Categories
Islam اذکار وادعیہ اعمال درود عبادات معاملات نماز

صحیح اذکار و وظائف

صحیح اذکار و وظائف

 

مصنف : محمد فاروق رفیع

 

صفحات: 411

 

شریعتِ اسلامیہ میں عبادات اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مناجات کانام ہے اور بندے کا اپنے خالق سےقلبی تعلق کا اظہار ہے ۔ایک مسلمان جب اپنی غمی،خوشی اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ سےرہنمائی حاصل کرتا ہے تو اس کا یہ تعلق اس کے رب سے اور بھی گہرا ہوجاتا ہے ۔ عبادات کاایک حصہ ان دعاؤں پر مشتمل جو ایک مسلمان چوبیس گھنٹوں میں نبی ﷺ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق بجا لاتا ہے او ر یقیناً مومن کےلیے سب سے بہترین ذریعہ دعا ہی ہے جس کے توسل سے وہ اپنے رب کو منالیتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت کی مشکلات سے نجات پاتا ہے۔کتبِ احادیث نبی کریمﷺ کی دعاؤں سے بھری پڑی ہیں ۔مگر سوائے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تمام احادیث کی کتب میں صحیح ضعیف اور موضوع روایات مل جاتی ہیں ۔دعاؤں پر لکھی گئی بے شمار کتب موجود ہیں اوران میں ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف وموضوع روایات کی بھر مار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح اذکارووظائف‘‘محترم جناب مولانا محمد فاروق رفیع﷾(استاد الحدیث والفقہ، جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی کاوش ہے۔اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں فقط صحیح اور حسن احادیث ہی پر اکتفاء کیاگیا ہے اور زندگی کے ہر پہلوپر محیط اور ہرمشکل کے حل پرمشتمل صحیح اذکار وظائف اس کتاب جمع کردیے گئے ہیں اور ساتھ قرآنی دعائیں بھی شامل کردی گئی ہیں۔ یہی وصف اسے دیگر کتب سے ممتاز وفائق کرتا ہے ۔ تاکہ عام لوگ اس سے بھرپور استفادہ کرسکیں اور صحیح دعاؤں کا اہتمام کر کے اللہ تعالیٰ کےمقرب ومحترم قرار پائیں۔فاضل مصنف اس کے کتاب کے علاوہ بھی ماشاء اللہ تقریبا نصف درجن کتب کے مصف و مؤلف ہیں اور اذکار وظائف کے موضوع پر معروف زمانہ ومقبول عام کتاب ’’حصن المسلم‘‘ اور ’’اذکار مسلم‘‘ پرتحقیق وتخریج کا کام بھی کرچکے ہیں یہ دونوں کتابیں طبع ہوکر عوام الناس تک پہنچ چکی ہیں اور ویب سائٹ بھی موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مشکل کشا صرف اللہ 30
غیراللہ سے مانگنے کی شناعت 33
کچھ اس کتاب کے بارے میں 39
منہج تحقیق 41
سند کی اہمیت 43
راویوں کےپرکھنے کے عمل کا آغاز او ر سند کی اہمیت 43
ابن جوزی ؒ کےہاں سند کی اہمیت 46
حدیث کی تعریف 48
حدیث کی اقسام 49
مقبول احادیث 49
صحیح لذاتہ 49
تعریف کی وضاحت 50
اتصال سند 50
عادل ہونا 50
ضابط ہونا 50
شاذنہ ہونا 51
معلول نہ ہونا 51
حسن لذاتہ 51
حسن لذتہ حدیث کا حکم 52
صحیح لغیرہ 52
صحیح لغیرہ کا مرتبہ 53
ضعیف حدیث کی تعریف 53
ضعیف اور موضوع روایات کی شناعت کا بیان 54
امام مسلم ؒ کا تبصرہ 56
حدیث رسولﷺ میں جھوٹ کی سنگینی 57
فضائل اعمال اور اذکار وظائف میں جھوٹ رویات کا حکم 62
محدثین کے اقوال 63
احمد شاکر ؒ کا موقف 66
حافظ ابن حجر ؒ  کا موقف 66
امام شوکانی ؒ کی رائے 66
مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کا موقف 67
امام مسلم ؒ کا موقف 68
اظہار تشکر 70
ذکر کےفضائل
ذکرکا اہتمام حکم ربانی 72
ذکر نہ کرنا مجرمانہ غفلت 72
دشمن پر غلبے کا باعث 72
بے حیائی اور برائی سے روکنےکا مؤثر ہتھیار 73
دلوں کا سکون 73
تقرب الہی  کا ذریعہ 73
مسلسل ذکرکرنا  اضافی اجرو ثواب 77
شیطان سے بچاو کا مضبوط قلعہ 78
خلوت میں ذکر کی فضیلت 78
ہر وقت ذکر کرنےکی فضیلت 78
مجالس ذکر کے فضائل 79
ذکر سے غفلت والوں کی سختی کا باعث 82
بستر سے مصلیٰ تک
بیدار ہونےکے بعد کا عمل 83
بیدار ہونےکی دعا 83
بیدار ہو نےکا وظیفہ 83
بیدار ی کے بعد تلاوت قرآن 84
تین مرتبہ ناک جھاڑنا 86
تین مرتبہ  ہاتھ دھونا 87
گھر سے مسجدتک
بیت الخلاءمیں داخل ہونے کی دعا 88
بیت الخلاء سے نکلنے کی دعا 88
وضو کے بعد کی دعائیں 88
گھر سے نکلتے وقت کی دعا 90
گھر میں داخل ہونے کی دعا 90
گھر سے جانے اور آنے پر نفل پڑھنا 91
سلام کہہ کر گھر میں داخل ہونا 91
نماز سے پہلے کی دعا 91
مسجد کی طرف جانے کی دعا 92
فجر کی سنتوں  کے  بعد کی دعا 92
مسجد میں داخل ہونے کی دعا 93
مسجد سے نکلنے کی دعائیں 94
اذان  کا بیان
کہری اذان 96
دوہری اذان 96
تہجدکی اذان 97
اذان کا جوب 97
مؤذن کے برابر ثواب 98
اذان کا جواب 98
اذان کے بعد درود پڑھنا 98
درود کے مسنون الفاظ 99
اذان کے بعد کی دعا 99
اذان کے وقت دعا مانگنا 100
بارش اور آندھی میں اذان 100
اقامت 101
اکہری تکبیر 101
دوہری تکبیر 102
اذان کی فضیلت 102
اذان و تکبیر سن کر شیطان کا بھاگنا 102
مؤذن کی شان و عظمت 103
مؤذن کے لیے گواہی 103
جہاں تک ک اذان وہاں تک گواہی 103
مؤذن کے لیےہر تر و خشک چیز کی  گواہی 104
مسجد میں خریدو فرخت اور گم شدہ چیز کا اعلان کرنا 104
نماز کا بیان
تکبیر تحریمہ 106
دعائے استفتاح 106
تعوذ پڑھنا 108
سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنا 109
سورہ فاتحہ خالق و مخلوق کےدرمیاں ایک معاہدہ 109
قرآن کی عظیم ترین سورت 110
مقبول آیات 111
سورہ فاتحہ کی مثل کوئی سورت نہیں 111
آمین کہنا 112
بلند آواز سے آمین کہنا 112
رکوع کی دعائیں 114
رکوع میں کثرت سے کی جانے والی دعائیں 116
رکوع سجود میں تلاوت قرآن کی ممانعت 117
رکوع کے بعد قومہ کی دعائیں 118
سجدہ کی فضیلت کا بیان 121
سجدہ میں کثرت سے دعا کرنا 122
سجدے کی دعا ئیں 122
سجدے کی دعا بخشش کی انتہا 125
سجدے میں کثرت سے کی جانے والی دعائیں 125
رکوع و سجود کی تسبیحات کی گنتی 126
دو سجدوں کے درمیاں کی دعا 127
سجدہ تلاوت کی فضیلت 127
سجدہ تلاوت کی دعا 127
تشہد کی دعائیں 128
نماز میں تشہد کی دعا سے پہلے حمد و درود 130
درود ابراہیمی 130
درود کے بعد دعا  کرنا 134
عذاب قبر سے پناہ مانگنا 134
فتنہ دجال سے پناہ طلب کرنا 134
سلام سے پہلے کی دعائیں 135
سلام کے الفاظ 136
نماز میں معاملہ درپیش ہو تو؟ 143
سلام کے بعد کی دعائیں
سلام کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر  کہنا 144
تین مرتبہ استغفراللہ کہنا 144
ایک عظیم دعا 145
تین مرتبہ و ظیفہ کرنا 145
ہر فرض نماز کے بعد مستقل وظیفہ 146
قیامت کے دن عذاب سے پناہ مانگنا 146
کفر اور محتاجی سے پناہ مانگنا 146
اللہ کی پناہ پکڑنا 147
سلام کے بعد پڑھی جانےوالی ایک اور دعا 147
سیدنا داود ؒ  کی دعا 148
آیت الکرسی پڑھنا 149
معوذات پڑھنا 149
گناہوں کی معافی مانگنا 149
جنت میں لےجانےوالی دو خصلتیں 150
مال دار لوگوں کے درجات تک پہنچنا 150
تسبیح و تحمید و تہلیل کرنا 151
سمند ر کی جھاگ کے برابر گناہوں کی معافی 152
خادم سے بہتر ذکر 153
توبہ و استغفار کرنا 154
نماز کے متعلقہ اذکار
نماز کےکفارہ کی دعا 155
صف میں پہنچ کر دعا 155
شیطانی وسوسے سے پناہ 156
نماز میں شیطان کا حملہ آور ہونا 156
نماز میں غیر ارادی طور پر کہے جانے والے کلمات 157
دعا جس پر آسمان کے دروازے کھلے 157
نماز میں چھینک آئے تو کیا کہے ؟ 158
نماز میں جمائی روکنا 158
قنوت وتر کی دعا 158
وتر کے بعد کی دعائیں 160
نماز فجر اور مغرب کے بعد کی دعائیں
نماز فجر سے طلوع آفتاب  تک نماز کی جگہ پر بیٹھنا 161
نماز فجر کے بعد کےوظائف 161
نماز مغرب کےبعد کی دعائیں 163
مختلف اوقات کی نمازیں
دعائے استخارہ 166
حصول نصرت کےلیے نماز 167
گرہن کے وقت کی نماز 167
گرہن کے وقت اذکار کا اہتمام 167
نماز استسقاء 168
نماز تسبیح 169
جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت 170
جمعہ کےدن قبو لیت دعا کی گھڑی 170
نماز جمعہ  کے بعد کثرت سے ذکر کرنا 170
صبح شام کے اذکار
صبح و شام کے اذکار کی اہمیت 171
صبح و شام ذکر کرنے والوں  سے رابطہ رکھنا 172
ان سے نرمی برتنا 173
صبح و شام کے اذکار کے اوقات 173
شام کے آداب 174
صبح کے اذکار 177
صبح و شام کے مشترکہ اذکار 179
جو بھی مانگ اللہ دے گا 186
سونے  کے آداب و اذکار
سونے سے قبل بستر جھاڑنا 187
باوضو  ہو کر لیٹنا 187
سوتے وقت آخری تین  سورتوں کی تلاوت 187
معوذات پڑھ کر دم کرنا 188
آیت لکرسی پڑھنا 188
سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھنا 190
سورہ بقرہ کی آخری دوآیات   گھر کی پناہ کی ذریعہ 190
سورہ بنی اسرائیل اور سورہ زمر کی  تلاوت کرنا 190
مسبحا ت کی تلاوت کرنا 190
سورہ الکافرون کی تلاوت کرنا 191
سونے  کی دعائیں 191
دائیں کروٹ لیٹنا او ر دعا پڑھنا 192
بسم اللہ پڑ ھ کر بستر جھاڑنا اور دائیں پہلو لیٹ کر دعا پڑھنا 192
دایاں ہاتھ رخسار کےنیچے رکھ کر تین مرتبہ دعا پڑھنا 193
سوتے وقت  کی ایک دعا 193
سوتے وقت کا بہترین وظیفہ 194
خادم سے  بڑھ کر وظیفہ 195
تسبیح تحمید خادم سے  بہتر 195
سونے کی عمدہ خصلت 196
بستر پر لیٹنے کی دعا 197
بستر پر لیٹنے کی دوسری دعا 197
بستر پر  لیٹنے کی تیسری دعا 198
سوتے وقت کی آخری دعا 198
رات بے چینی کی حالت میں کروٹ بدلتے وقت کی دعا 199
نیند میں گھبراہٹ یا وحشت کے وقت کی دعا 200
اچھا یا برا خواب 200

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam سنت طب نبوی و حکمت علماء

سانس کی بیماریاں اور علاج نبویﷺ

سانس کی بیماریاں اور علاج نبویﷺ

 

مصنف : ڈاکٹر خالد علوی

 

صفحات: 382

 

انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے کیا کرتے تھے یاجن مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور ان کے فوائد ونقصان کو بیان کیا ان کا ذکر بھی حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے ۔ کئی اہل علم نے ان چیزوں ک یکجا کر کے ان کو طب ِنبوی کا نام دیا ہے ۔ان میں امام ابن قیم﷫ کی کتاب طب نبوی قابل ذکر ہے او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بھی لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اس کو بطور علم پڑھا جاتارہا ہے اور کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو باقاعدہ مدارس ِ اسلامیہ میں پڑھایا جاتا رہا ہے اور الگ سے   طبیہ کالج میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی﷫ نے طبیہ کالج دہلی سے علم طب پڑھا اور کالج میں اول پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء کرام نے علم طب حاصل کر کے اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے اور دین کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سانس کی بیماریاں اور ان کا علاج نبوی ﷺ‘‘ غزنوی خاندان کے معروف ڈاکٹر خالد غزنوی کی تصنیف ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں آیات قرآنی اور ارشادات نبویؐ کی روشنی میں سانس کی بیماریوں کا علاج بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن میں کی اس آیت مبارکہقَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينکی رو سے قرآن مجید کو سینے کے تمام مسائل (خواہ وہ عضوی ہوں یا نفسیاتی) کےلیے شفا کا مظہر قرار دیتے ہوئے کتاب میں اسی آیت مبارکہ کی طبی تفسیر بیان کی ہے ڈاکٹر خالد غزنوی صاحب اس کتاب کے علاوہ طب کے سلسلے میں تقریبا چھ کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کی کتب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین

عناوین صفحہ نمبر
باعث تحریر 7
ابتدائیہ 9
باعث تالیف 15
ناک کی بیمایاں 19
ناک کی سوزش (مزمن) 21
ناک کی بدبو دار سوزش 23
ناک کی ہڈی کا ٹیڑا ہونا 26
ناک کی اندے مسے (نوا میرا لانف) 28
نکسیر (رعاف) 31
ناک کی تمام بیاریواں کے لیے علاج نبویﷺ 35
گلے کی بیماریاں 39
التھاب حلق (التھاب لوز تین ) (گلے پڑنا) 41
گلے کی سوزش 47
گلے کا پھوڑا 55
سعال: 67
سعال شدید کھانسی بخار 69
سانس کی نالیوں کی سوزش 69
پرانی کھانسی سعال مزمن 77
نمونیہ (ذات الریہ) 82
سانس کی چھوٹی نالیوں کا نمونیہ 93
سانس کی نالیوں کا پھیل جانا 96
انتفاح الریہ 101
پھیپھڑوں کا پھوڑا 104
پھیپڑوں کا سرطان 119
پلورسی 127
اکسرے کی ذریعے چھاتی کی بیماریوں کی تشخیص 139
متعد بیماریاں اور ان سے بچاؤ کے منصوبے 149
حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام 158
کالی کھانسی (سعال الدیکی) 169
خسرہ (حصبہ) 177
خناق 187
انفلوئنزا (جنگی بخار) کھانسی، بخار 198
کن پیڑے 208
نزلہ زکام خشام 216
دمہ: ربو ضیق النفس 234
تپ دق: دق کھانسی 285
بخار تدرن سل
طاعون: (مہاماری) کالی آندھی 347

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
14.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل بیت تاریخ زبان سیرت صحابہ علماء فقہاء قربانی نبوت نماز

رحماء بینہم جلد چہارم

رحماء بینہم جلد چہارم

 

مصنف : محمد نافع

 

صفحات: 403

 

صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائی معروضات 23
تمہیدات 25
امیر المومنین کا رشتہ حاکم نہیں ہو سکتا یہ کوئی قانون شرعی نہیں ہے 25
حکام کا عزل ونصب اجتہادی مسئلہ ہے اورامیر کی رائے پر موقوف 25
حضرت عمر ؓ نےبھی حسب ضرورت عزل ونصب کیا 32
اس کی چند مثالیں 32
ابتداء بحث اول 38
عہدعثمانی کےمناصب وحکام کا باہمی تناسب معلوم کرنا 38
چند عہدے اورمناصب 39
عہدۂ قضا 39
بیت المال یا خزانہ سرکاری 40
خراج وعشر وغیرہ کی وصولی کا صیغہ 41
فوجی آفیسرز 42
پولیس 43
الکاتب (منشی ومحرر ) 43
تنبیہ ( ایک واقعہ کی یاد دہانی ) 44
بعض اہم مقامات اوران کےحکام ( عہد عثمانی میں ) 46
اعتراض کنندگان کی نظروں میں چند مقامات 55
الکوفۃ 55
تنبیہ (شیعہ کےنزدیک بھی کوفہ کےحاکم ابو موسیٰ اشعری تھے ) مندرجہ کوائف کی روشنی میں 57
البصرہ  اوراس کے متعلق قابل توجہ توضیحات 59
الشام (امیر معاویہ ؓ کاتقرر ) 61
عہد نبوی ( میں امیر معاویہ کو منصب دیا گیا ) 62
عہد صدیقی (میں امیر معاویہ امیر  لشکر بنائے گئے ) ) 62
عہد عثمانی ( میں منصب سابق پر امیر رکھے گئے ) 64
حضرت امیر معاویہ ؓ کا اپنا ایک بیان 64
کاتب کا منصب 69
تنبیہ ( الکاتب کے لیے ایک تاریخی اصطلاح ) 70
عزل ونصب کےمعاملہ میں امام بخاری  کی ایک رویات 73
تنبیہ (مروان کی بےاعتدالیوں کےبیشتر قصے بے اصل ہیں ) 75
اختتام بحث اول 75
بحث ثانی
ولاۃ وحکام کی اہلیت پر گفتگو 77
تمہیدات ( تین عدد) 78
ولید بن عقبہ کے متعلقات 80
نسب اور اسلام 80
ولید کی طبعی لیاقت 82
نبوی ،صدیقی اور فاروقی ادوار میں حاکم  و عامل بنایا جانا 83
ولید کی کارکردگی اورکارنامے 84
بعض اشکالاتت اور ان کاحل 89
ولید کوشیطان کی دھوکہ دہی 91
ولید پر ’’فاسق‘‘ کا اطلاق ٹھیک نہیں اس کے لیے علماء کے بیانات 92
رفع اشتباہ ( اگر عثمانؓ کی وصیت کی تھی تو علیؓ کوبھی وصیت کی تھی 95
الانتباہ ( اہل علم کے لیے ) 98
اول ( باعتبار روایت کےبحث ) 100
محمد بن اسحاق پر کلام 101
ابن اسحاق کی تدلیس 101
ایک قاعدہ برائے مدلس 101
ابن اسحاق کا تفرد اورشذوذ 102
دوم ( باعتبار درایت و عقل کےبحث ) 104
تیسرا طعن یعنی ولید ؓ پر شراب خوری کا الزام اور اس کی مدافعت 107
دیگر علماء کےاقوال 111
سعید بن العاص کےمتعلقات 112
نام  ونسب 112
ان کی علمی قابلیت 113
کریمانہ اخلاق 113
ان کےکارنامے 114
سعید اور آل ابی طالب کا تعلق 115
آخری گزارش (یعنی گزشتہ عنوانات کااجمالی خاکہ ) 117
عبد اللہ بن عامرؓ کےمتعلقات 118
نام ونسب 118
ایام طفولیت اور حصول برکات 119
سخاوت ، شجاعت اور شفقت 120
جنگی کارنامے (قریباً 32مقامات فتح کیے) 120
امور رفاہ عامہ 122
ابن عامر بن تیمیہ کی نظروں میں 123
سیدنا امیر معاویہ ؓ کےمتعلقات 124
نام ونسب اور قبول اسلام 125
خاندان امیر معاویہ ؓ اور بنو ہاشم کے چھ عدد نسبی روابط 127
امیر معاویہؓ کےحق میں زبان نبوت سے دعائیں 131
لیاقت وعلمی قابلیت 137
کاتب نبوی ہونا 137
ابن عباسؓ ہاشمی اور ابن الحنفیہ ؓ ہاشمی کا علمی استفادہ کرنا 138
صاحب فتاویٰ میں امیر معاویہؓ کا شمار تھا 141
امیر معاویہ ؓ سے متعدد صحابہ کرام کا روایت حاصل کرنا 142
امیر معاویہؓ ایک سو تریسٹھ کے راوی تھے 143
ملی خدمات اور اسلامی فتوحات 144
کریمانہ اخلاق و عمدہ کردار 150
عوام کی خبر گیری کے لیے ایک شعبہ 153
امیر معاویہؓ کےعدل وانصاف پر اکابرین ملت کی شہادتیں 154
ان کےحق میں ناصحانہ کلام اور حق گوئی کامسئلہ 157
اسلامی خزانہ امیر معاویہؓ کے دور میں 159
مثالی شخصیت اور عمدہ معاشرہ 164
حضرت امیر معاویہ ؓ اور ان کی جماعت 166
حضرت علیؓ اور ا ن کےخاندان کی نظروں میں 166
ایک حاشیہ (یعنی حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ میں صلح ہوگئی تھی 167
صفیں کےمقتولین کاحکم حضرت علیؓ کےفرمان سے (یعنی سب جنتی ہیں ) 170
شرکائے جمل وصفین کا درجہ حضرت علیؓ کے فرمان کی روشنی میں 172
بغی کےمفہوم کی وضاحت حضرت  علی کی زبانی 174
خلاصہ کلام 176
مسئلہ  کی تنقیح ( شرح مواقف کی عبارت میں تسامح ) یہ اہل علم کے مناسب ہے ) 178
عدم فسق اور عدم جور پر اکابر کےبیانات 180
فریقین ’’دینی معاملہ ‘‘ میں متفق ومتحد تھے 182
حضرت علیؓ نے امیر معاویہ اور ان کی جماعت کو سب وشتم ، لعن طعن کرنا ممنوع قرار دیا ۔ اس پر اہل السنۃ اور شیعہ کتب سے قابل دید حوالہ جات 184
حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ حضرات حسنین کا صلح اور بیعت کرنا اور تنازعات کوختم کر دینا 188
حوالہ جات ( اہل السنہ کی کتابوں سے مسئلہ ہذا کی شیعہ کتب سے تائید و تصدیق 189
سیدنا حضرت حسین کا فرمان کہ بیعت کے بعد نقض عہد کی کوئی صورت نہیں 193
مزیدبرآں (باہمی حسن سلوک رہا اور شرائط کی پابندی کی گئی ) 194
امیر معاویہ ؓ کی خلافت کےدوران بنی ہاشم کا عملی تعاون 196
مدینہ طیبہ کی ہاشمی قاضی (عبداللہ ) 197
عنوان ہذا کا خلاصہ 200
حضرت امیر معاویہؓ کے خزانہ سے حضرات حسنین ؓ و دیگر ہاشمی اکابر کے وظائف اور عطیات وہدایا 201
سیدنا حضرت حسین اور عطیات 203
حسنین شریفین کے ساتھ دیگر ہاشمیوں کو بھی دس لاکھ کے وظائف ملنا 205
مسئلہ ہذا شیعہ کےنزدیک 205
حسنین ؓ اور عبداللہ بن جعفر کے وظائف (شیعہ کتب سے ) 206
تنبیہ (دیگر شیعہ علماء کی تائید ) 207
حضرت زین العابدین کے لیے وظیفہ کا تقرر ( شیعہ کتب سے ) 208
عنوانہائے مذکورہ کےفوائد 210
سب وشتم کا اعتراض اور اس کا ازالہ تمام بحث ہی قابل توجہ ہے 211
قابل اعتراض تاریخی روایات جو مطاعن کا ماخذ و محور ہیں 212
مندرجہ روایات کا متعلقہ کلام 215
ایک گزارش 224
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے متعلقات 226
نسب و رضاع 226
اسلام کے بعد ارتداد پھر اسلام لانا ، بیعت کرنا ، پھر دین پر پختہ رہنا 227
والی و حاکم ہونا 229
فتوحات اسلامی کے کارنامے 229
خاتمہ بالخیر نماز میں ہونا 230
چند شبہات کا ازالہ 231
تنبیہ : (خمس افریقہ کا طعن جو ذکر کیا جاتا ہے اس کا جواب آئندہ بحث مال میں ذکر ہو گا ) 238
افادہ، (طبری کی ایک روایت کا جواب) 238
باعتبار روایت کے گفتگو 238
درایت کے اعتبار سےاس پر کلام 241
مروان بن الحکم کے متعلقات 243
مبادیات 243
مختصر بیانات 244
داماد عثمان ۔ حضرت علی کے خاندان اور مروان کےقبیلہ کی پانچ عدد باہمی رشتہ داریاں 245
علمی قابلیت اور ثقاہت 251
مؤطا امام مالک  میں (مروان سے متعدد مرویات ) 252
مؤطا امام مالک  میں (مروان سے متعدد مرویات ) 253
مسنداحمد میں (مروان سے متعدد مرویات ) 255
بخاری شریف میں (مروان سے متعدد مرویات ) 255
فائدہ ( تاریخ کبیرہ بخاری و جرح وتعدیل رازی میں نقد کا نہ پایا جانا ) 257
مروان کا دینی وعلمی مقام اور فقہاء میں شمار کیا جانا 257
دینی مسائل میں صحابہ کرام سے مشورہ 260
جنگی معاونت اور انتطامی صلاحیت 262
صحابہ نے مروان کی نیابت کی 263
حصول ثواب میں رعبت ( اذن عام تک ٹھہرنے کا ثواب ) 264
مواقف و آثار نبوی کی تلاش 264
مروان کےحق میں حسنین شریفین کی سفارش سنی و شیعہ علماء نے ذکر کی 265
مروان کی اقتدا میں حسنین شریفین کی نمازیں 266
اموی خلفاء حضرت زین العابدین کی نظرمیں 268
حضرت زید العابدین عبدالملک بن مروان کی نظروں میں 270
ازالہ شبہات 273
اول: مروان کےوالد کی جلا وطنی کا مسئلہ 274
دوم: مروان کےہاتھ تمام سلطنت کی باگ ڈور کا ہونا 280
عثمانی شہادت کےایام اور مروان کا کردار 283
مروان کومطعون کرنےوالی تاریخی روایات کا ایک جائزہ 287
الحکم و نبو امیہ کامبغوض وملعون ہونا ، پھر اس کا جواب 296
نسبی وغیر نسبی تعلقات و روابط 295
بنو امیہ کےحق میں حضرت علی کےاقوال 298
مذمت کی روایات علماء کی نظروں میں 308
بحث ثالث (طریقہ اول ) 315
دور نبوی میں مناصب دہی کےچند واقعات 317
حضرت عثمانؓ کو متعدد منصب دیئے گئے 317
حضرت ابو سفیان کو چار منصب دیئے گئے 319
تنبیہ ( روایات کا تجزیہ ) 321
یزید بن ابی سفیان کو تین منصب دیئے گئے 322
امیر معاویہ بن ابی سفیان کے دو عہدے 324
دور نبوی میں بنی ہاشم کےعہدہ جات 326
عہد فاروقی میں اقرباء نوازی 326
ایک عذر لنگ اور اس کا جواب 333

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال اہل بیت تاریخ زبان سنت سیرت سیرت صحابہ علماء قربانی معاملات مفسرین نبوت نماز

رحماء بینہم جلد دوم

رحماء بینہم جلد دوم

 

مصنف : محمد نافع

 

صفحات: 363

 

صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب “رحماء بینہم”محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 17
اجمالی تعارف 21
چند تمہیدی امور ( جن کی روشنی میں کتاب مرتب کی گئی ) 23
امور بالا کی توثیق کے لیے شیعی کتب سےائمہ کرام کے فرمودات 26
اہل سنت کی کتب سےحوالہ جات 28
مقاص(مومنوں کا وصف اتحاد و اخوت ) 36
قرآن مجید سے مومنوں کےاتحاد واخوت کا ثبوت ( پانچ آیات قرآنی ) 36
آیات کا مفہوم اور ثمرات ونتائج 37
مذکورہ آیات کی مفسرین کرام کی طرف سےوضاحت 40
مدعائے تحریر 45
باب اول
فصل اول : فاروق اعظم کے ساتھ علی المرتضیٰؓ کا بیعت کرنا 46
بیعت مذکورہ کی تصدیق کے لیےعلی المرتضیٰ کےاپنی خلافت کےدوران بیانات 52
محدی ابن راہویہ کی روایت 52
محدث ابی عوانہ کی روایت 54
امالی شیخ طوسی کی روایت 56
بیعت سیدنا علیؓ با سیدنا عمر ؓ نزد شیعہ
مندرجہ بالا روایت کےفوائد و نتائج 57
فصل دوم : سیدنا علی المرتضیٰ کی زبانی فاروق اعظم کےفضائل و مناقب اور فاروق اعظم کی زبانی علی المرتضیٰؓ کی تعریف و توصیف 58
عنوان اول : الف۔فاروق اعظم ؓ رجل مبارک 59
ب۔ آپ نجیب امت ہیں 59
ج۔ حق و باطل میں فرق کرنےوالے ہیں 60
د۔خلیل و صدیق ،مخلص و ناصح ہیں 61
ہ۔ القوی الامین کا خطاب 61
و۔ امام ہدایت ، راشد و مرشد ،مصلح و منجح ہیں 63
فوائد روایت مذکورہ 64
عنوان دوم : سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کا سیدنا فاروق اعظم ؓ کو تقویٰ کی تلقین کرنا اورصدیق اکبرؓ کےنقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا 64
فوائد روایت ہذا 65
عنوان سوم : مرتضوی بیان کہ سیدنا فاروق اعظم خوف خدا رکھنے والے اور حددرجہ دیانتدار تھے 65
عنوان چہارم : حضرت علی المرتضیٰٰ فاروقی دور کے جملہ معاملات درست قرار دیتے تھے 67
سیرت مرتضوی سیرت فاروقی کےموافق  تھی 68
فاروق اعظم رشید الامر اور صائب الرائے تھے 68
مندرجات بالا کےفوائد 72
ایک اشتباہ کہ المرتضیٰ ؓنےسیرت شیخین پر عمل کرنے سےپس وپیش کیا 73
اس اشتباہ کا تاریخی جائزہ اورتحقیقی جواب 73
عنوان پنجم :سیدنا علی المرتضیٰ کا بیان کہ فاروق اعظم حق و صداقت کےجذبہ سےسرشارتھے 77
مذکورہ مرویات کےفوائد ونتائج 80
عنوان ششم : حضرت علی کا بیان کہ فاروق اعظم خلیفہ برحق اورصدیق اکبر کےبعد افضل امت ہیں 81
اس مسئلہ کےثبوت میں 12عدد روایات 81
ایک وضاحت (عبداللہ ابن سبا اور اس کے ساتھیوں کا انجام ) 92
12عدد روایات مذکورہ کےفوائد 92
ایک اہم تنبیہ ( موجودہ دور کےشیعوں کا عبداللہ ابن سبا کے وجود سے انکار 93
عنوان ہفتم : حضرت علی کی زبانی شیخین کی دواہم فضیلتیں
صدیق ؓ و فاروقؓ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے 95
صدیق و فاروق پختہ عمر جنتیوں کے سردار ہیں 96
خلاصہ روایات مذکورہ 97
عنوان ہشتم : خلافت فاروقی کی حقانیت اور آپ کی فضیلت میں حضرت علی ؓ کے بیانات ۔کتب شیعہ سے 11عدد حوالہ جات 97
مندرجہ بالا حوالہ جات کے فوائد  و ثمرات 102
عنوان نہم : حضرت عمرؓ اور ابن عمر ؓ کی زبانی مرتضوی فضائل ومناقب ۔اہل سنت اور شیعہ کتب سے 10 عدد حوالہ جات 102
مندرجہ بالا روایات کےفوائد ونتائج 109
باب دوم
فصل اول  : فاروقی دور میں شعبہ جات کی تقسیم اور قضا وافتاء حضرت علی ؓ کےسپرد کرنا 111
فاروقی عدالت میں مقدمات کی مرافعت 116
حضرت علیؓ کا اپنامقدمہ فاروقی عدالت میں پیش کرنے کاواقعہ 117
اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ 117
مندرجات بالا کےفوائد  و ثمرات 119
تنبیہ ( سیدیناعلی المرتضیٰ کا اپنی خلافت میں فاروقی عمل کو مثال بنانا 120
فوائد مندرجات بالا 121
فصل ثانی : مسائل شرعیہ میں مشورے اور باہمی تلقین واعتماد 123
باہمی علمی گفتگو ( احادیث نبوی کےبارے میں تحقیق ) 124
فاروق اعظم ؓ  کےلیےعلی المرتضیٰؓ کےناصحانہ کلمات 125
صدقہ کےبارے میں باہمی مشورہ 126
خون بہا کےبارےمیں باہمی مشورہ 127
مجبور عورت کے بارے میں مشورہ 129
بدفعلی کی سزا کےمتعلق مشورہ 130
شراب پینے کی سزا کےمتعلق مشورہ 131
تنبیہ (شراب کی سزا حضرت علی ؓ کے مشورے سےتجویز ہوئی ) 133
فصل ہذا کےمندرجات کے فوائد 134
اشتباہ ( کہ فاروق اعظم  ہر مسئلہ میں حضرت علی ؓ کےمحتاج ہوتے تھے ۔تحقیقی جائزہ اوررفع اشتباہ کہ حضرت علی ؓ نےمتعدد مسائل میں اپنی رائے سےرجوع کیا 134
انتباہ ( فاروق اعظم ؓ کےوضع کردہ قوانین مرتضوی خلافت میں رائج تھے ) 139
خلاصۃ المرام ( مندرجات بالا کےفوائد و نتائج 142
فصل ثالث : انتظامی امور میں فاروق ومرتضیٰ کےباہمی مشورے 143
فاروقی وظیفہ کےمتعلق مشورہ 143
اسلامی تاریخ (تقویم ) کےمتعلق مشورہ 145
مفتوحہ زمین عراق کےمتعلق مشورہ 147
علاقہ نہاوند کےمتعلق مشورہ ( حضرت علی ؓ کی نظر میں فاروق اعظم کا مقام 149
مذکورہ مشاورت کی شیعہ کتب سےتائید 151
مندرجہ بالاحوالہ جات کےفوائد 153
غزوہ روم کے متعلق مشورہ (فاروق اعظم کی شخصیت ) 154
مذکورہ بالا حوالہ جات کےثمرات 156
تقسیم اموال میں حضرت علی ؓ کی رائے کوترجیح دینا 157
ہیبت سےسقوط حمل پردیت (حضرت علی ؓکی رائے کو قبول کرنا 159
مرتضوی نیابت (فاروق اعظم ؓ کا علی المرتضیٰ کواپنانائب بنانا 160
رفاقت کےچند واقعات 165
بےتکلفی کاواقعہ 165
تنویر مساجدپرحضرت علی کادعا دینا 166
واقعہ ’یاساریۃ الجبل ‘سےحضرت علی کا فاروق اعظم کی عظمت بتلانا 168
اویس قرنی کی ملاقات کےلیےرفیقاء نہ سفر 169
اختتام فصل (مندرجات بالا کےفوائدونتائج 170
فصل رابع : سیدناعلی المرتضی کےلیےسیدنافاروق اعظم کی طرف سےمالی مراعات وعطیات 172
فاروق اعظم ؓ کےدل میں خاندان نبوت کا احترام (ترتیب اسماء میں ہاشمی حضرات کواولیت دینا 172
صدیقی دورخلافت کی طرح فاروقی دورمیں اموال خمس کےمتولی حضرت علی ؓ تھے 179
مندرجات بالا کےفوائدوثمرات 182
مضمون بالا کی تائید شیعہ کتب سے 183
شیعی مرویات کےنتائج وثمرات 185
تکمیل فوائد (بنوہاشم کےحق میں فاروق اعظم کےبہترین جذبات 186
غیرشادی شدہ ہاشمیوں کی شادیوں کےانتظام کا اظہار 186
مدائن کے مال غنیمت سےحضرت علی کوبیش قیمت غالیچہ دیا جانا 187
فاروق اعظم ؓ نےحضرت علیؓ کےمقام نیبع والا قطعہ اراضی دیا 189
باب سوم
فصل اول : خانوادہ نبوت(اہل بیت ) سےعقیدت ومحبت 191
حضرت فاطمہ ؓ کی خواستگاری کےلیےعلی ؓ کوآمادہ کرنےمیں خاص حصہ 192
نکاح فاطمہ ؓ میں فاروق اعظم کا گواہ بنایا جانا ۔ شیعہ وسنی کتب سےحوالہ جات 194
فاروق اعظم کی حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ خاص عقیدت 195
حضرت فاطمہ ؓ کی عیادت کے لیے جایا کرنا 196
حضرت زین العابدین کی روایت کہ حضرت صدیق وفاروق جنازہ فاطمہ میں شریک تھے 196
حضرت عمر کی شادی میں  حضرت علیؓ کی شمولیت 198
ایک اشتباہ ( واقعہ احراق بیت فاطمہ کا تفصیلی جائزہ اور تحقیقی جواب 200
اولا ، یہ واقعہ غیر معتبر وغیر مستند کتابوں میں ہے 201
ثانیاً ،جن باسند کتابوں مذکور ہے ان کےاسانید مطعون ہیں 202
ثالثاً، یہ روایت مقطوع ہے ۔ ناقل خود واقعہ کا شاہد نہیں 203
رابعاً ، یہ روایت ائمہ کرام کےاپنے بیانات کی روشنی میں مردود ہے 205
اس واقعہ پر خود علی المرتضی کااپنا بیان (شیعہ کتب سےثبوت ) 205
امام محمد باقر کا بیان ( شیعہ کتب سے ثبوت ) 206
یہ واقعہ نص قرآنی کےخلاف ہے 207
خامساً، بیعت علی کےواقعہ میں ایسی مناقشہ انگیز کوئی بات مذکورنہیں 208
بحث ہذا کےمتعلق ابن ابی الحدید شیعی کا بیان 210
علیٰ سبیل التنزل جواب 210
دعوت مصالحت 211
فصل دوم: تعلقات کے پانچ امورذکر کیےگئےہیں
امراول :حضرت علیؓ کی صاحبزادی ام کلثوم کانکاح فاروق اعظم کےساتھ کتب انساب اوراہل سنت کی کتابوں ثبوت 212
رفع اشتباہ (حاشیہ )نکاح ام کلثوم کوغلط رنگ دینے کی ناپاک کوشش کا تحقیقی جائزہ اورجواب 218
ام کلثوم بنت علی المرتضیٰ کا رشتہ فاروق اعظم کےساتھ علماء انساب کی نظر میں (5حوالہ جات ) 223
امر ثانی : مشتمل برچند فوائد 228
فائدہ اولیٰ : نکاح ام کلثوم شیعوں کے اصول اربعہ سےثبوت (9عدد مرویات ) ۔ ہر جور کے شیعہ علماء نےاسے تسلیم کیاہے(بقیہ شیعی مرویات ،8عدد حوالہ جات ) 228
ضروری تنبیہ ( مسئلہ مذکورہ پرایک علمی بحث ) 246
فائدہ ثانیہ ، فاروق اعظم کےنکاح میں ام کلثوم بنت فاطمہ الزاہرا ہیں کوئی اورام کلثوم نہیں 247
فائدہ ثالثہ : بحث مذکورہ کا خلاصہ (وفات زید بن عمروؓ و ام کلثوم –253) 252
خانوادہ نبوت کےساتھ فاروق اعظمؓ کی رشتہ داریوں کی تفصیل 254
امر ثالث : حضرت عمر ؓ کے گھر میں اپنی ہمشیرہ ہاں حسنین کی آمد و رفت 255
امر رابع: ایک اور واقعہ 256
امر خامس : حضرت علیؓ کی حضرت عمرؓ کےگھر میں اپنی بیٹی کےہاں آمد ورفت اور جواہر کا واقعہ 256
حاصل بحث مذکور 258
فصل سوم : فاروق اعظم اور حسن  وحسین کےباہمی خوشگوار تعلقات کےچارخاص واقعات 260
مالی وظائف میں حسنین کےساتھ خصوصی مراعات فاروقی 263
حسن مجتبیٰ کی ایک کرامت 265
یزدگرد کی بیٹی حضرت حسین کودینا 266
حوالہ جات مذکورہ کاخلاصہ 269
فصل سوم کےمندرجات پراجمالی نظر 270
فصل چہارم : فاروق اعظم کےآخری لمحات کے بارے میں حضرت علیؓ کے بیانات 272
فاروقی انتقال کی پیشین گوئی تعبیر خواب کی صورت میں 272
فاروقی خلافت اوردیانتداری کےمتعلق حضرت علیؓ اور ابن عباس کی گواہی 274
فاروق اعظمؓ پر حملہ ہونےکے بعد حضرت علیؓ کااظہار ہمدردی 276
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم ؓ کےلیے جنت کی بشارت دینا اور حضرت حسن کی تائید 277
انتخاب خلیفہ کمیٹی میں حضرت علی کو شامل کرنا 278
شیعہ مصنفین کی طرف سےتائید 280
آخری وقت میں حضرت علی ؓ کو خصوصی وصیت کرنا اور نماز کا اہتمام کرنا 281
حضرت علی کی طرف سے فاروق اعظم کےحق میں قدر دانی کے کلمات 282
حضرت علیؓ کا فاروق اعظم کے اعمال نامے پر رشک کرنا 284
رشک اعمالنامہ پرحوالہ جات 287
ایک انتباہ (روایت مسیحی پر مزید حوالہ جات 289
روایت مسیحی کی شیعہ بزرگوں کی کتب سے تائید 290
تنبیہ (شیعوں کی حیلہ گری ) 291
دفن فاروقی میں حضرت علی ؓ کا شامل ہونا 292
فوائد فصل چہارم 293

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ایصال ثواب زبان سنت علماء فارسی

قرآن خوانی

قرآن خوانی

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 43

 

قرآن خوانی  فارسی زبان کا  لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے  معاشرے  میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب  پہنچانےکے لیے  لوگوں کاجمع ہو  کر  قرآن   مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے  جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے  قرآنی خوانی  ،یٰسین خوانی  یا آیت کریمہ وغیرہ  پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین  میں  علیحدہ علیحدہ تیس پارے  بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد  دعوت  اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ  رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ  گھروں میں سیپارے  بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب  پہنچانے والے اس طرح  کےتمام امور  شریعت کےخلاف ہیں  اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت  یہ ہے کہ  اس  قرآن  خوانی کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے  دعا   کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے  روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر تبصرہ  کتابچہ ’’ قرآن خوانی ‘‘ محترم  ام عبد منیب  صاحبہ کی  اصلاح  عقائد کےسلسلے میں اہم  کاوش ہے  جس میں انہو ں نے قرآن  واحادیث اور علماء کرام کے  فتویٰ کی  روشنی میں ثابت کیا ہے کہ   جو  شخص قرآن خوانی یا  مختلف قسم کےاوراد وظائف پڑھ کرکسی دوسرے کے لیے  ایصالِ ثواب کرتا ہے یا غیر مسنون طریقے سے ان سب کاذکر اور تلاوت کرتا ہے تویہ سب امور رسول اللہ ﷺکی سنت سے انحرف ہے۔اللہ تعالی ٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح ذریعہ بنائے (آمین)

عناوین صفحہ نمبر
سخن وضاحت 5
قرآن خوانی 6
مردوں کے لیے قرآن خوانی 7
دکان مکان فیکٹری میں حصول برکت کے لیے 10
پریشانی سے نجات کے لیے 11
بیماری سے شفا کے لیے 12
قرآن خوانی اور ایصال ثواب 14
قرآن خوانی اور فقہا کا موقف 19
مروجہ قرآن خوانی کی خرابیاں 21
اجتماع برائے قرآن خوانی 22
ایمان میں شک کا باعث 23
ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جانا 24
قرآن خوانی کی مزید خرابیاں 25
دعوتی تکلفات 29
ختم خوان ملا 31
ریاکاری 31
قرآن حکیم کے نزول کا مقصد 34
قرآن حکیم میں نہیں ملے گا 36
آخری بات 39

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق و آداب سنت نماز

پریشانیوں سے نجات پائیں

پریشانیوں سے نجات پائیں

 

مصنف : حافظ فیض اللہ ناصر

 

صفحات: 142

 

دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے۔ آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان و یقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پر مضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جو آزمائش انہیں پہنچی ہے۔ اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجر و ثواب دیا جائے۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کو آزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے نیک کو بد سے اور سچے کو جھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے   اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’جو کچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم و تکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی تکالیف میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکر کے اللہ تعالیٰ کےاجر و ثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔ اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کو پہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کےلیے اس کی دنیاوی زندگی میں   مصائب و آلام اور آفات و مشکلات کو پیدا کیا ہے وہاں ان سے نجات حاصل کرنے کے طریقے بھی بتلائے ہیں مصائب، مشکلات، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سے نجات سے متعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پریشانیوں سے نجات پائیں‘‘ محترم حافظ فیض اللہ ناصر﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور) کی تصنیف ہے۔ موصوف نے بڑی محنت سے اس کتاب میں تمام تر مسائل اور پریشانیوں سے نجات پانے کی بہترین دعائیں اور مؤثر ومجرب وظائف بیان کیے ہیں۔ نیز ہر نوعیت کی تمام تر پریشانیوں کا مسنون ومستند حل پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اپنی افادیت کےاعتبار سے بلاشبہ ہر فرد، ہر گھر اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے۔ لہذا بیان کیے جانے والے وظائف و اذکار کومکمل ایمان ویقین سے ساتھ قارئین خو د پڑھ کر اپنے مسائل و مصائب سے چھٹکارا پائیں اور دوست واحباب کو بھی اس کے مطالعے کی ترغیب دلائیں۔کتاب ہذا کے مصنف فضیلۃ الاخ محترم حافظ فیض اللہ ناصر﷾ اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا نصف درجن سے زائد کتب کے مترجم و مصنف ہیں۔ ان دنوں حافظ شفیق الرحمٰن زاہد﷾ کےقائم کردہ ادارہ ’’الحکمۃ انٹرنیشل،مسلم ٹاؤن، لاہور‘‘ میں بطور سینئر ریسرچ سکار خدمات انجام رہے ہیں وہاں تبلیغی واصلاحی ’’ سلسلۃ الکتاب والحکمۃ‘‘ سیریز کے متعدد کتابچہ جات مرتب کرچکے ہیں۔ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے میدان میں موصوف کی حسن کارکردگی کے اعتراف میں ان کی مادر علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور نے2014ء میں انہیں اعزازی شیلڈ وسند سے نوازاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 13
اولین نگارش 15
پریشانیاں کیوں آتی ہیں؟ 17
دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں 24
معاشرتی پریشانیوں سے نجات 33
دعائے حاجت اور نماز حاجت 33
دعائے استخارہ اور نماز استخارہ 34
سخت پریشانی سے نجات پانے کا عمل 37
رنج و غم سے خلاصی کی دعا 38
ہر قسم کے نقصان، خوف اور شر سے حفاظت 39
کسی بھی مصیبت سے نجات 40
نقصان کی صورت میں نعم البدل 40
جب سخت معاملہ در پیش آاجائے تو 41
فہرست نامکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اذکار وادعیہ سیرت النبی ﷺ نماز وضو

پیارے رسول ﷺ کی پیاری دعائیں

پیارے رسول ﷺ کی پیاری دعائیں

 

مصنف : عطاء اللہ حنیف بھوجیانی

 

صفحات: 80

 

شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے   انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ پیارے رسول کی پیاری دعائیں ‘‘ برصغیر پاک وہند کے ممتاز جید عالم دین شارح نسائی مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کی مرتب شدہ   نماز مسنون اور رسول اللہ ﷺ کی مبارک دعاؤں کا مختصر مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف نے اس مجموعہ کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ اس میں تقریباً ہر نوع کی ادعیہ مسنونہ آگئی ہیں۔یہ کتاب اپنی افادیت کے باعث عوام الناس میں انتہائی مقبول ہوئی ۔ چند سالوں میں اس کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ کئی کاروباری ادارے اسے   ایصال ِثواب کی خاطر فری بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی تدریسی ودعوتی ، تصنیفی وتحقیقی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
1۔حرف اول 5
2۔ سوتے وقت کی دعائیں 7
3۔ آیتہ الکر ُسی 7
4۔ بے خوابی کا علاج 8
5۔ بیدار ہونے کے وقت کی دُعا 9
6۔ بیت الخلا ء سے میں داخل ہونے کی دعاُ 9
7۔ بیت الخلا سے باہر ا ٓنے کی دعائیں 10
8۔ وضو کی دعائیں 10
9۔ ملحوظہ، وضو میں ہر عضو دھوتے وقت کی کوئی دعا ثابت نہیں 12
11۔ نماز تہجد کی دعائے استفتاح 12
12سجدہ تلاوت کیددُعاء 13
13۔ دعائے قنوت 13
14۔ وتروں کے بعد 14
15۔ قنوت نازلہ 15
16۔ اذان 16
17۔ صج کی ا ذان 17
18۔ جواب اذان 17
19۔ اذان کے بعد کی دُعائیں 17
20۔مغرب کی اذان سے سنتے وقت 18
ٍ21۔ اقامت ( تکبیر ) 19
22۔ جواب اقامت 19
23۔ سُنت فجر کے بعد کی ُعائیں 20
24۔ گھر نکلنے کی دعائیں 21
25۔ مسجد میں داخل ہونے کی دعاء 22
26 ۔ نماز 23
27۔ تکبیر تحریمہ 23
28۔ دعائے استفتاح 23
29۔ ثنا ء 23
30۔ تعوذ 24
31۔ سورہ فاتحہ 24
32۔ رکوُع کی تسبیح 25
33۔ رکو ع سے ا ُ ٹھنے کی دُعاء 25
34۔ سجدہ کی تسبیح 26
35۔ دو سجدوں کے درمیان جلسہ کی دُعاء 26
36۔تشہد 26
37۔ درودشریف 27
38۔ آخر ی تشہد کی دعائیں 27
39۔ سلام 28
40۔ نما زکے بعد کی دعائیں 29
41صج و شام کی دعائیں 34
42۔ سیدالاستغفار 34
43۔ دُرودشریف سوبار 44
44۔ خاص مو قعو ں کی دُ عائیں 45
45۔ مسجد سے نکلنے کی دعا 45
46۔ گھر میں داخل ہونے کی دعاء 45
47۔ کھانے پینے کے وقت کے 45
48۔ دُودھ پینے کی دُعاء 47
49۔شب زفاف کی دُعاءٍ 47
50۔ صحبت کی دُعاء 48
51۔بازار میں داخل ہوتے وقت 48
52۔ بیماری اور بیمار پرُ سی کے
وقت کی دُ عائیں 49
53۔ قرب مو کے وقت تلقین کلمہ 51
54۔جنازہ کی دُعائیں 51
55۔ نا بالغ بچے کی دُعاء 53
56۔ میت کو قبر میں اتارتے وقت 53
57۔ میت کو دفن کرنے کے بعد 54
58۔ قبر وں کی زیارت کے وقت 54
59۔ جامع الدُ عاء 55
60۔ دُعائے استخارہ 55
61۔ دُعائے حاجت 56
62۔ لڑائی کے وقت کی دُعاء 57
63۔ غمتگین کی دُعاء 58
64۔ بیقراری کے وقت کی دعاء ٍ 58
65۔ نیا چاند دیکھنے کی دُعاء 59
66۔ فطاری کی دُعاء 59
67۔ نیا کپڑا پہننے کے وقت 59
68۔ آیئنہ دیکھنے کی دُعاء 60
69۔ مجلس کے گناہوں کا کفارہ 60
70۔ مصیبت زدہ کو دیکھ کر 61
71۔ ادائیگی قر ض کی دعاء 61
72۔ کشائش رزق کی دُعاء 63
73۔ بارش کی دُعاء 63
74۔ کثرت باراں سے خوف کی دُعاء 64
75۔ توبہ کی دُعائیں 65
76۔ نماز تسبیح 66
77۔ اسم ا عظم 67
78۔ اسمائے حسنیٰ 67
79۔ استعاذہ کی دُ عائیں 70
80۔ اخلاق رزیلہ سے بچنے کی دُعاء 71
81۔ سواری کی دُعاء 72
82۔ سفر کے وظائف واذکار 74
83۔ مُر غ کی آواز سن کر 74
84۔ گدھے کی ا ٓ واز سُن کر 75
85۔ مسنون سلام 75
86۔ چھینک کے وقت 76
87۔ دانت اور کان کے درد کے وقت ٍ76
88۔ دُنیا و ا ٓخرت کی بہتری کے لیے دُعائیں 76
89۔ حصول محبت الہی کے لیے دُعاء 77
90۔ لاالہ الا للہ کی فضیلت 78
91۔ لا حول ولا قوۃ الا با للہ 79
92۔ یاقیامت صالحات 89
93۔ بہت وزنی لیکن نہایت آسان وظیفہ 79

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam سنت علماء علوم حدیث فارسی کتب حدیث

نواب صدیق حسن خاں  کی خدمات حدیث

نواب صدیق حسن خاں  کی خدمات حدیث

 

مصنف : عتیق امجد

 

صفحات: 251

 

برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ۔ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا۔ اوراس پرمعقول انعام مقرر کیا۔ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا۔ جہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں۔دوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا۔ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نواب صدیق حسن خاں کی خدمات حدیث ‘‘ شیح الحدیث مولانا عبد اللہ امجد چھتوی کےصاحبزادے عتیق امجد کی کاوش ہے ۔اس میں انہو ں نے برصغیر کے عظیم رہنما ، محدث ، مفسر،حسن ملت علامہ نواب صدیق حسن خاں کی خدمات حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔کوئی اسلامی موضوع ایسا نہیں جس پر نواب صدیق حسن خان نےقلم نہ اٹھایا ہو لیکن تفسیر قرآن مجید اور حدیث مصطفیٰﷺ کے میدان میں تو آپ کی خدمت نہایت قابل رشک اور مثالی ہیں۔ صرف میدان حدیث اور علوم حدیث کےسلسلے میں آپ کی تصنیفات وتالیفات تقریباً باسٹھ ہیں ۔اس کےعلاوہ آپ نےمدارس حدیث کےقیام ، کتب حدیث پر مشتمل لائبریریاں،کتب حدیث کےمطابع، خدمت حدیث کےلیے علماء وفقہاء کوترغیب ووظائف، کتب حدیث کے تراجم وشروحات لکھنے کےلیے علماء کی سرپرستی، طلباء حدیث کو حفظ حدیث پر انعامات کےعلاوہ اپنےوعظ وتقاریر، درس وتدریس اور بالخصوص عمل بالحدیث کےساتھ وہ انمٹ اور لازوال خدمات سرانجام دی ہیں جورہتی دنیا تک یاد رہیں گئی۔مصنف کتاب ہذا نے علامہ نواب صدیق حسن کی انہی خدمات کو اس کتاب میں خوبصورت انداز میں پیش کرکے شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب سے ایم علوم اسلامیہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
کلمہ تشکر 9
پیش لفظ 11
موضوع کی اہمیت 20
باب اول:نواب صدیق حسن خان تعارف وحالات
حالات زندگی اورتعلیمی اسفار
پیدائش 22
نام ونسب 23
کنیت ولقب 24
ابتدائی حالات 25
والدین کاادب واحترام 26
خلقی وخلقی اوصاف 27
تعلیم وتربیت اورتعلیمی اسفار 28
سفردہلی 29
سفربھوپال 30
وطن واپسی 31
سفرٹونک 32
بھوپال واپسی 33
نکاح 33
سفرحج 33
نواب شاہ جہاں بیگم سےنکاح 34
نواب شاہ جہاں بیگم کےاخلاق وااطوار 35
اعزازات وخطابات 36
سیروسیاحت 36
معزولی 36
فصل دوم :شیوخ واساتذہ
مفتی صدرالدین 38
شیخ حسین بن محسن السبیعی الانصاری 39
شیخ عبدالحق بنارسی 40
الشیخ محمد یعقوب دہلوی مہاجر مکی 40
شیخ احمد حسن عرشی 40
فصل سوم :اوصاف حمیدہ اورحسن کردار
عاجزی وانکساری 41
بری صحبت وبرےکاموں سےنفرت 42
ذکر اوراذکار اوردیگر عبادات 43
گناہ سےنفرت اورتوبہ واستغفار کی کثرت 43
اخلاق رذیلہ سےنفرت 45
اہل اللہ سےمحبت 45
فصل چہارم :وفات
حواشی 48
باب دوم:نواب صاحب کےدور کےحالات
فصل اول:اجتماعی حالات 51
فصل دوم: سیاسی حالات 53
فصل سوم: علمی وثقافتی حالات 55
حواشی 58
باب سوم :نواب صدیق حسن خاں کی تالیفات وتصنیفات
فصل اول: عربی تصانیف 64
فصل دوم: فارسی تصانیف 68
فصل سوم:اردو تصانیف 71
باب چہارم :مسلک ونظریات
فصل اول: مسلک 78
فصل دوم: امتیازی نظریات 84
نظریہ توحید 85
شرک کارد 89
قرآن وحدیث علوم وفنون کامنبع 90
بدعات کارد 90
مسئلہ تقلید 92
شیطان کافکر مغفرت 96
صحابہ واولیاء کامقام اوران میں فرق مراتب 96
بیماری باعث کفارہ 97
اختلاف امت اورناجی فرقہ 98
فصل سوم :تعلیمی افکار ونظریات
تصویر حقیقت 98
تصور قدر 101
تصور علم اورحقیقت علم 102
ذرائع علم 103
مقاصد تعلیم 104
حواشی 105
باب پنجم :اسلام میں مقام حدیث اورنواب صاحب کااتباع سنت اوراحیائے سنت میں کردار
فصل اول شریعت اسلامیہ میں مقام حدیث 107
نواب صدیق حسن خان کانظریہ حدیث 113
فصل دوم: نواب صاحب کااتباع سنت اوراحیائے سنت میں کردار 115
حواشی 128
باب ششم:میدان حدیث میں کارہائے نمایاں
فصل اول :مراکز حدیث کاقیام 131
مدارس جامعات کاقیام 133
اساتذہ کی تقریری وتعیناتی کامعیار 135
استادکے اوصاف 136
طلبہ کے اوصاف 138
نصاب تعلیم 140
حفظ حدیث کااہتمام 143
فصل دوم: علماءکرام کی اشاعت حدیث کی ترغیب اورعلماء بورڈ کاقیام 144
فصل سوم:کتب خانے  اورمطابع 148
کتب خانے 148
کتب خانہ والاجاہی 149
کتب خانہ خانہ خاص سرکاری 149
کتب خانہ فیض عام 150
کتب خانہ جامع جہانگیری 150
مطابع یعنی پریس 150
فصل چہارم :کتب حدیث کی مفت تقسیم ارودیگر مالی خدمات 152
حواشی 154
باب ہفتم:نواب صدیق حسن کی علوم حدیث میں تصنیفی خدمات کاجائز ہ
فصل اول:
ذوق مطالعہ اورتصنیف وتالیف 156
کتب بنیی وجمع کتب 156
تالیف وتصنیف کامقصد اورنصب العین 158
مقبولیت تالیفات 160
مستند تصنیف 165
اسلوب تصنیف 164
معیار تحقیق 166
فصل دوم : علوم حدیث میں تصنیفی خدمات کاجائزہ 176
شروح حدیث 177
متون حدیث 207
اصول حدیث 210
تراجم حدیث 211
تراجم محدثین 213
فقہ الحدیث 214
حواشی 232
باب  ہشتم
نواب صدیق حسن خاں کی خدمات  حدیثکےاثرات ونتائج
مصادر ومراجع 245
اصول تخریج 246
فقہ القرآن 247
علم وادب 266
علوم اورفن قرآن 267

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ عقیدہ و منہج

نجومیوں کی سیاہ کاریاں

نجومیوں کی سیاہ کاریاں

 

مصنف : یحیٰ علی

 

صفحات: 200

 

جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا ایک کافرانہ عمل ہے یعنی اس کا کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا اورکافر ہوجاتا ہے یہ مکروہ عمل کرنے والے تھوڑے سے نفع کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے اور ان کے امن وسکون کوبرباد کرتے ہیں جولوگ ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں۔ او رلوگ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائےاپنے مصائب ومشکلات کے وقت دکھوں تکلیفوں کے مداوا اور غموں وپریشانیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ سعادت ونیک بختی ،کامیابی کوکامرانی ،دولت کےحصول اورجاہ وحشمت کی طلب کےلیے مارے مارے عاملوں او رنجومیوں کے آستانوں پر ماتھے رگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان نجمیوں نے ہر ہر خاندان میں پھوٹ ، عداوت ، دشمنی بغض اور حسد وکینہ کے بیج بودیے ہیں۔ ماں کوبیٹے، بہن کو بھائی اورباپ کو اولاد کا دشمن بنا چھوڑا ہے۔ انسانیت ان کی مذموم شیطانی کارستانیوں ،سیاہ کاریوں اور بدکاریوں سے جان بلب ہے اور کسی ایسی راہنمائی کی متلاشی ہے جوان کےدکھوں کا مدوا ثابت ہوسکے ، ان کے دین وایمان اور مادی دولت کےساتھ ساتھ ان کی عزت وناموس کی حفاظت کا بھی باعث بن سکے۔ زیر تبصر ہ کتاب ’’نجومیوں کی سیاہ کاریاں‘‘ جناب یحییٰ علی﷾ کی کاوش ہےجس میں انہوں نے امت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر مرض کی درست تشخیص کی ہے او رنجومیوں کے ہاتھوں بر باد انسانیت اور زخمی روحوں کےزخموں پرشافی مرحم رکھا ہے۔ اوران کوان سفاک بہروپیوں کےجال سےنکالنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔قارئین عاملوں ، نجومیوں کی سیاہ کاریوں کوجاننےاور ان سے اپنے آپ اور دوسروں کے عقیدہ وایمان اور دولت وعزت کو بچانے کے لیے اس کتا ب سے ستفادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
بہروپیوں سےبچاؤ کاہتھیار 9
ابتدائے نگارش 13
انتساب 15
علم نجوم کی تاریخ و شواہدات 17
جادوکی تاریخی حیثیت 20
اب جادوگروں کی مختلف کار گزاریاں قارئین کی نظر میں 20
جادو کی حقیقت اور جادوگروں کی شرعی حیثیت 25
جادوگر کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ 28
علم نجوم قرآن وحدیث کی روشنی میں 29
علم نجوم پر شاہ ولی اللہ اور امام ابن تیمیہ﷫ کاحقیقت افروز تبصرہ 35
شاہ ولی اللہ ﷫ 35
امام ابن تیمیہ﷫ 35
جادو گروں کا معاہدہ اور جنات کو حاضر کرنے کےمختلف طریقے 37
جنات کو حاضر کرنے کےمختلف طریقے 38
پہلا طریقہ 38
دوسرا طریقہ 39
تیسرا طریقہ 39
چوتھا طریقہ 40
پانچواں طریقہ 40
چھٹا طریقہ 40
ساتواں طریقہ 41
آٹھواں طریقہ 41
مولف کی نجومیوں سے ملاقاتیں نجومیوں کی کارستانیاں ’’عوام کی عدالت میں ‘‘ 47
لاش پر بیٹھ کر نہائےتو 47
اکیس سالہ نجومی 49
ایسی کایا پلٹی کہ 51
ہاں ! ایک نجومی کےپاس گئی 51
آخر کار پول کھل گیا 52
بابا جی کی کارستانی 52
طاہر بچپن میں بہت ذہین تھا 53
بھارتی منشیات فروش 55
ہندو ازم کاچربہ 56
دریا پر چلہ کاٹنا ہے 56
الو کی اذیت ناک ہلاکت 57
خصوصی کیبن 57
بندر اور کتے کی ہڈیاں 58
پرچی جوا لگانےکےلیے نمبر 58
پندرہ سالہ لڑکا قبر سےباہر 59
ایف ایس کی طالبہ 59
مہنیا پورا ہو گیا 60
ایک ’’پرہیزگار‘‘ نجومی کا قصہ 61
اللہ اللہ کر کے اکیسویں رات آئی 65
بازاری کتب میں درج وظائف سے عجیب وغریب انکشاف 67
قارئین کرام! 70
راتوں رات کروڑ پتی کرنےوالوں کے درجے اور ان سےنجات 72
ازالہ غلط فہمی 76
کالے علم اور نوریعلم کےکرشمات 77
مولف پادریوں کوداد شجاعت دیتا ہے کہ انہوں 79
ملکی وغیر ملکی نجومیوں کی پیشین گوئیاں 84
غیر ملکی نجومیوں کی پیشین گوئیاں 84
پاکستانی نجومیوں کی غیب دانیاں 86
جادوکرنے اور کروانے والوں سےمکمل نجات( ان شاء اللہ ) 92
چند احتیاطی اقدامات 92
جادو گروں ( نجومیوں) کو پہچاننے کی نشانیاں اور طریقے 94
مردہ ستاروں کی اقسام 97
باغبانپورہ لاہور میں بادل سےملاقات 102
سامری کےلیے موسیٰ﷤ کی بددعا 108
سنگھ پورہ میں فرید شاہ کے بیٹے سے ملاقات 110
میرےچار بچے فوت ہوئے 114
بہت شہرت ، دولت ، عزت نصیب ہوئی لیکن 121
نیلے پیلے نجومیوں کی واہیاتیاں … نئی نسل کے ماڈرن لوگ 126
بکرے کا پانچ کلو گوشت 129
لاہور پولیس ماہانہ 5کروڑ بھتہ 131
پولیس کی موجیں 133
غیر مسلم کنواری لڑکی 134
بی بی سی کی رپورٹ 134
دوشیزہ سےلاکھوں ہتھیانےکےبعد عزت پر 137
چار خطرناک نو سربازنجومی 139
شیطان ایک لڑکی کوچمٹ گیا 146
نجومیوں کی ہڈ حرامیاں 149
عاملوں کی خدائی پرترس آرہا ہے 149
بکرے اور مکان کو تعویذ پہنا دو 150
ہمارے علم سے زندگی بچی ، عاملوں کا دعویٰ 150
عاملوں نے جینا حرام کر دیا 152
عامل کااخباری نمائندوں کو چیلنج 152
اپنے مرشدوں اور پیروں پر اعتماد کر کے لٹ گیا 154
نجومیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے 165
طالب علم کا بیان 170
تبصرہ 170
طالب علم کا بیان 171
طالب علم کا بیان مع تبصرہ 173
طالب علم کا بیان 174
سینکڑوں جوڑے اولاد کے لیے 180
اولاد میاں بیوی کے درمیاں پل 190
ماہرین نفسیات کیا کہتے ہیں ؟ 190
بانجھ پن … ایک ’’عالمگیر‘‘ مسئلہ …. طبی محاذ پر کیا ہو رہا ہے ؟ 191
نجومیوں کی زائچہ دانیاں 193
زائچہ نمبر 1 193
زائچہ نمبر2 194
زائچہ نمبر3 194
زائچہ نمبر4 194
زائچہ نمبر5 195
ستارہ مشتری 195
مشتری قابض کےاثرات 196
زائچہ نمبر6 196
مراجع ومصادر 198

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam احکام ومسائل سیرت النبی ﷺ قرض نماز وضو

نبی رحمت ﷺ کی راتیں

نبی رحمت ﷺ کی راتیں

 

مصنف : عمر فاروق قدوسی

 

صفحات: 418

اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کی رہنمائی کے لیے انہی میں سے ایک نبی کومبعوث فرمایا جن کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اور اس بات کا اعلان خود اللہ رب العزت نے سورۃ الممتحنہ میں فرمایا۔ اللہ کے نبیﷺ نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ رہنمائی دی وہ شعبہ چاہے معاشی ہو‘ سیاسی ہو یا معاشرتی۔اسلام کا حسن ہے کہ اس نے جزئیات میں بھی انسانیت کے راہنمائی فرمائی ہے۔ لوگوں کو شتر بے مہار نہیں چھوڑا۔ انہیں امن وسکون اور ترتیب وتنظیم سے زندگی گزارنے کے لیے بعض قواعد وضوابط کا پابند ٹھہرایا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں ان ہی قواعد وضوابط کا بیان ہے جن پر چل کر ایک معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اس میں سونے جاگنے اور نیند سے متعلقہ احکام ومسائل کا احادیث صحیحہ کی روشنی میں بیان ہے۔ سونے کے آداب‘ سوتے وقت کے اذکار‘ رات کو بیداری‘ نماز تہجد وغیرہ عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔نبیﷺ کی راتوں کا بیان اس کتاب کا خاص موضوع ہے اسی مناسبت سے نبیﷺ کے خوابوں‘جہادی اسفار‘ ان واقعات کا بیان جن میں نبیﷺ بے ہوش ہوئے‘ گھریلو زندگی سے بعض نورانی راتوں کا بیان ہے اور ہر بات کو صحیح احادیث سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نبی رحمتﷺ کی راتیں ‘‘ عمر فاروق قدوسی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 23
باب 1:سونے سےپہلے کچھ ضروری کام
رات گہری ہونےکےبعد بلاضرورت باہر نکلنے کی ممانعت 25
رات کےوقت کتےیاگدھے کی آواز سنائی دےتو؟ 25
نیند کاارادہ کرتےوقت کی دعا 26
رات گئے تک گپ شپ لگانا ایک ناپسندیدہ کام 27
سونےسےپہلے رات کےوقت علمی باتیں کرنا 28
سونےسےپہلے ہاتھوں سےچکنائی دورکرنا 31
سونےسےپہلے اثمدسرمہ لگانا 31
سونےسےپہلے دروازے بند کردینا 31
سونےسےپہلے چراغ گل کردینا 31
سونےسےپہلے برتن ڈھانپ دینا 32
شیطان سےحفاظت کی تدبیر 33
رات کےوقت شیطان سےگھروں کو محفوظ رکھنا 34
سونےپہلے وضو کرنا 34
باوضو سونےوالے کےلیے فرشتے کادعائےمغفرت کرنا 35
باوضوسونےپر دنیا آخرت کی بھلائی میسرآنا 36
کسی اوٹ یارکاوٹ کےبغیر کھلی چھت پر سونا 37
باب 2:سونےکےآداب
بستر پرجانے سے پہلے اسے جھاڑالیں 38
دائیں کروٹ لیٹنا 38
پیٹ کےبل لیٹنے کی ممانعت 38
جہنمیوں کی نیند کاانداز 39
دوران سفررات کےوقت نبی کریم ﷺ کاسونےکاطریقہ 40
نبی کریم ﷺ کامسجد میں چت لیٹنا 40
باب 3:بستر پر جانے کےبعد معمولات نبوی ﷺ
دایاں ہاتھ بائیں رخسار کےنیچے 41
سورۃ السجدہ اورسورۃ الملک کی تلاوت 41
معوذات کی تلاوت اوردم 42
دائیں رخسارکےنیچے ہاتھ رکھ کردعا 42
مخلوقات کےشرسےکفایت کرنےوالی دعا 43
ظالم آدمی یاموذی جانور کےشرسےبچنے کےلیے ایک غیر مسنون عمل 43
گناہوں کی معافی شیطان سےدوری اوربہترین افراد کی رفاقت کی دعا 44
شترسےمہارآزادی اوربھوک سےپناہ طلب کرنا 45
باب 4:بستر پر جانے کےبعد مسنون اذکار
سوتے وقت ذکرالہیٰ کی اہمیت 46
آیت الکرسی پڑھنا اورشیطان سےمحفوظ مامون ہوجانا 47
جنات وشیاطین سےحفاظت کےلیے ایک ’مجرب‘‘عمل 48
مسنون وظائف سےگریز آخرکیوں؟ 48
گناہوں کو معاف کرانےوالی دعا 49
سوتےوقت تسبیح وتہلیل پڑھنا غلام ملنے سےبہتر 50
سونےسے پہلے تسبیحات کااہتمام جنت میں داخلے کاموجب 52
ابوبکر صدیق ﷜ کو نفس اورشیطان کےشرسےبچنے کی دعاکی ترغیسب 54
ساری مخلوق کی تعریف کےبرابر اللہ تعالیٰ کی تعریف کی دعا 55
ہرچیز کےشر قرض فقروفاقے سےنجات کی دعا 56
سوتےوقت جان کی سلامتی اورعافیت ومغفرت کی دعاکرنا 57
پرسکون نیند کےلیے بستر پر سوتے وقت کی دعا 57
سوتےوقت اورنیند سے بیدار ہوتےوقت معوذتین پڑھنا 58
سونےسےپہلے آخری دعا 61
نبوی دعاؤں کےالفاظ میں کسی طرح کاتغیر وتبدل جائز نہیں 61
باب 5:نیند کےدوران اچانک بیداری
سونےکےدوران کروٹ بدلتے وقت کی دعا 63
سوتےہوئے اچانک آنکھ کھل جائے تو کیاپڑھے 64
جب گھبراہٹ اوروحشت سےآنکھ کھل جائے 66
نیند کےدوران ڈرنےوالے کےیے ایک خود تراشید ہ وظیفہ 68
باب 6:نیند سے بیداری
بیدارہونےوالے ہاتھ دھونےسے پہلے پانی والے برتن میں نہ ڈالے 69
جب کوئی شخص نیند سےبیدار ہوتو وہ وضوکرے 69
بیٹھے بیٹھے سوجانے سےوضونہیں ٹوٹتا 69
نیند سےبیداری پر وضو کرتےوقت تین مرتبہ ناک جھاڑنا 70
نبی کریم ﷺ رات کی نماز کےلیے کس وقت بیدار ہوتے 70
نبی کریم ﷺرات کو بیدار ہوتے تو مسواک فرماتےہ 71
رسول کریم ﷺ رات کو بیداہوتے تو کیاپڑھتے 71
نبی کریم ﷺ جب صبح اٹھتےتو کیاپڑھتے 72
رات کےپچھلے پہربیدار ہونے پر کثرت سےدورد شریف پڑھنےکی فضیلت 72
نبی کریم ﷺ سوئے ہوئے کو کس طرح بیدار فرماتے؟؟ 75
دوسروں کو نماز کےلیے بیدار کرنا 76

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
7 MB ڈاؤن لوڈ سائز