Categories
Islam نکاح ، منگنی ، ولیمہ اور دیگر رسومات شادی

شادی شوہر اور سنگھار

شادی شوہر اور سنگھار

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 80

 

بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ” شادی ،شوہر اور سنگھار”معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
خطبہ مسنونہ 5
سخن وضاحت 7
زیب و زینت سے مراد 9
زینت میں شامل چیزیں 11
زیور فطری آرائش 12
جائز زیب و زینت 13
ممنوع زیب و زینت 15
جوانی اور سنگھار کی خواہش 16
بناؤ سنگھار شوہر کا حق 20
شادی پر زیب و زینت 21
شادی پر بھی حرام زیب و زینت سے اجتناب 24
دلہن کا سنگار کس وقت؟ 25
شوہر کی موجودگی بناؤ سنگھار 35
بناؤ سنگھار میں شوہر کی پسند کا خیال 39
شوہر کا ذمہ بناؤ سنگھار کے معاملے میں 45
اظہار زینت اور کس کس کے سامنے؟ 51
محرموں کے سامنے اظہار زینت 52
عورتوں کے سامنے اظہار زینت 55
غلام کے سامنے اظہار زینت 57
خدمت گار جو عورتوں سے بے پروا ہوں 57
عورتوں کی باتوں سے نا واقف لڑکے 58
نامحرموں کے سامنے اخفائے زینت 59
بیوہ کے لیے زیب و زینت 60
بے شوہر عورت کے لیے زیب و زینت 61
کنواری کے لیے زیب و زینت 62
گھر سے باہر جاتے ہوئے بناؤ سنگھار 66
پردے میں گھر سے باہر جائیں تو بناؤ سنگھار 72
عورت کا اصل حسن 72

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق و آداب روح معاملات

رشتے کیوں نہیں ملتے

رشتے کیوں نہیں ملتے

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 95

 

انسان کی ان بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے جو انسان کو معاشرے کے آغاز سے ہی درکار ہیں۔ سچ تو یہ کہ یہ ضرورت ہی حضرت ِ انسان کی پہلی ضرورت تھی ۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ کی تخلیق کی ، ان میں روح پھونکی تو حوا کی صورت میں ان کی اس معصوم خواہش کو پورا کردیا ۔اس سب سے پہلے انسانی تعلق کے بعد انہیں جنت جیسا بے مثال گھر دیا گیا۔ ہبوط دنیا سے لے کر آج تک یہ سلسلہ چل رہا ہے او رتاقیامت چلتا رہےگا۔انسان کی یہ ضرورت کسی دور میں بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے والدین کے کسی کو صر ف اتنا کہہ دینے سے پوری ہوجاتی تھی کہ فلاں بیٹا یا فلاں بیٹی میری ہے ۔ اور مناسب موقع پر منگنی یانکاح کے ذریعے بات پکی کر لیتے ۔دور حاضر میں پرانی اقدار دم توڑ رہی ہیں ۔مادیت بلند معیارِ زندگی اور حصول تعلیم نے نکاح کا معیار بھی بدل دیا ہے ۔ ہرکام کاروباری انداز اختیار کر گیا ہے ۔ ہر انسان مصروف ہے اس لیے رشتوں کی تلاش کےلیے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں ۔اور اخبارات ورسائل میں ضرورت رشتہ ، تلاش رشتہ، شتہ مطلوب ہے کے نام سے   اشتہارات ایک عام معمول ہے ۔اس کے باوجود رشتوں کی تلاش دورحاضر کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ یقینا اسلامی تعلیمات سے دور ی ہے ۔ زیر نظر کتاب’’رشتے کیوں نہیں ملتے ؟‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے   ہمارے معاشرے میں رشتوں کے حوالے پائی جانے والی ، رکاوٹو ں اور مشکلات اور مصائب کو بیان کرکے  شریعت اسلامیہ میں موجود انتخاب رشتہ اور شادی بیاہ کی تعلیمات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے ۔عائلی معاملات کی اصلاح کےلیے اس کا مطالعہ مفید ہوگا ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ ­­­­­علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
نکاح کی اہمیت 7
دیر سے شادی کرنے کے اسباب 12
حصول تعلیم 12
خوب صورتی 15
نوجوانی 19
اپنی برادری 20
بڑے بچے کا نکاح پہلے 20
بہتر روزگار 21
جہیز 23
خاندان چھوٹا ہو 24
بچوں کی پسند 25
بچے سمجھ دار ہو لیں پھر۔۔۔ 27
فیملی پلاننگ 27
نکاح کی عمر 30
نکاح ایک عبادت 33
حقوق العباد کی ام الراس 36
بیوی کے انتخاب کی شرائط اور آداب 37
صاحب ایمان 37
دین پر عمل پیرا 38
پاک دامن 42
صالحہ، قانتہ، حافظۃ للغیب 42
ایمان میں معاون 45
خوب بچے پیدا کرنے والی 45
اسلاف کا طریق انتخاب 47
ابراہیم ؑ کی بہو 47
عمر ؓکی بہو 49
داماد کن اوصاف کا حامل ہو؟ 51
صاحب ایمان 51
دین اور اخلاق میں بہتر 52
قوی و امین 54
علم اور تقویٰ 57
کفو 59
اسلامی شرائط کے مطابق رشتہ طے کرنے کے فوائد 62
نصف دین کی حفاظت 62
اللہ سے پاک صاف ہو کر ملنا 65
سنت انبیاء پر عمل 65
اللہ کی مدد کا وعدہ 66
مالی وسعت 57
سکون، مودت اور رحمت 68
خطبہ (نکاح کا پیغام دینا) 70
لڑکی کی اجازت 73
ولی کا حق انتخاب 75
اجازت کیسے لی جائے 75
نابالغہ کا نکاح 79
مرد کا پیغام نکاح 81
لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت 82
استخارہ 86
دعا 87
احتیاط 89
پیغام پر پیغام پر پیغام مت دیں 89
دو بہنوں کو نکاح میں رکھنا 89
الحاصل 90
مصادر و ماخذ 93

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سنت نماز

قضا نماز اور قضا عمری

قضا نماز اور قضا عمری

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 24

 

اللہ تعالی نے ہر مسلمان پر وقت مقررہ پر نماز ادا کرنا فرض قرار دے دیا ہے۔اگر کوئی مسلمان کسی شرعی عذر کی بناء پر وقت مقررہ پر نماز ادا نہ کر سکے تو اجازت ہے کہ وہ اپنی اس رہ جانے والی نماز کو بعد میں قضا کر کے پڑھ لے۔اور اگر کسی مسلمان نے کئی روز یا کئی ماہ یا کئی سال تک نماز نہ پڑھی ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا عمل ہے۔ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے توبہ کرے اور بارگاہ الہی میں آ کر وقت پر نمازیں پڑھنا شروع کر دے۔اتنے لمبے عرصے تک جان بوجھ کر نماز نہ پڑھنے سے توبہ واجب ہو جاتی ہے اور ان رہ جانے والی نمازوں کی قضا نہیں ہو گی۔بعض لوگوں نے ایک خود ساختہ اصطلاح “قضا عمری ” گھڑ رکھی ہے ۔اور زیادہ عرصے تک نمازیں نہ پڑھنے والے کو اس خود ساختہ اصطلاح کے مطابق قضا کرنے کا فتوی دیتے ہیں،حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ” قضا نماز اور قضا عمری “معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے قضا نماز کی حقیقت بیان کرتے ہوئےقضا عمری کی خود ساختہ اصطلاح کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ ﷫ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
نماز کی اہمیت 5
نماز وقت پر ادا نہ کر سکنے کے شرعی عذر 6
جہاد میں شمولیت کی وجہ سے نماز رہ جانا 7
نیند کی وجہ سے نمازرہ جانا 8
بھول کر نماز رہ جانا 9
ایک رکعت برابر کسی نماز کا وقت پالینا 10
قضا نماز اگلے دن کی نماز کے ساتھ پڑھنا 10
فوت شدہ نماز سے پہلے موجودہ وقت کی نماز پڑھ لینا 10
قضا نماز ادا کرتے وقت صرف فرض یا سنت بھی؟ 11
اگر جمع کی نماز قضا ہو جائے 12
رویت کا پتا نہ چلنے پر عید کی نماز رہ جانا 12
قضا نماز کی اذان، اقامت اور جماعت 13
اگر صرف سنتیں چھوٹ جائیں 14
مسلسل نماز نہ پڑھنے کے خود ساختہ بہانے 14
گزشتہ عمر کی نمازیں قضا پڑھنے کا حکم 18
چھوڑی ہوئی نمازوں کا کفارہ 18
جان بوجھ کر کوئی ایک نماز چھوڑ دینا 18
قضا عمری 19
قضا عمری فرض نمازوں میں کوتاہی کا کفارہ 19
کیا نماز کا فدیہ کفارہ، نیابت ہے؟ 20
فوت ہونے والے کے ذمہ نمازوں کا حکم 21
کسی دوسرے کے لیے نماز پڑھنا 21

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تہذیب متفرق کتب

جسمانی حرکات اور شائستگی

جسمانی حرکات اور شائستگی

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 48

 

اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کیں ان سب میں انسان اس کی شاہکار تخلیق ہے خوبصورت ایسا ہ کہ اس کے بارے میں خود رب العالمین نے فرمایا:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم(التین:4) اس کا نازک اور خوبصورت جسم ہر وقت محوِ حرکت ہے۔ ربِ کریم نے انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت دی ہے اوراسے وہ کچھ عطا کیا ہے جو مخلوقات میں کسی کو نہیں دیا۔انسان کے امتیازی اوصاف کی وجہ سے انسان اچھائی برائی کا مکلف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ بھی۔انسان کے بعض افعال وحرکات میں انسان جانوروں سےمشابہ ہے لیکن جانوروں میں علم،عقل اوراختیار نہیں ہے جب کہ انسان کوجو چیز جانوروں سےممتاز کرتی ہے وہ اس کے افعال وحرکات میں شائستگی اور تہذیب ہے ۔کیوں کہ اسلام نے انسانی افعال وحرکات کو ایک خاص ضابطے کے اندر رکھنے کی تلقین کی ہے ۔انسانی جسم بہت سے اختیاری اوغیر اختیاری افعال میں ہر وقت مصروف رہتاہے ۔اسلام نے ان افعال کو بھی شائستگی کا حسن عطا کیا ہے تاکہ انسان حیوانوں سے ممتاز ہوسکے۔ زیر نظرکتابچہ’’جسمانی حرکات اور شائستگی ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریری کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے انسان کی اختیاری اورغیراختیاری حرکات کوبیان کرنےکے ساتھ ساتھ   بڑے احسن انداز میں اس کےمتعلق اسلامی تعلیمات کو بھی پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
اختیاری حرکات 10
غیر اختیاری حرکات 10
انگلیاں چٹخانا 12
کان میں انگلی ڈالنا 13
ناک میں انگلی ڈالنا 13
تھوکنا 15
کھانسنا 18
چھینکنا 19
ڈکار لینا 21
جمائی لینا 22
ریح آنا 23
کسی غیر متوقع صورت حال پر ہنسنا 25
قہقہ لگانا 26
منہ کھولنا 27
دانتوں میں انگلی ڈالنا 27
دانت کچکچانا 28
غصے میں انگلیاں کاٹنا، پاؤں پٹخنا، چیزیں پھینکنا 29
دانتوں سے ناخن کاٹنا 30
کوئی کیڑا یا جانور دیکھ کر چیخ مارنا 31
اونچی آواز سے بولنا 32
کسی چیز پر ہاتھ یا کوئی اور چیز مار کر آواز پیدا کرنا 35
آدھا دھوپ میں اور آدھا سائے میں بیٹھنا یا لیٹنا 36
ایک جوتا پہن کر چلنا 37
پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلنا 37
اکڑ اکڑ کر چلنا 38
خطبہ جمعہ کے دوران کنکریوں سے کھیلنا 39
بڑوں کی موجودگی میں پاؤں پھیلا کر بیٹھنا 40
بایاں ہاتھ پیٹھ پر رکھ کر بیٹھنا 40
بالوں سے کھیلنا 41
پراگندہ بال رکھنا 41
بلا ضرورت پٹی باندھنا 41
راستہ چلتے ہوئے پیچھے مڑ مڑ کر یکھنا 41
منہ سے سیٹیاں بجانا یا دیگر آوازیں نکالنا 42
دوران تقریر مختلف حرکات اور اشارے کرنا 44
آنکھوں سے اشارے کرنا 45
زمین پر رکھی جوتیوں کو ہلانا 47
کوئی بات کرتے تو چونک کر اس کی طرف دیکھنا 47
کھانا کھانے والے کی طرف دیکھنا 48

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam سنت عبادات علماء گوشہ نسواں نماز

اعتکاف اور خواتین

اعتکاف اور خواتین

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 48

 

رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت  و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ دنیوی مشاغل سے بالکل دور رہے، خریدو فروخت کا بالکل کوئی کام نہ کرے، مسجد سے باہر نہ نکلے، جنازہ کے لیے بھی نہ جائے اور نہ کسی مریض کی بیمار پرسی کے لیے جائے۔ بعض لوگوں میں جو یہ رواج پا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والوں کے پاس دن رات آنے جانے والوں کا تانتا باندھا رہتا ہے اور ان ملاقاتوں کے دوران ایسی گفتگو بھی ہو جاتی ہے جو حرام ہے تو یہ سب کچھ اعتکاف کے مقصود کے منافی ہے۔ہاں اعتکاف کے دوران گھر کا کوئی فرد ملنے کے لیے آئے اور باتیں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺاعتکاف میں تھے تو حضرت صفیہ ؓ ملاقات کے لیے تشریف لائیں اور انہوں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کیں۔خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو چاہیے وہ اپنے اعتکاف کو تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا لے۔اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے، گھر میں نہیں ہوتا ۔ مسجد کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف کرنا صحیح نہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :’’ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو عورتوں سے مباشرت نہ کرو ‘‘ البقرة ( 187 ) ۔ فرمان الٰہی کے   اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں کہ   اگر خواتین نے اعتکاف کرنا ہو تو وہ بھی مسجد میں ہی کریں۔عورتوں کے لیے گھرمیں اعتکاف کرنا جا‏ئزنہيں کیونکہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے نبی ﷺسے مسجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انہیں اجازت دے دی ۔ گویا اعتکاف کرنے کی جگہ میں مرد اور عورت کےلیے کوئی تخصیص نہیں ہے لہذا عورت بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرے گی۔ کیوں کہ قرآن حکیم اوراحادیث نبویہ میں عورت کےلیے   کوئی تخصیص نہیں بتائی گئی۔ زیرنظر کتابچہ ’’ اعتکاف اور خواتین ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے خواتین کےلیے   اعتکاف کرنے کی شرعی حیثیت اور آداب وشرائط کو عام فہم انداز میں قرآن وحدیث کی روشنی میں   پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ محترمہ کی تمام دینی واصلاحی اور دعوتی کاوشوں کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔

 

عناوین صفحہ نمبر
خطبہ مسنونہ 5
اعتکاف اور خواتین 7
اعتکاف کی مدت 7
اعتکاف کی شرائط 8
خاوند کی اجازت 9
ماحول پر امن ہو 12
اعتکاف کی اقسام 12
اعتکاف لغیر اللہ 14
اعتکاف کے لیے روزے کی شرط 14
جائے اعتکاف میں جائز امور 16
اعتکاف کو باطل کردینے والے افعال 17
اعتکاف کی جگہ 18
عورت اعتکاف کہاں کرے گی؟ 19
اعتکاف کا مقصد 23
خواتین کا اعتکاف چند قابل توجہ امور 28
مساجد، افطاری اور معتکف خواتین 38
آخری بات 47

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
10.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اسلام اور سائنس تاریخ سنت

اسلام سائنس اور مسلمان

اسلام سائنس اور مسلمان

 

مصنف : ابو علی عبد الوکیل

 

صفحات: 355

 

اسلامی علوم بالخصوص قرآن و سنت کے حوالے سے تحقیق، تفسیر، تشریح ،تسہیل اورتفہیم کا کام صدیوں پر محیط ایک مستحکم اور درخشندہ تاریخ کا حامل ہے۔ ہر عہد کا اپنا ایک محاورہ اور معیار ہوتا ہے جس کے مطابق نظریات کی تفہیم و تجزیہ کیا جاتا ہے،یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے آغاز سے ہی ’’سائنس‘‘ اپنے عہد کا محاورہ قرار پائی تھی اور گزرنے والے مہ و سال اس کے محکم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر رہے تھے،ایسے میں درپیش صورت حال کا مسکت جواب دینے کی ضرورت محسوس کی گئی۔’’موجودہ دورمیں اسلام کے علم الکلام کی بنیاد بھی جدید تجرباتی علوم کی دریافتوں پر استوار ہونی چاہیے، اس لیے کہ ان کے نتائج قرآنی افشائے حقیقت سے ہم آہنگ ہیں،چناں چہ دین کا سائنٹیفک علم موجودہ دور کے مسلمانوں کے اعتقاد کو پختہ اور راسخ بنا دے گا۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلام سائنس اور مسلمان‘‘ابو علی عبد الوکیل کی ہے۔ عصر جدید میں قرآن حکیم کی اعجازی رہنمائی کا ایک اچھوتا اور لازوال مرقع ہے۔مزید اس کتاب میں خلافت ارض کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کی اہمیت ،اسلام اور جدید سائنس مقصد اور طریقۂ کار ،قرآن اور سائنس چند اصول و کلیات اور اجرام سماوی کا جغرافیہ اور ربوبیت کے بعض اسرار کو عیاں کیا ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ ابو علی عبد الوکیل کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ ۔زندہ رکھتی ہےزمانےکوحرارت تیری 7
مذہب اورسائنس 17
مذہب اورسائنس کاربط 24
مذہب اورسائنس کاباہمی تعلق 28
اسلام قرآن اورسائنس 43
قرآن مجیداورسائنس 66
قرآن سائنس اورسائنسی تعلیم 75
صحیح سائنس علم اسلام کاہنموہوتاہے 93
قرآن کاعصری تحقیقات 100
اسلام عصری علوم کامخالف نہیں ہے 112
سائنس شیطانی علم نہیں 118
اسلامی میں سائنسی علوم کی اہمیت 121
اسلامی سائنس کیوں؟ 124
قرآن پاک کےساتھ جدیدسائنس کی موافقت 155
جدیدسائنس قرآن کی نظرمیں 160
قرآن سائنس اورعصرحاضر 160
قرآن مجیداورجدیدسائنسی انکشافات 163
قرآن وحدیث کےسائنسی اعجازات 179
تخلیق کائنات کااسلامی تصور 186
کائنات کےخاتمہ کااسلامی اورسائنسی تصور 198
انسانی وجودقرآن اورجدیدسائنس 207
قرآن سائنس اورتسخیرکائنات کی تعلیمات 211
قرآن مجیدمین ایٹم بم کاتذکرہ 215
اسلام اورماحولیاتی آلودگی 218
جدید ترین اسلحہ کاحصول اوراسلام 226
مسلمانوں کی تاریخ میں علم اورسائنس کی روشنی 230
یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں مسلمانوں کاحصہ 236
مسلمان سائنسی علوم کےوارث 257
مسلمان اورجدیدوفنوون 262
فلکیات میں مسلمانوں کی تحقیقی کاوشیں 269
فن تعمیرمین مسلمانوں کی خدمات 282
مسلمانوں کی طبی خدمات 292
میڈیکل سائنس میں مسلمانوں کاکردار 296
جدیدزراعت میں مسلمانوں کےکارنامے 301
مسلمانوں کی اسلحہ سازی کی تاریخ 304
مسلمان سائنسدانوں کی چندایحادیں 321
اسلامی دنیامیں تعلیم اورسائنس ایک فسانہ عبرت 325
مسلمانوں کی سائنسی پسنماندگی کےاسباب 331
مسلم نوجوانوں کےلیے جدیدعلوم کی ضرورت واہیمت 336
مسلمان سائنس میں ٹیکنالوجی میں کیسےآگے بڑھ سکتےہیں 349

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان گوشہ نسواں

حفظ حیا گفتگو اور تحریر

حفظ حیا گفتگو اور تحریر

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 61

 

انسان کے دل میں ہر وقت مختلف قسم کے خیالات و جذبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔یہی جذبات وخیالات جب کسی کام کا تانا بانا بنتے ہیں تو وہ نیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اور جب نیت اپنے اعضاء وجوارح کو عملی جامہ پہنانے پر پوری طرح چوکس کر دیتی ہے تو یہ عزم کہلاتا ہے۔اگر انسان کے دل میں خیالات وجذبات ،ایمان اور عمل صالح کے تحت اپنا تانا بانا بنتے اور باہر نکل کر کچھ کرنے کے لئے مچلتے ہیں تو انسان کی زبان سے خیر بھرے الفاظ کا اخراج ہوتا ہے لیکن جب انسان کی دل میں فحش قبیح اور گناہ آلود جذبات وخیالات ابھر رہے ہوتے ہیں تو زبان سے بھی گندے اور گناہ پر مبنی الفاظ نکلتے ہیں۔اسلام نے ہمیں سچی اور اچھی بات کہنے،اور فحش گوئی و بے ہودہ گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حفظ حیا ،گفتگو اور تحریر‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں   نے اپنی گفتگو اور تحریر میں حیاء کی حفاظت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بے حیائی وفحش گوئی کی مذمت کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حفظ حیا اور گفتگو 5
اسلوب قرآنی اور حیا 6
رسول اللہﷺ کی گفتگو میں حیا 9
صحابہ کرام کی گفتگو میں حیا 12
گفتگو میں حیا کن کن مواقع پر 15
گفتگو میں مختلف بیماریوں کا تذکرہ 17
گالی سے بچنا 18
عیب جوئی، غیبت، استہزا اور چغلی سے پرہیز 24
بے حیا لوگوں کا تذکرہ 26
گفتگو میں نا محرم کا بے جا تذکرہ 26
نا محرم کے سامنے شیریں بیانی 30
فحش مذاق کرنا 32
فحش لطیفے 32
حفظ حیا اور تحریر 33
تحریر میں حفظ حیا کیوں۔۔۔۔؟ 35
بے حیائی کی اشاعت 37
ادب میں بگاڑ کے عومل 39
شاعری اور حفظ حیا 41
رب کریم کی عائد کردہ سنسر شب 53
استثنائی صورتیں 56
تعلیمی ضرورت 56
علاج کی غرض سے 57
عدالتی کاروائی میں 58

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق و آداب اسلام گوشہ نسواں

حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں

حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 71

 

اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے۔ان خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خوبی شرم وحیا ہے۔شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے۔ دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی  کو دیکھا جو اپنے بھائی کوسمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا:اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا ءدوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔سیدنا شعیب ؑ کی بیٹی جب سیدنا موسیٰ ؑ کو بلانے کے لئے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی۔ اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں باقاعدہ اس کا تذکرہ فرمادیا۔ جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ زیر تبصرہ کتاب ” حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں “معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے عورتوں کو شرم وحیاء کا پیکر بننے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
سخن وضاحت 5
حیاکیا ہے؟ 8
حیااور ضمیر 9
حیا ایک فطری جذبہ 10
حیا اور ایمان 11
حیا کنواری لڑکی کا جوہر 12
حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں 15
حفظ حیا اور والدین کا کردار 15
جوانی کی دہلیز پر 16
آہستگی اور دھیما پن 18
لیٹنے کا انداز 19
کھڑکیاں اور بالکنیاں 20
تعمیر مکان اور حفظ حیا 20
دروازے یا فون کی گھنٹی اور حیا 21
نوجوان لڑکوں سے بات چیت اور حیا 22
نامحرموں کے سامنے آنے سے گریز 23
گھر سے باہر جانے سے گریز 24
لڑکیاں اور بازار 26
تعلیم اور حفظ حیا 27
حفظ حیا اور کڑھائی سلائی 29
حفظ حیا اور لباس 30
حفظ حیا اور تقریب 36
میک اپ اور کنواری لڑکیاں 37
زیور اور کنواری لڑکیاں 42
گانا، گنگنانا اور کنواری لڑکیاں 43
رسالے، اخبارات اور حفظ حیا 45
بے حیا اور انجان عورتوں سے حجاب 46
سہیلیاں اور حفظ حیا 47

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam دینی مدارس زبان علماء فارسی فقہ

ظفر المحصلین با حوال المصنفین یعنی حالات مصنفین درس نظامی

ظفر المحصلین با حوال المصنفین یعنی حالات مصنفین درس نظامی

 

مصنف : محمد حنیف گنگوہی

 

صفحات: 519

 

ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے اکثر مدارس میں مروج نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس کو بارہویں صدی کے مشہور عالم اور مقدس بزرگ مولانا نظام الدین سہالویؒ نے اپنی فکراور دور اندیشی کے ذریعہ مرتب کیا تھا۔ مولانا کا مرتب کردہ نصاب تعلیم اتنا کامل ومکمل تھا کہ اس کی تکمیل کرنے والے فضلاء جس طرح علوم دینیہ کے ماہر ہوتے تھے اسی طرح دفتری ضروریات اور ملکی خدمات کے انجام دینے میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فارسی زبان ملکی اور سرکاری زبان تھی اور منطق وفلسفہ کو یہ اہمیت حاصل تھی کہ یہ فنون معیار فضیلت تھے اسی طرح علم ریاضی (علم حساب) کی بھی بڑی اہمیت تھی ،چنانچہ مولانا نے اپنی ترتیب میں حالات کے تقاضے کے مطابق قرآن حدیث فقہ اور ان کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے عصری علوم کو شامل کیا اور حالات سے ہم آہنگ اور میل کھانے والا نصاب مرتب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نصاب اس وقت بہت ہی مقبول ہوا اور اس وقت کے تقریباً تمام مدارس میں رائج ہوگیا۔آج بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ نصاب دینی مدارس میں رائج ہے۔ زیر تبصرہ کتاب” ظفر المحصلین باحوال المصنفین یعنی حالات مصنفین درس نظامی “مولانا محمد حنیف گنگوہی صاحب ، فاضل دار العلوم دیو بند کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  درس نظامی کے نصاب میں شامل کتب کے مصنفین کے حالات کو ایک جگہ کر دیا ہے تاکہ درس نظامی کے طلباء ان کتب کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے مصنفین کے حالات سے بھی آگاہ ہوں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
14.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام داڑھی و خضاب زبان سنت

داڑھی مرد مؤمن کا شعار

داڑھی مرد مؤمن کا شعار

 

مصنف : ام عبد منیب

 

صفحات: 95

 

اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی مرد مومن کا شعار ہے‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں     داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
فطرت کا عطیہ 7
تمام انیباء کی سنت 9
صحابہ کرام اور اہل ایمان کی پہچان 11
ڈاڑھی بڑھانے کا حکم 12
ڈاڑھی کی تعریف 13
ڈاڑھی واجب ہے یا سنت 14
ڈاڑھی استرے کی زد میں 17
قانون فطرت سے انحراف 17
مردانگی سے انکار 18
عورتوں کی مشابہت 19
اللہ کی تخلیق پر زبان حال سے اعتراض 20
زنخہ بننے کا پیش خیمہ 21
شیطان کی اطاعت 24
قوم لوطؑ کا فعل 25
مغضب کا فعل 26
مشرکوں اور مجوسیوں کی مشابہت 26
جوگیوں اور قلندروں کی نقالی 28
امت مسلمہ سے نام کٹوانے کا باعث 29
جو جیسا وہ ویسا 30
کسی کی ڈاڑھی مونڈنا یا نوچنا قابل تاوان جرم 31
مال اور وقت کا ضیاع 33
کارے بے کار 34
جلد بڑھاپا آجانے کا باعث 35
شخصیت و کردار پر ڈاڑھی کا اثر 36
مرد مسلم کا شعار 37
عزت و رعب کا باعث 38
گناہ سے بچانے میں ڈاڑھی کا کردار 41
جنسی کشش کا باعث 41
علم دین اوراہلیت امامت کی علامت 42
چند اشکالات و اعتراضات 44
تارک سنت گنہ گار نہیں ہوتا 47
ڈاڑھی رکھنا اہل عرب کا دستور تھا 49
ڈاڑھی رسول اللہﷺ کی ذاتی پسند تھی 50
سنت کیا ہے؟ 51
محبت کا تقاضا 53
سوال الٹا، جواب الٹا 55
بعض نامور شخصیات مگر ڈاڑھی ندارد 56
ڈاڑھی والے جرائم پیشہ ہوتے ہیں 59
ڈاڑھی مونڈنے سے اسلام میں کوئی فرق نہیں پڑتا 63
عیار دشمن، غدار دوست 66
ڈاڑھی اور بیوی 71
ڈاڑھی نہ رکھنا ایمانی کمزوری 72
احساس ندامت 73
ڈاڑھی کے رنگا رنگ نمونے 75
کیا لمبی ڈاڑھی بد صورت لگتی ہے 76
لمبی ڈاڑھی (طول فحش) اور خفیت عقل 77
ایک مٹھی برابر ڈاڑھی 79
سچی ڈاڑھی 84
ڈاڑھی کے طبی فوائد 85
ڈاڑھی سے سفید بال اکھیڑنا 87
ڈھاڑی کو خضاب لگانا 88
مونچھیں 91
ڈاڑھی مونڈنے والے حجام کی کمائی 92
شیونگ کا سامان بنانے والے 92

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز