Categories
Islam اسلام حقوق اولاد عبادات

شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ

شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ

 

مصنف : مفتی محمد سراج الدین قاسمی

 

صفحات: 157

 

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست، عدالت ہو یا قیادت، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔ اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان، سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے، جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے تمام انسانوں کے فرائض بیان کرتے ہوئے ان کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں، حتی کہ اگر کوئی بچہ ابھی دنیا میں نہیں آیا، بلکہ شکم مادر میں پرورش پا رہا ہے تو اس کے حقوق واحکام کو بھی بیان فرما دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب “شکم مادر میں پرورش پانے والا بچہ جنین تخلیقی مراحل، حقوق واحکام”محترم مفتی محمد سراج الدین قاسمی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شکم مادر میں پرورش پانے والے بچے کے تخلیقی مراحل اور اس کے حقوق واحکام کے مسائل کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
دیباچہ 8
مقدمہ طبع ثانی: پروفیسر اختر الواسع 10
حرف آغاز: از مؤلف 13
ابتدائیہ: حضرت مولانا محمد سالم قاسمی 18
پیش لفظ: مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحٰ 21
مقدمہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 23
جاری ہے۔۔۔

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3.6 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال روح کھیل موت قبر و حشر نماز

شہر خموشاں ( قبرستان )

شہر خموشاں ( قبرستان )

 

مصنف : عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

 

صفحات: 116

 

اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’شہر خموشاں‘‘ مولانا  عبدالرحمن عاجزمالیر کوٹلوی﷫ کی تالیف ہے۔اس کتا ب کا زیادہ  حصہ ان کی دیگر کتب   کےمضامین کے انتخابات پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں انہوں  نے  دور حاضر کے انسانوں کو قرآن کریم کی آیات کریمہ اور احادیثِ رسول اللہﷺ کے حوالے  سے یاددلایا ہے  کہ وہ جس طرح دنیا کی زندگی  میں کثرتِ مال ودولت ور آل واولاد کےلیے شب وروز سرگرم عمل ہیں ،اور وہ اس میں اس حد تک تجاوز  کر گئے ہیں کہ ان کی  زندگی کا مطمح نگاہ اورمقصودہی مال ودولت کی کثرت رہ گیا ہے۔ جس  کے باعث وہ قرآن کی آیت کریمہ  کے مطابق ’’تکاثر‘‘ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں  اور مزید ہورہے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ شہرخموشاں (قبرستان) کی جانب رواں دواں ہیں اسی طرح انہیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہونے کےلیے اپنے  سانھ کیا زاد سفر لے جارہے ہیں ۔ کیونکہ یہ دنیا کی زندگی  تو عارضی ہے اور حیات ابدی تو آخرت میں نصیب ہوگی۔الغرض اپنے موضوع کے اعتبار سےیہ منفرد کتاب  ہے ۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
حرف اول 8
تقریظ حضرت علامہ مجاہد الحسینی 9
اس بدن کو خاک کی چادر اڑھا دی جائیگی 11
قبر 12
قبر آخرت کی منزلوں میں پہلی منزل ہے 13
دارالامن 16
سورۃ التکاثر 17
خلاصہ تفسیر 17
آنکھ بند ہوتے ہی عالم برزخ شروع ہوجائے گا 18
رب کائنات اپنے پیارے رسولﷺ کے ذریعہ اعلان کرارہاہے 19
دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز کھیل تماشہ ہے 20
دنیوی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک حقیر سودا ہے 20
جس دن انسان اپنے پر کیے ہوئے عمل کو یاد کرے گا 21
تو اکیلا مرے گا اکیلا ہی قبر سے اٹھے گا اکیلے ہی سے  حساب لیا جاے گا 21
قیامت کے دن ہر شخص کواپنی ہی پڑی ہوگی 22
ایک بار سورۃ التکاثر کی تلاوت ثواب کےلحاظ سے ہزار آیات کے برابر ہے 36
میرادنیا  سے جانےکا وقت آگیا ہے 38
لوگ کم ہورہے اور قبرین زیادہ ہو رہی ہیں 38
دنیا کاآخری انجام یہی ہے جو تم ہمارا دیکھ رہے ہو 39
آہ قبروں میں سوائے چمکتی ہوئی کھوپڑیوں اور بوسیدہ ہڈیوں کے اور کچھ باقی نہ رہا 40
حضرت فضیل بن عیاض کسی جنازہ کے ہمراہ چلتے تو وعظ و نصیحت کرتے اور روتے 41
زمین پرقدم آہستہ رکھ زمین کی مٹی انسانی جسموں کی مٹی ہے 42
وفات کےبعد انسان کا ذکر خیر اس کی دوسری زندگی ہے 42
دنیا پرست امیر غریبوں کی وفات کے بعد بھی ان کےساتھ امتیازی سلوک سے باز نہ آئے 43
اگر قبروں کی مٹی اٹھا کر دیکھیں تو امیر کو فقیر سے نہیں پہچان سکو گے تعجب و حیرت ہے 44
تیری موت کے بعد تیرے لیے کون نماز پڑھے گا؟ 47
اے اہل قبور ہمیں کچھ اپنے بارے میں خبر دو ! یا پھر ہم تمہیں خبر دیتے ہیں 48
قبروں میں جانےکے بعد ذلیل و عزیز یکساں بے نام و نشان ہو گے ہیں 50
اب تجھ سے ملاقات کی کوئی امید نہیں حالانکہ تو قبر میں قریب ہی پڑا ہوا ہے 50
قبر میں اس کے اعضاء بکھر گئے ہیں 51
میں اپنے دوستوں کی قبروں کے پاس کھڑا ہو انہیں دیکھ کر رو پڑا 53
تیرے خوبصورت جسم کو ( مٹی میں )  مٹی کی چادر اڑھا دی جاے گی 53
میرے قریبی میری قبر کےپاس سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے وہ مجھے پہچانتے ہی نہ ہوں 54
اے مخاطب قبروں پر کھڑے ہوکر سوچ کر اللہ ! اللہ ان گڑھوں میں کون کون سی ہستیاں پوشیدہ ہیں 55
بلند و بالا محلات میں رہنے والو تمہیں ان سے نکل کر مٹی کے گڑھوں میں داخل ہونا ہے 56
قبروں نے  امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں کیا 56
انسان کے ساتھ موت کےبعد قبر میں صرف اس کےاعمال جاتے ہیں 57
ہم بھی تیری طرح تھے اور تو بھی کبھی ہماری طرح ہو جاے گا 57
قبر سے بڑھ کر کوئی نصیحت کرنے والا نہیں 58
مزین و مضبوط محلات میں رہنے والو قبر کی وحشت ناک تاریکی کو یاد کرو 58
مجھے ان لوگوں کےمتعلق کچھ خبر دو 60
قبرستان میں (مشاہدات و تاثرات) 61
خاک کے ان ڈھیروں پر میری نظر جمی ہوئی تھی 63
میت خانہ حقہ و سگریٹ نوشی  اور اخبار بینی 64
مردے کی تعزیت مردے مردوں سے کر رہے ہیں 65
قبرستان شہر سےدور جنگل میں ہو( اور اندھیری رات ہو) 67
تو شب تاریک میں قبرستان جانےسے گھبرارہاہے 67
میں اس قبر کےپاس کھڑاہو ا ایک زمانے سے دوسرے زمانے کیطرف  دیکھ رہا تھا 68
موت ہر آن انسان کے تعاقب میں ہے 68
دنیا اس کا گھر ہےجس کا کوئی گھر نہیں 69
قبر صداقت اور راستبازی کاکلمہ ہے 69
آہ وہ لوگ جنہیں عمر رفتہ کا احساس نہیں 70
آخرت کی فکر کرو 71
اہل جنت سےجنت کی نعمتیں کبھی نہیں جائیں گی 71
اہل جہنم کا حال 72
جہنم کا ایندھن انسان اور  پتھرہیں 72
اہل  جہمن سے جہنم کا عذاب کسی لمحہ کم نہیں کیا جائے گا 73
پانچ وقتوں سے پہلے پانچ وقتوں کو غنیمت جانو 73
قبر سےندا آرہی ہےکہ لوگو اپنے عیوب کی اصلاح کرلو 74
مجھے جام اجل پلادیا گیا اور روح جسم سے علیحدہ کر دی گئی 76
ایک عجیب وغریب واقعہ 79
میری رضا وا لدین کی رضا میں مضمر ہے 82
میرا شکر کرو اور اپنے والدین کا بھی 83
والدہ کی عزت و عظمت 84
عمر و بن عتبہ بن فرقد ؒ 86
جب موت حیات میں چند ہچکیوں کا فاصلہ رہ گیا 90
موت بنی آدم کی میراث ہے 92
عاجز سے اس کےدل کا خطاب 92
دل نے پھر مجھ سے کہا 96
آہ بظاہر قبریں مٹی کےڈھیر ہیں 101
دو رکعت نماز کی اہمیت و عظمت 102
اگر تو قبر میں اس حال میں داخل ہو ا کہ تیرے ساتھ اسلام ہے(یعنی اسلام پر توعمل کر رہا ہے) تو تیرےلیے خوشخبری ہے 103
اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول دین صرف اسلام ہے 103
دین اسلام اللہ تعالیٰ نے خود مکلم کردیا ہےاب اس میں ترمیم و اضافہ کی گنجائش نہیں 104
دین اسلام کی علامت 105
اشتہارات 106

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام اعمال جوامع نماز

شوق عمل قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں

شوق عمل قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں

 

مصنف : ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

 

صفحات: 200

 

اللہ رب العالمین ہر چیز کا خالق ہے، وہ ہر شے کی حاجات وضروریات، طبائع اور مصالح کا خوب خوب علم رکھتا ہے۔ اس نے اپنے بندوں کی طبائع کو ملحوظ رکھ کر کمال مہربانی کرتے ہوئے اعمال کے فضائل اور جزا کو بیان فرمایا ہے۔ اگر فضائل اور جزاء کو نہ بھی بیان کیا جاتا تو تب بھی ہم اللہ تعالی کے ارشاد کو ماننے کے مکلف ہوتے۔ تاہم ترغیب وتحریض سے اعمال کی بجا آوری میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔نیک اعمال کرنے پر لوگوں کو ابھارنے اور شوق دلانے کی تلقین خود رب کائنات نے کی ہے۔ اعمال صالحہ کی جزاء اور ثواب کا تذکرہ کرنے سے بھی یہی مقصود ہے کہ لوگ عملی زندگی اپنائیں اور نیک کام کرنے میں تندہی دکھائیں کہ ان کے اعمال رائیگاں نہیں جائیں گے۔ بلکہ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ بے شمار آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ میں اعمال صالحہ کی جزاء اور ثواب کا تذکرہ موجود ہے،جنہیں پڑھ کر انسان کا شوق عمل بڑھ جاتا ہے، لیکن جب یہی ترغیب اصل بنیادوں سے ہٹ جاتی ہے اور ضعیف روایات کو پیش کیا جاتا ہے تو بہت ساری قباحتوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب “قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں شوق عمل” محترم ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن صاحب، شعبہ علوم اسلامیہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں متعدد نیک اعمال کا اجر وثواب بیان فرمایا ہے تاکہ شوق عمل پیدا ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

عناوین صفحہ نمبر
ابتدائیہ کیاضعیف روایت حجت ہے 5
مقدمہ :شوق عمل اورضعیف احادیث 13
لاالہ الاللہ پڑھنے کاشوق 32
مساجد کی عظمت 46
مساجد ثلاثہ اورمسجد قباکی عظمت 46
طہارت کاشوق 55
وضو کاشوق 59
وضو کی دعاپڑھنے کاشوق 66
اذان کاشوق 71
اذان کےجواب اوربعد ااذان دعاشوق 78
نماز کاشوق 82
جماعت کےساتھ نماز پڑھنے کاشوق 100
نماز میں صحیح صف بندی کاشوق 110
صف اول میں نماز پڑھنے کاشوق 114
جمعتہ المبارک پڑھنے کاشوق 118
سنت نماز کاشوق 112
صلاۃ التسبیح کاشوق 134
نماز استخارہ کاشوق 136
نماز اشراق چاشت اوبین کاشوق 142
نماز جنازہ پڑھنے کاشوق 142
رمضان المبارک کاعظمت 148
لیلۃ القدر کی عظمت اورآخری عشرہ 150
اعتکاف کاشوق 152
روزہ رکھنے کاشوق 153
سحری کھانے کاشوق 160
سحری کھانے میں تاخیر کاشوق 161
افطار میں جلدی کرنےکاشوق 162
افطار کروانے کاشوق 163
قیام اللیل کاشوق 165
نفلی روزوں کاشوق 172
زکوۃ کی اہمیت وفضیلت 178
بیت اللہ کی برکات 190
حج بیت اللہ کاشوق 193
نماز پڑھنے کاشوق 194
عمر ہ پڑھنے کاشوق 195
غریبوں کی مدد کرنےکاشوق 196
یتیموں کی مددکرنےکاشوق 196

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4.4 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ایمانیات سنت

شرح اسماء حسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں

شرح اسماء حسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں

 

مصنف : سعید بن علی بن وہف القحطانی

 

صفحات: 306

 

اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شرح اسماء الحسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔جس میں سب سے پہلے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ مزید اس کتاب میں اسماء حسنیٰ پر ایمان کے ارکان، اللہ کے ناموں الحاد کی اقسا اور اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی بنظیر شرح کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
فہرست مضامین 3
تقدیم 14
پیش نظر 16
اسماءحسنیٰ 19
مقدمہ مولف 21
پہلامبحث:اللہ کےاسماءتوقیفی ہیں 31
دوسرمبحث: اسماءحسنیٰ پرایمان کےارکان 33
تیسرا مبحث: اللہ کومتصف کئےجانےوالےامورکی قسمیں 34
چوتھامبحث:اسماءحسنیٰ کی دلالت کی تین قسمیں ہیں 41
پانچواں مبحث: اللہ کےاسماءمیں الحادکی حقیقت 42
اللہ کےناموں میں الحادکی قسمیں 44
چھٹامبحث: اسماءحسنی کاشمارعلم کی بنیادہے 48
ساتواں مبحث: اللہ کےتمام اسماءبہایت عمدہ ہیں 49
آٹھواں مبحث: اللہ کےناموں میں سےبعض کااطلاق اللہ تعالیٰ پرعلیحدہ اوردوسرےنام سےمل کرہوتاہےاور 51
نواں مبحث:اللہ کےبعض اسماءحسنی کی صفات پردلالت کرتےہیں 53
دسواں مبحث: اللہ کےوہ اسماءحسنیٰ جوتمام اسماءوصفات کامرجع ہیں 55
سورۃ الفاتحہ توحیدکی تینوں قسموں کوشامل ہے 56
توحیدعلمی 57
توحیدقصدی ارادی اوراس کی دوقسمیں ہیں 57
توحیدربوبیت 57
توحیدالوہیت 57
اللہ کےاسماءکی دلالت اسماءوصفات پر 57
اصل اول:رب تعالیٰ کےاسماءاس کےصفات کمال پردلالت کرتےہیں 58
اصل دوم: اللہ تعالیٰ کانام تضمن والتزام کےذریعہ صفت پردلالت کرتاہے 60
دعاکی قسمیں 68
آپ اللہ تعالیٰ سےاس کی اسماءوصفات کےوسیلہ سےمانگیں 68
آپ اللہ تعالیٰ سےاپنی محتاجگی فقیری اورانکساری کےذریعہ مانگیں 68
آپ اپنی حاجت کاسوال کریں 69
گیارہواں مبحث: اللہ کےاسماءوصفات اللہ ہی کےساتھ خاص ہیں ناموں کی یکسانیت اشخاص میں مماثلت کی موجب نہیں ہے 71
بارہواں مبحث: چندباتیں جن کی معلومات ہونی چاہیے 91
پہلی بات: جوچیزیں اللہ کےبارےمیں خبردینےکےباب میں 91
دوسری بات:جب کوئی صفت کمال اورنقض دوحصوں میں تقسیم ہو 91
تیسری بات: خبردینےجانےسےاللہ کامطلق نام مشتق کیاجانالازم نہیں آتا 91
چوتھی بات: اللہ کےاسماءحسنیٰ اعلام (نام)اوراوصاف 92
پانچویں بات:اللہ کےاسماءحسنیٰ کےدواعتبارہیں 92
چھٹی بات:اللہ کےاسماءوصفات توقیفی ہیں 92
ساتویں بات: اللہ کےنام سےمصدراورفعل مشتق کرناجائزہے 92
آٹھویں بات:اللہ کےافعال اس کےاسماءوصفات سےصادرہوتےہیں 93
نویں بات:صفات کی تین قسمیں ہیں 93
تیرہواں مبحث: اللہ کےاسماءحسنیٰ کےشمارکےمراتب جس پرذخول جنت 95
پہلامرتبہ:اسماءحسنیٰ کےالفاظ وتعدادکاشمار 95
دوسرامرتبہ: ان کےمعانی ومفاہیم کوسمجھنا 95
تیسرامرتبہ: ان کےذریعہ اللہ سےدعاکرنا 95
چودہوں مبحث:اسماءحسنی کی تعدادمحدودنہیں ہے 97
پندرہواں مبحث: اللہ کےاسماءحسنیٰ کی شرح 100
الآول(پہلا) 100
الآخر(آخری) 100
الظاہر(ظاہروغالب) 100
الباطن(پوشیدہ) 100
العلی(بلند) 103
الاعلیٰ(بالا) 103
المتعال(برتر) 103
العظیم(عظمت والابڑا) 105
المجید(بڑائی وکشادگی والا) 109
الکبیر(بڑائی والا) 110
السمیع(سننےوالا) 111
سماعت کی دوقسمیں ہیں 111
پہلی قسم: اللہ تعالیٰ کاتمام آوازوں کوسننا 111
دوسری قسم: اللہ تعالیٰ کامانگنےوالوں کی دعائیں سننااورقبول کرنا 111
البصیر(دیکھنےوالا) 112
العلیم(جاننےوالا) 114
الخیر(خبررکھنےوالا) 114
الحمید(لائق تعریف خوبیوں والا) 117
اللہ کی خوبیوں کی دوحیثیتیں ہیں 117
اول: تمام مخلوقات اللہ کی حمدوثناءکی گن گارہی ہیں 117
دوم: اللہ تعالیٰ اپنےاسماءحسنیٰ اورصفات علیاکی ملہ پرحمدکامستحق ہے 117
العزیز(غالب) 119
قوت وطاقت کاغلبہ 119
بےنیازی کاغلبہ 119
تمام کائنات پرقہرکاغلبہ 119
القدیر 119
القادر(طاقت ور) 119
المقتدر(قدرت والا) 119
القوی(قوت والا) 119
المتین(ٹھوس زورآور) 119
الغنی(مالداربےنیاز) 124
الحکیم( حکمت ودانائی والا) 126
حکمت کی دوقسمیں ہیں 127

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
9.2 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام عبادات عقیدہ و منہج

شرح ارکان الایمان

شرح ارکان الایمان

 

مصنف : ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

 

صفحات: 339

 

دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے دین کی اساس اور جڑ ہے ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے بالمقابل کفر ونفاق ہیں یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول کی تصدیقات ارکان ایمان ہیں۔قرآن مجیدکی متعدد آیات بالخصوص سورۂ بقرہ کی ایت 285 اور حدیث جبریل اور دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔لہذا اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اوراس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں کو تسلیم کرنا اور یوم حساب پر یقین کرنا کہ وہ آکر رہے گا اور نیک وبدعمل کا صلہ مل کر رہے گا۔ یہ امور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں ۔ان کو ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرح ارکان ‘‘ ابی عبدالصبور عبد الغفور دامنی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اللہ تعالیٰ ،اس کی کتابوں، رسولوں اور فرشتوں ، آخرت اورتقدیر پر ایمان لانےکی حقیقت کو آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کیا ہے ۔کتاب کے آغاز میں شیخ عبد اللہ ناصررحمانی ﷾ کا جامع مقدمہ انتہائی اہم اور لائق مطالعہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اورہمیں ایمان کی پختگی نصیب فرمائے(آمین)

عناوین صفحہ نمبر
مقدمہ 17
عرض مولف 26
مقدمہ از مولف 31
دہریوں کے نظریہ پر ایک عبوری نظر 32
کسی بھی موجود کا بغیر موجد کے وجود میں آنا محا ل ہے 32
عدم سے وجود کا آنا محال ہے 34
ایک حیرت انگیز مثال 36
فہرست نا مکمل

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.8 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام حلال و حرام زبان سنت سود شروحات حدیث علوم حدیث محدثین معاملات

شرح اربعین نووی 40 احادیث ) عبد المجید سوہدروی )

شرح اربعین نووی 40 احادیث ) عبد المجید سوہدروی )

 

مصنف : عبد المجید سوہدروی

 

صفحات: 105

 

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکی ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’شرح اربعین نووی‘‘ مولانا حکیم عبدالمجید سوہدروی ﷫ کی ہے۔انہوں نے کتبِ احادیث کا ترجمہ کرنے کا آغاز اربعین نووی سے ہی کیا اور ساتھ ہی بڑی آسان ، معاشرتی اوراخلاقی پہلوؤں پر مشتمل اور بہت سے نکات کی حامل شرح لکھی۔ جو پہلی بار 1955ء میں شائع ہوئی۔اس کےبعد اب جناب مولانا محمد نعمان فاروقی صاحب (مدیر مسلم پبلی کیشنز )نےاسے بڑی عمدہ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔اپنی افادیت کےباعث یہ کتاب اس قابل ہے کہ اسے خواتین کےمدارس میں عمومی طور پر اور بچوں کے مدارس کی ابتدائی کلاسوں میں اور دینی سکولوں کےنصاب میں شامل کیا جائے ۔جن احباب نےبھی کتاب کوطباعت کےلیےتیار کرنےمیں حصہ لیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 9
پیش لفظ 11
سیرت امام نووی  13
نیت اور ارادے کی اہمیت 15
ایمان ، اسلام اور احسان کیا ہیں 17
ارکان اسلام 22
انسان کی ولادت اور اس کے بعد سعادت یا شقاوت 24
دین میں نئے امور 27
حلال و حرام اور ان کے درمیان مشتبہ معاملات 29
دین خیر خواہی کا نام ہے 32
جہاد و قتال کا ایک مقصد 34
بال کی کھال اتارنے والے سوالوں سے اجتناب 36
حرام کے استعمال سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں 38
مشکوک معاملات سے کنارہ کشی 40
اسلام کا حسن 41
دوسرے کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے کرتے ہیں 42
قتل مسلم کی تین وجوہات 44
اللہ اور آخرت پر ایمان کے چند تقاضے 46
غصہ نہ کیا کرو 48
انسان تو کیا حیوانوں کے ساتھ بھی احسان 49
اللہ تعالی کا ڈر اور لوگوں سے اچھا برتاؤ 51
نصیحت نبوی کے گراں مایہ پہلو 53
شرم و حیا کی اہمیت 57
استقامت 59
نماز ، روزے کا اہتمام اور حلال و حرام کی تمیز 61
صفائی کی اہمیت اور کلمات کی فضیلت 63
جامع ترین حدیث قدسی 66
نیکی میں مقابلہ 69
صدقے کے مفہوم کی وسعت 72
نیکی اور برائی کی تعریف 74
نبی کریم ﷺ کا ایک وعظ 76
جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ مگر کیسے 79
احکام و حدود کی پاسداری 82
اللہ کا محبوب اور لوگوں کا پیارا بننے کے لیے 84
نقصان نہ اپنا نہ دوسروں کا 86
دلیل کے بغیر دعوے بے سود ہیں 87
برائی سے روکنے کے تین مراتب 88
مسلم معاشرے کے چند ضابطے 90
درد دل اور جذبہ حصول علم 93
اعمال نامے میں نیکی اور برائی لکھنے کا ضابطہ 96
قرب الہٰی کی جستجو 98
بھول چوک اور مجبوری قابل گرفت نہیں 100
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے 101

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
3 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اہل حدیث سلفی سنت محدثین نبوت نماز

شرف اصحاب الحدیث

شرف اصحاب الحدیث

 

مصنف : علامہ خطیب بغدادی

 

صفحات: 50

 

 اصحاب الحدیث کی اصطلاح ابتداء ہی سے اس گروہ کی پہچان رہی ہے  جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشر واشاعت کا کام کرتا اور نبی  کریم ﷺ کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ پرعمل کرتا چلا آیا ہے۔یہ لوگ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائےاوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔ اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔نبی کریمﷺنے فرمایا:”ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائےتووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا (مسلم : 1920 ) بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی کو مقصودو مراد لیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ” شرف اصحاب الحدیث”پانچویں صدی ہجری کے معروف امام علامہ خطیب بغدادی ﷫کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ وخلاصہ محترم رفیق احمد رئیس سلفی صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف   نے اس کتاب میں اصحاب الحدیث کی فضیلت اور ان کے مقام ومرتبے کو بیان کیا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مولف نے اس میں موجود تمام احادیث ،آثار اور ائمہ محدثین کے اقوال اپنی سند سے نقل کئے ہیں جس سے اس کی استنادی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین

عناوین صفحہ نمبر
عرض مترجم 3
مقدمۃ المولف 5
احادیث نبویہ کی تبلیغ اور ان کی حفاظت 11
حدیث بیان کرنے کا حکم نبوی 11
غیر موجود لوگوں تک احادیث پہنچانے کا حکم نبوی 11
حدیث بیان کرنے والے کے حق میں دعائے نبوی 12
چالیس احادیث یاد کرنے اور بیان کرنے کی فضیلت 13
معاشرہ میں اجنبی بن جانے والوں کے لیے بشارت 14
امت ستر سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی 15
علوم نبوت کے حاملین اعتدال پسند ہوں گے 16
اصحاب الحدیث کے ایمان کی تعریف 17
اصحاب الحدیث نبی اکرمﷺ سے قریب تر ہوں گے 18
صحابہ کرام اپنے بعد والوں کے لیے درمیان کی کڑی ہیں 19
اصحاب الحدیث رسول اکرمﷺ کے امین ہیں 21
اصحاب الحدیث تمام انسانوں میں بہتر ہیں 23
حق اصحاب الحدیث کے ساتھ ہے 25
حدیث کی سماعت اور تحریر دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ضامن ہے 28
حدیث نہ سننے والے حضرات کی مذمت 30
اہل سنت اصحاب الحدیث سے محبت کرتے ہیں 32
طلب حدیث افضل ترین عبادت ہے 34
حدیث بیان کرنا نماز کی طرح ہے 35
حدیث پڑھ کر بیماری سے شفا حاصل کرنا 36
احادیث کے حفظ و اشاعت کی ترغیب میں صحابہ و تابعین کے اقوال 39
محدثین کو افضل سمجھنے والے خلفاء 41
اصحاب الحدیث کی ہم نشینی کا شوق 42
اصحاب الحدیث کے متعلق نیک لوگوں کےخواب 42

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
1.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام پاکستان تاریخ ختم نبوت و ناموس رسالت و توہین رسالت سنت

شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا

شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا

 

مصنف : قاری محمد یعقوب شیخ

صفحات: 119

 

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت  ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں  ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شان مصطفیٰ ﷺ اور گستاخ رسول کی سزا‘‘جماعت الدعوۃ ،پاکستا ن کے مرکزی رہنماجناب قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے شان مصطفیٰ ﷺ کوبیان کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی شان او رمقام ومرتبہ کا لحاظ نہ کرنے والے گستاخوں کی سزا’’قتل‘‘ کو قرآن وحدیث اور اجماعِ امت کی روشنی میں دلائل سے ثابت کیا ہے نیز کیا گستاخِ رسولﷺ کے لیے عفو ودرگزر کی گنجائش ہےاور اس کو معاف کرنے کا کسی کو اختیار ہے اور قانون توہین رسالت کے اٹھنے والے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازکر ان کےلیے صدقہ جاریہ اور آخرت میں ذریعہ نجات بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
تقدیم 7
حرف چند 13
عرض ناشر 15
شان مصطفیٰ 19
رسول اللہﷺ کا اعلیٰ اخلاق اور یورپ کے گستاخانہ اقدامات 31
قرآن کریم میں گستاخ رسولﷺ کی سزا 35
کیا گستاخی کرنے والے غیر مسلم (ذمی) کو سزا دی جائے گی؟ 45
کیا گستاخ رسولﷺ کے لیے عفو و در گزر ہے؟ 51
حدیث و سنت میں گستاخ رسولﷺ کی سزا کا حکم 59
قرآن میں حدیث و سنت کا وجود و ثبوت 60
گستاخ رسول ابن خطل 69
جو اپنا دین بدل لے (مرتد ہو جائے) اس کو قتل کردو 70
مرتد کو جلانا نہیں قتل کرنا ہے 70
گستاخ رسول کعب بن اشرف کا سر تن سے جدا 72
گستاخ رسول ابو رافع یہودی کا قتل 74
یہودیوں کی طرح عیسائیوں کی گستاخیاں 75
صرف رسول اللہﷺ کی توہین کی سزا قتل ہے 77
مکہ میں گستاخوں کے خلاف رسول اللہﷺ کا اعلان جنگ 78
گستاخ بہن کا قتل 79
نبی کریمﷺ کو گالیاں دینے والی ام ولد کا قتل 81
گستاخ یہودی عورت کا قتل 82
اجماع امت کے تناظر میں گستاخ رسولﷺ کی سزا 87
قانون توہین رسالت پر اعتراضات اور جوابات 95
غور طلب امور 117

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
6.1 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam اسلام زبان ملائکہ و جنات و شیاطین

شیطان سے بچاؤ کے اسباب

شیطان سے بچاؤ کے اسباب

 

مصنف : حافظ عبد الرزاق اظہر

 

صفحات: 68

 

قرآن مجید جو انسان کے لیے  ایک  مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی  گئی ہے  کہ  شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ   تمہارا کھلا دشمن ہے  ۔ارشاد باری تعالی ’’ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ‘‘( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے  تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو  کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی  زیادہ اجر کالالچ دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے  منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے  اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی  سے  بے نیاز کر کے  دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔شیطان سے انسان کی دشمنی آدم ﷤کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی  ہے  اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک  کے لیے  زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے  اس عطا شدہ قوت  کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالیٰ  کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم ﷤ کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان  بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم  نے شیطان کو جواب دیا کہ  تو لاکھ  کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے  وہ تیری پیروی نہیں کریں گے   او رتیرے دھوکے میں  نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے   محفوظ  رہنے کےلیے  علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے  بھی راہنمائی فرمائی۔جیسے  مکاید الشیطان از امام ابن ابی الدنیا، تلبیس ابلیس از امام ابن جوزی،اغاثۃ  اللہفان من  مصاید الشیطان از امام ابن  قیم الجوزیہ  ﷭ اور اسی طرح اردو زبان میں بھی متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ شیطان سے بچاؤ کےاسباب‘‘  مولانا عبد الرزاق اظہر ﷾ کی تصنیف ہے ۔موصوف نے اس کتاب  میں ان تمام اسباب کااحاطہ کرنے کی بڑی عمدہ کوشش کی ہے جن کے ذریعے سے شیطانی مکروفریب سے بچا جاسکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 6
تقریظ 7
مقدمہ 9
شیطان کے متعلق چند قرآنی دروس 11
قیامت کے دن شیطان کا خطاب 12
شیطان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم 13
شیطان عداوت اور فقر و فاقہ کا وعدہ کرتا ہے 13
شیطان تمہیں بڑے بڑے نقصان سامنے لاکر ڈرائے گا 13
اللہ نے ہمیں شیطان کی پیروی سے منع فرمایا ہے 14
شیطان کی دوستی خسارہ ہی خسارہ ہے 15
شیطان کی پیروی کرنے والےپر تعجب ہے 15
شیطان سے بچنے والے کون 16
وہ اسباب جن کو بروئے کار لا کر بندہ شیطان کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے 17
پہلا سبب 18
دوسرا سبب 18
تیسرا سبب 20
چوتھا سبب 24
پانچواں سبب 25
چھٹا سبب 25
ساتواں سبب 26
آٹھواں سبب 31
نواں سبب 31
دسواں سبب 32
گیارہواں سبب 33
بارہواں سبب 35
تیرہواں سبب 38
چودھواں سبب 39
پندرھواں سبب 41
سولہواں سبب 42
سرھواں سبب 43
اٹھاروھواں سبب 46
انیسواں سبب 46
بیسواں سبب 49
شیطان کی عداوت کے چند مظاہر 50
وسوسہ ڈالنا 50
ڈرانا 52
مسلمانوں کے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا 53
اللہ کے ذکر سے روکنا 54
شیطان کے مداخل 57
غصہ 57
جلد بازی 59
پیٹ بھر کر کھانا 60
زیادہ کھانے سے چھ بری خصلتیں پیدا ہوتی ہیں 60
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں سستی 61
بری دوستی 62

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
2.5 MB ڈاؤن لوڈ سائز

Categories
Islam ملائکہ و جنات و شیاطین نماز

شیطان کی انسان دشمنی

شیطان کی انسان دشمنی

 

مصنف : عبد العزیز بن صالح العبید

 

صفحات: 218

 

قرآن مجید جو انسان کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے ۔اس میں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان مردود سےبچ کر رہنا ۔ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ارشاد باری تعالی ” إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ”( یقیناًشیطان تمہارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو)لیکن شیطان انسان کو کہیں خواہشِ نفس کو ثواب کہہ کر ادھر لگا دیتا ہے ۔کبھی زیادہ اجر کالالج دے کر او ر اللہ او راس کے رسول ﷺ کے احکامات کے منافی خود ساختہ نیکیوں میں لگا دیتاہے اور اکثر کو آخرت کی جوابدہی سے بے نیاز کر کے دنیا کی رونق میں مدہوش کردیتا ہے۔زیر نظر کتاب ” شیطان کی انسان دشمنی ”سعودی عالم دین ڈاکٹر عبد العزیز بن صالح(پروفیسرمدینہ یونیورسٹی ) کی عربی کتا ب عداوة الشيطان للانسان كما جآت في القرآن، کا ترجمہ ہے ۔ جس میں نہوں نے قرآن كی روشنی میں یہ واضح کیا ہےکہ شیطان مردود کن کن طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور اس کےمکروفریب سےکس طرح بچا جاسکتاہے ۔اس کتاب کے اردو ترجمہ کا کام پروفیسر حبیب الرحمن خلیق (فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے انجام دیااو ر طارق اکیڈمی نے احسن انداز میں اسے زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالی مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے او راس کتاب کو اہل ایمان کے لیے شیطان مردوسے محفوظ رہنے کا ذریعہ بنائے (آمین)

 

عناوین صفحہ نمبر
عرض ناشر 11
مقدمہ 13
مقدمہ 20
کچھ اس کتاب کے بارے میں 22
تمہید 25
لفظ انسان کا ماخذ 26
شیطان کی تخلیق 28
شیطان کی انسان دشمنی 31
وسوسہ 42
بھولنا 46
وعدے ا ور آرزئیں 53
وعدے اور ڈراوے 57
تذئین گناہ 60
اللہ کے دین سے روکنا 68
نافرمانی کا حکم 74
قدم بقدم آگے بڑھنا 81
چھونا 85
شراب اور جوا 94
مومنوں کے مابین پھوٹ ڈالنا 98
لغزش 102
شبہات پیدا کرنا 105
انسانی شیطانوں سے مدد لینا 110
جادوگروں اور کاہنوں کو تعلیم دینا 115
آواز سے بہکانا 123
مال اور اولاد میں شرکت 127
کفر و شرک 140
اللہ کے ذکر سے اعراض 144
شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنا 147
شیطان کو دوست بنانا 149
شیطان کی اطاعت 151
دلوں کی شدت اور بیماری 153
گناہوں کا ارتکاب 156
انسان کی گمراہی سے شیطانی مقاصد 159
مومنوں کو غم میں مبتلا کرنا 162
مومنوں کے مابین عداوت 164
اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا 165
انسان کی شیطان سے حفاظت 170
ایمان اور توکل 176
تقویٰ اور استغفار 178
اللہ تعالیٰ کا ذکر 182
تلاوت قرآن 196
اللہ سے شیطان کی پناہ 199
خلاصہ 215

ڈاؤن لوڈ 1
ڈاؤن لوڈ 2
4Mb ڈاؤن لوڈ سائز