Categories
Islam اسلام سیرت طلاق نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادیاں ناکام کیوں؟

شادیاں ناکام کیوں؟

 

مصنف : ابو یاسر

 

صفحات: 131

 

شادی مشرقی و اسلامی گھرانے کی ایک ایسی رسم ہے جسے معاشرے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔اس کی اساس پر ایک نئے گھر  اور خاندان کا آغاز ہوتا ہے۔اس میں کامیابی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے  کی ضمانت ہے اور اس میں ناکامی معاشرتی تباہی کو مستوجب  ہے۔مغرب اور اہل یورپ کی شادیوں کی  ناکامی کی وجہ تو واضح ہے کہ  ان لوگوں نے ایک جداگانہ معاشرتی نظام  ترتیب دیا ہے اور الگ طور پر فلسفہ حیات تشکیل دیا ہے۔لیکن اہل مشرق یا اسلامی گھرانوں میں شادیوں کی ناکامی  عام طور پر یہ ہے کہ  لوگوں میں غلط رسومات نے جنم لے لیا ہے۔ان رسومات کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل  شادیوں سے پہلے  ہی ہو جاتے ہیں اور ایسے ہی بہت زیادہ بعد میں ہو جاتے ہیں۔مثلا  کثیر جہیز کی طلب، زیادہ حق مہر متعین کروانا اور شادی میں ضد کی وجہ سے بے دریغ مال خرچ کرنا وغیرہ  ۔ اسی طرح شوہر اور بیوی کے درمیان رویوں کی وجہ سے باہمی بے اعتمادی یا تعلقات میں سرد مہر ی پیدا ہو جانا  وغیرہ۔زیرنظر کتاب میں مصنف نے معاشرتی اصلاح کی خاطر انہی رویوں  اور مسائل کی طرف نشاندہی کی ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
شادی کا حکم اور اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں 11
کیسی عورت سے شادی کرنی چاہیے 13
دیندار عورت سے شادی کی جائے 14
بدصورت عورت نیک سیرتی کی وجہ سے مرد کی جنت بن گئی 15
بے دین عورت خاوند کے لیے جہنم بن گئی 20
باپ سے دعا کرنے والی بیٹی کو شاہ پور نے قتل کر ڈالا 23
محبت سے پیش آنے والی عورت سے شادی 25
منگیتر کو پہلے دیکھ لینا چاہیے 26
نکاح میں ولی کی اجازت ضروری 26
اولاد ایک عظیم میٹھا پھل ہے 27
نجومی نے اولاد پیدا کرنے کے لیے لڑکے کو عورت سے قتل کرایا 28
نجومیوں کی تلسیوں کے باوجود اولاد نہ مل سکی 30
حق مہر کتنا ہونا چاہیے 31
حق کی مقدار کا فیصلہ ہوتا ہے 35
طے شدہ مہر دینے سےانکار 37
ولیمہ کتنا ہونا چاہیے 39
بیوی کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے 42
عورتوں سے حسن سلوک اوران کے خرچ کا ذمہ دار کون؟ 44
ہماری شادیاں ناکام کیوں ہیں؟
ایک ضروری وضاحت 50
بیوی پر خاوند کا کس قدر حق ہے 58
خواتین کی اکثریت جہنمی کیوں؟ 58
بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے کے کامیاب اسلوب
کئی بیویوں والا خاوند کیا کرے 64
جہیز کی تباہ کاریاں
اگر جہیز کی رسم چلتی رہے تو 69
کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ کو جہیز دیا تھا 70
جہیز ایک رشوت ہے 73
جہیز کی خواہش مند عورت پر کیا کیا ظلم کرتے ہیں 74
شادی کے موقع پر بارات کا خرچہ کون کرے گا 77
عورت ایک عظیم نعمت 78
بیٹی کو جہیز دیا جاتا ہے اور وراثت سےمحروم کیا جاتا ہے 81
جہیز کے بے شمار نقصانات 83
جہیز کے شرعی اور اخلاقی چند نقصانات
مروجہ جہیز کی شرعی حیثیت 93
کیا حضور ﷺ نے اپنی بیٹیوں کو جہیز دیا تھا؟ 93
اب اسلام آباد سے آنے والا خط ملاحظہ فرمائیے 96
شادی کرنا جرم ہے یا جہیز ؟ 100
سادگی سے شادی کرنے کی چند مثالیں
عبدالرحمن بن عوف کی شادی کا نبی ﷺ کو علم نہ ہوا 106
عائشہ ؓ کی شادی کتنی سادی تھی 107
حضرت صفیہ ؓ کی شادی 108
جہیز نہ ملنے کی وجہ سے بھانجے نے ماموں کی بیٹی کو طلاق دیدی 110
اور وہ دلہن نہ بن سکی ! ایک حیرت انگیز اور رلا دینے ….؟ 111
دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہ کرنے والی عورت کی …. 124
مسلمان سیرت نبوی کی بجائے غیر مسلموں کی نقالی کرتا ہے 125

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی شوہر اور سنگھار

شادی شوہر اور سنگھار

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 80

 

بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ” شادی ،شوہر اور سنگھار”معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
خطبہ مسنونہ 5
سخن وضاحت 7
زیب و زینت سے مراد 9
زینت میں شامل چیزیں 11
زیور فطری آرائش 12
جائز زیب و زینت 13
ممنوع زیب و زینت 15
جوانی اور سنگھار کی خواہش 16
بناؤ سنگھار شوہر کا حق 20
شادی پر زیب و زینت 21
شادی پر بھی حرام زیب و زینت سے اجتناب 24
دلہن کا سنگار کس وقت؟ 25
شوہر کی موجودگی بناؤ سنگھار 35
بناؤ سنگھار میں شوہر کی پسند کا خیال 39
شوہر کا ذمہ بناؤ سنگھار کے معاملے میں 45
اظہار زینت اور کس کس کے سامنے؟ 51
محرموں کے سامنے اظہار زینت 52
عورتوں کے سامنے اظہار زینت 55
غلام کے سامنے اظہار زینت 57
خدمت گار جو عورتوں سے بے پروا ہوں 57
عورتوں کی باتوں سے نا واقف لڑکے 58
نامحرموں کے سامنے اخفائے زینت 59
بیوہ کے لیے زیب و زینت 60
بے شوہر عورت کے لیے زیب و زینت 61
کنواری کے لیے زیب و زینت 62
گھر سے باہر جاتے ہوئے بناؤ سنگھار 66
پردے میں گھر سے باہر جائیں تو بناؤ سنگھار 72
عورت کا اصل حسن 72

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سنت نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی نماز

شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں

شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں

 

مصنف : پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان

 

صفحات: 171

 

شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔ دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’ شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں ‘‘ العلامہ الشیخ صالح بن غانم السدلان  صاحب کی تحریر ہےجس کا اردو ترجمہ مختار احمد ندوی نے کیا ہے ۔انہوں نے اس  موضوع کو بڑے ہی مؤثر  ودلکش  اور دلنشیں انداز میں  پیش فرمایا ہے  اور اس کتابچہ  میں مسائل  وغیرہ کو کتاب وسنت کےحوالہ جات سے مزین کیا ہے اور نتیجہ خیز بات کو عیاں کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 6
مولف حفظ اللہ کی شخصیت 8
مقدمہ مولف 11
مہراوراس سےمتعلق شرعی احکام 16
شوہر پر بیوی کےحقوق 16
شوہر پر بیوی کےحقوق 16
صداق کالغوی معنی 16
مہرکس چیز سےواجب ہوتی ہے 16
مہرکاصطلاحی معین 16
مہرکی مشروعیت کی حکمت 17
نکاح میں مہر مقرر کرنےکاحکم 19
مہرکاحکم 20
بحث کاخلاصہ 22
مہرکی انتہائی حد 24
مہرکی سب سےکم حدکابیان 25
مہرمیں غلو کرنےکابیان 38
مہرمیں غلو کےاسباب 44
مہرکی زیادتی کےمنفی نتائج 46
مہر میں زیادتی کاحکم 48
حاصل کلام 54
وہ اسباب جن کی وجہ سےعورت کو پورا مہردینا واجب ہوتاہے 58
مہردھی دینے  کابیان 66
عقد سے    پہلے مخطوبہ کےساتھ خلوت کابیان 73
وہ اسباب جن کی وجہ سے سار امہر ساقط ہوجاتاہے 76
نقد اورادھار مہر کاحکم 79
اس ہدیے کاحکم جو پیشگی طورپر دئیے جائیں 86
شادی کی انگوٹھی اورمردوں ارعوورتوں کےلیےاس کاحکم 88
نکاح کااعلان 91
نکاح  کےاعلان کاحکم 91
نکاح کےاعلان کامطلب 91
نکاح کااعلان کیسے کیاجائے 92
نکاح میں جائز لہو ولعب 96
رقص 99
رقص کاحکم 99
تصویر اورویڈیوفلم سازی 101
شادی کاولیمہ 103
شادی کی محفلوں میں فضول خرچی کی ممانعت 103
ولیمہ کی تعریف 103
ولیمے کاحکم 104
ولیمہ کاوقت 105
ولیمہ کی مقدار اوراسکی جنس 106
ولیمہ کی دعوت 107
غیرروزہ دراوں کےلیے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے کاحکم 109
روزہ دار کی دعوت قبول کرنےکاحکم 111
ولیمے میں شریک نہ ہونے کےجائز عذر 113
شادی کی محفلوں میں اسراف کرنےکی ممانعت 120
شادی کی مبارکباد اورشوہر کےلیے دعا 123
ہنی مون کی رسم 125
میری رائے کےمطابق نتیہ علاوج 126
شب عروسی کےآدب وزجین کےدرمیان ازدواجی زندگی کابیان 129
شب عروسی اوربیوی کےپاس جانےکےآداب 129
بیوی کودودھ یاحلوہ پیش کرنا 129
بیوی کےسرسرہاتھ رکھ کردعاکرنا 130
دورکعت نماز پڑھنا 131
مسواک کرنا 131
ہمبستری سےبہلے دعا پڑھنا 132
تنبیہ 132
میاں بیوی کےحقوق 143
بیوی پر شوہر کےحقوق 143
بیوی پر شوہر کےضرور ی حقوق 145
بیوی کےحقوق 158
مشترک حقوق 165

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی کی رسومات دعوتیں اور ان میں شرکت

شادی کی رسومات دعوتیں اور ان میں شرکت

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 75

 

شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’شادی کی رسومات ‘‘ اصلاح معاشرہ  کے سلسلے  میں محترمہ  ام عبد منیب  صاحبہ کی کاوش  ہے  جس میں انہوں  شادی  بیاہ  کا مسنون طریقہ بیان کرنے کے بعد  اس  موقع پر ناجائز رسومات  اور  ہندوانہ رسوم ورواج اور خرافات کو عام فہم  انداز میں   پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ  کی  اس کاوش کو اہل اسلام کےلیے    فائد مند بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
شادی ایک سماجی تقریب 7
اسلامی طریقہ نکاح 10
شادی کا موجودہ طریقہ کار 11
انتہائی ضروری امور 11
مسنون یا جائز امور 12
دف بجانا 13
تحائف 16
دلہن کا سنگھار 18
زیور ، لباس 20
خوشبو لگانا 21
ناجائز رسومات 23
منگنی کرنا 23
جب تک شادی نہ ہو تحائف 24
مہندی لگانا 25
منہ دکھائی 27
ولیمہ 28
ہنی مون ماہ غسل منانا 30
شادی کی سالگرہ 30
سلامیاں دینا 36
ناجائز رسومات میں شرکت 39
ولیمہ کس چیز سے کیا جائے 44
مخلوط دعوت 49
نماز ضائع ہونا 49
ناجائز امور سے منع کرنے کے آداب 55
مہمان کو کھانا کھلانا 64
حرام دعوتیں 66
دعوت کا کھانا کیسا ہو 68

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تہذیب رسوم و رواج اور بدعات بسنت ، اپریل فول ، ویلنٹائن ڈے وغیرہ نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی کی جاہلانہ رسمیں

شادی کی جاہلانہ رسمیں

 

مصنف : محمد ابو الخیر اسدی

 

صفحات: 51

 

ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو کہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے شادی کے موقعوں پر ادا کی جانے والی رسوم ہیں،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ” شادی کی جاہلانہ رسمیں”مولانا علامہ ابو الخیر اسدی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر کی جانے والی رسوم ورواجات پر روشنی ڈ الی ہے کہ یہ کیسے اسلامی معاشرے کا حصہ بنیں اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام قرض نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی اسلام کی نظر میں

شادی اسلام کی نظر میں

 

مصنف : عبد اللہ دانش

 

صفحات: 68

 

شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’شادی اسلام کی نظر میں‘‘ مولانا عبد اللہ دانش صاحب کی تحریر ہے۔انہوں نے اس  موضوع کو بڑے ہی مؤثر  ودلکش  اور دلنشیں انداز میں  پیش فرمایا ہے  اور اس کتابچہ کو کتاب وسنت کےحوالہ جات سے مزین کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
زندگی خوشی اور غمی کا حسین امتزاج 3
شادی اسلام کی نظر میں 6
اللہ کی نگاہ میں عورت کا مقام 6
بیوی ایمان کی محافظ 8
میاں بیوی  ایک دوسرے کے لباس 9
شادی تکمیل ایمان 11
امیری غریبی اللہ کے ہاتھ میں ہے 13
شادی رنگ سے یا ایمان سے 14
دین کی بنیاد پر رشتے ناطے 21
حق مہر کا مسئلہ 24
مہر مؤجل قرض ہے 29
نکاح سے قبل منگیتر کو دیکھنے کا مسئلہ 34
والدین کو نظر انداز کر دینا 37
معاشقے کی شادیاں 37
بے وقت کی شادیاں 38
بڑی عمر کی شادیاں 40
جہالت یا جہیز 46
دعوت ولیمہ 49
ولیمہ کا وقت 50
دور جاہلیت کے مشہور سخی اور فیاض 52
بیوی سے گھریلو کام لینا 55
عظمت فاطمہ الزہرا ؓ 58
اسماء بنت ابوبکر صدیق ؓ کا بیان 60

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سنت نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی بیاہ

شادی بیاہ

 

مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

 

صفحات: 32

 

شادی کی تقریبات میں ولیمہ ایک ایسا عمل ہے جو مسنون ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کاحکم دیا ہے ۔اور آپ نے خودبھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کےایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر دیا جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کاباعث بھی ہوگا او رزندگی کے نشیب وفراز میں اس کاہم دم اورہم درد اور مددگار بھی۔دعوت ولیمہ جب سنت ہے دنیاوی رسم نہیں تو اسے کرنا بھی اسی طرح چاہیے جس میں اسلامی ہدایات سے انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کےبرعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کامجموعہ بن کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شادی بیاہ‘‘ نامور عالم دین مفسر قران مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ایک اہم تحریری کاوش ہے جس میں انہوں نےولیمہ کامسنون طریقے کو بیان کر کے غیرمسنون طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اسی طرح شادی کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے بعض غیر ضروری امور اور رسومات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ولیمے کا مسنون طریقہ اور غیر مسنون طریقے 1
ولیمے کے بارے میں اسلامی ہدایات 2
معصیت والی دعوت مین شریک ہونے کی اجازت نہیں ہے 6
دعوت کھلانے والے کے لیے دعا 8
دلہا کے لیے خصوصی دعا 8
ولیمہ کب کیا جائے 9
شادی کی چند اور ناجائز رسومات 10
انگریزی زبان میں شادی کارڈ 10
رات کو شادیوں کا انعقاد 12
رات کے وقت شادی کا صحیح طریقہ 14
حکومت پنچاب کا ایک صحیح قدم لیکن۔۔۔ 14
نکاح کی الگ مستقل تقریب ، اگر ناگزیر ہو تو۔۔۔ 17
سلامی یا نیوتہ 18
عورت نئے گھر میں نئے ماحول میں 20
مرد کے لیے حکمت و دانش کی ضرورت 22
بیوی کا حسن کردار اور حسن تدبیر 24
میاں بیوی کی رنجش میں میکے والوں کا کردار 30

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ روح سیرت سیرت النبی ﷺ فارسی فقہ قربانی نبوت نماز یہودیت

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔1

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔1

 

مصنف : حافظ عماد الدین ابن کثیر

 

صفحات: 647

 

حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت النبی ﷺ‘‘ امام ابن کثیر ﷫ کی مذکورہ کتاب البدایۃ والنہایۃ میں سے سیرت النبی ﷺ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔ اس حصے کواردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت مولانا ہدایت اللہ ندوی صاحب نے حاصل کی۔ یہ کتاب اپنے اندر بے پناہ مواد سموئے ہوئے ہے۔ امام ابن کثیر نے واقعات کا انداز تاریخ کے حساب سے رکھا ہے۔ سن وار واقعات کو درج کیاگیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو بہت سے ایسی معلومات حاصل ہوں گئی جودیگر کتبِ سیرت میں نہیں ہیں۔ امام ابن کثیر ﷫ چونکہ اعلیٰ پائے کےادیب او رعمدہ شعری ذوق کے مالک تھے۔ البدایۃ میں انہو ں نےجابجار اشعار درج کیے ہیں۔محترم ندوی صاحب نے ان اشعار کوبھی اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ نیز فاضل مترجم نے واقعات کے جابجا ذیلی عنوانات بھی دیئے ہیں جو بڑے مفید ہیں اورکہیں کہیں کچھ تشریحات بھی کی ہیں جوکہ ’’ندوی‘‘ کے تحت بریکٹ میں درج ہیں ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھال کر حسنِ طباعت سے آراستہ کرنے کی سعادت شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کے ساتھ پیش آنےوالے الم ناک واقعہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ان کے رفیق خاص جناب مولانا عبد الخالق قدوسی شہید (بانی مکتبہ قدوسیہ، لاہور) کےصاحبزدگان نے حاصل کی ۔ مدیر مکتبہ جناب ابو بکر قدوسی صا حب نے 1996ء میں اس سیرت النبی ﷺ کو تین جلدوں میں بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا۔اس سے قبل 1987ء میں بھی البدایۃ والنہایۃ   کےعربی نسخے کو 14 جلدوں میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ۔اب توجناب ابو بکر قدوسی اور جناب عمر فاروق قدوسی اوران کے دیگر برادران کی محنت سے مکتبہ قدوسیہ ماشاء اللہ بیسیوں معیاری کتابیں شائع کرچکا ہے۔ اللہ ان برادران کے علم وعمل میں خیر وبرکت فرمائے اوران کی کاوشوں کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
واقعات عرب کا بیان 27
عرب عاربہ 27
عرب مستعربہ 27
یمنی عرب 27
بنی اسماعیل 27
اسلم 27
لوس’خررج 28
قحطانی اورعدنانی 28
قضاعہ قحطانی ہیں 28
جملہ عرب تین قبائل ہیں 29
                                                                                                                               قصبہ سبا 29
وجہ تسمیہ 30
بشارت 30
سباکیا ہے؟ 30
شاہی القاب 31
انیباء 31
سدمارب 31
کفران نعمت 32
ترک سکونت اورعیسائیت 32
شاہ حبشہ کی حکومت 34
ربیعہ بن نصربن ابی حارثہ بن عمر بن عامرلخمی کا قصہ 34
سطیح 35
شق 35
خواب مع تعبیر 35
شق کی تعبیر 36
احتیاطی تدابیر 36
نعمان بن منذرتبیع ابی کرب کا اہل مدینہ کے 36
ساتھ اچھے سلوک کا بیان 37
تبان اسعد 37
وجہ عناد 37
تبیع کا عقیدہ 37
نصیحت آموزاشعار 39
یمن میں یہودیت کیونکر پھیلی ؟ 40
فیصلہ کن آگ 40
بت کدو آم 40
تبع کا اسلام 40
تبع کی لڑکیاں 41
بھائی کا قتل موجب ہلاکت لخنیعہ ذوشنائر کا 41
یمن پر غاصبانہ قبضہ ذو نواس کی شکست 42
اور اریاط کی فتح 43
ابرہہ اشرم کی بغاوت اور جنگ شاہ حبش کی ناراضگی 44
اورمسندحکومت ابرہہ کا ہاتھیوں کے ہمراہ 44
تخریب کعبہ کے عزم کا سبب 44
قلیس کی تعیمر 45
کنانی کا اشتعال اور لڑائی کا آغاز 45
ذونفر اور نفیل کا مزاحم ہونا 45
ابو رغارل 46
لات 46
مکہ میں لوٹ مار 46
رئیس مکہ کی طلبی 46
اونٹوں کا مطالبہ 47
دعا 48
پرندوں کے ذریعہ عذاب 48
ابابیل 49
ابرہہ کی مذمت میں اشعار 50
قلیس کا انجام 52
حبشی حکومت کا زاول سیف کے ہاتھوں 52
تاج کسریٰ 53
غمدان 55
خواب شرمندہ تعبیر 56
یمن پر نائب کسری ٰ کی حکمرانی 56
مراسلہ کسریٰ 57
مکتوب نبویﷺاور کسری ٰ کا انجام 57
مکتوب گرامی 57
یمن میں اشاعت اسلام 58
بانی قلعہ حضر‘ساطرون کا قصہ سابورسا سانی کا محاصرہ 58
اور ناقصات عاقل کا مضاہرہ 59
رب خورنق 61
طوائف الملوکی کا بیان 62
آل اسماعیل کا تذکرہ 62
جرہم 62
اولاداسماعیلؑ 62
حکومت 63
اساف ونائلہ کے مسخ کازمانہ 63
خزاعہ کی حکومت 63
عمروکی نصیحت 65
خزاعہ اور بن لحی کا قصہ اور عرب میں آغازبت پرستی 65
پتھر کی پوجا       کا آغاز 66
شرکیہ تلبیہ اور ابلیس کی ایجاد 67
ابو خزاعہ کی تحقیق 67
کافر کے ساتھ شکل وصورت میں مشاہبت 68
عرب کی جہالت 69
بت اور ان کے پرستار 69
ود 69
سواع 69
یغوث 69
یعوق 69
نسر 70
عم انس 70
سعد 70
ہبل 70
اساف اور نائلہ 70
قلس 71
عزیٰ 71
لات 71
مناۃ 71
ذوالخلصہ 71
ر آم 71
رضاء 71
ذوالکعبات 72
حجاز کے جداعلیٰ عدنان کا ذکر 72
ارمیانبی کاعجب واقعہ 72
عدنان کا نسب 73
شجرہ طیبہ 74
حجازی عربوں کاعدنان تک سلسلہ نسب 74
قریش کے نسب وفضل اور اس کے اشتقاق کا ذکر 75
قر یش 75
سامہ بن لوی 78
مناصب کی بقا 82
دارالندرہ 82
کھانے کا انتظام اوررفادہ 83
حلیف المطیبین اوراحلاف 85
عبدمناف کی اولاد 86
عہدجاہلیت کے شہرہ آفاق اعیان 86
حتم طائی 88
حسن اخلاق کی قدرقیمت 88
فیاضی 89
ایک خواہش 90
حاتم کے منتخب اشعار 90
عجیب واقعہ 92
ام حاتم 92
وصیت 93
عبداللہ بن جدعان 93
امراؤالقیس بن حجر کندی 95
شعرنے حیات نوبخشی 95
امیہ بن ابی الصلت شقفی 97
پشیین گوئی 97
ابوسفیان کی حالت 101
خواب 101
فارعہ کا چشم دیدواقعہ 102
امیہ کا ارا دہ اسلام 104
عجیب واقعہ 105
جانوروں کی زبان 105
اچھےاشعار سننا 106
سورج کا طلوع ہونا 107
بحیراراہب 108
قس بن ساعدہ ایاری 108
جارودکااسلام لانا 110
ایک عجیب واقعہ 113
پیش گوئی 115
قس ورقہ بن نوفل 117
عامر بن ربیعہ 120
کتابت حدیث 121
عثمان بن حویرث 123
عہد فترت کے کچھ حوادثات 124
تعمیرکعبہ 124
چاہ زمزم کی تجدید 124
زمزم کا پانی 127
وبل 128
سقایہ 128
عبدالمطلب کا اپنے ایک بیٹے کی قربانی کی نذر ماننا 128
ہبل 129
فتویٰ 130
عبدالمطلب کا عبداللہ کی شادی آمنہ بنت وھب سے کرنا 130
پشیین گوئی 130
رسول اللہ ﷺکا نسب 130
اسمائے مبارک 133
والد گرامی اور چچا 133
پھوپھییاں 133
عبدالمطلب 133
ہاشم 134
عبدمناف 135
رسول اللہ ؐ     کا نسب پرتبصرہ 137
ابوسفیان کا اعتراض 139
ابو طلب کے اشعار 139
عباس کے مدحیہ اشعار 140
رسول اللہﷺکی ولادت
بروزجمعہ 142
مختلف اقوال 142
عام الفیل 144
قباث 144
سوید 144
واقعہ فیل کے بعد50روز رسول اللہ ﷺکی ولات کے واقعات وصفات 145
مدینہ میں فوتگی 145
راجح قول 146
والدہ کا خواب عبدالمطلب کا آپ کو بیت اللہ میں لانا 147
ختنہ شدہ 148
جبرائیل نے ختنہ کیا 148
دستورعرب اور نام 148
رسول اللہ ﷺکی شب ولات کے واقعات 149
یہودی تاجر کا عجب واقعہ 149
یوشع 150
ابن باطایہودی 150
شاہ ایران کے محل کے لرزجانے کا ذکر 151
مراسلہ اور اس کا جواب 151
سطیح کی تعبیر 152
چودہ کسریٰ 153
سطیح 153
مکہ میں آمد 153
امام ابن کثیر کا تبصرہ 155
فصیح جواب 155
عبدالمسیح اور خالد کا زہر کھانا 155
نرالی روایت رسول اللہﷺکی دایہ کھلایہ اور دودھ پلانے والیاں 156
ام یمن مسماۃ برکت باندی 156
ثویبہ 157
رسول اللہ ؐ کی رضاعت کا بیان 157
حلیمہؓ 157
شرح صدر 159
دعائے ابراہیمؑ 159
بعدازخدابزرگ توئی 160
نبوت کا علم 169
سلائی کے نشانات 161
عیسائی قافلہ 161
ووجدک ضالا 161
متضادقصہ 162
اعجازیاارہاص 162
خطیب ہوازن کے اشعار 162
رضاعت کے بعد 163
ابوامیں وفات 163
والدہ کے لئے دعائے مغفرت 164
اعرابی کا سوال اور ذمہ داری 165
عبدالمطلب اور امام بہیقی 166
ابن کثیر کی رائے 166
ترجیحی سلوک اور وصیت 166
ابو طالب رسول اللہ ؐ کے کفیل 167
قیافہ شناس ابوطالب کے ساتھ شام کا سفر 168
اور بیحریٰ سے ملاقات 168
قرادابونوح اور تبصرہ 170
نبی ؑ کی تربیت وپروش 172
عریانی 172
گانے کی محفل 173
حدیث بہیقی کی توجیہ 174
توفیق ربانی 174
نبی ؑ کی حرب فجارمیں شرکت 175
عتبہ کا کارنامہ 176
حلف فضول 177
مطیبیون 177
اغوا 179
وجہ تسمیہ 179
حضرت خدیجہؓ سے شادی
نکاح 180
اولاد 180
عمرمبارک 181
شادی سے قبل رسول اللہ ﷺکا شغل 181
کون ولی تھا؟ 181
کعبہ کی مرمت و تجدید 183
اسرائیلی روایات 183
حجراسود 184
حجر اسودرسول اللہﷺنے نصب کیا 184
سیلاب اور ولیدبن مغیرہ 185
اژدھا 185
کعبہ کی قدیم عمارت 186
ساحل جدہ جہاز 186
ابووہب کا کلام 186
تعمیر کی تقسیم 186
کتبے 187
حجر اسودکے بارے نزاع 188
سائب کا بیان 188
توسیع 189
حمس اور رسومات 190
رسول اللہ ﷺکی بعثت اور چندبشارات کا ذکر 191
علامات قبل از رسالت 191
آسمانی خبروں کی حفاظت 192
جنب کا کاہن 193
باعث سلام 193
بحق نبی امی 194
سلام بدری اور ایک یہودی 194
یوشع یہودی 194
ابن ہیبان یہودی 194
زیدبن سعید 195
سلمان فارسی کا مسلمان ہونا 196
مزیدپابندی 196
تعلیم وتدریس 196
نیا عالم 197
موصل میں قیام 197
نصیبین میں قیام 197
عموریہ میں رہائش 198
کلب کی بے وفائی 198
وادی القریٰ 198
مدینہ 198
آزمائش 199
سب سے اول مدینہ میں فوت ہونے والاصحابہ 199
معجزات کا ظہور 199
معجزہ 200
عیسیٰ یا وصی 200
رسول اللہ ﷺکی بعثت کے عجیب واقعات کا بیان
عبدالمطلب کا خواب 204
ابوسفیان کاایک بے ساختہ فقرہ 205
عمروبن جھنی کا واقعہ 206
مکتوب نبویؐ 207
خاص عہد 208
کب نبوت عطاہوئی 208
پیشانیوں پرنور 208
حق محمداور ایک روایت 210
ہر نبی نے اعلان کیا 210
معجزہ اور اس کی تفصیل بسترمرگ پریہودی بچےکامسلمان ہونا 211
عذرلنگ 211
علم باردوش 212
مکتوب نبوی 212
بخت نصر کا خواب اور دانیال کی تفیسر 212
تورات اورقرآن میں آپ کی صفات 213
زبور میں خیر الامم کا ذکرگذشتہ کتابو ں میں 215
آپﷺکے ذکر خیر کی تصدیق قرآن مجیدسے 215
فارقلیط 215
انجیل میں 216
عجب نوشت 216
انبیاءؑکی تصاویر 217
سیف بن ذی یزن کا قصہ 217
محمدنام کیوں رکھا؟ 220
اوس کی پیش گوئی 220
جنات کی غیبی آوازوں کابیان اور حضرت عمرؓ   کااسلام 221
سوادبن قارب 222
عزم مکہ 224
اعادۃ 225
جبل سراۃ 226
ھند 226
مازن عمانیؓ 226
مدینہ میں اول خبر 228
                                                                                                                عثمانؓ   کا سفر اور خبر 228
سعیرہ کاہنہ 228
جن کاخلصہ لڑکی سے جفتی کرنا اور اس سے بچہ پیداہونا 229
معلق سوار 230
ابن مرداس کا اسلام قبول کرنابت سے آوازاور خثعمی 230
لوگوں کا مسلمان ہونا 232
جنات سے پناہ اور عجب واقعہ 233
غیر اللہ سے پناہ 234
حضرت علی ﷜کی جنات سے جنگ‘بے بنیادقصہ 234
بسم اللہ کی فضیلت 234
نجاشی ‘زیداور ورقہ کا مذاکرہ 237
زملؓ کا مسلمان ہونا 238
                                                                                                                     مکتوب نبویؐ 239
گستاخ رسول کاقتل 239
خرعب اور شاحب کی کہانی سعدکی زبانی راہب کےکہنےپر 240
تمیم داری کا اسلام قبول کرنابتوں سےشفا یابی 241
ایک غیراسلامی عقیدہ 242
راشدؓ کا اسلام قبول کرنا 242
سکتہ طاری ہونا اورنمازی بننا 243
خریمؓ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ 243
سطیح کی مکہ میں آمداور پیش گوئی 245
وحی کا آغازاور قرآن پاک کی پہلی آیات کانزول
ورقہ بن نوفل 249
تا ئید 249
علقمہ کا کلام 250
نبی ﷤کے مبعوث ہونے کا وقت اور تاریخ 250
ابو شامہ کی توجیہ 250
اختلاف روایت 250
خلوت 251
لفظ حرا 251
عبادت قبل ازبعثت 252
پہلی وحی 252
ربیع الاول 252
رمضان 252
اقراء 252
سورہ فاتحہ پہلی وحی تھی؟ 255
ورقہ کے اشعار 256
پتھروں اور درختوں کا سلام 259
خطاب عبید 259
مزیدتفصیل 260
وضاحت 261
مزیدتحقیق 263
ورقہ کا سوال 263
اولین وحی 264
واظحیٰ اور اللہ اکبر 265
نبوت ورسالت 265
وحی کی بندش کا عرصہ 265
دعوت وارشاد 265
اولین مسلمان 266
فصل 266
جنات کا قرآن سنتے ہی مسلمان ہو جانا 266
نزول وحی کے وقت فرشتوں کی کیفیت 267
علم نجوم 267
آسمان کی حفاظت 267
رفع اشتباہ 268
اہل طائف کی گھبراہٹ 268
نصیبین کے جن 269
رسول اللہﷺپر وحی نازل ہونے کی کیفیت 270
سورہ مائدہ 271
طرز تعلیم 271
نبوت کے تقاضے 272
تبلیغ 272
صحابہؓ میں اولین مسلمان 273
حضرت علی ﷜ 273
عفیف کا چشم دید 274
حضرت علی ﷜کی فضیلت میں منکرحدیث 275
تبصرہ 275
تطبیق 275
حضرت ابوبکر﷜ 276
اولین مسلمان 277
امام ابوحنیفہ﷫ 277
تبلیغ 277
راہب بصریٰ 277
پہلا خطیب 279
حضرات عمر﷜کا اسلام لانا 280
عمر بن عبسہ سلمیؓ 281
سعدکا اسلام لانا 281
ابن مسعوداور معجزہ 282
خالدبن سعید 282
حضرت حمزہ﷜کا اسلام لانا 283
ابوذر کا اسلام قبول کرنا 284
انیس 286
اسلم قبیلہ 286
ضماد 286
دعوت و ارشادکے عام آغاز
معجزہ دعوت 290
ایک وضعی روایت 290
ابوطالب 292
ابولہب 292
حفاظت کا عجب انداز اورابوجہل 294
نماز کےبعددعا 296
اراشی اور ابوجہل 296
عمروبن عاص یا عبداللہ بن عمروبن عاص 297
قریش کا ابوطالب کے ہاں اجتماع 298
نئی چال اور عمارہ قریش کاناتواںمسلمانوں کو اذیت دینا 300
حسب طلب معجزات کیونکر ظاہر نہ ہوئے 301
رسول اللہ ﷺکو لالچ دینا 302
دیگر حربے 302
عبداللہ بن ابی امیہ 304
صفاسونا بن جائے 304
                                                                                 علماءیہودہ سے دریافت   کردہ سوالات 305
آیت روح کب نازل ہوئی 306
قصیدہ لامیہ 306
حضرت بلال﷜ 312
نہدیہ 313
حضرت ابوبکر اور قرآن کا نزول 313
حضرت بلال پر تشدد 313
پہلی خاتون شہید 313
ابوجہل کا طرزعمل 313
حضرت خباب﷜ 314
امام ابن کثیر کی نکتہ آفرنیی اور نماز ظہر 315
ولیدبن مغیرہ 316
ولیدبن مغیرہ کی مجلس شوریٰ 316
عتبہ بن ربیہ کی پیشکش 317
مجلس قریش 319
معجزانہ کلام 320
چوری چھپےقرآن سننا 320
اخنس کا استصواب رائے 320
ابو جہل کے ہمرہ پہلی ملاقات 321
ابوسفیان اور غیرت قومی 322
قرآن درمیانی آوازسے 322
ہجرت حبشہ 322
قافلہ کی فہرست 322
82افراد 323
پہلے مہاجر حضرت عثمان﷜ 323
دس مرد پہلے مہاجر 323
جعفر مہاجرحبشہ 323
کب ہجرت ہوئی؟ 323
عمارہ کا حشر 327
نجاشی کے ساتھ جعفرؓ کی گفتگو 328
دعا اور آمین 329
روایت ام سلمہ ؓ 329
مسلمانوں کی طلبی اور قریش کے سفراکی ناگواری 331
رشوت اور دبر 332
بغاوت 332
رشوت کی تفصیل 333
نمائندہ گان قریش اور عمارہ 333
ترجمان 335
نجاشی کی تدبیر 335
غائبانہ نماز جنازہ 336
شاہی القاب 336
بدلہ 337
حضرت عمر کا اسلام قبول کرنا 337
ا م عبداللہ کا بیان 337
کیا عمر40ویں مسلمان تھے؟ 338
قبول اسلام کے بارے میں ایک اور روایت 339
تشہر 340
کب مسلمان ہوئے؟ 341
عیسائی وفد 341
نجاشی اور خط پر تبصرہ 341
مکتوب بدست ضمری 442
فصل 343
مقاطعہ اور اس کی تحریر 344
دیمک 344
ابو طالب کی تجویز 345
قصیدہ لامیہ کا مقام 345
کاتب صحیفہ 346
ابولہب 347
نزول سورہ تبت 347
حکیم بن حزام کاغلہ 348
رسول اللہ سے استہزا اور قرآن 348
امیہ بن خلف 348
نضربن حارث 349
وحی ہم پر کیوں نہ اتری ؟ 350
رخ زیبا پر تھوکنا 350
بوسیدہ ہڈی کو زندہ کرنا 350
عبادت کا مشترکہ منصوبہ 350
زقوم 350
سورہ نجم اور کفار کا سجدہ کرنا 351
تطبیق 351
نماز میں کلام کی منسوخی 352
عثمان بن مظعون کا ولید کی پناہ رد کر دینا 352
عثمان اور لبید 353
حضرت ابوبکر ﷜کا عزم ہجرت 354
صحیفہ کی منسوخی اور معظلی 356
شعب سے کب نکلے 360
طفیل دوسیؓ 360
خواب کی تعبیر 362
ایک اور خواب 363
تطبیق 363
اعشیٰ بن قیس کا قصہ 364
زنااور شراب کی حرمت 366
رکانہ   سے دنگل 366
نادار مسلمانوں کی تضحیک 367
لاولداور قاسم 367
فرشتہ کیوں نہ آیا؟ 367
مذاق کی سزا 368
تمسخر کے سرغنہ 368
ولیدکی وصیت 369
ابو ازیر 369
ربا 370
ام غیلان 370
قحط سالی 370
ابن مسعودکا خیال 371
سورت روم اور ابوبکر کی شرط 371
اسراء ومعراج 372
اسراء ہجرت سے قبل 372
اسراءکب 372
غروب میں تاخیر 374
روایت شریک 375
شرح صدر بیت المقدس میں 375
داخل ہونے کا انکار 375
375
نماز کب پڑھائی؟ 375
آسمان پر کیسے پہہچنے 375
انبیاء سے ملاقات 375
تقرب الہیٰ 376
ظلط فہمی 376
نمازپنج گانا 376
بسم اللہ 376
دیدار الہیٰ 376
اللہ کا دیدار نہیں ہوا 377
امامت کا مسئلہ 377
عمدہ استنباط 377
پروقار اور حکیمانہ انداز 377
ابوجہل کی سازش 377
معراج جسم اطہر کے ساتھ 378
شریک کی غلطی اور توجیہ 378
کیا دونوں بیک وقت تھے؟ 379
مسلسل ترتیب 380
حدیث اسراء 380
حدیث معراج 380
اسناد 382
عمدہ بحث 382
جبرایئل کی امامت 383
ایک اشکال 383
نماز سفر اور حسن بصری 383
عہد نبوی میں شق قمر کا معجزہ 384
ابوطالب کی وفات 387
سر پر مٹی ڈال دی 388
ابوطالب کی مرض اور موت 388
ابوطالب کا ایمان 389
بات نہ کرنےکی وجہ 391
کفن ودفن 391
ابوطالب کی عظمت 392
درست توجیہ 392
ام المومنین حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کی وفات 393
کب فوت ہوئیں 393
آیا عائشہؓ افضل ہیں 394
قدر مشترک 396
حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺکا شادی کرنا 397
خولہ نے سفارت کی 398
ابوبکر نے سودہ کا نکاح پڑھایا 399
نکتہ 400
ابوطالب کی وفات کے بعد 401
ایک شازش 402
دعوت اسلام کی خاطراہل طائف کی طرف سفر کرنا 403
عداس 404
آپ زخمی ہوئے 404
جنات کا رسول اللہ ﷺکی قراءت سننا 405
طائف سے واپسی 406
مطعم کا پناہ دینا 406
مطعم کی وفات 406
مختلف قبائل کودعوت 407
کندہ قبیلہ 408
بنی عبداللہ 408
بنی حنیفہ 408
بنی عامر 408
تبلیغ کا طریقہ کندہ اور بکربن وائل کادورہ عباسؓ کے ہمراہ 409
عکاظ میں بنی عامر 410
بحیرہ قشیری 410
دعا کا اثر 411

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ خلافت راشدہ سیرت سیرت صحابہ نماز

سیرت سیدنا علی المرتضٰی ؓ

سیرت سیدنا علی المرتضٰی ؓ

 

مصنف : محمد نافع

 

صفحات: 545

 

سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت سیدنا علی المرتضیٰ ‘‘مولانا محمد نافع ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے خلیفہ چہارم سیدنا علی کی سیرت کو چار مختلف ادوار میں تقسیم کر کے مختصراً مدون کیا ہے ۔اور آپ کی سیرت کے اہم پہلو نمایاں طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جمل وصفین کےمباحث ایک خاص انداز میں تحریر کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر بقدر ضرورت شبہات کا ازالہ بھی کردیا ہے ۔اور غالیوں کے غلو پر سلیقہ سے نشاندہی کر دی گئی ہے ۔ الغرض یہ کتاب سید نا علی کے احوال وسوانح اور فضائل اخلاق کا ایک مرقع ہے جسے مولانا محمد نافع صاحب نے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
سیدنا علی المرتضی کا نسب و خاندان 20
والد 21
تنبیہ 22
تاریخ وفات ابی طالب 23
والدہ 24
برادران 25
طالب 26
عقیل ؓ 26
جعفر الطیار ؓ 28
خواہران 30
ام ہانی ؓ بنت ابی طالب 30
جمانہ بنت ابی طالب 32
دور اول ولادت مرتضویؓ 32
دور دوم واقعہ ہجرت 43
صلح حدیبیہ 69
خبیر کے متعلقات 72
متعلقہ غدیر خم 113
دور سوم 131
انتقال نبوی ؐ کے بعد کے احوال 141
خلافت صدیقی ؓ اور سیدنا علی ؓ 150
خلافت فاروقی ؓ اور سیدنا علی ؓ 167
خلافت عثمانیؓ اور سیدنا علی کرم اللہ وجہ 186
دور چہارم عہد علوی ؓ 228
فہرست نا مکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام امہات المومنین زبان سیرت نبوت

سیرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ ( جدید ایڈیشن )

سیرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ ( جدید ایڈیشن )

 

مصنف : محمد ادریس فاروقی

صفحات: 131

 

سیدہ خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے “طاہرہ” کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے قبل عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سیرت خدیجہ الکبریٰ ‘ مسلم پبلی کیشنز کے مدیر مولانا حافظ نعمان فاروقی﷾ کے والد گرامی جناب حکیم محمدادریس فاروقی﷫ کی کاوش ہے انھوں نے اس کتاب میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی ولادت ،حسب ونسب،گھرانہ تربیت، جوانی ،شادی ،بیوگی،کاروبار ،رسول اکرم ﷺ سے نکاح آپ کی خدمت واطاعت، اخلاص وایثار سادگی حضورﷺ سے نکاح ،آپ کی خدمت واطاعت ،اخلاص و ایثار سادگی حضورﷺ کےاقربا ء سے حسن سلوک ، محصورین کی امداد،اسلام کی خدمت ، تبلیغی مساعی،زہد وعبادت ،فیاضی وکریمی ، اولاد کی تربیت حدیث کی خدمت اللہ اوراس کے رسول کی رضا جوئی، فضائل ومناقب اور بنات الرسول سیدہ زینب ، سیدہ رقیہ ،سید ام کلثوم،سید فاطمہ الزاہراء رضی اللہ عنھن کے مختصر حالات زندگی نہایت عمدگی اور جامعیت سے یکجا کر دئیے گئے ہیں ۔مصنف کا انداز تحریر سلیس اور دلکش ہے ۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ کی زندگی کے بہت سے گوشے بے نقاب کردیے گئے ہیں کہ جن کےمطالعہ سے قارئین کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں دگرگوں اضافہ ہوتاہے ۔نیز اس کتاب میں ام المومنین خدیجۃالکبریٰؓ کی زندگی سے برآمد ہونے والے بہترین اسباق ہدیۂ قارئین کیے گئے ہیں جس کی بنا پر اس کا سبقاً سبقاً مطالعہ خواتین اسلام کے لیے بہت مفید اور نافع ثابت ہوسکتاہے۔الغرض یہ کتاب سید ہ خدیجہ الکبریٰ کی بابت معلومات کا خزانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کوقبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 10
مولنا محمد ادریس فا روقی 12
دیباچہ 21
سیرت خدیجہ الکبریٰ ﷜ 27
ولادت 27
ایک نکتہ 28
حسب و نسب 28
خاندانی شرافت 29
حضرت خدیجہ ﷜ کا گھرانہ 29
حضرت خدیجہ ﷜ کی تربیت 31
حضرت خدیجہ ﷜ کا قدیم مذہب 32
چند مذہبی واقعات 33
حضرت خدیجہ ﷜ کی پہلی شادی 35
دوسر ی شادی 36
بیوگی کا زمانہ 37
حضرت خدیجہ ﷜کا کارو بار 38
حضرت خدیجہ ﷜ کے ساتھ جضور ﷺکا تجارتی معاہدہ 39
آنحضرت ﷺ کا سفر شام 39
سفر میں معجزات نبوی کا ظہور 41
بحیرا راہب کا واقعہ 43
آنحضرت ﷺ سفر سے واپسی 46
ضعیف اور غلط روایات 46
حالات سفر کا انکشاف 48
حضرت خدیجہ کا اشتیاق 49
نکا ح کا پیام 49
خدیجتہ الکبریٰ ﷜ کی تیسر ی شادی 51
رسو ل اللہﷺ سے نکاح 51
مثالی سادگی 53
مسرت کی لہریں 54
قیمتی اسباب 55
حضرت خدیجہ ﷜ کی شاد مانی 56
ایک نکتہ ایک راز 57
قابل تقلید ازواجی تعلقات 59
شوہر کی خدمت و اطاعت 60
حضرت خدیجہ ﷜ کا بے مثال ایثار 61
خدیجہ ﷜ سے حضو ر ﷺ کی محبت 63
خدیجہ ﷜ کی تکلفات سے نفرت 63
سادگی کے دو واقعات 64
سید ہ خدیجہ ﷜ کا آنحضرت ﷺ کے اقربا ء سے سلوک 65
سادہ زندگی سادہ معاشرت 67
زوجین کے مزہبی عقائد 69
عارفانہ مذاکرات 71
معبو د حقیقی کا تصور 71
حق کی تلاش 72
حسب الہی کا آغاز 73
نزو ل وحی  وعطائے نبوت 75
اقر اء باسم ربک 76
نزول قرآن 79
تین سال کا توقف 81
سورہ مدثر  کا نزول 82
 مسلمہ اول خدیجہ طاہرہ ﷜ کا ایمان 83
اسلام کی خفیہ تبلیغ 85
اسلام کی علانیہ  تبلیغ 86
واقعہ کوہ صفا 87
آنحضرت کی بے چینی اور خد یجہ ﷜ کی تشفی 90
رسول اللہ ﷺپر مصائب کا ہجوم 91
جنون و کہانت کے الزامات 91
قرآن اورخدیجہ ﷜ کی  زبان میں یکسانیت 93
مسلمانوں کی اذیت پر خدیجہ  ﷜کا رنج 94
اہل اسلام کی اعانت 95
محصور ین کی بھر پور امداد 96
اسلام کی ترقی  پر انتہائی خوشی 97
اسلا م کے لئے عظیم قوت 98
مسلمانوں کی روحانی امداد 99
حضرت خدیجہ﷜ کی تبلیغی خدمات 100
اللہ اور رسول ﷺ کی رضائی جوئی 101
زہد و عبادت 102
فیاضی اور کریمی 104
اولاد کی تربیت 105
روایت حدیث 106
حضرت خدیجہ ﷜ کی او لاد 107
سیدہ زینب﷜ 107
سیدہ رقیہ﷜ 109
سیدہ ام  کلثوم ﷜ 110
سیدہ فاطمہ الزہرا﷢ 111
خدیجتہ الکبریٰ ﷜ کے فضائل و مناقب 114
افضل ترین خاتون 114
خواتین جنت  میں بہترین 114
امور نبوت کی معاون 115
اللہ کی طرف سے محبت 115
تکذیب میں تصدیق کر نے والی 115
بے پناہ صفات کی مالکہ 116
اللہ تعالی ٰ کا سلام 117
خوشنودی رسول 117
رسالت کی بلا تاخیر تصدیق 117
یقین کامل 118
رسول اللہﷺ کی محبت 118
ایمان کی مضبوطی 118
شرک سے نفرت 119
مالی قربانیاں 119
زہد و تور ع 120
خدیجہ طاہرہ ﷜ کا انتقال پر ملال 121
عام الحزن 121
صدمہ عظیم 121
کفار کے ناپاک عزائم 123
اللہ تعالی ٰ کی حمایت 123
سیدہ خدیجہ طاہرہ ﷜ طی یاد 124
غیر مسلم مصنفین کی آراء 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز