Categories
Islam اسلام پردہ و حجاب اور لباس تمدن زبان سود نماز

شرعی پردہ

شرعی پردہ

 

مصنف : قاری محمد طیب

 

صفحات: 128

 

اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی پردہ ‘‘دیوبند مکتبہ فکر جید عالم دین مولانا قاری محمد طیب صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع،پردہ کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید اور وجہ تالیف 5
مسئلہ حجاب کی بنیادی علت 9
پردہ خود مقصود نہیں، بنیادی علت مقصود ہے۔ 9
بنیادی علتوں کی چند مثالیں 10
تصویر کی مثال 10
حرمت سود کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
قتل کلاب کی مثال 15
پردہ کا حکم انسداد فحش کے لیے ہے۔ 16
فحش کے آثار بد 17
فحش کی حرمت 20
پردہ کی ابتدائی صورت 20
تبرج جاہلیت 20
جاہلیت اولےٰ 22
جاہلیت حال 23
موجودہ جاہلیت اور فحش کے چند نمونے 24
پردہ کے پروگرام کی تربیت 30
ستر اشخاص 30
عورت کی بنیاد ستر حجاب 30
حکم استیذان 31
گفتگو پس پردہ 32
موجودہ تمدن کی بیباکی عورت کے باہر نکلنے شروط 33
معاشرتی قیور 34
عباداتی قیور 35
عورت کی امامت کی پردہ کی نوعیت 45
عورت کی انفرادی   نماز میں پردہ کی وضع 50
مسئلہ حجاب اور مسئلہ ستر 51
تمدنی قیود 61
خیالی پردہ 62
حجاب کی جزئیات کا خلاصہ اور منشاء شریعت 64
حجاب اور بے حجابی میں مشرق مغرب کی عورتوں کا موازنہ پردہ کے بارہ میں یورپ کی رجعت 70
عورت کے لیے کثرت معلومات قابل مدح نہیں۔ 72
مسئلہ حجاب کا دفاعی پہلو 78
پردہ پر پہلا اعتراض 78
دوسرا اعتراض اور اس کا جواب 84
عورتوں کی خرابیٔ صحت کا اصل منشاء 89
بے حجاب اقوام کی صحتیں بھی درست نہیں۔ 91
پردہ پر تیسرا اعتراض باپردہ عورتوں میں فضل وکمال اور اس کی چند مثالیں 102
تعلیم میں پردہ معین ہے اور بے بردگی مخل ہے۔ 107
ستر و حجاب کا فرق 110
پردہ کہاں کہاں   غیر ضروری ہے؟ 118
پردہ کہاں کہاں ضروری ہے؟ 121
پردہ کے بارے میں تین طقطۂ ہائے نظر 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زنا سنت سود سیرت النبی ﷺ طلاق قانون و قضا متعہ محدثین نبوت

شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے

شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے

 

مصنف : محمد بن فرج المالکی القرطبی

 

صفحات: 299

 

کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپﷺ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ کتاب” شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہﷺ کے فیصلے  ‘‘ امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   کتاب ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘  کا  اردو ترجمہ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پرمشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔اس کتاب    میں  مصنف نے  وہ تمام فیصلے درج  کردئیے ہیں جو  فیصلے آپ نے خود فرمائے یاوہ فیصلے کرنے کا  آپ نے حکم فرمایا  ہے۔کتاب ہذا کا  ترجمہ    مولانا عبد الصمد ریالوی﷾ نے کیا ہے  اوراحادیث کی تحقیق وتخریج کا کام الشیخ طالب عواد نے کیا ہے۔ ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے   بھی تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر شائع کیا تھا۔یہ اس  نسخے کا ترجمہ تھا جس پر ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے تحقیق وتخریج کا  کام  کر کے   جامعہ ازہر ،مصر  سےپی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 11
اہل کفر میں سے محاربین کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 16
قاتل کو بادشاہ کے پاس کیسے لے جایاجائے اور قاتل سے کیسے اقرار لیاجائے 19
رسول اللہ ﷺ کاپتھر سے قتل کرنے والے کے بارہ میں فیصلہ 23
رسول اللہﷺ کااس حاملہ عورت کے متعلق فیصلہ جس کاحمل گرادیا گیاہو 24
جس مقتول کاقاتل معلوم نہ ہواس میں قسامت کے متعلق نبی ﷺ کافیصلہ 25
نبی ﷺ کااس شخص کے متعلق فیصلہ جس نے اپنے ماں باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا 30
نبی ﷺ کااس مقتول کے متعلق فیصلہ جو دو بستیوں میں مراہوملے 31
نبی ﷺ کازخموں کے قصاص کے متعلق فیصلہ 32
دانت کے متعلق نبی ﷺ کافیصلہ 33
شادی شدہ اگر زنا کااقرار کرےتو اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 34
آپﷺ کازنامیں یہود پر رحم کرنے کافیصلہ 38
رسو ل اللہﷺ کاحرام صلح کے توڑنے کاحکم 41
حدقذف وخمر میں رسول اللہﷺ کاحکم 45
چوراورباربار چوری کرنے والے کے متلعق رسول اللہﷺ کاحکم 48
جو مسلمان ذمی یاحربی آپﷺ کاگالی دے اسکاحکم اورجادو گرکے بیان میں کہ وہ کیسے قتل کیاجائے 51
اہل کفر کے متعلق رسول اللہ ﷺکاحکم 52
کتاب الجہاد
اسلام میں مشرکوں کاپہلامقتول اور پہلی غنیمت 55
جاسوس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 58
قیدیوں کےمتعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ جس کو نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے قتل کریں 62
قریضہ اور نضیر کے متعلق آپﷺ کافیصلہ 69
فتح کے سال رسول اللہﷺ کاامان دینے کافیصلہ 77
غنیمت کے حصہ جات غائب کاحصہ ارو عورت کو کچھ دینے کے متعلق آپﷺ کافیصلہ 89
حنین کےدن قاتل کے لیے رسول اللہﷺ کاسلب مقررکرنا 98
مشرکوں نے مسلمانوں کےجومال لےلیے پھر جب مسلما ن غالب آئیں تو مشرکین انہیں واپس کردیں اس کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ 99
اگر کوئی معاہد یاحربی رسو ل اللہﷺ کو تحفہ دے تو اس میں آپ کاکیا فیصلہ ہے 101
مال فے کی تقسیم جس طرح مناسب سمجھیں آپﷺ فیصلہ کریں 104
خیبر اور بنونضیر کے اموال کی تقسیم کے متعلق رسو ل اللہ ﷺ کااحکم 109
آپﷺ کے ایلچی قتل نہ کئے جائیں کفار سےوعدہ پوراکرو 112
امان کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 115
جزیہ کےمتعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 121
کتاب النکاح
جس بیوہ کاس کی مرضی کےبغیر اس کاباپ نکاح کرجے تو رسول اللہ ﷺ کاحکم 125
جس عورت کاخاوند دخولسے پہلے ہی وفوت ہوجائۃ تو اس کے متعلق رسو ل اللہ ﷺکافیصلہ 127
رسول اللہ ﷺ کااس شخص کے متعلق فیصلہ جس نے کسی عورت سے نکاح کیا عواسے دیکھاوہ حاملہ ہے 129
غائب خاوند پر بیوی کے نفقہ کے متعلق رسو ل اللہﷺ  کافیصلہ 130
رسول اللہﷺ کامہرے کے متعلق فیصلہ 135
رسول اللہ ﷺ کاسیدنا علی ﷜  کو سیدہ فاطمہ ؓ پر نکاح کرنے سے منع کرنے کافیصلہ 138
مجوسی کے متعلق رسو ل اللہ ﷺ کافیصلہ 139
معترض کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ اور نکاح متعہ کاحکم 140
سیدہ میمونہ ؓ سے نکاح کرنے میں رسول اللہﷺ کافیصلہ 142
عورتوں میں باری مقرر کرنے کے بار ہ میں رسو ل اللہ ﷺ کافیصہ 143
دودھ پینے کے بارہ میں ایک عورت کی گواہی پر رسول اللہﷺ کافیصلہ 145
کتا ب الطلاق
حائضہ کی طلاق کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 147
خلع میں رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 151
رسول اللہﷺ کااس لونڈی کے متعلق فیصلہ جوشادی شدہ ہوااور پھر آزاد کردیاجائے 153
رسول اللہﷺ کااس عورت کے متعلق فیصلہ جوعادل گواہ اپنے خاوند کی طلاق پر پیش کردے اور خاوند انکار کررہا ہو 154
رسول اللہ ﷺ کااپنی مملوکہ یمین یعنی لونڈی کے حرام کرنےکی قسم کے متعلق فیصلہ 157
جوشخص تین سے کم طلاقیں دے پھر عدت کے بعد دوسرا خاوند کرے پھر دوسرا فوت ہوجائے یاپرورش کے متعلق  رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 161
ظہار کے متعلق رسول اللہﷺ  کافیصلہ اور اس کے متعلق جوکچھ نازل ہوا 163
رسو ل اللہ کالعان کے متعلق فیصلہ 165
کتاب البیوع
بیع  سلم اور سود کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 171
تجارتی قافلوں کو راستہ میں جاکر ملنے جانوروں کے تھنوں میں دودھ روک کربیچنے عیب دار چیزواپس کرنے اور آمد ن کے ضامن ہونے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 176
مفلس قرار دے کربندش عائد کردینے قیمت اداکرنے سے قبل فوت ہوجانے اور بے علمی میں چوری کامال خریدنے کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 179
آفات سے تباہ ہونے والامال اوراس کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 184
جوشخص خریدوفروخت میں دھوکہ کرے اس کے متعلق رسو ل اللہﷺ کاحکم 188
رسو ل اللہﷺ کایہ فیصلہ کہ ماں بیٹے کو اکٹھے رکھا جائے بیع اور شرط میں آپ کافیصلہ 188
کتاب الاقضیتہ
مشترک رسول اللہﷺ کاظاہر کے مطابق فیصلہ کرنادلیل نہ ہونے کی صورت میں مدعی علیہ کو قسم دینا 188
دومدعیوں میں سے ایک دلیل دے او ردونوں کافی ودانی ثبوت دیدیں مسلم اور کافر کس طرح قسم اٹھائیں 188
قسم اٹھانے والے کی قسم کی کیفیت کے متعلق رسول اللہ ﷺکافیصلہ 193
مردہ اراضی آباد کرنے پانی کی تقسیم ڈاکٹر کاضامن ہونےکسی کاپیالہ توڑ دینے اور لکڑی کی کو ٹھڑی بنانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 193
شفع کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 206
حصہ داری اور مزارعت کاحکم 207
مساقات آب پاشی صلح منافع اور کھجور کی حفاظت کی حدسکے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 210
کتاب الوصایا
وصیت کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 215
اوقاف اور احباس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 217
صدقات ہدایا  (ہبہ )عمر ی (صدقہ ) اور ان کے ثواب کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 215
تشبیہ والی چیزوں میں رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 227
غلاموں کی آزادی قرعہ اندازی کی وصیت خاوند والی مدبر ہ امہات الاولادارو مکاتب کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 230
جس غلام کامثلہ کیاجائے یااس کے چہرے پر تھپڑا مارگیاتواس کو آزاد کرنے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 237
گری ہوئی چیز کے متعلق رسو ل اللہﷺ کافیصلہ 239
ایسے شخص کے متعلق جوکہے کہ میرا باغ فی سیبل اللہ صدقہ ہے اور یہ رشتہ داروں پر صدقہ ہے اور غائب آدمی کے مال کو وقف کرنے ارو تقسیم مال پر کسی کو وکیل کرنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 242
امانات کے متعلق رسول اللہﷺ کاحکم 234
عاریۃ لی گئی مغلوب علیہ چیز کاضامن ہونے کے متعلق رسول اللہﷺ کافیصلہ 246
ورثتوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 250
رسول اللہ ﷺ کایہ فیصلہ کہ بچہ بچھونےوالے کاہے اور اس شخص کاحکم جو اپنے باپ کے مانے کے بعد کسی اپنے نسب میں شامل کرے 257
علم قیافہ کے ثبوت کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ اور اس بارہ میں سیدنا علی ﷜ کے فیصلہ کی تجویز 259
ذوی الارحام کی میراث کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 262
قاتل سے وراثت کو روکنے کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم اور جس نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہ قتل عمدکےمتعلق ہے 264
جس مسلمان کی وصیت پر کوئی نصرانی گواہ ہواس کے متعلق اور جس غلام کاکان کاٹ دیاجائے اور صلح کی جاگیروں کے متعلق اور جو شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تواس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کاحکم 265
کتوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 269
روکے ہوئے پانی کی حدود کے متعلق رسول اللہ ﷺ کافیصلہ 270
اگر وکیل کو مال بیچنے بر فائد ہ ہوتووہ فائدہ صاحب مال کاہوگا 271
مختلف امور میں رسو ل اللہ ﷺ کافیصلہ 273
رسول اللہ ﷺ کانسب 285
نبی ﷺ کو کتتے کپڑوں میں کفن دیا گیا اور آپﷺ کوغسل دینے اور لحد کاذکر 288
حوالہ جات کتب اوراسانید 291

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حلال و حرام زبان سنت سود شروحات حدیث علوم حدیث محدثین معاملات

شرح اربعین نووی 40 احادیث ) عبد المجید سوہدروی )

شرح اربعین نووی 40 احادیث ) عبد المجید سوہدروی )

 

مصنف : عبد المجید سوہدروی

 

صفحات: 105

 

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکی ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’شرح اربعین نووی‘‘ مولانا حکیم عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی ہے۔انہوں نے کتبِ احادیث کا ترجمہ کرنے کا آغاز اربعین نووی سے ہی کیا اور ساتھ ہی بڑی آسان ، معاشرتی اوراخلاقی پہلوؤں پر مشتمل اور بہت سے نکات کی حامل شرح لکھی۔ جو پہلی بار 1955ء میں شائع ہوئی۔اس کےبعد اب جناب مولانا محمد نعمان فاروقی صاحب (مدیر مسلم پبلی کیشنز )نےاسے بڑی عمدہ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔اپنی افادیت کےباعث یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے خواتین کےمدارس میں عمومی طور پر اور بچوں کے مدارس کی ابتدائی کلاسوں میں اور دینی سکولوں کےنصاب میں شامل کیا جائے ۔جن احباب نےبھی کتاب کوطباعت کےلیےتیار کرنےمیں حصہ لیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 9
پیش لفظ 11
سیرت امام نووی  13
نیت اور ارادے کی اہمیت 15
ایمان ، اسلام اور احسان کیا ہیں 17
ارکان اسلام 22
انسان کی ولادت اور اس کے بعد سعادت یا شقاوت 24
دین میں نئے امور 27
حلال و حرام اور ان کے درمیان مشتبہ معاملات 29
دین خیر خواہی کا نام ہے 32
جہاد و قتال کا ایک مقصد 34
بال کی کھال اتارنے والے سوالوں سے اجتناب 36
حرام کے استعمال سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں 38
مشکوک معاملات سے کنارہ کشی 40
اسلام کا حسن 41
دوسرے کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں 42
قتل مسلم کی تین وجوہات 44
اللہ اور آخرت پر ایمان کے چند تقاضے 46
غصہ نہ کیا کرو 48
انسان تو کیا حیوانوں کے ساتھ بھی احسان 49
اللہ تعالی کا ڈر اور لوگوں سے اچھا برتاؤ 51
نصیحت نبوی کے گراں مایہ پہلو 53
شرم و حیا کی اہمیت 57
استقامت 59
نماز ، روزے کا اہتمام اور حلال و حرام کی تمیز 61
صفائی کی اہمیت اور کلمات کی فضیلت 63
جامع ترین حدیث قدسی 66
نیکی میں مقابلہ 69
صدقے کے مفہوم کی وسعت 72
نیکی اور برائی کی تعریف 74
نبی کریم ﷺ کا ایک وعظ 76
جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ مگر کیسے 79
احکام و حدود کی پاسداری 82
اللہ کا محبوب اور لوگوں کا پیارا بننے کے لیے 84
نقصان نہ اپنا نہ دوسروں کا 86
دلیل کے بغیر دعوے بے سود ہیں 87
برائی سے روکنے کے تین مراتب 88
مسلم معاشرے کے چند ضابطے 90
درد دل اور جذبہ حصول علم 93
اعمال نامے میں نیکی اور برائی لکھنے کا ضابطہ 96
قرب الہٰی کی جستجو 98
بھول چوک اور مجبوری قابل گرفت نہیں 100
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے 101

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam حنفی سود سیرت النبی ﷺ طلاق فقہ فقہ حنفی قربانی نماز

شمع محمدی ﷺ

شمع محمدی ﷺ

 

مصنف : محمد جونا گڑھی

 

صفحات: 226

 

ہمارے ہاں کے ارباب تقلید حضرات احناف نے یہ مشہور ےکر رکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں کا ایک مسئلہ بھی خلاف حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز،گودا اور عطر ہے۔بہ کھٹکے اس پر عمل کرنا نجات کا سبب ہے کیونکہ یہ فقہ درجنوں ائمہ اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔فقہ حنفی کے بے شمار مسائل کتاب وسنت سے صریح متصادم ہیں ،جن کا صحابہ کرام ؓ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ  نے زیر نظر کتاب میں با حوالہ اس امر کو ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کو محض کتاب وسنت اور اجماع امت ہی کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص مسلک ومذہب کی۔چونکہ کئی صدیوں سے فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ بتایا جا رہا ہے ،اس لیے حنفی حضرات کے دل  پر یہ بات نقش ہو چکی ہے۔زیر نظر کتاب کے منصفانہ مطالعہ سے اس کی قلعی کھل جائے گی اور ایک سچا مسلمان کبھی بھی کتاب وسنت کے خلاف کسی مسئلہ کو تسلیم کرنا تو گوارہ نہیں کرے گا۔خدا کرے کہ اس کتاب سے طالبین حق کو رہنمائی میسر آئے اور مسلمانوں میں وحی الہی کی طرف لوٹنے کا جذبہ بیدار ہو تاکہ اتحاد امت کی راہ ہموار ہو سکے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
مقلدین کا خیال 8
فرق فقہ و حدیث 9
حنفی محمدی اختلاف 10
فقہ مطابق حدیث نہیں 11
امام امتی ہیں نبی نہیں 12
اہل حدیث کی منشا 13
امام ابوحنیفہ کی نصیحت 14
ردرائے کے دلائل 15
امام جعفرؒکی نصیحت 17
چاروں مذہب برحق نہیں 18
اہل حدیث کی حقانیت 19
تقلید اور عمل بالحدیث 20
روایت اور درایت میں فرق 21
درایت فاروقی 22
درایت صحابہ 22
مقلدین کی خطرناک غلطی 23
مذہب مانع عمل بالحدیث ہے 24
مقلد حدیث پر براہ راست عامل نہیں 25
رائے قیاس دین نہیں 26
تقلید اپنی اصلی صورت میں 27
رائے اور روایت 28
ترک تقلید دشمنی امام نہیں 29
تاریخ تقلید 30
محمدی جھنڈا 31
اسلام صرف قرآن و حدیث میں 32
عمل بالحدیث کی تاکید 33
ایجاد تقلید کی تاریخ 34
تقلید کے بعد قرآن و حدیث کی بیکاری 35
اصول مذہب حنفی 38
نصحیت 39
اتفاق و اختلاف 40
ختم مقدمہ 41
وہ حدیث جنہیں حنفی مذہب نہیں مانتا
عورتوں کی باریاں 42
خطاونسایان 43
میت کی طرف کا روزہ 44
جانور کے پیٹ کا بچہ 45
گھوڑے کا حلال ہونا 46
چوری کی مقدار 47
رضاعت کا مسئلہ 48
ہبہ کا مسئلہ 49
باپ کا ہبہ 50
مہر کا مسئلہ 51
پائی ہوئی چیز 53
گم شدہ اونٹ 54
غسل میت 56
خطبے کے وقت دو رکعت 57
ایک وتر 58
استسقاء کی نماز 59
نصاب زکوۃ 60
ہری ترکاریوں کی زکوۃ 61
سورج گہن کی نماز 62
جلسہ استراحت 63
پگڑی پر مسح 64
دوہری اذان کا مسئلہ 66
تیمم کی ہاتھ کی حد 67
آخری وقت کی نماز 68
قبل از مغرب دورکعت 69
جنازہ غائبانہ 70
اکہری تکبیر 71
عورتوں کا مسجد میں آنا 73
سحری کی اذان 74
غلاموں پر ظلم 75
خون مسلم کی ارزانی 76
کتوں کی تجارت 77
مسجد میں نماز جنازہ 78
حرام عورت کی جنت 79
مطلقہ کا نان نفقہ 80
عورتوں کا عیدگاہ آنا 81
عیدکی تکبیریں 82
ان تکبیروں کا موقعہ 83
قربانی کے دن 84
نابینا کی امامت 86
مزارعت کا مسئلہ 87
فقہ کی حلال کردہ شرابیں 88
نشہ ہوا پھر بھی حد نہیں 91
حصول قوت کے لیے شراب نوشی 92
مردہ مچھلی 93
کتے کا جھوٹا برتن 94
بے ولی کا نکاح 95
راگ اور کھیل 97
کعبۃ اللہ کی بے حرمتی 98
بے قبلہ نماز 99
عورتوں کی جماعت 100
نابالغ کی امامت 101
تجارت کا مسئلہ 102
قانون شہادت 103
وترکا مسئلہ 104
انکار فاتحہ 105
قرأت کا واجب نہ ہونا 106
فرضوں میں سنتیں 107
صبح کی سنتیں 108
ان سنتوں کی فضا 109
مطلق سنتوں کی قضا 110
فقہ کا روزہ 111
سودی خوری 112
حلالہ کی لعنت 113
تین طلاقیں 114
رسول اللہ ﷺکے فیصلے کو ٹھکرادیا 115
بآواز بلند بسم اللہ 116
عیدکی تکبیر 118
اعتکاف 119
رد حدیث کا حیلہ 120
فعل رسول اللہﷺ بھی مکروہ ہے 121
جنازہ میں فاتحہ 122
تکبیرات جنازہ 123
مرد کے جنازہ کی نماز 124
نماز جنازہ سے محروم میت 125
خون مسلم کی ارزانی 126
غلاموں سے ناانصافی 127
اسلامی مساوات پر ضرب 128
غلاموں پر ظلم 129
مسافر کی نماز 130
مدت اقامت 131
مسافرت کی حد 132
ایک حنفی مولوی کا اعتراض 133
ناف تلے حدیثوں کا ضعف 135
سینے پر ہاتھ 136
آہستہ آمین کی حدیثوں کاضعف 137
بلندآواز کی آمین 138
الزامی جواب 145
ظہر عصر کا وقت 150
جمعہ کی صبح کی معین سورتیں 155
حدیث کی چارسورتوں کی فقہ میں دس سورتیں 160
وسعت قربانی میں تنگی 165
ہاتھ باندھنے کا زنانہ مردانہ فرق 170
جبریہ طلاق اور ازادگی 175
کفار کو مسلمان کا حکم 180
بوٹی کے بدلے بکرا 185
فقہ میں شراب اور سود کی تجارت 190
دورہ فاروقی 195
مقلدین سے ایک سوال 200
حنفیہ کے نزدیک اور سب مسلمان ملعون ہیں 204
امام صاحب کا مذہب 210
امام صاحب کی والدہ صاحبہ کا واقعہ 215
فقہ کا خلاف حدیث صحابہ و امام و مسئلہ 220
دعا 222

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام خلافت راشدہ سود سیرت سیرت صحابہ نبوت

سیرت ابوبکر صدیق

سیرت ابوبکر صدیق

 

مصنف : محمد رضا

 

صفحات: 174

 

سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمن ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔زیر نظر کتاب بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹی جامعہ ازہر کی لائبریری کے انچارج   علامہ محمد رضا مصر ی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے   سیدنا ابو بکر   صدیق ﷜ کی حیات مبارکہ کے تعارف،آپ کی خلافت کی تشریح آپ کی حکمت عملیوں کو واضح کوبڑے احسن انداز میں واضح کر دیا ہے کتاب ہذا کے مصنف موصوف نے اس کتاب کے علاوہ سیدنا عمر فاروق ،سیدنا عثمان غنی ، سیدنا علی المرتضیٰ ،اور سیدنا حسن وحسین ﷢ کی سوانح حیات بھی   کتب تصنیف کی ہیں ۔ تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مؤلف کا مختصر تعارف 7
دیباچہ 8
مقدمہۃ المحقق 10
مقدمہ 16
حضرت ابوبکرؓ کی زندگی طائرانہ نظر 19
نام و نسب / لقب 19
ولادت 21
کنیت کی وجہ تسمیہ 21
ابوبکرؓ کے آزاد کرعدہ غلام 28
ابو بکرؓ سے مروی مرفوع احادیث 29
حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت 30
ابوبکر کے دیگر فضائل 32
ابو بکرؓ کی تخلیقی ہیئت 33
ابوبکرؓ کی ازواج و اولاد 33
واقعہ سقیفہ اور بیعت ابو بکر 36
سعد بن عبادہ کا خطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کاخطاب 36
ابوبکر صدیقؓ کا خطبہ 38
حضرت حباب بن منذرؓ کا خطبہ 40
حضرت عمرؓ کی جوابی تقریر 40
حباب بن منذرؓ کی دھمکی 41
بشیر بن سعدؓ کی فیصلہ کن تقریر 4 2
حضرت ابوبکرؓ کی تجویز 42
حضرت علیؓ کا بیعت سے پیچھے رہنا 45
رسول اللہﷺ کے بعد افضل شخص 47
رسول اللہﷺ کی تجہیز و تکفین 47
بیعت کے بعد ابوبکرؓ کا خطبہ 49
اسامہ بن زیدؓ کے لشکرکی رونگی 50
ابوبکر صدیقؓ کی لشکر کو وصیت 54
لشکر اسامہ کی روانگی کے فوائد 55
رسول اللہؐ کے دور میں یمن پر باذان کی مارت 55
بلاد عرب میں مدعیان نبوت کا ظہور 56
نبوت کا جھوٹا دعویدار سود عنسی 57
اسود عنسی کا قتل 58
مرتدین سے جنگ 60
طلیحہ اسدی 60
مدینہ پر حملہ 61
لشکر اسامہؓ کی واپسی 63
مرتدین کی طرف لشکروں کی روانگی 63
معرکۂ بزاخہ اور طلیحہ کا شام کی طرف فرار 70
ام زمل بنت مالک کے احوال 73
عیینہ بن حصن کی گرفتاری 74
بنو تمیم کی ہزیمت اور مالک بن نویرہ کا قصہ 75
سجاح اور مسیلمہ کی خیمہ میں ملاقات 76
مالک بن نویرہ 77
حضرت خالد بن ولیدؓ کی شادہ 78
معرکۂ یمامہ 81
حضرت ثابت بن قیسؓ کا خطاب 84
حضرت زید بن خطابؓ کا خطاب 84
حضرت ابو حذیفہ کا خطاب 84
محکم بن طفیل کا قتل 85
مسیلمہ کا قتل 86
حضرت خالدؓ کو قتل کرنے کی کوشش 88
سلمہ بن عمیر کی خود کشی 89
حضرت خالد بن ولیدؓ کا دوسری مرتبہ شادہ کرنا 89
بنو حنفیہ کا نقصان 90
مسلمانوں کا نقصان 90
مسیلمہ کا قافیہ بند کلام 91
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
مسیلمہ کی چند نحوستیں 93
ابن الہیشم اور مسیلمہ کذاب 94
نوزائد بچوں پر مسیلمہ کی نحوست 94
ابو طلحہ نمری اور مسیلمہ کذاب 95
باغ پر مسیلمہ کی نحوست 95
اہل بحرین کا ارداد 97
جارود بن معلیٰ 97
حضرت علاء بن حضرمیؓ کی کرامت 98
خندقوں والی جنگ 99
میں مدہوش 99
دارین کی طرف روانگی 100
مسلمانوں کی فتح 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
راہب کا اسلام قبول کرنا 101
حضرت علاء کا ابوبکر ؓ کے نام خط 102
حضرت ابوبکرؓ کا جواب 103
اہل عمان اور مہر کا مرتد ہونا 103
مہرہ کا تلفظ 103
مہرہ کا محل وقوع 104
اہل مہرہ کا ارتداد 105
یمن کے مرتدین 106
حضر موت اور کندیہ کا ار تداد 107
حضرت خالدؓ کا عراق کی طرف جانا اور صلح حیرہ 111
معرکۂ ذات السلاسل 112
خاندانی اعزاز کی ٹوپی 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
مدینہ میں ہاتھی کی نمائش 113
عورت اور مرد کا قلعہ 113
فارسیوں کی دوسری شکست 115
جنگ ثنی جنگ مزار 115
ایرانی مقتولین کی تعداد 115
معرکۂ و لجہ 116
حضرت خالد بن ولید کا خطبہ 117
معرکۂ الیس 117
خون کی ندی 118
جنگ امغیشیا اور اس کی بربادی 119
حیرہ کا محاصرہ اور اس کا اطاعت اختیار کرنا 120
از اذابہ کا فرار 120
نماز فتح 124
انبار کی فتح 126
عین التمر کی فتح 127
عراق کی طرف قصد 129
معرکۂ الفراض 130
غزوۂ شام 133
ہرقل کی تیاری 138
معرکۂ یرموک 141
رومیوں کا لشکر 144
لڑائی کا جاری رہنا 148
رومیوں کی پسپائی 148
حضرت ابوبکرؓ کی وفات کا اعلان 149
معرکۂ بابل 152
حضرت عمر کی نیابت سے متعلق ابوبکرؓ کا اپنے ساتھیوں سے مشورہ 156
آپ کی تعریف میں 158
حضرت ابوبکرؓ کے دوران خلافت معمولات اور ان کی رہائش 163
مسلمانوں کا بیت المال 164
حضرت ابوبکرؓ کا حج 165
جمع القرآن 165
آپ کے قاضی کا تبین اور عمال 167
حضرت ابوبکرؓ کی مہر 171
حضرت ابوبکرؓ کے اقوال زریں 172

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اصول حدیث انکار حدیث سود علوم حدیث محدثین

صحیح مسلم میں بظاہر دو متعارض احادیث میں تطبیق

صحیح مسلم میں بظاہر دو متعارض احادیث میں تطبیق

 

مصنف : محمد حسین میمن

 

صفحات: 30

 

بعض لوگ سرسری طور پر حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ایسا ہی کچھ طرز عمل سود سے متعلق صحیح مسلم کی دو صحیح احادیث کے ساتھ اختیار کیا گیا،اور احادیث سمجھ میں آنے کی وجہ سے ان کو باہم متصادم قرار دے دیا گیا۔(کتاب پر معترض کا نام موجود نہیں ہے)حالانکہ مسلم شریف کی صحت پر تمام اہل علم کا اتفاق ہےامام مسلم ﷫خود اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔”میں صحیح مسلم میں ہر وہ حدیث نہیں لکھتا جو میرے نزدیک صحیح نہیں ہے مسلم میں تو صرف وہ احادیث لکھیں ہے جس پر اجماع ہوچکا ہے ۔”اور پھر بظاہردو متعارض احادیث کو جمع کرنے کے طریقے بھی محدثین کے معروف ہیں۔لیکن ان معروف طریقوں کو چھوڑ کر سرے سے ہی حدیث کا انکار کر دینا اسلام کی خدمت ہر گز نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب ” صحیح مسلم میں بظاہر دو متعارض احادیث میں تطبیق ” خادم حدیث مولانا محمد حسین میمن کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں معترض کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
معترض کے اعتراضات
صحیح مسلم میں ظاہر دو متعارض احادیث میں تطبیق 1
چیلنج 13
شریعت کا حکم 15
آخر کلمہ 19

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زبان سود سیرت صحابہ سیرت صحابیات محدثین

صحابہ ؓ اکرام اور صحابیاتؓ

صحابہ ؓ اکرام اور صحابیاتؓ

 

مصنف : پروفیسر محمد سلیم

 

صفحات: 307

 

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات ؓن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحابہ کرام ؓ و صحابیاتؓ‘‘ پروفیسر محمد سلیم صاحب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے اسلامی دنیا کے روشن ستارے صحابہ وصحابیات کےتذکروں کو سوال وجواب کی صورت میں سہل اورآسان انداز میں مرتب کرنےکی کوشش کی ہے عامۃ الناس کےلیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے بالخصوص کوئز پروگرام مرتب کرنے والوں او راساتذہ وطلباء کے لیے اس میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔اور یہ کتاب ان لوگوں کے لیے بے حدمفید ہے جو کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حصہ او ل  صحا بہ کرام 12
خلفا ئے راشدین 11
حضرت ابو بکر صدیق ﷩ 11
حضرت عمر فا رو ق﷜ 15
حضرت عثمان  غنی ﷜ 20
حضرت علی المر تضیٰ﷜ 24
او لا د نبی ﷺ و اھل بیت 27
حضرت عبد اللہ 27
حضرت ابر اہیمِ 28
حضرت علی بن ابو العاص 28
حضرت امام حسن ﷜ 29
حضرت امام حسین ﷜ 30
عشرہ مبشرہ صحابہ کرام ﷜ 32
ابو عبید  ہ ﷜بن جراح 32
حضرت سعید بن زید ﷜ 33
زبیر بن العو ام 34
سعد بن ابی وقاص 36
طلحہ بن عبیدا للہ ﷜ 38
حضرت عبد الر حمن بن عو ف 39
صحا بہ کر ام ﷜ 41
حضرت کعب بن ما لک انصا ری 41
حضرت سعید ین عا مر 43
حضرت طفیل بن عمرو دو سی 44
حضرت  عبداللہ ﷜بن حذیفہ  سہمی 45
حضر ت براء ﷜بن مالک انصاری 46
حضرت ثماثہ  ﷜بن اثال 46
حضرت  ابو ایو ب ﷜انصاری 47
حضرت زید﷜ بن حا رثہ 48
حضرت  ابو ہریرہ﷜ 49
حضرت حسان﷜ بن ثا بت 50
حضرت انس ﷜بن ما لک 50
حضرت ابی﷜ بن کعب انصا ری 51
حضرت  ابو مو سی ٰ اشعری 53
ابو قتا دہ ؓ حا رث 54
حضرت ابو طلحہ زید بن سہل 55
ابو سلمہ اکو ع اسلمی ؓ 57
حضرت بر یدہ  بن اےلحصیب اسلمیؓ 58
حضرت ثابت بن اقرم  انصاری ؓ 59
حضرت صخر بن حرب ؓ 59
حضرت ضرار بن از ورا سدمی ؓ 62
حضرت حا ثہ  بن نعمان 63
حمزہ بن عبد المطلب ؓ 64
حا طب بن بلتعہ ؓ 66
حضرت خالد بن ولید ؓ 67
زید بن حا ثہ ؓ 69
حضرت شر جیل  بن حسنہ ؓ 72
حضرت عمرو بن عاص بن وا ئل ؓ 73
حضرت عا سم بن  ثا بت ؓ 73
حضرت عکرمہ بن ہشام 74
حضرت عبا دہ  صامت  انصاری ؓ 75
حضرت عکا شہ  بن صامت انصاری ؓ 75
حضرت  عکا شہ بن محصن  اسدیؓ 76
حضرت سہیل بیضا ءؓ 77
حضرت رافع بن ما لک  انصاری ؓ 78
حضرت اخرم  ؓاسدی 78
حضرت عامر بن ربیعہ عددیؓ
حضرت عبد اللہ بن مخرم ؓ 79
حضرت عیا ش بن ابی ربیعہؓ 80
حضرت عیا ض بن  زبیر  فہری ؓ 81
حضرت عبد اللہ بن شہاب زہری ؓ 81
حضرت قدامہ ؓ بن مطعون 82
سعد بن  خثیمہ  انصاری ؓ 82
 عبداللہ  بن سہیل ؓ 83
خوات  بن جبیر انصاری  ؓ 84
حضرت حا رثہ بن سرا قہؓ 84
حضرت ابن  ابی عو فیؓ 85
حرام بن ملحان  انصاری ؓ 85
ثابت  بن وحدا حؓ 86
عمیر بن حارث بن  ثعلبہ ؓ 86
حریر بن عبد اللہ  الجبلیؓ 87
حضر ت خو لی بن ابی خو لی ؓ 88
حضرت عر وہ بن مسعود  ثقفی ؓ 89
چا رود بن عمر وؓ 89
قیس بن سعد ساعدی ؓ 90
کلثو م بن ہدم انصا ریؓ 91
 ابو ہیشم  ما لک بن التبیان ؓ 92
عو یم بن سا عدہ اانصاری ؓ 92
سہیل بن حنیف انصاری ؓ 93
ربیعہ بن اکشم اسدی ؓ 93
حبیب بن  زید انصاری ؓ 94
 ابو  جابر عبد اللہ ’ انصاری 94
عثمان بن حنیف انصاری ؓ 95
کعب بن عمرو انصاری ؓ 96
عبد اللہ بن رئیس جہمی انصاری ؓ 96
طلیب بن عمیر ؓ 97
 ابو سیر ہ ابی رہیمؓ 98
طفیل بن  ابی حارثؓ 98
حضرات عد اس ؓ 99
خلدو ن سوید انصاری ؓ 101
حضرت جبیرین بن  مطعم ؓ 101
حضرت بلال بن ربا عؓ 102
حضرت بو ذر غفاریؓ 103
حضرت عبد اللہ بن مسعو د ؓ 104
حضرت  حو لطیف  بن عبد العزی ؓ 105
ابان بن سعید ؓ 106
حضرت امیر معا ویہ ؓ 107
حضرت ابو جند ل  ؓ 108
حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ 108
حضرت دحیہ کلبی ؓ 109
ابو مر ثد غنوی ؓ 110
عیتم بن حا رث ؓ 110
خالد بن سعید اموی ؓ 110
خبا ب بن ارات ؓ 111
حضرت صہیب رو می ؓ 112
حضرت ذو الجنا دین ؓ 113
عمیر بن وہب ؓ 114
حضرت عتبہ بت اسید ؓ 115
حضرت عبد ا لرحمن  بن ابو بکرؓ 115
عبد اللہ بن سراقہ ؓ 116
عمار بن یا سر ؓ 116
مرثد بن  ابی مر ثد ؓ 118
مسطح بن اثاثہ ؓ 118
مقداد بن عمرو ؓ 119
حضرت مجمع بن  صالح ؓ 120
معمر بن حارثؓ 120
مقداد بن الا سود ؓ 121
حضرت نعیم   النحام ؓ 122
حضرت یاسر بن عا مر ؓ 123
حضرت   ابو سلمی بن عبد الا سد ؓ 123
عثمان بت مطعون ؓ 124
عامربن ربیعہ عددی ؓ 125
حضرت ابو احمد بن حجش ؓ 126
حضرت جعفر طیار ہا شمی ؓ 126
حضرت متعیس بن حذافہ  ؓ 128
شما س بن عثمان مخزو می ؓ 128
طیب بن  عمیر ؓ 129
حضرت سا ئب بن  عثمان ؓ 131
حضرات سکران بن عمرو ؓ 132
عمر و بن اسعد اموی ؓ 132
قدامہ بن مطعون ؓ 133
حضرت ہشام بن  عا ص 133
اسید بن  حفیر ؓ 133
اسد بن زرا راء  انصا ری ؓ 134
بشر بن  برا ء معرور ؓ 135
حضرت خلاد بن سوید ؓ 137
حضرت رفا عہ بن را فع انصاری ؓ 137
رفاعہ  بن عبد المنذر ؓ 138
زیاد بن لبیدؓ 139
حضرت ابو لبابہ ؓ 140
حضرت سعد بن زید  انصاری ؓ 140
حضرت عمارہ بن خرام انصاری ؓ 141
قتادہ بن القمان انصاری ؓ 141
قطبہ بن عامر ؓ 142
معاذ بن  غفرا ء انصاری ؓ 143
نعمان بن عمر و انصاری ؓ 143
رافع بن ما لک انصا ری ؓ 144
حضر ت سعد بن معاذؓ 145
بر اء بن ما لک انصاری ؓ 146
خبیب  بن عدی  انصاری ؓ 147
حضرت  او س بن صامت انصاری ؓ 149
حضرت بشیر بن سعد ؓ 149
حضرت  جبار بن صخر ؓ 150
عبد اللہ بن جبیر بن مطعم ؓ 150
حضرت  عبیدہ  بن حارث  بد ریؓ 151
حضرت فر دہ بن  عمر و انصاری ؓ 151
ابو رہم غفاری ؓ 152
حضرت زید بن خطاب ؓ 152
مسلہ بن اکو ع ؓ 153
حضرت سعد بن  عبادہ  انصاری ؓ 154
حضرت  صفوان بن معطلؓ 155
عتبہ بن غزوان  ؓ 156
عبد اللہ بن زبیر 157
حضرت عبد اللہ بن جعفر  ؓ 157
حضرت عمیر بن سعد ؓ 158
حضرت عبد اللہ  بن عا مر ؓ 158
حضرت حیل بن الیمان ؓ 159
حضرت خارجہ   بن زید انصاری ؓ 160
قیم بن او س داریؓ 160
قیس بن سعدؓ 161
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ 161
ابو  العا ص بن ربیعہ ؓ 162
حضرت طفیل  ذوالنو رؓ 164
حضرت عبد با لیل ثقفی ؓ 164
حضرت عتاب  بن اسید ؓ 165
حضرت عثمان  بن طلحہ عبد ریؓ 165
حضرت  فضل  بن عباس ؓ 166
حضرت کرز بن جابر فہریؓ 166
ابان بن سعید ؓ(کاتب وحی) 167
حضرت حنظلہ بن ابی عامرؓ 168
عبد اللہ  بن ابی ابکرؓ 168
حضرت  حنظلہ بن ربیعہؓ 169
حا طب  بن عمر وؓ 169
عبد اللہ بن ارقم ؓ 169
عبد اللہ بن زید انصاری ؓ 170
لبید بن ربیعہ ؓ 170
حصہ دوم صحا بیات ؓ
امھات المو منین ؓ 171
ام المو منین  سیدہ خدیجتہ  الکبریٰ ؓ 171
حصرت سودہ ؓ 174
حضرت عائشہ ؓ 177
واقعہ  غزوبنو مصلطق 179
حضرت سید وحفصہ ؓ 180
ام المو منین حضرت زینب بنت خزیمہ 182
سیدہ  ام سلمہ ؓ 183
زینب بن جحش ؓ 186
حضرت جویریہ ؓ 188
حضرت ام حبیبہ ؓ 190
حضرت میمونہ ؓ 192
حضرت صفیہ بنت حئی 193
نبی کریم ﷺ کی نو اسیاں
حضرت رقیہؓ 194
حضرت ام کلثوم ؓ 195
حضرت فاطمہ ؓ 195
صحا بیات
ام ایمن ؓ 195
ام رد مان ؓ 197
حلیمہ  سعدیہ ؓ 199
حضرت ثوبیہ ؓ 200

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان حلال و حرام دار الافتاء زبان سود

ربٰو اور بنک کا سود

ربٰو اور بنک کا سود

 

مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی

 

صفحات: 120

 

دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔” جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب” ربو اور بنک کا سود “عالم اسلام کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی عربی تصنیف  ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم عتیق الظفر صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 5
مقدمہ 11
حصہ اول ربٰو اور بنک کا سود 21
پیداواری اور غیر پیداواری سود 26
حرمت ربو کی حکمت کا مسئلہ 28
کمرشل بنک اور سرمایہ کاری 29
سود میں مصلحت 30
ربو ہے کیا 32
بنک اور کھاتے دار کا تعلق 34
موجودہ بنکاری نظام اور مضاربت 36
کاغذی نوٹ اور سونا 40
دگنا اور چوگنا سود 43
بنکوں کا سود اور زمانہ جاہلیت کا سود 44
سود اور زمین کا ٹھیکہ 45
سود اور حکومتی مداخلت 46
والد اور اولاد کے درمیان سود 47
دنیا میں سود کہیں بھی نہیں 48
سود کے بارے میں اجماع امت 48
حصہ دوم مفتی مصر کے فتوے کا علمی جائزہ 55
انصاف کے ساتھ معاملے کی تحقیق 63
محکمہ ڈاک کے بچت فنڈ پر ایک فتوی 69
سیونگ سرٹیفیکیٹ کے بارے میں حکم کا خلاصہ 73
نظریہ ضرورت پر تنبیہ 74
ایک مسلمان کیا کرے 75
قابل غور نکات 76
خلاصہ کلام 81
ضمیمہ جات 87
مجمع البحوث الاسلامیہ کے اجلاس کی قرارداد 89
مؤتمر اسلامی کی کونسل کی قرارداد 93
رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد 95
کویت میں منعقدہ اجلاس کی سفارشات 99
ازھر فتوی کمیٹی سے ایک سوال 101
بنکوں کے سود کی حرمت میں مفتی مصر کا فتوی 103
مفتی صاحب ( شیخ طنطاوی ) کا دار الافتاء سے جاری کردہ فتوی 105

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعمال حنفی سنت سود سیرت فقہ فقہ حنفی معاملات نبوت

رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ جلد دوم

رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ جلد دوم

 

مصنف : سعید احمد پالن پوری

 

صفحات: 746

 

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ برصغیر کی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ آپ  بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔جس دور میں آپ پیدا ہوئے  وہ تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ مکرمہ گئے تو وہاں عرب شیوخ سے درس حدیث لیاجس سے آپ کی طبیعت میں تقلیدی جمود کے خلاف ایک تحریک اٹھی۔چنانچہ  وہاں سے واپسی پر آپ نے  سب سے پہلے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھائی  کہ دین  کو کسی ایک فقہ میں بند نہیں کیا جا سکتا،  بلکہ وہ  چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔آپ نے اپنی معروف کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے جس کا متعدد اہل علم نے  اردو میں  ترجمہ کیا ہے۔اور اس وقت ضرورت تھی کہ اس کی کوئی شرح بھی ہو تی چنانچہ مولف نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب”رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغۃ” دار العلوم دیوبند کے استاذ مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب  کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے شاہ صاحب کی اس عظیم الشان تصنیف کی شرح کر دی ہے۔یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور افادیت کے پیش نظر  اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، مترجم اور شارح سب کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست مضامین 3۔18
سخن ہائے گفتنی 19۔23
حجۃ اللہ البالغہ کے مضامین کاتعارف 19
شاہ صاحب ﷫ حنفی ضرور ہیں مگر جامد مقلد نہیں ہیں بلکہ محقق حنفی ہے 21
شاہ صاحب ﷫ شیخ ابو طاہر کردی ،مدنی ،شافعی ﷫ سے بے حد متاثر ہوئے ہیں 22
یہ خیال سراسر غلط ہے ک شاہ  صاحب ﷫ تقلید سے بے زار تھے 22
رائے گرامی :حضرت مولانا محمد سالم صاحب زیر فضلہ 24
رائے گرامی :حضرت مولانابرہان الدین صاحب سنبھلی زید مجدہ 25
رائے گرامی :حضرت مولانا ڈاکٹر عبداللہ ندوی زید مجد ہم 26
رائے گرامی :حضرت مولانا زین العابدین صاحب اعظمی زید مجدہ 28
کتاب کاآغاز 31
مبحث ششم سیاست ملیہ کابیان
با ب (1)ملتیں استوار کرنے والے دینی راہ نماؤں کی ضرورت 31
ملتوں کے قیام وبقاء کے لئے دینی راہ نماضروری ہیں 32
دینی راہ نما (عالم دین )کے لئے ضرو رتیں 37
دینی راہ اصلاح کے طریقے وجدان سے جانتے ہیں 38
نبی کاوجدان بحکم وحی ہے 39
علماء کےوجدانیات از قبیل اجتہادات ہیں 39
یہ کیسے معلوم کیاجائے کہ وجدانیات صحیح ہیں؟ 39
وجدانی علم حاصل ہونے  کی دوصورتیں 40
وجدانی علوم لوگوں کو کیسے باور کرائے جائیں؟ 40
باب (2)نبوت کی حقیقت اور اس کی خصوصیات 43۔75
غیب سے علم حاصل کرنے کی صورتیں 43
مفہم کی تعریف ،مفہمین کامرتبہ اور ان کی سیرت کے بارہ عناصر 43
مفہمین کی آٹھ قسمیں :کامل حکیم خلیفہ موید بروح القدوس ہاوی مزگی اما م مندراور نبی 46
نبیوں میں سب سے بڑا مقام اس نبی کاہے جس کی بعثت دوہری ہے یعنی جس کی امت بھی مبعوث ہے اور مفہمین کے تمام انواع کاجامع ہے (نہایت اہم بحث) 50
بعثت انبیاء کے اسباب اور ان کی اطاعت کاوجوب 56
نبی کی پیروی ہر حال میں ضروری ہے اگرچہ لوگ راہ راست پر ہوں 61
بعثت رسل سے تما م حجت ہوتاہے 62
نبوت کے معاملہ کی مثال سے وضاحت 63
اہم معجزات کے اسباب 65
چیزوں میں برکت وطرح سے ہوتی ہے 65
عصمت انبیاء کابیان 68
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ واسلام کامنہاج تعلیم وتربیت 70
باب (3)تما م سماوی مذاہب کی اصل ایک ہ او رقوانین ومناہج مختلف ہیں 76
اصل دین کیاہے اور منہاج وشریعت کیا ہے 79
آئین وشریعت کی ضرورت کیوں ہے 82
شریعت کسی طرح تشکیل پاتی ہے 86
شریعت کا فیصلہ بعثت کے فیصلہ میں مضمر ہوتاہے 91
باب (4)وہ اسباب جن کی وجہ سے مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کے لئے مخصوص شریعتیں نازل ہوئی ہیں 93
پانچ نصوص جواختلاف شرایع کے اسباب پر دلالت کرتی ہیں 63
شریعتوں میں اختلاف کے چار اسباب 98
اختلاف شرائع کےاسباب کثیرہ کامرجع وہ انواع ہیں 104
نوع اول کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوفطری امر کی طرح ہیں 104
شریعتوں میں مستخضر اور غیر متحضر سبھی علوم کااعتبار ہوتاہے 109
نزول شرائع میں لوگوں کے عام وخاص دونوں قسم کے علوم کادرجہ اعتبار کای جاتاہے 113
اکثرنبوت کسی ملت کے ماتحت ہوتی ہے (اختلاف شرائع کی ایک او روجہ ) 114
دوسری نوع کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوعارضی او رطاری ہیں 116
عارضی اسباب میں بنیادی سبب پیغمبر کی خصوصی توجہ اور دعاہے 118
عارضی اسباب کی مثال 119
عارضی اسباب کم سے کم پائے جائیں تو بہتر ہے 119
باب (5)شریعتوں پر مواخذہ کے اسباب 123
مجاز ات :اخلاق وملکات پر ہوگئ یااعمال ظاہر ہ پر ؟ 123
حق بات یہ ہے کہ ثواب وعقاب کاترغیب ظاہری اعمال پر ہوگا اور اعمال میں یہ شان سات وجوہ سے پیدا ہوئی ہے 127
مجازات میں اعمال ظاہر ہ کے ساتھ نیتوں کابھی اعتبار ہاے 135
قو م کو ڈبوکر آدمی حر نہیں سکتا 137
باب (6)حکم اور علت کے رموز 138
حکم کابیان احکام کاراز 138
حکم کی تعریفات اور مطالبہ او رممانعت کی دوصورتیں 139
احکام خمسہ ،وجوب،ندب،اباحت،کراہیت او رتحریم 140
اصولیوں کے نزدیک حکم کی تعریف 142
علت کابیان علت کی تعریف ارو علت کاراز 143
حکم کی بنیادی دو قسمیں حکم تکفی اور حکم وضعی 145
حکم وضعی کی پانچ ہے،علت ،سبب ،شرط،علامت ،او رمائع 145
علت کی اقسام 146
کبھی لوازم علت کوعلت بنایا جاتاہے 151
علت واضح چیز ارو بنیادی مصالح کامظنہ ہونی چائیے 154
جس وصف کو علت بنایا جائے اس میں کوئی وجہ ترجیج ہونی چاہئے 155
وجوہ ترجیج پانچ ہیں تاثیر ظہور انضباط عدم مخلف او رمناسبت 156
علت دریافت کرنے کاطریقہ سیروتقسیم 157
باب (7)ارکان اور آداب وغیرہ تجویز کرنے کی حکمتیں 157۔177
سب عبادتیں اور ان کے اجزا ء یکساں کیوں نہیں 157
ارکان وشرائط کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے 160
فرائض میں محلوظ اصولی باتیں 166
طاعات کی اعلی اور ادنی حدکی وضاحت 167
آداب کی تعین کی پہلی مصلحت (مثبت پہلو سے ) 169
آداب کی تعیین کی دوسری مصلحت (منفی پہلو سے ) 171
فرض کفایہ کی تعیین کی مصلحتیں 175
باب (8)عبادتوں کے لیے تعیین اوقات کی حکمتیں 178۔193
تین اصول جن پر تعیین کی حکمتیں مبنی ہیں 178
اصل اول:عبادت کے لئے وہ اوقات مناسب ہیں جن میں روحانیت پھیلتی ہے 178
ظہور روحانیت کے اوقات اور نمازوں کے لئے ان کی تعیین 181
اصل دوم:عبادت کےلئے مناسب اوقات وہ ہیں جو عبادت گذاروں کے احوال کے مطابق ہوں 187
اصل سوم :تعیین اوقات میں مرعی امور چار ہیں 191
باب (9)اعداد ومقاویر کی حکمتیں 194
اصل اول :طاق عددکی رعایت 194
طاق عدد ایک مبار ک عدد ہے (دلیل نقلی وعقلی) 194
مقاویر شرعیہ میں ایک تین سات اور ان سے ترقی یافتہ عددلے گئے ہیں 196
ایک عدد ہے یانہیں اصول اعداد 1۔9ہیں باقی تمام اعداد فروعات ہیں 196
ایک تین اور سات ہی ایسے طاق اعداد ہیں جو وجوہ طاق ہیں 197
اعداد کوتر قی دینے کاطریقہ 197
اصل دوم :ترغیب وترہیب وغیرہ کے اعداد کی حکمتوں کے لئے ضوابط 202
پہلاضابط:کبھی عددوقتی اطلاع کے مطابق ذکر کیا جاتا ہے حصر مقصود نہیں ہوتا 202
دوسر ا ضابطہ کبھی عدداجتہاد سے مقرر کیاجاتاہے 205
تیسر اضابطہ :کبھی عددیامقدار بطور تمثیل ذکر کی جاتی ہے 209
اصل سوم :جومقدر متعین کی جائے وہ واضح اور معلوم ہونی چاہیے 310
کسر،جز،منطق،اصم ،کی تعریفات 210
فرائض کے سہام کابیان 211
تعیین مقدار کے تین اور ضابطے 212
رکات کی مقداریں اور ان کی حکمتیں 214
مالداری کی تعیین کیسے کی جائے 214
مائے کثیرہ کاانداز ہ قلیتن سے کیا گیاہے 215
باب (10)قضاءاور رخصت کی حکمتیں 217۔228
احکام تکلیفہ کے لحاظ سے بندوں کی دوحالتیں 217
جوہر عمل سے زیادہ عمل کی ظاہری صورت مطلوب ہے 217
جب ادفوت ہوجائے توقضا ضروری ہے اور ادائیگی میں دشواری ہوتو رخصت ضروری ہے 218
نفس کو قابو میں لانے کاطریقہ 219
رخصتوں کے تین اصول 222
اصول اول :رخصت ارکان وشروط کے اصلی درجہ میں نہیں تکمیلی درجہ میں دی جاتی ہے 222
اصل دوم :رخصت میں بدل ایسا تجویز کی جائے جواصل کو یاددلائے 225
اصول سوم :ہرتنگی باعث رخصت نہیں صرف  کثیر الوقوع تنگی جس میں ابتلاء عام ہوباعث رخصت ہے 225
رخصت کی ایک صورت بہ بھی ہے کہ ایک وقت حکم اٹھا دیاجائے 226
باب (11)ارتفاقات کی رائج کرنا اور ریت ورواج کی اصلاح کرنا 229
صالح ارتفاقات کی رائج کی ترغیب دینا او رباطل رسوم کو مٹانا مقاصد نبوت میں داخل ہے 229
ارتفاق ثانی اور ثالث کی رائیگاں کرنااللہ کی مرضی نہیں ہے 232
ارتفاقات پیش لفظ کرنے میں انبیاءکاطریقہ ہے 235
ارتفاقات او رعیش کوشی 239
بڑے جھگڑوں کاسدباب مقتول کےخون کامطالبہ میراث کے معاملات اور سود کامعاملہ 246
چھوٹے نزاعات کے لئے ضوائط 248
باب (12)بعض احکام سے بعض احکام کاپیدا ہونا 250
اقتضاء اور ایماء کے معانی 250

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
23 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام امہات المومنین تاریخ تمدن تہذیب روح سود سیرت معاشرت نماز

رسول اللہ ﷺ کی پاکباز بیویاں

رسول اللہ ﷺ کی پاکباز بیویاں

 

مصنف : محمود احمد غضنفر

 

صفحات: 479

 

اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دورِ حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں۔ اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔کیونکہ امہات المومنین، مومنوں کی مائیں ہیں یعنی رسول ِ رحمت ﷺ کی یہ پاکباز بیویاں ایسے چکمتے دمکتے ، روشن ودرخشاں، منور موتی ہیں کہ جن کی روشنی میں مسلمانانِ عالم اپنی عارضی زندگیوں کا رخ مقرر ومتعین کرر ہے ہیں۔ امت کی ان پاکباز ماؤں کی سیرت ایسی شاندار ودلکش ودلآ ویز ہےکہ اسی روشنی میں چل کر خواتینِ اسلام ایک بہترین ماں ،بیٹی،بہن، اور بیوی بن سکتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہ کی پاک باز بیویاں‘‘ مولانا محمود احمد غضنفر﷫ مصنف ومترجم کتب کثیرہ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب رسول رحمت کی پاکباز زوجات کا روح پرور ایمان افروز اور دلنشیں ودلآویز تذکرہ پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ اس کتاب کا مقصد جہاں دنیا والوں کو امہات المومنین کی تابناک سیرت کےروشن گوشوں سےآگاہ وآشکارکرنا ہے ،حقیقی ومتقی مومن بن کر خاندان کی تربیت کر کے نیک وصالح افراد کوپروان چڑھا کر جنتوں کا متلاشی اور رضائے رب کریم کا خوگر معاشرہ قائم کرنا ہے وہیں امت مسلمہ کے گھر وں میں سکون ومحبت او راطاعت وفرمانبرداری کی فضا پیداکر کے ان کو جنت کا گہوارہ بنانا بھی ہے۔ یہ کتاب خواتینِ اسلام کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشر کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس امت مسلمہ کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست مضامین
انتساب 22
حر ف تمنا : سیر ت اُ مہات المو منین ؓ کا انمو ل مہکتا گلد ستہ 23
مقدمہ 37
شادی کی ترغیب 39
شادی میاں بیو ی کے درمیان ایک مظبو ط معاہدہ 39
فرمان رسول ﷺ 39
شادی کے فوائد 42
جن کے عورتوں کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے 43
شادی کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی خصوصیات 44
زوجات مطہرات ﷺ کی تفصیل 45
قریشی زوجات مطہرات (6عدد) 45
غیر قریشی عربی زوجات مطہرات (6عدد) 45
غیر عربی زوجہ مطہرہ 45
زوجات مطہرات شادی کی تاریخ اور مقام 46
ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ؓ 46
ام المو منین سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ 46
ام المو منین سدہ عائشہ صدیقہ ؓ 46
ام المو منین سیدہ حفصہ ؓ 46
ام المو منین سیدہ زینب بنت خزیمہ ؓ 46
ام المو منین سیدہ ام سلمہ ؓ 47
ام المو منین سیدہ جویریہ بنت الحار ث ؓ 47
رسول اللہ ﷺ کی پا کبا ز بیو یا ں
ام المو منین سیدہ زینب بنت حجش ؓ 47
ام المو منین سیدہ امام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان ؓ 47
ام المو منین سیدہ صفیہ بنت حیی ں 48
ام المو منین سیدہ میمو نہ بنت الحارث ؓ 48
زوجات مطہرات ؓ کی خصوصیات 49
پہلی خصوصیات 49
دوسری خصو صیات 49
تیسری خصو صیات 50
چو تھی خصو صیات 51
تعد د زو جات میں حکمت کےپہلو 53
غیر مسلم مفکرین کا عتراف 64
سیدہ سودہ ؓ کے فضائل و مناقب 74
سید ہ حفصہ ؓ کے فضائل و منا قب 80
سیدہ ا ُم سلمہ ؓ کے فضائل و منا قب 82
سیدہ زینب بنت حجش ؓ کے فضائل و منا قب 84
سید ہ جویریہ ؓ کےفضائل و منا قب 87
سیدہ ام حبیبہ ؓ کے فضائل و منا قب 88
سید صفیہ بنت حیی ؓ کے فضائل اور منا قب 89
سیدہ میمو نہ ؓ کے فضائل ومنا قب 90
امہات المو منین کی روایات کی تعداد 95
سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق ؓ 95
سیدہ ام سلمہ ؓ

سیدہ میمونہ بنت حار ث ؓ

95
سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان ؓ 96
سیدہ حفصہ بنت عمر خطا ب ؓ 96
سیدہ زینب بنت حجش ؓ 97
سیدہ صفیہ بنت حیی بن ا خطب ؓ 97
جویریہ بنت حارث بن ابو ضرار ؓ 98
سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ 98
باب:1
                                                                  خدیجہ بنت خویلدؓ
ورقہ بن نو فل سے مشاورت 120
سیدہ خدیجہ ؓ کے فضائل و منا قب 136
رسول اللہﷺ کا سیدہ خدیجہ کے ساتھ قلبی لگاو 143
سیدہ خد یجہ ؓ اس امت کی بہترین خاتون 148
سیدہ خد یجہ ؓ کو اللہ کو سلام اور نبی کریم ﷺ کی بشارت 149
سدیہ خدیجہ ؓ جنتی خواتین میں افضل 151
سیدہ خد یجہ ؓ جنتی خواتین میں افضل 151
سیدہ خد یجہ ؓ کی وفات 151
نمازجنازہ 152
باب :2
                                                       ام المومنین سیدہ سود ہ بنت زمعہ ؓ
نام اور نسب 163
والدین 163
سیدسودہ بنت زمعہ ؓ کا اسلام قبول کرنا ارو ہجرت کرنا 164
دوسری شادی 166
خواب میں خوش نصیبی کا اشارہ 169
عمر رسید ہ خا تون کے ساتھ شادی کی حکمت 170
اسیر بدر سہیل بن عمرو کے بارے میں سید سو دہ ؓ کا مو قف 171
سیدہ سودہؓ نبی کریم ﷺ کو ہنساتی تھی 173
سیدہ سودہ ؓ سے دجال بہت ڈرتی تھیں 173
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی پسند یدہ خا تون سیدہ سودہ ؓ 174
سیدہ سودو اور سیدہ عائشہ ؓ کے د لچسپ واقعات 175
سیدہ سودہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں رغبت 179
سیدہ سودہ ؓ کے حوالے سے رخصت کا ملنا 180
سیدہ سود و ہؓ کی سخاوت 181
سیدہ سودہ ؓ کی احادیث رسول کو روایت کرنا 181
وفات اور نماز جنا زہ 182

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز