Categories
Islam اسلام اہل تشیع نبوت

شیعیت کا آپریشن

شیعیت کا آپریشن

 

مصنف : محمود اقبال

 

صفحات: 161

 

نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ” شیعیت کا آپریشن ” محترم محمود اقبال  کی تصنیف  ہے۔جس میں انہوں نے شیعہ کے عقائد ونظریات کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ ان کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر  کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس قدیم فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مؤلف 11
قارئین کی خدمت میں گزارش 12
تعارف 14
مسئلہ کا تاریخی پس منظر 16
ضروری التماس 18
مقدمہ 21
باب اول 23۔ 31
موجودہ ملکی حالات ۔ اور اس کا ذمہ دار کون ؟ 23
کیا آپ کو معلوم ہے کہ …. 25
فیصلہ آپ کریں 30
باب دوم 32۔ 38
مذہب شیعہ کے چند بنیادی عقائد 32
عقائد شیعہ 34
قرآن مجید محرف ہے 34
متعہ 35
صحابہ کرام پر تبرا 36
ملائکہ پر ایمان 37
شیعہ حضرات کا کلمہ 38
باب سوم ( حصہ اول ) 39۔ 45
خمینی کے غلیظ نظریات 39
آئمہ کرام کے بارے میں خمینی کےعقائد 40
آئمہ سہو اور غفلت سےمحفوظ اور قزہ ہیں 42
خمینی اپنی کتاب کشف الاسرار کے آئینہ میں 43
حضرت عثمان ذو النورین کے بارے میں خمینی کا عقیدہ 44
باب ( حصہ دوم ) 46۔ 66
امامت 46
اماموں کو پہچاننا اور ماننا شرط ایمان ہے 50
امامت اور اماموں پر ایمان لانے کا اور اس کی تبلیغ کاحکم سب پیغمبروں 51
اماموں کی اطاعت فرض ہے 53
آئمہ کی اطاعت رسولوں ہی کی طرح فرض ہے 55
آئمہ ابنیاء ﷩ کی طرح معصوم ہوتے ہیں 56
امامت کا درجہ نبوت سے بالاتر ہے 58
امير المومنين كا ارشاد كہ تمام فرشتوں اور تمام پیغمبروں نے میرے لیے اسی طرح قرار کیا جس طرح محمدؐ نے کیا تھا اور میں ہی لوگوں کو جنت اور دوزخ میں بھیجتے والا ہوں ۔ 60
آئمہ کو ماکان وما یکون کا علم حاصل تھا اور وہ علم میں حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر سے بھی فائق تھے 61
آئمہ کے پاس فرشتوں کی آمدو رفت رہتی ہے 62

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل تشیع خلفاء راشدین سنت

شیعہ مذہب کی حقیقت

شیعہ مذہب کی حقیقت

 

مصنف : علامہ احسان الہی ظہیر

 

صفحات: 114

 

نظامِ قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، اس فرقہ کی تین قسمیں ہیں غالیہ،زیدیہ، رافضہ اور ہر ایک کے مختلف فرقے ہیں ۔شیعہ فرق کے باطل    عقائد، افکار   ونظریات  کو ہر دور  میں علمائے حق نے آشکار کیا ہے ۔  ماضی قریب میں  فرق ضالہ کے ردّ میں شہید  ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تقریر ی وتحریری، دعوتی  وتبلیغی  اور تنظیمی  خدمات کو  قبول فرمائے اوران کی  مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس  عطا کرے۔ زیر نظر  کتاب’’شیعہ مذہب کی حقیقیت‘‘ شیعہ کے عقائد ونظریات سےمتعلق   علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی کچھ تحریروں کی تلخیص ہے ۔اس میں  صرف کتبِ شیعہ  کی مندرجات  ہی کودلیل میں پیش کیا گیا ہے  اور ہر نص وعبارت کا حوالہ شیعہ  ہی کی مستند ومعتبر کتابوں سے دیا گیا ہے ۔محترم جناب مولانا حافظ عبد اللطیف اثری﷾ نے تلخیص وترتیب کا فریضہ انجام دیا ہے۔مرتب  موصوف نے  موضوع سے متعلق کچھ مفید باتوں کو یکجا کردیا ہے۔البتہ کچھ حوالہ جات عربی ،عبارات اور توضیحات کا ا ضافہ کیا  ہے ۔ نیز موجود حالات  کےتناظر میں جن باتوں کی ضرورت نہیں تھی اسے حذف کردیا  ہے۔اللہ تعالیٰ   مرتب وناشر کی  جہود کو قبول فرمائے  (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف مرتب 5
شیعیت کا آغاز 7
اسلامی عقائد کی دیوار میں سب سے پہلےنقب لگانے والا 7
حضرت عثمان ؓ کی شہادت میں کس کا ہاتھ تھا؟ 12
عبد اللہ بن سبا کون تھا؟ 17
عبد اللہ بن سبا کا مفسدانہ رول 18
عقیدہ ولایت ووصایت 19
تعطیل شریعت 22
شیعہ مذہب میں جمعہ فرض نہیں ہے 22
مسئلہ بداء کامفہوم 23
عقیدہ رجعت 25
شیعہ قوم اور بارہ امام 25
ائمہ اور علم غیب 25
غلو و مبالغہ آرائی 26
غیب کا علم صرف اللہ کو ہے 27
شیعہ کے نزدیک حضرت علی اللہ سے ہم کلام ہوئے ہیں 30
صحابہ و خلفاء راشدین کےخلاف طعن و تشنیع 3
ازواج مطہرات کےخلاف دریدہ دہنی 38
صحابہ کرام کی عمومی تکفیر 40
صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ ( قرآن و سنت کی روشنی میں ) 42
کذب ونفاق۔ شیعہ مذہب کی بنیاد 54
تقیہ ۔ دین و شریعت ہے 59
شیعہ کے نزدیک ائمہ کوحلال وحرام کااختیار ہے 66
تقیہ کاعقیدہ کیوں اختیار کیاگیا ؟ 70
اس عقیدہ کووضع کرنے کی دیگر ضرورتیں 76
شیعہ کےدلائل  اور تردید 77
شیعہ رواۃ 84
شیعہ حضرت علی کی نظر میں 88
دیگر ائمہ کی طرف سے شیعہ کی مذمت 92
کتب شیعہ میں مدح صحابہ 92
خلفاء راشدین کی خلافت کا اعتراف 96
قرآن مجید کی تحریف 101
تحریف سے متعلق شیعہ روایات کی تعداد 102
عقیدہ امامت 103
متعہ 105
کیامتعہ ہر عورت سے ہو سکتا ہے 106

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ایمانیات سنت

شرح اسماء حسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں

شرح اسماء حسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں

 

مصنف : سعید بن علی بن وہف القحطانی

 

صفحات: 306

 

اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شرح اسماء الحسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔جس میں سب سے پہلے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ مزید اس کتاب میں اسماء حسنیٰ پر ایمان کے ارکان، اللہ کے ناموں الحاد کی اقسا اور اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی بنظیر شرح کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست مضامین 3
تقدیم 14
پیش نظر 16
اسماءحسنیٰ 19
مقدمہ مولف 21
پہلامبحث:اللہ کےاسماءتوقیفی ہیں 31
دوسرمبحث: اسماءحسنیٰ پرایمان کےارکان 33
تیسرا مبحث: اللہ کومتصف کئےجانےوالےامورکی قسمیں 34
چوتھامبحث:اسماءحسنیٰ کی دلالت کی تین قسمیں ہیں 41
پانچواں مبحث: اللہ کےاسماءمیں الحادکی حقیقت 42
اللہ کےناموں میں الحادکی قسمیں 44
چھٹامبحث: اسماءحسنی کاشمارعلم کی بنیادہے 48
ساتواں مبحث: اللہ کےتمام اسماءبہایت عمدہ ہیں 49
آٹھواں مبحث: اللہ کےناموں میں سےبعض کااطلاق اللہ تعالیٰ پرعلیحدہ اوردوسرےنام سےمل کرہوتاہےاور 51
نواں مبحث:اللہ کےبعض اسماءحسنی کی صفات پردلالت کرتےہیں 53
دسواں مبحث: اللہ کےوہ اسماءحسنیٰ جوتمام اسماءوصفات کامرجع ہیں 55
سورۃ الفاتحہ توحیدکی تینوں قسموں کوشامل ہے 56
توحیدعلمی 57
توحیدقصدی ارادی اوراس کی دوقسمیں ہیں 57
توحیدربوبیت 57
توحیدالوہیت 57
اللہ کےاسماءکی دلالت اسماءوصفات پر 57
اصل اول:رب تعالیٰ کےاسماءاس کےصفات کمال پردلالت کرتےہیں 58
اصل دوم: اللہ تعالیٰ کانام تضمن والتزام کےذریعہ صفت پردلالت کرتاہے 60
دعاکی قسمیں 68
آپ اللہ تعالیٰ سےاس کی اسماءوصفات کےوسیلہ سےمانگیں 68
آپ اللہ تعالیٰ سےاپنی محتاجگی فقیری اورانکساری کےذریعہ مانگیں 68
آپ اپنی حاجت کاسوال کریں 69
گیارہواں مبحث: اللہ کےاسماءوصفات اللہ ہی کےساتھ خاص ہیں ناموں کی یکسانیت اشخاص میں مماثلت کی موجب نہیں ہے 71
بارہواں مبحث: چندباتیں جن کی معلومات ہونی چاہیے 91
پہلی بات: جوچیزیں اللہ کےبارےمیں خبردینےکےباب میں 91
دوسری بات:جب کوئی صفت کمال اورنقض دوحصوں میں تقسیم ہو 91
تیسری بات: خبردینےجانےسےاللہ کامطلق نام مشتق کیاجانالازم نہیں آتا 91
چوتھی بات: اللہ کےاسماءحسنیٰ اعلام (نام)اوراوصاف 92
پانچویں بات:اللہ کےاسماءحسنیٰ کےدواعتبارہیں 92
چھٹی بات:اللہ کےاسماءوصفات توقیفی ہیں 92
ساتویں بات: اللہ کےنام سےمصدراورفعل مشتق کرناجائزہے 92
آٹھویں بات:اللہ کےافعال اس کےاسماءوصفات سےصادرہوتےہیں 93
نویں بات:صفات کی تین قسمیں ہیں 93
تیرہواں مبحث: اللہ کےاسماءحسنیٰ کےشمارکےمراتب جس پرذخول جنت 95
پہلامرتبہ:اسماءحسنیٰ کےالفاظ وتعدادکاشمار 95
دوسرامرتبہ: ان کےمعانی ومفاہیم کوسمجھنا 95
تیسرامرتبہ: ان کےذریعہ اللہ سےدعاکرنا 95
چودہوں مبحث:اسماءحسنی کی تعدادمحدودنہیں ہے 97
پندرہواں مبحث: اللہ کےاسماءحسنیٰ کی شرح 100
الآول(پہلا) 100
الآخر(آخری) 100
الظاہر(ظاہروغالب) 100
الباطن(پوشیدہ) 100
العلی(بلند) 103
الاعلیٰ(بالا) 103
المتعال(برتر) 103
العظیم(عظمت والابڑا) 105
المجید(بڑائی وکشادگی والا) 109
الکبیر(بڑائی والا) 110
السمیع(سننےوالا) 111
سماعت کی دوقسمیں ہیں 111
پہلی قسم: اللہ تعالیٰ کاتمام آوازوں کوسننا 111
دوسری قسم: اللہ تعالیٰ کامانگنےوالوں کی دعائیں سننااورقبول کرنا 111
البصیر(دیکھنےوالا) 112
العلیم(جاننےوالا) 114
الخیر(خبررکھنےوالا) 114
الحمید(لائق تعریف خوبیوں والا) 117
اللہ کی خوبیوں کی دوحیثیتیں ہیں 117
اول: تمام مخلوقات اللہ کی حمدوثناءکی گن گارہی ہیں 117
دوم: اللہ تعالیٰ اپنےاسماءحسنیٰ اورصفات علیاکی ملہ پرحمدکامستحق ہے 117
العزیز(غالب) 119
قوت وطاقت کاغلبہ 119
بےنیازی کاغلبہ 119
تمام کائنات پرقہرکاغلبہ 119
القدیر 119
القادر(طاقت ور) 119
المقتدر(قدرت والا) 119
القوی(قوت والا) 119
المتین(ٹھوس زورآور) 119
الغنی(مالداربےنیاز) 124
الحکیم( حکمت ودانائی والا) 126
حکمت کی دوقسمیں ہیں 127

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ سلفی سنت شراب نوشی قصاص و دیت

شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت

شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت

 

مصنف : علامہ احمد بن حجر آل بوطامی البغلی

 

صفحات: 156

 

شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی  ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی  کم وبیش  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنی  انسانی  تہذیب  کی تاریخ  یہ اندازہ لگانا  تو بہت مشکل ہے  کہ  انسان نے ام الخبائث کا  استعمال کب شروع کیا اوراس کی  نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام   میں اللہ تعالی نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے  استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا  شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات  اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل  علم نے  شراب اور نشہ اور اشیا ء پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں  ۔زیر نظر کتاب ’’ شراب اور نشہ آور اشیاء کی حرمت ومضرت‘‘  ریاست قطر  کی شرعی عدالت کے قاضی شیخ  احمد بن حجر آل بوطامی  کی   عربی تصنیف  الخمر وسائر المسكرات تحريمها واضرارها کا  اردو ترجمہ ہے ۔ جس میں  فاضل مصنف نے  شراب اور نشہ  آور چیزوں کے متعلق دلائل سے مزین مفید اور مستحکم  تحقیقات  پیش کی  ہیں۔اس کتاب کی افادیت  کے  پیش نظر   مولانا شمیم احمد خلیل سلفی نے اس کے ترجمہ کی سعادت حاصل کی  ۔اللہ تعالی    مصنف  ومترجم کی اس کاوش کو  قبول فرمائے  اور اس کتاب کو  لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 5
تمہید 9
تقریظ 11
مقدمہ 18
سبب تالیف 25
خمر کی تعریف 28
تحریم خمر کی سبب نزول 30
کتاب وسنت و اجماع امت اور عقل و طب سے شراب کی حرمت کا ثبوت 35
تحریم شراب و سنت سے دلائل 54
عقل شراب کی حرمت پر شاہد ہے 62
شراب کے متعلق احکام 81
شراب اور دوسری مسکرات کی حکمت تحریم 91
قارئین کے لیے توضیح و بیان 91
صحت پر شراب کے مضر اثرات 92
مالی نقصانات 95
مضرات خمر کے سلسلہ میں بعض مغربی اطباء کی شہادتیں 98
طب اور شراب 101
مخدرات اور اس کی تجارت 116
مخدرات کی تاثیر و نقصانات 126
افرنگی عطر 131
تمباکو کا حکم 133
سگریٹ نوشی دیر میں ظاہر ہونے والی خودکشی ہے 138
قات ایک نشہ آور پودا ہے 143
طبی تحقیق 149
خاتمہ 151

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال توحید الوہیت توحیدوشرک حج حنفی فقہ نماز

توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شقوق و شبہات کا ازالہ

توحید باری تعالیٰ سے متعلقہ شقوق و شبہات کا ازالہ

 

مصنف : محمد بن سلیمان التمیمی

 

صفحات: 111

 

آج کل کے پر فتن دور میں جو جہالت وضلالت میں، قبل ازبعثت کی جہالت سےدو ہاتھ آگے بڑھ چکاہے، اسلام کے نام لیواؤں کواسلام سے اتنی نفرت ہے کہ ان کہ سامنے اگر اسلام کواصلی صورت میں پیش کیا جائے تواسے اسی طرح مکروہ جانتے ہیں جیساکہ اسلام کی پہلی منزل پر سمجھا گیا تھا۔حالانکہ’’توحید‘‘وہ چیز ہے جس کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ’’توحید‘‘ ہی وہ چیز ہےکہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء و رسلﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو غیراللہ کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی عبادت میں لگائیں۔ اور شرک جیسے گناہ کبیرہ سے ان کو بچائے۔ اور شرک کی شنا عت وخطورات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےشرک کرنے والے کے گنا ہوں کو بخشنے سے انکار کردیاہے،اور یہ ایک بہت ہی تلخ حقیقت ہے،جو اللہ رب العزت کی مشرکین سے نارضگی کا مظہر ہے۔ زیرہ تبصرہ کتاب ’’شکوک وشبہات کا ازالہ‘‘ جو کہ محمد بن سلیمان التمیمی صاحب کی بے مثال تصنیف ہے۔ جس میں فاضل موصوف نے تو حید باری تعالٰی کے اثبات اور شر ک کی مذمت میں نہایت ہی قابل تعریف اور مفید تصنیف ہے۔ اللہ ان کی مساعی جمیلہ کو اپنے دربارمیں شرف قبولیت بخشےـ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
توثیق ترجمہ 7
ترجمہ توثیق 8
تقدیم 9
نقش اول 10
کشف الشبہات 15
پہلی فصل :رسولو ں کی پہلی دعوت توحید الوہیت وعبادت کی تعلیم 15
دوسری فصل :مشر کین کااقرار توحید ربوبیت 16
تیسری فصل : (لاالہ لااللہ ) کامطلب 19
چوتھی فصل : نعمت توحید پر خوشی او راس کے سلب ہوجانے کاخوف 20
پانچویں فصل: حکمت الہی 22
چھٹی فصل : فریضہ تعلیم کتا ب وسنت 23
ساتویں فصل : تردید باطل 25
شبہ نمبر 1۔جواب 27
شبہ نمبر2۔جواب 27
شبہ نمبر 3۔جواب 30
آٹھویں فصل : دعاو پکار عبادت ہونا 31
شبہ نمبر 4۔جواب 31
نویں فصل شرعیہ وشرکیہ شفاعت 33
شبہ نمبر 5۔جواب 33
شبہ نمبر 6۔جواب 34
دسویں فصل : بزرگوں کو پکار نا 36
شبہ نمبر 7۔جواب 36
شبہ نمبر 8۔جواب 38
شبہ نمبر 9۔جواب 39
گیارھویں فصل : مشرکین مکہ اور موجود مشرکو ں میں فرق 40
بارھویں فصل: نماز ووروزہ او رمشرک وکافر 43
شبہ نمبر 10۔جواب 43
شبہ نمبر 11۔جواب 48
تیرھویں فصل : لاعلمی میں شرک اورتوبہ 49
شبہ نمبر 12۔جواب 49
شبہ نمبر 13۔جواب 50
چودھویں فصل : استغاثہ کی حقیقت 53
شبہ نمبر 14۔جوا ب 53
شبہ نمبر 15۔جواب 54
پندرھویں فصل : توحید 56
ضمیمہ 60
محمدرسول اللہ کامطلب 60
لفظی ترجمعہ او راس کے تقاضے 60
بدعت کالغوی معنی 62
اصطلاحی وشرعی معنی 63
دربار رسالت آپﷺ سے تنبیہ 64
ذکر کچھ بدعات کا 66
مخصوص انداز ذکر 66
ظہر احتیاطی 68
صلوۃ الر غائب 69
میلادمروجہ 70
گیارہویں شریف 72
مرگ پر بدعات 74
بے محل دعاء 74
بے جاآذان 75
فاتحہ خوانی کی مجالس 76
قرآن خوانی کے حلقے 76
اجتماعات فل ،دسوا ں اور چہلم وغیرہ 77
غلط فہمی 78
علمائے احناف کے اقوال 80
کتب فقہ حنفیہ سے 81
مقابر پر بدعت 84
قبروں کو پختہ کرنا او رمجاوربن کربیٹھنا 86
بارگاہ رسالت آپ ﷺ کافیصلہ 87
خلیفہ راشد حضرت علی ؓکاعمل 87
حضرت ابو ہریر ہ ﷜کی وصیت 88
آئمہ اربعہ کافتوی 88
پیر عبدالقادر جیلانی کاارشاد 90
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کانظریہ 90
ابن حجر مکی کاقول 91
ملاعلی قاری حنفی کاعقیدہ 92
کتب فقہ کی آراء 93
مکروہ بمعنی حرام 95
شیخ الاسلام محمد عبدالوہاب بن سلیمان التیمی 97
مختصر سوانحی خاکہ اور حسین نامہ اعمال کی چند جھلکیاں 97
ولادت ونشات 97
تعلیم وتربیت 97
سفر حج وتعلیم 98
نجد وحجاز دعوت سے قبل 98
آغاز دعوت 99
وفات 100
امام شوکانی کامریثہ او رخراج تحسین 101
تلامذہ تصانیف 102
عقیدہ 103
اعتراضات والزامات 103
جواب 104
علماء کاخراج تحسین 105
1۔علامہ عراق اشیخ محمود شکر ی لالوسی 106
2۔الامیر شکیب ارسلان 106
3۔علامہ محمد رشید رضا،مصر 107
4۔ڈاکٹر طہ حسین ،مصر 107
5۔علامہ شام محمد کردعلی 107
7۔علامہ زرکلی 108
8۔مفتی اعظم مصرامام عہدہ بروایت حافظ وہبہ 108
9۔علامہ طتطاوی 108
10۔مورخ محمد بن قاسم 109
اغیار کی نظر میں 109
1۔امریکی مفکر ،سٹوڈرڈ 109
2۔بروکلمین 110
3۔مستشرق سیڈیو 110
4۔فرانسیسی مفکر ،برنارڈلوس 110
5۔نمساوی یعنی آسٹر ین مستشرق گولڈ سیہر 110
6۔انگریز مستشرق چپ 110
7۔یونانی مورخ ڈاکٹر ڈاکبرٹ 111
8۔معروف لبنانی مورخ ،پروفیسر فلپ ہٹی 111
9۔دائرہ معارف برطانیہ (انسائیکلوپیڈیابر ٹینیکا) 111
10۔پروفیسر ویلفرڈ 111

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ زبان علماء فارسی فقہ

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی، شخصیت و حکمت کا ایک تعارف

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی، شخصیت و حکمت کا ایک تعارف

 

مصنف : ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

 

صفحات: 48

 

شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے “مقدمہ در قوانین ترجمہ” کی تصنیف فرمائی۔ اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی شخصیت وحکمت کا ایک تعارف‘‘ شاہ ولی اللہ دہلوی ریسرچ سیل،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پرو فیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی صاحب کا مرتب شدہ ہے۔ اس کتابچہ انہوں نے فکر ولی اللّٰہی کےبنیادی اور مستقل پہلووں پر توجہ مرکوز رکھی ہے او ران کے بعض ثانوی افکار اور وقتی کارناموں سے بحث نہیں کی گئی۔ تجزیہ وتحلیل سے ضروری کام لیا ہے اور تنقید وتبصرہ سے عمداً کریز کیا ہے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
پیش لفظ 1
حرف اول 2
شخصیت 3
فکر و حکمت 22
اہم ثانوی کتابیں 41

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سنت نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی بیاہ

شادی بیاہ

 

مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

 

صفحات: 32

 

شادی کی تقریبات میں ولیمہ ایک ایسا عمل ہے جو مسنون ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کاحکم دیا ہے ۔اور آپ نے خودبھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کےایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر دیا جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کاباعث بھی ہوگا او رزندگی کے نشیب وفراز میں اس کاہم دم اورہم درد اور مددگار بھی۔دعوت ولیمہ جب سنت ہے دنیاوی رسم نہیں تو اسے کرنا بھی اسی طرح چاہیے جس میں اسلامی ہدایات سے انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کےبرعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کامجموعہ بن کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شادی بیاہ‘‘ نامور عالم دین مفسر قران مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ایک اہم تحریری کاوش ہے جس میں انہوں نےولیمہ کامسنون طریقے کو بیان کر کے غیرمسنون طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اسی طرح شادی کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے بعض غیر ضروری امور اور رسومات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ولیمے کا مسنون طریقہ اور غیر مسنون طریقے 1
ولیمے کے بارے میں اسلامی ہدایات 2
معصیت والی دعوت مین شریک ہونے کی اجازت نہیں ہے 6
دعوت کھلانے والے کے لیے دعا 8
دلہا کے لیے خصوصی دعا 8
ولیمہ کب کیا جائے 9
شادی کی چند اور ناجائز رسومات 10
انگریزی زبان میں شادی کارڈ 10
رات کو شادیوں کا انعقاد 12
رات کے وقت شادی کا صحیح طریقہ 14
حکومت پنچاب کا ایک صحیح قدم لیکن۔۔۔ 14
نکاح کی الگ مستقل تقریب ، اگر ناگزیر ہو تو۔۔۔ 17
سلامی یا نیوتہ 18
عورت نئے گھر میں نئے ماحول میں 20
مرد کے لیے حکمت و دانش کی ضرورت 22
بیوی کا حسن کردار اور حسن تدبیر 24
میاں بیوی کی رنجش میں میکے والوں کا کردار 30

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تاریخ اسلام حج خلافت راشدہ سنت سیرت سیرت صحابہ معاملات نماز وضو

سیرت عثمان غنی ؓ

سیرت عثمان غنی ؓ

 

مصنف : سیف اللہ خالد

 

صفحات: 275

 

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت عثمان غنی ‘‘ تفسیر دعوۃ القرآن کے مصنف مولانا سیف اللہ خالد ﷾ کی تصنیف ہے جو کہ سیدنا عثمان کےحالات زندگی ، طرز ِ حکومت اور کارناموں پر مشتمل ہے مصنف موصوف نے قرآن وحدیث اورمستند روایات کی روشنی میں عہد عثمان میں رونما ہونے والے واقعات کا تذکرہ کیا ہے اوران تاریخی حقائق کا ذکر کرتے ہوئے ثقاہت وصداقت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔ موضوع اور ضعیف روایات سے مکمل اجنتاب کیا ہے۔ موجودہ فتنوں کےدور میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج سلف اور خلیفۂ ثالث کی شخصیت او ران کے دورِ حکومت کی حقیقی اور سچی تصویر پیش کی ہے ۔ تاکہ قارئین کے سامنے مستند اور قابل اعتماد تاریخی حقائق آنے کے بعد ان کےطرزِ حکمرانی پراٹھائے جانے والے اعتراضات واشکالات کا ازالہ ہوسکے۔کتاب ہذا کتب ِ سیرو وتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہےجسے دار الاندلس نے انتہائی خوبصورتی کےساتھ شائع کیا ہے ۔مصنف موصوف اس سے پہلے سیرت ابو بکر صدیق اور سیرت عمرفاروق قارئین کی نذر کر چکے ہیں ۔ ان کی قابل قدر تصنیفات اہل علم اور عام قارئین میں دادِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ راشد سیدنا عثمان کی سیرت وکردار کواپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین)

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست
عرض ناشر 13
عرض مولف 17
باب 1
ولادت تا قبل از خلافت
سیدنا عثمان ؓ کا نام و نسب 29
کنیت 29
پیدائش 30
حلیہ 30
والدہ 31
سیدنا عثمان ؓ کے القاب 32
ذو النورین 32
الامین 33
عمدہ لباس اور نفاست پسندی 34
سیدنا عثمان ؓ زمانہ جاہلیت میں 35
قبول اسلام 35
سیدہ قیہ بنت رسول اللہﷺ سے شادی 36
رقیہ بنت رسو ال اللہﷺ کے ہمرا ہ ہجرت حبشہ 36
سید ہ رقیہ ؓ کی وفات 37
سیدہ ام  کلثو م ؓ سے نکاح 38
سید ہ ام کلثو م ؓ کی وفات 39
مواخات مدینہ اور سید نا عثمان ؓ 40
سیدنا عثمان  ؓ کا قر آ ن سے تعلق 41
قرآن کریم کی تعلیم کا بہترین انداز 41
کاتب قرآن ہونے کی اعزاز 42
سورہ یوسف کی قراءت کا ممول 43
بحیثیت خلیفہ ر عایا سے قرآن کے متعلق سوال کرنا 44
سیدنا عثمان ؓ اور علم حدیث میں احتیاط 45
 رسول اللہ ﷺ کی ر فاقت 47
غزوہ بدر 49
غزوہ احد 52
بیعت رضوان اور سید نا عثمان ؓ 56
فتح مکہ اور سیدنا عثمان ؓ 60
غزوہ تبوک میں سیدنا عثمان ؓ کا کردار 64
باب:2
مدنی معاشرہ میں کردار اور بعض فضائل
مدنی معاشرے کا استحکام کے لیے مالی تعاون 69
بئر رومہ کی خریداری 69
مسجد بنوی کی تو سیع 70
تنگی کے حالا ت میں سخاوت 71
سیدنا عثمان ؓ کے فضائل 73
جنت  کی بشارت 73
 احد! حرکت نہ کر 74
شرم و حیا کے پیکر 75
فرشتے بھی سیدنا عثمان ؓ سے حیا کرتے ہیں 76
شہادت عثمان ؓ سے متعلق بنوی پیش گوئی 77
سیدنا عثمان ؓ کو گالی دینے والے کا بد ترین انجام 82
عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں کردار 83
سیدنا ابوبکر ؓ کے بعد والے کے لیے عہد نامہ  لکھنے کا اعزاز 83
امہات المو منین کے ساتھ سفر حج 83
مال کی تقسیم  کی ذمہ داری 84
باب:3
خلافت عثمان ؓ
خلافت عثمان ؓ 89
دوران حج سیدنا عثمان ؓ کی خلافت سے متعلق حُدی خوانی 89
سیدنا عمرؓ کے بعد ایک صالح خلیفہ کی پیش گوئی 89
سیدنا عمرؓ کی مقرر کردہ مجلس شوریٰ 91
سیدنا عثمان ؓ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا 104
خلافت عثمان ؓ پر اجماع 109
سیدنا علی ؓ کو سیدنا عثمان ؓ پر فو قیت  دینے کاحکم 111
سید نا عثما ن ؓ  کا طر ز حکومت 113
خلیفہ وقت کا محاسبہ 117
خلافت عثمان میں نظام مشاورت 119
خلافت عثمان میں نظام احتساب 120
زرد رنگ کا کپڑا پہننے پر سر زنش 120
چو سر اور شطر نج کھیلنے پر پابندی 120
شراب سے منع کر تے ہو ئے 122
سیدنا عثمان ؓ اور مکار م اخلاق کی تعلیم و تذ کیر 124
حکمت بھر اقول 125
عہد عثمانی میں تعلیم کا اہتما م 126
مسنون وضو کی تعلیم 127
وضو کا گناہوں کےلیے کفارہ بننا 128
و ضوا ور دو رکعت نماز گناہوں کی معافی سبب ہیں 129
عقیدہ توحید کی تعلیم 129
باقیات و صالحات  کی تعلیم 130
رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے  پر وعید 131
سیدناعثمان ؓ کے اوصاف و مکارم 132
حلم و برد باری 132
عفت و پاک دامنی 133
جو و و سخا 133
صبر و استقامت 135
عدل و انصاف 136
محاسبہ نفس اور خشیت الہیٰ 137
زہد و ورع 138
عوام کی خبر گیری 139
حق کیطرف رجو ع 140
سیدنا عثمان ؓ کے عہد میں مالی ادارے 144
بیت الما ل سے مسلمانوں کا حق ادا  کرنا 146
زکوٰ ۃ کی ادائیگی کے لیے لو گو ں کو تر غیب دلانا 147
صدقات کے سلسلے میں رسو ل اللہ ﷺ کے دستور کی پیروی 148
مال غنیمت کا خمس اور جزیہ 150
عہد عثمانی میں  مال غنیمت میں بچو ں کا حصہ مقر ر نہیں کیا گیا 150
عہد عثمانی میں حکومت کے عام اخراجات میں ذمیوں کی شرکت 151
سر کاری چراگاہوں کی حکمت عملی 153
بیت المال سے مسجد نبو ی کی از سر نو تعمیر 155
بازاروں کی توسیع 156
عہد عثمانی میں عطیات کا نظام 157
سیدنا عثمانی  میں عطیات کا نظام 157
سیدنا عثمانی ؓ اور اقر با پروری کے حقیقت 159
عدالتی نظام اور سیدنا عثمان ؓ کے فقہی اجتہادات 162
عہد فاروقی میں تنفیذ حدود کا فریضۃ ادا کرتے ہوئے 162
عدالتی امور کے لیے اہل حل وو عقد سے مشاورت 163
جا دو گر کو سزا 163
شراب کی حد 164
اخیافی بھائی ولید بن عقبہ ؓ پر حد کانفاذ 165
عبادات اور  معاملات میں اجتہاد 170
جمعہ کے دن دوسری اذان کا اضافہ 171
نماز عید 172
روزانہ غسل کرنا 172
حج افراد کی ترغیب 173
ارکا ن حج میں سنت کی پیروی 174
دوران حج شکار کے گوشت سے احتراز 174
خلع سے متعلق سیدنا عثمان ؓ کا مو قف 175
مفلس مقروض پر مالی تصر ف کی پابندی 175
ذخیرہ اندوزی  کی مذمت 176
عہد عثمانی کی چند فتوحات 177
معرکہ آذر بائیجان اور ارمینیہ 177
معرکہ طبر ستان 178
بلخبر پر حملہ 179
فتح توج 182
فتح مصر 183
بحری جنگ کا آغاز 185
امت کو ایک مصحف پر جمع کرنے کا عظیم کارنامہ 187
عہد نبو ی میں کتابت قرآن 187
عہد ابی بکر میں تدوین قرآن 188
عہد عثمان میں تدوین قرآن 191
سید نا عثمان اور ابو ذر ؓ کے باہمی تعلقات 196
قصہ شہادت عثمان ؓ 207
سیدنا عثمان ؓ کی علالت 207
شہادت عثمان ؓ کی پیش گوئی 208
فتنہ شہادت عثمان ؓ اور فسادیوں کی آمد 215
دوران محاصرہ سیدنا عثمان ؓ کا باغیوں کو خطاب 220
سید نا عثمان ؓ کا فسادیوں سے لڑائی سے گریز 226
بلوائیوں کے پیچھے نماز سے متعلق رائے 228
دوران محاصرہ ابن عمر ؓ سے مشاورت 230
محاصرین کی طرف سے قتل کی دھمکی 232
سید نا علی ؓ کا سیدنا عثمان ؓ کا دفاع  کرنا 234
عبداللہ بن عمر ؓ سیدنا عثمان ؓ کا دفاع کرتے ہوئے 238
سیدنا عثمان ؓ کی شہادت 239
دوران محاصرہ شہادت کے متعلق سیدنا عثما ن ؓ کا خواب 239
سیدا نا عثمان ؓ کی مظلو مانہ شہادت کا المناک واقعہ 239

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ حج زنا سیرت سیرت النبی ﷺ فقہ نماز

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔3

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔3

 

مصنف : حافظ عماد الدین ابن کثیر

 

صفحات: 568

 

حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت النبی ﷺ‘‘ امام ابن کثیر ﷫ کی مذکورہ کتاب البدایۃ والنہایۃ میں سے سیرت النبی ﷺ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔ اس حصے کواردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت مولانا ہدایت اللہ ندوی صاحب نے حاصل کی۔ یہ کتاب اپنے اندر بے پناہ مواد سموئے ہوئے ہے۔ امام ابن کثیر نے واقعات کا انداز تاریخ کے حساب سے رکھا ہے۔ سن وار واقعات کو درج کیاگیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو بہت سے ایسی معلومات حاصل ہوں گئی جودیگر کتبِ سیرت میں نہیں ہیں۔ امام ابن کثیر ﷫ چونکہ اعلیٰ پائے کےادیب او رعمدہ شعری ذوق کے مالک تھے۔ البدایۃ میں انہو ں نےجابجار اشعار درج کیے ہیں۔محترم ندوی صاحب نے ان اشعار کوبھی اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ نیز فاضل مترجم نے واقعات کے جابجا ذیلی عنوانات بھی دیئے ہیں جو بڑے مفید ہیں اورکہیں کہیں کچھ تشریحات بھی کی ہیں جوکہ ’’ندوی‘‘ کے تحت بریکٹ میں درج ہیں ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھال کر حسنِ طباعت سے آراستہ کرنے کی سعادت شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کے ساتھ پیش آنےوالے الم ناک واقعہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ان کے رفیق خاص جناب مولانا عبد الخالق قدوسی شہید (بانی مکتبہ قدوسیہ، لاہور) کےصاحبزدگان نے حاصل کی۔ مدیر مکتبہ جناب ابو بکر قدوسی صا حب نے 1996ء میں اس سیرت النبی ﷺ کو تین جلدوں میں بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا۔اس سے قبل 1987ء میں بھی البدایۃ والنہایۃ کےعربی نسخے کو 14 جلدوں میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ۔اب توجناب ابو بکر قدوسی اور جناب عمر فاروق قدوسی اوران کے دیگر برادران کی محنت سے مکتبہ قدوسیہ ماشاء اللہ بیسیوں معیاری کتابیں شائع کرچکا ہے۔ اللہ ان برادران کے علم وعمل میں خیر وبرکت فرمائے اوران کی کاوشوں کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
ہجرت کادسواں سال 15
رسول اللہ ﷺ کاحضرت خالدؓ کو تبلیغ کے لئے روانہ کرنا 15
مکتوب خالدؓ 15
مکتوب نبویﷺ 15
فال کاقصہ 16
رسول اللہ ﷺ کاامراء کو اہل یمن کی طرف بھیجنا 16
مرتد کا قتل 17
تلاوت 17
ہرمسکر حرام ہے 17
دس باتوں کی وصیت 19
سفار ش 20
مال زکوٰۃ میں تجارت 20
وقت روانگی پر بحث 21
روایت اجتہاد 21
سندپربحث 21
کافر بھائی کی وراثت کامسئلہ 22
حضرت علی ؓ اور حضرت خالدؓ کو یمن کی طرف بھیجنا 22
بغض علی ﷜ 23
ہمدان کامسلمان ہونا 24
حضرت ابوسعیدخدری ؓکی حضرت علی ؓ پرنکتہ چینی 24
بلااجازت سرکاری مال کیوں استعمال کیا؟ 25
رسول اللہ ﷺپر نکتہ چینی 26
حضرت علی ؓ کے لئے قوت فیصلہ کی دعا 27
فیصلہ کادستور 27
حضرت علیؓ کے فیصلہ پر رسول اللہﷺ کا تبصرہ 27
حجتہ الوداع 29
وجہ تسمیہ 29
10ھ میں 30
کس روز روانہ ہوئے؟ 30
مدینہ سے روانگی کاراستہ 32
کس حالت میں 32
حج میں خدمت گار 32
پیدل حج 33
خوشبو حج 33
حضرت ابن عمر ﷜ کاظن 34
احرام کیلئے غسل اور خوشبو 34
کراہت 35
قرآن 35
کس مقام پر تلبیہ کہنا 35
حضرت ابن عمرؓ کادستور 37
مدینہ سے روانگی 37
بیداء پر تلبیہ کہنا 38
رسول اللہﷺ کےاحرام کے بارے اختلاف 38
خلفامفردحج کیاکرتے تھے 40
رسول اللہﷺ متمتع تھے 40
حل اشکال 41
غلط فہمی کے اسباب 42
تمتع 43
غلط فہمی کی نشان دہی 44
رفع تضاد 44
حج کے مہینوں میں عمرو کر نا بھی تمتع ہے 44
نبی ؑ قارن تھے 45
حضرت عثمان ؓ او ر حضرت علی ؓ کی روایات 45
حضرت انس ﷜ کی روایت 46
حضرت برا﷜ کی روایت 49
حضرت جابرؓ کی 49
سعدبن ابی وقاص ؓ کی روایت 50
ابن ابی اوفی کی روایت 50
ابن عباس﷜ کی روایت 50
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت 51
عمران بن حصین کی روایت 52
حضرت حفصہؓ کی روایت 52
حضرت عائشہ ؓ کی روایت 52
حضرت عمر﷜ کی رائے 56
اتباع سنت 56
رسول اللہ ﷺ کااحر ام مطلق تھا 56
تلبیہ کابیان اورعبادت 58
بلندآواز سے 58
حدیث جابر﷜ 58
سعی 60
خطبہ 61
موقف 62
مزدلفہ 62
قربانی 62
طواف افاضہ 63
مکہ میں 63
جب کعبہ نظر آیا 64
رفع یدین 64
بیت اللہ میں داخلہ 64
اول طواف 65
طواف کاطریقہ 65
بوسہ 65
رکن یمانی اورحجر اسود 67
جدید تعمیر کی آوازو 67
رمل کابیان 68
ہاتھ کابوسہ 70
سعی 71
امام ابن حزم ﷫ کاوہم 72
سواری پر 72
قارن ایک سعی کر ے یادو 74
حدیث علی ﷜ 75
سعی سواری کےبغیر ؟ 76
حج فسخ کر کےعمرہ کی نیت درست ہے؟ 77
فتویٰ ابن عباسؓ 77
قرآن افضل ہے؟ 78
حضرت علی ﷜ کی آمد 79
ابوموسیٰ اشعر یؓ متمتع تھے 79
دوگانہ 79
یوم تر ویہ 80
منبرپر خطبہ ؟ 81
منیٰ سے عرفات جاتےہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنا 81
ظہر‘ عصر ایک ساتھ پڑھنا 82
دوران حج موت 83
قیام عرفہ 83
روزہ رکھنے کی اہمیت 83
دعا یوم عرفہ 84
قبولیت دعا 85
عرفات میں وحی 86
عرفات سے واپسی 86
حضرت ابن مسعود﷜ کابیان 89
خلس میں رمی 90
مزدلفہ رمی جمار تک 91
خطاب 91
محسر میں تیز چلنا 92
تلبیہ کب تک کہا 93
آخری کنکری تک تلبیہ 93
مقام رمی 94
تکبیر کہہ کر کنکری مارنا 94
سوار ہوکر کنکری مارنا 94
ایام تشریق میں رمی 95
رمی کےبعد 95
عمر کےمطابق قربانی 95
سر کیسے منڈوایا 96
طواف افاضہ 98
طواف زیارت رات کو 99
ہر شب طواف 99
سبیل 100
ظہر کےبعد منیٰ میں 101
مقام خطاب 101
خطاب حجتہ الوداع 103
امام خطبہ میں کیا بیان کرے 104
منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کہاں فردکش ہوئے 105
منیٰ میں دوگانہ 105
پیغام مرگ 107
بطحامیں پڑاؤ مسنون نہیں 109
تنعیم 111
ملتزم 111
روانگی 112
آب زمزم لانا 112
غدیرخم 112
یوم غدیرخم کا روزہ 118
اکرام مسلم 118
قبراطہر کی زیارت کے آداب 119
قبر نبوی پردعاء 119
ہجرت کا 11واں سال 120
وفات کی خبر 120
کتنے حج اور عمرے کئے 121
غزوات کی معمولی تفصیل 122
ظرافت 129
حلال جانور کابول 129
رسول اللہ ﷺ کی وفات
مرض موت کاآغاز    131
دنیا کےخزانوں اور حیات جاودانی کی فرمائش 131
مرض کی شدت اورعلاج 133
بخار کاغسل سے علاج 133
جمعرات کادن 135
کیا تحریرکرواناچاہتے تھے؟ 136
حضرت ابوبکر ﷜ کی خلافت 136
ایک خاتون کاآنااورخلافت کا مسئلہ 137
خلافت کے متعلقہ روایات 137
خلافت کی طرف اشارہ 139
رسول اللہ ﷺ کاابوبکر صدیقؓ کونماز کاامام مقرر کرنا 140
حضرت عائشہؓ کی تکرارکی وجہ 141
کیا رسول اللہﷺ مقتدی تھے؟ 143
آخری نماز با جماعت 145
نبی ؑ کی وفات اور اس کے آثار 147
آخری کلام 148
وصیت 148
سکرات موت 149
حضرت عائشہ ؓ سے تعلق خاطر 149
خوشبو بےمثال 151
لباس بوقت وفات 152
خطبہ حضرت ابوبکر ﷜ 153
سقیفہ بنی ساعدہ کاقصہ 156
حضرت عمر ؓ کاولولہ انگیزخطاب 157
بشیر بن سعدؓ انصاری نے پہلے بیعت کی 159
بیعت کب ہوئی ؟ 160
حضرت علی ﷜کا پہلے روز بیعت کرنا 162
حضرت فا طمہ ؓ اور وراثت 162
حکومت کی طرف واضح اشارہ 163
خلیفہ مقررنہ کیا 164
حضرت علی ؓ نے بھی خلیفہ مقررنہ کیا 164
کوئی وصیت نہ تھی 164
کیا علی حضرت وصی تھے؟ 165
روافض کی تردید 165
حضرت علی کےخلاف سازش 165
موضوع حدیث 166
آغازمرض 22 صفر بروز ہفتہ 169
13 روز بیمار رہے 170
وفات کادن 170
63سال عمرمبارک 171
63سال اکثریث کامسلک 173
عجیب وغریب اقوال 174
سب سے عجیب روایت 174
رسول اللہﷺ کےغسل کابیان 175
ابوطلحہ نے لحد بنائی 176
حضرت علیؓ نے غسل دیا 176
چاہ غرس کےپانی سے غسل 177
نبی ؑ کےکفن کابیان 177
کیاکفن سسرال کا حق ہے؟ 178
رسول اللہﷺ کی نمازجنازہ 180
جنازہ بغیر امام کے 180
محمد بن ابراہیم کی نوشت 180
آپؐ کانماز جنازہ فرداً فردا ًپڑھنا ایک متفق علیہ مسئلہ ہے 181
قبر کی کھدائی 182
حضرت عائشہ ؓ کاخواب اور اس کی تعبیر 183
قبر حجرہ میں کیوں بنائی؟ 184
بغلی قبر بنائی 184
رسول اللہ ﷺ کاخاصہ 184
لحد پر 9 عدد انیٹیں لگائیں 185
قبر میں کس طرح اتارا 185
نبی ؑ سے ملاقات کرنےوالا آخری آدمی 186
حضرت قثم ﷜ 186
حضرت مغیرہ﷜ 186
نبی ﷺ کب دفن ہوئے؟ 187
سحری کےوقت 187
جمہورکاقول 187
اس باب میں غریب اقوال 187
قبر پرپانی چھڑکنا 188
نبی ؑ کی قبر کابیان 188
نبی ؑ کی وفات پہ صحابہ کی دلی کیفیت 189
اندھیرا چھاگیا 190
سلام پہنچانےوالےفرشتے 192
ابن ماجہ کی فروگذاشت 192
فرشتہ اجل کااجازت طلب کرنا 193
نبی ؑ کے یوم وفات کےبارےاہل کتاب کاعلم وعرفان 195
کعب کاعجب واقعہ 196
وفات رسولﷺ کے ارتداد کادور‘ اور مکہ میں سہیلؓ کا کردار 196
حضرت حسانؓ کاکلام 197
ابوسفیان کااظہار غم 200
نبی ؑ کےتر کےکابیان 201
حضرت عثمانؓ کو بھیجنےکاعزم 204
بیعت ثانی 206
روافض کےلائق توجہ 206
حضرت ابوبکر کی روایت کی متعددصحابہ سے تائید اورموافقت 207
مسندشخیین 209
حدیث ورثہ محل نظرہے 209
حضرت فاطمہ ؓ کی رضامندی 210
فیصلہ کی توثیق 210
روافض کااستدال اوراس کاجواب 210
نبی ؑ کی ازواج مطہرات اوراولاد 212
پندرہ شادیاں 213
شادی کےوقت عمر 213
حضرت زینب ؓ 214
حضرت رقیہؓ اورحضرت ام کلثومؓ 214
حضرت فاطمہ ؓ 214
حضرت زینب بنت علیؓ 214
حضرت ام کلثوم بنت علیؓ 214
حضرت خدیجہؓ 214
حضرت عائشہؓ 215
حضرت حفصہؓ 215
حضرت ام سلمہؓ 215
حضرت سودہؓ 215
حضرت ام حبیبہؓ 215
حضرت زینبؓ 216
حضرت میمونہؓ 216
حضرت جویریہؓ 216
حضرت صفیہؓ 217
عالیہ 217
اسماءبنت نعمان 217
حضرت ماریہؓ 217
حضرت ریحانہؓ 217
حضرت خولہؓ 217
حضرت شرافؓ 218
حضرت اسماءؓ 218
حضرت عمرہؓ 218
حضرت ام شریک 218
حضرت امیمنہ جونیہ 218
حضرت امینہ 218
پناہ مانگنے والی کون تھی؟ 219
عمرہ کلابیہ 219
وہ خواتین جن سے نکاح کیااورگھرمیں نہ بسایا 219
فاطمہ اورسبا 221
خاتون بنی غفار 222
غیرمہاجرین خواتین 223
پیش گوئی 224
ازواج مطہرات کی تین اقسام 225
نبی ؑ کی لونڈیوں کےبیان میں 225
مابور‘دلدل‘ماریہ‘شیریں 226
ریحانہ بنت زید 228
نبی ؑ کی اولادکابیان 230
قاسم 230
حضرت زینب ؓ 232
حضرت رقیہؓ 232
حضرت ام کلثومؓ 233
حضرت فاطمہؓ 233
حضرت ابراہیم ؓ 233
آپؐ نے نمازجنازہ پڑھائی 235
نبی ؑ کےغلاموں کابیان 236
حضرت اسامہ بن زیدؓ 236
حضرت عمرؓ کامعیارمحبت 237
حضرت علیؓ کےہمراہ جنگ میں شرکت سےمعذرت 237
اسم ابورافع قبطی 237
سانپ کاواقعہ 238
انسہ بن زیادہ 238
ایمن بن عبیدبن زیدحبشی 238
مجاہدکی منقطع روایت 239
باذامؓ 239
ثوبانؓ 239
حنین غلام رسول اللہؐ 239
ذکوان 240
رافع یاابورافع‘ 240
رباح اسود 240
رویفع غلام رسول اللہؐ 240
مکتوب عمر﷫ 240
زیدابویسار 240
سفینہ ابوعبدالرحمان مھران 241
شیر کاواقعہ 242
حضرت سلمان فارسی 242
شقران حبشی 243
بدر میں غلاموں کی شرکت 243
ضمیرہ بن ابی حمیری 243
مکتوب نبوی 244
طہمان 244
عبید‘ غلام رسول   اللہؐ 244
فضالہ غلام رسول اللہؐ 244
قفیز 245
کرکرہ 245
کیسان 245
مابورخصی 245
مدعم 245
مہران 246
میمون 246
نافع غلام رسول اللہﷺ 246
نفیع 246
واقدیاابو واقد 246
ھزمزابوکیسان 246
ہشام 247
یسار 247
ابوالحمراء 247
ابوسلمی رسول اللہ ؐ     کا چرواہا 248
ابوصفیہ 248
ابوضمیرغلام رسول اللہ ؐ 248
مکتوب رسول اللہﷺ کی قدرومنزلت 248
ابوعبیدہ غلام رسول اللہﷺ 248
ابوعشیب 249
ابوکبشہ انماری 249
سوال فقرپیداکرتاہے 251
                                             ابومویہبہ غلام رسول اللہؐ 251
نبی ؑ کی کنیزیں 252
امتہ اللہ بنت رزینہ 252
امیمہ 252
ام ایمن 252
رسول اللہؐ نے پانی پلایا 253
بریرہ 254
حضرت خضرہ 254
حضرت خلیبہ 254
حضرت خولہ 254
رزینہ 254
رضویٰ 255
سانیہ رسول اللہؐ   کی کنیز 255
سدالیہ انصاریہ 255
سلامہ‘ ابراہیم بن رسول اللہؐ کی دایہ اورکھلائی 256
سلمی ام رافع زوجہ ابو رافع 256
شیرین 257
عنقودہ ام ملیح   حبشیہ 257
فروہ‘ نبی علیہ السلا م کی مرضعہ اوررضاعی ماں 257
لیلیٰ حضرت عائشہ ؓ کی کنیز 258
حضرت ماریہ قبطیہ 258
حضرت میمونہ بنت سعد 258
حضرت ام ضمیرہ 259
حضرت ام عیاشؓ 259
صحابہ میں رسول اللہﷺ کےان خادموں کابیان جوآپ کےغلام نہ تھے 260
حضرت انس بن مالکؓ 260
حضرت اسلع بن شریک ؓ 261
حضرت اسماءبن حارثہؓ 261
حضرت بکیربن شداخ لیثیؓ 262
حضرت بلال بن رباح حبشیؓ 263
حضرت حبہ اورسواء پسران خالدؓ 263
ذومخمرہ یاذومجر 263
سورج نکلے کےبعدنمازفجر 263
حضرت ربیع بن کعب اسلمی 264
حضرت ربیعہ کی شادی 264
حضرت ابوبکر ﷜ کی عظمت 265
حضرت سعدغلام ابوبکرؓ 266
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ 266
حضرت عبداللہ بن مسعود 266
حضرت عقبہ بن عامرجہنیؓ 267
حضرت قیس بن سعد بن عبادہؓ 267
حضرت مغیرہ بن شعبہ ثقفیؓ 268
حضرت مقدادبن اسودؓ 268
مہاجر غلام ام سلمہؓ 270
حضرت ابوالسمح 270
حضرت ابوبکر صدیقؓ 270
وحی اورمکاتب وغیرہ لکھنے والے 270
حضرت ابان بن سعید 270
اسلام قبول کرنا 270
سیدالقراء حضرت ابی بن کعب ؓ 271
حضرت ارقم بن ابی الارقم ؓ 272
حضرت ثابت بن قیسؓ 272
مکتوب نبوی 272
حضر ت خالد بن سعید ؓ 271
عجب خواب 274
مکتوب نبوی 275
حضرت خالد بن ولیدؓ 275
حضرت زبیربن عوامؓ 276
حضرت زیدبن ثابت﷜ 278
سجل 280
ابوداؤدکی موضوع روایت 280
سعدبن ابی سرح 281
عامر بن فھیرہ غلام ابوبکرؓ 281
جبارکااسلام قبول کرنا 282
حضرت عبداللہ بن ارقمؓ 282
حضرت عبداللہ بن زیدؓ 283
حضرت عبداللہ بن سعدؓ 283
حضرت ابوبکرصدیقؓ 284
حضرت عمرفاروقؓ 285
حضرت عثمان بن عفانؓ 285
حضرت علیؓ 285
یہودکاجعلی مکتوب 285
علاءبن حضریؓ 285
علاءبن عقبہؓ 286
حضرت محمدبن مسلمہؓ 287
حضرت معاویہؓ 287
حضرت مغیرہ بن شعبہ ثقفیؓ 288
نبی ؑ کےامین افراد 289
معیقیب بن ابی فاطمہ دوسی 289
لباس‘ اسلحہ اور سواریوں کابیان 291
انگوٹھی کابیان 292
انگوٹھی کوترک کرنےکابیان 292
لوہے کی نہ تھی 293
دائیں میں یابائیں میں 293
نبی ﷺ کی تلوارکابیان 294
خواب 294
حضرت انسؓ کےپاس عصاتھا 295
نبی ؑ کےجوتوں کابیان 296
600ھ میں رسول اللہﷺکے جوتےکاانکشاف 296
خوشبودان 296
نبی ؑ کےپیالہ کا بیان 296
رسول اللہﷺ کی مصنوع کوخریدنا 297
نبی ؑ کی سرمہ دانی 297
چادر 297
خلفا کاسیاہ لباس 297
نبی ؑ کےگھوڑوں اورسواریوں کا بیان 298
رسول اللہﷺ کےآثارکےنام 299
خچر 299
آپ کاگدھا 299
شفاءکےایک قصہ کی تردید 300
کتاب الشمائل
نبی ؑ کےحسن روشن کابیان 301
نبی ؑ کےرنگ کابیان 303
ابوالطفیل آخری صحابی 304
نبی ؑ کےچہرے‘ خوبیوں اورمحاسن کےبیان میں 306
شھلہ اورشکلہ کامعنی 307
خصاب 309
پہلی ملاقات 309
خواب 310
نبی ؑ کے بالوں کابیان 311
خضاب 312
نبی ؑ کےاعضاء 315
نبی ؑ کےقامت اورعمدہ خوشبوکابیان 315
جماعت کےساتھ نمازنہ پڑھنا 316
پانی سےخوشبو 317
پسینہ مبارک 317
شادی میں تعاون لینا 318
راستہ معطرہوجاتا 318
مہرنبوت کافلسفہ 321
رسول اللہﷺ کی صفات میں متفرق احادیث کابیان 322
نبی ؑ کےحلیہ کےبارے حدیث ام معبدؓ 322
حدیث ہندبن ابی ہالہؓ 325
گفتار 326
تقریرمیں ہاتھ پرمارنا 326
گھریلواوقات میں 327
گھر سے باہرآنے کے بعد 327
آداب مجلس 328
ہم نشینوں سےسلوک 328
آپ کے سکوت کی کیفیت 328
خلق کامطلب 330
آسان بات پرعمل 331
ابوطلحہ کاگھوڑا 333
حضرت انسؓ کی خدمت کاری 333
سخاوت 334
آپ کی خندہ پیشانی 335
ہم نشین کےساتھ بٹیھنے کاانداز 336
تواضع 336
بےپناہ ایثار 336
دلجوئی 337
پسندکاکھانا 337
آپ کوگوشت پسندتھا 337
وقفہ وقفہ سے بولنا 338
روئےزمین کےخزینے 339
مسکراہٹ 339
نبی ؑ کےکرم وجودکابیان 340
بےتحاشہ سخاوت کی حکمت وتوجہیہ 340
عباسؓ کو کثیرمال زردیا 341
تواضع اور انکساری 342
گھریلو زندگی 342
ذکر واذکار 343
ایک عیسائی کےپاس حلیہ مبارک کی تحریر 344
تہبندکہاں تک ہو 344
بچوں کوسلام 344
نبی ؑ کامزاح 345
نبی ؑ کوہنسانا 346
آبگینوں پر رحم کر 346
عمررسیدہ عورت جنت میں نہ داخل ہوگی 347
نبی ؑ کازہد اوردنیا سےبے رغبتی 347
عبودیت اورنبوت 347
بے سرسامانی کی زندگی 348
بے مثال سخاوت 350
گندم کی روٹی سے شکم سیری 351
دودھ کاتحفہ 352
گرم کھاناکھانا 352
مرغوب مشروب 352
بستر 353
نرم اورنازک بستر 354
ذی یزن کاحلہ 354
دولت کی بازپرس 354
ذخیرہ اندوزی کامفہوم 355
حدیث بلالؓ اورقرض کافکر 355
دریا دلی 357
کس کے لئے قیام مکروہ ہے 359
نبی ﷺ کی عبادت وبندگی 359
8تراویح3وتر 360
وصال صیام 360
سوباراستغفار 361
زکوٰۃ سے اجتناب اور احتیاط 361
سینے سے ہنڈیاکے ابال کی آواز 361
نبی ؑ کی شجاعت وجرات کابیان 362
سابقہ انبیاءکی کتابوں میں نبی ﷺ کی صفات اورحلیہ 362
متن بخاری کاایک نکتہ 363
حضرت داؤدکورسول اللہﷺ کی آمدکامثردہ 365
انبیاءکی تصاویر 366
حضرت زیدبن عمروکاپیغام اورسلام 365
نبی ﷺ کے معجزات 369
قرآن ایک عظیم معجزہ 369
اعجازقرآن 373
رسول اللہ ؐ کی ہرادا معجزہ ہے 374
چاند کادوٹکڑےہونا 379
سورج کے پلٹنے کی موضوع روایت 381
امام ابن جوزی کاتبصرہ 381
ایک اورسند کی تحقیق 384
امام ابوحنیفہ ﷫کاموقف 390
بارش سے متعلق معجزات 392
انگلیوں سےپانی کافوارہ 397
درخت‘ عذاب قبر ‘ پانی اورمچھلی کامعجزہ 398
قبا کاکنواں 403
دودھ میں برکت کامعجزہ 404
گھی کےمتعلق معجزات 406
ابوطلحہ ؓ انصاری کےگھرمعجزانہ دعوت 408
غزوہ خندق میں معجزانہ دعوت 411
دعوت ولیمہ میں اعجاز 411
ایک مد جومیں حیرت انگیزاضافہ 412
حضرت ابو ایوب ﷜کےگھر دعوت 412
حضرت فاطمہ ؓ   کاگھر کھانے میں معجزانہ اضافہ 413
آغازاسلام میں دعوت 413
ثرید کےپیالہ میں برکت 413
حضرت ابو بکر﷜ کےہاں معجزانہ طعام 414
کلیجی میں حیرت انگیزاضافہ 414
حضرت عمر فاروق ﷜ کےمشورہ پر عمل 415
غزوہ خیبرمیں آب ودانہ کااعجاز 416
خندق کی کھدائی کے دوران معجزہ 416
جابرؓ کی کھجوروں میں عجب اضافہ 416
حضرت سلمان فارسیؓ کا قصہ 417
حضرت ابوہریرہؓ کاتوشہ دان 417
سات کھجوروں کااعجاز 418
حضرت عائشہ ؓ کےغلےمیں برکت 418
شادی میں معجزانہ تعاون 418
چکی کاتعجب خیزواقعہ 418
حضرت عمر کی کھجوروں میں معجزانہ برکت 418
درخت کاچلنا 421
کھجورکےخوشہ کاآنا 422
درخت کاشہادت دینا 422
ستون کا رسول اللہﷺ کےاشتیاق میں رونا درد فراق سے جزع فزع کرنا 422
رسول اللہﷺ کی ہتھیلی میں سنگریزوں کاتسبیح کرنا 427
درو دیوار کاآمین کہنا 427
پتھرروں کاسلام کرنا 428
بتوں کااشارہ سے گرنا 428
تصویر کامٹ جانا 428
اونٹ کاآپ کوسجدہ کرنا 428
اونٹ کاشکوہ کرنا 430
تین معجزے 431
اونٹ کاتیز ہونا 432
سست گھوڑے کاتیز ہونا 432
                                       اونٹ کادعا کرنااورآپ کا آمین کہنا 433
بکریاں سجدہ کرتی ہیں 434
بھٹیرئیے کابات کرنااوررسالت کی شہادت دینا 434
بھٹیرئیے سےبات کرنےوالا 435
گدھا بات کرتاہے 436
بھٹیریوں کانمائندہ 436
عجب واقعہ 437
وحشی جانور 437
شیرراہنمائی کرتاہے 437
ہرنی کاواقعہ 437
چڑیا 441
پرندہ اورسانپ 441
روشنی 442
آسمانی بجلی کی چمک 442
روشن انگلیاں 442
عصا روشن ہونا 442
حضرت طفیل دوسی ؓ 442
تمیم داریؓ کی کرامت 442
دعا کی قبولیت کاعجب واقعہ 443
تین عجیب امور 444
ایک سلمی کاکلام کرنا 447
نوزائیدہ بچے کابولنا 447
آسیب زدہ بچہ 448
بینائی بحال ہونا 449
لعاب مبارک سےبینائی بحال 450
پنڈلی کادرست ہونا 450
جلاہواہاتھ 450
ہتھیلی کاغدود 450
آنکھ درست ہونا 450
حافظ کاتیز ہونا 450
ابوطالب کے لئے دعا 450
کمزور گھوڑی کاتیز ہونا 450
اونٹنی کاتیزچلنا 451
عجب دعا 451
دم جھاڑسے آپریشن 451
ابن عباسؓ کےحق میں دعا 452
دعاکی تاثیر 452
دعاکی قبولیت 452
نوزائیدہ بچے کے لئے دعا 454
دردسر 454
دانت کاسلامت رہنا 454
بددعا سے ہاتھ شل ہونا 455
شہادت کی دعا 546
عبد اللہ بن سلام کےسوالات 547
نومعجزات 459
مباہلہ سے انحراف کرنا 460
حد زنا کامعجزانہ فیصلہ 460
یہودی لڑکے کاصفات رسول اللہ ﷺ کااعتراف اوراسلام لانا<

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
18.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ حج سیرت سیرت النبی ﷺ فقہ نماز

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔2

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔2

 

مصنف : حافظ عماد الدین ابن کثیر

 

صفحات: 616

 

حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت النبی ﷺ‘‘ امام ابن کثیر ﷫ کی مذکورہ کتاب البدایۃ والنہایۃ میں سے سیرت النبی ﷺ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔ اس حصے کواردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت مولانا ہدایت اللہ ندوی صاحب نے حاصل کی۔ یہ کتاب اپنے اندر بے پناہ مواد سموئے ہوئے ہے۔ امام ابن کثیر نے واقعات کا انداز تاریخ کے حساب سے رکھا ہے۔ سن وار واقعات کو درج کیاگیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو بہت سے ایسی معلومات حاصل ہوں گئی جودیگر کتبِ سیرت میں نہیں ہیں۔ امام ابن کثیر ﷫ چونکہ اعلیٰ پائے کےادیب او رعمدہ شعری ذوق کے مالک تھے۔ البدایۃ میں انہو ں نےجابجار اشعار درج کیے ہیں۔محترم ندوی صاحب نے ان اشعار کوبھی اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔نیز فاضل مترجم نے واقعات کے جابجا ذیلی عنوانات بھی دیئے ہیں جو بڑے مفید ہیں اورکہیں کہیں کچھ تشریحات بھی کی ہیں جوکہ ’’ندوی‘‘ کے تحت بریکٹ میں درج ہیں ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھال کر حسنِ طباعت سے آراستہ کرنے کی سعادت شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کے ساتھ پیش آنےوالے الم ناک واقعہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ان کے رفیق خاص جناب مولانا عبد الخالق قدوسی شہید (بانی مکتبہ قدوسیہ، لاہور) کےصاحبزدگان نے حاصل کی ۔ مدیر مکتبہ جناب ابو بکر قدوسی صا حب نے 1996ء میں اس سیرت النبی ﷺ کو تین جلدوں میں بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا۔اس سے قبل 1987ء میں بھی البدایۃ والنہایۃ   کےعربی نسخے کو 14 جلدوں میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ۔اب توجناب ابو بکر قدوسی اور جناب عمر فاروق قدوسی اوران کے دیگر برادران کی محنت سے مکتبہ قدوسیہ ماشاء اللہ بیسیوں معیاری کتابیں شائع کرچکا ہے۔ اللہ ان برادران کے علم وعمل میں خیر وبرکت فرمائے اوران کی کاوشوں کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
غزوہ نجدیا ذی امر 15
غورث کا معجزہ واقعہ 15
غزوہ فرع جانب بحران 16
مدینہ میں یہودی قینقاع کا واقعہ 16
خاتون کی بے حرمتی 16
عبادہؓ اور ابن ابی سلول 17
زید بن حارثہ کے فوجی دستہ کی ابو سفیان یا صفوان کےتجارتی قافلہ کی طرف روانگی 17
سریہ ارسال کرنے کا سبب اور فرات کا مسلمان ہونا 18
حضرت ام کلثومؓ کی شادی 18
کعب بن اشرف کا قتل 18
کعب کافتویٰ 20
رسول اللہ ﷺ کی مخالفت 20
حویصہ کا مسلمان ہونا اوریہودہ کے قتل کاحکم 23
غزوہ احد شوال3ھ 24
حدیث احد 24
انتقامی جذبہ 24
ابوعزہ اور نافع شاعر 25
وحشی 26
وحشی کی تحریض 26
خواب 26
خواب اور اس کی تعبیر 26
صحابہ کےجذبات 28
حضرت نعیم ﷜ 28
مسلمانوں کی پشیمانی 29
ابن سلول کاعلیحدہ ہونا 29
الگ میدان کا نقشہ 31
درے پر تیر اندازوں کا تقرر 31
سمرہ اوررافع کی عمر 31
ہندکے اشعار اورعلم برداری 32
ابودجانہ 33
حضرت حمزہ ﷜ کی شہادت 34
وحشی اور حضرت حمزہؓ 34
حضرت مصعب ؓ کی شہادت 37
رسول اللہ ﷺ کاانصار کے تلے آنا 37
حضرت عاصمؓ   کاکارنامہ 38
شکست کاسبب 40
درہ کا خالی ہونا 40
رسول اللہ ﷺ کےزخم 41
ابی بن خلف کاقتل 42
ابوسفیان کااترانا 43
رسول اللہ ﷺ کےزخموں کی تفصیل 43
جنگ کا نقشہ 43
تیراندازوں کی جلد بازی 45
سات انصاری شہیدہوئے 46
حضرت سعدبن ابی وقاص﷜ 47
حضرت ابوطلہ ؓ انصاری 48
حضرت عثمان ؓ کی بریت 49
احد میں بدر ایسے واقعات 49
اللہ کی حفاظت ونگہداشت 51
حضرت انس بن نضرؓ 52
ابی بن خلف جمحی مقتول 53
حضرت جابر کے والد حضرت عبداللہ کی فضیلت 54
حضرت یمانؓ کی شہادت 54
حضرت قتادہؓ کی آنکھ 55
رسول اللہ ﷺ کی کمان 56
رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نمازپڑھائی 58
فاسق کےذریعہ دین کی امداد 58
ایساجنتی جس نے کوئی نماز نہ پڑھی ہو 59
عمربن جموح کاجہاد پر اصرار 59
الوداعی گفتگو 61
نقل وحرکت کاجائزہ 61
جنگ کے اجتماعی دعا 61
حضرت سعدبن ربیع کاپیغام 62
سیدالشہداء حضرت حمزہ﷜ 63
حضرت حمزہ﷜اور شہدائے احدپر نمازجنازہ 63
حضرت صیفہؓ کا صبروثبات 65
شاح کا آہنی تلوار بن جانا 66
شہیدکا خون 66
قبر گہری اور فراح ہو 66
حضرت جابرکے والدکاواقعہ 67
شہداء کی لاشوں کی حالت 67
زیا رت قبور کی روایت 69
شہداء کی ارواح 70
شہداء کی تعداد 70
بنی دینار کی خاتون 71
حضرت علی او ردیگر صحابہ کے حسن کردا رکی تعریف 72
حضرت حمزہ ﷜ کانوحہ 72
پس منظر او روضاحت 73
ابوسفیان کاتعاقب 74
معبد خزاعی کی خیر خواہی 75
حسبنا اللہ کی فضیلت 76
عبداللہ بن ابی کی پوزیشن 78
70شہیداور22ہلاک جنگ احد کے بارے اشعار 78
واقعہ احد کا تکملہ 93
حضرت عثمان کی شادی 94
سریہ ابوسلمہ 94
واقعہ رجیع 95
حضرت خبیب ؓ 95
حضرت خبیب ؓ کا قاتل 96
مشرک سے کراہت 97
حضرت عبداللہ بن طارق 98
دورکعت نماز کادستور 99
محبت کی انتہاء 100
طریقہ قتل خبیب 100
خبیب کی لاش 100
بعض آیات کاشان نزول 101
شعراء کاکلام 101
رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش 104
سریہ عمروبن امیہ ضمری 105
سریہ بئیرمعونہ 106
غزوہ بنی نضیر 110
بنی نضیر کی جلاوطنی 111
شراب کی حرمت 111
سورہ حشر کانزول 111
نخلستان کے جلانے کی حکمت 113
مال فے 117
عمروبن سعدی القرضی کاقصہ 118
غزوہ بنی لحیان 119
نمازخوف 120
غزوہ ذات الرقاع 122
وجہ تسمیہ 122
غورث بن حارث کاقصہ 123
ایک شوہر کاقصہ 124
نماز میں محویت 125
حضرت جابر کے اونٹ کاقصہ 125
غزوہ بدر دوم 127
4ھ کے حوادثات کا اجمالی خاکہ 130
حضرت ام سلمہؓ سے شادی 131
5ھ ہجری کےواقعات 132
غزوہ خندق 133
سن ہجرین کب شروع ہوا 133
غزوہ خندق کےمحرک 134
حضرت جابر کی دعوت 137
کھجوروں میں اعجاز 140
چٹان کی چمک سے عجائبات 140
خندق کی کھدائی کی تقسیم 141
ایک اور معجزہ 142
چٹان کی روایت او رمیمون 143
احزاب کامحاصرہ 145
حی اور کعب مکالمہ 145
تحقیق حال 146
محاصرہ اور غطفان سےصلح 147
حضرت علی ﷜ کی شجاعت 148
حضرت علی ؓ کی پیشانی زخمی 150
نوافل کی لاش 151
حضرت سعدبن معاذ﷜ 153
حضرت حسانؓ قلعہ کے اندر 153
حملے کی شدت اور نماز عصر 153
نماز موخر کرنا 154
نمازبر وقت پڑھنا 154
رسول اللہ ﷺ کی دعا 155
نعیم بن مسعود اشجعیؓ کی تدبیر 156
حضرت حذیفہ بن یمان اوراحزاب کانقشہ 158
آسمانی مدد 161
شہدائے خندق 161
غزوہ بنی قریظہ 162
بنی قریظہ میں نمازعصر 163
حضرت ابولبابہؓ 166
کعب کی سعی لاحاصل 166
اوس کی عرضداشت 168
حضرت سعد﷜ 168
حضرت علی ؓ کااعلان جنگ 169
اللہ کافیصلہ 169
حضرت سعدکا زخم ہراہونا 170
حضرت سعد کی دعا مستجاب 170
حضرت عائشہؓ کاتنہا جانا 171
بنی قریضہ کو یکجاکرنا 173
مقتولوں کی تعداد 173
حی نضیری 173
عطیہ قرظی اور علامت بلوغ 174
مال غنیمت کی تقسیم 175
حضرت ریحانہ ؓ 175
حضرت سعدبن معاذ کی وفات 176
عذاب قبر اور حضرت سعدؓ 176
غزوہ خندق اور بنی قریظہ کے بارے اشعاروقصائد 181
ابورافع یہودی کاقتل 190
خالدبن سفیان ھذلی کاقتل 194
عمرو بن عاص کی نجاشی کے ساتھ ملاقات کاقصہ 196
نبی ﷺ کا حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح 198
مہر 198
ولی اور وکیل 199
شادی کاپیغام 199
خطبہ نکاح 199
شادی کے بعد دعوات طعام 199
حدیث مسلم پر اعتر اض 200
نبی ؑ کازینب بنت جحش سے عقدکرنا 201
مہر 201
آیت حجاب کانزول 203
معجزہ 203
6ھ کے حالات 205
بنی لحیان کی طرف 205
غزوہ ذی قرد 206
حضرت ابو عیاش زرقی 206
حضرت محرز شہید 207
حضرت ابو قتادہؓ 207
حضرت عکاشہ 207
خوف وہراس 210
عورت کاقصہ اور ناقہ عضباء 211
غزوہ بنی مصطلق 214
ایک مسلمان شہید ہوا 214
ابن ابی کی خبث باطن 215
منافق کی معذرت 216
آندھی 217
عبداللہ کاجذبہ 217
اطاعت رسولﷺ 217
عزل 217
حضرت جویریہؓ سے شادی 218
خواب 218
مہر 219
واقعہ افک 219
تہمت حد 222
غزوہ حدیبیہ 224
عوام کو دعوت عمرو 225
حدیبیہ 226
بدیل 226
مکرز 227
حلیس 227
عروہ ثقفی 227
حضرت ابوبکر ؓ کاایمانی جوش 227
عجب منظر 228
سفارت 228
بیعت رضوان 229
پہلے کس نے بیعت کی 229
خود بیعت کی 229
سہیل بن عمرو اور مصالحت 229
حضرت عمر کاجوش وجذبہ 229
شرائط صلح 230
حضرت ابوجندل ﷜ 230
گواہ 231
ابوجہل کااونٹ 231
صلح حدیبیہ (صحیح احادیث کی روشنی میں) 232
معجزہ 232
پرسکون حالات کارستہ 233
معجزہ 233
شجر 234
پہلے کس نے بیعت کی 235
کیاحضرت ابن عمر پہلے مسلمان ہوئے 235
عمروحدیبیہ کا بیان 236
بدیل خزاعی 236
عروہ ثقفی 237
حضرت مغیرہؓ کاقصہ 237
رسول اللہ ﷺ کی ہیبت 238
شرائط 239
پہلی شرط 239
حضرت عمر ؓ کامکالمہ 240
ابو بصیر اور ابوجندل 241
صلح صفین کے بارے 242
سریہ حضرت عکاشہ بن محصن 243
سریہ حضرت ابوعبیدہ 243
سریہ حضرت محمدبن سلمہ 243
سریہ حضرت زیدؓبن حارثہ 243
سریہ حضرت زیدؓ 243
ابوالعاص کاتجارتی قافلہ 243
سریہ حضرت زیدؓ 244
سریہ حضرت علی ؓ 244
سریہ حضرت عبدالرحمان 244
سریہ حضرت کرزفہریؓ 244
6ھ کےاہم واقعات 246
غزوہ خبیر 247
امیر مدینہ 247
حضرت ابوہریرہؓ کی آمد 247
رسول اللہ ﷺ کےپڑاؤ 247
گدھے کاگوشت 248
شہیدعامرؓ 248
ام المومنین حضرت صفیہؓ 250
فاتح خیبر 251
محمودبن مسلمہ شہید خیبر 253
دردشقیقہ 254
مرحب کاقاتل کون؟ 256
مجہول اور منقطع روایت 257
جنتی جس نے ایک سجدہ بھی نہیں کیا 258
گھوڑے کاگوشت 261
لہن 261
متعہ 261
سلالم آخر میں فتح ہوا 063
ابو الیسر کےلئے دعا 263
صفیہ بنت حی نضریہ کا قصہ 264
ولیمہ 265
خواب 266
بدعہد ی اور مخبری 266
قلعہ زبیر 267
قلعہ ابی اور سموان 268
قلعہ بزاۃ 268
وطیح اور سلالم 268
مصالحت 268
خیبر کی تقسیم 270
مزارع تابع مرضی مالک 270
تقسیم میں اختلاف 271
رسول اللہ ﷺ کا حصہ 272
کس نے پیمائش کی 273
فدک 273
رسول اللہ ﷺ کی وراثت 273
حضرت جعفرؓ کی آمد 277
حضرت جغفرؓ کے رفقا 277
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی آمد 279
مدعم غلام 279
زہر آلود بکری کے گوشت کاقصہ اورمعجزے کااظہار 279
اعتراف جرم 080
عورت کو قتل کرایا 281
زینب زوجہ سلام یہودیہ 282
عیینہ کا جھوٹاخواب اور یہودکا اعتراف 283
حضرت ابوایو ب کے لئے دعا 284
یاد آنے پرنماز پڑھ لی 285
’’لاحول ‘‘کی فضیلت 286
شہدائے خیبر 287
حجاج بن علاط بہنری کا قصہ 287
خوشی سے غلام آزاد 289
وادی قریٰ پرنبی ﷺ کا گزرنا‘یہودکامحاصرہ کرنا اور ان سےمصالحت کرنا 291
جلاوطنی 292
حضرت عمرؓ نے جلا وطن کیا 293
عہد نامہ اوراس کی اہمیت 293
حضرت ابن عمرؓ پر حملہ 293
سریہ حضرت ابوبکر ﷜ 294
سریہ حضرت عمر ﷜ 294
سریہ عبداللہ بن رواحہ ﷜ 294
سریہ بشیر بن سعد﷜ 295
سریہ غالب بن عبداللہ کلبی ؓ 295
کلمہ توحیدکی عظمت 295
سریہ کدیہ 296
کرامت 297
سریہ بشیربن سعد 297
سریہ ابی حدرد‘ 297
اقرع بن حابس کی مصالحت کی کوشش 299
محلم کوزمین نے قبول نہ کاکیا 299
سریہ عبداللہ بن حذافہ سہمی 300
عمرۂقضا 301
عمرۂ قصاص 301
رمل 302
ابن رواحہ کےاشعار 302
سواری پرطواف کیا 303
دعوت ولیمہ 304
ھدی کےجانوروں کانگران 306
معجزہ 307
رمل اور حضرت ابن عباس 307
رمل میں اختلاف 308
اذان سے نفرت 308
رسول اللہ ﷺ کاحضرت میمونہ سے شاد ی کا قصہ 308
عمرہ قضاکی ادائیگی کے بعد مکہ سے روانگی 310
دخترحمزخ 310
عمارہ کی شادی 311
سریہ ابن ابی العوجاسلمی 312
8ھ کے واقعات 312
حضرت عمر بن عاص﷜ 312
حضرت خالد بن ولید کااسلام قبول کر نا 315
مکتوب ولیدؓ 316
خواب 316
سریہ شجاع بن وھب اسدی 317
سریہ کعب بن عمیر غفاری 318
غزوہ موتہ 318
یہودی کا تبصرہ 319
کس روز روانگی ہوئی 320
کفار کی فوج دولاکھ 320
حضرت ابن رواحہ ؓ کی ولولہ انگیزتقریر اور جذبہ 321
صف آرائی 322
نصرت کثرت سے نہیں 322
حضرت جعفرطیارؓ 323
ابن رواحہ کےاشعار 323
حضرت خالدؓ کی امارت 324
شہداءکی خبر 324
نوے سے زیادہ زخمی 324
حضرت جعفر ؓ کی جرات 325
حکمت عملی 327
استقبال 328
حضرت سلمہ ؓ 329
تعزیت اور کھانا تیارکرنا 332
تین روز تک رونے کی مہلت 333
محمدبن ابوبکر 335
شفقت 335
قثم بن عباس 335
حضرت زید بن حارثہ ﷜ 336
حضرت زید ؓ کی فضیلت 337
حضرت جعفرطیار﷜ 338
حضرت عبداللہ بن رواحہ 340
طاعت کا نمونہ 340
زہدتقویٰ 340
نعت گوشاعر 341
غزوہ موتہ کے شہداء 342
غزوہ موتہ کےامراءکی فضیلت 343
بادشاہوں کے نام ‘ رسول اللہ ﷺ کے مکاتیب 345
شاہانہ اغزاز 346
خواب 346
ابوسفیان دربارمیں 347
سوالات 347
مکتوب گرامی 348
ہرقل کااعتراف 348
حضرت ابوسفیان ﷜ کاتبصرہ 351
ابن ناظورکابیان 351
ایک اور نجومی کی تائید 351
نیاجال اور ہرقل کاحال 351
ابوسفیان ایلیامیں 352
صفاطر پادری کی شہادت 353
آنحضورﷺ کا نامہ مبارک ‘شام میں عیسائیوں کے شاہ کےنام 354
کسریٰ شاہ فارس کے نام مکتوب 355
باذام کا دو آدمیوں کوآپؐ کولانے کے لئے بھیجنا 356
مکتوبت شیرویہ 357
باذام کااسلام 357
عورت کی سربراہی 358
عجب مبلغ 358
پیشں گوئی 359
رسول اللہ ﷺ کانامہ مبارک‘مقوقس ‘ اسکندریہ کے نام 359
تحائف 360
غزوہ ذات سلاسل 361
حضرت عمرؓ کااجتہاداور غسل کرنا 362
شخیین کا ورع وتقویٰ 363
سریہ حضرت ابوعبیدہ 364
مچھلی کی جسامت 365
سریہ اسامہ بن زید 365
نجاشی کی وفات اور غائبانہ نماز جنازہ 366
فتح مکہ 366
فتح مکہ کے اسباب 366
باعث نزاع 367
پیش گوئی 369
ابوسفیان آستانہ نبوی میں 369
رازداری کی انتہا 373
زاد راہ 373
حاطب بن ابی بلتعہ کا قصہ 374
خط لکھنے کی معذرت 375
بازپرس 375
روانگی کب ہوئی 376
روزہ 376
فتح کب ہوئی 377
راستہ میں روزہ کھول دیا 377
حضرت عباس﷜ 378
ابوسفیان بن حارث اورعبداللہ کااسلام 378
مرالظہران میں 379
عبداللہ بن مسعود﷜ 379
ابوسفیان کی گرفتاری 380
حضرت عباس ؓ کی تشویش 380
بدیل اور حکیم کامسلمان ہونا 380
ابوسفیان اور حضرت عمرؓ 381
ابوسفیان اورحکم کا اعزاز 381
حضرت عباسؓ اور حضرت عمر ؓ کی تکرار 381
اسلام لشکر کا منظر 382
نبوت ہے نہ کہ بادشاہت 382
قومی غیرت 383
حضرت ابوسفیان ؓ کا شکوہ 383
نمازکانظارہ 383
جھنڈاحجون پر 385
مکہ میں کیسے داخل ہوئے 385
سیاہ عمامہ 385
سفیدجھنڈا 386
تلاوت 386
تواضع اور انکساری 386
ہیبت 386
ابوقحافہ کامسلمان ہونا 387
لشکر کی ترتیب 388
حضرت سعدؓ کاعلم 388
خیف بن کنانہ میں قیام 389
نامہ کی غلطی اور حضرت خالدؓ کاعمل 391
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح 391
ابن خطل 392
حویرث 392
مقیس بن صبابہ 392
سارہ 392
حضرت عکرمہ﷜ 392
نمازچاشت 394
لکڑی کا کبوتر 395
قریش سے خطاب 395
آزادی او رکلیدکعبہ 396
حضرت ابراہیم کی تصویر 396
360بت 396
بت کواشارہ 397
کعبہ کے اندر تصاویر 398
کعبہ کےاندر نمازپڑھی 398
کعبہ میں اذان بلالی 399
حرم کے مسائل 400
مکہ صلح سے فتح ہوایا بزور 400
خراش خزاعی 401
دعوت میں تبلیغ کااہتمام 402
فضالہ لثیی کاارادۂ قتل 404
مجاہدین کی تعداد 407
فتح مکہ کے موقعہ پرحضرت حسان ؓ کاکلام 407
حضرت خالدؓ بن ولید کی بنی جذیمہ کی طرف روانگی 411
رسول اللہﷺ کی بیزاری 411
ابن عمر اور سالم کااعتراض 412
حضرت خالدؓ کو عتاب 413
عوف کےقتل کاواقعہ 413
حضرت خالد بن ولیدؓ کاعزیٰ کو مسمار کرنا 415
مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کی مدت 416
قیام مکہ کےدوران احکام 417
شرعی حدودمیں سفارش 417
متعہ 418
بیعت 418
بیعت کادستور 419
حضرت ابن عباس کی فضیلت 421
ایک غلط روایت 422
غزوۂ ہوازن او رغزوۂ حنین 423
مشرک سے ہتھیار مستعار 425
12ہرازفوج 426
ذات انواط 426
غنیمت کامثردہ 427
انس ؓ غنوی کا رتبہ 427
آغازجنگ میں اہل اسلام کافرار پھر بہتر انجام 427
ثابت قدم لوگ 428
حضرت انسؓ سے سوالات 429
رسول اللہ ﷺ کی شجاعت 430
حضرت ابوقتادہؓ کی شجاعت 431
مکی لوگوں کی روانگی 432
جاسوس 433
آغازجنگ 433
صفوان کا قول 433
حضرت عباس کی منظرکشی 433
حضرت سلمہ ؓ کی صاف گوئی 434
حضرت ابن مسعودؓ کا بیان 435
70قتل کئے 435
کلام کی تاثیر 435
دعاءمستجاب 436
رعب کی کیفیت 436
شیبہ کا رسول اللہﷺ کے قتل کاارادہ کرنا 436
بنی مالک کے 70 آدمی 439
عیسائی ختنہ نہیں کرتے 439
مالک کی فراست اور زبیر ؓ 441
عورت کوجنگ میں نہ قتل کرنا 442
غزوۂ اوطاس 442
دس مشرک بھائی اورابوعامر 443
ابوعامر کی شہادت 444
لونڈی کامسئلہ 445
عجب نکتہ 445
شہدائے حنین اور اوطاس 445
غزوۂ ہوازن کےبارے اشعار 445
غزوۂ طائف 454
پہلا قصاص 456
سرتابی 456
ابو دغال 456
مسجد طائف 456
کتنے روز محاصرہ 456
23آدمی اترے 458
منجنیق 459
حضرت ابوسفیان ؓ اور حضرت مغیرہ ؓ کاکارنامہ 459
سفارت میں خیانت 459
اعمال جہادکاثوا ب 460
مخنث ھیث 460
خواب 461
شہدائے طائف 462
صخرکاعجب واقعہ 463
طائف سے واپسی اور ہوازن کےمال غنیمت کی تقسیم 464
رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی 465
فراخدلی 466
ہوازن کی آمد 466
ایک کوڑے کامعاوضہ 467
اسیر کب واپس کئے 468
انصار نے صبر نہ کیا 469
انصار کوتسلی 471
انصار کی شکایت 471
خوش اخلاقی اور تبرک 474
تالیف قلبی کی ایک مثال 475
مالک بن عوف نضری ؓ 475
عمروؓ بن ثعلب 476
حضرت حسان ؓ کاشکوہ 476
رسول اللہ ﷺ کی تقسیم پراعتراض 477
رسول اللہ ﷺ کی رضاعی ہمشیرہ کاجعرانہ میں آنا 479
بہن سےسلوک 479
نضیر کااظہار تشکر 480
ذی قعدہ میں عمروجعرانہ 481
عمرہ قعدہ میں جعرانہ 481
چاشت اور عمر ہ جعرانہ 482
احرام 483
حضرت معاویہ ؓ نےبال کاٹے 484
مدینہ کب آئے 484
کعب بن زہیر کامسلمان ہونا 485
اور قصیدہ بانت سعاد 485
انصار کااعتراض 492
8ھ کےمشہور واقعات 493
غزوۂ تبوک 495
ناسخ آیت 496
جد کابہانہ 496
منافقوں کی ردش 496
حضرت عثمان غنی ﷜نے سب زیادہ مال دیا 497
بر سرمنبر چندہ کی اپیل 497
جنگ سے پھیچھے رہنےوالوں کابیان 498
ابویعلی اور ابن مغفل 499
حضرت ابوموسیٰ ﷜ کاواقعہ 499
تبوک کی طرف 501
امیر مدینہ 501
حضرت ابوذر ﷜ 503
’’ساعتہ عسرۃ‘‘کی تفسیر 503
معجزا نہ بارش 503
طعام میں معجزانہ برکت 504
ثمودکےمکانات سے گزرنا 505
ناقہ والے کنوئیں پر 505
آندھی کی پیش گوئی او ردو آدمیوں کی خلاف ورزی 506
ایلہ کابادشاہ اور امن کاپروانہ 507
دو نمازوں کو جمع کرنا 507
تبوک میں کھجور کےتنے سے ٹیک لگاکر خطبہ دینے کابیان 508
نمازی کے آگے سے گزرنے کی سزا 509
معاویہ بن ابی معاویہ کی غائبانہ نمازجنازہ 510
تبوک میں رسول اللہﷺ کے پاس قیصر کےقاصد کی آمد 510
مکتوب نبوی برائے یحنہ بن رۂبہ باشندگان ایلہ 512
مکتوب نبوی برائے اہل جرباء واذرح 513
حضرت خالدؓ بن ولید کو اکیدردو مہ کی طرف روانہ کرنا 513
وادی مشفق میں پانی کامعجزہ 513
آپﷺ کی ہلاکت کامنصوبہ 515
صرف حضرت حذیفہ ؓ کو ان کے ناموں کاعلم تھا 516
چودہ فراد منافق تھے 516
مسجد ضرار کاقصہ 518
مسجد ضرار کی رخصت 518
مسجد قبایا مسجد نبویؐ 579
رسول اللہ ﷺ کاحضرت ابن عوف ؓ کی اقتدادکر نا 520
معذورلوگ برابر کے حصہ دار 520
استقبال 520
حدیث حضرت کعب ﷜ 521
ابوقتادہؓ کی بے رخی 523
شاہ غسان کامکتوب 523
ہلال کی بیوی 524
بشارت 524
ان نافرمانوں کابیان جوپیھپھے رہ گئے تھے 526
حضرت ابولبابہؓ 526
وفد ثقیف کی آمد 529
حضرت عروہ ثقفی ؓ کا اسلام اور شہادت 529
بت مسمار نہ کرنا 531
نمازنہ پڑھنا 531
اسلام کے بعد زکوٰۃ اور جہاد 531
عثمان ؓ کو امام نامزد کر دیا 531
امام کونصیحت 532
رسول اللہﷺ نے خود دم کیا 533
سحری اور افطاری 533
بت خانے کامال 534
اندھی عقیدت 534
مکتوب گرامی 536
عبداللہ بن ابی کی موت 536
رحمت عالم 537
میت کو قبرسے نکالنا 538
ثعلبہ بن حاطب 538
حضر ت ابوبکر صدیق ﷜کوامیر حج بنا کر بھیجنا 539
مشرک اور برہنہ شخص نہ حج کرے نہ طواف 540
معاہدہ کی تفصیل 541
کیا حضرت ابوبکر ﷜ واپس چلے آئے ؟ 542
9ھ کےاہم واقعات 543
نجاشی کی وفات 543
حضرت ام کلثوم کی وفات 543
مسجد ضرار 543
معاویہ لیثی اور عبداللہ بن ابی کی نمازجنازہ 543
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آنے والے وفد 544
بعض وفد فتح مکہ سے قبل آئے 544
مزینہ کاسب سےپہلاوفد 545
خزاعی مزنی 545
وفدبنی تمی

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
17.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز