Categories
Islam ادب اسلام سیرت علماء

سید سلیمان ندوی

سید سلیمان ندوی

 

مصنف : خلیق انجم

 

صفحات: 248

 

برصغیر پاک وہند کے  معروف سیرت  نگار اور مؤرخ  مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی  جاری وساری ہے ۔علامہ  موصوف کی حیات  وخدمات کے سلسلے  متعدد شائع ہوچکی ہیں زیر نظر  کتاب’’ سید سلیمان ندوی  ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے  یہ کتاب مارچ 1985ء میں انجمن ترقی اردو ہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے دو روزہ سمینار میں پیش گئے مقالات کا مجموعہ  ہے ۔اس سمینار میں بہت عالمانہ مقالے  پڑھے گئے  ان مقالات کی افادیت کے پیش  نظر جناب  خلیق انجم صاحب نے انھیں کتابی صورت میں مرتب کیا اور مکتبہ خلیل  اردو بازار ،لاہور نے اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تقلید و اجتہاد حنفی دیوبندی سنت کتب حدیث محدثین نماز

قرآن وحديث میں تحریف

قرآن وحديث میں تحریف

 

مصنف : ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

 

صفحات: 296

 

تقليد نے امت مسلمہ میں جو جمود طاری کیا ہے اس کے بہت سارے نقصانات دیکھنے کو مل رہے ہیں-زیر نظر کتاب میں ابوجابر عبداللہ دامانوی نے محققانہ انداز میں ثابت کیا ہے کہ مقلدین حضرات اگر اپنے امام کے قول کے خلاف کوئی قرآنی آیت یا حدیث پالیتے ہیں تو ان  پر عمل کرنے کی بجائے قرآن وحدیث میں ایسی تحریف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس سےیہ قول امام کے موافق ہوجائیں-اس کتاب میں دیوبندیوں کی واضح اور مبینہ خیانتوں کو ان کی محرف کتابوں کے فوٹواسٹیٹ کے ذریعے ظاہر اور واضح کیا گیا ہے-پھر حدیث کی اصل کتابوں کے بھی فوٹودے کر ان کی خیانتوں کی نقب کشائی کی گئی ہے-مثال کے طور پر مختلف کتب حدیث میں احادیث کی کمی بیشی،احادیث میں اپنی مرضی کے مختلف قسم کے الفاظ کا اضافہ،اپنے مکتبوں میں میں اپنی مرضی کی کتب احادیث طبع کرکے امت میں افتراق کا سبب بننا-ان تمام چیزوں کو دلائل کے ساتھ واضح کر کے مدلل پکڑ کی گئی ہے-
 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظ از الشیخ حافظ زبیر علی زئی 10
سنت کی اہمیت اور تقلید کی مذمت 19
ایک شبہ کا ازالہ 20
اولوا الامر کی اطاعت کا کیا مطلب ہے ؟ 20
دلائل شرعیہ چار ہیں 27
قرآن مجید 27
سنت 28
اجماع 29
قیاس 30
اہل حدیث پر ایک اعتراض 31
رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات 31
علماء امت کی ذمہ داریاں 34
تقلید کے متعلق حافظ زبیر علی زئی کا ایک قیمتی مضمون 35
تقلید کی تباہ کاریاں 38
اہل سنت یا اہل تقلید 39
جس نے دہوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں 40
مقلدین کے اکابرین کے اقوال 41
وضع احادیث کے اقوال 54
قرآن و احادیث میں تحریف 56
قرآن و احادیث میں جھوٹ بولنے پر وعید 59
رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بولنے پر وعید 60
حدیث کے ذکر کر نے کا ایک اصول 62
دیوبندی شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کی خود ساختہ آیت 64
ایضاح الادلہ کا حوالہ 65
افسوس ناک غلطی مگر 71
اصل حقیقت 71
گھر کی گواہی 75
مناظرمقلدین ماسٹر امین اوکاڑی کی خود ساختہ آیت 75
مغالطے کا امام 77
رفع الیدین کے مسئلہ میں سفید جھوٹ 77
فراڈی مولوی 79
تحقیق یا تحریف 82
رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی 83
مجموعہ رسائل کا حوالہ 84
نماز میں شرمگاہ کو دیکھنا 86
نماز میں قرأن کو دیکھ کر پڑ ہنے سے کیا نماز فاسد ہو جاتی ہے 88
قرأن مجید کی توہین 90
مجموعہ رسائل کا نیا ایڈیشن 92
تجلیا ت صفدر کا حوالہ 94
ماسڑ امین اوکاڑی الجرح والتعدیل کے میزان میں 95
موصوف کے مزید جھوٹ 97
فقہ حنفی کے بعض مسائل کا تذکرہ 101
امین اوکاڑی کے دس (10) جھوٹ 104
رفع الیدین کی احادیث میں تحریف کی کوشش 108
رفیع الیدین کے خلاف پہلی کاوش , مسند حمیدی میں تحریف 108
مولانا اعظمی کی تحقیق اور مولانا محمد طاسین کا رد 112
حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق 114
مسندی الحمیدی اور حدیث رفع الیدین 115
نسخہ ظاہریہ میں اس روایت کے الفا ظ 116
قابل غور باتیں 119
تحقیق مزید 120
نسخہ ظاہریہ کے دونوںمخطوطوں میں یہ روایت عام روایات کی طرح ہے 124
دوسری شہادت : مسند الحمیدی طبع بیرات کا حوالہ 124
تیسری شہادت :المسند المستخرج علی صحیح مسلم کا حوالہ 125
چوتھی شہادت :توالی التا سیس کا حوالہ 127
مسند ابی عوانہ میں تحریف 130
حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق 132
لا یرفعھما سے پہلے واو کاثبوت 134
پہلی شہادت 134
دوسری شہادت : 136
تیسری شہادت : 136
مسند ابی عوانہ کی روایت اثبات رفع الیدین کی دلیل 138
پہلی دلیل :امام سعدان بن نصر کی روایت 139
دوسری شہادت امام شافعی کی روایت 140
کتاب الام کی روایت 141
مسند الشافعی کی روایت 142
معرفتہ السنن والآ ثار کی روایت 143
تیسری شہادت امام علی بن المدینی کی روایت 145
چوتھی شہادت :امام الحمیدی کی روایت 148
اصل حقیقت 149
جناب عبداللہ بن عمر کی روا یت کو امام زہری کے سولہ شاگرد روایت کرتے ہیں 149
جناب عبداللہ بن عمر کی روا یت کا چارٹ 150
امام سفیان کے انتالیس شاگرداس حدیث کو بیان کرتے ہیں 151
صحیح مسلم کا حوالہ 151
صحیح بخاری کا حوالہ 153
سنن ابی داود کا حوالہ 155
مسند احمد بن حنبل کا حوالہ 156
سنن الترمذی کا حوالہ 159
سنن النسائی کا حوالہ 161
سنن ابن ماجہ کا حوالہ 162
مصنف ابن ابی شبیہ کا حوالہ 164
صحیح ابن خزیمہ کا حوالہ 165
صحیح ابن حبان کا حوالہ 167
کتاب المنتقی لابن الجارود کا حوالہ 168
مسند ابی یعلی کا حوالہ 168
شرح معانی الآ ثار کا حوالہ 171
خلاصہ کلام 173
امام سفیان کی یہ روایت متواتر ہے 173
سیدنا وائل بن حجر کی روایت میں تحت السرة کا اضافہ 173
ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی کا ابن ابی شبیہ میں اضافہ 175
طیب اکاڈمی ملتان والوں کا بیروت کے نسخہ میں اضافہ 177
مکتبہ امدادیہ ملتان والے بھی ادارة القرآن اور طیب اکاڈمی کے نقش قدم پر 181
تحت السرة کا اضافہ کیونکر ؟ 184
اصل حقیقت 185
شیخ الحدیث مولانا ارشاد الحق اثری فیصل آبادی کی تحقیق 185
علام کاشمری کا تحت السرة کے اضافے سے انکار 185
علام نیموی کے نزدیک یہ اضافہ غیر محفوظ اور ضعیف ہے 186
علام ظہیر احسن بھی اس اضافہ پر راضی نہ تھے اور کے نزدیک یہ زیادت معلول تھی 186
تحت السرة کے اضافہ کی تحقیق 187
مولانا ابو الکلام ا کاڈمی حیدر آباد دکن کے نسخے کا حوالہ 188
بمبئی سے شائع کردہ نسخحے کا حوالہ 190
دار الفکر بیروت کے نسخحے کا حوالہ 191
دار التاج بیروت کا حوالہ 194
مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کے نسخحے کا حوالہ 195
ایک اہم اصول 198
تحقیق مزید 199
مصنف ابن ابی شبیہ کی اسی سند سے یہ روایت مسند احمد میں بھی موجود ہے 199
السنن دار قطنی کا حوالہ 201
السنن النسائی کا حوالہ 202
السنن الکبری للنسائی کا حوالہ 203
المعجم الکبیر للطبرانی کا حوالہ 204
السنن الکبری للبیہقی کا حوالہ 205
صحیح مسلم میں سیدنا وائل بن حجر کی روایت 206
سیدنا وائل بن حجر کی روایت در اصل سینہ پر ہاتھ باندہنے کی روایت ہے 208
نسائی , ابو داود اور ابن خزیمہ میں سیدنا وائل بن حجر کی روایت 208
سیدنا وائل بن حجر کی روایت کی صحیح بخاری کی روایت سے تایئد 208
صحیح ابن خزیمہ میں علی صدرہ کے الفاظ 209
سنن ابی داود کی ایک روایت میں تحریف 211
عشرین لیلتہ کو عشرین رکعتہ بنانے کی کاروائی 213
شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود کی وضاحت 213
عشرین لیلتہ پر امام بیہقی کی شہادت 216
امام المنزری کی شہادت 217
صاحب مشکوة کی شہادت 218
علام زیلعی کی شہادت 219
ملاں علی قاری کی شہادت 221
یہ تحریف کب ہوئی ؟ کس نے کی اور کیوں ہوئی ؟ 222
متن میں لیلتہ اور حاشیہ میں رکعتہ کے الفاظ 223
مکتبہ رحمانیہ لاہور کا حوالہ 224
مکتبہ امدادیہ ملتان کا حوالہ 225
نعمانی کتب خانہ کابل افغانستان کا حوالہ 227
بزل المجہود کا حوالہ 228
مولانا محمد عاقل کی وضاحت 229
متن میں رکعتہ اور حاشیہ میں لیلتہ کے الفاظ 231
التعلیق المحمد مطبع مجتبائی لاہور کا حوالہ 231
متن میں رکعتہ اور حاشیہ میں غائب 232
سنن ابی داود مطبع میر محمد کتب خانہ کراچی کا حوالہ 232
سیر النبلاء کا حوالہ 233
المہذب للذہبی کا حوالہ 235
جامع المسانید والسنن کا حوالہ 236
گھر کی شہادت 238
قول فیصل مصنف عبد الرازق کا حوالہ 239
ابو داود میں دوسری تحریف 242
ابو داود میں تیسری تحریف 243
ابن ماجہ میں تحریف 243
ابن ماجہ کی سند محدثین کی عدالت میں 245
گھر کی شہادت 245
صحیح مسلم میں تحریف 245
وجہ تحریف 246
مستدرک حاکم میں تحریف 247
محدثین کی گواہی 248
حنفیہ کی شہادت 248
مسند احمد میں تحریف 248
جھوٹ ہی جھوٹ 249
امین اوکاڑی کے پچاس(50) جھوٹ 250
اوکاڑوی جھوٹ نمبر 1 251
اوکاڑوی جھوٹ نمبر (2) تا (50) 251

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5Mb ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam سیرت سیرت النبی ﷺ

قرآن اور تعمیر سیرت

قرآن اور تعمیر سیرت

 

مصنف : ڈاکٹر میر ولی محمد

 

صفحات: 349

 

اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے  اللہ  تعالیٰ کے بعد حضرت  محمد ﷺ ہی ،وہ کامل  ترین ہستی ہیں جن کی زندگی  اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل  رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ  کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے  ۔ گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔اور پورے عالمِ اسلام  میں  سیرت  النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا  جاتاہے   جس میں  مختلف اہل علم  اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’قرآن اورتعمیر سیرت‘‘  ڈاکٹر میر ولی الدین کے   ’’قرآن اور سیرت سازی ‘‘کے  عنوان سے  مطبوعہ مقالات کا مجموعہ ہے ۔یہ مقالات  1944ءمیں  ادارۂ اشاعت اسلامیات ،حیدرآباد دکن سےطبع ہوئے ۔بعد ازاں 1952ء میں  مصنف نے اس میں کچھ اضافہ کیا اور ان مقالات کو ’’ قرآن اور تعمیر سیرت‘‘ کے عنوان سے مرتب کرکے کتابی صورت میں شائع کیا۔مصنف نےاس کتاب  میں اس بات  کو واضح کیا ہے کہ کامیاب زندگی بسر کرنے کےلیے سیرت  کی تعمیر ضروری ہےاور جب تک سیرت کی تعمیرقرآنی اصول پر نہ ہو  تو دنیا میں کامیابی وکامرانی کے ساتھ چین اور  طمانیت کا جمع ہونا ممکن نہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 9
عبادت و استعانت 13
توحید الوہیت 42
صالحیت 109
نیکی علم ہے 122
تعلیم کا مقصد 130
انسان کامل 140
امام غزالی کا فلسفہ مذہب 145
تصحیح فکر 153
احساس 159
قانون تجاذب اور تعمیر سیرت 167
قرآن اور سیرت سازی 174
قوت ایمانی اور ظہور غیب 197
ماحول پر قابو کس طرح حاصل کیا جائے 212
کامیاب زندگی کا قرآنی تصور 228
قرآن اور علاج خوف 253
بے خوف زندگی 265
داروے جان 276
قرآن اور علاج حزن 283
زندگی میں غم کیوں ہے 293
قرآن اور علاج غضب 303
دعا کا فلسفہ 314
دعا اور دفع بلا 323
اسرار حج 331

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
19.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلامی بینکاری پاکستان سنت سود علماء قرض مالی معاملات معاملات نظام بینکاری

پاکستانی معیشت سے خاتمہ سود کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا خلاصہ

پاکستانی معیشت سے خاتمہ سود کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا خلاصہ

 

مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

 

صفحات: 138

 

اسلامی نظام بینکاری کوئی ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط نظام ہے جس کا آغاز مصر سے 1963ء میں میت غمر کے اسلامک بینک کے قیام کی صورت میں ہوا تھا ۔اس سے قبل اس حوالے سے چند کاوشیں اور تجربے  جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدرآباد میں بھی ہوچکے تھے۔ حیدرآباد دکن کے اس تجربے کے بعد1950ء 1951 ء میں اس طرح کی ایک ہلکی سی کاوش پاکستان میں بھی ہوئی جس میں شیخ احمد رشاد نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ اسلامی بینکاری کے قیام اور استحکام کے لئے پاکستان بھی پیش پیش رہا ہے ۔ اور مختلف محاذوں پر سودی لعنت پر مبنی نظام سے خلاصی اور قرآن وسنت کے پیش کردہ معاشی اصولوں کی روشنی میں ایسے طریقہ کار کے لیے  کاوشیں کی گئی ہیں کہ کسی طرح سود کی لعنت سے اس ملک کو پاک کیا جاسکے ۔ اس حوالے سے انفرادی اور اجتماعی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اسلامی معیشت کے اصولوں سے ہم آہنگ ایسا طریقہ کار وضع کرے جس سے سود ی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ماہرین معاشیات اور بینکاری کے تعاون سے ایک عبوری رپورٹ نومبر1978ءمیں اور حتمی رپورٹ جون 1980ء میں پیش کی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کا لب لباب یہ تھا کہ : بلاسود بینکاری نفع ونقصان کی بنیاد پر قائم ہوگی ،بینکوں کا بیشتر کاروبار مشارکت ومضاربت پر مبنی ہوگا اور اجارہ ، مرابحہ ، وغیرہ محض وقتی متبادل کے طور پر استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔1980ء کے آخر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام تجارتی بینکوں کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ 1981ء سے اپنے تمام معاملات غیر سودی بنیادوں پر قائم کرنے کے پابند ہوں گے ۔ اسٹیٹ بینک کے اس حکم نامے کے پیش نظر حکومتی تحویل میں موجود تجارتی  بینکوں نے پی ایل ایس اکاؤنٹ کے نام سے غیر سودی کھاتے کھولنے کی اسکیم شروع کی اور عندیہ دیا کہ رفتہ رفتہ پورے بینکاری نظام کو غیر سودی نظام میں تبدیل کردیا جائے گا ۔اسلامی نظریاتی کونسل نے جسٹس تنزیل الرحمٰن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس منعقدہ 1983ء میں حکومت کو یاد دلایا کہ ملکی معیشت سے سود کے خاتمے کے لئے حکومت نے 1979ء میں تین سال کی جو مدت مقرر کی تھی وہ دسمبر 1981ء میں ختم ہوگئی ہے ۔ لیکن ابھی تک سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس گزشتہ پانچ سال کے دوران حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں وہ موجودہ سودی استحکام کا سبب بن رہے ہیں ۔ پھر 1991ءمیں وفاقی شرعی عدالت، پاکستان کے روبرو ایک مقدمہ بعنوانڈاکٹر محمود الرحمن فیصل بنام سیکرٹری وزارتِ قانون اسلام آباد وغیرہ‘‘ سماعت کے لئے پیش ہوا۔ اس مقدمے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائج متعدد قوانین کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جو سودی لین دین سے متعلق تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ قرآن و سنت میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آئین، حکومت کو اس امر کا پابند کرتا ہے کہ وہ تمام رائج قوانین کو قرآن و سنت میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ڈھالے لہٰذا ان تمام قوانین کو قرآن و سنت سے متصادم قرار دیا جائے جن میں قانونی طور پر سودی لین دین یا کاروبار کی اجازت پائی جاتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے جو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن (چیئرمین) مسٹر جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور مسٹر جسٹس عبید اللہ خان پر مشتمل تھا، ۷ ؍فروری    1991ء    سے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ ۲۴؍ اکتوبر   1991ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ۱۴ ؍نومبر  1991ء کو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت نے ۱۵۷ صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلہ صادر کیا۔سودی نظام کےخلاف یہ جنگ پھر بھی جاری رہی۱۹۹۹ء میں بھی پھر اس کیس کی سماعت ہوئی ۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ’’سود کا مقدمہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا اور خاص کر سود مخالف فریقین نے کسی مالی طمع کے بغیر جانفشانی اور دینی جذبے کے تحت کراچی سے اسلام آباد تک، جس پرجوش انداز میں اسلامی موقف کی پیروی کی، اس کی روشنی میں، سود کے خلاف اس عدالتی جنگ کو اگر عدالتی جہاد کہا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔پاکستان میں رائج سودی نظام کے خلاف اس تاریخی مقدمہ کی سماعت عدالت ِعظمیٰ کے فل بنچ نے کی۔ یہ بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمن خان (چیئرمین) مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد، مسٹر جسٹس منیر اے شیخ، مسٹر جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پر مشتمل تھا۔اس  کیس میں  سپریم کورٹ کی درخواست پر بین الاقوامی  سکالرز   اور  جید علماء نے  سود کےخاتمہ  پر دلائل پیش کیے۔اس موقعہ پر عظیم اسلامی اسکالر  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾   مدیر اعلیٰ  ماہنامہ’’  محدث‘‘   لاہوروسرپرست  اعلیٰ جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کو  سپریم کورٹ نے  مقدمہ سود میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے مدعو کیا حافظ صا حب نے  علمی  انداز سے اپنے دلائل مذکورہ فل پنچ کے سامنے پیش کیے   حافظ کی معاونت کے لیے راقم  کو بھی ان کےساتھ جانے کا موقع ملا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پاکستانی معیشت سے  خاتمہ سود کےلیے  اسلامی نظریاتی کونسل  کی رپورٹ کا خلاصہ  ‘‘  جنرل محمد ضیاء الحق    کے حکم پر اسلامی نظریاتی کونسل کی  طرف سے پیش جانے والی  رپورٹ  کا  خلاصہ ہے  یہ رپورٹ جسٹس تنزیل الرحمٰن  کی صدارت میں  کونسل نے  منظور کی تھی جو  جنرل  محمد ضیاء الحق  کی خدمت  میں پیش  ہوئی ۔یہ رپورٹ اپنے موضوع پر دنیا میں سب سے پہلی کوشش تھی جس کی تیاری میں نہ صرف صاحب بصیرت علمائے دین  بلکہ جدید اقتصادیات  وبینک کاری کے  پیچیدہ  علمی اور فنی مسائل کا گہرا شعور  وادراک رکھنے والے  اہل نظر  حضرات کا وسیع تجربہ بھی شامل ہے ۔ استیصال  سود کے موضوع  پر کونسل کی یہ رپورٹ مقدمہ  کےعلاوہ  پانچ ابواب اور ایک اختتامیہ پر مشتمل ہے  جس میں کونسل کے اخذ کردہ نتائج اور اس کی سفارشات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کی تیارہ کردہ  طویل رپورٹ کا    خلاصہ کونسل کے چیئرمین نے   ہی کیا  ہےجسے صدیقی ٹرسٹ  ،کراچی نے شائع کیا  اور اب  کتاب وسنت سائٹ کےقارئین کےلیے پیش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ  وطن عزیز کو سود کی لعنت سے  پاک فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اولین 8
پیش لفظ 9
مقدمہ 15
باب اول مسائل مشکلات اور ان کے حل کی تدابیر 21
اسلام میں سود کی ممانعت 21
اسلام میں نفع و نقصان میں منصفانہ حصہ داری کی حوصلہ افزائی 23
سود کا حقیقی متبادل 24
نفع و نقصان میں شراکت 25
نفع و نقصان میں شرکت کے اصول 25
سود کی متبادل چند دیگر صورتیں 28
بیع موجل 28
پٹہ داری 30
سود کے خاتمہ کی چند ممکنہ صورتیں 30
حق الخدمت( سروس چارج ) 31
امانتوں اور قرضوں کا اشاریہ 32
ملکیتی کرایہ داری 33
سرمایہ کاری بذریعہ نیلام کاری 34
عمومی شرح منافع پر سرمائے کی فراہمی 34
قرض بعوض قرض 35
خصوصی قرضے 36
نئے نظام کی کامیابی کے لیے بعض تحفظات 37
سود کے خاتمہ کے لیے عملی منصوبہ 40
پہلے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 42
سرکاری لین دین 42
بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کا لین دین 44
دوسرے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 45
تیسرے مرحلے کے لیے مجوزہ اقدامات کا آغاز 45
باب دوم تجارتی بینکاری 47
مال کاری کا کاروبار 48
قائم سرمایہ کاری کے لیے فراہمی مال 48
رواں سرمائے کی ضرورت کے لیے رقم کی فراہمی 50
قلیل المیعاد مالکاری 52
درمیانی اور لمبی مدت کے لیے زرعی قرضے 53
تجارتی شعبہ 54
تعمیرات 55
نقل وحمل 55
دیگر شعبے 55
ذاتی قرضے 55
متفرق لین دین 58
اسٹیٹ بینک سے مالی امداد کا حصول 58
بیرونی ممالک سے بینکوں کا سودی لین دین 58
باب سوئم خصوصی مالیاتی ادارے 60
نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ 60
انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان 63
ہاؤس بلڈنگ فننانس 66
پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انویسٹمنٹ 70
نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس 71
پاکستان زرعی ترقیاتی بنک 73
چھوٹے کاروبار کی مالکاری کی کارپوریشن 74
فنانس 75
مساویانہ حصہ داری 75
وفاقی بینک برائے امداد باہمی 77
باب چہارم مرکزی بینکاری اور زرعی حکمت عملی 77
کم سے کم زر محفوظات کی ضرورت 78
نقد پیری کے تناسب کی ضرورت 79
بینکوں کے قرضے 79
ترجیحی شعبے میں مال کی فراہمی 79
تمیزی اعتبار کا انضباط 80
ہدایات کا اجراء 80
مرکزی شرح سود 81
تجارتی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو اسٹیٹ بینک کی مالی امداد 82
کھلے بازار کا طریق کار 82
اسٹیٹ بینک بحیثیت بینک کار برائے حکومت 82
غیر ملکی امدادی ایجنسیاں 83
متفرق داخلی لین دین 83
زری پالیسی 83
بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کا لین دین 84
باب پنجم حکومتی لین دین 86
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اندرون ملک قرض گیری 86
خوانے کی ہنڈیاں 87
اسٹیٹ بینک کے حکومت کو قرضے 87
اجناس کی خرید و فروخت کے لیے حکومت کی قرض گیری 88
بیرونی ذرائع سے حکومت کی قرضہ گیری 89
خود مختار کارپوریشنوں اور بلدیاتی اداروں وغیرہ کے قرضے 89
پراویڈنٹ قرضے 89
تقاوی قرضے 90
سرکاری ملازمین کو قرضے 90
تعزیری سود 90
اضافات بین الاقوامی سیمینار کی قرارداد 93
رپورٹ پر نظرثانی 95
ملکی معیشن سے استیصال سود 101
پاکستان میں رائج سود سے پاک بینکاری کا جائزہ 108
امتناع ربوا 116
رپورٹ پر تبصرہ 1 118
رپورٹ پر تبصرہ 2 124
مقالہ خصوصی 128

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ برصغیر

مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال

مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال

 

مصنف : آرپی ترپاٹھی

 

صفحات: 586

 

سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا کیونکہ بابر کے پاسبارود اور توپیں تھیں جبکہ ابراہیم لودھی کے پاس ہاتھی تھے جو توپ کی آواز سے بدک کر اپنی ہی فوجوں کو روند گئے۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔سلطنت مغلیہ کے قیام اور اس کے عروج وزوال کے متعلق دسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مغلیہ سلطنت کا عروج وزوال‘‘ایک عظیم مؤرخ ڈاکٹرآرپی ترپاٹھی  کی کتاب’’ہسٹری آف دی مغلس‘‘ کااردو ترجمہ ہے  ڈاکٹر آرپی مغل تاریخ  سند کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور ان کی یہ  کتاب اپنے موضوغ پر غیر معمولی شہرت رکھتی ہے مصنف نے  اس کتاب میں  مغلیہ دورمیں  ملک کی اقتصادی اور ثقافتی ترقی کااحاطہ کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
بابر 15
لودی کا سلطنت 35
ہمایوں 85
دوسری افغان سلطنت 112
شیر شاہ 144
اسلام شاہ 173
دوسری افغان سلطنت کا انحطاط 190
اکبر اعظم۔ دور اتالیقی 208
امراء کے ساتھ کش مکش 218
اکبر کی فتوحات ۔میواڑو مالوہ 240
رانا پرتاب حکراں میواڑ 260
استحکام سلطنت 271
اکبر کی کامیابی 307
سلطنت کی توسیع 343
دکن 364
جہانگیر 404
مصالحت ۔سرحدی مسائل 439
بغاوتیں ،شاہجہاں، مہابت خاں 455
جنگ دکن کا دوسرا مرحلہ او بعد کے حالات 512
جنگ وراثت 547

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام بریلوی تاریخ تاریخ و سیرت سیرت علماء

مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے

مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے

 

مصنف : ڈاکٹر شفیق احمد

 

صفحات: 467

 

مولانا مہر غلام رسول(1895-1971) غلام رسول مہر کا وطن جالندھر ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم پائی، بعد ازاں حیدراباد دکن تشریف لے گئے اور وہاں کئی برس تک انسپکٹر تعلیمات کی خدمت انجام دی۔ 1921ء میں لاہور سے نکلنے والے اخبار”زمیندار” کے ادارہ تحریر میں شامل ہو گئے کچھ عرصہ بعد”زمیندار” کے مالک بن گئے۔ پھر مولانا سالک کے ساتھ “انقلاب” کے نام سے اپنا وہ مشہور اخبار نکالا جس نے مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ میں بڑا حصہ لیا۔ مولانا مہر گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال کے رفیق تھے۔ اس دوران انہوں نے یورپ اور مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کا سفر بھی کیا۔”انقلاب”بند ہو جانے کے بعد تصنیف و تالیف میں ہمہ تن گوش ہو گئے۔ لاہور میں سکونت پذیر رہے۔ اور لاہور میں ہی انتقال ہوا۔مولانا مہر نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ ۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے۔ ۔ سوانحی و تاریخی کتابوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے ‘‘ڈاکٹر شفیق احمد کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے تیں ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔پہلے باب میں مولانا مہر کے سوانحی حالات دوسرے باب میں مولانا کی علمی خدمات کا تعارف او رتیسرے باب میں اردو وزبان وادب کے حوالے سے مولانا مہر کی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 9
پہلاباب:حیات اورشخصیت 13
سوانح حیات 13
بیرون ملک سفر 84
ازواج واولاد 98
شخصیت 107
دوسراباب:تصانیف مہرکاسرسری جائزہ 127
تصالیف 127
سرت امام ابن تیمیہ 135
غالب 136
سیاسیات۔اسلامیان ہند 137
آزادی کی جنگ 148
جوزیقین 138
مختصرتاریخ اسلام 239
سیداحمدشہید 139
جماعت مجاہدین 141
سرگزشت مجاہدین 143
1857ع کےمجاہد 145
تاریخ سندھ 146
سرورعالم 147
جنرل سرعمرحیات خاں ٹوانہ 148
تالیف وترتیب 149
خطوط غالب 149
سرود رفتہ 151
لقش آزاد 154
تبرکات آزاد 154
باقیات الرجمان القرآن 157
تاریخ ارادت خاں 160
قصائدومثنویات فارسی 161
قطعات رباعیات ترکیب ہند 161
ترجیع ہندمخس 161
البیائےکرام 164
تشاریح مہر 165
مطالب بال جبریل 165
مطالب ضرب کلیم 165
مطالب اسرارورموز 166
مطالب بانگ درا 166
نوائےروش 166
تراجم 168
طبقات ناصری 168
مطالعہ تاریخ 168
اخلاق نقطہ نگاہ 169
جزائزفلپائن سرزمین اورباشندے 169
فکرجدیدکےسانچے 169
ہٹلرکاعروج وزوال 170
اڑن کھٹولےسےجٹ طیارےتک 170
تاریخ تہذیب 170
بہترلکرانی بہترمدارس 171
پاکستان معاشرہ اورثقافت 171
تخلیق 172
خوداعتمادی بڑھائیے 172
سائنس اورعقل سلیم 174
فکرسلیم کی تربیت 173
وہ لوگ جنہوں نےدلیابدل ڈالی 173
آزادی کےجنم دن 174
یلجیم سررزمین اورباشندے 174
جاپان سرزمین اورباشندے 175
خلامیں سفرکی پہلی کتاب 175
اٹلی سرزمین اورباشندے 175
اسلامی مملکت وحکومت کےبنیادی اصول 176
ترکی سرزمین اورباشندے 176
جنگ عظیم 176
قسطنطنیہ 177
اسلام صراط مستقیم 178
تاریخ شام 179
جزیہ اوراسلام 180
سکندراعظم 180
تاریخ لبنان 181
عرب اوراہل عرب 181
کتابیں اورجنہوں ندلیابدل ڈالی 181
میرےاندرکیاہے 182
سوتاریخی واقعات 182
طیاروں کی پہلی کتاب 182
موٹروں کی بہلی کتاب 182
آزادی ہندکی کتاب 183
اسلام اورقالون جنگ وصلح 183
اسلام اورقالون جنگ وصلح 184

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام رشد سیرت سیرت تابعین

اکیس جلیل القدر تابعین کرام رحمہم اللہ تعالی

اکیس جلیل القدر تابعین کرام رحمہم اللہ تعالی

 

مصنف : محمد عبد الرحمان مظاہری

 

صفحات: 356

 

بنی نوع انسان کے لئے اسلام نے جو دستور حیات دیا ہے وہ علم وعمل کا مجموعہ ہے۔اسلام میں علم کا بے عملی اور عمل کا بے علمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔علم وعمل کے اس اجتماع سے دستور حیات نے تکمیل پائی ہے۔اسی دستور حیات کا کامل ومکمل نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے۔حیات انسانی کے جتنے بھی اعلی نمونے ہو سکتے تھے ،وہ سب نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس میں جمع ہو گئے ہیں،اور قیامت تک آپ ﷺ کی حیات طیبہ کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں صحابہ کرام   بقدر استطاعت حصہ پا کر اس کامل نمونے کے امین ومحافظ قرار پائے۔پھر اسی امانت کو انہوں نے تابعین عظام﷭ تک پہنچایا اور تابعین حضرات نے تبع تابعین﷭ کے حوالے کیا۔صحابہ کرام ،تابعین عظام اور تبع تابعین حضرات کے وجود مسعود سے اسلام کے تین زریں دور وجود میں آئے۔اسلام کی معراج کمال کے یہ تین ادوار ہیں،جن پر اسلام کی عظیم عمارت قائم ودائم ہے۔قرآن مجید نے ان تینوں ادوار کی رشد وہدایت اور ان کے صلاح وفلاح کی شہادت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب” اکیس جلیل القدر تابعین کرام﷭”محترم مولانا محمد عبد الرحمن مظاہری ناظم مجلس علمیہ حیدر آباد دکن کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے حضرات تابعین عظام﷭  میں سے  اکیس جلیل القدر تابعین  کے حالات زندگی کو قلمبند کیا ہے،اور ان کی دینی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو تابعین عظام ﷭کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
تعارف حضرت مولانا ابو الحسن علی الحسن الندوی 4
تقدیم 5
سیرت حضرت اویس بن عامر القرنی  13
سیرت امام ابو مسلم الخولانی  29
سیرت امام ربیع بن خیثم  48
سیرت امام علقمہ بن قیس  اور امام اسود بن یزید 62
سیرت قاضی شریح بن الحارث  74
سیرت حضرت عروہ بن الزبیر 90
سیرت امام سعید بن المسیب 104
سیرت امام سعید بن جبیر 128
سیرت امام عامر بن شراحیل الشعبی  146
سیرت امام طاؤس بن کیسان  157
سیرت حضرت القاسم بن محمد بن ابی بکر ؓ 171
سیرت امام حسن بصری  184
سیرت امام محمد بن سیرین  203
سیرت امام عطاء بن ابی رباح 218
سیرت قاضی ایاس بن معاویہ  234
سیرت امام محمد بن مسلم ابن شہاب زہری 256
سیرت امام ربیعۃ الرائے  269
سیرت امام سلمہ بن دینار ابو حازم  285
سیرت امام سلیمان بن مہران اعمش 301
سیرت حضرت عامر بن عبد اللہ التمیمی  311
سیرت شاہ البخاشی  321

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام پاکستان سیرت علماء فارسی قیام پاکستان

حیات سلیمان

حیات سلیمان

 

مصنف : شاہ معین الدین احمد ندوی

 

صفحات: 600

 

برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ حیات سلیمان‘‘ مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل کتاب ’’تاریخ اسلام ‘‘ کے مصنف شاہ معین الدین احمد ندوی﷫ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتا ب کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے سید صاحب کے وطن ، خاندان او رتعلیم، دار المصنفین کاقیام اور اس کے کاموں کا آغاز ، قیام بھوپال ، ہجرت اور قیام پاکستان اور ان کے ذاتی حالات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے سید سلیمان ندوی ﷫ کی زندگی بھر کے احوال و آثار ، حیات وخدمات کو جاننے کے لیےایک جامع کتاب ہے ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 1
باب اول وطن ،خاندان اورتعلیم 6
وطن 6
نسب وخاندان 7
پیدائش 8
ابتدائی تعلیم 9
بڑے بھائی کی تربیت میں 9
مولانا اسماعیل شہید کی تقویۃ الایمان 9
خاندان اورگاؤں کی عورتوں کو عقائد صحیح کی تلقین 9
تقویۃ الایمان کااثر 10
خانقاہ پھلواری شریف میں 11
مدرسہ امدایہ دربھنگہ میں 12
ابتدائی اساتذہ تعلیم 12
پٹنہ میں ندوۃ العلماء کاسالانہ اجلاس 12
اس کی رواسید صاحب کےقلم سے 13
دارالعلوم ندوۃ العلما میں داخلہ 15
علمی وتعلیمی انہاک 17
مولنا فاروق صاحب چریا کوٹی سےاستفادہ 18
مضمون نگاری کا آغاز 19
شعرواداب سےدل چسپی 20
عربی میں قصیدہ 20
ندوۃ مین مولنانا شبلی کی آمد 21
مولانا شبلی سےپہلی ملاقات 23
مولنا شبلی کی شان میں فارسی قصیدہ 23
ندوہ کی تعلیمی اصلاح وترقی 25
مولنا شبلی سےخصوصی استفادہ 26
عربی مضمون نگاری کی مشق 26
مختلف فنون کامطالعہ 27
عربی میں ایک تاریخی تقریر 28
ہندوستان میں اسلام کی اشاعت پرفی البدیہہ تقریر 29
مولانا شبلی کاجوش مسرت 30
باب دوم: 30
تعلیم سےفراغت 30
رسالہ الندوہ کی سب ایڈیٹری 31
ایڈیٹری کےدور کےبعض مضامین 32
دارالعلوم ندوہ میں بحیثیت نائب ادیب کےتقرر 32
دروس الادب اورلغات جدیدکی تالیف 33
شعبہ تصیح اغلاط تاریخی قیام اوراس کی نظامت 33
شعبہ تبلیغ سلام کی نشامت 35
سیرت النبی کے اسٹاف میں 35
مدارس کانفرنس کےاجلاس بنگلور میں شرکت 36
ایک تاریخی مکتوب 37
بنگلور 37
کانفرنس 38
میسور 40
سیرت نگاری کی تربیت 49
ندوہ کی اسٹرائک 52
الہلال کلکتہ کی مجلس ادارات میں 52
مسجد کان پور کی شہادت 53
سیدصاحب کاایک پرجوش مضمون 54
اس دور کےچند اورمضامین 55
غیرآئینی خوں بریزی 56
دکن کالج پونہ کی پروفیسری 57
سیرت عائشہ اورارض القرآن کی تالیف 59
دارلمصنفین کاابتدائی تخیل 61
ندوہ کے1910ء کےاجلاس دہلی تقریر 63
باب سوم 67
دارالمصفین کاقیام اوراس کےکاموں کاآغاز 67
دارالمصفین کےلیے ضروری انتظامات 68
مولانا شبلی کامرض الموت 69
سیدصاحب کی آمد 71
تکمیل سیرت کی وصیت اوروفات 71
نوحہ استاد 72
دارالمصفین کی تاسیس 75
دارالمصفین کی پہلی سالانہ روداد 77
دارالمصفین کی ضرورت معمار 77
دارالمصفین کےقلم سے 78
ہمارافقرا علمی 78
علوم اسلامیہ کی بقا 79
علوم جدیدہ کےتراجم 80
فقدان رجال 81
دارالمصفین 83
دارالمصفین کےلیے اب تک کیاہوا 84
مجلس اخوان الصفا 84
دارالمصفین کی مجلس کاانتخاب اوراس کےکاموں کاآغاز 86
دکن کالج پونہ سے استفسا 87
ارض القرآن اورمکاتیب شبلی کی اشاعت 89
پریس کاقیام اورمعارف کااجرا 91
معارف کےلیے پہلے نمبر کااداریہ 91
مولوی بشیرالدین مرحوم کی مخالفت 97
دارالمصفین کی تقلید میں بعض اداروں کاقیام 99
دارالمصفین کےکاموں کاخاکہ 99
دارالمصفین کاکتب خانہ 101
بیوت المصفین 102
وظائف اورسرمایہ مالی 103
دارالتصیف 105
ارود انسائیکلوپیڈیا کی تدوین کی تجویز اوراسکاخاکہ 109
قیدیم اورنادرکتابوں کی تلاش اوران کی اشاعت کی تحریک 122
ہورول سےپہلے ہوم لینگویج 125
مسلمامان ہندکی مذہبی تنظیم 130

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
History Islam

Deccan Mein Mersia Aur Aiza Dari By Dr Rasheed Mosvi

Deccan Mein Mersia Aur Aiza Dari
By Dr Rasheed Mosvi
دکن میں مرثیہ اور عزا داری
تحریر: ڈاکٹر رشید موسوی

Download from Mediafire