اس کی وضاحت کر دیتے تھے لیکن متاخرین کا منہج یہ ہے کہ وہ منطق کے استعمال کے زیر اثر ہر مصطلح کی فنی تعریف کو جامع ومانع بنانے کے لیے شروط وقیود کے بیان میں پڑ جاتے ہیں اور پھر اس مصطلح کی درجن بھر تعریفات تیار کر کے ان میں سے ہر ایک پر اعتراضات کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی قائم کر دیتے ہیں۔ امام مالک ﷫ کا اجماع کا تصور یہ ہے کہ صحابہ کے زمانے سے اہل مدینہ کا جو عرف منقول چلا آ رہا ہے، وہ روایت ہونے کی وجہ سے حجت ہے جبکہ اہل مدینہ کے اجتہاد واستنباط کو امام مالک ﷫ اجماع کا درجہ نہیں دیتے ہیں۔ امام شافعی ﷫ کا کہنا یہ ہے کہ اجماع ضروریات دین میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات میں۔ اور امام صاحب کے نزدیک اجماعی مسائل سے مراد وہ مسائل ہیں کہ جن میں کسی عالم دین کا اختلاف کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ پانچ وقت کی نمازیں اور رمضان کے روزے وغیرہ۔ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری ﷭ کے نزدیک اجماع سے مراد اہل حق علماء کی جماعت کی معروف رائے ہے۔ اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ امام بخاری ﷫ کے نزدیک اجماع سے مراد منہج استدلال اور طریق استنباط میں اہل حق علماء کی عرفی رائے ہے۔  پانچواں مقالہ امریکی سیاہ فام مصنفہ اور سماجی کارکن بیل ہکس کی معروف کتاب ’’Feminism is for Everybody: Passionate Politics‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔ ہکس کی مذکورہ کتاب بنیادی طور پر ان مشکلات کے بیان پر مبنی ہے جن کا سامنا تحریک برائے حقوقِ نسواں، اس سے وابستہ خواتین، اور خصوصاً سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑا۔ ہکس کی کتاب اپنے موضوع پر صف اول کی بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے اور تحریک نسواں کے بنیادی خدوخال جاننے کے لیے ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب پر تبصرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک نسواں کی تحریک کا آغاز تو عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہوا تھا لیکن اب وہ مردوں سے نفرت کے اظہار کی ایک تحریک بن چکی ہے جو کہ ایک طرح کی انتہا پسندی ہی ہے۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ زبان شروحات حدیث علماء

شروح صحیح بخاری ( جدید ایڈیشن )

شروح صحیح بخاری ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : غزالہ حامد

 

صفحات: 178

 

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شروح صحیح بخاری‘‘ پنجاب یونورسٹی سے محترمہ غزالہ بٹ (ایم فل اسلامیات) کا مقالہ ہے۔ جس میں صحیح بخاری کی تقریبا دو سو سے زائد شروح کا سراغ لگا کر کام کیا گیا ہے۔ اس مقالے کا پہلا باب حدیث کی فضیلت واہمیت پر مبنی ہے۔دوسرےباب میں امام بخاری کی حالات زندگی کو بیان کیا ہے۔تیسرے باب میں صحیح بخاری کی افادیت کو بیان کیا ہے۔ چوتھے باب میں شروح صحیح بخاری کو بیان کیا ہے۔گویا کہ کے صاحب تالیف اور ان کے رفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک بینی سے سرانجام دیاہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

 

عناوین صفحہ نمبر
گزارش احوال واقعی 25
پہلا باب
تعارف حدیث 27
حدیث کی شرعی اہمیت 30
قرآن اورتمسک بالسنہ 30
سنت کی اہمیت زبان پیغمبرؐ میں 33
سنت کی اہمیت علمائےحدیث کےنزدیک 35
جمع وتدوین حدیث 35
عہدنبوی میں کتابت حدیث 35
تاریخی دستاویزات 37
عہدنبوت کےمکتوبہ صحیفے 38
صحیفہ سعدبن عبادہؓ 38
صحیفہ سمرہ بن جندبؓ 38
صحیفہ جابربن عبداللہؓ 39
الصیحفہ الصدیقہ 39
صحیفہ عبداللہ بن عباسؓ 39
صحیفہ ابوہریرہؓ ہمام بن منبہ کےلیے 39
عہدتابعین وتبع تابعین 40
حضرت قتادہؓ 40
امام زہری 40
محدثین کااہتمام 40
امام مالک 40
عبداللہ بن مبارک 41
امام وکیع 41
سفیان ثوری 41
امام احمدبن حنبل 41
امام بخاری 42
دوسراباب
امام بخاری کےحالات زندگی 43
نام ونسب 45
خاندان 46
ولادت 47
تربیت وتعلیم 50
شیوخ واساتذہ 50
محمدبن سلام بیکندی 50
عبداللہ بن محمدمسندی 50
ابراہیم بن الاشعث 50
طلب علم 52
علل حدیث کی شناخت میں کمال 54
جرح روات میں احتیاط 57
اخلاق وعادات 58
ذوق عبادت 60
اتباع سنت 61
سلاطین اورامراء کی مخالفت سےپرہیز 61
امام بخاری کی شہرت 62
حدیث مقلوب کی بحث 63
درس وافتا 64
وفات 66
تصانیف امام بخاری
الجامع الصحیح 69
التاریخ الکبیرفی تاریخ روات واخبارہم 69
التاریخ الصغیر 70
کتاب الخلق افعال العباد 71
کتاب الضعفاءالصغیر 71
کتاب الکنی 72
کتاب الادب المفرد 72
تنویرالعینین برفع الدین ف الصلوۃ 73
خیرالکلام فی القراءۃ خلف الامام 73

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اور سائنس تہذیب زبان کھیل

اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی

اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی

 

مصنف : اینڈریو لینگے

 

صفحات: 30

 

انسان نے اپنے صدیوں کے روزمرہ مشاہدات سے اور تجربات سے مندرجہ ذیل اصول اخذ کئے تھے۔کہ یہ کائنات سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے کچھ قوانین ہیں جو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہیں۔ ان قوانیں کو جان کر فطری قوتوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ان قوتوں سے حسبِ منشاء ضرورت کا کام لیا جا سکتا ہے۔آج ہم اِن اصولوں کے ذریعے حاصل کردہ علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں۔انسان نے جو سب سے پہلی سائنسی دریا فت کی تھی، وہ تھی ” آگ” انسان نے دیکھا کہ آگ روشن ہے، جلا دیتی ہے، پکا دیتی ہے، جانوروں کو بھگا دیتی ہے، یہ توانائی ہے، اسے قابو کیا جا سکتا ہے ، اس سے کام لئے جا سکتے ہیں یہ سائنسی تجربات تھے۔ یہ اُس کی سائنس تھی۔ انسان کائنات کو صرف سمجھتا ہی نہیں تھا وہ تخلیق اور ایجاد کا ذہن بھی رکھتا تھا۔ فطری قوتوں کا حسبِ منشا استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے قوانین قدرت کو نئے رخ سے استعمال کرنا شروع کیا۔اپنے اختیارات سے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استعمال ٹیکنالوجی کہلایا۔انسان نے جو سب سے پہلے ایجاد کی وہ پہیہ تھی ۔ اس نے دیکھا کہ گول چیز دیگر شکلوں والی اشیاء کی نسبت باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔ اس قانون قدرت کو اس نے پہیہ بنا کر استعمال کیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی تھی۔ آگ توانائی تھی ، سائنس تھی اور پہیہ ایجاد تھا، ٹیکنالوجی تھی۔پھر انسان نے دیکھا کہ جس کے پاس توانائی تھی وہ طاقتور تھا، اسی نے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ جس کے پاس ایجاد تھی، اسی کے پاس قوت تھی وہ آگے بڑھ گیا ۔ ان کے استعمال سے انسان پر ترقی کے راستے کھل گئے۔یعنی آگ توانائی ہے پہیہ ایجاد ہے۔توانائی سائنس ہے، ایجاد ٹیکنالوجی ہے۔ جس کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی ہے، وہ طاقتور ہے۔انسان کی ترقی میں آگ اور پہیے کا کردار اب بھی نہیں بدلا۔ آج توانائی کی دوسری شکلیں ایٹمی، شمسی صورتیں سامنے آرہی ہیں ۔ اور ٹیکنالوجی لیزر سے کمپیوٹر تک نئے آلات کی شکل میں وجود پذیر ہو رہی ہے۔ یعنی ۔۔۔ جدید تہذیب سائنس اور ٹیکنالوجی کی تہذیب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا سائنس اور ٹیکنالوجی‘‘ایک انگریز مصنف اینڈر یو لینگلے کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق معلومات پر مشتمل انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب کو حکومت پنجاب نے انگریزی سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے شائع کیا ہے ۔ دنیا میں ہر چیز کس سے بنی ہے ؟ ہم ٹیلی وژن سے دنیا بھر میں تصاویر کیسے بھیجتے ہیں؟ توانائی کہاں سے آتی ہے ؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بچوں کے ان ننّھے منّے مگر اہم سوالات کے جوابات اس کتاب میں دئیے گئے ہیں ۔ یہ کتاب اپنی سادہ زبان اور رنگا رنگ تصاویر کی وجہ سے بچوں کے لیے پُرکشش اور آسان فہم ہے ۔ اس کتاب کے ذریعے اساتذہ بچوں کو کھیل ہی کھیل میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکیں گے ۔ اساتذہ اوربچوں کی آسانی کے لئے کتاب کے آخر میں فرہنگ اور اشاریے بھی دئیے گئے ہیں۔

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حج علماء

سید احمد شہید

سید احمد شہید

 

مصنف : غلام رسول مہر

 

صفحات: 862

 

سیداحمدشہید 1786ء بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں پیداہوئے۔ بچپن سے ہی گھڑ سواری، مردانہ و سپاہیانہ کھیلوں اور ورزشوں سے خاصا شغف تھا۔ والد کے انتقال کے بعد تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ لکھنؤ اور وہاں سے دہلی روانہ ہوئے، جہاں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی سے ملاقات ہوئی، ان دونوں حضرات کی صحبت میں سلوک و ارشاد کی منزلیں طے کی۔ خیالات میں انقلاب آگیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک اور انکے تجدیدی کام کو لے کر میدانِ عمل میں آگئے۔یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی، مشرکانہ رسوم و بدعات اسلامی معاشرہ میں زور پکڑ رہے تھے، سارے پنجاب پر سکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ سید احمد شہید نے اسلام کے پرچم تلے فرزندانِ توحید کو جمع کرنا شروع کیا اور جہاد کی صدا بلند کی، جس کی بازگشت ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لیکر خلیج بنگال کے کناروں تک سنائی دی جانے لگی، اور نتیجتاً تحریک مجاہدین وجود میں آئی ۔سید صاحب نے اپنی مہم کا آغاز ہندوستان کی شمال مغربی سرحد سے کیا۔ سکھوں سے جنگ کر کے مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کیے۔ لیکن بالآخر ١۸۳١ میں رنجیت سنگھ کی کوششوں کے نتیجے میں بعض مقامی پٹھانوں نے بے وفائی کی اور بالاکوٹ کے میدان میں سید صاحب اور انکے بعض رفقاء نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ سید احمدشہید کی تحریک مجاہدین اور ان کے جانثار رفقاء کے حوالے سے متعد ر سوانح نگار ورں نے مطول اور مختصر کتب تحریر کی ہیں۔ کتاب ہذا ’’سید احمد شہید‘‘ از مولاناغلام رسول مہر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔موصوف نے تقریبا آج 75 سال قبل اس وقت سید احمد شہید پر موجود کتب سے استفادہ کر کے یہ ضخیم کتاب مرتب کی اور اس میں انہوں نےسید صاحب کے   مکمل حالات اور ان   کی قائم کردہ عظیم جہادی تحریک کی روداد اور سرگزشت کو قلم بند کیا ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 11
کتاب کےمآخذ 19
پہلا باب ۔ اجداد کرام 33
دوسرا باب ۔ حضرت سید علم اللہ 40
تیسرا باب ۔ علم الہی خاندان 50
چوتھا باب۔ پیدائش اورعہد طغولیت 60
پانچواں باب ۔ لکھنو اوردہلی کاسفر 67
چھٹا باب ۔ دماغی اوروحانی تربیت 74
ساتواں باب ۔ نواب امیرخاں کی رقاقت 85
آٹھواں باب۔ عسکر ی زندگی کےساتھ برس 95
نواں باب ۔ نواب امیر خاں سےعلحدگی 105
دسواں باب ۔ دعوت اصلاح کاآغاز 114
گیارہواں باب ۔ وہ آبے کادرہ ہر مجعت وطن 124
بارہواں باب۔ رائے برچلی کی زندگی 133
تیرہواں باب ۔ نکاح بیوگاں اورواقعہ نصیر آباد 144
چودھواں باب ۔تبلیغی دورے 154
پندرہواں باب ۔ دورہ لکھنو 162
سولھواں باب ۔ عزم حج 175
سترہواں باب ۔ سفر حج ازرےئے برہلی تالہ 183
اٹھارہواں باب ۔ سفرحج ازالہ آباد ہگلی 194
انیسواں باب ۔ قیام کلکتہ کےحالات 205
بیسوا ں باب ۔ سفر حج وزیارت اورمراجعت 216
اکیسواں باب۔ جہاد کےلیے دعوت وتنظیم 234
بائیسواں باب ۔ سکھ اورانگریز 239
تیئسواں باب۔ سلطنت یااعلا کلمۃ الحق 251
چوبیسواں باب ۔ شبہات واعترضات کی حقیقت 256
پچیسواں باب۔ سرحدکو کیوں مرکز بنایا 264
چھبیسواں باب۔ سفر ہجرت ازرائے برہلی تاہحمیر 267
اٹھائیسواں باب۔ ازشکار پورتا شکار پور 380
انتیسواں باب۔ ازکوئٹہ تاپشاور 398
تیسواں باب ۔ پنجاب وسرحد کادور مصائب 316
اکتیسواں باب ۔ چار سدے میں قیام 324
بتیسواں باب ۔ جنگ اکوڑہ 332
تنیتسیواں باب ۔ واقعہ حضرو اورجنگ بازار 335
چونتیسواں باب ۔ بیعت اما مت جہاد 352
پنتیسواں باب ۔ اجماع جیوش اسلامیہ 360
سینتسیواں باب ۔ سفر چنگلی 378
اڑتیسواں با ب۔ بونیروسوات کادروہ 392
انتالیسواں باب ۔ دعوت جہاد 403
پہلاباب۔ہزارےکامحاذجنگ 411
دوسراباب ۔ شاہ اسماعیل کی تنظیمی سرگرمیاں 416
تیسرا باب ۔ ڈمگلہ اورشنکیازی کےمعرکے 424
چوتھا باب ۔ غازیوں کےقافلے 428
پانچواں باب۔ خہر میں میں قیام 438
چھٹا باب ۔ جنگ اوتمان زئی 448
ساتواں باب۔ بیعت   شریعت 458
آٹھواں باب ۔ مرکز پنجتار 467
نواں باب ۔ خادے خاں کاانحراف 478
دسواں باب ۔ تسخیر اٹک کی تجویز 483
گیارہواں باب۔ جنگ     پنجتار 493
بارہواں باب ۔ تنگی پر شبخون 501
تیرہواں باب ۔ جنگ ہند 505
چودہواں باب ۔ از ہند تازیدہ 514
پندرہواں باب ۔ جنگ زیدہ 521
سولہواں باب ۔ تربیلہ ،ستہار اورامب 534
سترہواں باب ۔ پایندہ خاں کی فرمانبرداری اورسرکشی 543
اٹھارہواں باب ۔ عشرو امب کی جنگیں 552
انیسواں باب ۔ جنگ پھولڑہ 564
بیسواں باب ۔ امب میں قیام کے حالات 575
اکیسواں باب ۔ سکھوں کاپیغام مصالحت 589

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
25.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام انکار حدیث اہل حدیث پاکستان سلفی سنت علماء محدثین

سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ حدیث

سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ حدیث

 

مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

 

صفحات: 137

 

متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے فتاویٰ جات کو بطور سند علمی حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم اسلام میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا مسئلہ پیش ہوتا تو آپ فوراً قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمادیتے آپ کو قرآن وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور سنت کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات حدیث کے سلسلہ میں ایک علمی تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار حدیث کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء حق نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ عبداللہ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت اہل حدیث کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو انڈیا میں حدیث پبلی کیشنز،دہلی نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 1
امت مسلمہ اورجماعت اسلامی 1
الاستفتاء 2
احناف اورقیاس 5
حدیث رسول اللہﷺ اورمودودی کاذوق سلیم 6
ابن ابان پر تردید کے پہلو 7
جرح وتعدیل کےانسانی معتبر ذرائع 9
مولنا مودودی اورانکار حدیث 12
مولانا مودودی کی ورایت کے راستے 13
عادات نبوی ﷺ اورمودودیت 14
فطر ت اسلام 15
فیض انبالوی لکھتے ہیں 17
مولانا لکھتے ہیں 18
الامام المہدی 18
جدید ترین طرز کالیڈر 19
تحریک 19
جزوی مجددین 19
ہمہ گیراسلامی تحریک 20
اہل اصلاح 20
دوسرا راستہ 22
تیسرا راستہ 25
کتاب بخاری ومسلم 28
مولانامودودی کے ترجمعہ میں غلطی 31
ایک خبر اور اس کےجوابات 33
ایک سوال اور اس   کاجواب 37
مخالفین کے رسول اللہ سے تین سوال 38
قرآن اورحدیث 41
الاستفتاء 42
حدیث قدسی اورغیر قدسی میں فرق 43
پانچواں راستہ 52
قرآن وحدیث میں بظار متعارض کی امثلہ اور تطبیق 56
مثال اول 56
اصول اورفروعی بحثیں 58
تیسر ی مثال 58
الجواب 61
ایک اعتراض اوراس کاجواب 63
اصل اصول 65
جدت پسندی 66
شاہراہ کابیان 67
قرآن کاتعین 68
قرآن مجید باعث ہدایت ہے 69
فرقہ ناجیہ اورآسمانی شہادتیں 70
ایک غلط فہمی کاازالہ 76
گمراہی کاباعث غلطی 77
اصطلاحا ت ومحاورات کے سمجھنے کاانحصار واضع پر ہوتاہے 78
حجیت حدیث پر ادالہ اربعہ 80
پگ ڈنڈیوں کابیان 82
خبر متواتر اورخبر واحد میں فرق 84
مقام اول 86
مولانا مودودی اورتفویض طلاق 86
مولانا مودودی کی غلطی 87
مقام دوم 89
مولنا مودود ی کامبلغ علم 89
گمراہ فرق 93
مولانا اصلاحی صاحب کاذکر خیر 98
مولا نا اصلاحی خامیوں کی دلدل میں 99
مولنا اصلاحی کی تعریف سے پیدا ہونے والی خرابیاں 100
فتنہ مولانا مودودی اورانکار حدیث ومرزائیت 102
پہلی صورت 106
مولانا کاذوق سلیم 107
دوسری صورت 108
مولانا مودودی خوداپنے جال میں 110
مودودی صاحب کاآئمہ مجتہدین پر بہتان 111
فقہی مسائل میں علماء کےاختلاف کی وجہ 113
مودودی صاحب میں مرزااصاحب کی روح 115
محدثین کےنزدیک صحت حدیث کی شروط 118
فرقہ باطلہ کی تردید 121
محدثین کانقطہ نظر 121
مولانا مودودی کادعوی اورمنکرین حدیث کی تردید 122
قارئین کرام 125
محدث کی ورایت مجتہد سے قوی ہوتی ہے 125
مولانا مودودی کی نظر میں محدثین کی کمزوریاں 128
فقیہانہ نظر کی چند اورامثلہ 128
فقیہانہ نظر کی مزدی وضاحت 131
محدث اورفقیہ کامناظرہ 132
مولانا عبدالحی لکھنوی اورمحدثین کارجحان 135
امام طحطحاوی اورحق وباطل کامعیار 136

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam رسم و رواج اور عبادات زنا ہندو مت

سیاہ کاری کی رسم اور اسلامی تعلیمات

سیاہ کاری کی رسم اور اسلامی تعلیمات

 

مصنف : سید باچا آغا صاحبزادہ

 

صفحات: 163

 

سیاہ کاری ،کاروکاری یا غیرت کےنام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے ۔مذکورہ  نام ایک دوسرے کےمترادف ہیں  جو مختلف علاقوں میں بولی جانےوالی  زبانوں  کے مطابق وضع کیے گئے ۔بلوچستان میں اسے  سیاہ کاری کہا جاتاہے جس کا  معنی  بدکاری ،گنہگار۔ سندھ میں  اسے کاروکاری کہا جاتا ہے کاروکامطلب سیاہ مرد  اور کاری کا مطلب سیاہ عورت ہوتاہے۔ پنجاب میں  کالا کالی اور سرحد میں طور طورہ کے نام سے  مشہور  ہیں ۔ کالے رنگ کے مفہوم کی حامل یہ اصطلاحات  زناکاری  اوراس کےمرتکب  ٹہرائے   گئے  افراد کے لیے  استعمال ہوتی ہیں۔سیاہ اس شخص کو کہتے ہیں جس  پر نکا ح کےبغیر جنسی تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا ہو ۔ یا اپنے نکاح والے شوہر کے علاوہ کسی اور سے  جنسی تعلق رکھنے والی عورت کو سیاہ  یا سیاہ کار کہتےہیں۔اور ایسےمجرم کو   قتل کرنے  کے  عمل کو   قتلِ غیرت  کہتے ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ سیاہ کاری  کی رسم اور اسلامی تعلیمات ‘‘ پروفیسر سید باچا آغا صاحبزادہ  کا   مقالہ ہے  جسے انہوں نے جامعہ بلوچستان میں ایم فل کے لیے پیش کیا  ۔ بعد ازاں چند ترامیم کے ساتھ  اسے  کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔مصنف نے اس میں  حقوق  نسواں پر مختلف مذاہب  کےتعلیمات کے تناظر میں بحث کی  ہے  اوراس ضمن میں یہ واضح کیا ہے مختلف مذاہب میں عورت  کو کیا  مقام  اور حیثیت دی گئی ہے؟ لیکن ان مذاہب کی تعلیمات کے برعکس آج  کل عورت کو ہیچ سمجھتے ہوئے  بعض طبقات اس پر  محض سیاہ کاری  کا  لیبل لگا کر کس طرح بے دردری سے  قتل کردیتے ہیں۔اور اسی  طرح اس کتاب میں ا نہوں نے  سیاہ کاری اوراس کے مترادفات کاتعارف  پیش کیا ہے  اور ان کی وجوہ اوراسباب  بیان کیے ہیں   نیز مختلف علاقوں میں  اس سے متعلق پائی جانے والی رسوم کا ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ  ساتھ ان مروجہ رسوم ورواج کے متعلق مختلف شعبہ ہائے  زندگی سے تعلق رکھنے  والے  افراد کےتاثرات کو بھی قلم بند کیا ہے ۔اس کے بعد اس کے متعلق اسلامی  تعلیمات  اوراحکامات کوذکر  کیا ہے ۔ مصنف  نے یہ کتاب  ہدیۃ   ً لائبریری کےلیے پیش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
عنوان
تمہید 5
باب اول۔۔۔۔حقوق نسواں 8
1۔ ہندو مت میں عورت کا مقام اور حیثیت 8
عورتوں کے لئے تعلیم 9
بیوہ عورت سے شادی 10
عورت کا نان و نفقہ 11
عورت کا حق و راثت 11
یہودیت میں عورت کا مقام اور حیثیت 13
ظالمانہ احکام 13
عورت کا حق وراثت 14
عیسائیت میں عورت کا مقام اور حیثیت 16
حقوق زوجین 17
دور جدید کے عیسائی معاشرہ میں عورت 17
اسلام میں عورت کا مقا م اور حیثیت 20
حقوق میں مساوات 21
حق نفقہ 22
بیو ہ کی حیثیت 24
عورتوں کی تعلیم و تربیت 24
باب دوئم ۔۔۔۔۔سیاہ کاری کا تعارف 30
ساہ کاری اور اس کے مترادفات کا تعارف 30
سیاہ کاری کےنام پرقتل کا تاریخی جائزہ 32
سیاہ کاری کے نام پر قتل کے وجوہات 36
باب سوئم ۔۔۔۔سیاہ کاری کے متعلق رسوم وراج 41
سیا ہ کاری کے متعلق انگریزی دور میں مختلف اقوام کے رسوم و رواج 41
سیا ہ کاری کے متعلق دور حاضر  میں مروجہ رسوم و رواج 47
سیاہ کاری کے متعلق مختلف شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے 51
تاثرات
باب چہارم ۔۔۔۔۔سیاہ کاری اسلامی تعلیمات کے تنا ظر میں 57
سیاہ کاری کے مر تکب مرد و عورت کے متعلق اسلامی تعلیمات 57
زنا محض اور زنا بزن وغیرہ میں فرق 57
زنا محض کی سزا 58
زنا محض کی سزا دینےکیلئے شرائط 60
زنا بزن غیر  یا ز نا بعد احصان کی سزا 60
زنان بزن وغیرہ کے سزا دینے کیلئے شرائط 61
زنا بالجبر کے متعلق احکام 63
سیاہ کاری کے مرتکبین  کو از خو د قتل کرنا اسلامی  تعلیمات 73
محصنات کی تشریح 74
شر ط گواہی اور حد قذف 75
ایک غلط فہمی اور اس کا جواب 77
لعان 78
لعان کے بعد افراق زوجین کا مسئلہ 81
باب پنجم۔۔۔۔۔سیا ہ کاری دیگر مذاہب کی تعلیمات کے تناظر میں 88
سیا ہ کاری کے متعلق یہودی مذہب کی تعلیمات 88
سیاہ کاری کے متعلق عیسائی مذ ہب کی تعلیمات 93
سیاہ کاری کے متعلق ہندووں کی قوانین 95
باب ششم ۔۔۔۔۔ سیاہ کاری کے شرح نتاسب کا جائزہ 97
مختلف سالوں میں سیاہ کاری کا شر ح تناسب 98
سیاہ کاری کے نام پر قتل کے شر ح میں  اضافے کے اسباب 102
سرداری اور جاگیرداری نظام 102
قبائلی ضابطہ سے انحراف 102
حد سے زیادہ ا ٓزادی 107
اسلامی قوانین پر عدم عمل درآمد 107
تعلیم کا فقدان 108
سیاہ کاری  کے نام پر قتل کے خاتمے کیلئے تجاویز 110
ولی کی نگری 110
سخت قانونی گرفت 110
سیا ہ کاری کے خلاف شعور اجا گر کرنا 111
پردےکا اہتمام 112
سیاہ کاری کے نام پر قتل کا اسلامی حل 113
جہالت کا  خاتمہ 114
باب ہفتم۔۔۔۔۔۔سیا ہ کاری کے متعلق اخبارات و جرائد کی ر پورٹیں 116
باب ہشتم ۔۔۔۔۔خلاصہ بحث 130
کتابیات 135

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اقتصادیات تہذیب سیرت صحابہ معاملات

سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ ؓ

سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ ؓ

 

مصنف : تبسم محمود غضنفر

 

صفحات: 246

 

ملکوں کے درمیاں تعلقات اور کاروبار وغیرہ کو باامن طریقے سے چلانے کے عمل کو سفارت کاری کہتے  ہے ۔ بین الاقوامی مذاکرات بہ آسانی حل کرنے کے طریقے اور سفارت کار کے اسلوبِ عمل بھی سفارت کاری سے عبارت ہے ۔ امن ، جنگ ، تجارت ، تہذیب ، معاشیات ، اقتصادیات وغیرہ میں ممالک کے درمیاں معاہدے اور مفاہمتیں سفارتکاری ہی سے انجام پذیر ہو تی ہیں۔ سفارت کا  عہدہ زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے ۔ یعنی  جب سےتہذیب وثقافت اور ریاستی امور وقوانین وضع کیے گئے اس وقت سے ہی  یہ عہدہ بھی موجو  ہے۔ یونانی ، چینی، ایرانی،  اور رومی سیاسیات کےمطالعہ سے  معلوم ہوتاہے کہ ان کے ہاں عہدۂ سفارت موجود  تھا۔  زمانۂ جاہلیت میں جب عرب معاشرتی لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم تھے قبائلی نظام رائج تھا اور ان قبائل میں صدیوں پرانی رقابتیں اور دشمنیاں چلی آرہی تھیں تب بھی وہ قبائل تنازعات کے حل کے لیے سفارت پر یقین رکھتے تھے اور اپنے قبیلے سے سفارت کے لیے  اس شخص کا نتخاب کرتے جو فصیح اللسان ہوتا۔اہل روما نے ایسے معاملات طے کرنے کے لیے مذہبی راہنماؤں کی ایک جماعت مخصوص کر رکھی تھی  جوصلح وامن کی  شرائظ طے  کرتی  تھی۔ ترکی میں ابتدائی زمانے میں  سفیر عموماً قصر شاہی کے افسروں میں سے  چنے جاتے تھے۔اسلامی ریاست جب وجود میں آئی تو اس کے ابتدائی دور میں خود حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں دوسری ریاستوں سے معاملات طے کرنے کے لیے نمائندے بھیجے  جاتے  تھے  اور دوسری ریاستوں کےنمائندوں  کواپنے ہاں مدعو کیا جاتا تھا معاہدات کی شرائط  طے کرنےمیں  دونوں طرف سے ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں ۔ صلح نامۂ حدیبیہ کی شرائط طے کرنے کا معاملہ اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس میں حضرت محمدﷺ نے حضرت علی    کوعہد نامہ لکھنے کے لیےاپنا نمائندہ مقرر کیا ۔ یہی نمائندے آگے چل کر سفیر کہلائے  اور انہی کی بدولت ریاستوں کے درمیان تعلقات کو ایک مؤثر ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ‘‘ معروف عالم  دین  اور مترجم کتب کثیرہ محترم  مولانا محمود احمد غضنفر﷫ کی صاحبزادی   محترمہ  تبسم محمود صاحبہ  کا   ایم  اے اسلامیات   کےلیے تحقیقی مقالہ ہےجسے انہوں نے  2001ء میں شعبہ علوم اسلامیہ   پنجاب یونیورسٹی  میں ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے اشراف میں’’ سفراء الرسول تعارف وخصوصیات‘‘ کے عنوان سے   پیش کر کے  اول پوزیشن حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ بعد ازاں اسے’’  سلطنت مدینہ  کے سفیر صحابہ  ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے ۔اس کتاب میں  مصنفہ نے  دربارِ رسالت کے سفیر صحابہ کرام   کے سفارتی کارناموں کو علمی اور تحقیقی انداز میں  قلمبند کیا ہے

 

عناوین صفحہ نمبر
باب نمبر 1 سفارت ، تعارف و تاریخ 17
باب نمبر 2 عہدہ سفارت اور اس کے تقاضے 35
باب نمبر 3 سفراء الرسول ﷺ تعارف 48
باب نمبر 4 سفرائے کرام کی دعوتی سرگرمیاں 114
باب نمبر 5 سفراء الرسول ﷺ کی خصوصیات 177
باب نمبر 6 اثرات ونتائج 211

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam پاکستان تاریخ تاریخ برصغیر زبان فارسی قیام پاکستان

رود کوثر

رود کوثر

 

مصنف : شیخ محمد اکرم

 

صفحات: 664

 

شیخ  محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزازات عطا کیے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری ملی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رودِ کوثر‘‘ شیخ  محمد اکرام کی تصنیف ہے ۔جو کہ  برصغیر پاک وہند کے  مسلمانوں کی مذہبی ،ثقافتی اور علمی تاریخ  اور ان کے کارناموں پر مشتمل ایک اہم دستاویز ہے ۔اور اس  کو سلسلۂ کوثر کی دوسری کڑی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں عہد مغلیہ سے لے کر سرزمین برصغیر پر انگریزوں کے قابض ہونے تک کےواقعات معرض تحریر میں  لائے گئے  ہیں۔عہد مغلیہ میں علماء،مشائخ اور صوفیہ نے  جو خدمات انجام دیں اور ان سے  جو نتائج برآمد ہوئے  ان کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔شیرشاہ سوری اور خاندان سوریہ کے دیگر حکمرانوں کے حالات اور اس عہد کے اسلامی وعلمی واقعات بھی زینت کتاب ہیں۔ کتاب میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بارے میں بھی معلوم بہم پہنچائی گئی ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 7
استدراک 12
1۔اکبر سےپہلے
عہد مغلیہ 17
مہدوی تحریک 24
شطاری سلسلہ 35
سلسلہ مداریہ 41
پیر روشن میاں بایزید انصاری  43
مخزن الاسلام کا اندراج 52
دبستان مذاہب کا اندراج 57
قادریہ سلسلہ
مخدوم محمد گیلانی 63
عبدالقادر ثانی 64
چشتیہ سلسلہ
شیخ سلیم چشتی 71
صابریہ سلسلہ
شیخ عبدالقدوس گنگوہی 73
مغلوں کی مخالفت 76
2۔عہد اکبری
فتوحاتا اکبری 80
مغلیہ نظام حکومت 81
طریق صلح کل 85
عبادت خانہ 89
علماءکا زوال 100
مخالفت 104
اسباب مخالفت 108
مریدان شاہی 118
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا محاکمہ 131
اکبر کے آخری ایام
فیضی کی تفسیر غیر منقوط 133
ابو الفضل اور اکبر کا بگاڑ 135
ابو الفضل کا انجام 141
عہد اکبری میں علم وفن 161
نواب مرتضے خاں شیخ فرید 178
خواجہ کلاں 211
خواجہ حسان الدین 215
3۔حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی
مخدوم عبدالاحد 223
قیام اکبر آباد 227
شادی خانہ آبادی 236
رسالہ تہلیلہ 244
ارشاد وہدایت 259
شیخ بدیع الدین 264
سنت یوسفی 271
حضرت مجدد کی مذہبی خدمات 284
روضۃ القیومیہ 304
وحدت الشہود 308
اختلافات کاحل 324
خوبہ محمد سعید 333
شیخ آدم بنوری  339
4۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی
علوم دینی کا نیادور 343
ابتدائی تعلیم 347
دربار اکبری 348
سفر حرمین 351
شیخ علی متقی 353
فیضی اور شیخ محدث 358
شیخ محدث اور حضرت مجدد الف ثانی 361
شیخ محدث کی علمی خدمات 383
خاندان حقی 388
5۔ علما ومشائخ عصر
ملا محمودجونپوری 391
شیخ محمد بن طاہر بٹنی 392
شیخ محمد بن فضل اللہ برہانپوری 395
قاضی نور اللہ شوستری 399
افغان مشائخ وعلما
قصور کے افغان 410
اخوند بابا درویزہ پشاور قدس سرہ 414
6۔عہد شاہجہانی
شاہ جہان 422
سرمد 433
7۔عہد عالمگیری
ارباب ظاہر 459
خوشحال خاں خطک 468
8۔ پنگال میں اسلام
بنگال میں دیشنو تحریک کے اثرات 492
سید سلطان 499
بزرگان ڈھاکہ 510
شاہ نعمت اللہ قادری 513
غیر شرعی طریقے 516
9۔ حکیم الامت شاہ ولی اللہ
1703ء 528
خاندانی حالات 534
شاہ عبد الرحیم 535
سفر حرمین 542
قرآن 551
حدیث 556
اجتہاد و تقلید 560
تصوف 563
دیگر تصانیف 570
اشعار اور مکاتیب 573
شریعت اور طریقت 579
شیعہ سنی خیالات کی تطبیق 575
اختلاف بین المذاہب 581
جدید علم الکلام کی ابتداء 583
حکیم الامت کے فرزان ارجمند
شاہ عبد العزیز  587
تحفہ اثنا عشریہ 591
شاہ رفیع الدین 596
شاہ عبدالغنی 597
10 ۔ علمائے متاخرین
زوال حکومت 598
زوال حکومت کے اسباب 601
علوم اسلامی کا فروغ
درس نظامی 605
آزاد بلگرامی 611
شیخ محمد حیات سندھی 615
11۔ شیعہ فرقہ کا فروغ
حاجی محمد محسن 620
دکن کے شیعہ علما 623
عظیم آباد 628
مجتہد العصر مولانا دلدار علی 632
علامہ تفضل حسین کاشمیری 639
اسماعیلی فرقے 640
12۔ اٹھارھویں صدی کےمشائخ
چشتیہ سلسلہ کا احیاء 641
شاہ گلشن دہلوی 643
سلسلہ مجددیہ کا دور جدید 658
شاہ احمد سعید دہلوی ثم مدنی 660
اردو زبان کی ارتقا 665
اہم تاریخیں 667
منتخب فہرست کتب 668

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ اسلام علوم قرآن قراء

رسم عثمانی اور اسکی شرعی حیثیت

رسم عثمانی اور اسکی شرعی حیثیت

 

مصنف : حافظ سمیع اللہ فراز

 

صفحات: 486

 

قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ آسمانی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کتاب کو آخرالزمان پیغمبر جناب محمد رسول اللہﷺ پر نازل کیا اور ’’إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ (الحجر:۹) فرما کر اس کی حفاظت کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز ہے کہ دیگر کتب سماوی کے مقابلے میں صدیاں بیت جانے کے باوجود محفوظ و مامون ہے اور اس کے چشمہ فیض سے اُمت سیراب ہورہی ہے۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز اور اعجاز دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کاٹنے کی طرح کھٹک رہا ہے اور ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب لاریب کی جمع و کتابت میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے جائیں، جن کی بنیاد پریہ دعویٰ کیا جاسکے کہ معاذ اللہ گذشتہ کتابوں کی مانند قرآن مجید بھی تحریف و تصحیف سے محفوظ نہیں رہا ،لیکن چونکہ حفاظت قرآن کا فریضہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاہے، چنانچہ تاریخ اسلام کے ہر دور میں مشیت الٰہی سے حفاظت قرآن کے لیے ایسے اقدامات اور ذرائع استعمال کئے گئے جو اپنے زمانے کے بہترین اور موثر ترین تھے۔ حفاظت قرآن کے دو بنیادی ذرائع حفظ اور کتابت ہیں، جوعہد نبوی سے لے کر آج تک مسلسل جاری و ساری ہیں۔عہد نبوی میں حفاظت ِقرآن کا بنیادی ذریعہ حفظ و ضبط تھا۔ متعدد صحابہ کرام قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتابت وحی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جیسے ہی کوئی آیت مبارکہ نازل ہوتی نبی کریم ﷺ کاتبینِ وحی کوبلوا کر لکھوا دیا کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ فلاں فلاں آیت کوفلاں فلاں سورت میں لکھو۔ عہد نبوی میں قرآن مجید مکمل لکھا ہوا موجود تھا مگر ایک جگہ جمع نہیں تھا،بلکہ مختلف اشیاء میں متفرق طور پر موجود تھا۔ عہد صدیقی میں واقعہ یمامہ کے بعد قرآن مجید کو صحف کی صورت میں ایک جگہ جمع کردیا گیا اور عہد عثمانی میں واقعہ آرمینیہ و آذربائیجان کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق   کے دور میں ایک جگہ جمع کئے گئے قرآن مجید کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف اَمصار میں روانہ کردیئے گئے۔ عہد عثمانی میں کتابت قرآن کا ایسارسم اختیار کیا گیا، جو تمام قراء ت متواترہ کا احتمال رکھتا تھااور جو درحقیقت عہد نبوی اورعہد صدیقی میں لکھے گئے صحف کے رسم سے ماخوذ تھا -رسم عثمانی سے مراد وہ رسم الخط ہے، جوسیدنا عثمان   کے حکم پر سیدنا زید بن ثابت   اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کتابت ِمصاحف میں اختیار کیا۔ زیر نظر کتاب’’رسمِ عثمانی اوراس کی شرعی حیثیت‘‘ محترم  حافظ سمیع اللہ فراز  صاحب کے  اس تحقیقی مقالہ کی  کتابی صورت  ہے جو  انہوں نےشیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی ،لاہور میں  ایم فل   کے  لیے پیش کیا ہے ۔موصوف نے    اس کتاب میں  نزول قرآن  کے وقت رائج عربی خط اور رسم قرآنی میں اتفاق واختلاف ، عہد نبوی،عہد صدیقی، اور عہد عثمانی  میں رسم  قرآنی  کی تعریف  سیدنا عثمان  کے عہد کے مصاحف کی کتابت اور صحابہ کرام  کی موافقت،رسم عثمانی توقیفی ہے یا غیرتوقیفی،رسم عثمانی کا تشریحی مقام یعنی شرعاً مصاحف کی کتابت میں رسم عثمانی کا التزام ضروری ہے  یا  نہیں ؟رسم عثمانی  کےقواعد ستہ کےرموز وفوائد،علم الرسم کی تاریخ ،قدیم وجدید معترضین کارسم  عثمانی پر شبہات واشکلات کا مدلل ابطال جیسے موضوعات کو موضوع بحث بنایا ہے  اورانتہائی محنت وجانفشانی سے  بنیادی مصادر ومآخذ سے متعلقہ مباحث کو جمع کرتے ہوئے بڑی دقتِ نظر سے  اس علم کے اہم مسائل کی تنقیح وتوضیح کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو  نفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز
پیش لفظ
تقریظ
مقدمہ
اظہار تشکر
باب اول رسم عثمانی سے قبل عربی رسم الخط کے خصائص اور علم الرسم کا تعارف 1
رسم عثمانی سے قبل عربی رسم الخط 24
رسم کی لغوی و اصطلاحی ابحاث 26
باب دوم کتابت قرآن کے ادوار ثلاثہ 41
دور رسالت میں کتابت قرآن 41
عہد صدیقی ؓ میں کتابت قرآن 60
خلافت عثمانؓ میں جمع وکتابت قرآن 83
باب سوم مصاحف عثمانیہ ان کے اختلافات اور اس کے اسباب 115
مصاحف عثمانیہ کی تعداد 115
مصاحف عثمانیہ میں اختلاف کی نوعیت 150
رسم مصحف اور اختلاف قراءات 175
باب چہارم رسم عثمانی کے قواعد و رموز اور ان پر تحریر کردہ کتب کا تاریخی جائزہ 188
رسم عثمانی کے قواعد 188
رسم عثمانی کے رموز اور خصوصیات 255
رسم عثمانی سے متعلق تحریر کردہ کتب کا تاریخی جائزہ 264
باب پنجم رسم عثمانی کے بارے میں اہم فقہی مباحث 291
رسم عثمانی کی توقیفیت 291
رسم عثمانی کا التزام اور دور حاضر میں اس کی ضرورت 309
مصادر و مراجع 395
اشاریہ 413

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ رشد روح زبان علوم قرآن کھیل

قرآن کریم اور اس کے چند مباحث ( ڈاکٹر ادریس زبیر )

قرآن کریم اور اس کے چند مباحث ( ڈاکٹر ادریس زبیر )

 

مصنف : ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

 

صفحات: 319

 

قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخِ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔ دنیابھر کی بے شمار جامعات،مدارس ومساجد میں  قرآن حکیم کی تعلیم وتبلیغ اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری ہے۔جس کثرت سے  اللہ تعالیٰ کی اس پاک ومقدس کتاب کی تلاوت ہوتی ہے دنیا کی کسی کتاب کی نہیں ہوتی ۔ مگر تعجب  وحیرت کی بات ہے کہ  ہم  میں پھر بھی ایمان وعمل کی وہ روح پیدا  نہیں ہوتی  جو قرآن  نےعرب کے وحشیوں میں پیدا کر دی تھی۔ یہ قرآن ہی کا اعجاز تھا کہ اس نے مسِ خام کو کندن بنادیا او ر ایسی  بلند کردار قوم  پیدا کی  جس نے دنیا میں حق وصداقت کا بول بالا کیا اور بڑی بڑی سرکش اور جابر سلطنتوں کی بساط اُلٹ دی ۔ مگڑ افسوس ہے کہ تاریخ کے یہ حقائق افسانۂ ماضی بن کر رہ گئے ۔ ہم نے دنیا والوں  کواپنے عروج واقبال کی داستانیں تو مزے لے لے کر  سنائیں لیکن خود قرآن سے کچھ حاصل نہ کیا ۔جاہل تو جاہل پڑھے لوگ بھی قرآن سےبے بہرہ ہیں۔قرآن کریم   کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول  اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم سےہی سمجھا جائے۔ یہ علوم قرآن کریم سے علیحدہ  نہیں ۔ انہی کی پابندی  کتاب اللہ  کوتورات وانجیل کی  طرح کھیل نہیں بننے دے گی۔اور نہ ہی تحریف کی من مانی روش  کوشہ ملے   گی۔الزام ترشیوں سے بچنے  اور اپنے میلانات کی اصلاح کے لیے  قرآن کی صحیح خدمت تبھی ہوسکے گی۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرآن کریم اور چند مباحث‘‘ میں  انہی ضابطوں اوراصولوں  کودلائل سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے  تاکہ قرآن کریم کے صحیح فہم ممکن ہو اور ایک علمی واعتقادی رشتہ قرآن کریم سے  مزید استوار ہو۔یہ کتاب  قرآن مجید کے تعارف،اور جملہ  علوم قرآنی  کی معرفت  کے لیے سلسلے  میں ایک آسان فہم  انداز میں مرتب شدہ  عمدہ کتاب ہے  اور طالبانِ قرآن کےلیے نادر تحفہ  ہے ۔  صاحب کتاب ڈاکٹر محمد ادریس زبیرفہم  قرآن  اور خواتین  کی دینی  تعلیم تربیت کے لیے کوشاں معروف ادارے  ’’ دار الہدیٰ‘‘ کی سربراہ  ڈاکٹر فرہت ہاشمی  صاحبہ کے  شوہر ہیں ۔ موصوف کا ملتان کے ایک علمی خانوادے  سے تعلق ہے  درس ِنظامی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم عربی کی   ڈگری حاصل کی۔ 1983ءانٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد  کے کلیۃ الدین سے منسلک ہوگئے  ۔1989ء میں  گلاسگو یونیورسٹی سے علم حدیث میں   ڈاکٹریٹ  کیا  عربی،  اردو، انگریزی زبان میں بہت سے آرٹیکلز لکھنے کے علاوہ چند کتب کے مصنف بھی  ہیں اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں برکت فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 13
باب۔1: قرآن کریم 14
تعلیمات 16
اللہ کی کتاب ہونے کے دلائل 19
مفہوم قرآن کی حفاظت 27
قرآن کریم کےاثرات 28
باب ۔2: قرآن کی تعریف کیا ہے ؟
ایک غلط خیال 35
تعارف قرآن 37
قرآن کی خصوصیات 38
قرآن مجید کے چند او رمشہور نام 42
قرآن مؤثر زبانی منہج 48
باب ۔3: تعلیم قرآن
تعلیم قرآن : اہمیت و ضرورت 56
رسول اکرم ﷺ بحیثیت ایک معلم 61
تعلیم قرآن یاتفسیر قرآن ؟ 63
چند بنیادی علوم کی ضرورت 69
تعلیم قرآن کیسے ؟ 74
طالب علم کی خصوصیات 79
ترجمہ ومفہوم قرآن 80
باب ۔4: وحی
وحی کا معنی و مفہوم 84
شرعی وحی کی اقسام 87
ابلاغ وحی 90
نزول وحی ابتداء 92
نزول وحی کے وقت آپﷺ کی کیفیت 94
نزول وحی کی دارو مدار 96
وحی کی زبان 96
وحی کی حقیقت 96
وحی کے سچ ہونے کےدلائل 97
تورات و انجیل کا حال 101
قدیم الزام 102
کشف والہام 103
باب ۔5: علم نزول قرآن
نزول قرآن کے مقاصد 106
مراحل نزول قرآن 108
مرحلہ وار نزول کی وجوہات 111
حکمتیں 112
مقدار نزول 120
آخری آیات کون سی ؟ 121
باب ۔6: جمع قرآن اور اس کی تدوین
مقصد جمع قرآن 123
جمع قرآن کے چار ادوار 123
عہد نبوی میں 124
خلافت صدیقی میں 131
سیدنا زید کا انتخاب کیوں ؟ 132
جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات 134
خلافت عثمانی میں جمع قرآن 135
چار رکنی کمیٹی کا قیام 137
صوتی وطباعتی جمع 140
قرآنی رسم کےتحسینی مراحل 141
نقطے اور اعراب 142
تحسین حروف کی کوشش 143
معنی اور تلاوت کےاعتبار سے تقسیم 144
احزاب یامنازل 145
اخماس و اعشار 146
طباعت قرآن 150
مصحف مرتل اور قراءت قرآن کےانداز 150
باب ۔7: علوم قرآن
تعریف 154
فوائد علوم قرآن 154
تدوین علوم قرآن کی مختصر تاریخ 155
مضامین قرآن 161

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز