Categories
Islam دینی تعلیم قادیانیت نماز

شہادۃ القرآن

شہادۃ القرآن

 

مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

 

صفحات: 458

 

سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم  علمی  شخصیات کو جنم دیا ہے  جن  میں مولانا ابراہیم  سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال، علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷭ سرفہرست ہیں  مولانا ابراہیم میر 1874ء  کو  سیالکوٹ میں  پیدا  ہوئے۔ سیالکوٹ  مرے کالج میں شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال کے  ہم جماعت  رہے   ۔مولاناکا گھرانہ دینی تھا ۔لہذا والدین کی خواہش  پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور   دینی تعلیم کے حصول کے لیے  کمر بستہ  ہوگے ۔اور شیخ الکل سید نذیر حسین  محدث دہلوی کے حضور  زانوے تلمذ طے کیا۔ مولانا میر سیالکوٹی  سید صاحب کے  آخری دور کےشاگرد ہیں  اور انہیں  ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل  ہے ۔مولانا سیالکوٹی  نے  جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ  حافظ  عبد اللہ محدث روپڑی  ﷫نے  پڑہائی اللہ ان کی  مرقد پر اپنی  رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین ) مولانا  مرحوم نے درس وتدریس ،تصنیف وتالیف، دعوت ومناظرہ، وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں  مولانا نےنمایاں کردار اداکیا  مرزائیوں سے  بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے  اور مولانا  ثناء اللہ  امرتسری  ﷫کے دست وبازوبنے رہے۔  مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 کتابیں تصنیف فرمائیں۔  شہادۃ القرآن  قادیانیت کے رد میں   ان کی ایک اہم ترین کتاب ہے  جو   دو حصوں پر  مشتمل ہے۔  جس  میں حیاۃ  عیسی  علیہ  لسلام پر بحث کی گئی ہے  اور قر آن مجیدکی  روشنی میں مرزائیوں کے  دلائل واعتراضات کا مکمل  رد کیا گیا ہے اس کتاب کی افادیت کااندازہ اس بات سے  لگایا جاسکتاہے کہ اس کتا ب  کو عالمی  مجلس  تحفظ   ختم  نبو ت  کے  مرکزی   دفتر  ،ملتان  نے بارہا  شائع کیااور    بعض مدارس  نے  اس کو شامل بھی  نصاب کیا ہے
 

عناوین صفحہ نمبر
شہادت القرآن حصہ اول 13
حرف اول 13
تقریظ 15
سخنے چند 17
دیباچہ شہادت القرآن 23
تمہید 32
مصنف کے بعض خواب 34
وجہ تصنیف 37
مقدمہ اولیٰ در بیان امکان خرق عادت 39
طریق ثبوت معجزات 58
مقدمہ ثانیہ در تشریح سنۃ اللہ 63
مقدمہ ثالثہ در خصائص حضرت عیسیٰ علیہ السلام 71
فصل اول در بیان عدم مصلوبیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام 81
نقل اشتہار بناز مرزا صاحب قادیانی 99
خلاصہ عبارت انگریزی جارج سیل صاحب 118
فصل ثانی در اثبات حیات و رفع آسمانی 139
تحقیق لفظ ’’ توفی‘‘ 140
کتب لغت میں توفی بمعنی میت لکھنے کی وجہ 148
نقشہ آیات توفی مع بیان قرینہ 162
تفسیر قولہ تعالیٰ ورافعک الی 179
تفسیر قولہ تعالیٰ مطہرک 193
امتناع صعود جسم کا جواب 227
رفع سماوی میں پہلی حکمت 236
ایضا دوسری حکمت 238
تیسری آیت تا نویں آیت 241۔263
مضامین حصہ دوم
خطبہ و سبب تالیف 278
دیباچہ طبع ثانی از مصنف 289
مرزائے قادیانی کی پیش کردہ آیات کی قسم اول ، دوم ، سوم 291
قسم اول سے پہلی آیت یعیسی انی متوفیک 291
اس آیت سے مرزا صاحب کے استدلال کے غلط ہونے کی وجہ اول 292
دوسری وجہ 295
تیسری وجہ 296
چوتھی وجہ 297
قسم اول میں دوسری آیت 297
مرزا صاحب کے اس حدیث کو قبول کرنے کی دلیل قرار دینا 301
عذر اول کا جواب 302
قیامت کے روز کہنے کی مزید تفصیل 307
قسم اول میں تیسری آیت 318
قسم اول میں چوتھی آیت 322
قسم اول میں پانچویں  آیت 334
قسم اول میں چھٹی آیت 341
قسم اول میں ساتویں آیت 347
تحقیق لفظ خلت 353
اس آیت کے حضرت ابوبکر صدیق کے پڑھنے پر مغالطہ دینا اور اس کا جواب 361
قسم دوم میں تیسری آیت 366
قسم سوم میں دوسری آیت 370
قسم سوم میں تیسری آیت 371
قسم سوم میں نویں آیت 380
قسم سوم میں دسویں 381
قسم سوم میں گیارہویں تا انیسویں آیت 383۔409
قسم سوم  میں بیسویں آیت 413

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تراجم حدیث زبان نماز

صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی جلد۔1

صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی جلد۔1

 

مصنف : امام مسلم بن الحجاج

 

صفحات: 819

 

صحیح مسلم امام مسلم ﷫(204ھ۔261ھ) کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے پیش نظر صحیح بخاری کی طرح اس کی بہت زیادہ شروحات لکھی گئیں۔ عربی زبان میں لکھی گئی شروحات ِ صحیح مسلم میں امام نوویکی شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔پاک وہند میں بھی کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں اس کی شروحات وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں علامہ وحید الزمان کا ترجمہ قابل ذکر   ہے اورطویل عرصہ سے یہی ترجمہ متداول ہے لیکن اب اس کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے کتب ستہ کے ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح مسلم مع مختصر شرح نووی وتخریج‘‘ علامہ وحید الزمان کی ترجمہ شدہ ہے۔لیکن اس میں اس ترجمہ کی قدم اردو کو تسہیل کےساتھ پیش کیا گیا ہے ۔صحیح مسلم کے کئی نسخے بازار میں دستیات ہیں مگر مکتبہ اسلامیہ، لاہور نےاس عظیم کتاب کو منفرد انداز اورامتیازی خوبیوں کےساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ نسخہ درج ذیل امتیازات اور خصوصیات سے مزین ہے۔ مختلف نسخوں سےتقابل کے بعدصحیح ترین عبارت نقل کی گئی ہے،آیات کریمہ کی تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے،تخریج حدیث اور رقم الحدیث کے ذریعے دیگر کتب احادیث کی طرف رہنمائی کامنفرد کام، مسلسل حدیث نمبر کا انتخاب، ہر حدیث مبارکہ کی مکمل تشریح حدیث کے ساتھ ہی مکمل کی گئی ہے،قارئین کی سہولت کے لیے حدیث کےمتن یعنی آپ ﷺ کے الفاظ کو سند اور دیگر عبارات سے الگ فونٹ کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔ اللہ ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
عنوان
عرض ناشر 9
دیباچہ 11
مقدمہ صحیح مسلم 17
ہمیشہ ثقہ اور معتبر لوگو ں سے روایت کرنا چا ہیے الخ 25
رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باند ھنا کتنا بڑ ا گنا ہ ہےق 27
سُنی ہوئی بات ( بغیر تحقیق کے) کہہ دینا منع ہے 28
ضیعف لو گو ں سے روایت کرنامنع ہے الخ 29
حدیث کی سند بیان کرنا ضروری ہے اوریہ دین میں
داخل ہے ۔ 32
حدیث کے راو یوں کا عیب بیان کر نا درست ہے اور
وہ غیبت میں داخل نہیں 34
معنعن حدیث سے حجت پکڑ نا صحیح ہے 56
کتاب الایمان 68
ایمان اور اسلا م اور احسان کا یبان 68
ایما ن کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان 74
اسلام کی حقیقت اور اس کے خصا ل کابیان 76
نمازوں کی بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے 77
اسلام کے ارکان پو چھنے کا بیان 78
بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا
اورا یمان کا پانبد جنتی ہے 81
اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کا بیان 83
اللہ اور رسول اور دینی ا حکام پر ایمان لانے کا حکم کر نا الخ 84
لوگوں کو شہادتیں کی طر بلانے اور اسلام کے ارکان
کابیان 90
جب تک لوگ الا الہ ٰ اللہ نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم 92
بیان اس بات کا کہ جوشخص مرتے وقت مسلمان ہو
اس کا اسلام صحیح ہے 97
مو حد قطعی جنتی ہے 99
جو شخص اللہ کی خدائی اور اسلام کے دین اور محمد ﷺ
کی پیغمبری پر اراضی ہو وہ مومن ہے اگرچہ کبیرہ گنا ہ
کر بیٹھے 111
ایمان کی شا خون کا بیان 113
جامع ا وصاف اسلام کابیا ن 116
خصائل اسلام کی فضیلت 117
ان خصلتوں کابیان جن سے ایمان کا مز ا ملتا ہے 118
رسول اللہﷺ سے سب سے زیادہ محبت رکھنا
واجب ہے 119
ایمان کی خصلت یہ ہے ک اپنے مسلمان بھائی کے
لیے بھی وہی چاہے جو اپنے لیے چا ہتا ہے 120
ہمسایہ کو ایذ دینا حرام ہے 121
ہمسایہ اور مہمان کی خاطر دار ی کی تر غیب وغیرہ 121
بُری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور ایمان
گھٹتا بڑ ھتاہے 123
ایمانداروں کا ایک دوسرے سے فضیلت میں کم
زیادہ ہونا 128
جنت میں مو من ہی جائیں گے 133
دین خیر خواہی ، سچائی اور خلوص کو کہتے ہیں 134
گنا ہو ں سے ایمان کے گھٹ جانے وغیرہ کا بیان 136
منا فق کی خلصتوں کایبان 139
مسلمان بھائی کا کافرکہنے والے کے ایمان کا بیان 141
اپنےباپ سے پھر جانے ،نفر ت کرنے اور وانستہ
دوسر ے کو باپ بنانے والے کے ایمان کا بیان 142
مسلمان کو گالی دیان ، بُرا کہنا گنا ہ ہے اور اس سے لڑنا
کفرہے ۔ 143
نبی ﷺ کےا س جملہ کا معنی ، میرے بعد کافر نہ ہو
جاناکہ ایک دوسرے کی گر دنیں ا ڑانے لگو ، 144
نسب میں طعن کرنا اور میت پر چلا کر رونے والے پر کفر کا
اطلاق ٍ 145
اپنے مو لیٰ کے پاس سے بھاگے ہوئے غلام کا کافر
کہنے کابیان 146
اس شخص کا کا فر ہونا جو کہئے کہ بارش ستار وں کی گردش
سے ہوئی 146
انصاری اور حضرت علی ؓ سے محبت رکھنا ایمان میں
داخل ہے 150
عبادت کی کمی سے ایمان کا گھٹنا اور ناشکری اور احسان
فراموشی کر کفر کہنا 151
جو شخص نماز ترک کرے اس کے کفر کا بیان 153
اللہ پر ایمانلانا سب کا موں سے افضل ہے 154
 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
22 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب اسلام اہل حدیث زبان زنا سلفی شروحات حدیث طلاق قربانی قرض معاملات نماز

صحیح بخاری (داؤد راز)۔جلد 4

صحیح بخاری (داؤد راز)۔جلد 4

 

مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری

 

صفحات: 731

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ۔ہند کی طرف سے طبع شدہ ہے جسے انہوں نے مکتبہ قدوسیہ،لاہور کی اجازت سے ہندوستان سے شائع کیا ۔

 

فہرست مضامین
   کتاب الشرکۃ
19    دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی کو جائز نہیں۔۔۔
19    مشترک چیزوں کی انصاف کے ساتھ ٹھیک قیمت۔۔۔
20    تقسیم میں قرعہ ڈال کر حصے لےنا
22    یتیم کا دوسرے وارثوں کے ساتھ شریک ہونا
23    زمین مکان وغیرہ میں شرکت کا بیان
23    جب شریک لوگ گھروں وغیرہ کو تقسیم۔۔۔
24    سونے، چاندی اور ان تمام چیزوں میں شرکت۔۔۔
25    مسلمان کا مشرکین اور ذمیوں کے ساتھ کھیتی کرنا
25    بکریوں کا انصاف کے ساتھ تقسیم کرنا
27    اناج وغیرہ میں شرکت کا بیان
27    غلام لونڈی میں شرکت کا بیان
29    قربانی کے جانوروں اور اونٹوں میں شرکت۔۔۔
   تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابرسمجھنا
30    کتاب الرھن
32    آدمی اپنی بستی میں ہو اور گروی رکھے
32    زرہ کو گروی رکھنا
35    ہتھیار گروی رکھنا
35    گروی جانور پر سواری کرنا اور دودھ پینا۔۔۔
   یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا
   راہن اورمرتہن میں اگر اختلاف ہو۔۔۔
   کتاب العتق
37    غلام آزاد کرنے کا ثواب
38    کیسا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟
39    سورج گرہن اور دوسری نشانیوں۔۔۔
39    اگر مشترک غلام یا لونڈی کو آزاد کر دے
42    اگر کسی شخص نے ساجھے کے غلام میں۔۔۔
43    اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے۔۔۔
44    ایک شخص نے آزاد کرنے کی نیت سے۔۔۔
46    ام ولد کا بیان
47    مدبر کی بیع کا بیان
48    ولاء بیچنا یا ہبہ کرنا
49    اگر کسی مسلمان کا مشرک بھائی۔۔۔
50    مشرک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب۔۔۔
51    اگر عربوں پر جہاد ہو اور کوئی ان کو غلام بنائے۔۔۔
52    جواپنی لونڈی کو ادب اور علم سکھائے۔۔۔
56    غلام تمہارے بھائی ہیں پس ان کو بھی۔۔۔
57    جب غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی۔۔۔
58    غلام پر دست درازی کرنا۔۔۔
59    جب کسی کا خادم کھانا لے کر آئے
60    غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے۔۔۔
61    اگرکوئی غلام لونڈی کو مارے تو۔۔۔
62    کتاب المکاتب
63    لونڈی غلام کو زنا کی جھوٹی تہمت۔۔۔
64    مکاتب اور اس کی قسطوں کا بیان۔۔۔
65    مکاتب سے کونسی شرطیں کرنا درست ہیں۔۔۔
66    اگر مکاتب دوسروں سے مدد چاہے۔۔۔
67    جب مکاتب اپنے تئیں بیچ ڈالنے پر راضی ہو
68    اگر مکاتب کہے مجھ کوخرید کر آزاد۔۔۔
69    کتاب الہبہ
70    تھوڑی چیز ہبہ کرنا
71    جو اپنے دوستوں سے کوئی چیز تحفہ مانگے۔۔۔
72    پانی ( یا دودھ ) مانگنا
73    شکار کا تحفہ قبول کرنا
74    ہدیہ کا قبول کرنا
75    اپنے کسی دوست کو اس دن تحفہ بھیجنا۔۔۔
76    جو تحفہ واپس نہ کیا جانا چاہئے
77    جن کے نزدیک غائب چیز کا ہبہ کرنا درست ہے
78    ہبہ کا معاوضہ ( بدلہ ) ادا کرنا
79    اپنے لڑکے کو کچھ ہبہ کرنا
80    ہبہ کے اوپر گواہ کرنا
81    خاوند کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا۔۔۔
82    اگر عورت اپنے خاوند کے سوا کسی کو کچھ ہبہ۔۔۔
83    ہدیہ کا اولین حقدار کون ہے؟
84    جس نے کسی عذر سے ہدیہ قبول نہیں کیا
85    اگر ہبہ یا ہبہ کا وعدہ کرکے کوئی مر جائے۔۔۔
86    غلام لونڈی اور سامان پر کیوں کر قبضہ۔۔۔
87    اگر کوئی ہبہ کرے اور موہوب لہ۔۔۔
88    اگر کوئی اپنا قرض کسی کو ہبہ کردے
89    ایک چیز کئی آدمیوں کو ہبہ کرے۔۔۔
90    جو چیز قبضہ میں ہو یا نہ ہو۔۔۔
91    اگر کئی شخص کئی شخصوں کو ہبہ کریں
92    اگر کسی کو کچھ ہدیہ دیا جائے۔۔۔
93    اگر کوئی شخص اونٹ پر سوار ہو۔۔۔
94    ایسے کپڑے کا تحفہ جس کا پہننا مکروہ ہو
95    مشرکین کا ہدیہ قبول کرلینا
96    مشرکوں کو ہدیہ دینا
97    کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ۔۔۔
98    جس نے کسی سے گھوڑا عاریتاً لیا
99    دلہن کے لیے کوئی چیز عاریتاً لینا
100    تحفہ منیحہ کی فضیلت کے بارے میں
101    عام دستور کے مطابق کسی نے۔۔۔
102    جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری۔۔۔
103    کتاب الشہادات
104    گواہیوں کا پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے
105    اگر ایک شخص دوسرے کے نیک عادات۔۔۔
106    جو اپنے تئیں چھپا کر گواہ بنا ہو۔۔۔
107    جب ایک یا کئی گواہ کسی معاملے کے۔۔۔
108    گواہ عادل معتبر ہونے ضروری ہیں
109    کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے۔۔۔
110    نسب اور رضاعت میں جو مشہور ہو۔۔۔
111    زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور حرام کار۔۔۔
112    اگر ظلم کی بات پر لوگ گواہ بننا چاہیں۔۔۔
113    جھوٹی گواہی دینا بڑا گناہ ہے
114    اندھے آدمی کی گواہی۔۔۔
115    عورتوں کی گواہی کا بیان
116    باندیوں اور غلاموں کی گواہی کا بیان
117    دودھ کی ماں کی گواہی کا بیان
118    عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے۔۔۔
119    جب ایک مرددوسرے مرد کو اچھا کہے۔۔۔
120    کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔۔۔
121    بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان۔۔۔
122    مدعیٰ علیہ کو قسم دلانے سے پہلے۔۔۔
123    دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں۔۔۔
124    اگر کسی نے کوئی دعویٰ کیا۔۔۔
125    عصر کی نماز کے بعد۔۔۔
126    مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے۔۔۔
127    جب چند آدمی ہوں اور ہر ایک قسم۔۔۔
128    اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمان کہ
129    کیوں کر قسم لی جائے
130    جس مدعی نے قسم کھالینے کے بعد۔۔۔
131    جس نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا
132    مشرکوں کی گواہی قبول نہ ہوگی
133    مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا
134    کتاب الصلح
135    لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب
136    دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے۔۔۔
137    حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو۔۔۔
138    اگر میاں بیوی صلح کرلیں تو۔۔۔
139    اگر ظلم کی بات پر صلح کریں۔۔۔
140    صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے
141    مشرکین کے ساتھ صلح کرنا
142    دیت پر صلح کرنا۔۔۔
143    حسن ؓکے متعلق نبی کریم کا فرمان۔۔۔
144    کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ۔۔۔
145    اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے۔۔۔
146    میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح۔۔۔
147    کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا
148    کتاب الشروط
149    اسلام میں داخل ہوتے وقت شرطیں لگانا۔۔۔
150    پیوند لگانے کے بعد اگر کھجور کا درخت ۔۔۔
151    بیع میں شرطیں کرنے کا بیان
152    اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام۔۔۔
153    معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان
154    نکاح کے وقت مہر کی شرطیں
155    مزارعت کی شرطیں جو جائز ہیں
156    جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان
157    جو شرطیں حدود اللہ میں جائز نہیں۔۔۔
158    اگر مکاتب اپنی بیع پر اس لیے راضی۔۔۔
159    طلاق کی شرطیں ( جو منع ہیں(
160    ولاء میں شرط لگانا
161    مزارعت میں مالک نے کاشکار۔۔۔
162    جہاد میں شرطیں لگانا۔۔۔
163    قرض میں شرط لگانا
164    مکاتب کا بیان اور جو شرطیں۔۔۔
165    اقرار میں شرط لگانا یا استثناء کرنا۔۔۔
166    وقف میں شرطیں لگانے کا بیان
167    کتاب الوصایا
168    اس بارے میں وصیتیں ضروری ہیں
169    اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑنا۔۔۔
170    تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
171    وصیت کرنے والا اپنے وصی سے کہے۔۔۔
172    اگر مریض اپنے سر سے کوئی اشارہ۔۔۔
173    وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
174    موت کے وقت صدقہ کرنا
175    اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانا کہ۔۔۔
176    اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانے۔۔۔
177    اگر کسی نےعزیزوں پر کوئی چیز وقف کی۔۔۔
178    کیا عزیزوں میں عورتیں اور بچے۔۔۔
179    کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے۔۔۔
180    اگر وقف کرنے والا مال وقف کو۔۔۔
181    اگر کسی نے یوں کہا کہ میرا گھر اللہ کی راہ۔۔۔
182    کسی نے کہا کہ میری زمین یا باغ ماں کی طرف۔۔۔
183    اپنی کوئی چیز یا لونڈی غلام یا جانور صدقہ ۔۔۔
184    اگر صدقہ کے لئے کسی کو وکیل کرے۔۔۔
185    اگر کسی کو اچانک موت آجائے۔۔۔
186    وقف اور صدقہ پر گواہ کرنا
187    اللہ تبارک وتعالٰی کا ارشاد کہ یتیموں کو ان کا مال۔۔۔
188    اللہ تبارک وتعالٰی کا ارشاد کہ یتیموں کی آزمائش۔۔۔ .
189    وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت۔۔۔
190    اللہ تبارک وتعالٰی کا ارشاد کہ جو یتیموں کا مال ظلم۔۔۔ .
191    اللہ تبارک وتعالٰی کا ارشاد کہ لوگ یتیموں کے بارے میں۔۔۔ .
192    سفر اور حضر میں یتیم سے کام لینا۔۔۔
193    اگر کسی نے ایک زمین وقف کی۔۔۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
15 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ادب تہذیب حج سفرنامے عمرہ

سفر نامہ حجاز 1930ء

سفر نامہ حجاز 1930ء

 

مصنف : غلام رسول مہر

 

صفحات: 171

 

اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سفر نامہ حجاز ‘‘ مولانا غلا م رسول مہر﷫ کے سفرحجاز کی روداد ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے خادم الحرمین الشریفین سلطان عبدالعزیز ابن سعود﷫ کی دعوت پر سفرمبارک کا عزم فرمایا تھااو ر23؍اپریل 1930 کو کراچی سے روانہ ہوئے۔مولانا اسماعیل غزنوی ﷫اور چند دیگر احباب ان کےہم سفرتھے ۔ ارض حرم میں 29؍ مئی1930ء تک انہیں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس دوران سلطان ابن سعود سے ان کی ملاقات ہوئی ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سعادتِ حج سےبھی مشرف ہوئے ۔اس سفر مبارک کی ہر منزل ہر مقام، قیام کی صحبت ومصروفیت کی روداد روزنامہ ’’انقلاب‘‘ لاہور میں اپریل سے جولائی تک خطوط کی صورت میں قسط وار شائع ہوئی۔یہ خطوط انہوں نے ’’انقلاب‘‘ کےمدیر ثانی عبد المجید سالک کے نام مختلف مراحل ومقامات سے ارسال کیے تھے ۔ 29؍مئی 1930ء کو مولانا مہر جس بحری جہاز سے واپس ہوئے اسی میں قاضی سلیمان سلمان منصورپوری﷫(مصنف رحمۃ للعالمین) بھی اپنے سترہ رفقا کے ساتھ سوارتھے۔ قاضی صاحب سخت علیل تھے او ران کا سانحۂ ارتحال30؍مئی کوبحالتِ سفر جہاز ہی میں پیش آیا۔ قاضی صاحب کی علالت ،ان کی وفات اور پھر ان کی میت کی سپردِ آب کرنے کی روداد مولانا غلام رسول مہر نےبڑی دل سوزی اورافسردگی سےساتھ قلم بند کی ہے جسے اس سانحۂ ارتحال کےایک اہم اور چشم دید ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔یہ روداد بھی اس سفر نامہ میں شامل اشاعت ہے ۔اس سفر نامہ کی مطبوعہ اقساط کو ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری نے اپنے ادبی اور دینی ذوق کی بناپر 1970۔71 میں ’’انقلاب اخبار سے نقل کر مرتب کیا ۔اس سفرنامہ کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں ۔ایڈیشن ہذا محترم جناب ضیاء اللہ کھوکھر آف گوجرانوالہ نے 1984ء میں شائع۔۔مولانا غلام رسول مہر کا یہ دوسرا سفر حجاز تھا۔ اس سے قبل آپ وفد خلافت کے رکن کی حیثیت سے یکم نومبر 1924ء کو مولانا ظفر علی خان کی معیت میں پہلی مرتبہ کراچی سے حجازِ مقدس کےسفر پر روانہ ہوئے۔جہاں ان کاقیام22جنوری 1926ء تک رہا۔مولانا مہر نےاپنے اس سفر کی روداد اور حجاز مقدس میں اپنے قیام ،مشاہدات او رتجربات کی سرگزشت بھی قلم بند کی تھی جو اُس وقت روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں شائع ہوئی تھی

 

عناوین صفحہ نمبر
تعارف 5
دیباچہ 11
مسافر حجاز اور اس کا سفر نامہ 15
عرض حال 27
باب اول لاہور سے کراچی 29
باب دوم جدہ سے کراچی 37
باب سوم سرزمین مقدس حجاز 65
باب چہارم مکہ معظمہ اور اس کے حوالی 85
باب پنجم حرم پاک کا ظالم کلید بردار 109
باب ششم ادائے فریضہ حج 115
باب ہفتم ادائے فریضہ حج کے بعد 135
باب ہشتم مراجعت کا بحری سفر 146
باب نہم مصنف رحمۃ للعالمین آغوش رحمت میں 162

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تقلید و اجتہاد سنت نماز

راہ نجات

راہ نجات

 

مصنف : رحمت اللہ ربانی

 

صفحات: 275

چوتھی صدی ہجری  میں امت مسلمہ  نے  بحثیت مجموع   اجتہاد  کا  راستہ  چھوڑ کر تقلید کا راستہ اپنا لیا۔اور پھر بتدریج یہ تقلیدی جمود اس قدرپختہ ہوگیا کہ  آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اسے خرچنا مشکل ہی نہیں بلکہ محال نظر آتا ہے۔لیکن  اس امت کی نجات صحیح معنوں صرف اجتہاد اور کتاب وسنت کے تمسک سے ہی ہے۔اگرچہ مسلمانوں  میں موجود تمام مسالک و فرق یہی کہتے ہیں کہ ہم کتاب و سنت سے ہی  منسلک ہیں لیکن عملا صورتحال مختلف  ہے۔زیرنظر کتاب میں مصنف نے اسی فکر کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔اور اس ہر فرقے و مسلک کتاب و سنت سے تمسک کی قلعی کھولنے کی سعی کی ہے۔اس سلسلے میں موصوف نے کئی ایک شرعی مسائل  و احکام  کو پیش نظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا ہے۔اور  غیر جانب دار ہو کر تجزیہ کیا ہے۔کیونکہ اس موصوف خود اس باب میں حقیقت کے شدت سے متلاشی تھے۔اسی وجہ سے انہوں نے اپنی کتاب کا نام راہ نجات رکھا ہے۔ تاہم  یہ فقہی اختلافات ہوتے ہیں ان کے بناء پر جدل و نزاعات  کی راہ ہموار نہیں کرنی چاہیے۔اگرچہ مصنف کا رویہ  بحثیت مجموع اعتدال کی طرف  ہی مائل  ہے۔اللہ ان کی کاوش کو کامیابی ء درین کا ذریعہ بنائے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
باب نمبر 1۔ مسئلہ نمبر 1 تا 16 5
1۔ لفظ اہلحدیث کی وضاحت سے لے کر نماز سے متعلقہ مسائل
2۔تعدیل ارکان
باب نمبر 2۔ مسئلہ نمبر 17 تا 43 45
17۔ رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا فرض ہے
43۔ نماز کو سلام سے ختم کرو
باب نمبر 3۔ مسئلہ نمبر 44 تا 65 84
44۔ اگر نمازی کی ہوا خارج ہو جائے تو ….
65۔ مدت رضاعت
باب نمبر 4۔ مسئلہ نمبر 66 تا 70 118
66۔ اذان ترجیع کا حکم
70۔ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا واجب القتل ہے
باب نمبر 5۔ مسئلہ نمبر 71 تا 109 128
71۔ میت کے قضائی روزے
109۔ اہل قبور کا عدم سماع
باب نمبر 6۔ مسئلہ نمبر 110 تا 113 177
110۔ تحقیق مسئلہ علم غیب
113۔ گستاخ رسول اللہ ﷺ کون ؟
باب نمبر 7۔ مسئلہ نمبر 114 تا 134 215
114۔ امیر اور شوری کا تعلق
134۔ ختم کے استدلال پر بحث

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام بدعت سنت عبادات علماء

رد بدعات ( عبد اللہ روپڑی)

رد بدعات ( عبد اللہ روپڑی)

 

مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

 

صفحات: 50

 

اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کےبرابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سےیہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے ۔یعنی  شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے ۔  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔بدعات وخرافات کی تردید  اور اتباع سنت کواجاگر کرنے کے لیے  ہر دور میں   اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ ردِّ بدعات ‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ  محدث روپڑی ﷫ کا تصنیف شدہ ہے ۔ جس میں انہوں نے   مندرجہ ذیل مسائل کی  پوری تحقیق پیش کی ہے ۔اسقاط میت ،  میت کودفن کر کے چالیس قدم پر دعا کرنا ، اہل میت  کے گھر فاتحہ کےلیے  جمع ہونا ، اہل  میت کا دریا پر نہانا ، اہل میت کے گھر کچھ روز  تک گوشت نہ آنے دینا ، بچہ کے ختنہ کے وقت تلوار لے کر کھڑے  ہونا او ربچہ کوٹوکری میں  رکھ  بکری کے سر پر بٹھانا ، خطبہ  میں سنتیں پڑہنا ، مسئلہ توسل ، ذکر لا الہٰ الا اللہ جمع ہو کر تمام رات  پڑھنا،  اذان میں محمد ﷺ کے نام  پر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں پر ملنا، ظہر احطتیاطی پڑہنا ،  انگریزی بال رکھنا ، ڈاڑہی منڈانا ، گیارہویں  کا ختم ،  سماع موتی،  قبوں کاگرانا، حدیث  قرن شیطان، اہل نجد کاذکر  معنیٰ بدعت ، مسئلہ تقلید

 

عناوین صفحہ نمبر
سوالات 2
جوابات 3
ضمیمہ رسالت بدعات الاستفتاء 22
جوابات 23
تتمہ در معنی بدعت 44

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل اسلام روح سنت قربانی

قربانی کے مسائل

قربانی کے مسائل

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 24

 

قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے ۔تخلیق ِانسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن   مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس   عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔ اللہ تعالی کےہاں   کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی قابل قبول ہوتا ہے کہ جب اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ تمام اہل اسلام کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے اہم عبادت عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالی کی رضا کے لیے ذبح کرنا ہے اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ قربانی کے احکام مسائل ‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے عام فہم انداز میں قربانی کے جملہ احکام ومسائل کو بیان کردیا ہے۔ قارئین اس سے استفادہ کر کے قربانی کےسلسلے میں   معاشرہ میں پائی   جانے والی کتاہیوں کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے لیے اسے مفید بنائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
قربانی شعائر اللہ میں سے ہے 5
قربانی کی روح اخلاص 6
قربانی کا وجوب 6
قربانی کا جانور 7
جانور کی عمر 7
اگر مسنہ نہ ملے 8
جانور کی جسمانی حالت 9
خریدنے کے بعد جانور میں عیب ہو جانا 10
حاملہ جانور کی قربانی 10
قربانی کرنے والے کے لیے حکم 11
جس نے قربانی نہ دینی ہو 11
گوشت کی تقسیم 12
قربانی کا وشت ذخیرہ کرنا 14
کھالوں کا مصرف 16
قربانی کے جانور کی اون 16
قربانی کا فروخت کرنا 16
قربانی کے جانور کا تبادلہ 17
جانورون میں قربانی کا حصہ 17
قربانی کا وقت 17
قربانی کا فضل وقت 18
ایک گھر کی طرف سے ایک قربانی یا میت کی طرف قربانی 18
میت کی طرف سے قربانی 19
قربانی کے لیے مالی حیثیت 20
سوچنے کی بات 20
قرض لے کر قربانی 21
حرام مال سے قربانی 21
قربانی کا بدلہ 22
قربانی کا جانور یا رقم دوسری جگہ پہنچانا 23
یورپی ممالک کے مسلمان اور قربانی 24

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ایصال ثواب بدعت پاکستان سنت علماء

قرآن خوانی اور ايصال ثواب

قرآن خوانی اور ايصال ثواب

 

مصنف : مختار احمد ندوی

 

صفحات: 64

 

اس کتاب میں قرآ ن و حدیث کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ تیجا ،ساتواں،دسواں،چہلم اور برسی وغیرہ بدعات مروجہ کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا , لہذا اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بے شمار مسائل پر گفتگو کی گئی ہے مشروط اور غیر مشروط طریقہ کار , میت کے گھر کھا نا کھانے کی روایت , قبروں پر قرآن خوانی اور ایصال ثواب , قبروں کی زیارت اور آپّ کا معمول , آئمہ حدیث , مذاہب اربعہ , علماء اصول کے اقوال وغیر ہ چالیسویں کی بدعت , مزاروں پر تلاوت قرآن , قبروں پر اجتماع , قبروں پر نذر و ذبیحہ اور ختم قرآن  پر بحث کی گئی ہے-نگاہ دوڑائیے تو درگاہیں اور آستانے انسانوں کے ہجوم سے اٹے ہوئے ہیں اور مسجدیں تنہا اور ویران ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے شرک میں مبتلا مسلمانوں کو عام فہم انداز میں آستانوں اور مزاروں پر ہونے والے شرکیہ امور سے متنبہ کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کی درگاہوں اور گدیوں پر ہونے والے شرمناک مناظر کی نشاندہی کی ہے اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا خوب پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ کتاب اپنے اسلوب، دلائل اور مشاہدات کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
قرآن کی فریاد 4
پیش لفظ 5
مسئلہ اہداء ثواب پر تحقیقی نظر 6
ایصال ثواب کے مشروع طریقے 6
نیابت کا مشروع طریقہ 10
روزے میں نیابت کی دلیل 11
نیابت او ر اہداء کا فرق 12
شبہات اور ان کا ازالہ 14
فاتحہ اور ایصال ثواب 15
مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی کا فتوی 16
میت کے گھر کھانا کھانے کی روایت 17
حضرت ابو ہریرہ کا قصہ 16
قبروں پر قرآن خوانی اور ایصال ثواب 18
مقدمہ از علامہ شیخ احمد ابن حجر 24
نزول قرآن کا مقصد 29
کیا قرآن خوانی کا ثواب مردوں کو پنہچتا ہے 35
قبروں کی زیارت کے بارے میں نبی کریم کا معمول 35
انسان مرنے کے بعد کن چیز وں سے فائدہ اٹھاتا ہے 37
مفسرین کے اقوال 39
ائمہ حدیث کے اقوال 47
ائمہ مذاہب اربعہ کے اقوال 49
علماء اصول کے اقوال 53
بعض بدعات کا بیان فاتحہ خوانی 56
مزاروں پر قرآن کی تلاوت 56
برسی و چالیسویں کی بدعات 56
قبروں پر اجتماع 57
شبینہ 58
قرآن سے عملیات 58
سورہ کہف کی تلاوت کا مخصوص طریقہ الفاتحہ کی بدعت 59
سواری روانہ ہونے کے وقت الفاتحہ کی بدعت 61
قرآن کی تعویذ 62
قبروں پر نذر و ذبیحہ اور ختم قرآن 63

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اعمال ایصال ثواب

قرآن خوانی کی شرعی حيثيت

قرآن خوانی کی شرعی حيثيت

 

مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

 

صفحات: 49

 

قرآن خوانی کی شرعی حیثیت کے موضوع پر علامہ بدیع الدین راشدی صاحب کی ایک بہترین اور جامع تحریر ہے-یہ کتابچہ اصل میں انہوں نے کسی سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے جس میں انہوں نے مروجہ ایصال ثواب اور قرآنی خوانی کے ذریعے میت کے لیے ایصال ثواب کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے-اس کتابچہ میں شاہ صاحب نے عقلی ونقلی دلائل سے اس چیز کو ثابت کیا ہے کہ کون سے ایسے امور ہیں جن کے کرنے سے مرنے کے بعد بھی انسان کے نامہ اعمال میں نیکیاں درج ہوتی رہتی ہیں اور کون سے ایسے خود ساختہ طریقے ہیں کہ جن کے کرنے سے میت کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے-مصنف نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ مروجہ قرآنی خوانی کا طریقہ اور ایصال ثواب کا طریقہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا نہ کسی نے کیا اور نہ ہی صحابہ میں سے کسی نے کیا ہے اور نہ بعد میں تابعین سے اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے-اس لیے اگر اس کتاب کو معتدل مزاج کے ساتھ پڑھا جائے تو اصلاح کے لیے بہت سارے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے-
 

منجانب:انتظامیہ

www.kitabosunnat.com

 

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ایصال ثواب زبان سنت علماء فارسی

قرآن خوانی

قرآن خوانی

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 43

 

قرآن خوانی  فارسی زبان کا  لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے  معاشرے  میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب  پہنچانےکے لیے  لوگوں کاجمع ہو  کر  قرآن   مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے  جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے  قرآنی خوانی  ،یٰسین خوانی  یا آیت کریمہ وغیرہ  پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین  میں  علیحدہ علیحدہ تیس پارے  بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد  دعوت  اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ  رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ  گھروں میں سیپارے  بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب  پہنچانے والے اس طرح  کےتمام امور  شریعت کےخلاف ہیں  اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت  یہ ہے کہ  اس  قرآن  خوانی کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے  دعا   کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے  روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر تبصرہ  کتابچہ ’’ قرآن خوانی ‘‘ محترم  ام عبد منیب  صاحبہ کی  اصلاح  عقائد کےسلسلے میں اہم  کاوش ہے  جس میں انہو ں نے قرآن  واحادیث اور علماء کرام کے  فتویٰ کی  روشنی میں ثابت کیا ہے کہ   جو  شخص قرآن خوانی یا  مختلف قسم کےاوراد وظائف پڑھ کرکسی دوسرے کے لیے  ایصالِ ثواب کرتا ہے یا غیر مسنون طریقے سے ان سب کاذکر اور تلاوت کرتا ہے تویہ سب امور رسول اللہ ﷺکی سنت سے انحرف ہے۔اللہ تعالی ٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح ذریعہ بنائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
سخن وضاحت 5
قرآن خوانی 6
مردوں کے لیے قرآن خوانی 7
دکان مکان فیکٹری میں حصول برکت کے لیے 10
پریشانی سے نجات کے لیے 11
بیماری سے شفا کے لیے 12
قرآن خوانی اور ایصال ثواب 14
قرآن خوانی اور فقہا کا موقف 19
مروجہ قرآن خوانی کی خرابیاں 21
اجتماع برائے قرآن خوانی 22
ایمان میں شک کا باعث 23
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جانا 24
قرآن خوانی کی مزید خرابیاں 25
دعوتی تکلفات 29
ختم خوان ملا 31
ریاکاری 31
قرآن حکیم کے نزول کا مقصد 34
قرآن حکیم میں نہیں ملے گا 36
آخری بات 39

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز