Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ حنفی ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت عدلیہ علماء نبوت

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

 

مصنف : شفیق الرحمٰن الدراوی

 

صفحات: 350

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست مضا مین
انتساب:
ہدیہ تشکر 16
سرنغمہ ، پر سو ز : 18
مقدمہ ا ز مولانا منیر قمر حفظ اللہ 20
باب اول : نبی ر حمت ْﷺ 22
عموم رحمت: 24
مومنین کے لیے رحمت: 26
مو منین کے لیے رحمت کاایک منظر 27
عبادت رحمت 29
اہل خانہ کے لیے رحمت: 30
سلوک  رحمت کی مثالیں 34
اہل خانہ کے ساتھ رحمت تعلیمات 34
عورتوں پر رحمت 36
بیو ا و ں کیساتھ رحمت 36
بچو ں پر رحمت 38
یتیموں پر رحمت 40
بچیوں کے لیے رحمت 42
غلاموں پر رحمت 45
غلاموں کی سزادینے کی مما نعت 47
غلامو ں کا احساس 47
تعلیمات رحمت کا اثر 47
دعوت حق میں رحمت 48
دعوت میں رحمت کی ایک مثال 49
کفار کیلئے رحمت 50
مشرکین کےلیے رحمت 52
منافقین کے لیے رحمت 53
میدان کا رزار میں رحمت 53
تعلیمات کا اثر 55
محبت کرنے والوں پر رحمت 56
حیوانات کیلئے رحمت 57
حرام جانور  وں کیلئے رحمت 61
جمادات کا ساتھ رحمت 63
امن عالم اور نبی رحمت ﷺ 65
تکملہ باب رحمت 66
باب دوم : انصاف پسندوں کے اعترافات 68
باب سوم : محمد ﷺ سے دشمنی کی وجوہات معا ذ ین کا انجام 83
رسول اللہﷺ سے دشمنی کے اسباب 84
فصل اول : شر پسندوں کی بیہو دگیا ں اور ان کا انجام 88
شر پسندوں کی عاقبت 88
شر پسند نا کام  ہی رہیں گے 89
شر پسندوں کی روش 89
شیطانی  مہلت ملی ہے ان کو 91
بنی ﷺ سے د شمنی کی مو جو د لہر 92
قربانی ﷺ کا بکرا 94
آزادی ء ا ظہار رائے و فکر و نظر کی حقیقت 95
مغرب کی منافقت اور اظہار رائے کی ا ٓ زادی 98
امریکی کردار 100
مذہبی شخصیات اور ان کی خرافات 101
فصل دوم : پس پر دہ حقائق 103
کھلم کھلی اسرائیلی مدد 104
سیاسی جنگ 105
صحافت و ذروائع ابلاغ کی جنگ 106
فصل سوم :گمراہی اور استبدار کے وسائل 107
فصل چہارم : مسلمانو ں کا کردار 111
مومن کا ان حالات میں مو قف: 111
حالا ت  کا تقا ضا 113
باب چہارم: نصر ت رسول اللہﷺ کے بعض وسائل 117
باب پنجم : بائیکاٹ کی تعریف اور تاریخ 123
بائیکاٹ کی تاریخ 123
1۔حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا بائیکا ٹ ۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی با ئیکاٹ کی دھمکی 123
3۔حضرت یوسف ؑ کی بائیکاٹ کی دھمکی :4۔ ابو لہب کا بائیکاٹ 124
5۔ ابوجہل مردود کا بائیکاٹ :6۔ قریش کا بائیکاٹ 125
7۔ :حضرت ثمامہ بن ا ثال ؓ کا بائیکاٹ 125
بائیکاٹ ثمامہ  کےا ثرات و نتائج : 8۔ حضرت ابو بصیر ؓ  کا روائی 126
10آئر لینڈ کی تحریک بائیکاٹ : 11۔ جمرنی کاخلاف یورپ کا بائیکاٹ 128
12۔ گاندھی کی تحریک بائیکاٹ 128
13۔: عالم اسلام اور اسرائیل  سے بائیکاٹ :14۔ شاہ فیصل شہید کا یورپ سے بائیکا ٹ 129
15۔: روس سے  بائیکاٹ : 16۔ عراق بائیکاٹ 129
17۔ الیبیا پر اقتصادی پابندیا ں : 18۔ پاکستان پر پابندی :19۔ سوڈان  پر پابندی 130
20۔ : شام یمن اور بعض دوسرے ممالک پر   پابندیاں: 130
21: امریکہ اور دوسرے ممالک کا منا فقانہ کردار: 130
فصل اول: بائیکاٹ کا شر عی حکم 131
بائیکاٹ کب مستحب ہوتا ہے 131
بائیکاٹ کب واجب ہوتاہے 132
کتاب وسنت سے بائیکاٹ سے بائیکاٹ کا ثبات: 133
عرب علماء کے فتاوی 137
شیخ محمد بن صالح التثیمین رحمتہ اللہ علیہ 140
علامہ ناصر الدین الا لبانی رحمتہ اللہ علیہ 140
شیخ انب جبریل رحمتہ اللہ علیہ 141
شیخ صالح الحبدان حفظ اللہ: 142
شیخ عبدالعزیز بن عبدالل الراحجی حفظ اللہ: 142
بائیکاٹ کیوں کریں ؟: 143
بائیکاٹ کے لیے اہم اصول : 145
عوامی کردار: 147
دشمن کی چالوں سے بچیں : 149
فصل دوم : بائیکاٹ : آخر کب تک : 150
باب ششم : عصمت ابنیاء کرام ؑ 151
فصل اول : عصمت انبیا کرام ؑ 152
گناہ کا مصدر 152
خلا صہ ء کلام 155
نبو ت اخیتار الٰہی 156
قرعصمت انبیاء ؑ ٍ 158
قرآن اور عصمت محمدیہ ﷺ 159
باب ہفتم : گستاخ رسول ﷺ کا شرعی حکم 161
فصل : گستا خ رسول اللہ ﷺ کافر اور واجب قتل ہے 162
اولا ء: کتاب اللہ سے کفر پر دلائل 163
پہلی دلیل : [اور علماء کے اقوال] 163
دوسری دلیل: [ اور علماء کے اقوال ] 165
تیسری دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] ٍ 168
چو تھی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 169
پانچوں دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 170
چھٹی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 172
ساتویں دلیل : [ اور علما ء کے اقوال ] 173
اجما ع مسلمین 173
علامہ انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول 175
قاضی عیا ض رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ بشیر عصا م مراکشی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
علامہ الشر بینی الشا فعی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ مر عی بن یو سف الکر می احسنبلی 177
فصل دوم : گستاخ رسول اللہﷺ کے واجب قتل ہونے کے دلائل 178
قرآن کریم سے شاتم رسول کے قتل کا اثبات 178
پہلی دلیل: 178
دوسری دلیل 179
تیسری دلیل : 180
چو تھی دلیل: 181
پا نچویں دلیل: 183
چھٹی دلیل : 184
ساتویں دلیل: 185
آٹھویں دلیل: 185
نویں دلیل: 186
دسویں دلیل: 186
فصل سوم:احادیث مبارکہ میں گستاخ رسول اللہ ﷺ کی سزا: 188
عہد ذمہ کا فائدہ 188
سنت بنوی سے عملی نمونے 191
1۔ سفیان بن خالد کاقتل 192
2۔کع بن اشرف کا قتل 193
3۔ ابور افع یہودی کا قتل :4۔ تکذ ب رسول اللہ ﷺ پر قتل 194
5۔ محبو ب کے واقعہ سے استدلال: 195
6: انب سبینہ کی یہودی کا قتل :7۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کا قتل: 196
8: بنو قریظہ کی یہودیہ کا قتل 197
9: عصماء بنت مردان کا قتل  : 10۔ بنو بکر کاواقعہ 198
11: ذو لخو یصرہ کی گستاخی اور فرمان بنوت 199
12: بجر بن زہیر ؓ کا خط 200
13: ایک شاتم رسول ﷺ کا انجام : 14۔ دوسری گستاخی عورت کاقتل : 15۔ گستاخ یہودیہ کا قتل : 201
16۔ ابو عفک یہودی کا قتل : 17۔ عبداللہ بن اخطل : 18 ۔ قر تنی کا قتل 202
فصل چہارم : حضرات صحابہ کراؓ معین ااور ائمہ کے فیصلے 203
1: حضرت ابو بکر ؓ کا عقیدہ و ایمان و عمل: 203
2: حضرت ابو بکر ؓ صدیق کا فیصلہ :3۔ حضرت  ابوبکر ؓ اور گستاخ کا سزا: 204
4۔ حضرت عمر ؓ کا فیصلہ : 5۔ حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ کا فتوی: 205
6۔حضرت غرفہ ؓ اور ایک گستاخ معاہدہ کا قتل 206
7۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ اپنے والد کا قتل  ۔:8۔ حضر ت عمر ؓ اور ایک گستاخ کا قتل 206
9۔ حضرت عمر ؓ اور رافع بن کا قتل ۔ 10۔ نابینا صحابی اور گستاخ عور ت کا قتل 207
11۔ حضرت ابو برزہ ؓ  کا موقف :12۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا مو قف 208
13۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مو قف 208
14۔ ابن قانع کی روایت : 15۔ حضرت علی ؓ کا حکم ۔ 16۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت 209
17۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فیصلہ : 18۔ حضرت محمد بن  مسلمہ ؓ 210
19۔حضر ت عبدالر حمن بن یزید رحمتہ اللہ علیہ :20۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ 211
21۔ ہارون الرشیدر حمتہ اللہ علیہ کا استفاء 211
22۔ جنات میں  کستاخ رسول اﷺ کی سزا: 212
فصل پنجم : اجماع امت 213
1۔ امام ابن سحنون المالی  رحمتہ اللہ علیہ : 2۔ امام اسحق بن ابراہیم لمعروف بابن راہویہ رحمتہ اللہ علیہ 214
3۔ امام خطابی ، حمد بن محمد یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ :5۔ امام ابو بکر الفارسی رحمتہ اللہ علیہ : 6۔ علامہ قاضی عیاضی رحمتہ اللہ علیہ 215
7۔ امام ابن خطاب الحنبلی رحمتہ اللہ علیہ  8۔ امام ابن الظاہری رحمتہ اللہ علیہ : 9۔ امام ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ 216
10۔ ابن عابد ین حنفی رحمتہ اللہ علیہ :11۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ : 12۔ علامہ ابن قیم رحمتہ علیہ 217
13۔ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ : 14۔ علامہ السفارینی رحمتہ اللہ علیہ : 15۔ ابراہیم  بن حسین خالد فقیہ رحمتہ اللہ علیہ 218
16۔ علامہ شاہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ 218
سکو تی اجامع پر شہادت کے چند واقعات 219
پہلا واقعہ : دوسرا واقعہ: 219
تیسرا واقعہ : چو تھا واقعہ : پانچواں واقعہ : چھٹا واقعہ : 220
ساتواں واقعہ : ا ٓٹھواں واقعہ : نو اں واقعہ : 221
دسواں واقعہ : گیار ھواں واقعہ : ریجی نالڈ : بارھواں واقعہ : بہار ء اللہ 222
تیر ھواں واقعہ : مرزا غلام احمد قادیانی 223
چو د ھو اں واقعہ  : قادیانی عبدالحق کی گستاخی 224
غیرت مدن جج کا یمانی فیصلہ : پند ر ھواں واقعہ : ہند و مصنف مھا شاکر شن 225
سو لھواں واقعہ : شر دھا نند : سترھواں واقعہ  : ہند و مصنف نتھو رام: 226
اٹھار ھواں واقعہ : گستاخ ہیڈ مسٹر یس کا انجام : انیسواں واقعہ : رام گھو پال لعین کی دشنام طرازیا ں 227
بیسواں واقعہ : ہند و چوہدری کھیم : چند : اکیسواں واقعہ : پالا مل ہندہ: 228
بائیسواں واقعہ :  سکھ کشمیر سنگھ : تیتسواں واقعہ : ایک گستاخ ناشر 229
چو بیسواں واقعہ : عامر چیمہ  شہید رحمتہ اللہ علیہ 230
ہند و ستان  کی اسلامی عدلیہ کا فیصلہ 231

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پردہ و حجاب اور لباس تمدن زبان سود نماز

شرعی پردہ

شرعی پردہ

 

مصنف : قاری محمد طیب

 

صفحات: 128

 

اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی پردہ ‘‘دیوبند مکتبہ فکر جید عالم دین مولانا قاری محمد طیب صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع،پردہ کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید اور وجہ تالیف 5
مسئلہ حجاب کی بنیادی علت 9
پردہ خود مقصود نہیں، بنیادی علت مقصود ہے۔ 9
بنیادی علتوں کی چند مثالیں 10
تصویر کی مثال 10
حرمت سود کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
حرمت شراب کی مثال 13
قتل کلاب کی مثال 15
پردہ کا حکم انسداد فحش کے لیے ہے۔ 16
فحش کے آثار بد 17
فحش کی حرمت 20
پردہ کی ابتدائی صورت 20
تبرج جاہلیت 20
جاہلیت اولےٰ 22
جاہلیت حال 23
موجودہ جاہلیت اور فحش کے چند نمونے 24
پردہ کے پروگرام کی تربیت 30
ستر اشخاص 30
عورت کی بنیاد ستر حجاب 30
حکم استیذان 31
گفتگو پس پردہ 32
موجودہ تمدن کی بیباکی عورت کے باہر نکلنے شروط 33
معاشرتی قیور 34
عباداتی قیور 35
عورت کی امامت کی پردہ کی نوعیت 45
عورت کی انفرادی   نماز میں پردہ کی وضع 50
مسئلہ حجاب اور مسئلہ ستر 51
تمدنی قیود 61
خیالی پردہ 62
حجاب کی جزئیات کا خلاصہ اور منشاء شریعت 64
حجاب اور بے حجابی میں مشرق مغرب کی عورتوں کا موازنہ پردہ کے بارہ میں یورپ کی رجعت 70
عورت کے لیے کثرت معلومات قابل مدح نہیں۔ 72
مسئلہ حجاب کا دفاعی پہلو 78
پردہ پر پہلا اعتراض 78
دوسرا اعتراض اور اس کا جواب 84
عورتوں کی خرابیٔ صحت کا اصل منشاء 89
بے حجاب اقوام کی صحتیں بھی درست نہیں۔ 91
پردہ پر تیسرا اعتراض باپردہ عورتوں میں فضل وکمال اور اس کی چند مثالیں 102
تعلیم میں پردہ معین ہے اور بے بردگی مخل ہے۔ 107
ستر و حجاب کا فرق 110
پردہ کہاں کہاں   غیر ضروری ہے؟ 118
پردہ کہاں کہاں ضروری ہے؟ 121
پردہ کے بارے میں تین طقطۂ ہائے نظر 126

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت سنت

شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا

شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا

 

مصنف : قاری محمد یعقوب شیخ

صفحات: 119

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت  ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں  ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شان مصطفیٰ ﷺ اور گستاخ رسول کی سزا‘‘جماعت الدعوۃ ،پاکستا ن کے مرکزی رہنماجناب قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے شان مصطفیٰ ﷺ کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی شان او رمقام ومرتبہ کا لحاظ نہ کرنے والے گستاخوں کی سزا’’قتل‘‘ کو قرآن وحدیث اور اجماعِ امت کی روشنی میں دلائل سے ثابت کیا ہے نیز کیا گستاخِ رسولﷺ کے لیے عفو ودرگزر کی گنجائش ہےاور اس کو معاف کرنے کا کسی کو اختیار ہے اور قانون توہین رسالت کے اٹھنے والے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازکر ان کےلیے صدقہ جاریہ اور آخرت میں ذریعہ نجات بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقدیم 7
حرف چند 13
عرض ناشر 15
شان مصطفیٰ 19
رسول اللہﷺ کا اعلیٰ اخلاق اور یورپ کے گستاخانہ اقدامات 31
قرآن کریم میں گستاخ رسولﷺ کی سزا 35
کیا گستاخی کرنے والے غیر مسلم (ذمی) کو سزا دی جائے گی؟ 45
کیا گستاخ رسولﷺ کے لیے عفو و در گزر ہے؟ 51
حدیث و سنت میں گستاخ رسولﷺ کی سزا کا حکم 59
قرآن میں حدیث و سنت کا وجود و ثبوت 60
گستاخ رسول ابن خطل 69
جو اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے) اس کو قتل کردو 70
مرتد کو جلانا نہیں قتل کرنا ہے 70
گستاخ رسول کعب بن اشرف کا سر تن سے جدا 72
گستاخ رسول ابو رافع یہودی کا قتل 74
یہودیوں کی طرح عیسائیوں کی گستاخیاں 75
صرف رسول اللہﷺ کی توہین کی سزا قتل ہے 77
مکہ میں گستاخوں کے خلاف رسول اللہﷺ کا اعلان جنگ 78
گستاخ بہن کا قتل 79
نبی کریمﷺ کو گالیاں دینے والی ام ولد کا قتل 81
گستاخ یہودی عورت کا قتل 82
اجماع امت کے تناظر میں گستاخ رسولﷺ کی سزا 87
قانون توہین رسالت پر اعتراضات اور جوابات 95
غور طلب امور 117

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سنت فارسی ملائکہ و جنات و شیاطین

شیطان کی تاریخ

شیطان کی تاریخ

 

مصنف : یاسر جواد

 

صفحات: 211

 

شیطان اللہ کا باغی، سرکش اور نافرمان ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اس کی مانند انسان بھی اللہ کا باغی ، سرکش اور نافرمان بن جائے۔جب سے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا ہے ، تب سے شیطان اس کی دشمنی کرتا چلا آرہا ہے۔ اللہ تعالی نے  قرآن مجید میں یہ واضح  اعلان کر دیا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس بدبخت نے رب ذوالجلال کی جانب سے دھتکارے جانےکے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بنی آدم کو ہر پہلو سے بہکانے اور راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کرے گااور انہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے کر جائے گا۔یہ اللہ عزوجل کا انسانوں پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے نہ صرف انہیں شیطانوں کی انسان دشمنی سے  آگاہ کیا ہے بلکہ اس سے بچاؤ کے طریقے بھی بتلا دیئے  جو کتاب و سنت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں شیطان کے حوالے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب” شیطان کی تاریخ، مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں تصور شیطان کا تحقیقی جائزہ “محترم پال کیرس اور یاسر جواد صاحبان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انہی تصورات کی تاریخ بیان کی ہے۔یہ کتاب مختلف مذاہب وتہذیبوں میں شیطان کی تاریخ کے حوالے سے ایک شاندار اور زبر دست کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو شیطان کے شر سے بچائے اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری والی زندگی گزارنے کی توفیق دے ۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 5
باب 1 شیطان پرستی 11
باب 2 قدیم مصر 18
باب 3 عکاد اور ابتدائی سامی 28
باب 4 فارسی ثنائیت 41
باب 5 اسرائیل 48
باب 6 برہمن مت اور ہندو مت 54
باب 7 بدھ مت 71
باب 8 نئے عہد کی ابتدا 81
باب 9 ابتدائی عیسائیت 88
باب 10 یونان و روم کا تصور نجات 97
باب 11 شمالی یورپ کی شیطان پرستی 118
باب 12 شیطان کا عروج 126
باب 13 عدالت احتساب اور کافر 142
باب 14 عہد اصلاح 155
باب 15 خیر اور شر کا فلسفیانہ مسئلہ 165
باب 16 اسلام کا ابلیس اور جن 172
باب 17 جدید شیطان 200

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ تاریخ اسلام حج روح شعر نبوت

شاہنامہ اسلام جلد اول

شاہنامہ اسلام جلد اول

 

مصنف : حفیظ جالندھری

 

صفحات: 233

 

ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی موصوف ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ زیر نظر کتاب ’’ شاہنامہ اسلام‘‘ ہے ۔ اس  میں    انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔یہ کتاب  اسلام کی منظوم  تاریخ ہے اس کتاب کا بیشتر حصہ  اس عہد عہد زریں سےتعلق رکھتا  ہے جب اسلام کےہادی اعظم اپنے جمالِ جہاں آراسے دنیا کو نورانی کررہے تھے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریب: شیخ عبد القادر صاحب کے قلم سے 15
حمد 25
نعت 26
سبب تالیف 27
مشکلات 28
مزار قطب الدین ایبک 29
ضمیر کی آواز 33
مناجات 35
باب اول۔آغاز
خلافت انسانی اور کائنات کے اندیشے 37
صدائے روح الامین 38
افزائش نسل آدم اور ابلیس کا مکرو فریب 40
نور احمدی 41
ابراہیم خلیل اللہ 42
حضرت ابراہیم کی ہجرت 43
حضرت ابراہیم کا عقد ثانی 44
فرعون مصر کی بیٹی حضرت ہاجرہ 44
حضرت اسماعیل کی ولادت اور ماں بیٹے کی ہجرت 45
حضرت ابراہیم کی دعا 46
وادی غیر ذی زرع میں ماں بیٹے کی تنہائی 47
قبیلہ بنی جرہم کو پانی کی تلاش 49
کنعان میں حضرت اسحاق کی ولادت 49
حضرت ابراہیم کا پھر عرب میں آنا 50
حضرت اسمعیل کی قربانی 51
تعمیر خانہ کعبہ 53
اولین حج اکبر 56
باب دوم۔ حضرت ابراہیم کی وفات کے بعد
اسماعیل اور اسحاق کی اولادیں 57
بنی اسرائیل 58
عرب میں اسماعیل کے پھلنے پھولنے کا بیان 63
انقلابات عالم اور عرب 64
مکے پر یمن والوں کا حملہ اول 64
قریش کی مدافعت 66
عرب میں زمانہ جاہلیت 68
بازار عکاظ 71
جاہلیت کی عبادت 73
شاعری کے برے پہلو 74
میلے میں جنگ کا آغاز 77
اس عہد میں دنیا بھر کی عام حالت 79
ہندوستان چین ایران یورپ شہر پومپی آئی کی آخری رات 81
یورپ عیسائی ہوجانے کے بعد 83
یہودیوں کی عام حالت 84
ساقی نامہ 86
باب سوم۔پیغمبر آخر الزمان کی ولادت سے قبل کا زمانہ
غلبہ باطل او رشیطان کا غرور 88
پیغمبر آخر الزمان کے والد عبداللہ 89
بنت مر انحثعمیہ اور شیطان 90
سردار عبد اللہ کی پاکیزگی 92
شیطان اور یہودی 93
سردار عبد اللہ پر یہودیوں کا حملہ 97
پانچ شیطان ایک بندہ رحمان 98
وہب بن عبد مناف والد سید ہ آمنہ 99
سردار عبد اللہ کا انتقال 101
اصحاب فیل کا بیان 102
مشرکین مکہ کا فرار 103
سردار عبد المطلب اور ااشرم کی گفتگو 104
اصحاب فیل کے حملے کی صبح 105
ہاتھی سجدے میں 106
اصحاب فیل کا کفر 107
باب چہارم: ختم المرسلین رحمۃ للعالمین
ولادت با سعادت 109
سلام 114
آنحضرت کے دادا عبد المطلب کو خبر ملتی ہے 117
کعبہ مقصود عالم کا طواف کعبہ 118
عرب کی دودھ پلائیاں 118
حلیمہ سعیدیہ کی غریبی 120
آنحضرت کے بچپن کی برکات 123
یتیم مکہ صحرائی گھڑ کی طرف 124
بیابیان پر ابر رحمت کا سایا 125
رضاعت سے بعثت تک کا بیان 126
منصف کا اعتراف عجز 134
باب پنجم: آفتاب ہدایت کا طلوع
مقصد شریعت مظلوم دنیا کی دعائیں 135
اقرا 136
صدیقؓ کا ایمان 137
السابقین الاولین 138
مشرکین کا غیظ وغضب 141
ابو لہب بن عبد المطلب کا کفر 142
اکابر قریش کی ابو طالب کو دھمکی 146
چچا کی فہمائش 147
ابو طالب کا تاثر 148
عتبہ کی گفتگو 150
عتبہ کی حیرت 152
حضرت عمرؓ کا ایمان 158
عمرؓ آستانہ نبوت پر 159
حضرت عمر ؓ کی شان ایمان 160
ہجرت حبشہ 160
نجاشی راہ ہدات پر 166
نجاشی کا تہیہ 166
باب ششم: ہجرت نبوی
مسلمانان مکہ کی ہجرت یثرب 181
مشرکین مکہ کے ارادے 182
مشاورت قتل 182
ہجرت کی رات 184
غار ثور 186
سحر کا نور خندہ زان تھا باطل کی طاقت پر 187
عرب کی دھوپ 190
سراقہ بن مالک ابن جعثم کا تعاقب 191
قبا میں ورود مسعود الاانتظار الانتظار 195
قافلہ نبوت شہر یثرب کی طرف 197
نبیﷺ ابنے مدینہ میں 197
شوق میزبانی 199
دار الامان مدینہ 200
باب ہفتم: مدینے پر جنگ کے بادل
قریش کا جوش غضب 202
قریش کی دھمکی 203
عبد اللہ بن ابی منافق 204
مدینے کے بد باطن یہوید 205
قریش مکہ کی غارت گری 206
اذن جہاد 207
شرط جہاد 209
قریش کی دوسری دھمکی 209
شرارت 212
مشرکین میں اشتعال کی چال 212
ابو جہل کی آتش افروزی 213
قریش مکہ کی چڑھائی 215
آگ لگا کر ابو سفیان مکے پہنچ گیا 216
ابو جہل کا جواب ابو سفیان کے قاصد کو 218
صورت حالات کی نزاکت نبی صلعم کا مشورہ صحابہ 202
مہاجرین کا مشورہ 222
انصار کا جوش ایمان 223
وعدہ نصرت الہٰی 224
مجاہدین اسلام جہاد کے رستے پر 225
کفار کا ڈیرا میدان بدر میں 226
ابو جہل کا غرور 227
مسلمانوں کی کمزور جماعت 229
قطعہ تاریخ 230

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت طلاق نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادیاں ناکام کیوں؟

شادیاں ناکام کیوں؟

 

مصنف : ابو یاسر

 

صفحات: 131

 

شادی مشرقی و اسلامی گھرانے کی ایک ایسی رسم ہے جسے معاشرے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔اس کی اساس پر ایک نئے گھر  اور خاندان کا آغاز ہوتا ہے۔اس میں کامیابی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے  کی ضمانت ہے اور اس میں ناکامی معاشرتی تباہی کو مستوجب  ہے۔مغرب اور اہل یورپ کی شادیوں کی  ناکامی کی وجہ تو واضح ہے کہ  ان لوگوں نے ایک جداگانہ معاشرتی نظام  ترتیب دیا ہے اور الگ طور پر فلسفہ حیات تشکیل دیا ہے۔لیکن اہل مشرق یا اسلامی گھرانوں میں شادیوں کی ناکامی  عام طور پر یہ ہے کہ  لوگوں میں غلط رسومات نے جنم لے لیا ہے۔ان رسومات کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل  شادیوں سے پہلے  ہی ہو جاتے ہیں اور ایسے ہی بہت زیادہ بعد میں ہو جاتے ہیں۔مثلا  کثیر جہیز کی طلب، زیادہ حق مہر متعین کروانا اور شادی میں ضد کی وجہ سے بے دریغ مال خرچ کرنا وغیرہ  ۔ اسی طرح شوہر اور بیوی کے درمیان رویوں کی وجہ سے باہمی بے اعتمادی یا تعلقات میں سرد مہر ی پیدا ہو جانا  وغیرہ۔زیرنظر کتاب میں مصنف نے معاشرتی اصلاح کی خاطر انہی رویوں  اور مسائل کی طرف نشاندہی کی ہے۔
 

عناوین صفحہ نمبر
شادی کا حکم اور اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں 11
کیسی عورت سے شادی کرنی چاہیے 13
دیندار عورت سے شادی کی جائے 14
بدصورت عورت نیک سیرتی کی وجہ سے مرد کی جنت بن گئی 15
بے دین عورت خاوند کے لیے جہنم بن گئی 20
باپ سے دعا کرنے والی بیٹی کو شاہ پور نے قتل کر ڈالا 23
محبت سے پیش آنے والی عورت سے شادی 25
منگیتر کو پہلے دیکھ لینا چاہیے 26
نکاح میں ولی کی اجازت ضروری 26
اولاد ایک عظیم میٹھا پھل ہے 27
نجومی نے اولاد پیدا کرنے کے لیے لڑکے کو عورت سے قتل کرایا 28
نجومیوں کی تلسیوں کے باوجود اولاد نہ مل سکی 30
حق مہر کتنا ہونا چاہیے 31
حق کی مقدار کا فیصلہ ہوتا ہے 35
طے شدہ مہر دینے سےانکار 37
ولیمہ کتنا ہونا چاہیے 39
بیوی کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے 42
عورتوں سے حسن سلوک اوران کے خرچ کا ذمہ دار کون؟ 44
ہماری شادیاں ناکام کیوں ہیں؟
ایک ضروری وضاحت 50
بیوی پر خاوند کا کس قدر حق ہے 58
خواتین کی اکثریت جہنمی کیوں؟ 58
بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے کے کامیاب اسلوب
کئی بیویوں والا خاوند کیا کرے 64
جہیز کی تباہ کاریاں
اگر جہیز کی رسم چلتی رہے تو 69
کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ کو جہیز دیا تھا 70
جہیز ایک رشوت ہے 73
جہیز کی خواہش مند عورت پر کیا کیا ظلم کرتے ہیں 74
شادی کے موقع پر بارات کا خرچہ کون کرے گا 77
عورت ایک عظیم نعمت 78
بیٹی کو جہیز دیا جاتا ہے اور وراثت سےمحروم کیا جاتا ہے 81
جہیز کے بے شمار نقصانات 83
جہیز کے شرعی اور اخلاقی چند نقصانات
مروجہ جہیز کی شرعی حیثیت 93
کیا حضور ﷺ نے اپنی بیٹیوں کو جہیز دیا تھا؟ 93
اب اسلام آباد سے آنے والا خط ملاحظہ فرمائیے 96
شادی کرنا جرم ہے یا جہیز ؟ 100
سادگی سے شادی کرنے کی چند مثالیں
عبدالرحمن بن عوف کی شادی کا نبی ﷺ کو علم نہ ہوا 106
عائشہ ؓ کی شادی کتنی سادی تھی 107
حضرت صفیہ ؓ کی شادی 108
جہیز نہ ملنے کی وجہ سے بھانجے نے ماموں کی بیٹی کو طلاق دیدی 110
اور وہ دلہن نہ بن سکی ! ایک حیرت انگیز اور رلا دینے ….؟ 111
دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہ کرنے والی عورت کی …. 124
مسلمان سیرت نبوی کی بجائے غیر مسلموں کی نقالی کرتا ہے 125

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ زبان سیرت سیرت النبی ﷺ محدثین یہودیت

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 1

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 1

 

مصنف : علامہ شبلی نعمانی

 

صفحات: 412

 

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں سیرت کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر تبصرہ نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، آیات قرآنیہ ، احادیث اورروایات کی مکمل تخریج،آیات واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم اللہ نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)

عناوین ` صفحہ نمبر
فہر ست مضا مین سیر ۃ النبی ﷺ حصہ اول
مضا مین
عر ض ناشر 22
دیبا چہ طبع چہارم 24
دیبا چہ طبع دوم 27
دیبا چہ اول 28
سر نامہ 30
                                               مقد مہ ( فن روایت) 31
سرت بنوی ﷺ کی تالیف کی ضرورت 31
پیغمبرو ں پر ا ٓنحضرت ﷺ کی تار یخی فضیلت 31
سیر ت کی ضرور ت علمی حیثیت سے 33
علم کلام کی حیثیت سے سیر ت کی ضرورت 34
سیر ت اور حدیث کا فر ق 35
فن سیرت کی ابتدا اور تحریر ی سرما یہ 37
آ نحضرت ﷺ کے زما نہ کی تحریر یں 39
مغازی 40
تصنیف وتا لیف کی ابتدا ،سلطنت کی وجہ سے ہو ئی 42
حضر ت عا ئشہ ؓ کی روا یتیں 43
مغا زی پر خا ص تو جہ 43
امام زہر ی اورفن سیرت 43
امام زہر ی کے تلا مذہ 43
مو سی بن عقبہ اور سیرت 44
محمد بن اسحاق اور سیرت 44
ابن ہشام اور سیرت 45
ابن سعداد اور سیرت 45
امام بخاری اور سیرت 46
امام طبری اور سیرت 47
ٍفہرست متقد مین علما ئے سیرت 47
فہرست متا خرین علما ئے سیرت 52
صحت ما خذ 54
اسلامی فن تا ریخ کا پہلا اصول فن روایت 55
اسما الر جال کی تد وین 55
اسما الرجا ل کی پیش نظر کتا بیں 56
تحقیق روایت کا ا صول ،قرا ٓ ن و حدیث میں 57
دوسرا ا صو ل : درایت 57
درایت کی ابتدا 57
محد ثین کے ا صول درایت 58
روایت کے ا صول 59
مو ضو ع حد یثو ں کے شنا خت کے اصول 60
تبصرہ (فن سیرت پر ) 62
امہتا ب کتب سیرت 62
کتب حدیث وسیرت میں فر ق مراتب 63
فن سیرت میں محدثین کی مسا خت 63
تصا نیف سیرت میں کتب ا حا دیث کی طر ف
سے بے اعتنا ئی 66
مصنفین سیرت کی تد یس 66
اصول روایت سے ہر جگہ کا م نہیں لیا گیا 67
رواۃ میں اختلا ف مرا تب 67
تما م صحا بہ کے عددل ہونے کی بحث 67
واقعات میں سلسلہ علت و معلو ل نہیں قائم کیا گیا 68
نو عیت واقعہ کے لحا ظ سے شہادت کا معیار نہیں قا ئم کیا گیا 68
کم سن را ویو ں کی روایت 69
راویوں میں فقا ہت کی شرط 70
روایت میں قیا س کا کس قدر حصہ شامل ہے 72
جن تار یخ و روایت پر خار جی اسباب کا ا ثر 73
قیاس روایت 75
صحا بہ میں دو گر وہ 76
محدثین اور درایت حد یث 78
روایت با لمعنی 81
روایت ا حا د 82
نتا ئج مبا حث مذ کورہ 84
یور پین تصنیفا ت سیر ت پر 85
یور پ کی پیغمبر اسلام سے ابتدائی واقفیت 85
ستر ہو یں اور ا ٹھا ر ہو یں صد ی 86
اخیرا ٹھا ر ہو یں صدی 87
مصنفین یورپ کی تین قسمیں 90
یور پین مصنفین کی غلط کا ریوں کے اسباب 91
یو رپین تصنیفات کے ا صول مشتر کہ 93
اس کتاب کی تصنیف و تر تیب کے ا صول 93
کتا ب کے حصے 94
استنا د اور حوالے 95
عرب (تاریخ عرب قبل اسلام ) 96
وجہ تسمیہ 96
جغرافیہ 96
قدیم تار یخ کے ما خذ 97
عر ب کے اقوام و قبا ئل 98
بنو قحطان 98
عرب کی قدیم حکو متیں 99
تہذیب و تمد ن 101
عرب کے مذ اہب 104
اللہ کا ا عتقا د 106
نصرا نیت اور یہودیت اور مجو سیت 107
مذ حنیفی 107
کیا عرب میں ان مذاہب نے کچھ ا صلا ح کی 109
سلسلہ اسما عیلی 111
حضرت اسما عیل ؑ کہا ں ا ٓ با د ہو ئے ؟ 111
ذ بیح کو ن ہے ؟ 114
مقا م قربانی 117
قربا نی کی یاد گار 119
قربا نی کی حقیقت 121
مکہ معظمہ 124
خا نہ کعبہ کی تعمیر 126
حضر ت اسما عیل ؑ کی قربا نی 128
محمد رسول ﷺ سلسلہ نسب 130
سلسلہ نسب 130
سلسلہ نسب نبو یﷺ کی تحقیق 130
بنائے خا ندان قر یش 131
قصی 132
ہاشم 133
عبد المطلب 134
عبداللہ 134
آمنہ 134
ظہورقد سی 136
ولادت 136
تار یخ ولادت 136
ر ضا عت 137
ثوبیہ 137
حضر حلیمہ ؓ 137
آنحضرت ﷺ کے ر ضا عی با پ، حضر ف
حارث 138
ر ضا عی بھا ئی بہن 139
مدنیہ کاسفر اور حضرت آ منہ کی و فات 139
عبدالمطلب کی کفالت 139
ابو طالب کی کفا لت 140
شام کا سفر 140
بحیر اراہب کی قصہ 141
اس قصہ کی تنقید 141
حرب فجا ز کی شرکت 143
حلف الفضو ل 143
تعمیر کعبہ 144
شغل تجارت 145
تزو یج یجہ 146
جستہ جستہ واقعات (قبل نبو ت ) 147
حدود سفر ( قبل نبو ت) 147
مراسم شر ک سے اجتناب 148
مو حد ین کی ملا قات 150
قس بن سا عدہ کے قصہ کی تنقید 150
ٍاحباب خا ص (قبل بنو ت) 152
ا ٓفتا ب رسلا ت کا طلو ع 154
مراسم جا ہلیت اور لہو ولعب سے فطری اجتناب 154
غار حرا میں عبادت 155
یہ عباد ت کیا تھی؟ 155
رویائے صادقہ سے بنو ت کا آ غاز 155
فر شتہ کا پہلی نظرا ٓ نا 155
ورقہ بن نوفل کے پاس جا تا اور اس کا تسکین دینا 156
وحی کا کچھ دن کے لے رک جا نا 156
ورقہ کے تسکین دینے کی روایت کی تنقید 156
دعوت اسلام کا آ غاز 157
تین سال تک دعوت ا خفا 158
سب سے پہلے جو لو گ اسلام لا ئے 158
حضر ف ابوبکر ؓ کا اسلام 158
ان کے اسلام لا نے کا دیگر معززین قریش پر
اثر 158
اسلام کیو ں کر پھیلا 158
پہلا سبب 159
دوسرا سبب 159
تیسراسبب 160
دعوت کا اعلان قریش کے سامنے کو ہ صفا ہر 160
آپ کی سب سے پہلی تقریر 160
قریش کی مخالفت اور اس کے اسباب 161
پہلا سبب 162
دوسرا سبب 163
تیسرا سبب 164
چوتھا سبب 164
پا نچو ا ں سبب 165
قریش کے تحمل کے اسباب 166
ابو طالب کی نصیحت اورآنحضرت ﷺ کا جواب 167
ا ٓ نحضر ت ﷺ کی ایذ ار سانی 167
عتبہ کی ا ٓپ ﷺ سے درخواست اور آ پ کا جواب 167
حضرت حمزہ اور حضر ت عمر ؓ کا سلام
بنوی 168
تعذیب مسلمین 171
مسلما نو  ں پر ظلم کے طریقے 171
بلا کشان اسلام 172
مسلما نو ں کے استقلال اور وفاداری کی تعریف
ایک عیسائی کے قلم سے 174
ہجر ت حبش (۵نبوٰی؁) 174
اس ہجرت کا فا ئدہ 174
مہاجرین حبش 175
قریش کے سفار ت نجاشی کے پاس 176
دربار میں حضرت جعفر ؓ  کی تقریر اور اس کا ا ثر 177
مسلمانو ں کی وفاداری نجاشی کے ساتھ 178
مہاجرین حبش کی واپسی 179
تلک الغرا نیق العلی کی بحث 179
اہل مکہ کی ایذا رسا نی 180
حضر ت ابو بکر ؓ کا ارادہ ہجر ت 181
شعب ابی طالب میں محصور ہونا (محرم ۷نبوی ) 181
محا صرہ سے آزادی 182
۱۰؁ نبوی ، حضرت خدیجہ ؓ اور ابو طالب کی وفات 183
ا ٓنحضرت کا آپ ﷺ کو اپنی پنا میں لینا 185
قبائل کا دورہ 186
قریش کا آپ ﷺ کو ایذ ارسانی 187
مسلمانو ں کا گھبرا نا اور آ پﷺکا تسلی دینا 189
مد ینہ منورہ اور انصار 190
انصار کی قد یم تاریخ 190
اہل مدینہ کی ا ٓ نحضر ت سے پہلی ملا قات 191
انصار کے اسلام کی ابتدا ۱۰؁ نبوی 192
بیعت عقبہ ثانیہ  ۱۲نبو ی 193
نقبا ئے انصار 194
صحابہ ؓ کی ہجرت مدینہ 195
ہجرت  ۱ ؁ 196
ا ٓپ ﷺ کے قتل کےمشورے 196
حضر ت علی ؓ کو اما نتیں سپر د کرنا اور ان کو بستر پر لٹانا 197
کفار کا محا صرہ اور ناکامی 197
ہجر ت مدینہ 197
حضر ت ابو بکر ؓ کی معیت 197
غارثور میں چھپنا اور کفار کا تعاقب 197
بعض روایتوں کی تنقید 198
مدینہ کی طر ف کو چ اور راستہ کا حال 198
قریش کا آپ ﷺ کی گر فتا ری کے لیے اشتہار 199
سراقہ بن جعشم کا واقعہ 199
آپ ﷺ کی آ مد کی خبر مدینہ میں پہنچنا 199
اہل مدینہ کا جو ش مسرت اور سامان استقبال 199
قبا میں نزول 200

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
11.7 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam سیرت سیرت النبی ﷺ

سیرۃ المزمل ﷺ جلد 20 ( میراث المزمل ﷺ )

سیرۃ المزمل ﷺ جلد 20 ( میراث المزمل ﷺ )

 

مصنف : افتخار احمد افتخار

 

صفحات: 615

 

سیرت  النبی ﷺکا موضوع گلشن سدابہار کی طرح   ہے ۔اس  موضوع پر ہرنئی تحقیق قوس قزح کےہر رنگ کو سمیٹتی اور  نکھارتی نظر آتی ہے۔ سیرت طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر وہ مسلمان  جو قلم اٹھانےکی سکت رکھتاہو،اس  موضوع پر لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ ہر قلم کار اس موضوع  کو ایک نیا اسلوب دیتا ہے،اور قارئین  کو رسول اللہﷺ کی  زندگی  کے ایک  نئے باب  سے  متعارف کرواتا ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت  محمد ﷺ ہی اللہ  تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل  ترین ہستی ہیں جن کی زندگی  اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل  رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔ پورے عالمِ اسلام  میں  سیرت  النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا  جاتاہے   جس میں  مختلف اہل علم  اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’سیرۃ المزمل ﷺ‘‘ جناب افتخار احمد افتخار  کی    سیرت النبیﷺ  پرایک  منفرد کاوش ہے ۔ جوکہ  20؍ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے   کتاب کا عنوان ’’ سیرۃ المزمل ‘‘ ہے  لیکن  مصنف نےہر  جلد کا الگ عنوان بھی قائم کیا ہے  تمام جلدوں کے عنوانات حسب ذیل ہیں ۔

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف چند 5
نوائےعصر ( مقدمہ ) 16
علم کی ماہیت 28
علم کے ارتقائی مراحل 37
علم کا فلسفیانہ مزاج 48
علم کا صوفیانہ امتزاج 57
علم کا جاہلی تصور 87
علم کااسلامی تصور 96
علم حقیقت ،علم مجاز 117
اوراق پارینہ 132
یلغار حق 138
قیصر وکسریٰ 144
زرم گاہ حق و باطل 147
خاک فارس 174
مسلمانوں کی سیاسی رفعت 191
مسلمان یورپ میں 195
میراث علم وحکمت 198
مسلمان اور سائنس 236
وراثت علم کےچند نشان 249
علم کیمیا 251
علم طبیعات 270
علم ریاضی 296
علم ریاضی اور مسلمان 303
علم طب اورمسلمان 320
مسلمان اطباء کے کارنامے 337
علوم عالم اور مسلمان 357
فلکیات 360
ارضیات 370
میکانیات 376
تاریخ 381
فلسفہ 391
ادب 399
زوال امت کا نوحہ 404
مسلمان کی سیاسی بساط 412
مغرب میں بیداری کی لہر 421
میراث علم کاانتقال 434
تین شیطان ،ایک بیان 446
چارلس ڈارون 455
ڈارون کانظریہ ارتقاء اور اسلام 469
سگمنڈ فرائیڈ 475
فرائیڈ کے نظریات پہ نقد 484
کارل مارکس اور لادینی مادہ پرستی 496
نظریہ اشتراکیت 505
لینن اور اشتراکی انقلاب 510
اسلام اور اشتراکیت 520
تہذیبوں کاتصادم 539
ٹوٹتے حرف،لرزے اشک 549
اشاریہ 556
ماخذ و مصادر ومراجع 573
اختتام 613

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2

Categories
Islam اسلام زبان سیکولرازم

سیکولرازم ایک تعارف

سیکولرازم ایک تعارف

 

مصنف : ڈاکٹر شاہد فریاد

 

صفحات: 226

 

سیکولرزم (Secularism)انگلش زبان کا لفظ ہے۔   جس کامطلب’لادینیت‘‘ یا ’’دُنیویت‘‘ ہے  اور یہ ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے آخرت کے بجائے اکیلی دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیکولرازم محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک سوچ، فکر، نظریہ اور نظام کا نام ہے۔ مغربی مفکروں، دانشوروں، ادیبوں، فلسفیوں اور ماہرینِ عمرانیات کے مابین سیکولرازم کے مباحث میں مختلف النوع افکار و خیالات پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیکولرازم کا کوئی ایک رنگ نہیں، یا اس کا کوئی ایک ہی ایڈیشن نہیں۔ یہ کبھی یکسر مذہب کا انکار کرتا ہے اور کبھی جزوی اقرار۔انفرادی سطح پر مذہب کو قبول کرنا اور اجتماعی (معاشی، سیاسی اور ریاستی) سطح پر اسے رد کردینا سیکولرازم کا جدید اسلوب ہے۔  دراصل ’سیکولرازم‘ مغرب کا تجربہ ہے جسے مغربی معاشروں نے صدیوں کی کشمکش کے بعد اختیار کیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’سیکولرازم‘‘ جناب ڈاکٹر شاہد فریاد  صاحب  کی تصنیف ہے ۔اس کتاب  میں  فاضل مصنف نے انسانیت کو ’سیکولرازم‘ کا اصل چہرہ دکھایا  ہے ،اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اس نظریے کو وجود میں لانے کے اغراض و مقاصد کیا تھے؟ اور اس کے دنیا پر کیا اثرات رونما ہوئے؟ مصنف  نےاس کتاب  چارابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں سیکولرازم کی تعریف اور اس کے معنیٰ و مفہوم کی وسعت جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں۔باب دوم میں سیکولرازم کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے کہ کس طرح مذہبی معاشرے میں تبدیلی آئی اور اہلِ مغرب کے نظریات بدلے، عقلیت پسندی اور تجربیت پسندی نے مغربی معاشرے کو سیکولر نظام کا حصہ بنایا۔باب سوم میں سیکولرازم کی فکری اور نظریاتی بنیادیں زیربحث آئی ہیں۔ اس باب میں اُن مفکرین، دانشوروں، فلاسفہ اور ان تحریکوں کا تعارف کروایا گیا ہے جنہوں نے مذہب سے متعلق شک و ریب پیدا کیا اور آخر یورپ و مغرب کے روایتی و مذہبی معاشرے میں سیکولرازم کا غلبہ ہوا۔باب چہارم میں اسلام اور سیکولرازم کا تقابل اور موازنہ کیا گیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
تمہید 9
فصل اول:لغوی واصطلاحی معنی 11
سیکولر 11
فصل دوم: سیکولرازم کامفہوم وسعت دائرہ کار 16
سیکوارلرازم 16
سیکولرازم کےمفہوم میں ختلاف کاسبب 17
سیکولرازم کی اصطلاح کاموجد 17
سیکولرازم کامفہوم 19
لادینی بنانےکاعمل 25
سکولرسائٹی 27
سیکولرازم کی وسعت اوردائرہ کار 27
معاشرت نظام 28
سیاسی نظام 29
تعلیمی نظام 31
حاصل بحث 32
باب دوم:سیکولرازم تاریخی تناظرمیں
تمہید 34
فصل اول:یورپ کاروایتی معاشرہ 36
انسانی زندگی کی میں مذہب کی ضرورت واہمیت 36
مذہبی ڈھانچہ 38
معاشرتی ڈھانچہ 40
گلڈکانظام 40
روایتی معاشرہ اورجاگیردارانہ نظام 41
تعلیمی ڈھانچہ 42
روایتی معاشرےکاتعلیمی نظام 42
اخلاقی نظام 43
روایتی معاشرہ اورجدیدسائنسی علوم 44
حاصل بحث 47
فصل دوم:مذہب اورعقلیت پسندی 49
عقل اوراسکی حدود/دائرہ کار 50
عقلیت پسندی کاعہد 51
ذی عقل 52
عقلیت پسندی 53
ذی عقل بنانےکاعمل 55
عقلیت پسندی کےخلاف ردعمل 56
ڈیکارٹ 57
فلسفہ تشکیک اورڈیکارٹ 58
بارخ اسپنوزا 59
اسپنوزاکےافکارخیالات 61
لائیسننر 62
عقلیت پسندی کےاثرات 63
عقلیت پسندی اورمذہب 64
خداشناسی 65
عقلیت پسندی اورسیکولرازم 67
تحریک تنویر 67
تحریک تنویراورمذہب 69
حاصل کلام 71
فصل سوم:مذہب اورتجربیت پسندی 73
تجربیت پسندی 74
تجربیت پسندی کاپس منظر 76
جان لاک 78
جارج برکلے 80
تشکیکیت اوربرکلے 81
ڈیوڈہوم 82
افادیت پسندی 84
تجربیت پسندی کےاثرات 85
تجربیت پسندی عقلیت پسندی اورمابعداطبعیانی امور 86
فصل چہارم: مذہب اورسیکولرازم 89
سیکولرازم میں مذہب کی حیثیت 92
عیسائیت اہل کلیسااورسیکولرازم 96
حاصل بحث 98
باب سوم:سیکولرازم اوراسکی نظریاتی بنیادیں
تمہید 100
فصل اول:نشاۃ ثانیہ اوراس کی مفکرین 102
ہیومنزم 105
نشاۃ ثانیہ کی علمی اورفکری خصوصیات 108
پیٹراک 111
جیووانی بوکیسیو 113
نشاۃ ثانیہ کےاثرات 115
فصل دوم:تحریک اصلاح اورعیسائیت 118
تحریک اصلاح 118
پروٹسنٹ اورتحریک اصلاح 120
تحریک اصلاح کےوجودمیں آنےکےاسباب 123
تحریک اصلاح کےاصول ضوابط 124
تحریک اصلاح اروسیکولرازم 127
تحریک اصلاح کےاثرات 129
فصل سوم:فرانسیسی انقلاب اوراسکےمفکرین 132

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلام اور سائنس

سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات

سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات

 

مصنف : حافظ زاہد علی

 

صفحات: 203

 

سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ محض غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب” سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات ” محترم حافظ زاہد علی صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاور آخر میں  ابن الہیثم،البیرونی،بو علی سینا ،الکندی،الفارابی اور الخوارزمی سمیت متعدد مسلمان سائنس دانوں کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
سائنسی ترقی میں اسلام اور امسلمانوں کی خدمات 11
پیش لفظ 11
سائنسی ترقی میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمات 13
قرآن حکیم کائنات اور نظام کائنات کا امین ہے 14
قرآنی تقاضا ہے کہ انسان مظاہر کائنات پر غور کرے 15
سائنسی ترقی کا عروج 16
نظام تخلیق 18
نظام تسویہ 22
نظام تقدیر 24
نظام ہدایت 26
اہل یورپ پر رہبانیت کا غلبہ 36
تمام علوم کی بنیاد مسلمان ہی ہیں 40
یورپ میں اسلامی علوم کیسے پہنچے 45
قدیم نظریات کا ابطال 54
یورپ پر سائنس کے اثرات 73
روحانی اقدار کی تباہی 83
مغربی نظام تعلیم پر تنقید 92
مذہب اور سائنس 107
ابو علی محمد الحسن ابن الہیثم 119
الفارابی ابو نصر محمد بن محمد بن طرخان بن وازیلغ 122
ابو علی حسین ابن عبداللہ سینا 126
ابوبکر محمد ابن یحیٰ ابن ماجہ 133
ابوبکر محمد عبد الملک ابن طفیل القیسی 137
ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن رشد 150
عباس ابن فرناس 160
ثابت ابن قرہ 171
جعفر بن محمد ابو معشر البلخی 184
البیرونی ابو الریحان محمد بن احمد 187
الکندی 194
فہرس المراجع 198

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6 MB ڈاؤن لوڈ سائز