Categories
Islam اسلام اہل تشیع نبوت

شیعیت کا آپریشن

شیعیت کا آپریشن

 

مصنف : محمود اقبال

 

صفحات: 161

 

نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ” شیعیت کا آپریشن ” محترم محمود اقبال  کی تصنیف  ہے۔جس میں انہوں نے شیعہ کے عقائد ونظریات کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ ان کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر  کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس قدیم فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مؤلف 11
قارئین کی خدمت میں گزارش 12
تعارف 14
مسئلہ کا تاریخی پس منظر 16
ضروری التماس 18
مقدمہ 21
باب اول 23۔ 31
موجودہ ملکی حالات ۔ اور اس کا ذمہ دار کون ؟ 23
کیا آپ کو معلوم ہے کہ …. 25
فیصلہ آپ کریں 30
باب دوم 32۔ 38
مذہب شیعہ کے چند بنیادی عقائد 32
عقائد شیعہ 34
قرآن مجید محرف ہے 34
متعہ 35
صحابہ کرام پر تبرا 36
ملائکہ پر ایمان 37
شیعہ حضرات کا کلمہ 38
باب سوم ( حصہ اول ) 39۔ 45
خمینی کے غلیظ نظریات 39
آئمہ کرام کے بارے میں خمینی کےعقائد 40
آئمہ سہو اور غفلت سےمحفوظ اور قزہ ہیں 42
خمینی اپنی کتاب کشف الاسرار کے آئینہ میں 43
حضرت عثمان ذو النورین کے بارے میں خمینی کا عقیدہ 44
باب ( حصہ دوم ) 46۔ 66
امامت 46
اماموں کو پہچاننا اور ماننا شرط ایمان ہے 50
امامت اور اماموں پر ایمان لانے کا اور اس کی تبلیغ کاحکم سب پیغمبروں 51
اماموں کی اطاعت فرض ہے 53
آئمہ کی اطاعت رسولوں ہی کی طرح فرض ہے 55
آئمہ ابنیاء ﷩ کی طرح معصوم ہوتے ہیں 56
امامت کا درجہ نبوت سے بالاتر ہے 58
امير المومنين كا ارشاد كہ تمام فرشتوں اور تمام پیغمبروں نے میرے لیے اسی طرح قرار کیا جس طرح محمدؐ نے کیا تھا اور میں ہی لوگوں کو جنت اور دوزخ میں بھیجتے والا ہوں ۔ 60
آئمہ کو ماکان وما یکون کا علم حاصل تھا اور وہ علم میں حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر سے بھی فائق تھے 61
آئمہ کے پاس فرشتوں کی آمدو رفت رہتی ہے 62

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اہل تشیع خلفاء راشدین سنت

شیعہ مذہب کی حقیقت

شیعہ مذہب کی حقیقت

 

مصنف : علامہ احسان الہی ظہیر

 

صفحات: 114

 

نظامِ قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، اس فرقہ کی تین قسمیں ہیں غالیہ،زیدیہ، رافضہ اور ہر ایک کے مختلف فرقے ہیں ۔شیعہ فرق کے باطل    عقائد، افکار   ونظریات  کو ہر دور  میں علمائے حق نے آشکار کیا ہے ۔  ماضی قریب میں  فرق ضالہ کے ردّ میں شہید  ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تقریر ی وتحریری، دعوتی  وتبلیغی  اور تنظیمی  خدمات کو  قبول فرمائے اوران کی  مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس  عطا کرے۔ زیر نظر  کتاب’’شیعہ مذہب کی حقیقیت‘‘ شیعہ کے عقائد ونظریات سےمتعلق   علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی کچھ تحریروں کی تلخیص ہے ۔اس میں  صرف کتبِ شیعہ  کی مندرجات  ہی کودلیل میں پیش کیا گیا ہے  اور ہر نص وعبارت کا حوالہ شیعہ  ہی کی مستند ومعتبر کتابوں سے دیا گیا ہے ۔محترم جناب مولانا حافظ عبد اللطیف اثری﷾ نے تلخیص وترتیب کا فریضہ انجام دیا ہے۔مرتب  موصوف نے  موضوع سے متعلق کچھ مفید باتوں کو یکجا کردیا ہے۔البتہ کچھ حوالہ جات عربی ،عبارات اور توضیحات کا ا ضافہ کیا  ہے ۔ نیز موجود حالات  کےتناظر میں جن باتوں کی ضرورت نہیں تھی اسے حذف کردیا  ہے۔اللہ تعالیٰ   مرتب وناشر کی  جہود کو قبول فرمائے  (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف مرتب 5
شیعیت کا آغاز 7
اسلامی عقائد کی دیوار میں سب سے پہلےنقب لگانے والا 7
حضرت عثمان ؓ کی شہادت میں کس کا ہاتھ تھا؟ 12
عبد اللہ بن سبا کون تھا؟ 17
عبد اللہ بن سبا کا مفسدانہ رول 18
عقیدہ ولایت ووصایت 19
تعطیل شریعت 22
شیعہ مذہب میں جمعہ فرض نہیں ہے 22
مسئلہ بداء کامفہوم 23
عقیدہ رجعت 25
شیعہ قوم اور بارہ امام 25
ائمہ اور علم غیب 25
غلو و مبالغہ آرائی 26
غیب کا علم صرف اللہ کو ہے 27
شیعہ کے نزدیک حضرت علی اللہ سے ہم کلام ہوئے ہیں 30
صحابہ و خلفاء راشدین کےخلاف طعن و تشنیع 3
ازواج مطہرات کےخلاف دریدہ دہنی 38
صحابہ کرام کی عمومی تکفیر 40
صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ ( قرآن و سنت کی روشنی میں ) 42
کذب ونفاق۔ شیعہ مذہب کی بنیاد 54
تقیہ ۔ دین و شریعت ہے 59
شیعہ کے نزدیک ائمہ کوحلال وحرام کااختیار ہے 66
تقیہ کاعقیدہ کیوں اختیار کیاگیا ؟ 70
اس عقیدہ کووضع کرنے کی دیگر ضرورتیں 76
شیعہ کےدلائل  اور تردید 77
شیعہ رواۃ 84
شیعہ حضرت علی کی نظر میں 88
دیگر ائمہ کی طرف سے شیعہ کی مذمت 92
کتب شیعہ میں مدح صحابہ 92
خلفاء راشدین کی خلافت کا اعتراف 96
قرآن مجید کی تحریف 101
تحریف سے متعلق شیعہ روایات کی تعداد 102
عقیدہ امامت 103
متعہ 105
کیامتعہ ہر عورت سے ہو سکتا ہے 106

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ حنفی ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت عدلیہ علماء نبوت

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )

 

مصنف : شفیق الرحمٰن الدراوی

 

صفحات: 350

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ
فہرست مضا مین
انتساب:
ہدیہ تشکر 16
سرنغمہ ، پر سو ز : 18
مقدمہ ا ز مولانا منیر قمر حفظ اللہ 20
باب اول : نبی ر حمت ْﷺ 22
عموم رحمت: 24
مومنین کے لیے رحمت: 26
مو منین کے لیے رحمت کاایک منظر 27
عبادت رحمت 29
اہل خانہ کے لیے رحمت: 30
سلوک  رحمت کی مثالیں 34
اہل خانہ کے ساتھ رحمت تعلیمات 34
عورتوں پر رحمت 36
بیو ا و ں کیساتھ رحمت 36
بچو ں پر رحمت 38
یتیموں پر رحمت 40
بچیوں کے لیے رحمت 42
غلاموں پر رحمت 45
غلاموں کی سزادینے کی مما نعت 47
غلامو ں کا احساس 47
تعلیمات رحمت کا اثر 47
دعوت حق میں رحمت 48
دعوت میں رحمت کی ایک مثال 49
کفار کیلئے رحمت 50
مشرکین کےلیے رحمت 52
منافقین کے لیے رحمت 53
میدان کا رزار میں رحمت 53
تعلیمات کا اثر 55
محبت کرنے والوں پر رحمت 56
حیوانات کیلئے رحمت 57
حرام جانور  وں کیلئے رحمت 61
جمادات کا ساتھ رحمت 63
امن عالم اور نبی رحمت ﷺ 65
تکملہ باب رحمت 66
باب دوم : انصاف پسندوں کے اعترافات 68
باب سوم : محمد ﷺ سے دشمنی کی وجوہات معا ذ ین کا انجام 83
رسول اللہﷺ سے دشمنی کے اسباب 84
فصل اول : شر پسندوں کی بیہو دگیا ں اور ان کا انجام 88
شر پسندوں کی عاقبت 88
شر پسند نا کام  ہی رہیں گے 89
شر پسندوں کی روش 89
شیطانی  مہلت ملی ہے ان کو 91
بنی ﷺ سے د شمنی کی مو جو د لہر 92
قربانی ﷺ کا بکرا 94
آزادی ء ا ظہار رائے و فکر و نظر کی حقیقت 95
مغرب کی منافقت اور اظہار رائے کی ا ٓ زادی 98
امریکی کردار 100
مذہبی شخصیات اور ان کی خرافات 101
فصل دوم : پس پر دہ حقائق 103
کھلم کھلی اسرائیلی مدد 104
سیاسی جنگ 105
صحافت و ذروائع ابلاغ کی جنگ 106
فصل سوم :گمراہی اور استبدار کے وسائل 107
فصل چہارم : مسلمانو ں کا کردار 111
مومن کا ان حالات میں مو قف: 111
حالا ت  کا تقا ضا 113
باب چہارم: نصر ت رسول اللہﷺ کے بعض وسائل 117
باب پنجم : بائیکاٹ کی تعریف اور تاریخ 123
بائیکاٹ کی تاریخ 123
1۔حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا بائیکا ٹ ۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی با ئیکاٹ کی دھمکی 123
3۔حضرت یوسف ؑ کی بائیکاٹ کی دھمکی :4۔ ابو لہب کا بائیکاٹ 124
5۔ ابوجہل مردود کا بائیکاٹ :6۔ قریش کا بائیکاٹ 125
7۔ :حضرت ثمامہ بن ا ثال ؓ کا بائیکاٹ 125
بائیکاٹ ثمامہ  کےا ثرات و نتائج : 8۔ حضرت ابو بصیر ؓ  کا روائی 126
10آئر لینڈ کی تحریک بائیکاٹ : 11۔ جمرنی کاخلاف یورپ کا بائیکاٹ 128
12۔ گاندھی کی تحریک بائیکاٹ 128
13۔: عالم اسلام اور اسرائیل  سے بائیکاٹ :14۔ شاہ فیصل شہید کا یورپ سے بائیکا ٹ 129
15۔: روس سے  بائیکاٹ : 16۔ عراق بائیکاٹ 129
17۔ الیبیا پر اقتصادی پابندیا ں : 18۔ پاکستان پر پابندی :19۔ سوڈان  پر پابندی 130
20۔ : شام یمن اور بعض دوسرے ممالک پر   پابندیاں: 130
21: امریکہ اور دوسرے ممالک کا منا فقانہ کردار: 130
فصل اول: بائیکاٹ کا شر عی حکم 131
بائیکاٹ کب مستحب ہوتا ہے 131
بائیکاٹ کب واجب ہوتاہے 132
کتاب وسنت سے بائیکاٹ سے بائیکاٹ کا ثبات: 133
عرب علماء کے فتاوی 137
شیخ محمد بن صالح التثیمین رحمتہ اللہ علیہ 140
علامہ ناصر الدین الا لبانی رحمتہ اللہ علیہ 140
شیخ انب جبریل رحمتہ اللہ علیہ 141
شیخ صالح الحبدان حفظ اللہ: 142
شیخ عبدالعزیز بن عبدالل الراحجی حفظ اللہ: 142
بائیکاٹ کیوں کریں ؟: 143
بائیکاٹ کے لیے اہم اصول : 145
عوامی کردار: 147
دشمن کی چالوں سے بچیں : 149
فصل دوم : بائیکاٹ : آخر کب تک : 150
باب ششم : عصمت ابنیاء کرام ؑ 151
فصل اول : عصمت انبیا کرام ؑ 152
گناہ کا مصدر 152
خلا صہ ء کلام 155
نبو ت اخیتار الٰہی 156
قرعصمت انبیاء ؑ ٍ 158
قرآن اور عصمت محمدیہ ﷺ 159
باب ہفتم : گستاخ رسول ﷺ کا شرعی حکم 161
فصل : گستا خ رسول اللہ ﷺ کافر اور واجب قتل ہے 162
اولا ء: کتاب اللہ سے کفر پر دلائل 163
پہلی دلیل : [اور علماء کے اقوال] 163
دوسری دلیل: [ اور علماء کے اقوال ] 165
تیسری دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] ٍ 168
چو تھی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 169
پانچوں دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 170
چھٹی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ] 172
ساتویں دلیل : [ اور علما ء کے اقوال ] 173
اجما ع مسلمین 173
علامہ انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول 175
قاضی عیا ض رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ بشیر عصا م مراکشی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ کا قول 176
علامہ الشر بینی الشا فعی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان 176
علامہ مر عی بن یو سف الکر می احسنبلی 177
فصل دوم : گستاخ رسول اللہﷺ کے واجب قتل ہونے کے دلائل 178
قرآن کریم سے شاتم رسول کے قتل کا اثبات 178
پہلی دلیل: 178
دوسری دلیل 179
تیسری دلیل : 180
چو تھی دلیل: 181
پا نچویں دلیل: 183
چھٹی دلیل : 184
ساتویں دلیل: 185
آٹھویں دلیل: 185
نویں دلیل: 186
دسویں دلیل: 186
فصل سوم:احادیث مبارکہ میں گستاخ رسول اللہ ﷺ کی سزا: 188
عہد ذمہ کا فائدہ 188
سنت بنوی سے عملی نمونے 191
1۔ سفیان بن خالد کاقتل 192
2۔کع بن اشرف کا قتل 193
3۔ ابور افع یہودی کا قتل :4۔ تکذ ب رسول اللہ ﷺ پر قتل 194
5۔ محبو ب کے واقعہ سے استدلال: 195
6: انب سبینہ کی یہودی کا قتل :7۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کا قتل: 196
8: بنو قریظہ کی یہودیہ کا قتل 197
9: عصماء بنت مردان کا قتل  : 10۔ بنو بکر کاواقعہ 198
11: ذو لخو یصرہ کی گستاخی اور فرمان بنوت 199
12: بجر بن زہیر ؓ کا خط 200
13: ایک شاتم رسول ﷺ کا انجام : 14۔ دوسری گستاخی عورت کاقتل : 15۔ گستاخ یہودیہ کا قتل : 201
16۔ ابو عفک یہودی کا قتل : 17۔ عبداللہ بن اخطل : 18 ۔ قر تنی کا قتل 202
فصل چہارم : حضرات صحابہ کراؓ معین ااور ائمہ کے فیصلے 203
1: حضرت ابو بکر ؓ کا عقیدہ و ایمان و عمل: 203
2: حضرت ابو بکر ؓ صدیق کا فیصلہ :3۔ حضرت  ابوبکر ؓ اور گستاخ کا سزا: 204
4۔ حضرت عمر ؓ کا فیصلہ : 5۔ حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ کا فتوی: 205
6۔حضرت غرفہ ؓ اور ایک گستاخ معاہدہ کا قتل 206
7۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ اپنے والد کا قتل  ۔:8۔ حضر ت عمر ؓ اور ایک گستاخ کا قتل 206
9۔ حضرت عمر ؓ اور رافع بن کا قتل ۔ 10۔ نابینا صحابی اور گستاخ عور ت کا قتل 207
11۔ حضرت ابو برزہ ؓ  کا موقف :12۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا مو قف 208
13۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مو قف 208
14۔ ابن قانع کی روایت : 15۔ حضرت علی ؓ کا حکم ۔ 16۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت 209
17۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فیصلہ : 18۔ حضرت محمد بن  مسلمہ ؓ 210
19۔حضر ت عبدالر حمن بن یزید رحمتہ اللہ علیہ :20۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ 211
21۔ ہارون الرشیدر حمتہ اللہ علیہ کا استفاء 211
22۔ جنات میں  کستاخ رسول اﷺ کی سزا: 212
فصل پنجم : اجماع امت 213
1۔ امام ابن سحنون المالی  رحمتہ اللہ علیہ : 2۔ امام اسحق بن ابراہیم لمعروف بابن راہویہ رحمتہ اللہ علیہ 214
3۔ امام خطابی ، حمد بن محمد یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ :5۔ امام ابو بکر الفارسی رحمتہ اللہ علیہ : 6۔ علامہ قاضی عیاضی رحمتہ اللہ علیہ 215
7۔ امام ابن خطاب الحنبلی رحمتہ اللہ علیہ  8۔ امام ابن الظاہری رحمتہ اللہ علیہ : 9۔ امام ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ 216
10۔ ابن عابد ین حنفی رحمتہ اللہ علیہ :11۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ : 12۔ علامہ ابن قیم رحمتہ علیہ 217
13۔ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ : 14۔ علامہ السفارینی رحمتہ اللہ علیہ : 15۔ ابراہیم  بن حسین خالد فقیہ رحمتہ اللہ علیہ 218
16۔ علامہ شاہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ 218
سکو تی اجامع پر شہادت کے چند واقعات 219
پہلا واقعہ : دوسرا واقعہ: 219
تیسرا واقعہ : چو تھا واقعہ : پانچواں واقعہ : چھٹا واقعہ : 220
ساتواں واقعہ : ا ٓٹھواں واقعہ : نو اں واقعہ : 221
دسواں واقعہ : گیار ھواں واقعہ : ریجی نالڈ : بارھواں واقعہ : بہار ء اللہ 222
تیر ھواں واقعہ : مرزا غلام احمد قادیانی 223
چو د ھو اں واقعہ  : قادیانی عبدالحق کی گستاخی 224
غیرت مدن جج کا یمانی فیصلہ : پند ر ھواں واقعہ : ہند و مصنف مھا شاکر شن 225
سو لھواں واقعہ : شر دھا نند : سترھواں واقعہ  : ہند و مصنف نتھو رام: 226
اٹھار ھواں واقعہ : گستاخ ہیڈ مسٹر یس کا انجام : انیسواں واقعہ : رام گھو پال لعین کی دشنام طرازیا ں 227
بیسواں واقعہ : ہند و چوہدری کھیم : چند : اکیسواں واقعہ : پالا مل ہندہ: 228
بائیسواں واقعہ :  سکھ کشمیر سنگھ : تیتسواں واقعہ : ایک گستاخ ناشر 229
چو بیسواں واقعہ : عامر چیمہ  شہید رحمتہ اللہ علیہ 230
ہند و ستان  کی اسلامی عدلیہ کا فیصلہ 231

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
27.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ تہذیب شراب نوشی علماء

شراب سے علاج کی شرعی حیثیت

شراب سے علاج کی شرعی حیثیت

 

مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

 

صفحات: 66

 

شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب، خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کےلیے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے حرمت شراب پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔شراب کے نجس وطاہر ہونے میں اہل علم کے اقوال مختلف ہیں ۔اور اسی طرح شراب سے علاج کے بارےمیں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’شراب سے علاج کی شرعی حیثیت‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾ کے متحدہ عرب امارات کے ام القیوین ریڈیو سٹیشن سےاس مذکورہ موضوع پر اردو پروگرام میں روزانہ نشر ہونے والے تقاریر کا مجموعہ ہے۔جسے افادۂ عام کے لیے جناب مولانا غلام مصطفیٰ فاروق نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔اس کتاب میں مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر صاحب نے شراب سے علاج کےموضوع پر جانبین کے دلائل ذکر کر کے غیر جانبداری کےساتھ بے لاگ بحث وتبصرہ کرکے وضاحت کی ہے اور نتائج اخذ کیے ہیں۔

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض مولف 7
شراب نجس یاطاہر؟ 10
جمہور کے دلائل 10
اعتراض 12
جواب 12
آثار صحابہ ؓ سے 13
آئمہ وعلماءکےاقوال 16
امام ابن العربی 18
شراب کے بارے میں دوسری رائے 19
دوسری دلیل 20
جوابات 21
خلاصہ کلام 24
شراب سے علاج کے حرام ہونے کے دلائل 26
پہلی دلیل 26
دوسری دلیل 26
تیسری دلیل 28
چوتھی دلیل 30
پانچویں دلیل 31
شراب سے علاج کی حرمت اور شا ءمیں حدیث 32
فتح الباری ابن حجر 32
شرح مسلم للنووی 33
معالم السنن للخطابی 33
عارضۃ الاحوذی الابن العربی 34
نیل الاوطار للشوکانی 35
سبل اسلام للامر الصنعانی 35
شراب سے علاج کی حرمت اور کبارمحقیقن 37
علامہ ابن حجر ہشمی 37
حافظ عبداللہ محدث روپڑی 37
علامہ ابن قیم 37
شراب سے علاج کی حرمت اور عقلی دلائل 38
اولا 38
ثانیا 40
ثالثا 40
رابعا 41
قائلین جواز کے دلائل او ران کاتجزیہ 42
شافعیہ 42
امام خطابی 44
قائلین جواز کی پہلی دلیل اور اس کاتجزیہ 45
پہلی دلیل 45
جواب 45
پہلی بات 45
دوسری بات 45
تیسری بات 46
شیخ السلام ابن تیمیہ 47
پہلی وجہ 47
دوسری وجہ 47
تیسری وجہ 47
علاج یاترک علاج میں سے افضل کیا ہے 48
پہلی دلیل 48
دوسری دلیل 48
تیسری دلیل 49
چوتھی دلیل 49
قائلین جواز کی دوسری دلیل اور اس کاتجزیہ 52
دوسری دلیل 52
جواب 52
امام خطابی 53
شیخ الاسلام ابن تیمیہ 54
امام شوکانی 56
خلاصہ کلام 56
شراب سے علاج کی سزا 57
عبرت آموز حکایت 57
حضرت جعفر صادق اقوال 58
مصادر اور مراجع 60

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.9 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam تاریخ سلفی سنت شراب نوشی قصاص و دیت

شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت

شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت

 

مصنف : علامہ احمد بن حجر آل بوطامی البغلی

 

صفحات: 156

 

شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی  ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی  کم وبیش  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنی  انسانی  تہذیب  کی تاریخ  یہ اندازہ لگانا  تو بہت مشکل ہے  کہ  انسان نے ام الخبائث کا  استعمال کب شروع کیا اوراس کی  نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام   میں اللہ تعالی نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے  استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا  شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات  اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل  علم نے  شراب اور نشہ اور اشیا ء پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں  ۔زیر نظر کتاب ’’ شراب اور نشہ آور اشیاء کی حرمت ومضرت‘‘  ریاست قطر  کی شرعی عدالت کے قاضی شیخ  احمد بن حجر آل بوطامی  کی   عربی تصنیف  الخمر وسائر المسكرات تحريمها واضرارها کا  اردو ترجمہ ہے ۔ جس میں  فاضل مصنف نے  شراب اور نشہ  آور چیزوں کے متعلق دلائل سے مزین مفید اور مستحکم  تحقیقات  پیش کی  ہیں۔اس کتاب کی افادیت  کے  پیش نظر   مولانا شمیم احمد خلیل سلفی نے اس کے ترجمہ کی سعادت حاصل کی  ۔اللہ تعالی    مصنف  ومترجم کی اس کاوش کو  قبول فرمائے  اور اس کتاب کو  لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 5
تمہید 9
تقریظ 11
مقدمہ 18
سبب تالیف 25
خمر کی تعریف 28
تحریم خمر کی سبب نزول 30
کتاب وسنت و اجماع امت اور عقل و طب سے شراب کی حرمت کا ثبوت 35
تحریم شراب و سنت سے دلائل 54
عقل شراب کی حرمت پر شاہد ہے 62
شراب کے متعلق احکام 81
شراب اور دوسری مسکرات کی حکمت تحریم 91
قارئین کے لیے توضیح و بیان 91
صحت پر شراب کے مضر اثرات 92
مالی نقصانات 95
مضرات خمر کے سلسلہ میں بعض مغربی اطباء کی شہادتیں 98
طب اور شراب 101
مخدرات اور اس کی تجارت 116
مخدرات کی تاثیر و نقصانات 126
افرنگی عطر 131
تمباکو کا حکم 133
سگریٹ نوشی دیر میں ظاہر ہونے والی خودکشی ہے 138
قات ایک نشہ آور پودا ہے 143
طبی تحقیق 149
خاتمہ 151

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اخلاق و آداب اسلام تہذیب

شان اسلام اسلامی اخلاق و آداب

شان اسلام اسلامی اخلاق و آداب

 

مصنف : محمد یعقوب اخلاقی

 

صفحات: 66

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اسلام کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب “شان اسلام”محترم  محمد یعقوب اخلاقی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسلام کے انہی محاسن اور امتیازات کو بڑے خوبصورت انداز میں دروس قرآن اور دروس حدیث کے نام پر  جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
اخلاص 5
توبہ 6
صدق 7
استقامت 8
نیکیوں کی طرف عجلت اختیار کرنا 8
میانہ روی 9
لوگوں کے درمیان مصالحت 10
عورتوں پر خاوند کا حق 11
والدین کے ساتھ حسن سلوک 12
حسن خلق 15
سلام کی فضیلت 17
جہاد کی فرضیت 19
یقین اور توکل کا بیان 21
رحمت الٰہی سے مایوس نہ ہونا 24
ایثار اور نرمی کا بیان 27
حیا اس کی فضیلت اور اس سے متصف 31
جدوجہد کا بیان 33
شفاعت کا بیان 37
والدین کے ساتھ حسن سلوک 41
اللہ تعالیٰ پر اعتماد کا بیان 47
سونے کے آداب 57
نماز 59
روزہ 60
زکوۃ 62
حج 63
ذکر 64

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام تاریخ سنت فارسی ملائکہ و جنات و شیاطین

شیطان کی تاریخ

شیطان کی تاریخ

 

مصنف : یاسر جواد

 

صفحات: 211

 

شیطان اللہ کا باغی، سرکش اور نافرمان ہے۔وہ چاہتا ہے کہ اس کی مانند انسان بھی اللہ کا باغی ، سرکش اور نافرمان بن جائے۔جب سے اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا ہے ، تب سے شیطان اس کی دشمنی کرتا چلا آرہا ہے۔ اللہ تعالی نے  قرآن مجید میں یہ واضح  اعلان کر دیا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس بدبخت نے رب ذوالجلال کی جانب سے دھتکارے جانےکے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بنی آدم کو ہر پہلو سے بہکانے اور راہ راست سے بھٹکانے کی کوشش کرے گااور انہیں اپنے ساتھ جہنم میں لے کر جائے گا۔یہ اللہ عزوجل کا انسانوں پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ اس نے نہ صرف انہیں شیطانوں کی انسان دشمنی سے  آگاہ کیا ہے بلکہ اس سے بچاؤ کے طریقے بھی بتلا دیئے  جو کتاب و سنت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں شیطان کے حوالے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب” شیطان کی تاریخ، مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں تصور شیطان کا تحقیقی جائزہ “محترم پال کیرس اور یاسر جواد صاحبان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انہی تصورات کی تاریخ بیان کی ہے۔یہ کتاب مختلف مذاہب وتہذیبوں میں شیطان کی تاریخ کے حوالے سے ایک شاندار اور زبر دست کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو شیطان کے شر سے بچائے اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری والی زندگی گزارنے کی توفیق دے ۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 5
باب 1 شیطان پرستی 11
باب 2 قدیم مصر 18
باب 3 عکاد اور ابتدائی سامی 28
باب 4 فارسی ثنائیت 41
باب 5 اسرائیل 48
باب 6 برہمن مت اور ہندو مت 54
باب 7 بدھ مت 71
باب 8 نئے عہد کی ابتدا 81
باب 9 ابتدائی عیسائیت 88
باب 10 یونان و روم کا تصور نجات 97
باب 11 شمالی یورپ کی شیطان پرستی 118
باب 12 شیطان کا عروج 126
باب 13 عدالت احتساب اور کافر 142
باب 14 عہد اصلاح 155
باب 15 خیر اور شر کا فلسفیانہ مسئلہ 165
باب 16 اسلام کا ابلیس اور جن 172
باب 17 جدید شیطان 200

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام بدعت سنت عقیدہ و منہج علماء معاملات

شیطانی ہتھکنڈے ( صحیح تلبیس ابلیس)

شیطانی ہتھکنڈے ( صحیح تلبیس ابلیس)

 

مصنف : امام عبد الرحمٰن الجوزی

 

صفحات: 626

 

شیطان سے انسان کی دشمنی آدم ﷤کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی ہے اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک کے لیے زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے اس عطا شدہ قوت کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالی کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم ﷤ کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم نے شیطان کو جواب دیا کہ تو لاکھ کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے وہ تیری پیروی نہیں کریں گے او رتیرے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے محفوظ رہنے کےلیے علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ اللہفان من مصاید الشیطان از امام ابن قیم الجوزیہ ﷭۔زیر تبصرہ کتاب ” شیطانی ہتھکنڈے ؍صحیح تلبیس ابلیس ” امام ابن جوزی  (510۔597ھ) کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے علامہ ابن جوزی کی یہ کتاب شروع سے انسانیت کی راہنمائی کاباعث بنتی چلی آرہی ہے۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین کے شاگرد علی حسن علی عبد الحمید ﷾نے تلبیس ابلیس کی صحیح روایات پر مبنی اس کتاب کو المنتقى النفيس من تلبيس ابليس كے دلکش عنوان سے مرتب کیا۔شیخ علی حسن نےاس میں غیر صحیح روایات کو خارج کر کے احادیث کے تکرار کو حذف کیا او راحادیث صحیحہ کی تخریج کی ہے ۔اوربے فائدہ حکایات وقصص کوبھی نکال دیا او ر کئی مقامات پر لازمی وحتمی تعلیقات کا اضافہ کیا ہے یہ کتاب اسی تحقیق وتخریج شدہ نسخے کا ترجمہ ہے ۔تلبیس ابلیس سے بچنے کےلیے اس کا پڑہنا او ر پڑھانا ازحد ضروری ہے اسے ہر مکتب ، گھر، سکول وکالج او رہر دفتر میں ہونا چاہیے تاکہ عوام الناس اس کا مطالعہ کر کے شیطان کے وساوس اور تلبیسی چالوں سےبچ سکیں اللہ اس کتاب سے قارئین کوشیطان کےحملوں سے اگاہی اور بچنے توفیق دے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقریظ 25
حرف تمنا 21
مقدمہ 27
پیش لفظ 31
’’ تلبیس ابلیس ‘‘ کتاب کے ساتھ چند لمحات 35
مصنف  کے حالات 37
نام ونسب 37
تعلیم و تعلم 37
مصنف کا مقدمہ 43
رسول بھیجنے میں حکمت 45
اسلامی مذہب کی حقیقت 46
باب 1 سنت مبارکہ اور جماعت 49
سخت محنت 49
باب 2 بدعت اور اہل بدعت 56
باب 3 ابلیس کی فتنہ پردازیوں سے بچاؤ 71
باب 4 تلبیس اور غرور کے معانی 85
باب 5 عقائد و مذاہب اور ابلیس 85
سوفسطائی 85
فلاسفہ 87
دہریہ 88
طبیعات پرست 91
منکرین بعث 92
تناسخ کے قائلین 95
عقائد اور مذاہب کے معاملات میں اثرات تلبیس 96
متکلمین کی انتہاء 99
امت کے عقائد اور تلبیس ابلیس 106
باب 6 فنون علم اور علماء پر ابلیسی حملہ 135
باب 7 والیان سلطنت اور حکمران 181
باب 8 عبادت گزاروں پر شیطانی ڈاکے 190
باب 9 زاہدوں اور عابدوں پر شیطانی حملہ 224
باب 10 زاہدوں کے ایک گروہ صوفیاء پر شیطانی حملہ 242
مال میں صوفیاء کا زہد 274
لباس کے معاملے میں صوفیاء پر حملہ 278
صوفیاء کے کھانے پینے میں تلبیسات ابلیس 303
سماع رقص اور وجد کے معاملات میں صوفیاء پر ابلیس کا حملہ 323
وجد اور صوفیاء پر ابلیسی حملہ 362
نوخیز لڑکوں کی صحبت میں 385
ترک نکاح 432
سیرو سیاحت 443
صوفیاء اور امیت 467
علمی مشاغل ترک کرنا 472
باب 11 کرامات اور دین دار لوگ 575
باب 12 عوام الناس اور شیطان 592
باب 13 لمبی آس و امید کے ساتھ سب لوگوں پر ابلیسی حملہ 621

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
12.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam زبان سیرت فقہ محدثین نماز نماز جنازہ

سیرت امام احمد بن حنبل

سیرت امام احمد بن حنبل

 

مصنف : عبد الرشید عراقی

 

صفحات: 115

 

امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت امام احمد بن حنبل ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نےاس کتاب میں امام احمد بن حنبل ﷫ کے حالات زندگی ، اساتذہ، وتلامذہ کا تذکرہ ،ان کے دو رابتلاء کی تفصیل ، تصانیف اور ان کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل کا تعارف اور فقہ حنبلی کے مختلف پہلوؤں پر مختصر اً اظہار کیا ہے

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 5
نقش آغاز 9
تقریظ 14
تعارف 23
حیات امام احمد بن حنبل 
نام ونسب ولادت 25
بغداد ابتدائی تعلیم 26
رحلت وسفر شیوخ واساتذہ 27
ہثیم بن بشر ابوحازم واسطی  27
امام ابو یوسف  28
امام سفیان بن عیینہ  29
امام ابوداؤد طیالسی  30
امام عبدالرحمان بن مہدی  31
امام وکیع بن الجراح 32
امام یحییٰ بن سعید القطان  34
امام محمد بن ادریس شافعی  36
امام احمد  کی امام شافعی کےحلقہ درس میں شرکت 39
مجلس / تلامذہ / امام بخاری 40
امام مسلم  41
امام ابوداؤد  42
امام یحییٰ بن معین  44
اما ابوحاتم رازی  45
امام عبداللہ بن احمد بن محمد بن حنبل  46
بلاواسطہ تلامذہ 46
فضل وکمال /حافظہ /عدالت وثقاہت 47
نقد وتمیز مرجعیت ومقبولیت 47
 اخلاق وعادات /حلم /استغناء 48
زہد وورع /جودوسخا 49
تواضع وانکسار 49
عزت نشینی اتباع سنت 50
نظامت وپاکیزگی عبادت واعمال 51
حرف آخر 52
اہل علم کااعتراف 53
اما م صاحب کاعقیدہ 53
مرتکبین  کبائر مسئلہ خلافت 59
ازواج واولاد وفات 60
امام احمد بن حنبل  کادورابتلاء
ہارون الرشید اورمعتزلہ 62
مامون الرشید کاعہد خلافت 64
امام شافعی  کاخواب /معتصم باللہ 67
امام احمد  امتحان میں 68
واقعہ کی تفصیل امام احمد  کی زبان سے 70
امام صاحب ؓ کی رہائی 74
ابوالہیثم ؓ کےلیے  دعائے مغفرت 74
امام احمد  کاکارنامہ اوراس کاصلہ 75
امام علی بن مدینی  کااعتراف 76
مولانا ابوالکلام آزاد  77
معتصم کاانتقال /واثق  باللہ 83
المتوکل علی اللہ 85
امام احمد بن حنبل  المتوکل کےعہد میں 86
امام احمد بن حنبل  کاطغرائے امتیاز 89
تصانیف
مشہور تصانیف کاتعارف 90
کتاب الصلوۃ 90
کتاب الزہد /کتاب السنۃ /مسند 91
طاعۃ الرسول ﷺ 95
فقہ حنبلی
کیاامام احمد بن حنبل  فقیہ اورصاحب مذہب نہیں تھے 97
تقلید کی ابتداء کب ہوئی 98
فقہ وفتاوی میں امام احمد بن حنبل  کےاصول 99
نصوص /فتاوی صحابہ ؓ 100
اختلاف صحابہ ؓ کافیصلہ 100
حدیث مرسل اورحدیث ضعیف 100
قیاس 100
فقہ حنبلی کی خصوصیات 101
فقہ احمد کاامتیازی پہلو 102
فقہ حنبلی کےناقلین 102
ابوبکر خلال  /ابوالقاسم خرقی 103
غلام اخلال 103
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  اوران کے تلامذہ 104
مذہب حنبلی کافروغ واشاعت 104
ایک اورسبب 107
علامہ ابن اثیر  کی شہادت 107
مودوہ دور میں مذاہب اربعہ کےپیرو 108
مذہب حنبلی کےماضی کی تلافی ہوگئی 110

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام سیرت سیرت النبی ﷺ علماء محدثین معاشرت نبوت

سیرت نبوی ﷺ پر اعتراضات کا جائزہ

سیرت نبوی ﷺ پر اعتراضات کا جائزہ

 

مصنف : ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی

 

صفحات: 281

 

سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ” سیرت نبوی ﷺ پر اعتراضات کا جائزہ “محترم ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی صاحب  کی تصنیف ہے ،جس  میں انہوں نے سیرت نبوی ﷺ پر کئے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے  اور ان کی علمی واستنادی حیثیت کو پرکھا ہے۔۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف آغاز 11
باب اول :سیرت نبوی ﷺ پر اعتراضات کاتاریخی جائزہ 17
اعلان نبوت اورکفار مکہ کارد عمل 17
مخالفت کی وجوہات 18
نبوت بشریت کےمنافی ہے 20
رسالت کاانکار 21
قرآن کریم کاانکار 22
کاہن ہونے کاالزام 24
مجنون ہونے کاالزام 24
جادوگرہونے کاالزام 25
شاعر ہونےکاالزام 25
ابتر ہونا 25
اللہ نے آپﷺ کو تنہا چھوڑدیاہے؟ 26
مطالبہ معجزات 27
بعض علمی سوالات 29
قرآن کریم مکے کےکسی رئیس پر کیوں نازل ہوا؟ 30
نبی کریم ﷺ کو ایذارسانی 31
اذیت پہنچانےکی مختلف ترکییں 32
مدینے میں آپ ﷺ کی آمداوریہودیوں کاردعمل 33
حضور ﷺ کی سیرت وشخصیت پر یہودیوں کاحملہ 35
احکام اسلام پر یہود کے اعتراضات 36
منافقین کی ریشہ دوانیاں 36
نئے دورکاآغاز 37
سیرت نبوی ﷺ پر جارحیت کاتسلسلہ 39
نیادور،نئی حکمت عملی 44
مستشرقین کےمنصوبے 46
منصوبے کی تکمیل کےلیے مستقل ادراوں کاقیام 48
دورجدید کےبعض متعصب مفکرین 52
عظمت رسول ﷺ کااعتراف 56
معاندین اسلام کےبعض اعتراضات 58
حاصل بحث 61
مآخذ ومراجع 64
باب دوم:وحی اور اس کی کیفیت نزول 69
وحی کی ضرورت 69
وحی کی حقیقت 70
وحی کےمعنی ومفہوم 71
وحی اورالہام میں فرق 73
وحی کی اہم صورتیں 74
کلام بالوحی 75
وحی قلبی 75
وحی ملکی 75
وحی خاص کی قسمیں 76
وحی متلو 76
وحی غیر متلو 76
حدیث قدسی 78
نزول وحی کےطریقے 79
قرآن الفظا اورمعناوحی الہیٰ ہے 80
نبی ﷺ پر وحی کاآغاز خواب کی حالت میں کیوں ہوا؟ 82
نزول وحی کےوقت آپ ﷺ کی کیفیت 83
کیانبی ﷺ کو اپنی نبوت کے بارےمیں شک تھا؟ 87
کیااس کیفیت کاتعلق مرگی سےہے؟ 90
کیانزول وحی میں آپ ﷺ کو خواش کادخل تھا؟ 92
انبیاء سابقین پر پھی وحی آتی تھی 93
کیاقرآن کاتعلق خواب سے ہے؟ 96
مآخذ ومراجع 99
باب سوم :کیاقرآن محمد ﷺ کی تصنیف ہے 105
قرآن مجید اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے 106
قرآن کادعوی کہ وہ کلام الہیٰ ہے 108
قرآن کاچیلنج پوری دنیا اورقیامت تک  کےلی ہے 109
قرآن کو کلام الہی سمجھنے کےباوجود انکار 110
تمام کوششوں کےباوجود قرآن کابدل تیارنہ کرسکے 112
قرآن نےکفار مکہ کےدلوں کی دینا بدل دی 114
قرآن مجید حضور ﷺ کاکلام  ہوتاتواس میں ان  کی گرفت نہ ہوتی 116
عر ب کےماحول میں قرآن کی تصنیف ناممکن تھ﷫ 117
یک بارگی قرآن کےنازل نہ ہونےسےکلام الہی کی نفی نہیں ہوتی 118
قرآن ایک عظیم معجزہ اورجملہ علو م وفنون کامجموعہ ہے 119
قرآن کریم آ ج تک تحریف وتبدیل سےپاک ہے 121
تحریف قرآن کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی 122
مآخذ ومراجع 123
باب چہارم:معجزات نبوی ﷺ کی حقیقت 125
معجزات بےوجہ رونمانہیں ہوتے 125
انبیائے سابقین اورمعجزات 126
انبیائے سابقین کےبعض معجزات 127
حضور ﷺ کےمعجزات کو بھی تسلیم کرناچاہیے 128
حضورﷺ کومختلف طبائع کےلحاظ سےمعجزات عطاکیےگئے 128
حضورﷺ کےمعجزات کی نوعیت 129
معجزات نبوی ﷺ کی تعداد 129
معجزات نبوی ﷺ کی قسمیں 130
حضورﷺ کےبعض اہم معجزات 131
حضورﷺ کی امیت 132
معجزہ شق القمر 135
شق صدر یاشرح صد ر 138
اشیاء خوردنوش میں اضافہ 141
شفائے امراض 144
پیشین گوئیاں 145
مآخذ ومراجع 147
باب پنجم :معراج نبوی ﷺ کی حقیقت 149
بعض انبیاء سابقین کےواقعات معراج 149
معرج نبوی ﷺ معترضین کی نظر میں 151
انبیائے کرام کومعراج کیوں کرائی جاتی ہے؟ 152
معراج نبوی ﷺکی تمہید 152
قرآن میں نبی ﷺ کی معراج کاذکر 153
معراج نبوی ﷺ کی تفصیل احادیث کی روشنی مں 154
معراج سےنصیحت حاصل کریں 156
اس واقعہ پر کفارومشرکین کارد عمل 157
مسلمانوں پر اس واقعہ کااثر 157
واقعہ معراج کب پیش آیا؟ 158
معراج کی روایتیں اورا ن کےراوی 158
معراج جسمانی تھی یاروحانی 159
اسراء معراج ایک ہی واقعہ ہے یاالگ الگ 161
معراج کےانعامات 162
امامت انبیاء کاواقعہ کب پیش آیا؟ 162
معراج کےبعض واقعات اورمشاہدات کی حکمتیں 163
منکرین معراج کاحکم 166
مآخذ ومراجع 167
باب ششم: کیانبی ﷺ نئے مذہب کےبانی تھے؟ 169
دین اسلام کی مقبولیت پر اعتراضات 170
سابقہ آسمانی کتابوں میں بعثت بنوی کاذکر 171
آیت قرآنی سے اس بشارت کی تائید 173
اس بشارت کےدروس اثرات 175
نبی ﷺ نےکس دین کی تبلیغ کی ؟ 176
دین تویکساں رہاشریعت بدلتی رہی 177
بعض انبیاء کوبعض پر فضیلت 178
سارے انبیاء لائق تعظیم ہیں 179
حاصل بحث 180
مآخذ ومراجع 183
باب ہفتم :کیاتعلیمات نبوی ﷺ پر مسیحیت کااثر ہے ؟ 185
مکہ کےماحول  میں تعلیم  کاحصول ممکن نہ تھا 186
حضور ﷺ کی امیت کےدلائل 187
کفارمکہ نےراہیوں سےعلمی استفادہ کاالزام نہیں لگایا 188
شام کےتجارتی سفرکاپس منظر 190
حضور ﷺ کےتجارتی اسفار صحیح تناظر میں 191
شام کادوسرا سفراورنسطو اسے ملاقات کی اصلیت 192
ان واقعات کا کم زور پہلو 193
غیر معمولی باتوں کااثر آپ ﷺ پر کیوں نہیں ہوا؟ 195
آیات قرآنی سےواقعہ کی تغلیط 196
علماء محدثین کےنزدیک تجارتی اسفار اورحدیث کی حقیقت 197
مستشرقین کےدعوی کی کم زوری 200
حاصل بحث 202
مآخذ ومراجع 203
باب ہشتم :رسول اللہ ﷺ کےغزوات اوران کےمحرکات 205
ہجرت مدینہ پر رد عمل 206
میثاق مدینہ کےذریعہ مدینہ کےداخلی انتشار کاانسداد 207
قریش کی دھمکی 208
اردگرد کےقبائل میں قریش مکہ کی پوزیشن مستحکم تھی 208
زیارت خانہ کعبہ کےلیے مسلمانوں پر پابندی 209
مسلمانوں کےلیے مدافعانہ جنگ کےعلاوہ کوئی چارہ نہ تھا 209
قریش مکہ کی جانب سےحملہ کی پہل 211
قریش کی جنگی کاروروائیوں کاپتہ لگانا 211
غزوہ بد رکےاسباب 212
ابوسفیان کےذریعہ مسلمانوں پر دوبارہ حملہ 214
بنو قیقاع کی معاہدہ شکنی اوراس کاانجام 215
غزوہ احد 215
مدینہ سےبنو نضیر کااجراج 216
غزوہ خندق میں قریش ان کےاتحادیوں کی شکست 217
بنی قریظہ کی غداری کاانجام 218
صلح حدیبیہ فتح مبین 219
فتخ خبیر کےبعد یہودیوں کےفتنہ سےنجات ملی 220
غزوہ موتہ 221
فتح مکہ :مسلمانوں کی کامیابی کاشان دارمظاہر ہ 222
معرکہ حنین میں مسلمانوں کامیابی 223
روم کےعیسائیوں سےمعرکہ آرائی 224
حاصل بحث 225
باب نہم :الغرانیق العلیٰ کاافسانہ 227
واقعہ غرانیق سےمستشرقین کی دل چسپی 228
سورہ نجم کی آیتوں سےاس کی تصدیق ہوتی ہے ؟ 233
سور ہ اختتام بھی دل وہلادینےوالاہے 235
اضافی جملے بےجوڑہیں 236
واقعہ صحیح ہوناتوتفصیلات میں تضاد نہیں ہوتا 237
اس واقعہ کےناقابل تسلیم ہونےکےمزید دلائل 238
مآخذ ومراجع 240
باب دھم :تعداد ازواج کامسئلہ 241
تعداد ازواج اورانبیائے سابقین 241
مختلف مذاہب میں تعدا د ازواج 242
قدیم ہندوستان میں تعداد ازدواج 243
اسلام میں تعداد ازدواج کی اجازت 243
اس رخصت کےاثرت وفوائد 244
حضور ﷺ کی ازدواجی زندگی 245
حضور ﷺ کےلیے کثرت ازدواج کی خصوصی رعایت 246
کثرت ازدواج کاسبب اصحاب کی دل جوئی تھا 247
اسلام کی توسیع اورعداوتوں کاخاتمہ 249
حضور ﷺ کی زندگی کاہرگوشہ امت کےسامن آنابھی ضروری تھا 249
حسن معاشرت کااظہار 250
عام مسلمانو ں کےمقابلے میں حضور ﷺ کےلیے پابندیاں زیادہ تھیں 252
اقتدار کےنشہ نےآپﷺ کو تعداد ازدواج پر نہیں ابھارا 253
تعداد ازدواج بعض صورتوں میں شدید ضرورت بن جاتی ہے 253
تعداد ازدواج کی ممانعت عورتوں کےحق میں بھی ظلم ہے 254
اسلام کےازدواج کی اہمیت کااعتراف 255
مسلمان دوسری قوموں کی بہ نسبت تعداد ازدواج پر عمل کم ہی کرتے ہیں 256
حاصل بحث 258
مآخذ ومراجع 261
باب یازدہم :نکاح زینب ؓ کی حقیقت 261
حضرت زیدؓ اورزینب ؓ 262
زینب ؓکےساتھ زیدؓ کانکاح 263
میاں بیوی میں کشیدگی 263
محمد ﷺ پراس گشیدگی کااثر 264
عرب معاشرے میں منھ بولے بیٹے کی حیثیت 265
حضورﷺ کاارادہ نکاح نہ ظاہر کرنےکی ایک اوروجہ 266
حضرت زینب ؓ کانبی ﷺ سےنکاح 267
نبی ﷺ کےلیے نکاح کاپیغام لےکرزیدؓ ہی کیوں گئے ؟ 268
اس نکاح کاایک اورفائدہ 270
حضور ﷺ کےلیے زینب ؓ سےملاقات کےمواقع 271
نکاح زینب ؓ کےدورس اثرات 271
مآخذ ومراجع 273
کتابیات 275

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
5.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز